Ayahs 35:27–28درس نمبر 203 ایک نظر میں
یہ سبق اس کائنات کی کتاب اور اللہ کی کتاب کے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ کتاب کائنات کا مطالعہ اور اس کے خوبصورت اور عجیب صحائف پر ایک نظر ہے جو مختلف اقسام اور مختلف موضوعات سے متعلق ہیں۔ جن کے پھل قسما قسم ہیں ، جس کے پہاڑ رنگا رنگ ہیں۔ جن کے انسان ، حیوان اور زمین پر چلنے والے جانور مختلف النوع اور مختلف الاشکال ہیں۔ اس خوبصورت کائنات کا یہ عجیب مطالعہ بہت ہی دلچسپ ہے اور پوری کائنات اس کا موضوع ہے۔ پھر اللہ کی کتاب منزل کا مطالعہ اور اس کے اندر جو تعلیمات ہیں اور جو سچائیاں ہیں اور جو اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے پھر امت مسلمہ کا سابقہ امتوں کا وارث بنایا جانا اور وارثوں کے درجے اور اہل ایمان کے لیے جو عفو و مغفرت اور انعامات تیار کیے گئے ہیں ۔ جنتوں کے مناظر اور جہنم کے مناظر اور کافروں کے حالات ، اور آخر میں یہ قرار داد کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے
درس نمبر 203 تشریح آیات
27 ۔۔۔ تا۔۔۔ 38
الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور (27 – 28) ” “
یہ اس کائنات کی ایک جھلک ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا سرچشمہ اور کتاب کائنات کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس جھلکی میں پوری زمین کو دکھا دیا گیا ہے اور پوری زمین کے رنگ ڈھنگ ظاہر کیے گئے ہیں۔ پھلوں کے رنگ و اقسام ، پہاڑوں کے رنگ اور ان کی انواع ، لوگوں کے رنگ اور شکلیں ، حیوانات اور مویشیوں کی اقسام و انواع ، چند الفاظ کے اندر پوری زمین کے خدوخال ضبط کر دئیے گئے ہیں جس میں زندہ اور غیر زندہ سب چیزوں کو لپیٹ لیا گیا ہے ۔ چند الفاظ کے اندر خداوند قدوس کی اس نمائش کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو بہت ہی دلکش ہے اور یہ دلکشیاں پوری زمین پر پھیلی ہوئی ہیں۔
آغاز میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارشیں ہو رہی ہیں۔ اور ان بارشوں کے نتیجے میں اس زمین پر رنگا رنگ پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ مختلف رنگوں کی نمائش مقصود ہے اس لیے پھلوں کے ذکر کے بجائے ان کے رنگ دکھائے جاتے ہیں۔
فاخرجنا بہ ثمرت مختلفا الوانھا (35: 27) ” اور پھر اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں “۔ پھلوں کے رنگ بھی درحقیقت ایک عظیم نمائش گاہ ہے اور اس میں رنگوں کی جو اسکیم ہے ، اس کا کوئی حصہ ، دنیا کے تمام نقاش مل کر بھی تیار نہیں کرسکتے۔ ایک قسم کے پھلوں کا رنگ دوسری اقسام سے مختلف ہے۔ بلکہ ایک قسم کے پھلوں میں بھی مختلف رنگ ہیں اور ایک قسم کا رنگ دوسروں سے مختلف ہے۔ اور ہر دانے کا رنگ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔
اور پھلوں کے رنگ کے بعد پھر پہاڑوں کے رنگ ، اور پھلوں کے رنگوں اور پہاڑوں کے رنگوں کے درمیان بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا لیکن اگر حقیقی مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ایک قدرتی ربط موجود ہے۔ پہاڑوں کے رنگوں اور پھلوں کے رنگوں کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہے۔ بلکہ پتھروں اور پہاڑوں کے رنگ بھی بعض اوقات پھلوں کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں۔
ومن الجبال جدد۔۔۔۔۔ وغرابیب سود (35: 27) ” پہاڑوں میں سفید ، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں “۔ جدد کے معنی راستے اور شاخیں ہیں یعنی دھاریاں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ ” جدد بیض “ کا رنگ بھی مختلف ہے اسی طرح ” جدد حمر “ کا رنگ بھی مختلف ہے۔ یعنی ہر قسم یعنی سفید و سرخ کا رنگ بھی مختلف ہے اور بعض دھاریاں شدید درجے کی سیاہ ہیں۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ دی جاتی ہے کہ ایک رنگ کے پتھر مثلاً سرخ وسفید پھر آپس میں مختلف ہیں۔ پہاڑوں اور پتھروں کے یہ مختلف رنگ ، پھلوں کے مختلف رنگوں کے بعد ذکر ہوئے۔ اس سے انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور ذوق جمال تیز ہوجاتا ہے۔ یوں یہاں جمال اور خوبصورتی کو بھی تجریدی آرٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جو بیک وقت پتھروں میں بھی ذوق نظر کے لیے دامن کش ہے اور پھلوں میں بھی ذوق نظر کو کھینچتا ہے جبکہ پھلوں میں اور پتھروں میں بظاہر کوئی نسبت نہیں ہے۔ لیکن تجریدی ذوق جمال ہر جگہ خوبصورتی کو دیکھ لیتا ہے اور قرآن کی یہ خصوصیت قابل التفات ہے۔
پھر لوگوں کے رنگ ؟ یہ انسانوں کے عام رنگوں تک محدود نہیں ، بلکہ ایک رنگ کے مختلف لوگوں کے رنگ اور ہر ایک کی بناوٹ کے درمیان فرق ہے بلکہ دو لوام بھائی بھی رنگ میں مختلف ہوتے ہیں۔ انسانوں سے آگے پھر پرندوں ، چرندوں اور درندوں کے رنگ ، دابہ ہر حیوان کو کہا جاتا ہے جو زمین پر چلتا ہے۔ انعام اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکریوں کے لیے آتا ہے۔ دواب کے لفظ کے بعد انعام کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ انسان ان سے زیادہ مانوس ہے۔ ان کے رنگوں کی اسکیم بھی پھلوں اور پتھروں کی طرح حیران کن ہے۔
