51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 51:41–42

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔

اور پھر ایک دوسری تاریخی نشانی قوم عاد پر ایک نظر : وفی عاد ........ العقیم (14) ما تذر ........ کالرمیم (15 : 24) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ “ اور قوم عاد پر جو ہوا بھیجی گئی اسے یہاں عقیم (بانجھ) کہا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس ہوا میں نہ پانی تھا نہ خیر کی کوئی چیز جو سبب حیات ہو جیسا کہ اس ہوا سے قوم عاد توقع کرتی تھی۔ اس کے برعکس اس میں تباہی اور ہلاکت ہی تھی۔ یہ ہوا جس چیز کو بھی لگتی اسے مردہ کردیتی تھی۔ اس طرح جس طرح کوئی مردہ بوسیدہ ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ہوا ان کائناتی قوتوں میں سے ایک قوت ہے اور یہ اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے اور اللہ کے لشکروں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ان لشکروں کو اللہ اپنی مشیت اور ناموس کے دائرے کے اندر بھیجتا ہے اور ان لشکروں کے کام کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یہ لشکر جس پر جاتے ہیں اللہ کے ارادے سے اس کے مقرر وقت پر جاتے ہیں کسی کو ہلاک وتباہ کردیتے ہیں اور کسی کو زندہ وتابندہ کردیتے ہیں لہٰذا ایسے مقامات پر کسی کو ان سطحی اور سادہ اعتراضات کا کوئی حق نہیں ہے کہ ہوا تو کائناتی نظام کے مطابق چلتی ہے اور یہ ادھر اور ادھر طبیعاتی عوامل واسباب کے مطابق چلتی ہے ہم کہتے ہیں کہ یہ طبعی نظام اور کائناتی عوامل بھی خالق ہی چلاتا ہے وہ اپنی تدبیر اور تقدیر کے ساتھ کسی کو تباہ اور کسی کو زندہ کردیتا ہے۔ یہ عوامل اس نے پیدا کئے اور اسباب اسی کے ہیں اور طبعیاتی اصول اسی نے وضع کئے ہیں اور انہیں کے ساتھ وہ ان عوامل کو کسی پر مسلط کرتا ہے ، اگر کوئی خالق کائنات کو مانتا ہے تو پھر ایسے اعتراضات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
Ayahs 51:43–44

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔

اور تیسری نشانی قوم ثمود کی : وفی ثمود ........ منتصرین (54) (15 : 14 تا 54) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔ “ اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین (15 : 34) ” ایک خاص وقت تک مزے کرلو “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی یعنی ناقہ کے بعدذ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ قال تمتعوا ........ ایام ” پھر صالح نے ان کو خبردار کردیا کہ بس اب تین دن دن اپنے گھروں میں اور رہ لو “ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہوسکتا ہے یعنی رسالت کرنے سے قتل ناقہ تک کا وقت جبکہ انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے ناقہ کو قتل کردیا اور ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی ان کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے وہی بات اس ہوا کے بارے میں بھی ہے جو قوم عاد پر بھیجی گئی اور وہی بات اس چیخ کے بارے میں بھی ہے جو قوم ثمود پر آئی۔ یہ تمام کائناتی قوتیں ہیں جو اللہ کی تدبیر سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت اور اس کے قوانین کے مطابق چلتی ہیں اور اپنے قوانین کے دائرے کے اندر اللہ جس قوم پر چاہتا ہے ان کو بطور عذاب مسلط کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ قوتیں وہی کام کرتی ہیں جو اللہ ان کے حوالے کرتا ہے اور اللہ کے لشکر لاتعداد اور بےمثال ہیں۔
Ayah 51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔

وقوم ........ فسقین (15 : 64) ” اور ان سب سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔ “ یہ قصہ نوح کی طرف نہایت ہی سرسری اشارہ ہے۔ بغیر تفصیلات کے اور بغیر اضافوں کے کہ ذرا قوم نوح کو بھی یاد کرلو ، جہاں قوم نوح کے قصے میں (فی نوح) کی بجائے (قوم نوح) کے الفاظ آئے ہیں اصل عبارت یوں ہے۔ اذکرقوم نوح کہ قوم نوح کا تذکرہ بھی کردے اور اس کے بعد آیات کا آغاز ہوتا ہے۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سب سے سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔ “

والسماء بنیناھا کو اس پر عطف کیا گیا ہے تو قوم نوح کی نشانی ایک تاریخی نشانی ہے اور آسمان کی نشانی تکوینی نشانی ہے۔ یہاں دونوں کو باہم حرف عطف کے ذریعے مربوط کردیا گیا اور ان دونوں کے ذریعے اس پیراگراف کو اس سورة کے تیسرے پیراگراف سے مربوط کردیا گیا۔
Ayah 51:47

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی وسعت رکھتے ہیں۔

اب روئے سخن پر اس کائنات کی نمائش گاہ کی طرف لوٹ جاتا ہے جس کے ساتھ اس سورة کا افتتاح ہوا تھا۔ اس کائنات میں قلب ونظر کے جلا کے لئے کئی تصاویر ہیں تو اب اس کائنات کے البم سے ایک نئی تصویر آپ کے سامنے لائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اس نمائش گاہ کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو تلاش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یوں حضرت نوح کے قصے کی نشانی اب زمین و آسمان کی تصویری کہانیوں کے ساتھ مل جاتی ہے اور اس کے بعد پھر انسانوں کو بلند آواز سے پکارا جاتا ہے کہ دوڑو اللہ کی طرف ! خالص نظریہ توحید کے ساتھ۔ والسمائ ........ لموسعون (15 : 74) ” آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم بہت ہی وسعت رکھتے ہیں۔ “ الاید سے مراد قوت ہے۔ ہولناک وسیع اور عریض آسمانوں کی تخلیق اور ان کو ضبط میں رکھنے ہی سے اللہ کی عظیم قوت ظاہر ہے۔ آپ آسمان کے لفظ سے جو بھی مراد لیں خواہ آپ اس سے سیاروں کے مدارات لیں یا اس سے آپ مراد ستاروں کے مجموعے کہکشاں کو لیں جس میں کئی ملین ستارے ہوتے ہیں یا آپ اس سے مراد بلند فضاؤں کے وہ طبقات لیں جن کے اندر یہ ستارے اور سیارے بکھرے ہوئے ہیں یا اس کے علاوہ اس لفظ کا کوئی بھی مفہوم لیں بہرحال یہ کرشمہ قدرت الیہ ہے۔ اسی طرح وسعت سے مراد بھی یہی سیارے ہیں جو بڑے بڑے حجم والے ہیں اور ملین کی تعداد ہیں اور یہ اس ہولناک اور سرچکرانے والی وسیع فضائے کائنات میں بکھرے پڑے ہیں جس طرح ذرات بکھرے ہوئے ہیں بس یہی وسعت ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وسعت سے مراد وہ خزانے ہوں جو اللہ نے انسانوں کے رزق اور خوراک کے لئے رکھے ہوئے ہیں اور یہ خزانے آسمانوں میں ہیں۔ اس سورة میں یہاں آسمان سے مراد صرف وہ ہوگا جو اللہ کے ہاں ہے لیکن قرآن کا انداز تعبیر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر کسی لفظ کے مفہوم کی طرف ایک اشارہ ہوتا ہے۔ تعبیر پر اس مفہوم کا سایہ ڈالا جاتا ہے اور یہ بالاارادہ ہوتا ہے تاکہ انسانی شعور اس سے تاثر لے۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں

ایک اشارہ یہاں بچھائی ہوئی زمین کی طرف بھی آتا ہے۔ والارض ........ المھدون (15 : 84) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بہت اچھے ہموار کرنے والے ہیں “ اللہ نے اس زمین کو تیار کیا کہ یہ زندگی کے لئے ایک گہوارہ ثابت ہو جس طرح اس سے قبل ہم نے تفصیل دے دی ہے۔ فرش انسان کے لئے آرام اور راحت کا سبب ہوتا ہے۔ زمین کو اس طرح تیار کردہ ، ہموار کردہ اور سہولتوں کا اور زندگی کا گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے فرش سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی ہر چیز کو نہایت ہی گہرائی سے زندگی کی کفالت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ فنعم المھدون (15 : 84) ” ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں۔ “
Ayahs 51:49–50

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں۔ شاید کہ تم اس سے سبق لو۔

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس دوڑو اللہ کی طرف میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

