68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 68:23–24

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے۔

فانطلقوا .................... مسکین (42) (86 : 32۔ 42” چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے “۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم جو قرآن پڑھ رہے ہیں ہمیں تو معلوم ہے کہ آگے کیا آرہا ہے لیکن ان چاروں کو تہ پتہ نہیں ہے کہ آگے وہ کیا دیکھنے جارہے ہیں۔ ہم نے تو یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ رات کو دست قدرت اپنا کام کر گیا ہے۔ باغ میں تو اب کچھ نہیں توڑنے کے لئے۔ باغ یوں ہے کہ گویا کسی نے اس کے تمام پھل توڑ لئے ہیں اور وہاں کچھ بھی باقی نہ ہو۔ اور خفیہ ہاتھ نے یہ کام کردیا۔ اب ہماری سانس رک رہی ہے کہ یہ لوگ کس صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں۔ ان کی تمام تدابیر ان پر الٹ گئی ہیں۔
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل منع کرنے پر) قادر ہیں۔

سیاق کلام مزید مذاق کررہا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ۔ وغدوا ................ قدرین (86 : 52) ” وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل منع کرنے پر) قادر ہیں “۔ وہ اس ارادے سے چلے کہ وہ مساکین سے پھل روکنے اور انہیں منع کرنے پر قادر ہیں۔ اب پہلی مرتبہ وہ ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں جس کی توقع وہ نہ کرتے تھے۔ اب مزاح کی جگہ سنجیدگی آجاتی ہے۔
Ayah 68:26

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ، ” ہم راستہ بھول گئے ہیں…

فلما .................... لضالون (86 : 62) ” مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ، ” ہم راستہ بھول گئے ہیں “۔ یہ تو ہمارا باغ ہی نظر نہیں آتا۔ ہمارا باغ تو پھل سے لدا تھا۔ شاید ہم راستہ بھول کر کسی دوسری جگہ آگئے ہیں۔ لیکن جب معلوم ہوتا ہے کہ راستہ تو نہیں بھولے وہی معروف راستہ ہے جس سے آئے۔
Ayahs 68:27–29

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

. نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں جو سب سے بہتر تھا اس نے کہا ” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرے ؟ “

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

وہ پکار اٹھے ” پاک ہے ہمارا رب ، واقعی ہم گناہ گار تھے “۔

بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے : معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔
Ayah 68:30

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔

فاقبل ................ یتلاومون (86 : 03) ” پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا “۔ لیکن آخر کار وہ جان لیتے ہیں کہ سب کی غلطی ہے ، اب نادم ہوتے ہیں۔ اور توبہ کے بعد امید کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان کو یہ باغ دوبارہ عطا کردے۔ دوبارہ اسے باردار کردے کیونکہ اب وہ مساکین کے خلاف سازش اور بخل سے باز آنے کا عزم کرچکے ہیں۔
Ayahs 68:31–32

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔

قالوا ........................ رغبون (23) (86 : 13۔ 23) ” آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔ اور قبل اس کے کہ اس منظر پر سے پردہ گر جائے ، ہم یہ نصیحت سنتے ہیں :
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے “۔

کذلک .................... یعلمون (86 : 33) ” ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے “۔ یوں ہوتی ہے نعمتوں میں بھی آزمائش۔ اس لئے اہل مکہ کو معلوم ہونا چاہئے۔ انا بلونھم ................ الجنة (86 : 71) ” ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈال دیا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا “۔ لہٰذا ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی بھلائی کس میں ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دنیا کی آزمائش اور عذاب تو مختصر ہوتا ہے۔ اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔ ولعذاب ................ یعلمون (86 : 33) ” لیکن آخرت کا عذاب اس سے بہت بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔ یوں قریشی کے سامنے خود ان کے بدوی معاشرے کا ایک مشہور واقعہ رکھا جاتا ہے۔ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پرانا واقعہ پھر دہرایا جاسکتا ہے۔ ان کو چاہئے کہ اپنی دولت کو دین اسلام پر ظلم کے لئے استعمال نہ کریں۔ ورنہ اللہ اس کو ضائع کرسکتا ہے۔ اور اہل ایمان کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ کبراء قریش کو جو مال و دولت اور جاہ و مرتبہ دیا گیا ہے اور وہ اسے غلط استعمال کررہے ہیں ، یہ سخت آزمائش میں ہیں۔ بہت جلد نتائج سامنے آجائیں گے۔ اور اگر یہ باز آجائیں تو ان کے لئے بہتر ہے ، کاش کہ وہ ہوش کے ناخن لیتے۔ والعذاب .................... یعلمون (86 : 33) ” لیکن آخرت کا عذاب اس سے بہت بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے والے ہیں اور چوکنے ہیں تو ان کے لئے درجات ہیں۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

یقینا خدا ترس لوگوں کے لئے ان کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں “۔

ان للمتقین ................ النعیم ” یہ ہے دونوں کے انجام کا فرق۔ اور یہ ہے دونوں کے طرز عمل اور حقیقت کا فرق۔ دونوں کی راہ الگ ہے تو یقینا دونوں کا انجام بھی الگ الگ ہوگا۔ اب اس کے بعد قرآن کریم ان کے ساتھ ایک ایسا مکالمہ کرتا ہے جو بالکل قابل فہم ہے اور سورت کے ماقبل کے مضامین نے اسے واضح کردیا ہے۔ اور ان پر اب سوال پر سوال کیا جاتا ہے۔ ایسا سوال جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے وہ جواب نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ان سوالات کا واحد جواب ہے جو کڑوا ہے۔ اس کے سوا یہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور آخرت میں ان کے لئے ایک خوفناک منظر ہے۔ اور دنیا میں ان کے ساتھ رب تعالیٰ کا اعلان جنگ ہے۔
Ayah 68:35

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کردیں ؟

افنجعل ............................ فھم یکتبون اس مکالمے اور تحدیات کے درمیان یہ دھمکی بھی آتی ہے کہ آخرت میں تو ان کے لئے عذاب ہے ہی لیکن دنیا میں بھی ان کے خلاف جنگ ہوگی۔ یوں مکالمے میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے اور چیلنج زور دار ہوجاتا ہے۔ چناچہ اہل مکہ کو چیلنج کے انداز میں کہا جاتا ہے۔ فنجعل ............ کالمجرمین (86 : 53) ”” فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کردیں ؟ “ یہ سوال آیات سابقہ میں پائے جانے والے لوگوں کے حوالے سے ہے جو مجرم تھے اور اس کا جواب صرف ایک ہے کہ مسلمین مجرمین کی طرح نہیں ہوسکتے۔ مسلمین رب کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ یہ کبھی بھی ان لوگوں کی طرح نہیں ہوا کرتے جو جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ، جن کی اوصاف آیات سابقہ میں بیان کردی گئی ہیں اور جو اہل مکہ پر چسپاں ہوتی ہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مجرموں اور مسلموں کا انجام ایک طرح کا نہ ہو۔ چناچہ دوسرا سوال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی سرزنش کا سوال ہے۔
Ayah 68:36

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

” تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟

مالکم ............ تحکمون (86 : 63) ” تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو “۔ یعنی آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تمہاری عقل کیوں کام نہیں کررہی ہے۔ تم فیصلے کن دلائل پر کرتے ہو ؟ آخر حسن وقبح کے پیمانے تمہارے ہاں کیا ہیں ؟ کہ تمہارے میزان کے مطابق ایک مسلم اور مجرم برابر ہے .... اس سرزنش اور استکاری سوالات کے بعد اب قرآن کے ساتھ مزاحیہ انداز اختیار کرتا ہے کہ یہ کسی سنجیدہ گفتگو کے قابل ہی نہیں۔
Ayahs 68:37–38

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ؟

ام لکم ............................ تخیرون (83) (86 : 73۔ 83) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ کس کتاب سے یہ علم لے کر آئے ہو ، کیونکہ عقل وعدل کا کوئی معیار تمہارے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ تمہارے فیصلے کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مسلموں اور مجرموں کا ایک ہی انجام ہے۔ پھر یہ عجیب مضحکہ خیز کتاب ہوگی جو تمہاری خواہشات اور تمہاری مرغوبات کے مطابق فیصلے کرتی ہے کہ جو تم چاہتے ہو ، وہی فیصلے اس میں درج ہیں۔ حق اور عدل پر مبنی نہیں ہیں۔ نہ معقول ومعروف کے کسی اصول پر مبنی ہیں۔
Ayah 68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہدوپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاﺅ؟

