22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 22:39–48

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن (مسلمانوں) سے کافر لڑتے ہیں ان کے لیے (جنگ کی) اجازت دی گئی کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور البتہ اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

وہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے صرف اس کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹواتا تو تکئے اور مدرسے اور عبادت خانہ اور مسجدیں کہ جن میں اللہ کی بہت یاد کی جاتی ہے گرائی جا چکتیں اور بیشک جو اللہ کی مدد کرے گا تو اللہ بھی اس کی مدد کرے گا البتہ اللہ قوی ‘ زبردست ہے۔

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

ان کی مدد کرے گا کہ اگر ہم ان کے پائوں ملک میں جما دیں ‘ حاکم کردیں تو نماز پڑھا کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور نیک باتوں کا حکم کیا کریں اور بری باتوں سے منع کیا کریں۔ اور ہر بات کا انجام تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) اگر وہ آپ کو جھٹلائے تو ان سے پہلے ہی نوح کی قوم اور عادوثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین والے اپنے اپنے نبی کو جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ جھٹلائے گئے ہیں۔ پھر ہم نے منکروں کو (چندے) مہلت دی پھر ان کو پکڑ لیا۔ (سو) دیکھا ہماری کیسی پکڑ تھی۔

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

(الغرض) کتنی بستیوں کو ہم غارت کرچکے ہیں اور وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور (کتنے ایک) کنوئیں نکمے پڑے ہیں اور بہت سے مستحکم محل اجڑے پڑے ہیں۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

پھر کیا وہ ملک میں نہیں پھرے (چل کر دیکھتے) تو ان کے دل ایسے ہوتے کہ جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہوتے کہ جن سے وہ سنتے پھر کچھ آنکھیں تو اندھی نہیں ہوجایا کرتیں پر اندھے تو دل ہی ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (اے رسول ! ) وہ آپ سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں۔ اور اللہ تو ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا اور تمہارے رب کے نزدیک (ایک دن) تمہاری گنتی کے ہزار برس کے برابر ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ایک نافرمان بستیوں کو ہم نے مہلت دی اور وہ نافرمان تھیں پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا اور پھر کر تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔

مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی تلوار کھینچی تو سب کو زیر کردیا اس کے بعد ان مسلمانوں کی حالت مظلومی بیان فرماتا ہے الذین اخرجوا من دیارھم الخ کہ جن کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے یہ وہ مظلوم لوگ ہیں کہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں صرف اس جرم پر کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتے ہیں اور کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے بعد اجازت جہاد کا سبب بیان فرماتا ہے ولو لا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع الخ کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے شریروں سرکشوں کے شر اور ان کی سینہ زوری کو دوسرے لوگوں یعنی خدا پرستوں کے ہاتھ سے مٹاتا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ کرتا تو نہ اگلے انبیاء کے عبادت خانے باقی رہتے ‘ نہ حال کے نبی کے عبادت خانے باقی رہیں نہ نماز و عبادت جاری رہے۔ صوامع جمع صوامعہ مجاہد وضحاک کہتے ہیں صوامع رہبان کے عبادت خانوں کو کہتے ہیں قتادہ کہتے ہیں فرقہ صائبین کے عبادت گاہوں کا نام ہے وبیع جمع بیعۃ نصاری کے گرجے صلوات یہود کی نماز کی جگہ مساجد جمع مسجد اہل اسلام کے عبادت گاہ۔ ابوالعالیہ کہتے ہیں صوامع نصاریٰ کے اور بیع یہود کے اور صلوات صائبیوں کے اور مساجد مسلمانوں کے عبادت خانے بعض کہتے ہیں یہ سب مساجد مسلمین کے نام ہیں اوصاف مخصوصہ کے لحاظ سے یہ حسن کا قول ہے۔ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانوں کو خدا نے محفوظ رکھنا یا تو اس لیے فرمایا کہ نسخ و تحریف سے پیشتر یہ مقامات متبرکہ تھے بعض کہتے ہیں بعد نسخ تحریف کے بھی ان کی عزت فی الجملہ باقی ہے۔ کس لیے کہ ان میں بھی تو اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے یہ بت خانہ نہیں ہیں جہاں بتوں کی پرستش ہوتی ہے اور حسن کے قول کے موافق تو اس گفتگو کی ضرورت نہیں کیونکہ مساجد مراد ہیں۔ اس کے بعد مجاہدوں کو اپنی مدد کا بھروسہ دیتا ہے۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ کہ جو اللہ کی یعنی اس کے دین اور انبیاء کی اعانت و حمایت کرے گا خدا ضرور اس کی بھی مدد کرے گا پھر ان ناصرین دین کے چند اوصاف ذکر کرتا ہے کہ اگر اللہ کی مدد سے وہ زمین پر غالب ہوجاویں اور سلطنت و حکومت حاصل کریں تو (1) نمازیں پڑھا کریں (2) زکواۃ دیا کریں (3) نیک باتوں کا حکم دیا کریں (4) بری باتوں سے لوگوں کو منع کیا کریں۔ مطلب یہ کہ جب خدا ملک پر کسی قوم کو بصلہ حمایت دینی قابض و مسلط کرے تو ان کو یہ باتیں عمل میں لانی چاہییں نہ کہ عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہونا چاہیے کیونکہ ان کے غالب و مسلط کرنے سے اللہ کا یہی مقصود ہے کہ زمین پر نیکی اور خدا پرستی اور عدل و انصاف قائم رہے اسی لیے اس بات کو بطور پیشین گوئی فرمایا کہ وہ ضرور ایسا کریں گے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اور آپ کے بعد خلفاء اربعہ 1 ؎ نے دین الٰہی کی مدد کی جہاد کر کے مخالفوں کو سرنگوں کرنا چاہا خدا نے حسب وعدہ ان کی مدد کی کہ ان کو ملکوں کا مالک کردیا پس بموجب پیشین گوئی ان میں یہ سب خوبیاں موجود تھیں پھر 1 ؎ فضل خلفائے اربعہ ان کو ظالم و غاصب کہنا کلام الٰہی کی تکذیب کرنا ہے۔ اور اسی لیے بعد میں فرما دیا وللہ عاقبۃ الامور کہ اللہ کو ہر بات کا انجام کار معلوم ہے وہ بصلہ حمایت دینی ایسے لوگوں کو ملک پر کیوں قابض کرنے لگا جو اقتدار پا کر فساد کریں۔ اس کے بعد آنحضرت صلعم کو تسلی دیتا ہے کہ اگر یہ مشرکین اپنی دولت و حشمت کے گھمنڈ پر آپ کو جھٹلاتے ہیں تو کچھ رنج کی بات نہیں ہے آپ سے پیشتر قوم نوح اور عادو ثمود اور قوم ابراہیم اور لوط اور مدین کے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے موسیٰ ( علیہ السلام) بھی جھٹلائے گئے ہیں مگر انجام کار ہم نے منکروں کو ہلاک کردیا ملک میں پھر کر دیکھو کہ ان کے بلند محل اور بڑے عمیق کنوئیں کیسے برباد پڑے ہیں ؟ ف۔ قصل خلفاء اربعہ اس کو سن کر منکرین عذاب کے خواستگار ہوتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اللہ ہرگز اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا اور عذاب کے لیے جلدی کرنا اور اس کے انتظار کی مدت کو بہت شمار کرنا عبث ہے۔ ہاں عذاب کے ایام البتہ بڑے سخت ایام ہیں وہاں کا ایک روز بوجہ سختی اور تکلیف کے جو منکروں پر ہوگی جس کی مفصل کیفیت اللہ جانتا ہے وان یوما عند ربک تمہارے ہزار برس کے برابر ہوگا۔ مصیبت کے ایام کی درازی ضرب المثل ہے معالم میں ہے قال مجاہدوعکرمہ یوما من ایام الآخرۃ میں خدا تعالیٰ ایام کی ایسی درازی کرے گا کہ وہاں کا ایک روز یہاں کے ہزار برس کے برابر ہوگا بعض کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ مہلت دینے میں ایک روز اور ہزار برس دونوں برابر ہیں کیونکہ وہ قادر ہے جب چاہے مؤاخذہ کرے تاخیر سے اس کے وقوع میں تردد نہ کرنا چاہیے یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
Ayahs 22:49–54