ومن ........ تذکرون (15 : 94) ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ یہ ایک عجیب حقیقت ہے جو اس زمین کی تخلیق کا بنیادی اصول بتاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہی اصول پوری کائنات میں بھی کار فرما ہو کیونکہ انداز تعبیر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صرف زمین اندر ہی یہ اصول کار فرما ہے۔ یہ اصول تخلیق میں زوجیت اور جوڑے کا اصول ، زندہ چیزوں میں زوجیت کا اصول تو بالکل ظاہر و باہر ہے لیکن ” شئی “ کے لفظ کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ تمام اشیاء بھی زوجیت کے اصول پر تخلیق کردہ ہیں۔ جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم چودہ سو سال سے اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور زوجیت کے اصول کی اس قدر ہمہ گیری کا تصور اس وقت نہ تھا جو اب ہوگیا ہے ، اس وقت تو زندہ چیزوں میں بھی یہ اصول اس قدر ہمہ گیر متصور نہ تھا چہ جائیکہ کوئی تمام اشیاء کے اندر زوجیت کا تصور کرتا ہے۔ اگر ہم یہ حقیقت سوچ لیں تو پھر ہمارے سامنے ایک عجوبہ آجاتا ہے اور یہ ہمیں بتایا ہے کہ اس پوری کائنات کی ہر چیز زوجیت کے اصول پر ہے۔ یہ آیت ہمیں حقیقت بھی بتاتی ہے کہ دور جدید کے تمام انکشافات ہمیں حقیقت کبریٰ کے بہت قریب کرتے جارہے ہیں۔ تمام تحقیقات اس پر متفق ہوتی جارہی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ذرے سے ہوتی ہے اور ذرہ دو کہربائی جوڑوں سے مرکب ہے۔ مثبت اور منفی لہٰذا جدید طبعی تحقیقات اس حقیقت کے ثبوت کی طرف جارہی ہیں۔ عبارت اور الفاظ کے لحاظ سے چھوٹے اور مختصر اور مفہوم کے اعتبار سے بڑے اور محیرالعقول اشارات کی روشنی میں آسمان کی دوریوں ، زمین کے اطراف واکناف اور مخلوقات کے انفس کے مکالمے اور مشاہدے کی روشنی میں اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو نہایت ہی بلند آواز سے پکارتا ہے کہ دوڑو خالق ارض وسماء کی طرف ، خالص ہوکر ، تمام بوجھ اپنے کاندھوں سے پرے پھینک کر ، ہلکی روح ، بےقید دل کے ساتھ اور توحید کے جھنڈے ہاتھوں میں لئے ہوئے دوڑ پڑو۔
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والوں ہوں۔

ولا تجعلوا ........ مبین (15 : 15) ” اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ “ اللہ کی طرف آنے کو فرار سے تعبیر کرنا درحقیقت ایک عجیب اور معنی خیز تعبیر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اس زمین میں انسانوں کو کس طرح ناجائز طور پر برباد کردیا گیا۔ کس طرح اسے پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے کس طرح اسے بیڑیاں پہنا کر جیلوں کے گڑھوں میں بند کردیا گیا ہے جنہوں نے انسانوں کو اس زمین کے ساتھ چپکا دیا ہے ، اس پر گرادیا ہے اور اس کو قسم قسم کے بندھنوں سے باندھ دیا گیا ہے۔ خصوصاً رزق اور مال و دولت کی لالچ کے ذریعے اور اپنے حصے کا رزق حاصل کرنے کے لئے ظاہری اسباب رزق میں انسانوں کو منہمک کردیا گیا ہے۔ اس لئے انسانوں کو ان بندھنوں سے چھڑانے کے لئے بھی نہایت ہی زور دار دعوت اور بلند آواز کے ساتھ پکار کی ضرورت تھی اور الفاظ کے استعمال میں بھی ایسا لفظ لیا گیا کہ شدت سے بھاگو ، اور بھاگو بھی اللہ کی طرف بغیر کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے اور حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا۔ انی لکم منہ نذیر مبین (15 : 15) ” میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں “ دونوں آیات کے اندر اس بات کا تکرار تاکید مزید بردلالت ہے۔ پہلی آیت میں بھی کہا گیا۔ انی لکم منہ نذیر مبین (15 : 15) یہ تکوینی آیات اور نشانات آسمانوں کی نشانیوں ، زمین کی نشانیوں ، تخلیق کی نشانیوں اور ان کے ساتھ رسولوں کی تاریخ کے نشانات یہ ایک مسلسل بیان تھا نشانات الجہ کے لئے اور ۔ والسماء بنینھا (15 : 74) بھی انہی کا نتیجہ تھا۔ اس لئے اب رسولوں کی تاریخی نشانیوں پر ایک تبصرہ آتا ہے اور آپ کو تسلی دی جاتی ہے۔
Ayahs 51:52–54