اس کائنات کے رنگوں کا یہ البم عجیب و غریب ہے۔ قرآن کریم اس کی ورق گردانی کرتا ہے اور انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ چشم بینا کے ساتھ رنگوں کی اس کائناتی اسکیم پر غور کرے۔ صرف اہل علم اور اہل ذوق ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اہل علم ہی حکمت اور قدرت خداوندی کو پاکر اللہ کی عظمت کا خیال کرکے اس سے ڈرسکتے ہیں۔
انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35: 28) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں “۔ کتاب کائنات کے جو اوراق قرآن مجید نے الٹے ہیں وہ اس کے بہت کم اوراق ہیں اور علماء دراصل اس کائنات پر غور کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے علماء ہی دراصل اللہ کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی صفتوں کے آثار سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور اللہ کی معرفت کا ادراک اس کی قدرت کے آثار سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو دیکھ کر اس کی عظمت کا شعور رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ سے صحیح معنوں میں ڈرتے ہیں۔ وہ اس کی حقیقی بندگی اس کے خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اللہ کے بارے میں ان علمائے کائنات کا شعور مہمل اور پیچیدہ شعور نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے بارے میں ان کو گہری معرفت حاصل ہوتی ہے۔
قرآن کے یہ صفحات اللہ کی کتاب کا نمونہ ہیں جبکہ رنگ اور دوسرے کائناتی عجائبات اس کائنات کا نمونہ ہیں اور ان کی حقیقت دراصل علمائے کائنات ہی مانتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حقیقی علم کتاب رکھتے ہیں اور جو حقیقی تکوینی علم بھی رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی معرفت براہ راست رکھتے ہیں۔ ایسا علم جو ان کے دل کا شعور ہو اور جس کے ذریعہ ان کا دل متحرک ہو۔ جس کے ذریعہ وہ اس کائنات کے خوبصورت رنگوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ، اور ان سے خوشی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
اس کائنات کی تشکیل و تخلیق میں حسن و جمال کا عنصر اصل مقصود ہے اور اس حسن کا کمال یہ ہے کہ ہر چیز اپنے فرائض منصبی اپنے طبیعی جمال اور حسن کے واسطے سے ادا کرتی ہے۔ یہ پھول اپنے حسن و جمال اور اپنی نہایت ہی اچھی خوشبو کی وجہ سے شہد کی مکھیوں اور پروانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مکھیوں اور پروانوں کی ڈیوٹی پھولوں کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ مادہ اور نر پھولوں کے درمیان ملاپ کرائیں تاکہ پودوں کے ساتھ پھل لگیں۔ یوں یہ پھول اپنی خوبصورتی اور حسن و جمال کے ذریعے یہ کام کرواتے ہیں۔ مادہ اور نر کے درمیان حسن و جمال ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہوتا ہے اور اس طرح دو صنفیں اپنا اپنا فریضہ منصبی اور طبیعی ادا کرتے ہیں۔ یوں تمام اشیاء فریضہ طبیعی حسن و جمال کے ذریعے سر انجام دیتی ہیں۔ پس جمال اس کائنات کی اسکیم میں مقصود بالذات ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کائنات کے حسن و جمال کے اظہار کیلئے کتاب الٰہی جابجا انسانی نظر کیلئے دامن کش ہے۔
ان اللہ عزیز غفور (35: 28) ” بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ زبردست ہے جس نے یہ اشیاء پیدا کیں اور وہ جزاء و سزا بھی دے سکتا ہے۔ وہ غفور ہے اور جو لوگ اس کی اطاعت اور خوف و خشیت میں تقصیر کرتے ہیں وہ ان کو معاف کرتا ہے۔ نیز جو لوگ اللہ کی صنعت کے عجائبات میں غور نہیں کرتے وہ ان کو بھی معاف کرتا ہے۔
Ayahs 35:29–30اب صفحات کائنات سے روئے سخن صفحات کتاب الٰہی کی طرف پھرجاتا ہے کہ جو لوگ اس کی تلاوت کرتے ہیں ان کے پیش نظر کیا ہے اور ان کے لیے کیا کیا انعامات تیار ہیں۔
ان الذین یتلون۔۔۔۔۔ انہ غفور شکور (29 – 30) ” ۔
تلاوت کتاب سے مراد صرف جبرا یا خاموشی کے ساتھ کلمات کتاب دہرانے کے بجائے کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا۔ جس کے بعد پڑھنے والا کسی حقیقت کا ادراک کرے اور اس سے متاثر ہو۔ اس کے بعد وہ اس پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اس پر ڈھالے۔ یہی وجہ ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد اقامت صلوٰۃ اور انفاق کو ذکر ہوا ، خواہ پوشیدہ ہو یا علانیہ ہو۔ اور اس کے بعد پھر ایسے لوگوں کو یہ امید ہو کہ اس سودے میں انہیں کوئی گھاٹا نہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کو یہ معرفت حاصل ہو کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ ان امور سے بہتر ہے جو ان کے ہاں ہیں۔ ان کو یہ یقین بھی ہو کہ وہ ایک ایسی تجارت کر رہے ہیں جس کا فائدہ محفوظ ہے اور ضمانت شدہ ہے۔ وہ اللہ وحدہ سے معاملہ کیے ہوئے ہیں اور اللہ کے ساتھ کیا ہوا بیوپار بہت ہی نفع بخش ہوتا ہے۔ یہ تجارت اخروی تجارت ہے جس میں منافع کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں لین دین بالکل پورا پورا ہوتا ہے اور اس پر فضل اللہ بھی ہوتا ہے۔ وہ (غفور و شکور ہے) تقصیرات کو معاف کرتا ہے اور بہت ہی شکر کرنے والا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے شکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بہترین جزاء دیتا ہے لیکن لفظ شکر انسان کے لیے حوصلہ افزائی کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہ بات انسان کو شرم دلانے کے لیے اور حیا کرنے کے لیے کہی گئی ہے کہ جب اللہ منعم حقیقی اپنے بندوں کا شکر کرتا ہے تو پھر بندوں کا تو فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے شکر میں رطب اللسان رہیں۔
اس کے بعد اس کتاب کے مزاج کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے اندر حق ہی حق ہے اور اس کے وارث جنتوں کے وارث ہوں گے۔ آگے اس حق کے وارثوں کی بات آرہی ہے۔
Ayah 35:31والذی اوحینا۔۔۔۔۔ لخبیر بصیر (31)
سچائی کے دلائل اس کتاب کے مضامین میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں۔ یہ کتاب اس کائنات کے حقائق کی ترجمان ہے۔ بلکہ یہ کتاب اس کائنات کا وہ صفحہ ہے جو پڑھا جاتا ہے اور پوری کائنات وہ صفحہ ہے جو خاموش ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اللہ نے پہلے بھی بھیجی ہیں کیونکہ دونوں کا مصدر اور سرچشمہ ایک ہے۔ اور سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے ۔ اس میں تعدد نہیں ہوتا۔ اس کتاب کے نازل کرنے والے نے اسے لوگوں کے لیے بھیجا ہے اور وہ لوگوں کا خالق ہے اور وہ اچھی طرح لوگوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز میں ان کی مصلحت ہے اور کس چیز کے ذریعہ ان کی اصلاح ممکن ہے۔
ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر (35: 31) ” بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے “۔ یہ تو ہے حقیقت اس کتاب کی۔
Ayah 35:32یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں :
ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی ہے۔
فمنھم ظالم ۔۔۔۔۔ باذن اللہ “۔ پہلا فریق تعداد میں زیادہ ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے کیا گیا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور ان لوگوں کے اعمال میں سیئات زیادہ ہوں گے اور نیکیاں کم ہوں گی۔ اور دوسرا فریق مقتصد ہوگا۔ یعنی میانہ روی والا۔ اس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ اور تیسرا فریق سابق بالخیرات ہوگا یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔ اس کی نیکیاں برائیوں سے بہت زیادہ ہوں گی لیکن ان تینوں کے ساتھ اللہ کا فضل شامل رہے گا۔ یہ سب لوگ آنے والی آیتوں میں مذکور نعمتوں میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ درجات میں مختلف ہوں گے۔
قرآن کریم نے امت کی کرامت کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس میں کوئی اضافہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اللہ نے اس امت کو برگزیدہ کرلیا ہے اور اس کیلئے جزائے خیر کا اعلان کردیا ہے۔ آیات یہی بتاتی ہیں کہ آخر کار امت کا انجام یہی ہوگا۔ امت سب کی سب اچھے انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کی تفصیلات ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جزاء کو ہم یہاں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کے ان تینوں قسم کے لوگوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے اور وہ اچھی ہی جزاء ہوگی۔
Ayah 35:33ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25)
اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔
یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔
Ayah 35:34وقالوا الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن (35: 34) ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کیا “۔ اور یہ دنیا جہاں ہر شخص قلق و بےچینی ، اور مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتا ہے آخرت کے مقابلے میں حزن ہے جہاں نعیم مقیم ہوگا۔ حشر کے دن کی پریشانی دنیا کی پریشانیوں سے بھی بڑی ہوگی جس سے ان کو نجات مل چکی ہوگی۔
ان ربنا لغفور شکور (35: 34) ” بیشک ہمارا رب معاف کردینے والا اور قدر فرمانے والا ہے “۔ اس نے ہمیں بخش دیا ، ہمارے معتبر اعمال کی قدر کی اور اس پر بہت بڑا معاوضہ دیا۔
Ayah 35:35الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔
پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔
Ayah 35:36اب ذرا دوسری جانب آئیے ! قلق ، اضطراب اور پریشانی اور افراتفری۔