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو کہ لوگو ! میں جو ہوں تو صرف تم کو صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے تو ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے پست کرنے میں کوشش کی ہے وہی دوزخی ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے (اے نبی ! ) تم سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی کہ اس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کے تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو۔ اللہ شیطان کی آمیزش کو دور کرکے اپنی آیتوں کو مستحکم کردیا کرتا ہے اور اللہ خبردار ‘ حکمت والا ہے۔

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے کہ جن کے دلوں میں مرض (شک) ہو اور جن کے دل سخت ہیں ان کے لیے آزمائش بنا دے اور بیشک ظالم تو بڑے ضد میں پڑے ہوئے ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور اس سے یہ بھی مقصود ہوتا ہے کہ علم والے اس کو حق اور اپنے رب کی طرف سے جان کر اس پر ایمان لاویں اور ان کے دل اس کے لیے جھک پڑیں اور اللہ ایمانداروں کو سیدھے رستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان میں سے کوئی تمنا کی ہے یعنی کسی امر مہتم بالشان کی طرف توجہ تام کی ہے تو قوت متوہمہ نے جس کو شیطان سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کچھ نہ کچھ اس میں خلط کردیا ہے چناچہ انہیں ایام میں آنحضرت ﷺ کو خواب میں دکھایا گیا کہ آپ ہجرت کر کے ایسے ملک میں گئے ہیں جہاں نخلستان ہے پس قوت متوہمہ نے ملک یمامہ و ہجر کی طرف خیال دوڑایا حالانکہ مراد مدینہ تھا۔ اسی طرح خواب میں دیکھا کہ حلق و قصر کر کے مکہ میں داخل ہوئے ہیں۔ وہم نے کہہ دیا کہ اب کے سال میں یہ واقعہ پیش آئے گا حالانکہ کئی سال بعد پیش آیا۔ اسی طرح آیات میں جو مجملاً پیشین گوئیاں ہوتی ہیں ان کی تعیین میں قوت متوہمہ دخل درمعقولات کردیتی ہیں۔ پس ایسی باتیں ضعیف الایمان اور سست اعتقاد اور ناپاک دل والوں کے لیے فتنہ یعنی آزمائش ہوجاتی ہیں وہ ڈگمگاجاتے ہیں شبہ کرنے لگتے ہیں اور اہل علم اور راسخ الاعتقاد اس بات کی حقیقت پر واقف ہو کر اس کو ایک بات من جانب اللہ جان کر اس پر ایمان لاتے اور دل میں خائف ہوجاتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ اس آمیزش کو دور کر کے جو امر حق ہے اس کو قائم رکھتا ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے فینسخ اللہ مایلقی الشیطان ثم یحکم اللہ آیاتہ واللہ علیم حکیم آیات سے مراد وہ احکام حقہ ہیں جو رسول ﷺ اور انبیاء کو القاء ہوتے ہیں اللہ آمیزش وہمی کو دور کر کے انہیں صاف اور مستحکم کردیتا ہے باقی مطلب صاف ہے۔
Ayahs 22:55–59

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور منکر تو ہمیشہ اس 1 ؎ سے شک میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یکایک ان پر قیامت آجاوے یا ان کو نحس دن کا عذاب آلیوے۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز اللہ ہی کی حکومت ہے وہی ان میں فیصلہ بھی کردے گا پھر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں سو انہیں کو ذلت کا عذاب ہے

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ مارے گئے یا خود مرگئے البتہ ان کو اللہ عمدہ روزی دے گا آخرت میں اور بیشک اللہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

البتہ اللہ ہی ان کو ایسی جگہ میں پہنچا دے گا کہ جس سے وہ خوش ہوجاویں گے اور اللہ خبردار تحمل والا ہے۔