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔ تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔ کذلک ........ او مجنون (15 : 25) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔ جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔ منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔
Ayah 51:55

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے۔

وذکر ........ المومنین (15 : 55) ” البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے۔ “ اور دوسروں کے لئے نافع نہیں ہے کیونکہ انہوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تذکیر اور دعوت رسول کے فرائض میں سے ہے اور ایمان لانا نہ لانا رسول کے فرائض سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے جو آسمان اور زمین اور انسانوں کا خالق ہے۔ اب اس سورة میں عقل وخرد کے تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے اور اس میں فرار الی اللہ کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ زمین کے بوجھوں اور گرادنوں سے نجات کس طرح مل سکتی ہے۔ وہ یوں کہ انسان اور جن جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ فریضہ ادا کریں۔
Ayah 51:56

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔

وما خلقت ........ المتین (85) (15 : 65 تا 85) ” میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست “۔ یہ چھوٹی سی آیت دراصل ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے۔ یہ اس کائنات کی وہ عظیم حقیقت ہے کہ جہاں انسان کی زندگی اس پر عمل کرنے کے سوا درست نہیں ہوسکتی۔ خواہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہو یا عالمی زندگی اور ہر دور میں یہ حقیقت اپنی جگہ سچی رہی ہے اور رہے گی۔ یہ عظیم حقیقت عالم انسانیت کے نہایت اہم گوشے اور خفیہ معانی پر کھلتی ہے اور یہ معانی اور گوشے وہ ہیں جن پر پوری اجتماعی زندگی قائم ہے۔ اس کا پہلا پہلو یہ ہے کہ جن وانس کے وجود کا خاص مقصد ہی یہ ہے اللہ کی بندگی کی جائے۔ اس مقصد کے لئے اللہ نے چند فرائض مقرر فرمائے ہیں جس نے یہ فرائض ادا کئے گویا اس نے مقصد زندگی پالیا اور جس کسی نے ان فرائض میں کوتاہی کی یا ان سے منہ موڑا تو اس نے گویا مقصد زندگی ہی گم کردیا اور وہ شخص ہے مقصد اور بےکار ہوگیا اور اس کی زندگی بےمعنی ہوگئی اور اس کی کوئی قدروقیمت نہ رہی کیونکہ صرف اسی مقصد کے ذریعے ہی زندگی بامعنی ہوسکتی ہے۔ یہ شخص اس ناموس فطرت سے نکل آیا جس کے لئے اسے اللہ نے پیدا کیا تھا اور یہ گویا بالکل ضائع ہوگیا جس طرح ہر وہ چیز جو اپنا فرض ¾ منصبی ادا کرنا چھوڑ دے وہ بےکار ہوجاتی ہے کیونکہ مقصد زندگی ہی درحقیقت کسی شخص کے بقاء کا ضامن ہوتا ہے۔ مقصد وجود پورا نہ کرنے والی چیز اگر زندہ رہے یا موجود بھی وہ ردی ہوجاتی ہے۔ یہ مقصد زندگی جو جن وانس کو ناموس فطرت سے مربوط کرتا ہے وہ کیا ہے ؟ یہ عبادت اللہ کی بندگی یعنی ایک بندہ ہوگا اور ایک اس کا رب ہوگا۔ بندہ بندگی کرے گا اور اس کا رب معبود ہوگا اور بندے کی پوری زندگی کو اس مقصد کے مطابق استوار ہونا ضروری ہے۔ گویا عبد نے معبود کی مکمل بندگی کرنی ہے۔ یہاں آکر پھر اس عظیم حقیقت کا دوسرا پہلو ہمارے سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ بندگی سے مراد پوری زندگی میں بندگی ہے اور بندگی سے مراد صرف مراسم عبودیت یا پرستش کے طریقے نہیں ہیں بلکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے کیونکہ جن اور انسان اپنی پوری زندگی رات اور دن صرف عبادت میں نہیں گزارتے۔ اللہ نے لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ وہ رات اور دن بندگی اور پرستش کریں بلکہ اللہ نے ان کو مختلف قسم کی زندگی گزارنے کا مکلف بنایا ہے۔ جنوں کی سرگرمیوں کا تو ہمیں علم نہیں ہے لیکن انسانوں کی سرگرمیوں کا ہمیں علم ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کی سکیم بتائی ہے۔ واذقال ........ خلیفة۔” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں انہیں میں خلیفہ بنانے والا ہوں “ لہٰذا زمین میں فریضہ خلافت ادا کرنا بھی انسان کی ذمہ داری ہے اور خلافت کی ذمہ داری میں مختلف قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں یعنی زمین کی قوتوں میں تصرف کرنا ، اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کو تلاش کرکے انسانیت کی خدمت کے لئے استعمال کرنا ، زمین کے اوپر انسانی زندگی کو ترقی دینا ، اس طرح خلافت کی ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوں وہ اللہ کی شریعت قائم کرلیں اور جس طرح کائنات میں اللہ کی مرضی چلتی ہے اسی طرح انسان کی اختیاری زندگی میں بھی اللہ کی مرضی کو نافذ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فعل عبادت جو انسان کا مقصد زندگی ہے وہ زیادہ وسیع اور جامع مفہوم رکھتا ہے اور اس سے مراد صرف مراسم عبودیت نہیں ہیں اور زمین پر اللہ کی خلافت کے فرائض سرانجام دینا بھی عبادت میں شامل ہے لہٰذا اسلامی عبادت کے دو پہلو ہیں۔ 1۔ پہلا یہ کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم ذہن میں پوری طرح بیٹھ جائے۔ یہ شعوری اقرار کہ ایک بندہ ہے جو بندگی کرتا ہے اور ایک رب ہے جس کی بندگی کی جاتی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک طرف سے بندگی اور غلامی ہے اور دوسری جانب آقا و خالق ہے۔ ادھر عبدادھر معبود ہے۔ رب واحد ہے اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں اور اس کے سوا جس قدر مخلوق ہے وہ سب کے سب عابد اور غلام ہیں۔ 2۔ دوسرا پہلو اس حقیقت عظمیٰ کا یہ ہے کہ انسان اپنی ہر قلبی حرکت اور توجہ اور اپنی جسمانی حرکت اور اس کا رخ زندگی کے ہر موڑ میں اللہ کی طرف پھیر دے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اللہ کے سوا ہر شعور کو اپنے دل سے نکال دے اور اللہ کی بندگی کے سوا ہر حرکت اپنی زندگی سے خارج کردے۔ ان دو پہلوؤں سے عبادت کا مفہوم پوری طرح وجود میں آتا ہے اور ہر عمل ایک عبادت بن جاتا ہے اور بندگی کے مراسم اس طرح بن جاتے ہیں جس طرح کوئی اس زمین کی تعمیروترقی میں مصروف ہو اور پھر زمین کی تعمیروترقی کا کام جہاد فی سبیل اللہ بن جائے گا اور جہاد فی سبیل اللہ یوں ہوتا ہے جس طرح ایک انسان مشکلات میں صبر کرے۔ (یعنی زندگی کی ہر حرکت اور ہر کام عبادت بن جاتا ہے۔ ) اور یہ تمام کام وہ مقصد پورا کررہے ہوں گے جس کے لئے اللہ نے جن وانس کو پیدا کیا ہے اور جس مقصد کو پوری کائنات پورا کررہی ہے۔ جب یہ نظریہ اور عقیدہ کسی ذہن میں بیٹھ جائے تو یہ یقین کرلیتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ اس لئے یہاں آیا ہے کہ زندگی کے اس مختصر حصے میں وہ اس فریضہ کو ادا کرے۔ اللہ کی بندگی ، اللہ کی پرستش اور بس اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اسے اس بات پر اطمینان ہو۔ وہ اپنے عمل اور اپنے حالات پر مطمئن ہو کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ رہی افرادی جزا تو وہ اللہ کا ایک فضل وکرم ہوگا۔ اگر ایک شخص اس مقام تک پہنچ جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ در حقیقت وہ اللہ کی طرف دوڑ گیا ہے۔ اس نے اس زمین کی گراوٹوں ، اس کی رکاوٹوں اور اس کی تمام دامن گیریوں کو عبور کرکے اور ہر چیز سے اپنے آپ کو چھڑا کر اللہ کی طرف فرار اختیار کرلیا ہے۔ وہ اس آزادی کے ذریعے زمین کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوگیا اور اللہ کے لئے وقف ہوگیا اور وہ اس کائنات کے اصل مقام پر پہنچ گیا یعنی اللہ کی بندگی کے مقام پر جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا کیا تھا۔ اب یہ اپنے صحیح مقام پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنا مقصد وجود پورا کردیا۔ لہٰذا عبادت الٰہی کے تقاضوں میں سے یہ تقاضا بھی ہے کہ انسان اس زمین کے اوپر فرائض خلافت ارض بھی پورے کرے۔ یہاں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ اس زمین کے ثمرات سے آخری حد تک استفادہ کرے لیکن اس حال میں کہ وہ ان سے اپنے ہاتھ بھی جھاڑ رہا ہو اور اس کا دل اس زمین کی دھوکہ دینے والی اور پرکشش چیزوں سے آزاد وبے نیاز ہو۔ یوں کہ اس دنیا کے ثمرات اور لذات وہ صرف اپنی ذات کے لئے نہ سمیٹ رہا ہو بلکہ اسے فریضہ حیات کے طور پر عبادت کے طور پر اور فرار الی اللہ کے طور پر کررہا ہو اور بقدر ضرورت کررہا ہو۔ اس تصور اور اس عظیم حقیقت کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ انسان اعمال کے نتائج پر نظر نہیں رکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ یہ اعمال کس نیت سے کررہا ہے۔ نتائج چاہے جو ہوں انسان نتائج کا ذمہ دار نہیں ہے۔ وہ تو صرف امتثال امر اور عبادت کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کا اجر اس کے اعمال کے نتائج نہیں بلکہ اس کا اجر یہ ہے کہ وہ بندگی کررہا ہے یا نہیں کررہا۔ اس حقیقت عظمیٰ کو پالینے کے بعد فرائض ، واجبات اور اعمال کے بارے میں انسان کا نقطہ نظر یکلخت بدل جاتا ہے۔ وہ ہر کام میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ فریضہ عبادت پورا کررہا ہے یا نہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس نے عبادت کرلی تو اس کا کام ختم ہوگیا۔ اب نتائج چاہے جو ہوں سو ہوں کیونکہ کاموں کے نتائج اس کے فرائض میں داخل نہیں ہوتے نہ اس کی طاقت میں یہ بات ہے کہ وہ نتائج پیدا کرسکے کیونکہ نتائج تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق نکلنے ہیں۔ وہ اس کی جدوجہد اس کی نیت اس کا عمل تو تقدیر الٰہی کا ظہور ہوتے ہیں۔ جب انسان اس معنی میں جدوجہد کرے اور نتائج سے ہاتھ جھاڑ لے اور یہ شعور پالے کہ اس نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اور یہ کہ اس کی جز اللہ پر ہے کیونکہ اس کا کام تو یہ تھا کہ اللہ کے حکم کو مانو۔ لہٰذا اب اس دنیا کے حوالے سے اس کی کوئی آرزو ہی نہیں رہتی۔ وہ اس دنیا میں کسی مقصد کے لئے کسی سے کوئی پر خاش نہیں رکھتا اور نہ اس دنیا کی اغراض میں سے کسی غرض کے لئے اس کے دل میں کوئی چاہت ہوتی ہے۔ اس نے اپنی طاقت کے مطابق جدوجہد کرلی۔ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کردیں اور اپنے حصے کے فرائض پورے کردیئے اور اس دنیا کے نتائج اور اغراض سے بھی اپنے ہاتھ جھاڑ لئے اور اپنی جدوجہد کے ثمرات کے حصول کی آرزو بھی دل سے نکال دی کیونکہ جب اس نے بندگی کردی تو اس کا ثمرا سے حاصل ہوگیا۔ رہے ذاتی مفادات تو یہ اس کا مقصد ہی نہ تھا۔ قرآن کریم اس قسم کے احساسات کو غذا دیتا ہے۔ ایسے تصورات کو تقویت دیتا ہے۔ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا غم مت کرو ، رزق کی ذمہ دار اللہ پر ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کے رزق کی ذمہ داری لی ہوتی ہے۔ اللہ خود بھی کسی رزق اور طعام کا محتاج نہیں ہے۔ اس نے یہ انتظامات بندوں کے لئے تو کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو محتاجوں اور غریبوں پر انفاق کے جو احکام دیتا ہے وہ بھی خود ان کے مفاد میں ہیں۔
Ayahs 51:57–59