ام لکم .................... تحکمون (86 : 93) ” یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہدوپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاﺅ“۔ اگر کتاب نہیں ہے تو پھر اللہ کا کوئی عہد تمہارے ساتھ ہوگا پھم ؟ اور یہ عہد قیامت تک کے لئے ہوگا۔ اور اس کے مطابق تمہارا یہ حق تسلیم کرلیا گیا ہوگا ، کہ تمہارے نفس کے بارے میں تمہارا اپنا اختیار ہے تم جو چاہو ، کرو لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ، اللہ کے ہاں ایسا عہد کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ آخر وہ کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کی دلیل کیا ہے ؟
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟

سلھم ................ زعیم (86 : 04) ” ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے “۔ یعنی اس معاہدے کے اوپر کوئی ہے دستخط کرنے والا اور اس پر عمل کروانے کی ضمانت دینے والا کہ اللہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے اور جو قیامت تک کے لئے قابل عمل اور قابل نفاذ ہے۔ یہ اس قسم کا مزاح ہے ، اس قدر فصیح وبلیغ مزاح ہے کہ اسے سن کر ایک معقول آدمی تو پانی پانی ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک نہایت ہی کھلی اور روشن حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔
Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔

ام لھم ................ صدقین (86 : 14) ” یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کئی الہوں کو شریک ٹھہراتے تھے ، لیکن قرآن مجید ان کو اپنا شریک نہیں کہتا ، ان کا شریک کہتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ اللہ کا شریک تو اللہ کو معلوم نہیں ہے۔ اور چیلنج دیتا ہے کہ یہ جو سمجھتے ہیں کہ ہیں تولے آئیں تاکہ ان کو دیکھا جائے ، لیکن کہاں سے لائیں ؟
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے ،

یوم یکشف ................................ وھم سلمون (34) (86 : 24۔ 34) ” جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے ، ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح وسالم تھے ، اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے) “۔ یوں یہ لوگ قیامت کے اس منظر کے سامنے ہیں۔ گویا قیامت برپا ہے اور ان کو بلایا جارہا ہے ، کہ لاﺅ شریکوں کو جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ اور اللہ کے علم میں تو یہ دن حقیقتاً حاضر ہے۔ کیونکہ اللہ کے علم میں ماضی ، حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یوں اللہ کے علم کو پیش کرنا ، نہایت گہرا اثر ڈالتا ہے اور قرآن مجید کا مخصوص انداز بیان ہے۔ یکشف عن ساق ” جب پنڈلی کھل جائے گی “۔ یہ عربی محاورے میں سختی اور کرب کے لئے آتا ہے۔ یعنی مشکل وقت میں انسان آستین چڑھاتا ہے اور پائنچے اٹھاتا ہے اور پنڈلی کھل جاتی ہے۔ بالعموم مشکل وقت میں انسان ایسا کرتا ہے ، اور اس وقت ان کو دعوت دی جائے گی کہ اللہ کے سامنے سجدہ کرو ، یہ نہ کرسکیں گی ، کیونکہ وقت چلا گیا ہوگا اور یا اس لئے کہ اس وقت جس طرح دوسری جگہ کہا گیا : مھطعین ............ روسھم ” سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے “ حالت یہ ہوگی کہ ان کے اعصاب اور اجسام خوف کے مارے اکڑے ہوئے ہوں اور وہ غیر ارادی طور پر سجدہ نہ کرسکیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی خوفزدہ پریشان ہوں گے۔ مزید ہیئت کذائی یہ ہوگی۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح وسالم تھے ، اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے) ۔