1 ؎ یعنی قرآن ووحی سے۔ 12 منہ بعض مفسرین کی عادت ہے کہ وہ قرآن مجید کے صاف اور سیدھے مطلب کو الجھاوے میں ڈال دیتے ہیں اور جب کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے لیے کوئی قصہ گھڑ لیتے ہیں پھر اس کو شان نزول قرار دے لیتے ہیں اور پھر لفظ حدثنا یا اخبرنادیکھ کر خوش اعتقاد لوگ اس مہمل بات کو حدیث سمجھ لیتے ہیں چناچہ انہیں آیات کی تفسیر میں ایک قصہ نقل کیا کرتے ہیں کہ مکہ میں آنحضرت ﷺ نے سورة النجم کی اس آیت کے بعد ومناۃ الثالثہ الاخری القائِ شیطانی سے جو آپ کے دل میں خیال تھا بت پرستوں کے خوش کرنے کو یہ جملہ بھی پڑھا دیا تلک الغرانیق العلٰی وان شفاعتھن لترتجیٰ جس سے مشرکین خوش ہوگئے مگر جبرئیل ( علیہ السلام) نے آ کر آپ کو متنبہ کیا اور آپ کو رنج ہوا اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ پھر بعض اس کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ شیطان نے اثنائِ قرأت میں یہ جملہ ملا دیا تھا بعض کہتے ہیں استفہام انکاری کے طور پر یہ جملہ آپ نے کہا تھا مگر جب سرے سے اس قصہ کی اصل نہیں اور امام بیہقی نے خاص اس کے رد میں ایک رسالہ لکھ دیا اور ثابت کردیا کہ یہ قصہ زندیقوں کا بنایا ہوا ہے۔ کسی صحیح سند اور معتبر راویوں سے اس کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا تو پھر ان توجہات اور اس کے مقابلہ میں قرآن مجید کے آیات اور دیگر دلائل کی کیا ضرورت ہے ؟ امام فخر رازی و صاحب مدارک و بیضاوی وغیرہ محققین نے اس قصہ کا ابطال بڑی دلائلِ عقلیہ و تقلید سے کیا ہے۔ مگر اسلام پر عیب لگانے کے لیے پادری صاحب ایسے لغوقصہ کو خواہ مخواہ پیش ہی کردیا کرتے ہیں حالانکہ ایسی بےاصل باتوں سے اسلام پر عیب لگانا انصاف اور خدا ترسی سے بہت ہی بعید ہے واللہ اعلم اولئک لہم عذاب مہین تک اسی بیان کا تتمہ ہے پھر والذین ھاجروا فی سبیل اللہ سے لے کر ان اللہ لعفو غفور تک اصل مطلب کی طرف رجوع ہے کہ خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں اور ظالموں کے ہاتھ سے مارے جانے والوں کو آخرت میں بڑے درجات اور عمدہ مقامات ہیں اور دنیا میں بھی خدا اس گروہ کی مدد کرے گا وہ ہر بات پر قادر ہے
Ayahs 22:60–62

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

بات یہ ہے جو کسی نے اسی قدر بدلہ لیا کہ جس قدر اس کو تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا 2 ؎ البتہ اللہ درگزر کرنے والا معاف کرنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیا کرتا ہے اور بیشک اللہ سنتا ‘ دیکھتا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

(یعنی قادر اور واقف ہے) یہ اس لیے کہ اللہ ہی برحق ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہی غلط ہے اور بیشک اللہ ہی عالیشان بزرگ ہے۔

2 ؎ یعنی اس مظلوم کی جس نے بدلہ لیا تھا اور پھر ظالم یا اس کے مددگار نے اس بدلہ لینے والے پر باردگر ظلم کیا تو خدا اس مظلوم کا مددگار ہے۔ 12 منہ
Ayahs 22:63–70

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی برساتا ہے تو (اس سے) زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ (اپنے بندوں پر) مہربان اور ان کے حال سے واقف ہے ،

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اس کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی وہ بےنیاز اور قابل ستائش ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین کی چیزوں کو مسخر کردیا اور کشتی کو بھی کہ جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور اسی نے آسمان کو تھام رکھا ہے کہ اس کے حکم بغیر زمین پر کہیں گرنے نہیں پاتا۔ بیشک اللہ آدمیوں کے ساتھ نہایت نرمی کرنے والا ‘ مہربان ہے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے تم کو زندہ کیا، پھر وہی تم کو مارے گا پھر وہی تم کو باردگر زندہ کر دے گا۔ البتہ انسان بڑا ہی ناشکر ہے

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کردیا ہے کہ جس پر وہ عمل کرتے ہیں پس اس کام میں کوئی تم سے نہ جھگڑے اور آپ اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائیے کیونکہ آپ سیدھے رستہ پر ہیں