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ۔

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصے کا مل چکا ہے ، اس کے لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے اور یہ کسی بلند تصور اور جذبہ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔ آج انسانیت اگر اس رزق بلند سے محروم ہے تو وہ اس لئے محروم ہے کہ جس طرح دور اول کے مسلمان قرآن کی تعلیمات کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے یہ لوگ نہیں کررہے اور انہوں نے اپنے اصول زندگی قرآنی دستور سے اخذ نہیں کئے۔ جب کوئی انسان اور کوئی سوسائٹی اس افق تک بلند ہوجاتی ہے یعنی بندگی اور غلامی کے افق تک اور اس پر جم جاتی ہے تو اس کی عزت نفس کسی بھی خسیس ذریعہ سے کوئی بلند مقصد حاصل کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اگرچہ یہ مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور اسلام کے غلبہ کا مقصد ہو کیونکہ خسیس ذرائع اللہ کی بندگی کے پاک مقصد کو ختم کردیتے ہیں۔ نیز جب کوئی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ نفس کو منزل تک پہنچانے کی فکر نہیں کرتا بلکہ وہ اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ پورا کردیا ہے یا نہیں۔ یعنی اللہ کی بندگی کے مفہوم اور حقیقت کبریٰ کو پاتے ہوئے۔ جہاں تک حصول مقاصد کا تعلق ہے تو یہ تو اللہ کے حوالے ہیں۔ اللہ نے اپنی تقدیر میں جس طرح نتائج طے کر رکھے ہیں وہ پس پردہ تقدیر ظاہر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ ہم نتائج حاصل کرنے کے لئے غلط ذرائع اختیار کریں جبکہ نتائج کا ظہور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک مومن کے ذمہ داری میں نہیں ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرنے والا ہے۔ بندہ عبادت گزار کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ، اس کا نفس برقرار ہوتا ہے۔ اس کا دل تمام حالات میں صحیح و سلامت ہوتا ہے۔ چاہے اسے اپنے عمل کے ثمرات نظر آرہے ہوں یا نہ آرہے ہوں۔ یہ نتائج اس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوں یا اس کے برعکس نکل رہے ہوں کیونکہ عبادت کے اس مفہوم کے مطابق اس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اس کی جزاء کی ضمانت اللہ نے دے دی ہے۔ اب وہ خوش وخرم ہے۔ اس کے بعد عملاً کیا ہوتا ہے یہ اس کے دائرہ فرائض سے خارج ہے کیونکہ اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ بندہ ہے لہٰذا وہ اپنے شعور اور فکر کے اعتبار سے یا اپنی تجاویز اور مطالبات کے لحاظ سے عبدیت کی حدود سے آگے نہیں جاسکتا۔ اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ رب ہے۔ اس لئے یہ ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا جو رب العلمین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اس کے جذبات یہاں اگر رک جاتے ہیں تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ ہیں بعض پہلو اس عظیم حقیقت کے جس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے۔ وما خلقت ........ لیعبدون (15 : 65) ” میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ “ یہ حقیقت اگر کسی کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ اس شخص کی زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے۔ آخر میں اس حقیقت کی روشنی میں ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ، قیامت کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے آنے میں شتابی کرتے ہیں۔ اس زبردست ڈراوے پر سورت ختم ہوتی ہے۔
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔ “

فان للذین ........ یوعدون (15 : 06) ” پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اس کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔ “