Ayahs 44:34–42آیت نمبر 34 تا 42
مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔
لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر انسانی نشوونما کا ایک مرحلہ ہے۔ اس کی ایک خاص حکمت ہے اور ایک متبعین مقصد ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کے پہلے مرحلے میں کس نے کیا کیا۔ جو اچھے لوگ ہیں اور جنہوں نے دنیا کی زندگی کے اس مرحلے میں اچھا رویہ اختیار کیا ان کو اچھا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے یہاں برا رویہ اختیار کیا ان کو اس کا بدلہ دیا جائے اور نہایت ہی ناپاک اور غلیظ زندگی دی جائے ، اگر اچھوں کو جزائے خیر نہ دی جائے اور بروں کو مناسب سزا نہ دی جائے تو یہ حق بات نہ ہوگی۔ اس حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس پوری زمین پر موجودہ مرحلہ حیات ختم ہونے کے بعد حشر ونشر ہو اور حساب و کتاب ہو۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ کائنات کی اس پوری سکیم کو ختم کر کے ، محض چند لوگوں کے مطالبے پر چند افراد یا ایک گروہ کے حشر و نشر کا ڈراما کیا جائے اور ان کے مطالبے کو پورا کیا جائے جبکہ ان کو موت کے بعد اٹھائے جانے پر یقین بھی نہیں ہے جس کی اطلاع ان کو تمام رسولوں نے بالاتفاق دی ہے۔ اور اس زندگی پر اچھی طرح غوروفکر کرنے سے بھی عقل اس کا تقاضا کرتی ہے اس طرح اللہ کے نظام تخلیق میں بھی اگر غور کیا جائے تو انسان قیام قیامت پر یقین کرسکتا ہے۔
قبل اس کے کہ ان کو اس پوری کائنات کے اساسی نقشے پر غوروفکر کی دعوت دی جائے ۔ ان کے دل و دماغ کو ایک ایسے تاریخی واقعہ کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جس کے وقوع سے وہ اچھی طرح باخبر تھے ، یعنی قوم تبع اور ملوک حمیر کے واقعات ۔ یہ تاریخ اس وقت کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم تھی اس لیے اس کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ ذرا ان کے دلوں کے اندر خدا کی پکڑ کا ڈرتا زہ ہوجائے۔
اھم خیر ام ۔۔۔۔۔ کانوا مجرمین (44 : 37) ” یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے ان کو اسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے “۔ اس یاد دہانی کی فضا میں اور کانپتے ہوئے دلوں اور اللہ کی پکڑ کے تصور کی اس فضا میں ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات کی تخلیق کا نقشہ کیا ہے۔ اس کائنات کے اندر بالا رادہ نہایت ہی گہری سچائی رکھی گئی ہے اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ حشر و نشر لابدی ہے۔
وما خلقنا ۔۔۔۔۔ لعبین (44 : 38) ما خلقنھما ۔۔۔۔۔۔ یعلمون (44 : 39) ان یوم ۔۔۔۔۔۔ اجمعین (44 : 40) یوم لا یغنی ۔۔۔۔۔ ینصرون (44 : 41) الا من ۔۔۔۔۔ الرحیم (44 : 42) ” یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ان سب کے اٹھائے جانے کے لئے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے ، وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی ، سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اشارہ ہے کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں ، اس کے اور مسئلہ حشر ونشر کے درمیان ایک لطیف ربط ہے اور انسانی فطرت اس کا ادراک اس وقت کرسکتی ہے جب وہ اس کائنات کی تخلیق پر گہرا غورو فکر کرے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کا جو نقشہ اور اسکیم ہے۔ وہ نہایت پیچیدہ اور گہری ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کے اندر تمام باریکیاں ایک مقصد اور ارادے کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔ یہ تخلیق بڑی مربوط ہے ۔ اور اس کے اندر ہر چیز ایک مقدار مطلب کے مطابق ہے ، نہ اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہر چیز اپنے ماحول کے اندر پوری طرح فٹ ہے۔ جس چیزکو جس شکل و صورت میں پیدا کیا گیا ہے ، اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح ضروری ہے اور یہ بات بعید از امکان ہے کہ اس قدر پیچیدہ ٹیکنالوجی محض بخت و اتفاق سے پیدا ہوگئی ہو اور اس پوری کائنات میں جو ہولناک حد تک عظیم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام باتوں پر اچھی طرح غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا بھی کوئی بڑا مقصد ہے اور وہ صرف اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور کہ حشر ونشر کو تسلیم کیا جائے۔ یہ کائنات حق پر قائم ہے ، اس میں کوئی چیز باطل نہیں ہے ، اس کا انجام ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا۔ یہ انجام اور مقصد صرف موت سے پورا نہیں ہوتا کیونکہ موت تو اس دنیا کا انجام ہے۔ اس دنیا کے مختصر سفر کا اختتام ہے۔ اور حشر ونشر تو محض منطقی حوالے سے بھی ضروری ہے کیونکہ جب تخلیق سچائی پر ہے تو نیکی اور بدی کا فیصلہ بھی سچائی پر ہونا چاہئے۔ انسان کے اندر آغاز حیات سے صلاح و فساد کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اور وہ یہاں با صلاح اختیار کرتا ہے یا فساد لہٰذا اسے صلاح کا انعام اور فساد کی سزا ملنی چاہئے۔
یہ کہ انسان کو نیکی اور بدی کی صلاحیت دی گئی ہے اور یہ کہ اللہ نے انسان کو اس طرح عبث نہیں پیدا کیا ہے ، لہٰذا نیک اور بد کا انجام ضروری ہے اور یہ انجام اس دنیا کی مختصر زندگی کے بعد ہونا چاہئے ۔ لہٰذا حشر و نشر اس کائنات کی تخلیق کے نقشے کے اندر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ کائنات کو عبث نہیں پیدا کیا گیا ، قیامت کا ذکر آتا ہے۔
ان یوم ۔۔۔۔۔۔ اجمعین (44 : 40) یوم لا یغنی ۔۔۔۔۔ ینصرون (44 : 41) الا من ۔۔۔۔۔ الرحیم (44 : 42) ” ان سب لوگوں کے اٹھائے جانے کے لئے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے ، وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی ، سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے “۔
قیامت کی یہ بات اپنی ماقبل کی باتوں اور آیات سے نہایت مربوط طور پر یہاں لائی گئی ہے ۔ حکمت اور حق کا تقاضا یہ ہے کہ ایک یوم الفصل ہو ، جس میں لوگوں کے باہم فیصلے بھی چکائے جائیں اور ضلالت و ہدایت کے فیصلے بھی کئے جائیں ، نیکی کو عزت بخشی جائے اور برائی اور شر کو سزا دی جائے ، اور لوگ تمام ارضی سہاروں سے بےنیاز ہوں ، عزیز و اقارب کا وہاں کوئی آسرا نہ ہو۔ وہ اکیلے اکیلے وہاں جائیں جس طرح خالق نے انہیں پیدا کیا ہے۔ خالق وہاں ان کو اس کی جزاء دے جو انہوں نے کمایا۔ کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو ، کوئی ان پر رحم کرنے والا نہ ہو ، بس صرف اللہ ، قادر مطلق عزیز و رحیم ہی کا بھروسہ اور فضل ہو ۔ کیونکہ اسی نے ان کو اس زمین پر لا کر کام میں لگایا اور وہی ہے جو ان کو سزا دے گا۔ اور یہاں ان کے بسائے جانے اور اٹھائے جانے کے درمیان جو مختصر زندگی ہے ، یہ ابتلا اور آزمائش کی زندگی ہے۔
یوں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں اور زمین و آسمان کی ساخت کے انداز میں سچائی ودیعت کردہ ہے اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد ہے۔
٭٭٭٭
ان باتوں کے بعد اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر ، سرکشوں کی سزا اور اطاعت کیشوں کے لئے انعام ، یہ ایک نہایت ہی خوفناک اور شدید منظر ہے اور اس پوری سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
Ayahs 44:43–57آیت نمبر 43 تا 57
یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔
خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت بےدردی کے ساتھ۔ کس کر باندھو اسے اور پھر رگیدتے ہوئے جہنم کی طرف لے جاؤ، کوئی نرمی اور کوئی باعزت گرفتاری نہ ہو۔ اور ان کے سروں پر اس قدر سخت گرم پانی انڈیل دو کہ ان کو بھون کر رکھ دے ، اس سختی ، کھینچنے ، دھکیلنے ، رگید نے گرم پانی سے جلانے اور داغ دینے کے ساتھ جہنم کے اندر گراؤ اور پھر یہ بھی کہہ دو :
ذق انک انت العزیز الکریم (44 : 49) ” چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو “۔ جو لوگ عزت اور شرافت کے بغیر عزیز وکریم بنتے ہیں ان کی سزا ویسی ہی ہے ۔ تم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہی کچھ کرتے تھے۔ تم اس دن میں شک کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور ٹھٹھے کرتے تھے۔
اس منظر میں ایک طرف تو پکڑ دھکڑ ، باندھنا اور داغنا ہے اور گرم پانی گرانا ہے اور دوسری طرف وہ حقیقی شریف و کریم لوگ ہیں جو متقین تھے ، جو ہر وقت اس دن سے ڈرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت ہی امن کے مقام میں کھڑے ہیں ، نہ در ہے اور فریاد و فغاں ہے نہ کھینچا تانی ہے اور نہ دھکم پیل ہے ، اور نہ ان پر سختی اور گرم پانی گرانا ہے۔ بلکہ وہ نہایت ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ باغات میں جہاں ہر طرف چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ نرم و باریک ریشم اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک محفل ہیں۔ پھر ان کو وہاں ایسی بیویاں دی جائیں گی جو نہایت ہی خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔ یوں یہ نعمت اور فرحت تمام ہوگی اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقیم ہوں گے جو بھی وہاں چاہیں گے ، ملے گا۔
یدعون فیکھا بکل فاکھۃ امنین (44 : 55) ” وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے “۔ یعنی ان کو ان نعمتوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ موت ہوگی جبکہ ایک بار وہ مرچکے ۔ اور اس کے سوا کوئی اور موت ہوگی ہی نہیں۔ مشرکین تو یہ کہتے تھے کہ یہی پہلی موت ہے اور حشر و نشر نہ ہوگا ، اس کے جواب میں ہے کہ ٹھیک ہے یہی پہلی موت ہے لیکن حشر ونشر ہوگیا ، اب کوئی موت نہیں ، اگرچہ تم موت چاہتے ہو۔ اور اللہ نے اہل ایمان کو جہنم سے بچا لیا ، محض اپنے فضل وکرم سے کیونکہ نجات تو اللہ کے فضل وکرم سے موقوف ہے۔
فضلا من ربک ذلک ھو الفوز العظیم (44 : 57) ” اور اللہ اپنے فضل سے ان کو موت سے بچائے گا ، یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اور نہایت ہی عظیم کامیابی !
اس شدید منظر کے بعد اب سورت کا خاتمہ اسی بات پر ہوتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ یہ قرآن اور یہ رسالت اللہ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے اور اس نعمت کا انکار اور رسول کی تکذیب کے نتائج سے متنبہ کیا جاتا ۔
Ayahs 44:58–59آیت نمبر 58 تا 59
یہ اس سورت کا خاتمہ ہے ، اس میں اس پوری سورت کی فضا اور اس کے موضوع بحث کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ یہ خاتمہ اس کے آغاز اور اس میں بحث کی جو لائن اختیار کی گئی ہے اس کے مطابق ہے۔ آغاز ذکر کتاب ، نزول کتاب اور غرض نزول یعنی ڈرانے اور نصیحت کرنے سے ہوا تھا۔ اور اس کے سیاق میں اس عذاب کی تصریح کی گئی تھی۔ جو ان مکذبین کے انتظار میں ہے۔
یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) ” جس دن یہ بڑی ضرب لگائیں گے ، وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے “۔ اب یہ خاتمہ یوں ہے کہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبانی قرآن مجید تمہارے لیے آسان کردیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایک عربی بولنے والے رسول پر نازل کیا گیا ہے۔ تم اس کو سمجھ سکتے ہو ، وہ آپ کو سمجھا سکتے ہیں ، اگر تم نے اسے تسلیم نہ کیا تو ایک نہایت ہی خوفناک انجام تمہارے انتظار میں ہے۔
فارتقب انھم مرتقبون (44 : 59) ” تم بھی انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں “۔
٭٭٭٭٭٭