47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 47:13–14

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لئے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں۔

اب ایک موازنہ ان بستیوں کے درمیان جو ہلاک ہوئیں اور اس بستی کے درمیان جس نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا۔ وکاین من قریۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا ناصر لھم (47 : 13) “ اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ”۔ یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئی جب آپ ہجرت کا سفر فرما رہے تھے اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ کیونکہ اپنا ملک ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ایک مشکل کام ہے اور اس میں تسلی دی گئی کہ بظاہر تو یہ لوگ بڑے جبار نظر آتے ہیں ، دعوت اسلامی کی راہ روکے ہوئے ہیں ، اہل ایمان پر تشدد کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ان کو اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے اور وہ دولت ایماں لے کر جا رہے ہیں لیکن دراصل یہ جبار بہت ہی کمزور ہیں۔ ٭٭٭ اب دونوں فریقوں کے درمیان مزید موازنہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ مومنین کو جنتیں عطا کرے گا ، جہاں نہریں بہتی ہیں ، اس دنیا میں ان کو نصرت اور عزت بخشے گا ، اور کفار کا کوئی آقا نہیں ہے ، ان کا کوئی ناصر نہیں ہے وہ دنیا میں ہلاک ہوں گے اور آخرت میں خوار ہوں گے ، اور ہمیشہ جہنم میں ہوں گے۔ یہ کیوں ؟ افمن کان علی ۔۔۔۔۔ اھواء ھم (47 : 14) “ بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لئے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں ”۔ یہ ہے وہ فرق دونوں گروہوں کے درمیان ،۔۔۔۔ زندگی اور مقصد زندگی دونوں میں فرق ہے۔ جو اہل ایمان ہیں وہ : علی بینۃ من ربہ (47 : 14) “ اپنے رب کی طرف سے صاف ہدایت پر ہیں ”۔ وہ حق کو جانتے ہیں اور انہوں نے اسے پہچان لیا ہے۔ وہ حق کے سرچشمے تک پہنچ گئے ہیں اور ان کے پاس جو حق آرہا ہے وہ اس پر جمے ہوئے ہیں۔ وہ کسی دھوکے میں ہیں اور نہ گمراہی میں۔ اور کفار ایک بڑے دھوکے میں پڑے ہیں۔ شیطان نے ان کو لیے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے ہیں۔ پھر ان کے اعمال کے بارے میں ان کو کوئی یقین بھی نہیں ہے کہ وہ کہاں سے ہدایات لیتے ہیں۔ واتبعوا اھواءھم (47 : 14) “ وہ اپنی خواہشات کے پیروکار ہیں ”۔ کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ کوئی اصول نہیں ہے جس پر جائز و ناجائز کا تعین ہو ، اور کوئی روشنی ان کے پاس نہیں جس کے ذریعہ وہ حق و باطل کی تمیز کریں۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

پرہیز گار لوگوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ، نتھرے ہوئے پانی کی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہری بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔ اس میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ۔ (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا ؟

یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ان کے حالات ، طرز زندگی اور سمت سفر سب جدا ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک پیمانے کے مطابق ناپے اور تولے جاسکیں۔ اور دونوں کا ایک ہی انجام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق و امتیاز ہے۔ دونوں کا انجام بھی مختلف ہے۔ مثل الجنۃ التی ۔۔۔۔۔ حمیماً فقطع امعاء ھم (47 : 15) “ پرہیز گار لوگوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ، نتھرے ہوئے پانی کی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔ اس میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔ (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے ) ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا ؟ ”۔ جنت کی خوشیوں اور جہنم کے عذاب کی یہ نہایت ہی محسوس تصویر اور منظر قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ کبھی معنوی اور مجرد خالص خوشیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ کئی جگہ اس قسم کی خوشیوں کا ذکر بھی ہے جن کے اندر حسبات کا حصہ کم ہے ۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کو خوب جانتا ہے۔ “ من خوب می ثناسم پیران پارسارا ”۔ اللہ کو معلوم ہے اور سب سے زیادہ معلوم ہے کہ انسان کے دلوں پر زیادہ اثر کس چیز کا ہوتا ہے ۔ ان کی تربیت کس طرح ممکن ہے۔ ان کے لئے کون سی نعمتیں بہتر ہیں اور ان کے لئے کون سی مناسب ہیں۔ پھر انسانوں کے بھی کئی مدارج ہیں ، نفوس انسانی کے بھی کئی رنگ ہیں۔ مختلف مزاج ہیں۔ یہ سب انسان ہیں۔ انسانیت میں برابر ہوتے ہوئے بھی رنگ ، مزاج اور خواہشات میں اختلاف ہے۔ اس لیے اللہ نے اپنے فضل و کرم اور انعامات میں بھی تنوع رکھا ہے۔ اور ہر کسی کو اس کی خواہش کے مطابق دیا ہے اور دے گا۔ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ انسانوں میں سے ایسے بھی ہیں جن کی اصلاح کے لئے نتھرے ہوئے پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں جن کا ذائقہ بدلا ہوا نہ ہو۔ عسل مصفی کی نہریں ، اور لذیذ شراب کی نہریں مناسب ہیں ، یہی ان کی خواہش ہے۔ پھر یہ لوگ اس قسم کے پھل کو پسند کرتے ہیں ، پھر رب کی مغفرت ، لہٰذا اللہ نے ایسے ہی لوگوں کی تربیت کے لئے ان کی خواہشات کے مطابق یہ انعامات رکھے ہیں۔ اور انہیں کے بارے میں ہے۔ لھم فبھا ما یشاءون “ یہی ان کے لئے مناسب ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی بندگی ان انعامات کے شکر کی وجہ سے کرتے ہیں جو لا تعداد ہیں ، بعض ایسے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی بندگی کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں ، یا پھر وہ اس بات سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ایسی حالت میں دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی بندگی پر جنت کی لالچ نہیں رکھتے۔ اور دوزخ کے ڈر سے نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو انعامات کی پرواہ نہیں ہوتی۔ نہ سزا کا خوف ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تربیت اور جزاء کے لئے بھی اللہ نے ایک معیار رکھا ہے۔ ان الذین امنوا ۔۔۔۔۔ الرحمن ودا “ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لئے خدائے رحمٰن محبت پیدا کردے گا ”۔ اور ان کو یہ یقین بھی ہوگا۔ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “ یہ سچائی کے مقام پر صاحب اقتدار بادشاہ کے پاس ” کرسی نشین ہوں گے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ اس قدر نماز پڑھتے تھے کہ پاؤں مبارک سوچ جاتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ اس قدر عبادت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا “ عائشہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ”۔ (مسلم) رابعہ عدویہ فرماتی ہیں ، اگر نہ جنت ہوتی اور نہ آگ ہوتی تو کیا کوئی اللہ کی عبادت نہ کرتا اور کوئی اللہ سے نہ ڈرتا ؟ انہی سے سفیان ثوری نے ان کے ایمان کی حقیقت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا “ میں نے اللہ کی بندگی اس کی آگ کی ڈر کی وجہ سے نہیں کی اور نہ اس کی جنت کی لالچ کی وجہ سے کی کہ میں ایک برے مزدور کی طرح بن جاؤں کہ محض لالچ میں کام کروں ”۔ بہرحال انسانوں میں سے بعض کا یہ رنگ ہے اور بعض کا وہ رنگ۔ اور اللہ نے دونوں کے لئے مایشاؤن کے مطابق انعامات رکھے ہوئے ہیں۔ جو ان کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اور جن سے ان کی تربیت ہوتی ہے۔ یہ بات نظر آتی ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کی جوں جوں تربیت کی ، اس کی ساتھ ساتھ وسائل تربیت بھی زیادہ لطیف ہوتے گئے اور مسلمانوں کے بدلتے ہوئے ذوق کے مطابق تبدیل ہوتے رہے کیونکہ انسان اپنی تاریخ میں انسانیت کے مختلف مدارج پر رہا ہے۔ بہرحال جزاء کی بھی دو قسمیں ہیں۔ یہ نہریں قسما قسم کے پھلوں کے ساتھ اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی کے ساتھ اور دوسری قسم : کمن ھو خالد فی ۔۔۔۔۔ امعاء ھم (47 : 15) “ ان لوگوں کی طرح جو جہنم میں رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا ”۔ عذاب کی یہ صورت نہایت ہی حسی اور سخت ہے۔ یہ صورت اس سورت کی فضا کے ساتھ بہت ہی مناسب ہے۔ یہ اس دنیا میں بھی اس قدر مگن ہے کہ ماسوائے کھانے پینے کے اس کے سامنے کوئی اور اونچا نصب العین نہیں ہے۔ فضا ایسی ہے کہ سامان معیشت بھی حسی ہے۔ اس قوم کا مزاج بھی جانوروں کی طرح حسیات ہی کو دیکھتا ہے۔ اس لیے ان کے لئے سزا بھی ایسی ہی سخت ہے۔ گرم ترین پانی ان کو اس طرح پلایا جائے گا کہ نہ صرف یہ کہ منہ جل جائے گا بلکہ آنتیں تک کٹ جائیں گی اور دنیا میں یہ لوگ تھے بھی جانوروں کی طرح سخت۔ کس طرح یہ لوگ ایمان والوں کی طرح ہو سکتے جو نہایت مہذب ہیں۔ یہاں یہ پہلا مطالعہ ختم ہوتا ہے۔ جو سورت شروع ہوتے ہی ان لوگوں پر ایک تنقیدی حملے کی شکل میں شروع ہوا تھا۔ اور یہ اس طرح جاری رہا جس طرح دو کیمپوں کے درمیان جنگ جاری ہوتی ہے۔ آخر تک یہ کشمکش سخت الفاظ میں ہوتی رہی ہے۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے۔ پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگادیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔

درس نمبر 242 ایک نظر میں یہ سبق منافقین کے بارے میں ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا تھا ؟ قرآن کے بارے میں کیا تھا ؟ پھر مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے ؟ یاد رہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے تھا ؟ پھر یہ کہ مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے مخالف اسلام یہودی قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات ان مقاصد کے لئے تھے۔ یہ کہ ان خفیہ سازشوں کی وجہ سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ تحریک نفاق مدینہ کی پیدا وار ہے۔ مکہ میں اس کا وجود ہی نہ تھا کیونکہ مکہ میں ایسے حالات ہی نہ تھے جن میں کسی کو منافق بننے کی ضرورت پیش آتی مکہ میں مسلمان دبے ہوئے تھے۔ لہٰذا کسی کو منافق بننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جب اللہ نے مدینہ میں اوس اور خزرج کے ذریعہ اسلام کو عزت بخشی اور مدینہ کے اکثر خاندانوں میں اسلام پھیل گیا۔ اکثر لوگ مسلمان ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی دیکھا دیکھی مسلمان ہوگئے جو حضرت محمد ﷺ کو پسند نہ کرتے تھے کہ آپ اور اسلام یہاں قوت پکڑیں۔ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے لیکن ان کے دل اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی دشمنی سے بھرے ہوئے تھے۔ اور وہ اس آرزو میں بیٹھ گئے تھے کہ حالات گردش میں آئیں اور اس نئی قوت پر ضرب لگائی جائے۔ ان کا سربراہ عبد اللہ ابی بن سلول تھا۔ یہ مشہور زمانہ منافق تھا۔ مدنی دور کے آغاز میں یہودی مدینہ میں ایک زبردست فوجی ، اقتصادی اور تنظیمی قوت رکھتے تھے۔ یہ لوگ بھی حضرت محمد ﷺ کے غلبے کو پسند نہ کرتے تھے۔ نہ آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو پسند کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہاں اس پوزیشن میں موجود ہونا بھی منافقین کے لئے ایک سہارا تھا۔ اور اس مشترکہ دشمنی نے ان کو جلد ہی ایک دوسرے بنا دیا۔ لہٰذا یہ دونوں قوتیں ہر موقعہ پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرتیں۔ اگر مسلمانوں پر مشکل حالات ہوتے تو یہ اپنی منافقت اور بغض و عداوت کا اظہار کردیتے۔ اور اگر مسلمان اچھی حالت میں ہوتے تو یہ خفیہ اور اندھیروں میں ان کے خلاف سازشوں کا تانا بانا تیار کرتے۔ مدینہ کے دس سال عہد حکومت میں پانچ سالوں تک یہ اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ بنے رہے۔ مدینہ میں جس قدر سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں تواتر کے ساتھ منافقین کی سازشوں ، عداوتوں اور ان کے نفاق کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور ان سے ہدایات لیتے ہیں اور بعض سازشوں میں شریک ہیں۔ یہ سبق ان میں سے ایک ہے جس میں یہودیوں اور منافقین کے اشتراک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ منھم (ان میں سے) کا اشارہ کافروں کی طرف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ درس سابق میں کافروں سے بحث تھی اور درحقیقت منافقین بھی کافر ہی تھے۔ اگرچہ چھپے ہوئے کافر تھے۔ اللہ نے یہاں ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کو کافروں میں شمار کیا ہے کہ ان کافروں میں سے بعض منافقین ہیں۔ اور یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے یعنی مسلمانوں میں سے بعض منافقین ہیں۔ کیونکہ منافقین باقاعدہ نماز بھی پڑھتے تھے اور اسلام بظاہر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرتا تھا ۔ لیکن دونوں صورتوں میں یہ منافق ہی تھے۔ آیت میں ان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ ان میں تھیں اور یہ پورا سبق ان کے بارے میں ہے۔ یہ لوگ مجلس میں ہوں بیٹھے ہوئے کہ گویا ہمہ تن گوش ہیں اور اچھی طرح بات سن رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ سن نہیں رہے ہوتے تھے۔ بلکہ “ برزبان تسبیح و در دل گا ؤخر ” کا مصداق ہوتے اور اگر سنتے بھی تو ان کے دل کو بات لگتی ہی نہ تھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اہل علم سے طنزاً پوچھتے ہوں کہ بتائیے جناب ابھی کیا کہا صاحب نے۔ یعنی ہمارے پلے تو کوئی بات پڑی نہیں ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ اشارہ بھی تھا کہ ہم تو ان باتوں کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن اہل علم حضرت کی باتوں کا ایک ایک لفظ یاد کرتے ہیں۔ الفاظ بھی اور معانی بھی ۔ صحابی کرام کا طریقہ بھی یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کے الفاظ اور معانی دونوں کو یاد کرتے تھے۔ اور یہ لوگ یعنی منافقین ان الفاظ اور معانی کو بطور مزاح دہراتے تھے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ نہایت بدفطرت ، اسلام کے معاند ، اندھے اور اسلام کے ترقی پذیر حالات میں جل بھن گئے تھے۔ اولئک الذین ۔۔۔۔۔ اھوائھم (47 : 16) “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ”۔ یہ تو تھا منافقین کا حال ۔ رہا اہل ہدایت کا حال تو وہ اس کے برعکس تھا۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے۔

والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم (47 : 17) “ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے ”۔ اس آیت میں واقعات کی جو ترتیب ہے ، وہ قابل توجہ ہے ۔ جو ہدایت پر ہیں وہ خود ہدایت کی راہ لیتے ہیں تو اللہ ان کو مزید ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور ان کو ہدایت میں مزید گہرائی بخشتا ہے۔ واتھم تقوھم (47 : 17) “ اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا کرتا ہے ”۔ تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ اس کو شعور ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ کے غضب سے انسان ڈرتا ہے۔ اللہ کی رضا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور اس بات سے وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے کہ اللہ اسے بری حالت میں دیکھے۔ یہ تیز احساس ہی تقویٰ ہے۔ یہ اللہ اس شخص کو عطا کرتا ہے جس سے اللہ راضی ہو اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان راہ ہدایت لینے میں رغبت رکھتا ہے۔ تو اللہ مزید ہدایت دے کر اسے تقویٰ کا مقام دیتا ہے غرض ہدایت کی خواہش ، پھر اللہ کی طرف سے مزید ہدایت اور پھر اللہ کا تقویٰ اور ڈر وہ مدارج ہیں جو نفاق ، غفلت اور خواہشات نفس کی پیروی کے بالمقابل ہیں۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟ اس کی علامات تو آچکی ہیں ۔ جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقع باقی رہ جائے گا ؟

اب بات ان لوگوں کی طرف آتی ہے جو منافق ہیں ، اندھے ہیں ، غافل ہیں ، جو مجلس رسول سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کوئی نفع نہیں اٹھایا۔ ہدایت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر خدا کا کوئی خوف پیدا نہ ہوا۔ چناچہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ حساب و کتاب کا دن بہت ہی جلدی آنے والا ہے۔ فھل ینظرون الا الساعۃ ۔۔۔۔۔ ذکرھم (47 : 18) “ اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟ اس کی علامات تو آچکی ہیں۔ جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقع باقی رہ جائے گا ؟” ان آیات میں منافقین کو ایک زبردست جھٹکے کے ساتھ جگایا جاتا ہے اور گریبان سے پکڑ کر ان کو اس طرح جھنجھوڑا جاتا ہے جس طرح کسی نشے میں دھت شخص کو کھینچا جاتا ہے ۔ یعنی یہ غافل لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں جاتے ہیں اور وہاں سے کچھ ہدایت لیے بغیر ، کچھ یاد کئے بغیر ، کچھ نصیحت پکڑے بغیر ، کورے کے کورے واپس ہوئے۔ یہ بدبخت اب کس چیز کا انتظام کرتے ہیں۔ فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ (47 : 18) “ کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ اچانک آجائے ”۔ اور ان کے حالات یہ ہوں کہ یہ غفلت اور لاپرواہی میں ، اور فسق و فجور میں غرق ہوں۔ اگر یہ لوگ قیامت ہی چاہتے ہیں تو : فقد جاء اشراطھا (47 : 18) “ اس کی علامات تو آچکی ہیں ”۔ یہ آخری رسالت قیامت کی بڑی نشانی ہے۔ یہ رسالت دراصل اعلان ہے کہ اب قیامت جلد ہی آنے والی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : بعثت انا والساعۃ ۔۔۔۔ “ میں اور قیامت ان دو کی طرح مبعوث ہوئے ہیں ”۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں سبابہ اور درمیان انگلی کو جوڑ کر اشارہ فرمایا (متفق علیہ) ۔ حضور اکرم ﷺ سے ادھر اگر زمانہ لوگوں کو زیادہ طویل ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو اللہ کے ایام ہمارے ایام کے مقابلے میں بہت ہی طویل ہوتے ہیں۔ اللہ کے حساب میں قیامت کی نشانی آگئی ہے۔ اور بڑی نشانی یہ آخری رسالت ہے۔ اور یہ کسی عقلمند شخص کی روش نہیں ہو سکتی کہ مصیبت آئے اور وہ سویا ہوا ہو۔ اور وہ پھر بچاؤ کی کوئی تدبیر نہ کرسکے۔ فانی لھم اذا جاءتھم ذکرھم (47 : 18) “ جب وہ آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقعہ باقی رہ جائے گا ”۔ یہ نہایت ہی قوت سے جھنجھوڑنے کے متراد ہے کہ جاگو ، خطرہ سر پر ہے اور سختی کے ساتھ گریبان سے پکڑ کر ہلانا ، اس سورت کے سخت انداز کے بھی مناسب ہے۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لئے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تمہاری سر گرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے۔

اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ہدایت یافتہ ، متقی اور متلاشیان ہدایت ساتھیوں کی طرف پھرجاتا ہے کہ وہ ہدایت کے لئے ایک دوسری راہ بھی اپنائیں۔ علم ومعرفت ، توبہ و استغفار ، اللہ کا خوف اور خشیت اختیار کریں اور آخری وقت کا انتظار کریں۔ اللہ تمہاری دنیا و آخرت کے انجام اچھی طرح واقف ہے۔ فاعلم انہ لا الہ ۔۔۔۔۔ ومثوکم (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لئے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سبے بھی واقف ہے ”۔ یہاں آپ کو اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تمہاری ملت جس نظریہ پر قائم ہے اس کو سمجھو وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ، معبود اور حاکم نہیں ہے۔ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے مستحق نہیں ”۔ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے پھر دوسری ہدایات یہ ہیں۔ واستغفر لذنبک (47 : 19) “ اپنے قصور کے لئے معافی مانگو ”۔ حالانکہ حضور ﷺ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف تھے ؟ لیکن ایک باشعور ، متقی اور حساس بندے کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی مساعی کو کمزور سمجھتا ہے۔ اگرچہ وہ اطاعت الٰہی میں بہت جدو جہد کرتا ہو۔ حضور ﷺ جانتے تھے کہ استغفار اور ذکر ، شکر ہے اور اللہ کی مغفرت کا مزید شکر ہے۔ اور پھر آپ کے منصب و مقام پر بعد میں جو لوگ آنے والے تھے ، ان کے لئے یہ ہدایت ہے اور عام مسلمانوں کے لئے یہ رہنمائی ہے کہ جب حبیب خدا کو یہ ہدایت ہے کہ مغفرت طلب کرو ، جبکہ وہ بخش دئیے گئے ہیں تو دوسروں کو تو ہر وقت استغفار کرنا چاہئے۔ نیز حضور ﷺ اپنے لیے اور مومنین و مومنات کے لئے استغفار کرتے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کا شعور تازہ رہنا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وجہ سے ان پر اللہ کی رحمت ہو رہی ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ مومنین اور مومنات کے لئے مغفرت طلب کر رہے ہیں۔ پھر ان ہدایات کے سلسلے کی آخری بات۔ واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم (47 : 19) “ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے ”۔ اس سے دل مومن کو اطمینان بھی نصیب ہوتا ہے اور اس کے دل میں یہ تصور بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ہماری چلت پھرت سے بھی واقف ہے اور انجام سے بھی واقف۔ اطمینان یہ کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور خوف یہ کہ اللہ ہر حالت میں ہم کو جانتا ہے ، اس سے چھپ کر ہم کوئی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ یہ ہے اسلامی تربیت کہ اللہ کے بارے میں تیز احساس رکھو ، ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور ہر وقت انتظار میں رہو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔

اب روئے سخن ایک نہایت ہی حساس موقف کی طرف آتا ہے۔ اس وقت تک پالیسی یہ تھی کہ جہاد و قتال سے رکو لیکن اب اللہ نے جہاد کا حکم دے دیا۔ یہ منافقین پر ایک ضرب تھی۔ وہ سخت دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اب تو ان کے لئے چھپ کر رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ اب اگر وہ نفاق پر رہے اور اخلاص کے ساتھ اسلام قبول نہ کیا تو ان کا اندرون ظاہر ہوجائے گا ۔ کیونکہ جب جہاد کا فیصلہ ہوگا تو جنگ میں جانا ہوگا یا پیچھے رہنا ہوگا۔ ویقول الذین امنوا لو لا ۔۔۔۔۔۔ فاولی لھم (20) طاعۃ وقول معروف ۔۔۔۔۔۔ خیرا لھم (21) فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (22) اولئک الذین لعنھم ۔۔۔۔۔ ابصارھم (23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔۔ اقفالھا (24) ( 47 : 20 – 24) “ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔ ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا۔ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ؟ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ” اہل ایمان ، کسی نئی سورت کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے ، یا تو اس لئے کہ ان کے دلوں میں ہر وقت یہ شوق رہتا تھا کہ وہ نئی نئی ہدایات لیتے رہیں۔ کیونکہ ان کو قرآن سے بےحد محبت تھی۔ وہ ہر نئی سورت میں علم و انس کا ایک نیا سامان اپنے لیے پاتے تھے۔ اور اس سے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ نئے حالات میں مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کی ہدایات اور اجازت چاہتے تھے کہ اسلام کے لئے لڑ مرنے کی ہدایات ان کو دی جائیں۔ لو لا نزلت سورة (47 : 20) “ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی ”۔ فاذا انزلت سورة محکمۃ (47 : 20) “ جس میں جنگ کا ذکر کیا گیا ”۔ جس میں پھر کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور جو لوگ قتال سے پیچھے رہتے ہیں ، یا جہاد کاموں میں پیچھے رہتے ہیں ، ان کی مذمت بھی کردی گئی تو بیمار دلوں والے لوگ یعنی منافقین کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ پردے کرنے لگے جن کے پیچھے چھپ کر یہ سازشیں کرتے تھے۔ ان کی جزع و فزع ، شور وفغاں اور سہمے اور ڈرے ہوئے ہونا یہاں تک کہ مارے خوف کے ان پر غشی کا طاری ہونا قابل دید تھا۔ قرآن کریم نے یہاں ان لوگوں کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ گویا وہ ہیں سامنے اسکرین پر ۔ رایت الذین فی ۔۔۔۔۔۔ من الموت (47 : 20) “ تو تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ”۔ یہ اس قدر خوبصورت انداز تعبیر ہے کہ انسان اس کی نقل نہیں اتار سکتا۔ نہ کسی اور عبارت میں نہ کسی اور زبان میں اس طرز تعبیر کو اپنا سکتا ہے۔ خوف و ہراس کی یہ ایسی تصویر ہے کہ کپکی اور خوف سے بھی آگ بڑھ کر ان لوگوں پر گویا غشی کی حالت طاری ہو رہی ہے ۔ اور خیال میں ان لوگوں کی پھر عجیب و غریب حرکات سامنے آتی ہیں۔ اور وہ تمام نفوس و شخصیات کی تصاویر ذہن میں آجاتی ہیں جن کو پختہ ایمان نصیب نہ ہو ، جس کی فطرت سچی نہ ہو اور جن کے اندر اس قدر جذبہ جہاد نہ ہو جس کی وجہ سے وہ خطرے کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ لوگ مریض اور منافق ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس قدر ذلت ، گراوٹ اور شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ دوبارہ ان کو ایمان کی دعوت از سر نو دی جاتی کہ ایمان ہی حقیقی زاد راہ سے جس سے ارادے جواں ہوتے ہیں اور جس سے پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔ فاولی لھم (47 : 20) طاعۃ وقول ۔۔۔۔۔ خیرا لھم (47 : 21) “ ان کے لئے بہت یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا ”۔ ہاں جس شرمندگی میں وہ مبتلا ہیں اس کے مقابلے میں ان کے لئے یہی اچھا تھا۔ وہ حیران ہیں کہ کیا کریں۔ پریشان ہیں کہ کیا ہوگا۔ اب ان کا نفاق تو چھپ نہ سکے گا۔ ان کے لئے بہتر پالیسی اب یہ ہے ۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا۔

طاعۃ وقول معروف (47 : 21) “ وہ اطاعت کریں اور سیدھا رویہ اختیار کر کے بات کریں ”۔ اللہ کے احکام کو اب نفاق کے بجائے دل سے قبول کرلیں۔ اور اللہ پر یقین کر کے اس کے احکام کو مان لیں ۔ اور اس قسم کی باتیں کریں جو بچی ہوں اور سچے دل سے ہوں۔ اور پختہ ضمیر کے مطابق ہوں اور یہ ان کے لئے اب نئے حالات میں زیادہ مفید ہوگا جبکہ اب احکام قطعی ہوگئے ہیں۔ اب تو انہوں نے یا جہاد میں جانا ہے یا پیچھے رہنا ہے۔ لہٰذا عزیمت اور شعور کے ساتھ جہاد کرو۔ اس طرح ان کے دل مضبوط ہوں گے ، ان کا عزم پختہ ہوجائے گا۔ قدم مضبوط ہوں گے ، جہاد ان کو مشقت اور بیگار نہ نظر آئے گا۔ اور جنگ ان کے لئے ایک ایسی بلائے نا گہانی نہ ہوگی جس نے منہ کھولا ہوا ہے۔ جنگ میں گئے کہ اس بلا کے منہ میں پڑے نہیں۔ اگر سچے دل سے جہاد کریں گے تو دو بھلائیوں میں ایک بھلائی تو بہرحال ملے گی۔ یا تو خطرے سے نجات اور فتح ملے گی اور یا شہادت اور جنت ملے گی۔ اور یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہوگی ۔ یہ ہے وہ زاد راہ یعنی حقیقی ایمان جس کے نتیجے میں عزائم جوان اور پاؤں مضبوط اور جزع و فزع مفقود ہوجاتے ہیں اور انسان کو اطمینان اور قرار ثبات ملتا ہے۔ اب ان کو نہایت سختی سے جہاد سے پیچھے رہنے کا انجام بتا یا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا تو انہیں معلوم ہے کہ اسلام سے قبل ان کی حالت کی تھی ۔ تم نے نفاق کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اس میں کتنے فائدے ہیں ؟
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ؟

فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (47 : 22) “ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ تم الٹے منہ پھرو گے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ”۔ یعنی تم سے تو یہی توقع ہے۔ ذرا سابقہ حالات کی روشنی میں دیکھو کہ اگر اسلام سے منہ موڑو گے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ کر ایک دوسرے کے اور اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹو گے جس طرح اسلام سے قبل تھے۔ اسلام سے روگردانی سے ڈرانے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حقیقی صورت حال کیا ہے ، اگر یہ اپنی موجودہ پوزیشن پر ہی ڈٹے رہے جس طرح کہ نظر آتا ہے۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔

اولئک الذین ۔۔۔۔ ابصارھم (47 : 23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔ اقفالھا (47 : 24) “ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ” یہ لوگ نفاق کی بیماری میں بدستور مبتلا ہیں۔ درحقیقت وہ اس دعوت سے حقیقتاً منہ موڑ رہے ہیں جس میں وہ بظاہر داخل ہوچکے ہیں اور اس پر ان کا یقین بھی نہیں ہے۔ اس لئے۔ فاصمھم واعمی ابصارھم (47 : 23) “ اللہ نے ان کو بہرا اور اندھا بنا دیا ہے ”۔ ان کی قوت سماعت تو موجود ہے اور قوت باصرہ بھی موجود ہے لیکن انہوں نے کانوں اور آنکھوں کو معطل کردیا ہے یا سمع و بصر کے نتیجے میں جو ادراک حاصل ہوتا ہے اس کو معطل کردیا ہے۔ گویا ان کے یہ حواس اپنا فریضہ منصبی ادا نہیں کررہے۔
Ayahs 47:24–25

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھرگئے ان کے لئے شیطان نے اس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لئے دراز کر رکھا ہے۔

قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔ افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔ ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر نہیں جاسکتی اور نہ روشنی جاسکتی ہے۔ منافقین کے حالات ابھی جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان کے منہ موڑنے کے اسباب کیا ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ یہودی سازش میں شریک ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کو ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ جو سازش تیار کریں گے یہ ان کی اطاعت کریں گے۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

اسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے۔

قرآن کریم نے ایمان لانے اور ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد ان کی جانب سے ایمان کو ترک کرنے کے عمل کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کیا ہے۔ یعنی واپسی اور الٹے پاؤں پھرنے کا عمل ، اور اس کے اسباب یہ بتائے ہیں کہ شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی اور ان کے لئے اس برے کام کو خوبصورت بنا دیا یعنی ظاہری حرکت کہ ایک شخص الٹے پاؤں پھر رہا ہے اور معنوی حرکت اس انداز تعبیر میں دونوں نظر آتی ہیں جبکہ یہ منافق اپنی جانب سے اپنے ان اعمال کو اچھی طرح چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیطان ان پر کس طرح مسلط ہوگیا اور کس طرح وہ ان کو مرتد بنانے میں کامیاب ہوگیا حالانکہ آغاز میں یہ لوگ ایمان لا چکے تھے ، تو وجہ یہ تھی : ذلک بانھم ۔۔۔۔۔ بعض الامر (47 : 26) “ اسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے ” ۔ مدینہ میں یہودی تھے اور وہ نزول قرآن کے پہلے مخالف تھے کیونکہ ان کو توقع تھی کہ آخری رسول بھی یہودی ہوگا۔ رسالت کا خاتمہ ان پر ہوگا۔ یہ لوگ کافروں پر مکمل فتح کی توقع اس رسول کے دور میں کرتے تھے اور کافروں کو اس امر سے ڈراتے بھی تھے کہ جب نبی آخر الزمان آئے گا تو وہ پوری دنیا پر غالب ہوگا۔ اور پوری دنیا مین ان کو غلبہ حاصل ہوگا۔ اور پھر یہودیوں کی مملکت قائم ہوگی۔ لیکن اللہ نے آخری رسول ابراہیم (علیہ السلام) کی اس نسل سے بھیجا جو یہودی نہ تھی اور حضور اکرم ﷺ جب مدینہ ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے اس ہجرت کو بھی پسند نہ کیا کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا رہا سہا اثر رسوخ بھی ختم ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اول روز سے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خلاف جمع ہوگئے تھے اور آپ ﷺ کے خلاف خفیہ سازشوں کی جنگ شروع کردی تھی۔ کیونکہ بظاہر وہ میدان جنگ میں تو حضور اکرم ﷺ کے خلاف نہ جنگ کرسکتے تھے اور نہ اس کا کوئی جواز تھا۔ اس طرح یہودیوں کے ساتھ ہر وہ شخص شامل ہوگیا جو حضور ﷺ سے دشمنی رکھتا تھا۔ تمام منافقین ان سازشوں میں شریک ہوگئے اور یہ جنگ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلتی رہی اور آخر کار حضور اکرم ﷺ نے ان کو جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا۔ یہ منافقین جو ہدایت پانے کے بعد منافق ہوگئے تھے انہوں نے یہودیوں کو یہ یقین دہائی کرائی کہ۔ سنطیعکم فی بعض الامر (47 : 26) “ بعض معاملات میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ”۔ اور راجح بات یہ ہے کہ یہ یقین دہانی خفیہ سازشوں کے سلسلے میں تھی جو وہ اسلام اور رسول اللہ کے خلاف تیار کرتے رہتے تھے۔ واللہ یعلم اسرارھم (47 : 26) “ اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے ”۔ یہ نہایت ہی دھمکی آمیز تبصرہ ہے بلکہ دھکمی ہے کہ کریں یہ اپنی سازشیں ، ہم جانتے ہیں ان کا سب کچھ۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اللہ کی قوت کے مقابلے کی کوئی قوت نہیں۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟

یہ زندگی مختصر ہے اور آخر کار ہمارا لشکر جب پہنچے گا اور ان سے امانت حیات وصول کرے گا تو : فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) “ پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟ ” یہ نہایت ہی خوفزدہ کرنے والا اور توہین آمیز منظر ہے۔ جب ان کی موت کا قت ہوگا یہ بےبس ہوں گے۔ اس زمین پر سے رخصت ہو رہے ہوں گے اور دوسری حیات کا آغاز ہو رہا ہوگا۔ اور اس نئی زندگی کا آغاز یوں ہو رہا ہے کہ فرشتے ان کے منہ پر بڑی بےدردی سے تھپڑ مار رہے ہیں اور چوتڑوں پر ڈنڈے رسید کر رہے ہیں۔ حالانکہ بذات خود موت کا وقت نہایت ہی درد ناک ہوتا ہے۔ خوف اور کرب کا وقت ہوتا ہے۔ لیکن یہ چونکہ الٹے پاؤں پھرے ہیں اس لیے ان کو چوتڑوں پر سزا مل رہی ہے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اسی تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دئیے۔

ذلک بانھم اتبعوا ۔۔۔۔۔۔۔ اعمالھم (47 : 28) “ یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دئیے ”۔ یعنی انہوں نے خود اپنے لیے یہ انجام پسند کیا ہے ۔ انہوں نے خود اس طریقے کو اپنا یا جو اللہ کو ناراض کرنے والا طریقہ ہے۔ یعنی نفاق ، معصیت اور اللہ کے دشمنوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ مل کر سازشیں کرنا۔ انہوں نے خود اللہ کی رضا مندی کو ناپسند کیا۔ اور اس کے حصول کی کوشش نہ کی بلکہ انہوں نے وہ کام کیا جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور غضب میں آتا ہے یوں اللہ نے ان کے تمام اعمال کو (حبط) کردیا۔ جن پر وہ مست تھے اور جن کو وہ ناپسند کرتے تھے اور اپنے ان اعمال کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ ہم ان کے بہت ہی ماہرین ہیں۔ یہ مومنین کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور یوں بظاہر ان کی یہ سازشیں غبارے کی طرح پھولی ہوئی ہوتیں اور طوفان کی طرح آتیں لیکن چشم زدن میں ختم ہوجاتیں۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟

آخر میں کہا جاتا ہے کہ اللہ ستار ہے ، لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو کہ اپنے اوپر اسلام کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو ، اس کو اللہ اتار سکتا ہے اس لیے اب بھی باز آجاؤ۔ ام حسب ۔۔۔۔ اللہ اضغانھم (29) ولو نشاء لا ۔۔۔۔۔ یعلم اعمالکم (30) ولنبلونکم حتی ۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (31) (47 : 29 تا 31) “ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟” ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو۔ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لوگے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں ”۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو۔ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لوگے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔

منافقین کو اپنی فنی مہارت پر پورا اعتماد تھا۔ اور وہ بالعموم اپنی سازشوں کو مسلمانوں سے چھپانے میں کامیاب رہتے تھے۔ قرآن مجید ان کو بتا تا ہے کہ یہ ان کی بہت ہی احمقانہ سوچ ہے۔ آخر خدا ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام بھیدوں کو کھول سکتا ہے۔ اور مسلمانوں کو بتا سکتا ہے کہ تمہارے دلوں میں ان کے خلاف کس قدر بغض بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولو نشاء لا رینکھم فلعرفتھم بسیمھم (47 : 30) “ ہم چاہیں تو انہوں تم کو آنکھوں دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو ”۔ اگر ہم چاہیں تو ان کی ایک ایک شخصیت تم کو بتا دیں ، یہاں تک کہ تم ایک ایک کو ان کی علامات سے پہچان لو۔ یہ آیت اس سے پہلے کی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے نام بھی نبی کریم ﷺ کو بتا دئیے تھے لیکن بہرحال ان کے لہجے ، چالاکی ، پیچ دار باتوں اور آپ کے خطاب سے غلط استدلال کرنے کی عادت کی وجہ سے آپ ان کو جانتے تھے۔ ولتعرفنھم فی لحن القول (47 : 30) “ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم جان ہی لوگے ”۔ بات اب صرف اللہ کے علم پر آ کر رکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال کو بھی جانتا ہے اور ان کے محرکات کو بھی جانتا ہے۔ واللہ یعلم اعمالکم (47 : 30) “ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے ”۔ اس سے کوئی بات مخفی نہیں رہتی۔ اب اللہ اسلامی سوسائٹی کو صاف کرنے لئے آزمائش کا اعلان فرماتا ہے۔ یہ آزمائش پوری امت کی ہوگی۔ اس آزمائش کے نتیجے میں صابر اور مجاہد جدا ہو کر ایک طرف آجائیں گے اور ان کی خبریں عام ہوجائیں گی اور اسلامی صف میں کوئی مشکوک آدمی نہ رہے گا اور منافقین اپنی منافقت نہ چھپا سکیں گے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف لوگ ہیں۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں

ولنبلوا نکم حتی ۔۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (47 : 31) “ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں اور تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہے ”۔ اللہ تو تمام نفوس کے خفیہ خزانوں سے بھی واقف ہے۔ اور زیر زمین مع دنیا سے بھی واقف ہے۔ اور انسانوں کی خفیہ اور چھپائی ہوئی باتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ اور جو معاملات ہونے والے ہیں ، ان کو اس طرح جانتا ہے جس طرح وہ عملاً ہوچکے ہوں۔ اب اللہ مزید مجاہدین اور صابرین کو کس طرح جاننا چاہتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسانوں کے ساتھ اتنا ہی معاملہ کرتا ہے جس قدر ان کی قوت ، ان کی طبیعت اور ان کی استعداد کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ انسان اس طرح نہیں جانتے جس طرح اللہ جانتا ہے۔ لہٰذا یہ علم اور ظہور انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جانیں کہ مجاہدین اور صابرین کون ہیں ؟ اور پھر ان کو اس علم و ظہور سے نفع ہو۔ آزمائش خواہ مشکلات میں ہو یا خوشحالی میں ، نعمتوں میں ہو یا مشقتوں میں ہو ، ہاتھ کھلے کرنے میں ہو یا معیشت کی تنگی میں ہو ، خوشی میں ہو یا غم میں ہو ، اس آزمائش کی وجہ سے نفوس کے اندر کی خفیہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ آزمائش کی وجہ سے لوگوں پر صلاحیتوں کا اظہار ہوجاتا ہے۔ یہاں اللہ کے علم سے مراد وہ ظہور ہے جو لوگوں کو ابتلا میں ڈالنے سے ہوجاتا ہے۔ اور لوگوں کی صلاحتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں ۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے ) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی قابلیت کا معلوم ہوجانا ، جسے لوگ سمجھ سکیں ، لوگوں کے شعور اور ان کی شخصیت پر اس کا اثر ہوتا ہے اور یوں اللہ کی حکمت اپنا کام کرتی ہے۔ لیکن اللہ کا حکم یہی ہے کہ انسان آزمائش طلب نہ کرے اور یہ دعا کرے کہ اللہ اپنی آزمائشوں سے بچائے اور عافیت اور رحمت میں رکھے۔ لیکن اگر آزمائش آجائے تو صبر کرے اور اس کو معلوم ہو کہ اس میں اللہ کی حکمت کام کر رہی ہے اور انسان اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی مشیت کے حوالے کر دے اور اللہ پر بھروسہ کرے کہ آزمائش کے بعد اللہ کی رحمت اور عافیت نصیب ہوگی۔ ایک بڑے عابد اور صوفی حضرت فضیل (رح) سے روایت ہے کہ جب ان پر یہ آیت پڑھی جاتی تھی تو وہ روتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے۔ الھم لا تبلنا فانک ان بلوتنا فضحتنا وھنکت استارنا وعذبتنا “ اے اللہ ، ہمیں آزمائش میں نہ ڈال ، اگر تو نے ہمیں آزمائش میں ڈالا تو ہمیں شرمندہ کر دے گا ، ہماری پردہ دری کر دے گا اور ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے گا ”۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی ، در حقیقت وہ اللہ کا کو ئی نقصان بھی نہیں کرسکتے ، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا۔

درس نمبر 243 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا آخری سبق ہے۔ اس کا آغاز ہوتا ہے اس آیت سے : ان الذین کفروا وصدوا ۔۔۔۔۔۔۔ لھم الھدی (47 : 32) “ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی۔۔۔۔ ” یہ کون لوگ ہیں ؟ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے متعلق اس سورت کے آغاز میں بھی اسی انداز سے بات کی گئی تھی یعنی مشرکین مکہ ، کیونکہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے دعوت اسلامی کے مقابلے میں متکبرانہ رویہ اختیار کیا ، رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے آخر تک روکتے رہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام کفار ہوں اور اس عتاب میں ہر وہ شخص آتا ہے جو کافر ہے اور یہ رویہ اپنائے ہوئے ہے ، خواہ وہ مشرک ہے ، یہودی ہے یا منافق ۔ ظاہراً یہ کام کر رہا ہے یا خفیہ کر رہا ہے ۔ سب کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ تم کچھ بھی نہ کرسکو گے لیکن پہلا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال اس دوسرے اور آخری سبق میں باقی باتوں کے مخاطب مسلمان ہیں۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کو جاری رکھیں۔ اور اس میں کوئی دیر نہ کریں اور یہ تجویز بھی نہ دیں کہ کفار کے ساتھ امن و سالمیت کا رویہ مزید اختیار کیا جائے۔ کیونکہ کفر نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔ اور یہ مصالحت کسی بھی مصلحت کے پیش نظر نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کمزوری کی وجہ سے ، کسی رشتہ داری کی وجہ سے ، کسی مفاد کی وجہ سے ، کسی مالی تاوان کے ڈر کی وجہ سے ۔ جہاں تک مالی تاوان کا تعلق ہے اللہ اسی قدر مال کا مطالبہ فرماتا ہے جس قدر انسان کی استطاعت میں ہو۔ اللہ نے انسان کے فطری بخل کو اس سلسلے میں مدنظر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اس دعوت کی ذمہ داریاں نہ ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دے گا۔ اور کوئی دوسری جماعت اٹھا دے گا۔ جو یہ ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کریں گے۔ اور جو اس کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھکمی ہے اور اس سورت کے مضامین اور فضا کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ اور اس وقت مومنین کے صفوں میں جو حالات پائے جاتے تھے ، یہ دھمکی ان کا بہترین علاج بھی تھی۔ کیونکہ اس وقت منافقین کے علاوہ بھی ایسے لوگ تھے جو عافیت پسند تھے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت فدائی ، مخلص ، بہادر اور مشہور تھی اس بات میں روایت بھری پڑی ہیں۔ اجازت قتال کے وقت چونکہ ہر قسم کے لوگ موجود تھے اور قرآن کریم ان کی تربیت کر کے ان کو اعلیٰ مراتب تک لے جا رہا تھا اس لیے یہاں یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے ۔ نہایت ہی تاکیدی فیصلہ ۔ اللہ کا وعدہ ہے جو واقع ہونے والا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روک کر کھڑے ہوگئے۔ سچائی کے راستے میں وہ جم کر بیٹھ گئے کہ لوگوں تک یہ سچ بات پہنچنے نہ پائے۔ اپنی قوت ، اپنا مال اور اپنے تمام وسائل اس میں جھونک دئیے کہ اسلام پھیلنے نہ پائے۔ پھر وہ ہر مقام پر رسول اللہ جھگڑنے لگے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مخالفت کی۔ آپ کے لائے ہوئے نظام زندگی کی مخالفت کی اور آپ کی صفوں کی مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے یا جنہوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد دین اسلام کی مخالفت کی۔ اسلامی نظام زندگی اور نظام شریعت کی مخالفت کی۔ اور سنت نبوی ﷺ اور دعوت اسلامی پر قائم لوگوں کی مخالفت کی۔ اور یہ انہوں نے اس حال میں کی۔ من بعد ما تبین لھم الھدی (47 : 32) “ جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی ”۔ اور ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حق ہے۔ لیکن یہ لوگ ہوائے نفس اور عناد کی وجہ سے اندھے ہوگئے۔ اور مفادات اور مصلحتوں نے ان کو آخرت کے مفاد کے مقابلے میں دنیا کے مفادات کی طرف مائل کردیا۔ اللہ کا تاکیدی فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں یہ ہے اور یہ فیصلہ یقیناً نافذ ہونے والا ہے کہ۔ لن یضروا اللہ شیئا (47 : 32) “ درحقیقت یہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے ”۔ یہ لوگ اس قدر کمزور اور حقیر ہیں کہ یہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہی نہیں ، لہٰذا مقصود اس کی نفی کرنا نہیں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دین ، اللہ کے نظام شریعت اور اللہ کے داعیوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وہ اللہ قوانین قدرت اور نظام فطرت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اگرچہ وہ بہت ہی زور آور ہوں۔ اگرچہ وہ ایک وقت تک بعض کمزور مسلمانوں کو ایذا دیتے رہے ہوں۔ انجام ان کا کیا ہوگا ؟ وسیحبط اعمالھم (47 : 32) “ بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا ”۔ یوں ان کی تمام سازشیں ختم ہو کر رہ جائیں گی اور نیست و نابود ہوں گی ، جس طرح ایک ہٹا کٹا بیل زہریلی گھاس چرنے کے بعد پھول جاتا ہے اور پھر ڈھیر ہوجاتا ہے۔ اس فضا میں جس کے اندر ان لوگوں کو دھمکی دی گئی جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روکی اور رسول اللہ ﷺ اور دین کے داعیوں کے ساتھ دشمنی کی ، خود مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں اور اپنے اعمال کافروں کی طرح ضائع نہ کریں۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو۔

