47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔

اس قسم کی آیات جس طرح کافروں اور منافقین کو خطاب کر رہی ہیں۔ اس طرح خود مسلمانوں کو بھی دعوت دے رہی ہیں۔ یہ آیات کا فروں کو متنبہ کرتی ہیں کہ کوتاہیوں کا تدارک کرو ، توبہ کرو قبل اس کے کہ سکرات شروع ہوجائیں اور مسلمانوں کو ان آیات کا خطاب یوں ہے۔ کہ تم ان اسباب اور ان راہوں سے دور رہو جو تمہیں اس انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں اور کافروں دونوں کو خطاب یوں ہے کہ اگلی آیت میں دعوت اور جہاد میں سستی کو اس آیت پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس انجام سے بچو اور سستی نہ کرو۔ فلا تھنوا وتدعوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 35) “ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا ”۔ یہ ہے وہ بات جس سے مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے ۔ ان کے سامنے ان کافروں کا انجام رکھا جاتا ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے تھے تا کہ مسلمان اس کے تصور سے بھی ڈریں ۔ اس ڈراوے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو جہاد کی مسلسل مشقتوں کو ایک بھاری حکم سمجھتے تھے۔ اور ان کے عزم میں کمزوری تھی۔ اور یہ لوگ امن و عافیت چاہتے تھے تا کہ جنگ کی مشقتوں سے آرام میں رہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں میں سے بعض کی مشرکین کے ساتھ رشتہ داریاں بھی ہوں یا ان کے ساتھ مالی معاملات میں شراکت ہو ، اس زاویہ سے یہ لوگ امن اور صلح کو پسند کرتے ہوں کیونکہ انسان ہمیشہ انسان رہا ہے اور قرآن کریم ان بشری اور فطری کمزوریوں کا علاج اپنے انداز سے کر رہا ہے۔ اور قرآن مجید نے اس طرح جو تربیت جاری رکھی تو اس کے نتیجے میں دور اول میں ایک معجزانہ گروہ تیا رہو گیا۔ لیکن اس مساعی اور کامیابیوں کے باوجود اس بات کی نفی نہیں کی جاسکتی کہ جماعت مسلمہ کی صفوں میں کمزور لوگ ہوں۔ خصوصاً ایسے ابتدائی مدنی دور میں چناچہ اس آیت میں بعض ایسی ہی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن کریم کس طرح لوگوں کو لیتا تھا۔ ہمیں بھی چاہئے کہ قرآنی انداز کے مطابق دور جدید کے لوگوں کی تربیت کریں۔ فلا تھنوا وتدعوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 35) “ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا ”۔ تم چونکہ غالب ہو اس لیے صلح کی درخواست نہ کرو ، تم اعتقاد اور تصور حیات کے اعتبار سے بلند ہو ، تم خدا سے تعلق کے زاویہ سے بھی بلند ہو ، تمہارا آقا بلند ہے ، نظام زندگی ، مقاصد زندگی اور مقصود زندگی کے اعتبار سے بھی تم بلند ہو ، شعور ، اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے تم بلند ہو۔ قوت ، مرتبے اور ذریعہ نصرت سے اعتبار سے بھی تم بلند ہو۔ تمہاری پشت پر بہت بڑی قوت ہے واللہ معکم۔ تمہارے ساتھ تو اللہ ہے۔ تم اکیلے تو نہیں ہو ، تم ایک نہایت ہی بلند اور جبار اللہ تعالیٰ کے زیر تربیت ہو جو قادر مطلق ہے۔ وہ تمہارا مددگار ہے اور ہر وقت حاضر و ناظر ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدافعت کرتا ہے تمہارے اعداء کی حیثیت کیا ہے ، جب کہ تمہارے ساتھ اللہ ہے۔ تم جو کچھ خرچ کرتے ہو ، اور جو کچھ کرتے ہو اور تمہیں جو مشقتین پہنچتی ہیں۔ ان کا حساب رکھا جا رہا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ضائع نہیں ہوتی۔ ولکن یترکم اعمالکم (47 : 35) “ اور تمہارے اعمال کو ہو ہرگز ضائع نہ کرے گا ” ۔ اللہ تمہارے اعمال میں کوئی کٹوتی نہ کرے گا کہ اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو اور اس کا معاوضہ تمہیں نہ ملے۔ نیز کمزوری دکھانے اور صلح چاہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اعلیٰ ہو ، وہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کا ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہوگا لہٰذا تم مکرم ، ماجور اور منصور ہو۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔

یہ تو ہے پہلا ٹچ اور دوسرا یہ کہ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ امن و عافیت تم جس دنیا کے لئے طلب کرتے ہو ، اس کی حیثیت کیا ہے ؟ ٹھیک ہے اس میں تمہیں بعض قربانیاں تو دینی ہوں گی ، لیکن آخرت میں کامل اجر تمہیں ملیں گے اور تم سے تمہارے مال بھی طلب نہ کرے گا۔ انما الحیوۃ الدنیا ۔۔۔۔۔۔ اموالکم (47 : 36) “ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا ”۔ اگر ہماری اس دنیاوی زندگی کے پیچھے کوئی اعلیٰ اور ارفع مقصد نہ ہو تو وہ یقیناً لہو و لعب ہے۔ اگر اس دنیا میں اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور اسلامی نظام کے قیام کے ارفع مقاصد نہ ہوں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسلام کا مقصد زندگی اس دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا دیتا ہے۔ اور اس میں اللہ کی خلافت کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنا ہی قیامت میں اچھے نتائج پیدا کرتا ہے۔ آیت کا دوسرا فقرہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم (47 : 36) ” اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا “۔ اس دنیا میں ایمان لانا اور تقویٰ اختیار کرنا ہی اس کو لہو و لعب کے دائرے سے نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ایک سنجیدہ مقام عطا کرتا ہے اور اسے حیوانی سامان تعیش سے ذرا بلند مقام دیتا ہے۔ دنیا کا نظام پھر نظام خلافت راشدہ بن جاتا ہے اور یہ عالم بالا کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے ۔ جب اسلامی نظام اور قانون شریعت نافذ کردیا جائے تو پھر مومن کی اس دنیا کی زندگی بھی لہو و لعب کے دائرے سے نکل کر ایک عبادت بن جاتی ہے اور مومن کو اس کی تمام سر گرمیوں پر آخرت میں اجر ملتا ہے۔ لیکن باوجود اس کے اللہ لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں فرماتا کہ وہ اپنے تمام اموال خرچ کردیں ۔ اسلام دوسرے فرائض اور واجبات میں بھی لوگوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ انسان فطرتاً تھڑولا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر ان کی طاقت کے مطابق بوجھ ڈالا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں یہ حکم نہیں دیا کہ وہ سب مال خرچ کردیں ورنہ ان کے دل کا کھوٹ ظاہر ہوجاتا۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا۔

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اصغانکم (47 : 37) ” اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا “۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کس قدر حکیمانہ ہیں ، جس طرح اس سے اللہ کی رحمت اور مہربانیوں کا اظہار ہوتا ہے کہ دین اسلام میں جو فرائض و واجبات مقرر کئے گئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس میں انسانوں کی بشری کمزوریوں اور انسانی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ربانی نظام زندگی ہے۔ اور یہ انسانوں کے لئے ایک ربانی نظام تجویز کرتا ہے۔ یہ نظام ایک ربانی نظام اس زاویہ سے ہے کہ اس کے قواعد اللہ نے بنائے ہیں اور یہ انسانی اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس میں انسان کی استعداد ، قوت اور ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ ہی ہے جو ان کے لئے نظام تجویز کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ لطیف وخبیر ہے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے

آخر میں ان کی واقعی صورت حالات ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ ان حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت ہے۔ قرآن اپنے خوبصورت انداز میں ان کے دلوں کے بخل کا علاج کرتا ہے ۔ جس طرح قرآن نے جانی قربانی کے سلسلے میں ان کی تربیت کی۔ ھانتم ھولاء ۔۔۔۔ یکونوا امثالکم (47 : 38) ” دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ قرآن کریم اس وقت کے معاشرے کا نقشہ نہایت ہی خوبصورتی سے کھینچا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہر معاشرے میں مالی انفاق کی دعوت کے سلسلے میں بعض لوگوں کا طرز عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض مالی اعتبار سے بخل کرتے ہیں ، بعض ایسے ہوتے ہیں جو فیاض ہوتے ہیں۔ یہی صورت حالات ابتدائی اسلامی معاشرے کی تھی جس کو روایات میں اچھی طرح قلم بند کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے بھی دوسرے مقامات پر تفصیلات دی ہیں۔ اسلام نے اس میدان میں معجزانہ مثالیں پیش کی ہیں۔ لوگوں نے جو دوستی اور جوانمردی میں بےپناہ قربانیاں دیں لیکن ان مثالوں کے باوجود مالی لحاظ سے بخل پایا جاتا ہوگا ، بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جان تو دیتے ہوں گے لیکن ان کے لئے مال دینا مشکل ہوگا۔ یہی وہ کنجوسی ہے جس کا علاج قرآن مجید اس آیت میں کر رہا ہے۔ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ (47 : 38) ” حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے “۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں جو لوگ خرچ کر رہے ہیں وہ دراصل خود انہی کے بینک میں جمع ہو رہا ہے۔ اور یہ بچت دراصل ان کو اس وقت کام آئے گی جہاں پر کچھ بھی آمدن نہ ہوگی۔ جب ان کو زمین سے اٹھایا جائے گا اور ان کے پاس ان کی مملوکات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔ لہٰذا وہاں یہی کمائی اور بچت ان کے کام آئے گی۔ اس لیے آج اگر وہ اس مد میں خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں تو یہ بخل وہ خود اپنے خلاف کر رہے ہیں۔ وہ اپنی بچتوں میں کمی کر رہے ہیں اور خود اپنا مال کم کر رہے ہیں اور خود اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں۔ اور اللہ جو ان سے انفاق فی سبیل اللہ کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ بھی خود ان کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے ۔ یہ انہی کے لئے زیادہ بچت ہوتی ہے انہی کا خزانہ اور ذخیرہ بڑھتا ہے۔ اللہ کو اس مال سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور نہ اللہ کو ایسے کسی مال کی ضرورت ہے۔ اس لیے بخل اور کنجوسی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تمہارے پاس جو دولت ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور آخرت میں وہ جو اجر دے گا وہ بھی اس کا فضل ہوگا۔ اس لئے تم جو خرچ کرتے ہو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے۔ اور آخر اور دو ٹوک بات کہ اللہ نے جو تمہیں اپنی دعوت کے لئے چنا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور تمہارے لیے یہ بہت اعزاز ہے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو اس کا اہل نہ بنایا اور اس کی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اللہ تمہارے انتخاب کو واپس لے لے گا۔ اور کسی دوسری قوم کو اس کام کے لئے منتخب کردے گا۔ اور یہ اس قوم پر اللہ کا احسان ہوگا اور وہ اس انتخاب کی قدر کریں گے ! وان تتولوا یستبدل ۔۔۔۔۔۔ امثالکم (47 : 38) ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے “۔ جن لوگوں نے ایمان کا مزہ چکھا ہے ، ان کے لئے تو یہ بہت خوفناک دھمکی ہے کہ تمہیں ہٹا کر کسی دوسری قوم کے لئے آیا جائے گا۔ اس شخص کے لئے یہ بہت بڑی دھمکی ہے جس کو احساس ہو کہ دعوت اسلامی اور خیر امت کی ذمہ داری سپرد کر کے اللہ نے ان کو بہت بڑا اعزاز بخشا ہے کیونکہ جو شخص اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اسے اللہ نے عظیم امانت سپرد کی ہے۔ وہ اس زمین پر اللہ کی سند اور سہارے سے چلتا ہے۔ اس کے وجود میں اللہ کا نور ہے۔ وہ آتا ہے اور جاتا ہے اور اس پر اپنے آقا کی علامات ہیں۔ اگر کسی نے ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیا ہو اور پھر اس سے سلب کرلیا جائے تو یہ خسارہ وہی محسوس کرسکتا ہے ، یہ بےعزتی وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے دریار کبریائی میں باریابی پائی ہو ، اعزاز پایا ہو اور پھر اسے دھتکار دیا جائے اور اس کے پیچھے دروازے بند کر دئیے جائیں۔ بلکہ ایسے واصلین حق کی زندگی تو جہنم بن جاتی ہے جو حق تعالیٰ تک پہنچ چکے ہوں اور پھر دور ہوجائیں گے اور ان کے سامنے پردے حائل ہوجائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک بہت بڑی عطا ہے۔ اس کی قیمت کی کوئی چیز اس کائنات میں نہیں ہے ۔ اور یہ پوری انسانی زندگی اور پوری زمین کی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں ایمان ہو اور دوسرے میں یہ پوری کائنات ہو۔ اس لیے یہ دھمکی اتنی بڑی دھمکی ہے جو مومن کو دی جاسکتی ہے اور یہ دھمکی ، ذرا غور کیجئے ، اللہ کی طرف سے ہے !