18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 18:32–44

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان کو دو شخصوں کی مثل بھی سنا دو کہ جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ تیار کئے اور ان کے گرداگرد کھجوریں لگائیں اور ان کے درمیان کھیتی بھی لگائی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ ہیں کہ اپنے پھل لاتے ہیں اور پھل لانے میں کچھ کمی بھی نہیں کرتے اور ان باغوں کے بیچ میں ایک نہر بھی جاری کی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس شخص کے پاس بہت پھل تھے پھر اس نے اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور آدمیوں کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت دار ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (جبکہ) وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں گیا جا کر کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیامت برپا ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس پہنچایا بھی گیا تو اس سے بھی بہتر جگہ پائوں گا۔

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

(اس وقت) اس کے رفیق نے اس سے اثنائِ کلام کہا کہ کیا تو اس کا منکر ہوگیا کہ جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے بنایا پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میرا تو اللہ ہی رب ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرنے کا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور تو نے کس لیے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت یہ نہ کہا جو اللہ نے چاہا سو ہوا اور مجھ میں تو اس کے بغیر کچھ بھی قدرت نہیں اگرچہ تو مجھے اپنے سے مال اور اولاد میں کم دیکھتا ہے

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو امید ہے کہ مجھے میرا رب تیرے باغ سے بھی بہتر باغ دے اور اس باغ پر ایک آسمانی جھونکا بھیجے گا جس سے وہ چٹیل میدان ہوجائے گا

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی خشک ہوجائے گا کہ جس کو تو ہرگز نہ پا سکے

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے پھلوں پر آفت آ ہی پڑی پھر تو وہ جو کچھ اس نے باغ میں صرف کیا تھا اس پر ہاتھ ہی ملتا رہ گیا اور یہ باغ ہے کہ سراسر اجاڑ پڑا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ہائے رے میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کی اب کوئی جماعت بھی ایسی نہ ہوئی کہ اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی انتقام لے سکا۔

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (سے معلوم ہوا کہ) سب اختیار اللہ سچے ہی کو ہے اسی کا انعام بہتر ہے اور وہی عمدہ بدلہ دیتا ہے۔

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت پر پھل بھی عمدہ آتے تھے اس پر اس کی اولاد اور خدمتگار نوکر چاکر بھی زیادہ تھے ایک روز وہ اپنے غریب مومن بھائی کے ساتھ باغ میں گیا اور وہاں بجائے شکرگزاری کے تکبر کیا اور دنیا کی ترقی پر قیاس کر کے آخرت میں بھی تجمل و آرائش پانے کا استحقاق ظاہر کیا اور آخرت کا انکار بھی اس کے کلام سے ثابت ہوا۔ اس کے بھائی نے سمجھایا، تلقین کی لیکن نہ مانا۔ آخر اس پر آسمانی بلا نازل ہوئی کہ تمام باغ اجاڑ ہوگیا جس پر وہ ندامت و حسرت کرنے لگا تب معلوم ہوا کہ اللہ ہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ؎ کہ میرا کنبہ نوکر چاکر یار و احباب بہت ہیں اور دنیا میں ہل کی طرح یہ ہی ایک عزت و شوکت کا سامان۔ 12 2 ؎ سچا ورہیرا جو فی الکلام من خبار اذا رجع حسبان جمع جسانۃ دہی الصواعق وقیل مصدر بمعنی الحساب (بیضاوی) الجان بالضم اعذاب والبلاء والشر والنحاج الراد والہام الصنعار والحبانۃ واحدھا الصاعقۃ قاموس۔ 12 منہ 1 ؎ اختلط اے تکاثف وغلط حتی استوی والتف بعضہ علی بعض او امتزج الماء بالبنات فروی۔ 12 منہ 2 ؎ ہشیما ایاب لبسا متفقہ والہشیم الکبیر واحدہ ہشیمۃ وھی من البنات ما تکسر بالبیس والتفتت۔ 12 منہ
Ayahs 18:45–47

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) ان سے زندگی دنیا کی مثال بیان کرو کہ وہ ایسی ہے کہ جیسا کہ بارش کا پانی جس کو ہم نے اوپر سے برسایا پھر اس سے زمین کا سبزہ گہن گہنا کر اگا پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ گیا کہ اس کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور اولاد تو زندگی دنیا کی آرائش ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں آپ کے رب کے نزدیک بلحاظ ثواب اور توقع آخرت کے بہت ہی بہتر ہیں

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس روز کہ ہم پہاڑوں کو اڑائیں گے اور (اے مخاطب ! ) تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور ہم ان سب کو جمع کرلیں گے

ترکیب : مثل الحیات مفعول ہے اضرب کا کماء موصوف انزلناہ الخ جملہ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا محذوف کی اے ھی بل للخروج من کلام الیٰ آخر۔ تفسیر : یہ دوسری تمثیل ہے دنیا کی بےثبانی کے لیے صرف بارش سے دنیا کی زندگی کو تشبیہ نہیں دی بلکہ اس کی تمام کیفیت سے کہ جس طرح بارش سے زمین کے نباتات ہرے بھرے لہلہاتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو دیکھ کر انسان خوش ہوتے ہیں ان کی تھوڑی سی عمر طبعی ہے چند روز کے بعد خشک ہوجاتے ہیں پھر ان کا چورا چورا ہو کر ہوا میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انسان و دیگر حیوانات کا حال ہے کہ لڑکے ہیں پھر جوان رعنا ہیں ٹھوکریں مارتے چلتے ہیں ‘ پھر بڈھے ہوئے مرگئے ‘ چند روز کے بعد وہ سرِ پر غرور اور اس کا وہ جسم پرنور ذرہ ذرہ ہو کر خاک کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے۔ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ بناتا بھی ہے ‘ مٹاتا بھی ہے پھر حشر کو بھی اٹھائے گا۔ اب اس کے بعد اس کے مال و اولاد کی کیفیت بیان فرماتا ہے جو اس کے غرور کا سرمایہ ہے کہ یہ چیزیں صرف حیات دنیا کی آرائش 1 ؎ ہیں۔ ان کا قیام اسی قدر ہے کہ جس قدر باغ میں پھول کی بہار برخلاف اس کے جو فقرائِ باخدا کا سرمایہ ہے وہ کیا۔ الباقیات الصالحات سو وہ اللہ کے نزدیک ثواب اور توقع کے لیے بہتر ہے یہی چیزیں اس کے ساتھ جاتی ہیں جو اس عالم باقی میں اس کی فرحت دائمی کا سامان ہوجاتی ہیں۔ باقیات الصالحات سے مراد نیکیاں ہیں خواہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا ذکر ہو یا معرفت و استغراق ہو یا کوئی اور نیکی ہو صدقہ و خیرات دین کی خدمت وغیرہ۔ اب ان باقیات کا اثر کب نمودار ہوگا۔ یوم نسیر الجبال کہ جس روز ہم پہاڑوں کو جن کی بقا وحیات انسانوں کی نظروں میں مستحکم ہے، روئی کے گالوں کی طرح اڑائیں گے یعنی اس عالم عنصری کو فنا کر کے عالم باقی کو کہ جس کو حشر سے تعبیر کیا جاتا ہے ظاہر کریں گے باقیات الصالحات وہاں کی زینت ہوگی۔ وتری الارض بارزۃ اور زمین میدان دکھائی دے گی اس کے سب نشان مٹ جائیں گے۔ پھر اس روز اگلے پچھلے سب جمع کئے جائیں گے، صف بستہ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ نامہ اعمال دیے جائیں گے اس میں جو کچھ دنیا میں کیا تھا چھوٹا یا بڑا کام سب لکھا ہوا پائیں گے، گنہگار اس کو دیکھ کر ڈریں گے، پچھتائیں گے مگر یہ سب کچھ انہیں کا بویا ہوا ہوگا جس کو کاٹیں گے خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
Ayahs 18:48–49

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

پھر تو ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے اور سب آپ کے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) اب تو تم ہمارے پاس اس حال میں آ حاضر ہوئے کہ جیسا تم کو اول بار پیدا کیا تھا 1 ؎ اور تم نے تو یہ بھی سمجھ لیا تھا کہ تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت مقرر نہیں کریں گے۔

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ اعمال بھی ملا کر دھرے جائیں گے پھر (اے مخاطب ! ) تو گنہگاروں کو دیکھے گا کہ جو کچھ ان میں لکھا ہے اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ وائے خرابی یہ کیسی کتاب ہے جو نہ کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو مگر سب کو تو گھیر لیا ہے۔ انہوں نے جو کچھ کیا تھا سب ہی کو تو موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا۔

1 ؎ یعنی جس طرح پیدائش کے وقت خالی ہاتھ ننگ ملنگ پیدا ہوتے ہیں اسی طرح اس عالم حشر میں بھی جو حمل دنیا کا تولد ہے خالی ہاتھ ہوں گے یہ مال و دولت جاہ و حشم جس پر آج غرور ہے کچھ بھی ساتھ نہ ہوگا۔ 12 منہ۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے جھکو پس ابلیس کے سوا سب جھکے وہ قوم جن سے تھا سو اپنے رب کے حکم سے نافرمان ہوگیا (پھر کیا) تم اس کو اور اس کی ذریت کو مجھے چھوڑ کر رفیق بناتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ستمگاروں کے لیے کیا ہی برا بدل 1 ؎ ہے

1 ؎ یعنی اللہ کے بدلے میں شیطان کو کارساز بنا لیا۔ 12 منہ۔ تفسیر : یہ بھی کلام سابق کا تتمہ ہے انسان کو عالم آخرت سے غافل کرنے والی دو ہی چیزیں ہیں اول مال و اسباب و اولاد کہ جس کے نشہ میں یہ ایسا سرشار ہوتا ہے کہ اس کو اس عالم سے جانے کی فکر نہ وہاں کے لیے زاد راہ حاصل کرنے کی مہلت۔ اس کا بےثبات اور سریع الزوال ہونا تو بیان فرما چکا۔ دوم شیطان اور اس کی ذریت اولاد یا اس کے متبع لوگ جو مجازاً ذریت کہلاتے ہیں۔ انسان کے دل پر ان کے خطرات ایسا برا اثر پیدا کرتے ہیں کہ جو اس کے دل میں نہایت راسخ ہو کر اس کو بری باتوں پر ہمیشہ تحریک کرتے ہیں۔ پھر یہ وسواس رسوم ہوجانے کے سبب اور پشت در پشت متواتر جانے کی وجہ سے دین و مذہب اور نہایت خوشنما اور باعث فلاحِ دارین خیال کئے جاتے ہیں جن کے ترک کرنے کو نہایت شاق و عار جان کر خدا تعالیٰ کے فرستادوں سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ شیطان رجیم کی ذریت انسان کے توہمات باطلہ بھی ہیں جو اس کے قائم مقام ہو کر کام دیتے ہیں۔ اس لیے ان آیات میں پھر کچھ شیطان کا حال بیان فرمانا پڑا کہ اس کا علاقہ بنی آدم کے ساتھ اس واقعہ کی وجہ سے جو انسان کے جد اعلیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ وہ دشمنی اور عداوت کا علاقہ ہے جس کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ناخلف اپنا دوست سمجھ کر دل سے اس کی پیروی کرتی ہے لہٰذا و اذا قلنا للملائکۃ سے وہی بیان شروع ہوتا ہے کہ ہمارے حکم سے فرشتوں نے تو باوجود نورانی ہونے کے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اس کی تعظیم بجا لائے مگر ابلیس نے انکار کیا کیونکہ وہ قوم جن سے تھا جس کی اصالت میں سرکشی اور تکبر ہے جیسا کہ بنی آدم میں سے اس کے پیروئوں کا شیوہ مال و جاہ حسب و نسب کا غرور ہے اس لیے اس نے نافرمانی کی پھر اے بنی آدم تمہیں شرم نہیں آتی جو ہمارے خلاف میں جو تمہارے قدیم محسن و خالق ہیں تم شیطان اور اس کی ذریت کو مانتے اور ان کے بہکانے سے بتوں کو پوجتے ہو اور تم خدا تعالیٰ پر نئے نئے حکم صادر کرتے ہو کہ مجلسِ آنحضرت ﷺ میں غربانہ آئیں وغیرذالک یہ تو کہو ان کو میری خدائی میں کیا استحقاق ہے نہ میں نے آسمانوں اور زمین پیدا کرتے وقت ان کو حاضر کر کے شامل کیا تھا نہ خود ان لوگوں کے پیدا کرنے میں اور میں ان سے کیوں مدد لینے لگا تھا۔ اب ان کو خدائی میں کیا حق ہے اور تم پر ان کا کون سا استحقاق ہے جو ان کو پوجتے ہو اپنے مثل کو پوجنا کتنی فرومائیگی ہے ما اشہد تھم الی عضدا میں یہی مراد ہے۔ ویوم یقول الخ سے حشر کے دن ان بتوں اور شیاطین کا کام نہ آنا بیان فرماتا ہے کہ جس امید پر سینکڑوں جاہل انہیں مانتے ہیں ان سے کہا جائے گا لو اب انہیں پکارو۔ دیکھیں تمہارے کیا کام آتے ہیں مشرکین حسب عادت انہیں پکاریں گے مگر کام آنا تو درکنار جواب بھی نہ دیں گے ان پر ہیبت الٰہی طاری ہوجائے گی پھر عابد معبود سب جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ جہنم جو آگ کا ایک عمیق گڑھا ہے اس کے کنارہ پر آ کر دیکھیں گے کہ آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں اور چاہیں گے کہ کسی طرح اس سے ٹل جائیں مگر کہاں ٹل سکتے ہیں۔ تب یقین ہوجائے گا کہ ہم اس میں گرنے والے ہیں، اس وقت کی کیفیت بھی بڑی جان گداز ہوگی آخر اس میں گرا دیے جائیں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وجعلنا بینہم موبقا کے یہ معنی ہیں کہ ان کے معبودوں اور ان میں ایک حجاب 1 ؎ حاجز ہوجائے گا پھر وہ دکھائی بھی نہ دیں گے۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

(جن کو وہ پوچھتے ہیں ہم نے) نہ تو ان کو آسمانوں اور زمین کے بنانے 2 ؎ میں (اپنی مدد کے لیے بلایا) نہ خود ان کے بنانے میں اور میں بدراہوں سے کا ہے کو مدد لینے لگا تھا

2 ؎ یعنی جب نہ وہ آسمانوں اور زمین کے بنانے کے وقت نہ خود ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے اور نہ اس میں شریک تھے تو اب ان کا خدائی میں کیا حصہ ہے پھر کیوں ان کو شریک بنایا جاتا ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 18:52–53

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن (اللہ) مشرکوں سے فرمائے گا کہ تم میرے ان شریکوں کو تو پکارو کہ جن کا تمہیں گھمنڈ تھا سو وہ پکاریں گے پر وہ تو انہیں کچھ بھی جواب نہ دیں گے اور ہم ان سب کے لیے ہلاکت کردیں 3 ؎ گے

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار آگ کو دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم اس میں ابھی گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

3 ؎ یعنی سب ایک ہلاکت میں شریک ہوں گے وہ کیا ہے آتش جہنم موبق ہلاکت موبق ظرف مکان یا یہ معنی کہ ان کی باہمی محبت دنیا موبق یعنی ہلاکت کا باعث ہوگی تب یعنی وصل میں ای جعلنا تو اصلھم فی الدنیا ہلاکًا یوم القیامۃ (بیضاوی) ۔ 12 منہ 1 ؎ موبق قیل اسم و ادمن جہنم وقیل ہی نارو قیل بوذخ فعلی ھذا ھواسم مکان و قتال ابن الاعرابی۔ کل حاجز مبین العین فھو موبق فعلی ھذا تفسیرہ جعلنا بین المشرکین و بین التھم حجابا حاجزا لایصل احدھم الی احدوقال الفراء الموبق الھلاک وبہ قال مجاہد و ابن عباس والمعنی جعلنا تو اصلھم فی الدنیاہ مھلکم فی الآخرۃ یقال وبق یبق۔ 12 منہ
Ayahs 18:54–59

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے قرآن میں لوگوں کو سمجھانے کو ہر طرح کی مثالیں بیان کردیں مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب کہ لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو پھر ان کو ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے اس کے سوا اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ یا تو ان کو بھی اگلوں جیسا ماجرا پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آموجود ہو

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف خوشخبری دینے اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا کرتے ہیں (زبردستی ہدایت پر لانا ان کا فرض نہیں) اور کافر بیہودہ شبہات سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو ڈگمگا دیں اور انہوں نے تو میری آیتوں کو اور جس سے کہ ان کو ڈرایا گیا ہے ہنسی بنا لیا ہے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے کہ جس کو اللہ کی آیتوں سے سمجھایا جائے پھر وہ ان سے منہ پھیر لے اور اپنے کئے کو بھول جائے ہم نے ہی ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں حق بات کے سمجھنے میں اور ان کے کانوں میں ثقل کردیا ہے (بہرے ہوگئے ہیں) اور اگر ان کو ہدایت کی طرف بھی بلائیں تو بھی وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا ‘ رحمت والا ہے۔ اگر ان کے کئے پر ان کو پکڑنا چاہتا تو فوراً ہی عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک میعاد مقرر ہے جس سے ادھر انہیں بچنے کا موقع نہ ملے گا