والذین کفروا۔۔ من عذابھا ” “۔ نہ یہ ہے اور نہ وہ۔ ان کے لیے موت بھی نہ ہوگی
کذلک نجزی کل کفور (36) ” “۔ اور اب ہمارے کان ایک کرخت اور سخت آواز سنتے ہیں۔ یہ ایک غوغا ہے جو مختلف آوازوں سے مل کر اٹھ رہا ہے۔ یہ مختلف اطراف سے آنے والی چیخ و پکار ہے۔ ان کی طرف سے جو جہنم میں پھینک دئیے گئے ہیں۔
Ayah 35:37وھم یصطرخون فیھا ۔۔۔۔۔ من نصیر (37) ” “۔
وھم یصطرخون فیھا (35: 37) ” وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے “۔ لفظ (یصطرخون) کے تلفظ کے اندر ہی اس کے تمام مفہوم ثبت ہیں۔ اس کرخت آواز ہی سے اس کا مفہوم ظاہر ہوجاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں :
ربان اخرجنا ۔۔۔۔ نعمل (35: 37) ” اے ہمارے رب ، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے “۔ اب یہ اللہ کی طرف جھک رہے ہیں۔ اعتراف گناہ کر رہے ہیں اور نادم ہیں لیکن جب
چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ دیکھئے کس قدر سخت اور دو ٹوک جواب سنتے ہیں ہم جس کے اندر سرزنش بھی ہے۔
اولم نعمر کم ۔۔۔۔ من نصیر (35: 37) ”(انہیں جواب دیا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا ؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے “۔ تمہیں ہم نے ' عمر دی ' تم نے اس سے استفادہ نہ کیا ، حالانکہ یہ عمران لوگوں کے لیے کافی تھی جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پھر تمہاری مزید سہولت کے لیے انبیاء بھی بھیجے گئے۔ انہوں نے تمہیں ڈرایا مگر تم نہ ڈرے۔ ان آیات میں دو باہم متقابل صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک جانب امن و راحت ہے اور دوسری جانب قلق و اضطراب ہے۔ ایک طرف شکر نعمت کا میٹھا نغمہ ہے اور دوسری طرف چیخ و پکار ہے۔ ایک طرف اعزازو اکرام و استقبال ہے اور دوسری جانب نظر انداز کرنا اور سرزنش کرنا ہے۔ ایک طرف نرم و نازک اور فرحت بخش الفاظ اور دوسری جانب کرخت اور سخت جھڑکی ہے۔ یوں کلام کے دونوں اطراف میں مکمل تقابل ہے ، ہر ہر جزء میں۔ اور سب سے آخر میں تمام مناظر پر ایک آخری تبصرہ آتا ہے ، خصوصاً اہل دین اور امت مصطفوی کو چن لینے اور اسے اعزازو اکرام دینے پر۔
Ayah 35:38ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔
Ayah 35:39درس نمبر 204 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اور یہ وسیع مطالعاتی اسفار پر مشتمل ہے۔ اس میں جابجا دل و دماغ کو تیز احساس دلایا گیا ہے اور اشارات و ہدایات دی گئی ہیں۔ انسان کی تاریخ کی طویل وادی میں دور تک یہ سفر ہے ، جس میں بیشمار نشیب و فراز آتے ہیں۔ بعض اقوام و ملل کیا اور بعض کچھ ہیں۔ پھر زمین و آسمان کا ایک سفر بھی اس میں ہے جس میں سعی بسیار کے باوجود اللہ کا کوئی شریک اور ہمسر نہ ملا۔ پوری کائنات کو چھان مارا۔ پھر ایک سفر اس مطالعہ کے لیے ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے کس طرح تھام رکھا ہے وہ مہین توازن کیا ہے جس کی وجہ سے کائنات کے یہ دیوہیکل کرے باہم نہیں ٹکراتے۔ پھر ایک سفر اس قوم کی وادیوں میں ہے جس نے ہدایت کو ٹھکرا دیا ہے حالانکہ اس سے قبل یہ قوم دعائیں کرتی تھی کہ اگر اس کے اندر کوئی رسول آگیا تو وہ دو امتوں میں سے کسی ایک کے مقابلے میں کم از کم زیادہ ہدایت پر ہوں گے۔ لیکن جب ان کے ہاں رسول بشیر و نذیر بھیجا گیا تو وہ اپنے وعدے کو بھلا بیٹھے اور بےحد نفرت کرنے لگے اپنے مطلوب رسول سے۔ اور پھر انسانی تاریخ کی طویل وادیوں میں ہلاک کردہ اقوام کی سیر جن پر عذاب آئے اور ہلاک ہوئیں لیکن آج کے لوگ ان مصائب سے کوئی عبرت نہیں لیتے اور پھر اس سبق کا خوفناک خاتمہ۔
ولو یواخذ اللہ ۔۔۔۔۔ من دابۃ (35: 45) ” اگر کہیں اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا “۔ لیکن یہ اللہ کا عظیم فضل ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان پر تباہ کن عذاب نازل نہیں فرماتا حالانکہ وہ اس کے مستحق ہیں۔
درس نمبر 204 تشریح آیات
39 ۔۔۔ تا۔۔۔ 45
ھو الذی جعلکم۔۔۔۔۔۔ کفرھم الا خسارا (39) “۔
زمین کے اوپر نسلوں کا آنا اور جانا اور اس کا تسلسل اور ایک نسل کا مٹنا اور دوسری کا اس کی جانشینی کے مقام کو پانا ، ایک مملکت کا ختم ہونا اور دوسری کا قیام عمل میں آنا ، ایک شعلہ جوالہ کا بجھنا اور دوسرے کا اشتعال پذیر ہونا ، ایک قوم کا مٹنا اور دوسری کا ظاہر و غالب ہونا اور صدیوں سے ایسا ہوتے چلے جانا۔ تاریخ کی اس رفتار پر غور و فکر کرنے سے انسان کو بہت سا سبق اور عبرت حاصل ہوتی ہے اور حاضر اقوام یہ سوچتی ہیں کہ انہیں بھی اسی طرح نیست و نابود ہونا ہے۔ ان کے آثار پر بھی آنے والے اسی طرح غور کریں گے جس طرح ہم جانے والوں کے آثار پر غور کرتے ہیں۔ یوں غافل سے غافل شخص بھی ہوش کے ناخن لے سکتا ہے۔ یوں ایک گور کرنے والا یہ غور کرسکتا ہے کہ وہ دست قدرت کیا ہے جس کی یہ سب کرشمہ سازیاں ہیں کہ کسی کی عمر کم ہے اور کسی کی زیادہ۔ آج ایک حکومت ہے اور کل دوسری۔ آج ایک ملک پر قابض ہے اور کل دوسرا قابض ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی جانشین ہے۔ ہر چیز جاری ہے۔ اس کی انتہاء ہو رہی ہے اور باقی ہے صرف نام اللہ کا۔ جو نہ زائل ہوتا ہے اور نہ اس کے لیے انتہاء ہے۔