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر آپ سے وہ جھگڑیں بھی تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خدا اس کو خوب جان رہا ہے۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن آپ فیصلہ کر دے گا۔ جس چیز میں کہ تم باہم اختلاف کر رہے ہو

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ سب کو جانتا ہے یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھا ہوا (موجود) ہے یہ اللہ پر آسان بات ہے

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک شریعت اور رستہ بتا دیا ہے اور فلاح دارین کے لیے ایک قانون دیا ہے جس کے وہ پابند تھے فلا ینازعنک فی الامر پھر ان کو تم سے اے نبی ! اس امر میں جھگڑا کرنا مناسب نہیں وادع الی ربک انک علیٰ ھدی مستقیم آپ سب لوگوں کو ان کے رب کی طرف بلائیے کیونکہ تم سیدھے رستے پر ہو۔ دلائل میں نظر کر کے ہر عاقل جان سکتا ہے وان جادلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون اور اگر اس کے بعد بھی وہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ اللہ تمہارے کام سے خوب واقف ہے وہ آپ سمجھ لیگا اللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ فیما کنتم فیہ تختلفون اور قیامت کے دن آپ فیصلہ کر دے گا (منسک شریعت اور رستہ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے جیسا کہ عطا نے نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منکم شرعۃ و منہا جا بعض نے مذبح و قربانی بھی مراد لی ہے) اللہ کو ہر بات معلوم ہے الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض ان ذلک فی کتاب ان ذلک علی اللہ یسیر اے مخاطب ! تو خود جانتا ہے کہ اللہ کو آسمان اور زمین کی ہر بات معلوم ہے اور یہ سب کچھ لوح محفوظ میں ہے اور یہ بات اللہ کے نزدیک کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے مگر باوجود اس کے ان لوگوں کی عقل کو دیکھئے کہ شریعت و طریقہ انبیاء کو بگاڑ کر ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطانا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جن کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی بھی سند نہیں۔ یعنی یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ خدا کے گھر کے مختار ہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں یا قیامت میں ہمارے لیے سفارش کریں گے اس بات پر ان کے پاس خدا کے ہاں سے کیا دلیل ہے محض خیالی بات ہے اور اس سے بڑھ کر وما لیس لہم بہ علم ان چیزوں کو پوجتے ہیں کہ جنہیں جانتے بھی نہیں۔ علم حقیقی ان کی ماہیت کا نہیں رکھتے جیسا کہ ہزاروں معبود خیالی ہنود کے ہیں کالی پری ‘ سبز پری ‘ فلاں دیو ‘ فلاں بھوت۔ یہی حال عرب کی قوموں کا تھا مگر واذا تتلی علیہم آیتنا بینات تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر جب ان کو رد شرک کے بارے میں ہماری کھلی کھلی آیتیں اور دلائل سنائے جاتے ہیں تو سن کر منہ بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آیتوں کے سنانے والوں پر حملہ کریں واذا تتلی علیہم آیتنا الخ فرماتا ہے کہ یہ کیا ناگوار ہے جہنم کی آگ اس سے زیادہ ناگوار ہوگی جو منکروں کے لیے مقرر ہوچکی ہے قل اَفَاُنَبِّئْکُمْ الخ
Ayahs 22:71–72

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا اس کو پوجتے ہیں کہ جس پر نہ اس نے ہی کوئی سند اتاری ہے اور نہ ان کے پاس ہی کوئی اس کا علم ہے اور ان ظالموں کا تو کوئی بھی مددگار نہ ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جبکہ ان کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو ان کے چہروں پر (اے نبی ! ) تم کو ناراضی معلوم ہوگی (یہاں تک کہ) جو ان کو ہماری آیتیں سناتے ہیں قریب سے کہ ان پر حملہ کر بیٹھیں کہہ دو کہو تو میں تم کو اس سے بھی سخت تر بات سنائوں (وہ کیا ہے) آگ کہ جس کا خدا نے منکروں سے وعدہ کرلیا ہے اور وہ کیا ہے بری جگہ ہے۔

نہ خدا ہی مددگارہوتا نہ ان کے وہ خیالی معبود جن کو وہ مددگار سمجھ کر پوج رہے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثل بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو (وہ یہ کہ) جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع بھی ہوجاویں اور اگر ان سے لکھی کوئی چیز چھین لی جاوے تو اس سے واپس بھی نہیں لے سکتے طالب 1 ؎ اور مطلوب (دونوں ہی) بودے ہیں