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ ہیں وہ بستیاں کہ جن کو ہم نے ہلاک کیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا تھا اور ان کی ہلاکت کا بھی ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا۔ 1 ؎

تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو دنیا میں کوئی سخت ہلاکت پیش آئے یا عذاب آخرت ان کے سامنے آموجود ہو تب یہ ایمان لائیں یعنی اب بھی جو ایمان نہیں لاتے تو بجز اس کے اور کیا ہوگا۔ کہ قدیم لوگوں کے موافق ان پر عذاب آئے گا اور مرتے ہی جہنم میں جائیں گے۔ ہدایت آچکی رسول ﷺ نے پیغام پہنچا دیا اور انبیاء کا یہی کام ہے ان کے دلوں سے کفر نکال پھینک دینا ان کا کام نہیں۔ ایمان نہ لانا تو ایک جرم تھا۔ اس پر مزید یہ ہے ویجادل الذین کفروا بالباطل کہ وہ منکرین غلط اور لغو دلیلیں پیش کر کے جھگڑا مچاتے ہیں لیدحضوا بہ الحق تاکہ اس سے حق کو پست کریں، اسلام پر غالب آجائیں، اس کو مٹا ڈالیں اور اس پر بھی طرہ یہ کہ واتخذوا آیاتی و ما انذروا ھزوا کہ میری نشانیوں کو جو ان میں بھی موجود ہیں تغیر جوانی وطفلی ‘ ظہور پیری ‘ مرگ احبہ اعزہ ‘ بیماری و تندرستی غنا و تنگ دستی وغیرہ اور دنیا میں بھی ہیں تغیر عالم تغیرلیل ونہار حوادث دہر یا قرآن کی آیات کو اور جن جن چیزوں کا ان کو ڈر سنایا گیا تھا دنیاوی ہلاکت و ادبار مرنے کے بعد جہنم سب کو ہنسی دل لگی بنا لیا ہے، ان باتوں پر تمسخر کرتے ہیں، ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں۔ اب و من اظلم الخ ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا ان کی اس بدبختی کا اصلی سبب یہ ہے اناجعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان کے دلوں پر حق سمجھنے سے حجاب اور پردے پڑے ہوئے ہیں اور دوسروں کا حال سن کر بھی عبرت نہیں پکڑتے کس لیے کہ کانوں میں بھی قدرت نے ثقل پیدا کردیا ہے ایسی باتیں سنتے ہی نہیں انسان جب حق کو نہیں مانتا اور عبرت و نصیحت سن کر نہیں قبول کرتا تو اس کی اس حالت کو اس سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ خدا نے ان کے دلوں پر پردے کانوں میں ٹیٹیاں ڈال دی ہیں یعنی قضاء وقدر سے ان میں ہدایت پذیر ہونے کی جو قابلیت دی گئی تھی انہوں نے وہ زائل کردی۔ اس لیے ان تدعہم الی الہدی اے پیغمبر ! آپ ان کو کتنا ہی کیوں نہ ہدایت کی طرف بلائیں یہ کبھی بھی ہدایت قبول نہ کریں گے ان کی سزا تو یہی ہے کہ یہ بیکار گھانس باغ ہستی سے اکھیڑ پھینک دی جائے مگر وربک الغفور ذوالرحمۃ آپ کا خدا بخش دینے والا رحیم ہے اگر وہ لوگوں کے گناہوں پر گرفت کرنے پر آئے تو فوراً مزہ چکھا دے بلکہ ہر کام کے لیے اس نے وقت مقرر کر رکھا ہے ان کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے جس سے پہلے یہ کوئی اس کا بندوبست نہ کرسکیں 1 ؎ گے اور اس پر بھی ان کو باور نہ ہو تو ابھی ظاہری بینائی تو موجود ہے عادوثمودولوط کی الٹی اور برباد شدہ بستیوں کو دیکھ لیں وہ بھی ان کے جرموں پر دفعۃً ہلاک نہیں ہوئے بلکہ ان کے لیے ایک وقت مقرر تھا۔ 1 ؎ یعنی اس وعدے کو اس کے آنے سے پہلے کوئی کسی تدبیر سے ٹال نہیں سکتا بعض نے من دونہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع کی ہے اب یوں معنی ہوں گے کہ ان کے لیے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے جس کے دور کرنے کے لیے خدا کے سوائے اور کوئی پناہ نہیں عذاب موجود بھی اس کی جناب عالی میں پناہ لینے سے ٹل جاتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 18:60–68

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جبکہ موسیٰ نے اپنے جوان 1 ؎ سے کہا کہ جب تک میں دونوں دریائوں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ لوں یا سالہا سال نہ چلا چلوں اپنے ارادہ سے کبھی نہ ٹلوں گا

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جبکہ وہ دونوں دریائوں کے ملنے کے موقع پر پہنچے تو اپنی (تلی ہوئی) مچھلی (وہیں) بھول گیا پھر مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیا

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ ہمارا ناشتہ تو لاؤ ہم کو اپنے اس سفر (منزل) میں بڑی تکان پہنچی۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

اس نے کہا اے دیکھو جبکہ ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو مچھلی کو میں وہیں بھول آیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا آپ سے ذکر کرتا اور (جبکہ) اس نے دریا میں اپنا رستہ عجب طرح سے بنایا تھا۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسیٰ نے کہا) یہی تو وہ جگہ ہے کہ جس کی ہم کو تلاش تھی پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر تلاش کرتے ہوئے واپس پھرے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(موقع پر پہنچ کر) ان کو ہمارے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ملا جس کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور اس کو اپنے یہاں کا خاص علم سکھایا تھا

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

اس سے موسیٰ نے کہا فرمائیں تو میں آپ کے ساتھ رہا کروں بشرطیکہ جو کچھ علم لدنی آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں کچھ مجھے بھی سکھائیں

