18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 18:72–78

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا میں نہیں کہہ چکا ہوں کہ تو ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکے گا۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا آپ بھول چوک پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے اور مجھ سے زیادہ سخت گیری نہ کیجئے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ان دونوں کو ایک لڑکا ملا تو اس کو اس نے مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے کیوں ایک بےگناہ کو ناحق مار ڈالا ؟ البتہ آپ نے بری بات کی۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم سے میں نہیں کہہ چکا ہوں کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکو گے ؟

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ آپ کو میری طرف سے عذر پہنچ چکا

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس آئے تو ان سے کھانا مانگا۔ پر انہوں نے ان کی ضیافت دینے سے انکار کیا۔ پھر ان کو وہاں ایک ایسی دیوار ملی کہ جو گرا ہی چاہتی تھی تب اس نے اس کو سیدھا کردیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کچھ اجرت لے لیتے،

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

اس نے کہا اب یہ میرے اور تمہارے بیچ جدائی ہے اب میں تم سے ان باتوں کا راز بھی بتلائے دیتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کرسکے۔

ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔ تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے قریش نے حضرت ﷺ سے پوچھا تھا۔ انا مکنا سے تمہید کے بعد قصہ شروع ہوتا ہے کہ ہم نے ذوالقرنین کو دنیا پر قابو دیا تھا اور ہر ایک قسم کا سازوسامان ملا تھا جس سے وہ مشرق و مغرب تک فتوحات حاصل کرتا ہوا چلا گیا (اگرچہ جب سے علم تاریخ مدون ہوا ہے تب سے ایسے سازوسامان جواب ہیں ریل دخانی جہاز پائے نہیں جاتے مگر تواریخ سے پہلے غیرمعلوم زمانہ میں جانے کیا کیا صنعتیں تھیں اور مٹ گئیں جن کے بعض آثار قدیم خرابات کے کھودنے سے برآمد ہوتے ہیں) ۔ فاتبع سبباً کہ ذوالقرنین نے سفر کا سازوسامان تیار کیا اور پہلے مغرب کی سمت کو روانہ ہوا یہاں تک کہ ان کو آفتاب سمندر کے گرم اور سیاہ پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا گرچہ آفتاب آسمان پر ہے مگر غروب کے وقت پانی کے کنارہ پر کھڑے ہونے والے کو پانی میں اور پہاڑ کے سامنے والے کو پہاڑ میں غروب ہوتا ہوا معلوم ہوا کرتا ہے اور جس نے حمئۃ پڑھا ہے اس کے نزدیک ذوالقرنین کے سامنے سیاہ دلدل ہوگا جس میں آفتاب کو غروب ہوتے دیکھا ہوگا۔ القصہ وہاں ایک بت پرست قوم ملی جس کی نسبت خدا نے ذوالقرنین کو بالہام یا بواسطہ نبی یہ حکم دیا کہ خواہ ان کو سزا دے خواہ ان سے کوئی نیک سلوک کر، ذوالقرنین نے لوگوں سے کہا وہ جو ان میں ظالم و سرکش ہیں میں انہیں سزا دوں گا یعنی مار ڈالوں گا جو اس کے بعد وہ اپنے رب کے ہاں جا کر اور بھی سخت عذاب پائیں گے یا یہ مراد کہ سزا دوں گا کوئی سزا ہو پھر مرنے کے بعد وہ وہاں اور بھی سزا پائیں گے اور جو ان میں ایماندار اور نیک ہوجائیں گے ان کو اچھا بدلہ انعام و اکرام دوں گا اور اپنی حکومت و ریاست کے امر میں بھی ان سے نرمی برتوں گا چناچہ ذوالقرنین نے ایسا ہی کیا۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی سو وہ محتاج لوگوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے پھرتے تھے پھر میں نے اس میں عیب کردینا چاہا کیونکہ ان محتاجوں کے آگے ایک بادشاہ ہر ایک کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا

1 ؎ وراء کے معنی آگے کے ہیں جیسا کہ تفسیر میں حضرت علی و ابن عباس ؓ امامہم فرمایا کرتے تھے اور اس کے معنی پیچھے کے بھی ہیں، دونوں ہوسکتے ہیں۔ 12۔
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا لڑکا۔ سو اس کے ماں باپ ایماندار تھے سو ہم کو ڈر ہوا کہ ان کو بھی کفر اور ظلم میں مبتلا نہ کرے۔ 1 ؎

2 ؎ اس جملہ کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ یہ لڑکا یعنی نوجوان ناہنجار ہے، کافر بھی ہے، رہزنی بھی کرتا ہے کہیں ماں باپ اس کی محبت میں آ کر اس کا ساتھ نہ دیں اور اس کے سبب وہ بھی کفروظلم میں مبتلا نہ ہوجائیں دوسرے یہ کہ کہیں یہ ان سے کفران نعمت اور سرکشی کر کے ایذائیں نہ دے۔ اول معنی زیادہ مناسب ہیں۔
Ayahs 18:81–88

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پھر ہم نے چاہا کہ ان کا خدا اس کے بدلہ میں ان کو ایسی اولاد دے جو ستھرائی میں اس سے بہتر اور محبت میں اس سے اقرب 3 ؎ ہو

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور دیوار جو تھی سو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک مرد تھا پس تمہارے رب نے یہ چاہا کہ وہ جوان ہو کر اپنا خزانہ تمہارے رب کی عنایت سے نکالیں۔ اور یہ میں نے ازخود نہیں کیا تھا یہ ہے سِرّ اس کا کہ جس پر تم صبر نہ کرسکے۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور (اے رسول ! ) آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اب میں تمہیں اس کا کچھ حال سناتا ہوں۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو مملکت میں بڑی قوت دی تھی اور اس کو ہر ایک طرح کا سازوسامان عطا کیا تھا۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

سو اس نے سازوسامان تیار کر کے (سفر کا ارادہ کیا)

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ آفتاب غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اس کو وہ ایک گرم (یا سیاہ) چشمے میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور وہاں اس نے ایک قوم کو بھی پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! (تجھے اختیار ہے) یا ان کو سزا دے اور یا ان سے نیک سلوک کر۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے (لوگوں سے) کہا کہ جو ان میں ظالم ہے اس کو تو میں سزا ہی دوں گا پھر وہ اپنے رب کے پاس روانہ ہوگا پھر تو وہ اسے اور بھی سخت سزا دے گا،

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی ایمان لایا ہوگا اور اس نے نیکی بھی کی ہوگی تو اس کو (خدا کے پاس بھی) نیک بدلہ ملے گا اور ہم بھی اپنے معاملہ میں اس کو آسان ہی حکم دیں گے۔

3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ
Ayahs 18:89–98

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

بارِدگر اس نے تیاری کی

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب آفتاب نکلنے کی جگہ (یعنی مشرق) میں پہنچا تو اس نے آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع کرتے ہوئے پایا کہ جن کے لیے ہم نے آفتاب سے بچنے کے لیے کوئی اوٹ نہ بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

بات یوں ہی ہے اور اس کے حال کی پوری پوری خبر ہمارے ہی پاس ہے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

اس نے پھر تیاری کی

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ جب پہاڑ کے دو دروں میں پہنچا تو ان کے پار ایک ایسی قوم ملی جو بات نہ سمجھ سکتی تھی۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے (مترجم کی معرفت) کہا اے ذوالقرنین ! یاجوج و ماجوج نے تو ملک میں فساد ڈال رکھا ہے۔ پھر آپ کہیں تو آپ کے لیے ایک محصول قائم کریں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے بیچ کوئی مستحکم دیوار بنا دیں

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

اس نے کہا کہ جو کچھ میرے رب نے مجھے مقدور دے رکھا ہے وہی کافی ہے۔ پھر تم اپنی (ہاتھ پائوں) طاقت سے میری مدد کرو کہ میں تمہاری اور ان کے درمیان ایک آڑ بنا دوں

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

مجھے لوہے کے تختے لا دو (وہ لائے) اور کام شروع ہوا یہاں تک کہ جب پہاڑ کے دونوں کناروں کو (دیوار چن کر برابر کردیا تو کہا اس کو دھونکو۔ لوگ دھونکنے لگتے ہیں) یہاں تک کہ جب اس کو سرخ انگارہ کردیا تو اس نے کہا کہ اب تم میرے پاس تانبا لائو کہ پگھلا کر اس پر ڈال دو (پس ایسی مستحکم اور بلند دیوار تیار ہوگئی)

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

کہ یاجوج و ماجوج نہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں نقب لگا سکتے ہیں

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

اور دیوار کو دیکھ کر ذوالقرنین نے کہا کہ یہ میرے رب کی عنایت ہے۔ پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اس کو ڈھا کر برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔

ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا ہے کذلک الخ یعنی ہم علام الغیوب ہیں ذوالقرنین کا پورا حال کہ کس قدر سپاہ تھی اور اس کے ساتھ کون کون تھے جو ہم کو معلوم ہے اور کوئی کیا جان سکتا ہے اور الحق یوں ہی ہے۔ شمال کا سفر : ثم اتبع سببًا یہ تیسرا سفر ہے اس کی کوئی سمت بیان نہیں کی۔ غالباً شمالی رخ کا دھاوا ہے کیونکہ آبادی زمین کی اسی حصہ میں بیشتر ہے۔ شمال میں فتح کرتے کرتے وہ پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچے اور اس کے متصل ایسی قوم ملی جو بات نہ سمجھ سکتی تھی ترجمان کے ذریعے سے انہوں نے ذوالقرنین سے قوم یاجوج وماجوج کی سرکشی اور فساد کا حال بیان کر کے اس گھاٹی کو بند کرنے کی درخواست کی کہ جس سے گزر کر یہ دونوں قومیں ان کے ملک میں قتل و غارت کرتی تھیں اور اس پر انہوں نے کچھ روپیہ یا پیداوار دینے کا بھی عدہ کیا۔ ذوالقرنین نے کہا خدا نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے تم صرف جسمانی مدد دو کہ لوہے کے تختے میرے پاس لاؤ چناچہ وہ لوگ لائے، پس جب پہاڑوں کی چوٹیوں تک درے کو لوہے اور پتھروں سے چن دیا تو گرم کر کے یعنی پگھلا کر اس پر کسی حکمت سے تانبا یا سیسہ ڈال دیا جس سے وہ دیوار ایک ذات ہوگئی۔ سب جوڑ مستحکم ہوگئے کہ نہ تو اس کی بلندی کی وجہ سے یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ سکتے تھے نہ اس میں سوراخ کرسکتے تھے۔ ذوالقرنین نے کہا یہ تم پر رحمت الٰہی ہے اس کے گرنے کا ایک وقت مقرر خدا نے کر رکھا ہے جب وہ وقت آئے گا تو گر جائے گی یہ اس لیے کہ شکرگزاری کرتے رہیں، ڈرتے رہیں۔