جو چیز جانے والی ہے اور اس کا وجود ختم ہوتا ہے وہ دائمی نہیں ہوتی۔ اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک مسافر کسی منزل پر رکتا ہے۔ کل اسے آگے جانا ہوتا ہے۔ اور بعد میں دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا۔ اور اس کا انجام یہ ہونے والا ہے کہ اس کا حساب کیا جائے کہ اس نے کیا کیا اور کیا نہ کیا۔ لہٰذا ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی قلیل زندگی میں اچھے کام کرے اور اپنے پیچھے ذکر جمیل چھوڑے۔ کچھ ایسے کام کرے جو اس کے جائے آرام میں اسے کام آئیں۔ یہ ہیں بعض وہ خیالات جو دل و دماغ کی دیواریں پھلانگ کر آتے ہیں لیکن اس وقت جب کوئی اقوام کے عروج وزوال کو دیکھتا ہے۔ طلوع و غروب پر غور کرتا ہے۔ عروج پانے والی قوتوں اور مٹ جانے والی قوتوں کے امور پر غور کرتا ہے اور ایک قوم کو دیکھتا ہے کہ وہ دوسری قوم کی
وارث ہوجاتی ہے۔
ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض (35: 39) ” وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے “۔ اس موثر ، مسلسل اور دیکھے جانے والے منظر کے سائے میں ، انسانوں کو یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت میں کوئی کسی کی جگہ کوئی ذمہ داری نہ اٹھا سکے گا اور کوئی کسی کے مقابلے میں مدافعت نہ کرسکے گا۔ یہاں اشارہ کیا جاتا ہے کہ تم جس طرح منہ پھیرتے ہو ، جس طرح کفر کرتے ہو ، جس طرح گمراہی ہی مبتلا ہوتے ہو ، آخر کار اس کا انجام نہایت ہی گھناؤنا ہوگا
فمن کفر فعلیہ۔۔۔۔۔ کفرھم الا خسارا (35: 39) ” اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے ، اور کافروں کو ان کا کفر اس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب ان پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے۔ کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں “۔ مقت کا مفہوم شدید غضب ہے اور جس پر اللہ کا شدید غضب ہوجائے تو اسے جان لینا چاہئے کہ کس قدر بر انجام اس کے انتظار میں ہے۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
دوسرا سفر آسمانوں کی وسعتوں میں ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ جن لوگوں کو یہ اللہ کا شریک بناتے ہیں آیا ان کے کسی کارنامے کے کوئی آثار زمین و آسمان میں ہیں۔ زمین و آسمان میں تو ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور نہ کچھ آثار ہیں۔
Ayah 35:40قل ارءیتم۔۔۔۔۔ الا غرورا (40) “۔
یہ حجت بالکل واضح ہے اور یہ دلیل محتاج تشریح نہیں ہے۔ یہ زمین اور اس کے اندر جو بھی ہے اس کے ساتھ وہ اللہ کی مخلوق ہے اور یہ آسمان اپنی وسعتوں تک اللہ کا ہے۔ اس زمین کے اندر نظر آنے والی اشیاء میں سے کون سی چیز ایسی ہے جس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی اور دعویٰ کرسکتا ہو یا کسی اور کے بارے میں دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو ہر چیز اس کے دعویٰ کے خلاف پکار اٹھے گی کہ یہ غلط ہے اور ہر چیز پکار کر کہے گی کہ اسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز اپنے اندر ایسے آثار اٹھائے ہوئے ہے کہ وہ کسی مدعی کے دعویٰ کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں کیونکہ یہ آثار کسی انسانی صنعت سے مشابہت ہی نہیں رکھتے۔ یعنی انسانوں نے جس قدر چیزیں بنائی ہیں ان میں نظام قدرت کی مصنوعات کی صفات نہیں ہیں۔
ام لھم شرک فی السموت (35: 40) ” یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے “۔ یہ تو بطریق اولیٰ مسترد ہے۔ جب زمین کو کسی چیز میں وہ شریک نہیں تو آسمان کی کسی چیز میں شریک کیسے ہیں۔ کیونکہ جب زمین کی کسی چیز کے بارے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان نام والیوں کی مخلوق ہے تو آسمان کی کسی چیز کے بارے میں کوئی کیسے دعویٰ کرسکتا ہے۔ غرض نہ یہ الٰہ آسمانوں کی کسی چیز کی تخلیق میں شریک ہیں اور نہ مملکت میں شریک ہیں۔ جو چیز بھی آپ کہیں۔ یہاں تک کہ جن اور ملائکہ کو بھی ایسی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تو ان کا زعم یہ تھا کہ جن آسمانوں کی خبریں چراکر لاتے ہیں اور یہ ان سے یہ خبریں معلوم کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا ہے کہ جن یا ملائکہ آسمانوں میں خدا کے ساتھ شریک ہیں۔