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

انہوں نے کہا تم تو ہرگز میرے ساتھ ٹھہر نہ سکو گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جو بات تمہاری سمجھ سے باہر ہے تم اس پر کیونکر صبر کرسکتے ہو۔

1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔ تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کی ملاقات : یہ دوسرا واقعہ ہے اول اصحاب کہف کا تھا اس میں یہود پر تعریض ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جملہ انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت دیتے تھے اور جملہ علوم کا انہیں کو سرچشمہ خیال کرتے تھے اس میں اشارہ ہے کہ دنیا میں ان سے بھی بڑھ کر باکمال تھے۔ اب یہ کیا ضرور ہے کہ جو کچھ ان کی کتاب میں نہ ہو وہ غلط ہے علوم الٰہی کا خاتمہ نہیں ہوگیا اس میں آنحضرت ﷺ کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اس قصہ کا مجملاً بیان صحیح بخاری کی اس روایت کے بموجب جو ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے یوں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے کہ کسی نے پوچھا سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ آپ نے فرمایا میں۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم ہوئی کیونکہ سب میں زیادہ عالم ہونا اللہ کے لیے کیوں نہ کہا ؟ تب خدا تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ مجمع البحرین کے موقع پر تم کو ہمارا ایک بندہ ملے گا جو وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟
Ayahs 18:69–71

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر ہی پائیں گے میں کسی بات میں بھی آپ کے خلاف نہ کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس نے کہا اچھا اگر تو میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود ہی تجھ سے اس کا ذکر نہ کر دوں۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب دریا میں کشتی پر سوار ہوئے تو اس نے اس میں شگاف کردیا۔ موسیٰ نے کہا کیا کشتی کے لوگوں کو ڈبونے کے لیے اس کو پھاڑ ڈالا ؟ البتہ تم نے ایک عجیب کام کیا ہے۔

تفسیر : فرمایا اپنے تھیلے میں ایک تلی ہوئی مچھلی رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملیں گے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی تھیلے میں ڈال کر یوشع بن نون کو ہمراہ لے کر چلے۔ چلتے چلتے ایک موقع پر (سمندر کے کنارے) پہنچے تو ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے۔ مچھلی اس تھیلے میں سے تڑپ کر دریا میں جا گری اور جہاں تک وہ جاتی تھی پانی میں ایک سوراخ سا ہوتا جاتا تھا۔ حکمِ الٰہی سے پانی ادھر ادھر سے ملنے نہیں پاتا تھا۔ پھر بیدار ہوئے تو یوشع کو یاد دلانا یاد نہ رہا کہ اس مقام پر مچھلی گم ہوگئی ہے۔ اس سے رات دن تک چلا کئے یہاں تک کہ جب اگلے روز صبح کا وقت آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان یعنی مرید یوشع سے کھانا مانگا۔ اس سے پہلے منزلوں میں موسیٰ (علیہ السلام) نہ تھکے تھے لیکن اس منزل میں تھک گئے جو مقام مطلوب کو چھوڑ کر چلے تھے مچھلی کو دیکھا تو ندارد یوشع نے عذر کیا کہ کمبخت شیطان نے مجھے یاد دلانا بھلا دیا۔ یہ اس پتھر کے پاس گم ہوئی تھی تب دونوں الٹے پھرے اور اس پتھر کے پاس آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ شخص ملا کہ جس کو علم لدنی دیا گیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے السلام علیکم کہا انہوں نے جواب دے کر پوچھا کون ہو ؟ کہا موسیٰ بنی اسرائیل ‘ اس لیے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ علم لدنی سیکھوں۔ خضر نے فرمایا اے موسیٰ ! تجھ کو خدا نے جو علم دیا ہے اس کو میں نہیں جانتا اور جو علم مجھے عطا ہوا ہے اس کو تو نہیں جانتا تم میرے ساتھ نہیں رہ سکو گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا انشاء اللہ میں برداشت کروں گا اور کسی بات میں آپ سے خلاف نہ کروں گا پھر تمام قصہ مروی ہے کہ دریا میں ان کو ایک کشتی ملی، اس پر سوار ہوئے تو خضر (علیہ السلام) نے ایک تختہ نکال دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا واہ بغیر کرایہ سوار کیا، اس پر آپ نے یہ سلوک کیا ؟ خضر (علیہ السلام) نے کہا لو رخصت۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عذر کیا کہ بھول کر سوال کیا آیندہ ایسا نہ ہوگا۔ پس کشتی سے نکل کر چلے تو ایک جوان لڑکا ملا جو لڑکوں میں کھیل رہا تھا۔ خضر (علیہ السلام) نے اس کو مار ڈالا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اس بےگناہ کو تم نے ناحق قتل کیا۔ یہ بری بات کی۔ خضر ( علیہ السلام) نے اب کی بار نہایت برہم ہو کر کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہ رہ سکو گے اس لیے کے بعد تاکید کے لیے لک لام و کاف زیادہ کیا۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے عذر کیا اور شرط کرلی کہ اگر اب کے پوچھوں تو اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ آگے چلے تو ایک گائوں میں پہنچے۔ ہرچند انہوں نے دستور کے موافق گائوں والوں سے کھانا مانگا، ضیافت چاہی مگر انہوں نے صاف جواب دے دیا۔ اسی گائوں میں ایک دیوار تھی جو گرا ہی چاہتی تھی، خضر (علیہ السلام) نے اس کو سیدھا کردیا، اب تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تاب نہ رہی۔ اور خود جان کر سوال کیا کیونکہ ان کے پاس رہنا مقصود ہی نہ تھا کہہ اٹھے کہ ان سے اس دیوار کے سیدھا کرنے کی اجرت لے لینی چاہیے تھی۔ انہوں نے ہمارا حق مہمانی بھی ادا نہیں کیا۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا لو اب مجھ میں اور تم میں جدائی ہے مگر میں تم کو ان تینوں باتوں کا سر بتلائے دیتا ہوں کہ جن پر تم سے صبر نہ ہوسکا۔ کشتی کی سنئے، وہ بیچارے غریبوں کی کشتی تھی جو اس کے ذریعہ سے محنت مزدوری کر کے بسراوقات کرتے تھے اور آگے ایک بادشاہ بیگار میں زبردستی کشتیاں پکڑ رہا تھا میں نے اس کا تختہ نکال کر عیب دار کردیا تاکہ بادشاہ اس کو نہ پکڑے چناچہ اس نے نہ پکڑا اور تختہ لگا کر کشتی کو انہوں نے درست کرلیا۔ اب بتلائیے یہ کام اچھا تھا یا برا ؟ اور وہ جو لڑکا تھا وہ نہایت شریر اور سرکش تھا، اس کے ماں باپ نیک تھے، خوف تھا کہ اس کی محبت میں آ کر کہیں وہ بھی کفروسرکشی میں مبتلا نہ ہوجائیں، اس لیے خدا کو منظور ہوا کہ یہ مرجائے اور اس کے بدلے ان کو اور اولاد ملے جو خیرًا منہ زکوٰۃ تقویٰ و صلاح میں اس سے بہتر ہو اوراقرب رحما جو صلہ رحمی اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنے میں بھی اس سے بہتر ہو چناچہ اس کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو نہایت نیک تھی جس کے پیٹ سے ایک نبی پیدا ہوا۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ وہ جوان تھا لیکن نوعمر ہونے کی وجہ سے اس کو لڑکا کہا اور چونکہ خوبصورت تھا اس لیے اس کو ستھرا کہا۔ کلبی کہتے ہیں وہ جوان تھا، راہزنی کر کے مال اپنے ماں باپ کے ہاں لاتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں لڑکا تھا مگر فساد کیا کرتا تھا جس سے اس کے والدین کو ایذا ہوتی تھی (معالم التنزیل) کہو اس میں ارادہ الٰہی کے بموجب کیا برائی ہے ؟ اب رہی دیوار سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک مرد تھا جس کی برکت سے خدا کو اس کی اولاد کے ساتھ احسان کرنا منظور تھا کہ جوان ہو کر وہ اپنا خزانہ نکالیں۔ اگر اس دیوار کو درست نہ کیا جاتا اور یہ گر پڑتی تو اور لوگ خزانہ لے لیتے اس لیے اس کو درست کردیا کہ ان کی جوانی تک نہ گرے۔ کہیے اس پر کیا اجرت لینی مناسب تھی ؟ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) سے جدا ہو کر پھر بنی اسرائیل میں آگئے۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ دنیا میں خدا کے بندے مجھ سے بھی زیادہ عالم ہیں۔ ابحاث : (اوّل) یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کب گزرا ہے ؟ حال کے اہل کتاب کہتے ہیں کہ توریت میں اس کا کہیں ذکر نہیں اس لیے وہ اس کے منکر ہیں۔ علمائِ اسلام میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں تھے اسی لیے مجمع البحرین یعنی دو سمندروں کے ملنے کے موقع پر اختلاف کیا ہے۔ قتادہ بحر فارس روم مشرقی جانب کا کہتے ہیں۔ محمد بن کعب طنجہ بتلاتے ہیں، ابی بن کعب افریقہ کہتے ہیں (معالم) مگر صحیح یہی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر قلزم کو عبور کر کے ملک عرب کے شمالی و مغربی کناروں میں آرہے تھے اور بحرین سے مراد بحر قلزم کی وہ دو شاخیں ہیں جو شمالی جانب ہیں، دور تک جا کر دو شاخ ہوگئی ہیں جہاں سے وہ دو شاخ جدا ہوتی ہیں گویا وہ ان دونوں شاخوں کا مجمع یعنی جمع ہونے کی جگہ ہے۔ انہیں دو شاخوں کے بیچ میں کوہ سینا اور حو رب اور وہ مقامات ہیں کہ جہاں بنی اسرائیل برسوں رہے ہیں چناچہ جغرافیہ فرہاد صفحہ 435 کے حاثیہ میں یہ ہے۔ وباعتقاد من مجمع البحرین کہ در قرآن مجید است کماقال اللہ عزوجل حتی ابلغ مجمع البحرین الخ ملتقائے خلیج عقبہ و خلیج سویس است و اکثر مفسرین باشتباہ افتادہ مجمع البحرین راملتقائے بحر عمان و ہند گرفتہ اندوحضرت موسیٰ بایں صفحات عبور نفرمود واسم قدیم عقبہ ایلہ است و اکثرے نیز ایلہ راندانستہ اندو ابلہ بصرہ خواندہ اندببیں تفاوت راہ ازکجاست تابکجا انتہیٰ ۔ توریت موجود میں اس قصہ کا درج نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ قصہ واقع نہیں ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہت سی کتابیں تھیں کہ جن کو سب اہل کتاب کہتے ہیں مفقود ہوگئیں، ان میں بھی اگر اس کو نہ پاتے تو پھر کچھ مجال گفتگو تھی۔ (دوم) اکثر اہل اسلام اس کے قائل ہیں کہ موسیٰ سے مراد ان آیات میں حضرت موسیٰ بن عمران ‘ ہارون (علیہما السلام) کے بھائی ہیں مگر کعب احبار کی بیوی کا بیٹا نوفل بکالی یہ کہتا تھا کہ یہ اور موسیٰ ہیں جو منسی بن یوسف بن یعقوب (علیہم السلام) کے بیٹے تھے لیکن خود حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تکذیب کی ہے کہ وہ غلط کہتا ہے۔ تحقیق خضر : وہ شخص کہ جس کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علم لدنی تعلیم پانے گئے تھے کون تھے ؟ علمائِ اسلام کہتے ہیں کہ وہ حضرت خضر ( علیہ السلام) تھے کہ جن کو بعض نے ولی اور بعض نے نبی کہا ہے۔ مجاہد کہتے ہیں جس جگہ وہ نماز پڑھتے تھے وہ جگہ سبز اور ہریالی ہوجاتی تھی اس لیے ان کو خضر کہتے ہیں جس کے معنی سبز کے ہیں۔ یہ بات کسی صحیح حدیث سے دریافت نہیں ہوتی کہ خضر کس ملک میں پیدا ہوئے اور کس قوم کے تھے اور کس زمانہ میں پیدا ہوئے تھے ؟ توریت سفر پیدائش کے چودھویں باب کے اخیر میں ملک صدق کا ذکر آیا ہے کہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو برکت دی اور وہ خدا کا کاہن 1 ؎ تھا۔ پھر اسی ملک صدق کی نسبت عیسائیوں کی انجیل میں یعنی نامہ عبرانیوں کے ساتویں باب میں یہ لکھا ہے کیونکہ یہ ملک صدق سالیم کا بادشاہ تھا خدا کا کاہن تھا جس نے ابرہام کا جبکہ وہ بادشاہوں کو مار کے پھر آتا تھا استقبال کیا اور اس کے لیے برکت چاہی جس کو ابرہام نے سب چیزوں کی دہ یکے 2 ؎ دی وہ پہلے اپنے نام کے معنوں کے موافق راستی کا بادشاہ اور پھر شاہ سالیم یعنی سلامتی کا بادشاہ یہ بےباپ بےماں بےنسب نامہ جس کے نہ دنوں کا شروع نہ زندگی کا آخر مگر خدا کے بیٹے سے (عیسیٰ ) مشابہ ٹھہر کے ہمیشہ کاہن رہتا ہے۔ گرچہ ملک صدق کی بابت جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں تھا اور جس کی نسبت ہمیشہ زندہ رہنا لکھا ہے اہل کتاب کے مختلف قول ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ ملک صدق وہی شخص ہے کہ جس کو اہل اسلام خضر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اب ان کی عظمت اسی سے ظاہر ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جدِامجد اور اب الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو برکت دی تھی۔ شاید پولوس کا یہ کہنا کہ ان کے نہ ماں تھی نہ باپ نہ اس کی عمر کی ابتداء ہے۔ مبالغہ پر محمول ہو جو اس نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تشبیہ کے لیے یہ بات کہی ہو۔ والعلم عنداللہ۔ خضر (علیہ السلام) : (اول) کے بارے میں علمائِ اسلام کے دو قول ہیں ایک جماعت صرف حدیث سے استدلال کر کے (جس کو بخاری وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک بار عشاء کی نماز پڑھ کر یہ فرمایا تھا کہ آج کی رات جو زمین پر زندہ ہے سو برس کے اخیر تک مرچکے گا) یہ کہتی ہے آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت خضر بھی بموجب حدیث مذکور مرگئے مگر اکثر علماء فرماتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں جس طرح کہ حضرت الیاس اور سال بھر میں دونوں ایک بار ملاقات بھی کرتے ہیں۔ حدیث مذکور میں جو سو برس کے بعد مرنا آیا ہے وہ اکثر لوگوں کی عمر طبعی کا لحاظ کر کے فرمایا ہے عموم مراد نہیں کہ جن کی زندگی محض اس کی قدرت کاملہ کے طور پر ہو وہ بھی اس میں شامل ہوجائیں۔ (دوم) خضر کی زندگی کی بابت یہ جو عوام میں مشہور ہے (کہ وہ سکندر ذوالقرنین کے ساتھ ظلمات میں گئے اور ذوالقرنین آب حیات کے چشمہ کا رستہ بھول گئے اور خضر نے وہاں پہنچ کر وہ پانی پی لیا جس لیے ان کی زندگانی ہمیشہ تک رہے گی اور نیز یہ کہ خضر دریائوں پر رہتے ہیں وہاں کے کاروبار انہیں سے متعلق ہیں یہاں تک کہ عوام کنوئوں، تالابوں، نہروں پر بھی خضر کے نام کا چراغ جلاتے اور دلیہ پکا کر فاتحہ دلاتے ہیں اور ان کے نام کی دہائی دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ) نہ قرآن سے اس کا ثبوت ہے نہ پیغمبر (علیہ السلام) کے کسی قول سے اور ان کی پرستش کرنا اور دہائی دینا تو صریحاً ممنوع ہے۔ علم لدنی : (سوم) باوجودیکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے اولوالعزم رسول تھے ان کو توریت دی گئی تھی، خدا تعالیٰ سے کلام کرتے تھے، پھر وہ کون سا علم تھا جو انہیں حاصل نہ تھا جس کی خضر (علیہ السلام) کے پاس تعلیم پانے گئے تھے۔ 1 ؎ پیشوا۔ امام بمح اور ہ اہل کتاب۔ 12 منہ 2 ؎ ہر چیز میں سے دسواں حصہّ ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانوں میں سے بعض نفوس ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے قوی خیالیہ وحسبہ انوار ولمعان روحانی کی وجہ سے ضعیف ہوجاتے ہیں اور ان کی قوت ملکیہ ان پر یہاں تک غالب ہوتی ہے کہ اگر ان کو طبقہ ملائکہ میں شمار کیا جائے تو کچھ بعید نہ ہو اور ان کی روح علوم و معارفِ الٰہیہ کے لیے ایک آئینہ پر جلا ہوتی ہے تب ان پر بلاتوسط غیرہ عالم غیب کے اسرار فائض ہوتے اور اس کو علم لدنی کہتے ہیں گرچہ سب انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں مگر۔ ہر گلے رارنگ و بوئے دیگر است، ہر ایک کے مراتب متفاوت ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تعلیم خلق کی طرف زیادہ توجہ تھی ان پر اسی قسم کے علوم فائض ہوتے تھے ملائکہ کے سلسلہ میں داخل ہونا ان کے حق میں ان کے مقاصد کے منافی تھا۔ برخلاف حضرت خضر (علیہ السلام) کے کہ وہ ملکیت غالب آجانے کی وجہ سے رجال الغیب اور ملائکہ میں مل گئے تھے اس لیے نظر سے غائب ہوجانا اور ہزاروں کوس دم مارنے میں چلا جانا، سمندروں پر سے پار اتر جانا ان کے نزدیک کچھ مشکل نہ تھا۔ خدا تعالیٰ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ دکھانا تھا کہ ہمارے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ملائکہ کی طرح جو کچھ کرتے ہیں اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں بظاہر ان کے افعال کسی سر کی وجہ سے کسی کی سمجھ میں نہ آئیں اسی لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خضر ( علیہ السلام) نے کہا تھا کہ تم کو اور علوم مجھے اور علوم دیے گئے ہیں، تم میرے ساتھ نہ رہ سکو گے۔ آخر موسیٰ نے بھی دیکھا کہ ان علوم سے مجھے کچھ فائدہ نہیں، وہاں سے چلے گئے۔ امت محمدیہ میں خضر جیسے لوگ ہوتے ہیں : (چہارم) امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں بھی خضر صفت آدمی ہر زمانہ میں موجود ہوتے ہیں جن کو ابدال واوتا دو اقطاب کہتے ہیں مگر جاہل صوفیوں کا اس قصہ سے یہ سمجھ لینا کہ باوا شریعت اور ہے طریقت اور ہے نماز روزہ حرام و حلال کے ہم پابند نہیں، ہم عالم غیب کے مختار ہیں جس کو چاہتے ہیں دیتے ہیں، پھر اس اعتقاد سے جہلاء کا ان سے حاجات طلب کرنا اور ان لوگوں کا شراب پینا، بھنگ نوشی کرنا اور معترض کو یہ کہنا کہ باوا موسیٰ نے بھی خضر پر ایسے ہی اعتراض کئے تھے۔ یہ علم لدنی کی باتیں ہیں جو مرشدوں (یعنی تکیہ میں بھنگ گھوٹنے والوں) سے حاصل ہوتی ہے۔ وغیرہ ذالک من الخرافات محض وسوسہء شیطانی اور دام تزویر ہے معاذاللہ اقطاب وابدال ایسے منہیات کے کب مرتکب ہوتے ہیں خضر (علیہ السلام) کی تینوں باتوں کو غور کرو ان میں سرموقباحت نہ تھی۔ دیوار کا بنانا تو ظاہر ہے، رہا کشتی کا تختہ نکالنا کہ جس سے وہ غرق نہ ہوئے اور ان کی کشتی بچ گئی ایسی ہی بات ہے کہ جس طرح سر کے بال مونڈ دینے سے کسی کا مرض دفع کردیا جائے، رہا اس بدبخت لڑکے کا قتل کرنا سو وہ بھی ٹھیک بات تھی خصوصاً جبکہ وہ جوان اور قزاق تھا یوں تو ملک الموت پر بھی سینکڑوں قتل کے ہر کوئی الزام لگا سکتا ہے۔ ہنود کے معارضہ کا جواب : ہندوئوں کی کتابوں سے جبکہ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ کرشن نے گوپیوں سے ایسا کیا مہادیوجی نے اور فلاں فلاں بزرگوں نے ذرا سی بات پر اتنے لوگوں کو بےرحمی سے قتل کر ڈالا تو ہنود کے رئیس المناظرین لالہ اندرمن نے حضرت موسیٰ کا قبطی کو مکا مارنا اور خضر (علیہ السلام) کا کشتی کا تختہ اکھیڑنا، لڑکے کو قتل کرنا، حضرت آدم کا بھول کر گندم کے درخت کو کھانا گنوا دیا اور سینکڑوں وہ بےاصل قصے جو ہمارے خوش اعتقاد راویوں نے اہل کتاب سے لیے تھے بیان کردیے کہ لو دیکھو تمہارے مسلم بزرگوں نے کیا کم کیا ہے ؟ اس جواب سے ناواقف ہنود تو شاید خوش ہوگئے ہوں گے مگر منصف مزاجوں کے نزدیک یہ جواب سننے کے بھی قابل نہیں کیونکہ کہاں حضرت خضر و موسیٰ و آدم کا یہ فعل کہاں ان کے بزرگوں کے وہ حیرت انگیز ماجرے جو ان کی کتابوں 1 ؎ میں بھرے پڑے ہیں جس کی تشریح سوط اللہ الجبار وغیرہ میں علمائِ اسلام نے خوب کی ہے۔ قرآن مجید میں جو خضر (علیہ السلام) کے تین فعل بیان ہوئے ہر ایک امت کے لیے عجب رموز ہیں۔ (1) اول کشتی کا تختہ توڑ کر بادشاہ ظالم کے ہاتھ سے بچا دینا اس بات کی تعلیم ہے کہ تھوڑے سے نقصان پر ناصبر نہ ہونا چاہیے اس میں جانے کیا فوائد رکھے ہوتے ہیں اور نیز 1 ؎ پورانوں میں۔ 12 منہ یہ بھی کہ کسی غریب کو للہ کشتی میں سوار کرنا یا اس کے ساتھ اور کوئی سلوک کرنا آسمانی ہلاکتوں سے بچنے کا سبب ہوجاتا ہے۔ (2) نیک آدمی پر صدمہ آنا کسی مصلحتِ الٰہیہ کی دلیل ہے جیسا کہ اس بدبخت لڑکے کا مرنا جو دنیا و آخرت میں ان کے ننگ کا باعث تھا جس کے بدلہ میں نیک اولاد ملی۔ (3) نیک آدمی کے بعد پشتوں تک خدا تعالیٰ اس کی اولاد کو نیک صلہ دیا کرتا ہے جیسا کہ دیوار کے قصہ سے ظاہر ہے۔