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی (جیسا کہ چاہیے تھی) کچھ بھی قدر نہ کی بیشک اللہ تو بڑا قوی ‘ زبردست ہے۔

1 ؎ عابد و معبود۔ اس کے بعد ان کے معبودوں کے عجزونا طاقتی ظاہر کرنے کے لیے فرماتا ہے یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ کہ ایک مثل بیان کرتے ہیں اس کو سنو اور وہ مثل یہ ہے کہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا فرمایا کہ جس کو پکارنا اور اس سے مدد چاہنا جائز ہے اس کو قدرت تو ہونی چاہیے اور وہ خالق بھی ہو اور خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ سب حیوانات میں کم مرتبہ مکھی ہے۔ اس کو تو بنا ہی نہیں سکتے ولو اجتمعوا لہ اگر وہ سب بھی جمع ہو کر پیدا کریں تو نہیں کرسکتے پھر دوسری بات اس سے بھی کمتر ہے اور وہ یہ کہ ان یسلبہم الذباب الخ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے اڑے تو اس سے چھین بھی نہیں سکتے پس جب یہ حال ہے تو ضعف الطالب و المطلوب ضحاک (رح) کہتے ہیں طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد معبود۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں طالب سے مراد مکھی ہے جو بتوں کی پڑی ہوئی چیز پر آبیٹھتی ہے اس کو لیتی ہے اور مطلوب صنم ہے کہ جس سے مکھی طلب کرتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ العکس طالب صنم مطلوب مکھی بہر تقدیر سب ضعیف و کمزور ہیں جو بت اپنے منہ سے مکھی نہ اڑا سکے بھلا اس کو پوجنا کس عقل کا کام ہے ؟ ماقدروا للہ حق قدرہ بات یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ چاہیے تھا ان اللہ لقوی عزیز وہ قوی اور ہر بات پر قادر ہے پھر بندوں کو کیا مصیبت ہے جو اس کے سوا اوروں کے پاس جاتے ہیں کیا وہ کافی نہیں یا اور کوئی اس سے زیادہ قادر ہے ؟
Ayahs 22:75–78

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

فرشتوں اور آدمیوں میں سے اللہ ہی ( جس کو چاہتا ہے) پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کرلیتا ہے بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

(اور) وہی سب کا اگلا اور پچھلا حال جانتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب باتیں رجوع کرتی ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

ایمان والو ! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور بھلائی کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جیسا کرنا چاہیے جہاد بھی کرو اسی لیے تو تم کو انتخاب کیا ہے اور تم پر اس نے دین میں کوئی تنگی بھی نہیں کی ہے۔ تمہارے باپ ابراہیم کا ہی تو دین ہے اس نے تو تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا ہے اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کیا کرو اور زکواۃ دیا کر اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑ لو وہی تو تمہارا مولا ہے پھر کیا ہی خوب مولا اور کیا ہی خوب مددگار ہے۔

بتوں کی حقیقت تو معلوم ہوگئی اب رہے وہ لوگ کہ جو خدا کے برگزیدہ ہیں ملائکہ و انبیاء جن کو کہ اکثر بت پرست یا مشرکین پوجتے ہیں اور معبود حقیقی کے برابر ان کے درجات تسلیم کر کے ان سے حاجات کا سوال کرتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ہنود اپنے بزرگوں کو آج کل کے جاہل مسلمان اولیائِ کرام اور بزرگان دین کو پوجتے ہیں اور عرب کے مشرکین اور صائبین ملائکہ کو پوجتے تھے پس ان کی نسبت فرماتا ہے اللہ یصطفٰی من الملائکۃ رسلاومن الناس کہ ملائکہ اور لوگوں میں سے جو ممتاز اور رسول ہیں ان کو بھی تو اللہ ہی نے برگزیدہ کیا ہے یعنی ان کے کمالات اپنے گھر کے نہیں ان کی بزرگی اللہ کی عطا کی ہوئی ہے پھر اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے بندوں کو پوجنا کیا عقل ہے ؟ دوم لفظ رسلا میں اشارہ ہے کہ ملائکہ یا انسانوں میں جس قدر محترم اور معزز ہیں وہ رسول ہیں یعنی رسل ملائکہ یا بنی آدم ان کے بھی اصطفاء اور برگزیدگی کا باعث رسالت ہے پھر یہ جس کے رسول ہیں اس کے برابر اور اس سے زیادہ کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ سوم جب رسول ہیں تو ضروریہ اللہ کے پیغام بندوں کے پاس لاتے تھے اور سب سے مؤکد پیغام یہی تھا کہ اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بنانا پھر عجیب ہے کہ ان کے پیغام کو بالائے طاق رکھ کر انہیں کو خدائی کا شریک سمجھنے لگے۔ اور اسی کلام میں مکہ کے منکروں کا جواب بھی ہے وہ کہتے تھے کہ کیا اللہ نے ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کو رسالت کے لیے خاص کرلیا۔ انزل علیہ الذکر من بیننا کہ اس میں کسی کا کیا اجارہ ہے۔ اللہ فرشتوں میں سے جس فرشتہ کو چاہتا ہے اس کام کے لیے ممتاز کرلیتا ہے اور اسی طرح انسانوں میں سے جس انسان کو چاہتا ہے اس کام کے لیے ممتاز کرلیتا ہے۔ ان اللہ سمیع بصیر وہ ہر ایک بات کی مصلحت سے خوب واقف ہے اور ان بزرگوں کے پوجنے والے جو حجتیں کر کے ان کو الوہیت میں شریک کرتے ہیں وہ ان کی باتیں سن رہا ہے اور جو کچھ افعال عبودیت ان بزرگوں کے لیے کر رہے ہیں ان کو دیکھ رہا ہے یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم اللہ کو اگلی پچھلی ہر بات معلوم ہے والی اللہ ترجع الامور اور ہر بات کا انتہا اللہ ہی کی طرف ہے یعنی ہر بات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اگلے جملے سے علم اس سے قدرت کا اثبات مقصود ہے۔ بت پرستی اور شرک کی مذمت اور دنیا میں رسولوں کی بعثت بیان کر کے ایمانداروں کو ان باتوں کی تاکید کرتا ہے جو نجات اور فلاح کا ذریعہ ہیں فقال یا ایہا الذین آمنوا ارکعوا واسجدوا کہ اے ایماندارو خدا تعالیٰ کو رکوع سجود کرو یعنی نماز پڑھا کرو جس میں رکوع اور سجود ہے اور نماز کے علاوہ اور بھی عبادت کیا کرو اعبدوا ربکم تلاوت ذکر روزہ اور وافعلوا الخیر ہر ایک نیکی کرو اس میں صلہ رحمی ‘ خیرات ‘ صدقات ‘ مکارم اخلاق دنیا کی سب اچھی باتیں آگئیں۔ لعلکم تفلحون تاکہ تمہیں فلاح ہو۔ ابن المبارک و احمد و اسحاق و امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد سجدہ کرنا لازم ہے اور سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ ; کے نزدیک اس جگہ سجدہ تلاوت واجب نہیں قرآن مجید میں چودہ جگہ سجدہ تلاوت واجب ہے امام شافعی سورة صؔؔ میں سجدہ واجب نہیں جانتے۔ اس کے بدلہ میں اس جگہ کا سجدہ لے کر چودہ پورے کرتے ہیں ہمارے امام کے نزدیک سورة صؔ میں سجدہ ہے یہاں نہیں۔ واللہ اعلم اس کے بعد ایک اور حکم دیتا ہے وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ جہاد سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک وشمنان دین سے جنگ کرنا ہے اور حق جہادہ سے مراد پورے طور پر اور نہایت سعی و کوشش سے جس کی تفسیر بعض نے یوں کی ہے کہ خالصاً للہ اور بعض کہتے ہیں جس میں سردار اور اللہ کی مخالفت نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں جس میں کسی کی ملامت کا خوف نہ ہو۔ پھر یہ عام ہے خواہ زبان سے ہو ‘ خواہ تلوار سے اور اس حکم کا سب کے اخیر میں صادر کرنا اس بات کو جتلاتا ہے کہ نماز و فعل الخیرات سب سے بڑھ کر یہ کام ہے کیونکہ جب تک شرِاعد اسے امن قائم نہ ہوگا تو زمین پر خدا تعالیٰ کے بندے نہ بفراغ قلبی نماز پڑھ سکیں گے نہ کوئی اور نیک کام کرسکیں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں جاھدوا فی اللہ سے عام طور پر ہر دینی بات میں دل سے کوشش کرنا مراد ہے خواہ اعدائِ دین سے جنگ ہو خواہ علم دین کی ترویج خواہ اور نیکی کی باتیں اس تقدیر پر یہ جملہ گویا کلام سابق کے لیے تاکید ہے۔ بعض اہل عرفان جیسا کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں اس سے مراد مجاہدہ نفس ہے کہ نفس کو ناجائز خواہشوں سے روکو اور اسی کو جہاد اکبر کہتے ہیں اور یہی حق الجہاد ہے۔ پھر فرماتا ہے ھو اجتبکم کہ اللہ نے تم کو اے امت محمد ﷺ اس خدمت کے لیے ممتاز کرلیا ہے تم کسی کے تعن وتشنیع کی پروانہ کرو۔ و ماجعل علیکم فی الدین من حرج اور تم کو جو شریعت دی گئی ہے اس میں کوئی مشکل اور دقت نہیں رکھی گئی ہے۔ کوئی گناہ ایسا نہیں کہ جس سے خلاصی اور جس کی معافی توبہ و استغفار یا کفارہ وقصاص سے نہ مقرر کی گئی ہو اور اسی طرح اوقات عبادت کے لحاظ سے بھی سہولت ہے اور اسی طرح اگر غسل و وضو نہ کرسکے تیمم کی اجازت ہے۔ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھ لے ‘ سفر میں قصر ہے ‘ بیمار کو افطار کی رخصت ہے یہاں تک کہ جو چیزیں سور مردار وغیرہ حرام ہیں بوقت اضطرار ان کی بھی اجازت ہے۔ یہود کی طرح شریعت اور احکام سخت نہیں نہ ہنود کی طرح کچا مذہب ہے کہ غیر کے ہاتھ لگنے سے دھرم بھرشٹ ہوجاوے۔ اپنے ہاتھ سے چوکا کرے اور ہزاروں پاک چیزیں حرام و ممنوع ان کے ہاں قراردی گئی ہیں یہاں تک کہ سفرو حضر ‘ موت وحیات معاملات کا دائرہ تنگ کردیا گیا ہے۔ ملۃ ابیکم ابراھیم یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہے کوئی نئی شریعت نہیں۔ اس میں عرب کی طرف خطاب ہے جو اکثر ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور تمام امت بھی مراد ہوسکتی ہے۔ کس لیے کہ انبیاء (علیہم السلام) خصوصا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے جدِّا مجد ہونے کی وجہ سے جو مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں سب مسلمانوں کے باپ ہیں قرآن مجید میں حضرت ﷺ کی بیویوں کو مسلمانوں کی ماں کہا ہے وازواجہم وامہاتہم پس آپ باپ ہیں اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کا مادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہے بلحاظ زمانہ اس میں کچھ ترمیم ہوئی ہے۔ اس لیے حضرت ﷺ کی شریعت کو ملت ابراہیم کہتے ہیں۔ ھوسماکم المسلمین من قبل کہ اسی نے تو تمہارا نام پہلے سے مسلمان یعنی فرمانبردار کہا ہے جیسا کہ دعا کی تھی ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک و فی ہذا اور اس کتاب میں بھی اور اس عہد میں بھی تمہارا نام مسلمان قرار پایا ہے لیکون الرسول شہیدا علیکم وتکونوا شہدا علی الناس تاکہ رسول قیامت میں تمہارا گواہ بنے اور تم تمام بنی آدم کے لیے گواہ بنو۔ توحید و عبادات کا قیام تمہارے سپرد کیا گیا ہے فاقیموالصلوۃ و اتو الزکوۃ۔ جانی اور مالی عبادت میں سرگرم رہا کرو واعتصموا باللہ اور ہر بات میں اللہ ہی کا بھروسہ رکھو اپنے دشمنوں سے کچھ خوف نہ کرو کیونکہ ھو مولکم وہ تمہارا مالک اور کارساز ہے فنعم المولی ونعم النصیر۔