ام اتینھم۔۔۔۔ بینت منہ (35: 40) ” کیا ہم نے ان کو کوئی تحریر لکھ کردی ہے جس کی بنا پر کوئی سند رکھتے ہیں “۔ یہ کہ اللہ نے ان خود ساختہ خداؤں کو کوئی تحریر دی ہو اور انہیں یقین ہو کہ وہ بھی خدا کے ساتھ شریک ہیں یہ مفروضہ بھی غلط ہے۔ یہاں یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استفہام انکاری شرکاء کے بجائے مشرکین سے ہو ، یعنی ان خود ساختہ الہوں پر ان لوگوں کا جو اندھا عقیدہ ہے کیا یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی تحریر پر مبنی ہے۔ جو ان مشرکین پر اتری ہو۔ اس سے یہ اپنا عقیدہ لیتے ہوں اور استدلال کرتے ہوں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے اور نہ وہ کوئی ایسی تحریر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہاں اس تفسیر کے مطابق اشارہ بھی نکلے گا کہ عقائد صرف اللہ کی جانب سے کسی کتاب اور صریح نص ہی سے ثابت ہوتے ہیں اور کتاب اللہ ہی نظریات کے لیے ماخذ ہوسکتی ہے کیونکہ یہی یقینی سرچشمہ ہدایت ہوتی ہے۔ ان کے پاس کوئی منصوص دلیل چونکہ نہیں ہے اس لیے ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کا ہر قوم اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا ہے۔ پس کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ منہ پھیرتے ہیں حالانکہ عقائد لینے کا صحیح راستے یہی ہے کہ یہ لوگ رسول ﷺ کی بات مانیں۔
بل ان یعد۔۔۔۔ الا غرورا (35: 40) ” بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دئیے جا رہے ہیں “ یہ ظالم ایک دوسرے سے لمبے چوڑے وعدے کرتے ہیں کہ ان کا راستہ یہی راستہ ہے جو آباء و اجداد کا ہے اور یہ کہ وہ آخر کار کامیاب ہوں گے۔ حالانکہ یہ لوگ فریب خوردہ اور مغرور ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ بعض کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ اس غرور میں زندہ رہتے ہیں اور یہ ان کے لیے کوئی نفع بخش صورت حال نہیں ہے۔
اس کے بعد کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے نہ آسمانوں میں ، نہ زمین میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ دست قدرت کا کارنامہ ہے کہ جس نے زمین و آسمان کو تھام رکھا ہے اور وہ بلاشکت غیرے اس کائنات کا مدبر اور چلانے والا ہے۔ کائنات میں کوئی اور الٰہ تلاش کرنے کے بجائے خود اس کو دیکھو۔
Ayah 35:41ان اللہ یمسک ۔۔۔۔ حلیما غفورا (41) “۔ ذرا اس آسمان پر نگاہ ڈالو ، ذرا زمین کو دیکھو اور ان لاتعداد اربوں اجرام فلکی کو دیکھو جو اس لا انتہا فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تمام کے تمام اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جو اپنے افلاک میں پھر رہے ہیں۔ اپنے مدارات میں مقرر ، پھر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ نہ ان کی رفتار میں کوئی خلل آتا ہے نہ مدار سے نکل سکتے ہیں ، نہ ان کی رفتار سست ہوسکتی ہے ، اور نہ تیز ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کو اس طرح اپنے مقام پر ٹھہرانے کے لیے کوئی ستون نہیں لگا ہوا اور نہ یہ مضبوط رسیوں سے باندھے ہوئے ہیں۔ کسی چیز کا بظاہر ان پر کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس عظیم مخلوق کو دیکھتے ہو جو اربوں کھربوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور جو نہایت ہی عجیب و غریب ہے۔ ایک عقلمند انسان کی آنکھیں ضرور کھل جانی چاہئیں کہ اس کے پیچھے ایک نہایت طاقتور الٰہ العالمین کا دست قدرت کام کر رہا ہے ، جس نے اس عظیم کارخانے کو تھام رکھا ہے۔
اگر آسمانوں کے یہ ستارے اور زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور بےترتیبی سے ادھر ادھر بکھر جائیں تو ان کو کوئی پھر سے مرتب نہیں کرسکتا۔ یہ ہے وہ وقت جب قیامت برپا ہوجائے گی اور اس جہان کے خاتمہ کے لیے قرآن نے اسی نظام کے اختلال کو علامت قرار دیا ہے جہاں پہاڑ اور ستارے روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے اور اس نظام کائنات کی ہر شے دوسری سے ٹکرا جائے گی۔ یہ وہ مقرر وقت ہے جس میں تمام لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا اور دنیا میں جس نے جو عمل کیا اس کا محاسبہ ہوگا۔ دنیا کا انجام عالم آخرت پر ہوگا اور یہ دوسرا جہان اپنے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے اس دنیا سے بالکل مختلف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کو تھامے رکھنے پر یہ تبصرہ ہوتا ہے۔
انہ کان حلیما غفورا (35: 41) ” اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ حلیم ہے۔ لوگوں کو مہلت دیتا ہے ، وہ ان کی بدعملی کی وجہ سے اس جہان کو ختم نہیں کرتا اور اجل مقرر سے قبل ہی ان سے حساب و کتاب لینا نہیں شروع کردیتا۔ لوگوں کو تو بہ کا بھی موقعہ دیتا ہے ، قیامت کی تیاری کی مہلت بھی دیتا ہے اور غفور اس طرح ہے کہ لوگوں نے جو جو جرائم کیے سب پر مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اللہ لوگوں کی برائیوں کے ایک بڑے حصے سے درگزر فرماتا ہے۔ جب بھی اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھے تو ان کی مغفرت کردیتا ہے۔ یہ ایک ہدایت ہے جو لوگوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس موقع اور ضرورت کو غنیمت سمجھیں اور اگر یہ فرصت گنوادی تو یہ واپس نہ آئے گی۔