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 33) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو ”۔ اس سخت ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر بھی ایسے لوگ تھے جو مکمل اطاعت سے گریزاں تھے یا یہ کہ ان پر مکمل اطاعت ذرا بھاری تھی اور بعض قربانیاں ان کو حد سے زیادہ لگ رہی تھیں لیکن اس وقت ایک قوی دشمن کے مقابلے میں یہ ضروری تھیں جس نے اسلام کی راہ روک رکھی تھی۔ اور یہ قوتیں اس وقت ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور تھیں۔ اور ان مسلمانوں کے ان قوتوں کے ساتھ تجارتی ، برادری اور رشتہ داری کے تعلقات بھی تھے۔ اور اس وقت ان سب تعلقات کو کاٹ دینا ان کو مشکل معلوم ہوتا تھا۔ جس طرح اسلامی دعوت اور نظریہ کا تقاضا تھا کہ اب یہ تمام تعلقات کٹ جائیں۔ سچے مسلمانوں پر ان ہدایات کا بڑا شدید اثر ہوا تھا ۔ وہ ایک بار تو ان دھمکیوں کے نتیجے میں کانپ اٹھے تھے اور وہ بروقت ڈرتے تھے کہ شاید ان سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہوجائے جس سے ان کے اعمال ہی اکارت جائیں۔ امام احمد ابن نصر المروزی نے کتاب الصلوٰۃ میں روایت کی ہے۔ ابو قدامہ سے ، انہوں نے وکیع سے ، انہوں نے ابو جعفر رازی سے انہوں نے ربیع ابن انس سے ، اور انہوں نے ابو العالیہ سے ، جو کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے رفقاء یہ خیال کرتے تھے کہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لینے کے بعد کوئی گناہ مضر نہیں ہے جبکہ شرک کے ساتھ کوئی عمل مفید نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت ناز ہوئی۔ اطیعوا اللہ ۔۔۔۔ اعمالکم (47 : 33) “ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو ”۔ اس کے بعد وہ ڈرنے لگے کہ کوئی گناہ دوسرے اعمال کو برباد نہ کر دے۔ حضرت عبد اللہ بن المبارک سے منقول ہے کہ ، بکر بن معروف نے ، مقاتل ابن حیان سے ، انہوں نے نافع سے ، اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے ، روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : “ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھی یہ خیال کرتے تھے نیکیاں سب کی سب مقبول ہوں گی ، یہاں تک کہ آیت۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم (47 : 33) “ اطاعت کرو اللہ کی ، اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو ” ۔ نازل ہوئی ، تو ہم نے سوچا کہ وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اعمال کو ضائع کر دے گی۔ تو ہم نے کہا کہ کبائر اور موجبات اور فواحش ہوں گے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔۔۔ لمن یشاء “ اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا کسی کے جو گناہ چاہے ، معاف کر دے ”۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے ایسا کہنا چھوڑ دیا تاہم کبائر گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کے انجام سے ڈرتے تھے۔ فواحش کے مرتکبین سے ڈرتے تھے اور جو ان سے بچتا ہو ، اس کے انجام کے بارے میں پر امید تھے۔ ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ سچے مسلمان ان نصوص کو کس طرح لیتے تھے۔ وہ کس طرح مضطرب اور چوکنے ہوجاتے تھے۔ وہ کس طرح کانپ اٹھتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے ، وہ کس طرح محتاط رہتے کہ وہ کہیں ان کی زد میں نہ آجائیں۔ وہ کس طرح ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ ان کی زندگی نصوص الٰہی کے مطابق ہو ، اور وہ اس تیز احساس کے ساتھ آیات الٰہیہ کو لیتے تھے ، اس لیے وہ اس انداز کے مسلمان تھے۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا۔

اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں اور آپ کی اطاعت سے دور ہوجاتے ہیں اور ایسے رویے پر اصرار کرتے ہیں اور اس دنیا سے کافر ہو کر مرجاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔ ان الذین کفروا ۔۔۔۔۔ یغفر اللہ لھم (47 : 34) “ کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا ”۔ مغفرت کے لئے اس دنیا میں ہر کسی کو مہلت دے دی گئی ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کافروں اور گناہگاروں پر اس وقت تک کھلا ہے جب تک سکرات موت شروع نہیں ہوجائے۔ جب روح حلقوم تک آن پہنچے تو اس وقت خالص آخری لمحات میں تو بہ کا دروازہ بند ہوتا ہے اور اس وقت موقعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے۔