خاشعة ............ ذلة (86 : 34) ” ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، رات ان پر چھائی ہوئی ہوگی “۔ یہ متکبر اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے والے اس دن یوں ہوں گے۔ نیچی نظر اور ذلیل حالت یہ دو حالتیں ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ہیں۔ سورت کے آغاز میں جو ڈراوا آیا تھا کہ اس کی سونڈ پر ہم داغ لگائیں گے یہاں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہ ایسے حالات میں ہیں شکستہ دریختہ کہ ان کو ڈرایا دلایا جاتا ہے کہ اس حالت تک وہ کس وجہ سے پہنچے ، کیونکہ یہ لوگ حق سے منہ موڑتے تھے اور تکبر کرتے تھے۔ اور جب صحیح سالم تھے اور ان کو سجدوں کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو یہ تکبر کرتے تھے۔ اب اس وجہ سے یہ لوگ اس ذلیل موقف میں ہیں اور اس مختصر دنیا کہ تو یہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ آج انہیں بلایا جاتا ہے مگر ان کے اندر سکت ہی نہیں ہے۔ وقد .................... سلمون (86 : 34) ” جب صحیح وسالم تھے اس وقت انہیں جسدے کے لئے بلایا جاتا تھا “ مگر یہ انکار کرتے تھے۔ اور آج بلایا جاتا ہے ، کرنا چاہتے ہیں ، مگر طاقت نہیں ہے یا موقعہ نہیں۔ ایسی ہی حالت میں ایک دوسری تہدید دلوں کو ہلا مارنے والی جبکہ وہ پہلے سے کرب اور بےچینی میں ہیں اور حواس باختہ ہیں۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف سے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔

فذرنی ............ الحدیث (86 : 55) “ پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو “۔ مارگئے۔ یہ خوفناک دھمکی ہے اللہ جبار وقہار کی طرف سے ، جو قوی اور مضبوط ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ چھوڑ دیجئے ان نٹ پونجیوں کو جو اس عظیم کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ میں ان سے لڑوں گا۔ یہ کون تھا جو تکذیب کرتا تھا ؟ یہ وہی انسان ہے جس کی قوت ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ بلکہ اس پوری کائنات کی نسبت سے یہ تو ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے جو ہوا میں اڑرہا ہے۔ اللہ قہار وجبار کی قوت کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں انسان بیچارہ ہے کیا ؟ محمد (ﷺ) تم ان کو میرے لئے چھوڑدو ، آپ اور اہل ایمان آرام و اطمینان سے بیٹھیں ، یہ جنگ میرے ساتھ ہے ، میرے دین کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ میرے دشمن ہیں۔ میں ان کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہوں ، ان کو معلوم ہوجائے گا۔ آپ لوگ آرام و اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے۔ اور کس قدر باوثوق یقین دہانی ہے ، ان لوگوں کو جو اس وقت نہایت ہی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اور یہ محض یقین دہانی ہی نہیں ہے۔ اللہ جبار وقہار بتلا دیتا ہے کہ ان کے خلاف کیا سٹریجی اختیار کی جائے گی۔ یہ تو بہت ہی کمزور ہیں اور ضعیف ہیں۔ سنستدرجھم ................ متین (54) (86 : 44۔ 54) “ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف سے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے “۔ ان مکذبین اور تمام روئے زمین کے باشندے اس سے فروتر ہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کوئی تدبیر کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اپنی قوتوں سے ڈراتا ہے کہ وہ اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ اور وقت کے چلے جانے سے پہلے ہی ، اپنے آپ کو درست کرلیں ، اور یہ جان لیں کہ یہ ظاہری عافیت جس میں وہ ہیں ، یہ بھی ان کے لئے بڑی فتح ہے جس پر وہ غرور کررہے ہیں۔ اور یہ کہ ان کو جو ظلم کرنے ، سرکشی کرنے ، دین اسلام سے منہ موڑنے ، اور گمراہی اختیار کرنے کی جو مہلت دے دی گئی ہے ، یہ دراصل مزید برے انجام کی تدبیر ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر ہے کہ یہ لوگ اپنے بوجھ پورے کے پورے اٹھائیں اور قیامت میں جب آئیں تو گناہوں سے لدے ہوئے ہوں اور شرمندگی ، سرزنش اور عذاب میں ڈالے جانے کے مستحق ہوچکے ہوں۔ اللہ نے جو تدبیر کی ہوئی ہے ، اس میں بھی اللہ نہایت ہی عارلانہ اور رحیمانہ انداز اپناتا ہے کہ ان کو پہلے سے بتا دیتا ہے ، حالانکہ وہ اس کے دین کے دشمن ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دشمن ہیں تاکہ وہ غور کرلیں اور اگر چاہیں تو راہ راست پر آجائیں۔ اللہ تعالیٰ مہلت تو دیتا ہے لیکن یونہی شتر بےمہار نہیں چھوڑتا۔ جب وہ ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سے پھر کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں اللہ اپنے طریقے ، اپنی سنت اور اپنی مشیت بتاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو بتاتا ہے کہ جو لوگ اس کلام کا انکار کرتے ہیں ان کو ذرا چھوڑیں کہ میں کس طرح انجام تک پہنچاتا ہوں۔ یہ لوگ مال ، اولاد اور مرتبہ ومقام پر اتراتے ہیں۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ یہ نعمتیں ہی ان کے لئے باعث عذاب ہوں گی۔ یوں رسول اللہ ﷺ کو مطمئن کردیا جاتا ہے اور ان کو عذاب کے منہ میں جانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ انداز تعبیر نہایت معنی خیز ، خوفناک اور عجیب ہے۔ فذرنی ................ الحدیث (86 : 44) چھوڑ دو مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں “۔ میرے اور ان احمقوں کے درمیان اب گویا جنگ شروع ہوگئی ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی جنگ رہی ہے۔ اس اعلان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ معرکہ ایمان وکفر ، معرکہ حق و باطل میں ، دراصل تم فریق نہیں ہو۔ ایک فریق یہ احمق ہیں اور دوسرا اللہ ہے۔ اس جنگ کی کمان اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ بات دراصل ہے بھی حقیقت ، اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ معرکہ حق و باطل میں اہم کردار نظر آتے ہیں ، ان کا جو کردار ہے وہ بھی سنت الٰہیہ اور تقدیر الٰہی کی تدبیر کا ایک حصہ ہے۔ رسول اللہ اور مسلمان تو دست قدرت کے آلات کار تھے ، یہ اللہ ہی تھا جو انہیں استعمال کرتا تھا۔ وہ فعال لمایرید ہے جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور کراتا ہے۔ کام اللہ خود کرتا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ مکہ میں تھے اور مکہ کے بھی ابتدائی ایام تھے۔ مسلمان نہایت ہی قلیل تعداد میں تھے ، ضعیف تھے۔ یوں اللہ نے ان کے کاسہ دل کو اطمینان سے بھر دیا اور یوں ان لوگوں کو خوفزدہ کردیا جو قوت ، مال ، مرتبے اور اولاد کی وجہ سے غرے میں مبتلا تھے۔ اس کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ گئے تو وہاں ظاہری حالات بدل گئے۔ اللہ نے یہ چاہا کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کا اس معرکہ میں ایک ظاہری کردار بھی ہو۔ لیکن اصل حقیقت اللہ نے ہمیشہ دو ٹوک الفاظ میں بتائی جہاں وہ مکہ میں ضعیف تھے ، تب بھی اور مدینہ میں وہ بظاہر کامیاب اور طاقتور تھے تب بھی۔ بدر میں کہا۔ فلم تقتلوھم ................ سمیع علیم (8 : 71) ” پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے نبی تونے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت بیٹھ جائے کہ جنگ کا فریق دراصل اللہ ہے۔ اور یہ جنگ اس کی جنگ ہے ، تاکہ اس آزمائش میں اللہ کے لئے اجر لکھ دے۔ رہی اصل جنگ تو وہ اللہ کی ہے اور رہی فتح تو وہ بھی اللہ عطا کرتا ہے ، مسلمانوں کے بغیر بھی یہ فتح اللہ عطا کرسکتا ہے۔ رہے یہ لوگ جو اس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ دست قدرت کے آلات ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی افواج صرف مومنین تک محدود نہیں ہیں۔ بہرحال قرآنی آیات میں اس حقیقت کو بالکل واضح کرکے بیان کیا ہے ، خواہ بظاہر مسلمان کمزور ہوں یا مضبوط ، نیز اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ بھی یہی بات متفق ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی مشیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ رہے مسلمان اور اسلامی افواج تو وہ محض آلات اور اسباب ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو مومن کو حالت قوت اور ضعف دونوں میں مطمئن کردیتی ہے بشرطیکہ قلب مومن مخلص ہو ، اور جہاد میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہو ، کیونکہ کفر واسلام کے معرکوں میں مسلمانوں کی قوت فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی نصرت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اللہ نصرت کا ضامن بن جاتا ہے۔ اگر مسلمان ضعیف بھی ہوں تو بھی فتح پاتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ ہاں اللہ دشمنوں کو مہلت دیتا ہے۔ ان کی رسی دراز کرتا ہے۔ اور اپنی مشیت ، حکمت ، اور عدل اور رحمت کے مطابق اپنے مناسب وقت پر اپنے دشمنوں کو شکست دیتا ہے۔ نیز یہ ایک ایسی حقیقت بھی ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے دل بھی تھر تھر کانپتے ہیں۔ چاہے مسلمان حالت ضعف میں ہوں یا حالت قوت میں ہوں۔ اس لئے کہ دشمن اسلام بھی جانتا ہے کہ ہمارا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اس خدا سے جو اپنے نبی سے کہہ رہا ہے۔ فذرنی .................... الحدیث (86 : 44) ” چھوڑدو مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کی تکذیب کرتا ہے “۔ تم الگ ہوجاﺅ اور اس بد بخت کو میرے لئے چھوڑ دو لیکن اللہ کی چال زبردست اور اس کا جال نظر فریب ہوتا ہے۔ یہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ پتہ بھی نہ چلے گا۔ اگر چہ یہ طاقتور ہوں۔ یہ ان لوگوں کی توقت جس کی وجہ سے یہ غرے میں مبتلا ہیں یہی ان کے لئے موجب شکست ہوگی۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے۔

واملی .................... مثین (86 : 54) ” میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں میری چال زبردست ہے “۔ رہی یہ بات کہ فتح کب ہوگی ، تو اس کا علم اللہ کو ہے۔ کوئی اللہ کی چال اور جال سے بچ کر نہیں نکل کستا۔ اس سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو فسق وفجور میں بہت دور چلے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں آخر نبی ﷺ کو صرف یہی کہنے کی ضرورت ہے کہ آپ وقت آنے تک صبر کریں۔ مشکلات برداشت کریں ، رسالت اور دعوت کی ذمہ داریاں پوری کریں ، نفس کی خواہشات پر صبر کریں۔ ان کی ایذارسانیوں پر صبر کریں۔ یہاں تک کہ اللہ کے مقابلے کا وقت آجائے۔ یہاں دعوت اسلامی کی تاریخ سے ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جلد بازی نہ کریں اللہ نظام کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) نے بےصبری کی تھی تو اللہ کے فضل ہی نے ان کی مدد کی۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں ؟

اس خوفناک منظر اور اس خوفناک تہدید کی فضا میں یہ مکالمہ یوں اختتام پذیر ہوتا ہے ، ان کے موقف پر تعجب کیا جاتا ہے اور چیلنج دیا جاتا ہے۔ ام تسئلھم ................ مثقلون (86 : 64) ” کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں ؟ “ کیا اسلام میں داخل کرنے کی کوئی بڑی فیس ہے جس سے یہ لوگ ڈر رہے ہیں اور بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اور منہ موڑ رہے ہیں۔ اور اس لئے مجبور ہیں کہ یہ برا انجام ہی اختیار کریں۔ محض اس لئے کہ ادائیگی مشکل ہے۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ “

ام عندھم .................... یکتبون (86 : 74) ” یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ “ ان کو یقین ہے کہ وہ سچی راہ پر ہیں۔ اور وہ ڈرتے نہیں۔ ان کو یہ غیبی تائید حاصل ہے اور یہ علم انہوں نے لکھ رکھا ہے اور ان کو یقین ہے یا انہوں نے خودا سے لکھ لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ یہ درست ہے۔ کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کو کوئی یقین حاصل ہے اور نہ ہی آپ کوئی فیس طلب کرتے ہیں۔
Ayahs 68:48–49

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

” اچھا ، اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجاﺅ، جب اس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اس کے رب کی مہربانی اس کے شامل حال نہ ہوجاتی تو وہ مذموم ہوکر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا۔

فاصبر ........................ من الصلحین مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا ہوں یا اللہ مجھے دوسری جگہ بھیج سکتا ہے۔ اس غصے کی حالت میں آپ ساحل کے کنارے تک چلے گئے۔ ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب یہ سمندر کے درمیان گئے تو کشتی بھاری ہوگئی اور غرق ہونے لگی۔ انہوں نے قرعہ پھینکا کہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لئے ایک آدمی کو کم کیا جائے۔ قرعہ آپ کا نکلا۔ لوگوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا۔ مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کو پکارا جب کہ وہ سخت مشکل میں تھے اور قریب المرگ تھے۔ سمندر کے اندر مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ تاریکیوں پر تاریکیاں تھیں۔ اور موجوں پر موجیں تھیں۔ یہاں انہوں نے پکارا۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ” نہیں ہے کوئی الٰہ مگر تو ، تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے تھا “۔ اس وقت اللہ کا فضل وکرم آپہنچا ، مچھلی نے انہیں حکم الٰہی کے مطابق ساحل پر اگل دیا۔ اور اس وقت ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ گوشت کالوتھڑا رہ گئے تھے۔ مچھلی کے معدے کی کیمیاوی عمل ان کی جلد کو رقیق بنا دیا تھا جبکہ ابھی تک اللہ نے ان کو زندہ رکھا۔ معجزانہ انداز میں اور اللہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین حیات کا پابند نہیں ہے۔ یہاں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو مچھلی انہیں اس حالت میں پھینکتی کہ وہ مذموم ہوتے۔ یعنی رب تعالیٰ کی طرف سے مذموم ہوتے۔ کہ وہ اپنے مقام دعوت سے ذرا جلدی چلے گئے۔ اللہ نے ان کی اس تسبیح کو قبول کیا اور ان کے اعتراف اور عذر کو قبول کرلیا اور ان پر رحم وکرم کردیا۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا “۔

فاجتبہ ........................ الصلحین (86 : 05) ” آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا “۔ یہ تجربہ خاتم النبین کے لئے پیش کیا گیا تاکہ آپ اپنے فرائض رسالت کی ادائیگی میں اس سے استفادہ کریں۔ کیونکہ آپ نے آخری رسالت کا کام تمام سابقہ تجربات کی روشنی میں کرنا تھا۔ تمام نصیحتیں ، تمام عبرتیں اور تمام تجربات کی فصل آپ نے کاٹنی تھی تاکہ آپ کے لئے اپنے کام میں فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ اور آپ یہ بوجھ اچھی طرح اٹھاسکیں۔ تاکہ آنے والے زمانے میں ، جدید سے جدید تر حالات میں بھی زندگی کی گاڑی ان اصولوں کے مطابق چلائی جاسکے اور جب مستقبل کوئی نیا مسئلہ لے کر آئے تو اس دعوت اور رسالت کے اصولوں میں اس کا حل موجود ہو۔ یہ تجربہ جس سے حضرت یونس (علیہ السلام) گزرے ، یہ نبی ﷺ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کہ انہی کی طرح لوگ ہٹ دھرمی ، تکذیب اور سرکشی پر اترے ہوئے ہیں اور یہ نصیحت آپ کو اس وقت کی گئی جب حق و باطل کے معرکے کی ذمہ داری سے آپ کو سبکدوش کردیا گیا۔ یہ ذمہ داری اللہ نے لے لی۔ جس طرح چاہے گا ، جنگ کرے گا ، جس وقت چاہے گا ، کرے گا۔ آپ کو یہ حکم دے دیا کہ آپ صبر اور ثابت قدمی سے اپنا کام یعنی ابلاغ کرتے رہیں ، چاہے اس راہ میں جو مشکلات بھی آئیں ، تمام فیصلے وقت پر ہوں گے۔ مقام دعوت نہ چھوڑیں نہ جلدی کریں۔ دعوت اسلامی کی مشکلات اور مشقتوں میں سے سب سے بڑی مشقت صبر کرنا ہے۔ اور اس وقت کا انتظار کرنا ہے کہ جب اللہ اپنا آخری فیصلہ صادر کردے کیونکہ دعوت کامیابی کے وقت کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے اور یہ فیصلہ اللہ اپنی حکمت کے مطابق صار فرماتا ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی کے آنے سے پہلے اس راہ میں بڑی مشقتیں آتی رہتی ہیں ، لوگ جھٹلاتے ہیں ، پھر تشدد کرتے ہیں۔ چالیں چلتے ہیں اور سخت عناد رکھتے ہیں۔ باطل اپنی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اسے اس طرح بڑھا کر پیش کرتا ہے جس طرح غبارے میں ہوا بھردی جاتی ہے۔ اور وہ خوفناک نظر آتا ہے ، لوگ ظاہری کامیابی اور باطل کی چلت پھرت سے مرعوب ہوکر اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں ، پھر مشکل ترین مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی نہایت ثابت قدمی ، استقلال ، سنجیدگی کے ساتھ جم کر کام کرتا رہے اور وعدہ حق کی آمد کا انتظار کرے۔ کوئی شک نہ کرے ، کوئی تردد اسے نہ ہو ، سیدھی راہ پر جارہا ہو ، اگرچہ راہ میں رکاوٹیں آئیں تو گویا وقت کے آنے کا انتظار بڑی مشقت ہے۔ رہا اصل معرکہ تو یہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہی اس معرکے میں فریق ہے ، وہی تدبیر کررہا ہے۔ وہ ظالموں کی رسی دراز کررہا ہے۔ اور اس میں حکمت پوشیدہ ہے۔ یہی وعدہ ان مشکل حالات میں نبی کریم ﷺ سے ہوا اور بعد کے حالات نے اس کی تصدیق کی۔ آخر میں کافروں کے ایک دوسرے منظر کو یہاں لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور تبلیغ سن کر سخت غصے میں آتے تھے اور جل بھن جاتے تھے اور ان کے دل میں سخت عناد اور حسد پیدا ہوتا ہے ، جس کا اظہار ان کی نظروں سے ہوتا ۔ زہر آلود اور قہر آمیز نظروں سے یہ لوگ آپ کو گھورتے ہیں۔ قرآن کریم ان کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جس پر اضافہ ممکن نہیں۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے ، اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے ،

وان یکاد .................................... للعلمین یہ ممکن تھا کہ یہ خشمگیں نظریں حضور اکرم ﷺ کے قدم ہلادیں اور آپ پھسل جائیں۔ اور آپ ڈگمگانے لگیں۔ ان کی نظروں میں جس قدر قہر ، غضب ، شرارت ، جوش انتقام اور حسد اور گرمی تھی ، قرآن کریم نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اور ان نظروں کے ساتھ وہ سب وشتم اور اتہام والزام بھی لگاتے اور کہتے۔ انہ لمجنون (86 : 15) ” یہ تو ایک مجنون ہے “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جسے دست قدرت کا قلم ہی رقم کرسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی اس ابتدائی دور میں کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ اس وقت مکہ کے مخالفین کا حلقہ بااثر مجرمین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ ان کے دل جل رہے تھے اور آنکھیں مارے غضب کے پھٹ رہی تھیں۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر احمق ہیں کہ مکہ کے اس چھوٹے سے شہر میں جل بھن رہے ہیں یہ تو ایک عالمی پروگرام ہے۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔ “

وما ھوا ................ للعلمین (86 : 25) ” حالانکہ یہ تجہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ صرف مکہ والوں کے لئے نہیں ہے اور پھر یہ جو الزام لگاتے ہیں وہ کس قدر احمقانہ ہے کہ کیا دیوانے عالمی اصلاح کا کوئی پروگرام پیش کرتے ہیں۔ صدق اللہ العظیم ! یہاں مناسب ہے کہ لفظ العالمین پر بات ہوجائے۔ ابھی یہ دعوت مکہ میں ہے ، چند ماننے والے ہیں اور رسول کو خشمگیں نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اور مشرکین مکہ اس کے خلاف جنگ میں اپنے پورے وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس ابتدائی دور میں ، اس مشکل وقت میں بھی اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ عالمی تحریک ہے۔ جس طرح کہ اس کی حقیقت تھی۔ لہٰذا مدینہ میں جب اس تحریک نے عالمی انداز اختیار کیا تو یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ جس طرح آج کل مغربی افتراء پرداز یہ الزام لگاتے ہیں کہ دعوت اسلامی نے عالمی رنگ صرف مدینہ کی کامیابی کے بعد اختیار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے دن سے ایک عالمی دعوت تھی۔ یہی اللہ کا ارادہ تھا اور یونہی یہ دعوت زمانہ آخر تک رہے گی۔ یہ اللہ کا ارادہ ہے۔ یہ دعوت اللہ کی ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ وہ اس کا حامی اور ناصر ہے۔ وہی اس کی جانب سے لڑنے والا ہے۔ اور اس کے حاملین کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس پر جم جائیں۔ وہ سب سے اچھے فیصلے کرنے والا ہے۔