Ayahs 35:42–43چوتھا سفر اہل مکہ اور اس کے اردگرد کے مشرکین کے احوال کا ہے۔ ان لوگوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر اللہ ان میں رسول بھیج دے اور اسے کتاب دے دے تو وہ ایمان لائیں گے۔ پھر انہوں نے نقص عہد کیا اور فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی۔
واقسموا باللہ۔۔۔۔ لسنت اللہ تحویلا (42 – 43) ” “۔
اہل عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جزیرۃ العرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کو ایک کتاب دیدی گئی ہے اور وہ دیکھتے تھے کہ یہ یہودی اپنے دین سے منحرف ہوگئے ہیں اور بےعمل ہیں۔ عرب ان کی تاریخ بھی پڑھتے تھے کہ انہوں نے اپنے بیشمار رسولوں کو قتل بھی کیا اور جب بھی ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا۔ اس وقت یہ یہودیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا ، اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو وہ دنیا کی تمام امتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ مراد ان کی یہ تھی کہ یہودیوں سے وہ زیادہ ہدایت پر رہیں گے۔ یہ لوگ اشارہ یہودیوں کی طرف کرتے تھے۔
لئن جآءھم۔۔۔۔ احدی الامم (35: 42) ” اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہو تو تو وہ دنیا کی ہر قوم سے زیادہ راست رو ہوتے “۔ یہ تھا ان کا حال قبل بعثت اور یہ تھا ان کا عقیدہ۔ یہ عقیدہ قرآن مجید ان پر اس طرح پیش کرتا ہے کہ ذرا تم اس صورت حالات کو یاد کرو تم کیا کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کے سامنے وہ حالات پیش کیے جاتے ہیں جو عملاً رسول کے آنے کے بعد پیش آئے۔
فلما جآءھم نذیر ۔۔۔۔۔ مکر السیئ (35: 42 – 43) ” مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بری چالیں چلنے کی وجہ سے “۔ یہ کس قدر بری بات ہے کہ ایک شخص قسمیں کھائے کہ اس کا رویہ یہ ہوگا اور پھر وہ اس کے الٹ رویہ اختیار کرے مگر تکبرو غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے۔ قرآن مجید ان کے انکار کا اصلی سبب ریکارڈ کرتا ہے اور اس کے بعد قرآن مجید پھر ان کی ان مکاریوں کے بارے میں یہ فیصلہ اور جواب یوں دیتا ہے کہ جو شخص اس قدر قبیح حرکت کرتا ہے اس کا ایمان کیا ہوگا۔ اور انجام کیا ہوگا۔
ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ (35: 43) ” حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں “۔ یعنی ان کی بری چالیں ان ہی کے خلاف پڑیں گی اور یہ بری چالیں ان کو مخبوط الحواس کردیں گے اور ان کے اعمال ضائع ہوجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے سابقہ اقوام کے قصے تو انہیں معلوم ہیں۔ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ کی مستحکم سنت انہیں پکڑلے
فلن تجد لسنت۔۔۔۔ تحویلا (35: 43) ” یہی بات ہے تو تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقررہ راستے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
لوگوں کے معاملات اتفاقاً نہیں چل رہے اور اس زمین پر یہ زندگی اور مخلوقات عبث طور پر نہیں پیدا کیے گئے۔ اس دنیا کے کچھ قوانین ہیں جو ہرگز تبدیل نہیں ہوتے۔ قرآن کریم اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے اور لوگوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اس دنیا کے واقعات کو ایک انفرادی واقعہ ہی نہ سمجھیں اور اپنی زندگی ان سنن الہیہ سے غافل ہو کر نہ گزاریں بلکہ اپنی زندگی کو زمان و مکان کے مختصر ترین لمحات و مقامات تک بھی محدود نہ کردیں۔ قرآن ان کے قصور کو ذرا بلند کرکے ان کی زندگی کے طریقوں کو اس کائنات کے طریقوں کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید بار بار اس طرف توجہ کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ نے کچھ اٹل اصول جاری کر رکھے ہیں۔ وہ ان کو ان واقعات کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے جو اس دنیا میں ان سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوئے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کا ماضی بتاتا ہے کہ یہ سنن اس کائنات میں جاری ہیں۔ یہ پانچواں سفر اسی کی ایک مثال ہے۔ یہاں بھی یہ کہنے کے بعد کہ اللہ کے سنن نہیں بدلتے ، اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 35:44اولم یسیروا۔۔۔۔۔ علیما قدیرا (44) ”
اس زمین میں سیر کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اس میں گزشتہ اقوام کے واقعات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں کہ وہ کیا کرتے تھے اور ان کا انجام کیا ہوا۔ زمین کے واقعات و حادثات سے انسانی شعور اور دل میں خدا کا خوف اور عبرت آموز اشارات کا بیٹھنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ زمین میں پھرو اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانوں کا مطالعہ کرو ، ہلاک شدہ اقوام کے شب و روز دیکھو ! جن کا نام و نشان اس زمین سے مٹا دیا گیا۔ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان دلوں کو جگاؤ جن کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہے تو ان کے اندر احساس نہیں ہے اور اگر احساس ہے تو وہ عبرت نہیں لیتے۔ ان مردہ دلوں میں سنن الہیہ کا کوئی شعور نہیں ہے اور وہ تاریخی واقعات کی تعبیر سنن الہیہ کی روشنی میں نہیں کرتے۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے اندر فرق ہی صرف یہ ہے کہ انسان واقعات کی تعبیر و تشریح اصولوں کی روشنی میں کرتا ہے جبکہ حیوان حالات ، واقعات ، اصولوں اور قواعد اور سنن الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتا ، نہ وہ کسی واقعہ سے احکام و نتائج اخذ کرتا ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تمام بنی نوع انسان سنن الہیہ اور نوامیس فطرت کے سامنے یکساں ہوتے ہیں۔
اس تاریخی سفر میں قرآن کریم ناظرین کو تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کے دہانے کھڑا کرکے ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ لوگ نہایت قوت اور شوکت والے تھے اور ان کو ان کی یہ قوت اور شوکت بچانہ سکی ، لہٰذا تمام قوتوں سے برتر قوت موجود ہے ۔ وہ قوت جس کے مقابل کی کوئی قوت نہیں ہے اور نہ اس کو کوئی قوت عاجز کرسکتی ہے۔ یہ قوت ان لوگوں کو اسی طرح پکڑ سکتی ہے جس طرح سابقہ اقوام کو اس نے پکڑا۔
وما کان۔۔۔۔۔ فی الارض (35: 44) ” اور اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے ، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں “ اور اس پر یہ تبصرہ آتا ہے جو اس کی تفسیر کرتا ہے اور دلیل پیش کرتا ہے۔
انہ کان علیما قدیرا (35: 44) ” وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ سب سے آخر میں سورة کا خاتمہ آتا ہے جس میں اللہ کی مہربانیاں اور معافیاں اور درگزر کا اظہار بھی کیا جاتا ہے اور اللہ کی قدرت اور قوت کا احساس بھی دلایا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ لوگوں کو جو مہلت دئیے جا رہا ہے وہ اس لیے دے رہا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے اور اللہ حساب و کتاب میں نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔
Ayah 35:45ولو یؤاخذ اللہ۔۔۔۔۔ بعبادہ بصیرا (45)
لوگ جو اللہ کے انعامات کا کفر کرتے ہیں ، زمین میں شروفساد کا ارتکاب کرتے ہیں اور ظلم و زیادتی اور سرکشی کرتے ہیں یہ ان کی جانب سے بہت ہی بری حرکت ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ان کی اس بری حرکت پر پکڑتا تو اللہ کی پکڑ کا دائرہ پورے کرہ ارض تک پھیل جاتا اور یہ پورا کرہ ارض زندگی کے قابل ہی نہ رہتا۔ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ کوئی زندہ چیز بھی یہاں نہ رہتی۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ بہت برا اور گھناؤنا کام ہے اور اگر اللہ اس پر فوراً ہی پکڑ لیتا تو لوگوں کے اعمال کے طبعی اور اخلاقی نتائج ان کی فوری بربادی پر منتج ہوئے۔ لیکن اللہ حلیم ہے اور وہ لوگوں کی پکڑ میں شتابی نہیں فرماتا۔
ولکن یواخرھم الی اجل مسمی (35: 45) لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک کیلئے مہلت دیتا ہے “۔ یعنی ہر فرد کو اسکی عمر طبیعی تک مہلت دیتا ہے اور دنیا میں وہ اپنی عمر پوری کرتا ہے۔ اور وہ سوسائٹیوں اور ملتوں کو بھی اپنے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نیست و نابود ہو کر دوسری طلل کے لیے جگہ خالی کرتی ہیں اور پوری بنی نوع انسان کو وہ مہلت دیتا ہے جب وقت مقرر آئے گا تو قیامت برپا کرکے حساب و کتاب لے گا اور وہ اسطرح لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ شاید نیک کام کر سکیں
فاذا جآء اجلھم (35: 45) ” پھر جب ان کا وقت پورا ہوگا “۔ جب کسب و عمل کا وقت پورا ہوگا اور حساب و کتاب کا وقت آئے گا تو اللہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے گا۔
فان اللہ کان بعبادہ بصیرا (35: 45) ” تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا “۔ اللہ کا اپنے بندوں کو دیکھ لیان اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ پورا حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کرلے۔ ان کے اعمال میں سے صغیرہ اور کبیرہ کوئی چیز رہ نہ جائے گئ۔ یہ اس سورة کا آخری زمزمہ ہے۔ اس کا آغاز حمد الٰہی سے ہوا تھا جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ
جاعل الملئکۃ اولی اجنحلۃ (35: 1) ” جو فرشتوں کو رسول بناتا ہے جو پروں والے ہیں “۔ اور جو آسمانوں سے اس کا پیغام زمین پر لاتے ہیں جس کے اندر خوشخبری اور ڈر اوا ہے۔ خوشخبری جنت کی ہے اور ڈراوا جہنم کا ہے۔ اس آغاز اور اختتام کے درمیان اس سورة نے قارئین کو اس پوری کائنات کے مطالعہ کے لیے بیشمار سفر کرائے ۔ یہ ہے اختتام ان اسفار کا ۔ یہ ہے انجام زندگی کا اور یہ ہے انجام حضرت انسان کا۔