35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے ، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جو بےہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

من کان یرید العزۃ ۔۔۔۔۔ اولئک ھو یبور (10) ” “۔ شاید مردہ زمین میں اٹھنے والی نباتاتی زندگی اور کلمہ طیبہ اور عمل صالح کے درمیان ربط یہ ہے کہ دونوں میں پاکیزہ زندگی اور قدر مشرک ہے۔ نباتات کی بھی طیب زندگی ہے اور عمل صالح اور کلمہ طیبہ بھی پاک زندگی ہے۔ اور ان کے درمیان ربط اور تعلق وہی ہے جس کی طرف سورة ابراہیم کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کے مزاج اور اسلامی زندگی کے مزاج کی یکسائی سورة ابراہیم میں فرمایا : الم ترکیف ضرب اللہ ۔۔۔۔۔ مالھا من قرار (24 – 26) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اس سے سبق لیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھنکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے “۔ یہ ایک حقیقی مشابہت ہے جو ایک پاک کلمہ اور پاک درخت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ دونوں کے اندر حیات اور برہنہ موجود ہے۔ ایک کلمہ اور نظریہ بھی نشوونما پاتا ہے اور بار آور ہوتا ہے اور ایک درخت بھی نشوونما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ دونوں کی ایک ہی مثال ہے۔ مشرکین اس لیے شرک کرتے تھے کہ مکہ کے اندر ان کا جو دینی مقام تھا ، وہ برقرار رہے۔ محض عقیدے اور نظریہ کی وجہ سے وہ دوسرے قبائل سے برتر تسلیم کیے جاتے تھے۔ پھر ان کو مالی مفادات بھی حاصل تھے۔ مثلاً ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اس وجہ سے وہ پرشوکت اور پر قوت تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔ ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا ” اگر تمہارے ساتھ ہدایت کے تابع ہوجائیں تو ہمیں ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا۔ لہٰذا اللہ فرماتے ہیں : من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا (35: 10) ” جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے “۔ یہ حقیقت جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو اس انسان کی قدریں اور حسن و قبح کے اصول بدل جاتے ہیں۔ ان قدروں کے حصول کے ذرائع اور منصوبے ہی بدل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عزت سب کی سب اللہ کیلئے ہے اور عزت کا کوئی حصہ بھی اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ اگر کوئی عزت چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ہاں عزت طلب کرے گا تو وہاں لازما جائے گا اور اسے عزت ضرور ملے گی اور اگر کسی اور دروازے پر عزت تلاش کرے گا تو خوار ہوگا اس لیے کہ ۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” عزت تو سب کی سب اللہ کے ہاں ہے “۔ قریش اپنے بت پرستانہ عقیدے کی وجہ سے لوگوں سے عزت چاہتے تھے۔ وہ لوگوں کے علی الرغم ہدایت قبول کرنے سے ڈرتے تھے حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ جو دعوت دیتے ہیں وہ ہدایت ہے۔ وہ اس لیے ڈرتے تھے کہ ان کے مقام و مرتبہ میں فرق نہ آجائے۔ جن عوام اور قبائل سے وہ ڈرتے تھے ان کے پاس عزت کا کوئی سرچشمہ ہی نہ تھا۔ وہ عزت کے مالک ہی نہ تھے۔ عزت کا مالک تو اللہ ہے۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” بیشک عزت اللہ کی ہے “۔ اگر قریش قوی تھے تو قوت کا مصدر بھی اللہ ہی ہے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ عزت اور قوت اور شوکت اپنے اصلی مصدر سے لیں ، لوگوں سے نہ لیں۔ یہ لوگ تو خود عزت کے طالب ، محتاج اور کمزور ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات کے حقائق میں سے یہ اولین حقیقت ہے ۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ جائے تو اس کی قدریں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ حسن و قبح کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ اقوام کے فیصلے اور ان کی تقدیریں بدل دیتی ہے۔ ان کا منہاج زندگی اور طرز عمل بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے اسباب و وسائل بدل دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں اور پھر پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں۔ پھر ہم دنیا میں نہایت معزز ، پروقار اور مستقل مقام و مرتبہ پائیں گے۔ اقوام عالم میں ہمارا وزن ہوگا۔ یہی ہے عزت و وقار کا طریقہ ۔ ایک مسلمان کیلئے اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو وہ دل پھر کسی جبار وقہار کے سامنے نہیں جھکتا۔ وہ کسی تندوتیز طوفان سے بھی نہیں ڈرتا۔ کوئی عظیم حادثہ بھی اس کے عزائم کو ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی صورت حال اور کوئی حکومت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ کوئی مملکت اور کوئی مصلحت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ اس کرہ ارض کی قوتوں میں سے کوئی قوت اسے نہیں جھکا سکتی اور کیوں ایسا ہو سکے ؟ جب کہ ہر قسم کی قوت کا سرچشمہ اللہ کے پاس ہے اور اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ یہ وجہ ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا ذکر ہوتا ہے۔ الیہ یصعد۔۔۔۔۔ الصالح یرفعہ (35: 10) ” اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ پاکیزہ قول ہے اور عمل صالح اس کو اوپر اٹھاتا ہے “۔ اس عظیم حقیقت کے ذکر کے بعد اس تبصرے کا ایک خاص مفہوم اور اشارہ ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ذرائع کیا ہیں ؟ وہ ہیں قول طیب اور عمل صالح۔ قول طیب سیدھا اللہ کی طرف بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ یوں اللہ عمل صالح کو مکرم بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قول طیب اور عمل صالح کے مالک ہمیشہ سربلند اور معزز اور مکرم ہوتے ہیں اور ان کو عزت عطا ہوتی ہے۔ صحیح عزت وہ ہوتی ہے جو قبل اس کے کہ اس دنیا میں وہ نمودار ہو یا اس کے آثار نمودار ہوں ایک شخص کے قلب میں بیٹھی ہے۔ جب یہ حقیقت کسی دل میں بیٹھ جائے تو ایسا شخص ذات اور سرنگونی کے تمام اسباب کے دائرے سے باہر نکل آتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو سب سے پہلے تو وہ خود اپنے نفس امارہ پر قابو پا لیتا ہے۔ یہ سب سے پہلے اپنی سفلی خواہشات کو کنڑول کرلیتا ہے۔ جب کوئی انسان ان انسانی کمزوریوں پر قابو پالے تو پھر اس کو ذلیل کرنے اور تابع کرنے کا کوئی سبب ہی نہیں رہتا۔ لوگوں کو جو چیز ڈلیل کرکے رکھ دیتی ہے وہ ان کی خواہشات اور رغبات ہوتی ہیں ۔ ڈر اور لالچ ہوتا ہے اور جو شخص ان کمزوریوں پر غالب آجاتے وہ گویا تمام انسانوں پر غالب آگیا۔ اور وہ یہ حقیقی عزت ہے جس کے ذریعے انسان سربلند ، قوی اور نڈر ہوجاتا ہے۔ عزت یہ نہیں ہے کہ انسان حق کے ساتھ معاند ہو ، خود سر ہو اور باغی ہو اور باطل کو بلند کرنے کی سعی کرتا ہو نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ کوئی فاسق و فاجر ہوجائے ، اللہ کا باغی اور نافرمان ہوجائے اور نہایت ہی جبر اور اصرار کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرے اور نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی آزادانہ شہوت رانی اور بےحیائی کا رویہ اختیار کرے۔ نہ قوت یہ ہے کہ کوئی بغیر کسی اصول اور ضابطے کے طاقت کا استعمال کرے اور انصاف اور اصلاح کے مقاصد کے بغیر دھکڑ شروع کر دے۔ ہرگز نہیں ، بلکہ قوت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پالے۔ انسان ذلت اور غلامی کا مقابلہ کرے ، اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ جھکے اور صرف اللہ ہی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے ، اللہ کا خوف کرے ، اس سے ڈرے ، خوشی اور غم دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرے۔ جب کوئی ایسی قوت حاصل کرلے تو پھر اس کی پیشانی بلند ہوگی اور ایسا انسان ہر اس بات کا مقابلہ کرسکے گا جسے اس کا ضمیر پسند نہ کرتا ہو۔ اور ایسا انسان اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کو خاطر میں نہ لائے گا۔ یہ ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا مقام۔ عزت کے حوالے سے اور سیاق کلام میں بات کی مناسبت اور ربط کے حوالے سے۔ اس کے بعد صفحہ بالمقابل کی تکمیل یوں کی جاتی ہے۔ والذین یمکرون ۔۔۔۔۔۔ ھو یبور (35: 10) ” رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے “۔ یمکرون کے اندر تدبیر کے معنی بھی شامل ہیں لیکن یہاں مکر بمعنی سازش اور چال اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس کا اکثر استعمال برے معنوں ہی میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے عذاب شدید ہے اور یہ عذاب تو ان کے لیے مقدر ہے کہ ان کی یہ چال بازیاں غارت جائیں گی ، نہ قائم رہیں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔ یہ ” بور “ کے ہے اور ” بور “ اور ” بوران “ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ آیت سابقہ میں چونکہ اشارہ زمین کی آبادی اور پھل دینے کے معنی کی طرف تھا ، یہاں اس کے بالمقابل بوران کا لفظ لایا گیا ہے جس میں پھل ضائع ہوجانے کے معنی ہیں۔ جو لوگ یہ چال بازیاں کرتے ہیں وہ جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سوسائٹی میں عام لوگوں کی نظروں میں ، وہ معزز ہوں۔ بظاہر وہ بڑے لوگ اور صاحب عزت ہوں اور قوت والے نظر آئیں۔ یہاں عزت ذرا وسیع مفہوم میں ہے لیکن ہر بری تدبیر جس میں قول طیب نہ ہو اور عمل صالح نہ ہو ، اس کا مدبر کبھی بھی معزز ، پروقار اور صاحب قوت نہیں ہوتا۔ اگرچہ بعض اوقات وہ ایک مختصر وقت کے لیے اپنا عرب جما لیتا ہے لیکن آخر کار وہ ہلاکت کی طرف جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اور اللہ اپنے وعدوں سے کبھی الٹ نہیں کرتا۔ ہاں وہ ہر مکار کو قدرت مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ تمام مکاریاں غارت چلی جاتی ہیں۔ اب انسان کی پہلی زندگی اور پہلی پیدائش کا ایک منظر ، اس سے قبل کے منظر میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک خشک زمین کو پانی کے ذریعہ کس طرح زندہ اور سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اس کے زمانہ حمل مادر اور پھر اس کی طویل عمر یا قصیر عمل۔ یہ سب چیزیں اللہ کے علم اور منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر تمہارے جوڑے بنا دئیے (یعنی مرد اور عورت) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا۔ اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے ۔ اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔

واللہ خلقکم من تراب ۔۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (11) ” انسان کی پہلی تخلیق کی طرف قرآن کریم میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اسی طرح قرآن میں حمل کے ابتدائی مراحل کی طرف بھی مفصل اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی نطفے کی طرف۔ تراب وہ عنصر ہے جس میں زندگی نہیں ہوتی اور نطفہ وہ عنصر ہے جس میں زندگی ہوتی ہے۔ اس کائنات کے عظیم معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ اس بےجان عنصر میں کس طرح جان ڈال دی گئی اور حیات کس طرح پہلے عنصر کے ساتھ گھل مل گئی۔ آج تک یہ راز معمہ ہے اور انسان ابھی تک اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ یہ ایک قائم اور دیکھی جانے والی حقیقت ہے۔ اس کے اعتراف کے سوا چارہ کار بھی نہیں ہے۔ یہ معجزہ خالق ، زندہ کرنے والے اور عظیم قدرت والے اللہ کی طرف انسان کو دھکیل کرلے جاتا ہے اور انسان کسی شکل میں بھی اسے رد نہیں کرسکتا اور نہ اس میدان میں کوئی چوں چرا کرسکتا ہے۔ بےجان سے جان دار کی طرف کسی عنصر کو منتقل کرنا نہایت ہی بڑا انقلاب ہے اور یہ زمان و مکان کی دوریوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس انقلاب پر ایک زندہ دل شخص جس قدر بھی غور کرے وہ ملول نہ ہوگا۔ اس طرح اس کائنات کے اسرار کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس راہ میں علم کے آگے بڑھنے سے جو اسرار و رموز کبھی کھلیں گے ہر اگلا راز پچھلے سے زیادہ عجیب ہوگا۔ اب اس نطفے سے ذرا آگے بڑھئے۔ ایک خلیہ کامل ہوتا ہے ، جنین بنتا ہے اور پھر ایک مرحلے میں اس جنین کی جنس کا تعین ہوتا ہے ۔ مرد اور عورت الگ الگ ۔ پھر وہ صورت بنتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔ ثم جعلکم ازواجا (35: 11) ” پھر تمہارے جوڑے بنا دئیے “۔ چاہے اس سے مراد یہ ہو کہ جنین کی حالت میں مذکر اور مونث کا امتیار کردیا یا اس سے مراد یہ ہو کہ ولادت کے بعد اور بالغ ہونے کے بعد شادیاں کر کے جوڑے بنا دیا۔ یہ انقلاب بھی کیا فکر و نظر کے لیے کم ہے کہ نہایت چھوٹے نطفے سے یوں مذکر و مونث بنا دیا گیا تو یہ بھی ایک عظیم انقلاب ہے۔ یا تو ایک چھوٹا سا نکتہ جو نطفے کی شکل میں ہے اور یا پھر ایک مکمل انسان جو ایک قوی ہیکل مخلوق ہے اور جس کے جسم کے اندر کثیر التعداد مشینیں ہیں جو مختلف کام کر رہی ہیں۔ جس کی تفصیلات میڈیکل سائنسز میں موجود ہیں اور باہم بالکل جدا ہیں۔ اب ہمارے زیر مطالعہ یہ سادہ خلیہ ہے۔ یہ اب تقسیم در تقسیم ہوتا ہے اور اس سے اور خلیے نکلتے ہیں ۔ اب اس ایک خلیے سے خلیات کے مجموعے بنتے چلے جاتے ہیں اور اعضاء بنتے چلے جاتے ہیں اور ہر عضو کا ایک فیضہ مقرر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان تمام اعضا سے ترکیب پاکر ایک انسان وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اعضاء باہم مربوط اور ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ انسان ایک بالکل ممتاز مخلوق ہوتا ہے۔ یہ اپنے ہم جنس بنی نوع انسان سے بھی الگ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی جدا ہوتا ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ دو انسان بالکل ایک ہی جیسے ہوں ، حالانکہ یہ ایک ہی نطفے سے پیدا ہوئے اور اس کے اندر کسی فرق کا ادراک انسان کو نہ تھا ۔ پھر یہ خلیے مرد و عورت کی شکل اختیار کرکے جوڑے بن جاتے ہیں اور ان جوڑوں کے ذریعے پھر اس تخلیق کا تسلسل قائم ہوتا ہے اور یہ تسلسل انہی مراحل میں چلتا ہے۔ وہی مراحل دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر عجیب سلسلہ ہے کہ جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے قرآن میں اس اعجوبے کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک راز نہیں ہے بلکہ جسم انسانی میں رازوں کا مجموعہ ہے۔ لوگ اگر اس پر تدبر کریں تو ایک سنان کے جسم میں بیشمار عجائبات ہیں اور انسان کی روح ان پر تدبر کرکے جاگ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس زاویہ سے انسان کو بار بار جھنجھوڑتا ہے اور جگاتا ہے۔ اس باریک مطالعہ کو پیش کرنے کے بعد اللہ کے علم کی وسعت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا میں اس کی تفصیلات آئی ہیں کہ اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے۔ یہاں مذکر و مونث کی تخلیق اور حمل اور وضع حمل بھی اس کے علم میں رہتا ہے وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ (35: 11) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ کوئی بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے “۔ اب یہاں مذکر و مونث کا دائرہ عام کردیا جاتا ہے۔ انسان ، حیوان ، طیور ، مچھلیاں اور تمام حشرات الارض اس کے دائرے میں آجاتے ہیں ۔ چاہے ہم ان کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں کہ جن کا وضع حمل ہوتا ہے یا جو انڈے دیتے ہیں کیونکہ انڈا بھی ایک قسم کا حمل ہوتا ہے ۔ انڈے کے اندر جو جنین ہوتا ہے وہ ماں کے پیٹ میں نہیں بڑھتا بلکہ انڈے کے اندر بڑھتا ہے۔ صرف انڈا ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے اور یہ بھی اللہ کی صنعت کاری کا ایک کرشمہ ہے کہ ایک عمل جو پیٹ کے اندر ہوتا ہے ، یہاں یہ پوری ٹیکنالوجی انڈے کے اندر پیٹ کے باہر کردی جاتی ہے اور پھر وہ بڑھتی ہے اور ان سب عملوں کو اللہ جانتا ہے اور اس پر اس کا علم محیط ہے۔ اس پوری کائنات کے مختلف اطراف ہیں۔ اللہ کے علم کی یہ جامعیت ایسی ہے کہ ذہن انسانی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔ نہ تصور کے اعتبار سے اور نہ انداز تعبیر کے اعتبار سے جیسا کہ ہم نے سورة سبا میں یہ نکتہ بیان کیا۔ یہ تو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہی قرآن کا نازل کرنے والا ہے اور قرآن کا مصدر وسیع ذات باری ہے اور یہ ایک منفرد انداز استدلال ہے۔ پھر مختلف افراد و اشیاء کی عمر بھی اللہ کے علم میں ہے اور کتاب میں درج ہے۔ وما یعمر من ۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (35: 11) ” کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے ۔ اللہ کے لیے یہ سب کچھ بہت آسان کام ہے۔ جب خیال اس طرف جاتا ہے کہ اس کائنات میں نباتات ، پرندے ، حیوانات اور انسان اور دوسری چیزیں ، جن کے سائز اور حجم مختلف ہیں اور مختلف انواع و اقسام کی ہیں۔ مختلف علاقوں اور زمانوں میں ہیں ، پھر انسان جب یہ تصور کرتا ہے کہ یہ عظیم تعداد ، جس کا صحیح علم صرف خالق ہی کو ہے ، اس کے ہر فرد کو ایک عمر دی جاتی ہے۔ یہ عمر طویل ہو یا قصیر ہو ، اس میں زیادتی ہو یا کمی ہو ، سب کی سب ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ سب کے بارے میں جانتا ہے۔ بلکہ ہر ایک فرد کے جزء کے بارے میں بھی اللہ جانتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہوگی۔ زیادہ ہوگی یا کم ہوگی مثلا کسی درخت کے پتے کی عمر کیا ہوگی۔ کب نکلے گا اور کب گرے گا۔ اور کب مٹی ہوگا۔ ہر پرندے کے ہر پر کے بارے میں بھی اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب جسم سے الگ ہوگا۔ ہر حیوان کا ہر سینگ کس قدر عمر پائے گا یا حیوانات کی باہم ٹکر میں کوئی سینگ ٹوٹ جائے گا۔ پھر انسان کے اعضاء آنکھ اور کان وغیرہ یہ کب تک رہیں گے اور کب کام چھوڑ دیں گے۔ یہ سب باتیں اللہ کی کتاب تقدیر میں درج ہیں۔ اور اللہ کے علم میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس سلسلے میں کوئی جہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (35: 11) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے “۔ جب انسانی خیال ان باتوں پر غور و فکر کرتا ہے اور ان لائنوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ بہت ہی عجیب نظر آتا ہے۔ اس آیت کے ضمن میں ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں جس طرف انسانی خیال بالعموم متوجہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح کی باتیں ساچنا انسان کی عادت ہی نہیں ہے۔ یہ صرف خداوند قدوس کی ہدایت ہے کہ تم ذرا اس انداز سے غور کرو۔ اور عمر کی زیادتی سال و ماہ کی تعداد کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور عمر میں برکت کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ عمر میں برکت یوں ہوتی ہے کہ انسان کی عمر اچھے کاموں میں صرف ہو اور اس میں دوڑ دھوپ ، مفید کام اور اعمال و آثار زیادہ ہوں۔ اور عمر کا نقص بھی اسی طرح ہے یا تو ماہ و سال کم ہوجائیں یا عمر کی افادیت کم ہوجائے اور اس سے برکت نکل آئے بجائے اس کے کہ انسان اچھے کام کرے اس کی زندگی خالی ہو۔ بعض اوقات زندگی کا ایک گھنٹہ بھی پوری عمر کے برابر ہوتا ہے۔ وہ افکار اور شعور اور احساسات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور اس کے اندر اونچے درجے کا اعمال عمل میں آجاتے ہیں اور اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات انسان کا پورا سال خالی خولی گزر جاتا ہے اور اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔ اللہ کے نزدیک اس سال کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ یہ سب امور اللہ کے حساب و کتاب میں ہیں اور ہر موجود مخلوق کے بارے میں یہ سب امور صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ جماعتیں افراد کی طرح ہیں۔ اسی طرح اقوام بھی ایک فرد کی طرح ہیں۔ ان کی عمر کا بھی یہی قانون ہے۔ کسی کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی امت کا پتہ جلد ہی کاٹ لیا جاتا ہے اور یہ سب معانی اس آیت میں داخل ہیں۔ امم کی بھی تقدیر ہوتی ہے اور وہ طاؤس و رباب پر ختم ہوتی ہے۔ تمام اشیاء کی بھی عمر ہوتی ہے جس طرح زندہ چیزوں کی عمر ہوتی ہے۔ ایک چٹان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ ایک پہاڑ کی بھی عمر ہوتی ہے ۔ ایک نہر کی بھی عمر ہوتی ہے اور ایک پتھر کی بھی عمر ہوتی ہے۔ پھر وہ پاش پاش ہوجاتا ہے۔ ایک غار کی بھی عمر ہوتی ہے اور پھر وہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایک نہر کی عمر ہوتی ہے اور جب عمر ختم ہو تو نہر خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ بعض اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان بناتا ہے۔ ان کی بھی عمر ہوتی ہے۔ مشینیں ، کپڑے اور تمام دوسری مصنوعات کی بھی عمر ہوتی ہے اور اپنی مقررہ عمر پوری کرکے وہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ اور یہ سب کام اللہ کی تقدیر میں ہیں اور معلوم و مقدر ہیں۔ اس زاویہ سے اگر امور پر تدبر کیا جائے تو اس کائنات کا مطالعہ ایک نئے افق سے ہوتا ہے ۔ یہ کائنات کے مطالعہ کا یہ ایک نیا اسلوب ہے اور انسانی فہم و ادراک کی قوتوں کو ایک نیا شعور ملتا ہے۔ انسان محصوس کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور علم وسیع اور شامل اور کامل ہے۔ لہٰذا انسان اس شعور کے ہوتے ہوئے کبھی غافل اور گمراہ نہیں ہوسکتا۔ وہ جہاں دیکھتا ہے ، دست قدرت کی کاری گری نظر آتی ہے۔ اللہ کی نگرانی نظر آتی ہے اور ہر چیز کی مہربانی اور قدرت نظرآتی ہے۔ اب سیاق کلام کا رخ کائناتی مناظر کے ایک منظر کی طرف ہوتا ہے ۔ سمندر کے پانیوں کے مناظر میں سے ایک منظر ، پانیوں کی اقسام ۔ یہ ہے میٹھا پانی اور وہ ہے سخت کھارا۔ دونوں قسم کے پانیوں کے پہاڑ سمندر کے اندر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں انسانوں کی خدمت کرتے ہیں ، یا ہم ملتے نہیں ہیں۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

” اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں ۔ ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے ، پینے میں خوشگوار اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے۔ مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو ، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو ، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کا سینہ چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔

وما یستوی البحرن۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (12) پانی کی تخلیق میں انواع و اقسام واضح ہیں۔ اور اس تقسیم کے پیچھے جو خدمت ہے وہ بھی واضح ہے۔ میٹھے پانی کا استعمال تو واضح ہے۔ رات اور ان ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہر قسم کی زندگی تو پانی پر موقوف ہے اور پانی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ رہا کڑوا پانی مثلاً سمندر اور بڑے سمندر تو اس کے بارے میں بعض سائنس دانوں نے عجیب معلومات دی ہیں اور بتایا ہے کہ اس کی تخلیق میں کس قدر گہری انجینئرنگ کار فرما ہے۔ اور اب رات اور دن کے منظر پر یہ کائناتی سفر ختم ہوتا ہے ۔ شمس و قمر کی تسخیر جو اللہ کے وسیع کائناتی نظام کا ایک حصہ ہے ” لاکھوں سالوں سے زمین مختلف قسم کے گیس چھوڑتی ہے اور ان میں سے اکثر گیسیں زہریلی ہوتی ہیں۔ لیکن قدرت الہیہ کی منصوبہ بندی دیکھئے کہ زمین کے اوپر جو ہوا ہے ، اس کے اندر پائے جانے والی نسبت متاثر نہیں ہوتی۔ جو انسان کے وجود کے لیے ضروری ہے۔ اس عظیم توازن کی گاڑی پانی کی وہ عظیم مقدار ہے یعنی گہرا سمندر جس سے زندگی ، غذا ، بارش ، معتدل مقسم اور نباتات اور پھر خود انسانی زندگی حاصل کرتے ہیں “۔ پانی کی تخلیق کے بارے میں آج تک جو راز معلوم ہوئے ہیں ، ان میں بالا رادہ رکھی ہوئی حکمت بالکل واضح ہے۔ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تخلیق میں خالق نے بالارادہ توازن اور ہم آہنگی رکھی ہے۔ اور ان ہم آہنگیوں اور توازنوں پر اس کائنات کی مختلف چیزوں کی زندگی قائم ہے اور حیات کا پورا نظام ایستادہ ہے۔ اور یہ پیچیدہ نظام اللہ جل شانہ نے بالارادہ وضع کیا ہے۔ یہ توازن اس قدر پیچیدہ ہے اور اس قدر بارک انجینئرنگ پر مبنی ہے کہ کوئی عقلمند انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ یہ اتفاقاً ایسا ہوگیا ہے۔ یہاں دو قسم کے سمندری پانی کی طرف اشارے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پانی ایک دوسرے کے ساتھ مکس نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان واضح فرق ہے۔ اس قسم کا امتیازی افتراق انسانی جذبات ، انسانی شعور ، انسان رجحانات اور انسانی قدروں میں بھی ہوتا ہے ۔ پھر دونوں قسم کے پانی انسانوں کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ ومن کل تاکلون ۔۔۔۔۔ فیہ مواخر (35: 12) ” مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو ، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کا سینہ چیرتی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔ تروتازہ گوشت سے مراد مچھلیاں اور سمندر کے دوسرے جانور ہیں جو مختلف قسم کے ہیں اور زیب وزینت کے لیے سیپ اور مرجان اور دوسرے موتی جو سمندر سے نکالے جاتے ہیں۔ یہ موتی سمندر کی سیپیوں میں پائے جاتے ہیں۔ سیپیوں کے اندر جب پانی اور ریت کے ذرات داخل ہوتے ہیں تو اس کے اندر کیمیاوی عمل سے یہ موتی تیار ہوتے ہیں ۔ مرجان ایک حیوانی پورا ہے جو سمندر میں میلوں تک پھیل جاتا ہے اور یہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ بعض اوقات سمندری سفر کے لیے خطرہ بن جاتا ہے ۔ بعض اوقات اس کی شاخوں میں زندہ مخلوق بھی پھنس جاتی ہے۔ یہ مرجان بھی ایک خاص طریقے سے کاٹ کر اس سے زیورات بنائے جاتے تھے۔ کشتی سمندروں اور دریاؤں کو چیرتی چلی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ نے پانی اور کشتی دونوں میں بعض خواص رکھ دئیے ہیں۔ جن چیزوں سے کشتی بنائی جاتی ہے ، ان کی کثافت اور ساخت اور سمندر کے پانی کی اپنی کثافت ہے۔ یوں سمندر کی سطح پر کشتی تیرتی ہے۔ ہواؤں کے اندر بھی یہی خصوصیات رکھ دی گئی ہیں۔ پھر اللہ نے ان قوتوں کو انسان کے لیے مسخر کردیا اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ لتبتغوا من فضلہ (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو “۔ سفر اور تجارت کے ذریعہ سے تم اللہ کا فضل تلاش کرو ۔ سمندر سے مفاد کی چیزیں نکالو اور پانی اور کشتیوں کو نقل و حمل کے مقاصد کے لیے استعمال کرو۔ ولعلکم تشکرون (35: 12) ” تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو “۔ اللہ نے تمہارے لیے شکر کے اسباب فراہم کر دئیے ہیں۔ یہ اسباب تمہارے ہاتھ میں ہیں اور یوں اللہ تمہاری جانب سے ادائے شکر میں بھی تمہارا مددگار ہے۔
Ayahs 35:13–14

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ دن کے اندر رات اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے۔ چاند اور سورج کو اس نے مسخر کر رکھا ہے۔ یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے “۔ وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے۔ اسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں۔

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

” انہیں پکارو ، تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے۔ اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔

یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ” رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔ ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14) یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔ لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔ ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔ ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔ ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔ ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔
Ayahs 35:15–17

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو ، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی وحمید ہے۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں

درس نمبر 202 ایک نظر میں ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور زندگی اپنے اندر بذات خود ایک گہرا ربط اور مشابہت رکھتے ہیں اور اسی طرح اندھا پن ، تاریکی ، گرمی اور موت باہم مربوط اور مماثل ہیں۔ یہ سبق مکذبین کے انجام پر ختم ہوتا ہے۔ درس نمبر 202 تشریح آیات 15 ۔۔۔ تا۔۔۔ 26 یایھا الناس انتم ۔۔۔۔۔ علی اللہ بعزیز (15 – 17) ” “۔ لوگوں کو جب یہ دعوت دی جائے کہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی جدوجہد کریں اور ضلالت کے بدلے ہدایت اختیار کریں تو اس وقت ان کو یہ حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ فقراء ہیں اور اللہ کی طرف محتاج ہیں جب کہ اللہ ان کے مقابلے میں پوری طرح غنی ہے اور جب ان کو ایمان ، اللہ کی عبادت اور اللہ کی حمد و ثنا کی دعوت دی جاتی ہے تو اللہ ان کی عبادت اور حمد سے پوری طرح نے نیاز ہے۔ وہ تو بذات خود محمود ہے۔ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ یہ اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لے تو یہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور یہ کام اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تاکہ ان کے ذہنوں سے یہ غرور نکل جائے کہ اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے اور ان کی ہدایت کا سازوسامان کرتا ہے تو شاید اللہ کو ہماری ہدایت کی کوئی ضرورت ہے۔ اللہ رسول بھیجتا ہے اور وہ پوری انسانی تاریخ میں لوگوں کی ہدایت کے لیے جہدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے ، ان پر رحمت کرتا اور ان پر فضل و کرم کرتا ہے یوں کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجتا ہے یہ رسول لوگوں کی نافرمانی اور لوگوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں اور ان روگردانیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہ دعوت پر جمے رہتے ہیں تو یہ اہتمام کرکے اللہ اپنے بندوں پر محض رحم و کرم کرتے ہیں کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی ذاتی صفات ہیں ، اس لیے نہیں کہ لوگ اللہ کی حکومت میں پرکاہ کے برابر کوئی کوئی اضافہ کرسکتے ہیں یا اللہ کی حکومت میں ذرے کے برابر کسی چیز کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ نیز اللہ کے مقابلے میں انسان کوئی بڑی طاقتور یا غالب مخلوق نہیں ہے کہ اللہ ان کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے اللہ ان کی غلطیوں کو برداشت کرتا ہے۔ کیا یہ انسان ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت نہیں ہے۔ انسان جب اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف یہ انسان ، کمزور ، حقیر اور ناتواں ہے اور اس کے مقابلے میں ذات باری ہے ، جو بہت طاقتور ہے اور اس کی جانب سے انسانوں پر یہ مہربانیاں ہیں۔ انسان تو اس کائنات کے مکینوں میں سے ایک نہایت ہی چھوٹی سی مخلوق ہے اور یہ انسان سورج کے گرد چکر لگانے والے ذرات و کر ات میں سے ایک نہایت ہی چھوٹے سے کرے پر رہتا ہے۔ سورج بھی ان ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے اور سورج جیسے ستاروں کی تعداد کا بھی ابھی تک انسان کو علم نہیں ہے۔ یہ دوسرے ستارے تو چھوٹے چھوٹے نکلتے ہیں حالا ن کہ اپنی جگہ نہایت دوریوں میں وہ بہت ہی عظیم الجنۃ ہیں اور یہ عظیم الجنۃ ستارے اس فضا میں حقیر ذروں کی طرح تیرتے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ کی مخلوقات کا نہایت ہی مختصر حصہ ہیں۔ اس کے باوجود انسان اللہ کی جانب سے اس قدر عظیم فضل و کرم اور اس کے بیشمار فیوض کا وصول کنندہ ہے۔ اس پر اس قدر مہربانیاں ہیں جو اس کے لئے اس زمین میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ اس کے جسم کے اندر ودیعت کر دئیے گئے ہیں اور اس کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیر مخلوق گمراہ ہوکر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتی ہے اور اللہ کو اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجنے پڑے۔ ایک کے بعد دوسرا رسول آیا۔ رسولوں پر کتابیں بھیجی گئیں۔ رسولوں کو خوارق عادت معجزات دئیے گئے۔ اور اللہ کا یہ فضل و کرم اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب بھیج دی۔ اس میں تمام انبیاء کے قصص بھی ثبت کر دئیے۔ اسلاف کی تاریخ اس میں ثبت کردی۔ پھر انسان کو جو صلاحیتیں دی گئیں اور اس کے اندر جو کمزوریاں رکھ دی گئی تھیں وہ سب اس میں بیان کردی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک انسان کی مشکلات کا حل بتا دیا اور اس کی مشکلات کو دور کردیا۔ یہ عظیم کرم ایک طرف اور دوسری جانب یہ حقیقت کہ یہ انسان مکان زمین میں سے ایک حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر وہ رہتا ہے۔ یہ شمسی کہکشاں کا ایک حقیر تابع ستارہ ہے جو اس عظیم اور ہولناک عظیم الجنۃ کائنات کے اندر یوں ہے جسطرح زمین کی فضا میں تیرتا ہوا ایٹم اور اللہ سبحانہ اس پوری کائنات و سماوات کا پیدا کنندہ ہے۔ اس نے اس پوری کائنات اور مافیہا کو صرف ایک کلمہ سے پیدا کیا۔ صرف ارادہ متوجہ ہوا اور کن فیکون سے سب کچھ وجود میں آگیا اور یہ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور غور کریں کہ اللہ کا فضل و کرم کس قدر ہے اور وہ معلوم کرلیں کہ اگر وہ زندہ رہ رہے ہیں تو محض اللہ کے فضل و کرم کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور اللہ کی عظیم رحمت کی وجہ سے زندہ رہ رہے ہیں اور یہ رحمت انسان کے انکار ، اعراض ، نافرمانیوں کے باوجود ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک نہایت ہی وجدانی نج ہے جبکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی حقائق انسانی قلوب پر القاء کرتا ہے ۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے دل پر روشن ہوتی ہے تو وہ انسان کے دل کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ قرآن حق ہے اور سچائی کے ساتھ یہ نازل ہو رہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تمام باتیں حق ہیں۔ وہ سچائی کے ساتھ لوگوں کو مطمئن کرتا ہے ، سچائی پیش کرتا ہے ۔ اس کے اشارات تمام کے تمام حق ہیں۔ اب ایک دوسرا نج۔ یہ کہ دنیا و آخرت میں ذمہ داری انفرادی ہے۔ ذمہ داری انفرادی ہوگی ، کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ نہ کوئی کسی کو فائدہ دے سکے گا۔ لہٰذا لوگ اگر ہدایت یافتہ ہوجائیں تو اس سے حضرت نبی ﷺ کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے صرف ان کے اعمال اور فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا جب کہ دوسرے تمام افراد سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ہر شخص اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوگا۔ اگر کوئی پاکیزہ زندگی اختیار کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں اور قیامت میں معاملات کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا ، اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کو ایک ادنیٰ حصہ بھی بنانے کے لئے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے نبی ﷺ تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ۔ جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے “۔

ولا تزر وازرۃ وزرا اخری ۔۔۔۔۔۔۔ والی اللہ المصیر (18) انفرادی ذمہ داری کے اصول کا انسانی اخلاقیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور اسی طرح انسانی طرز عمل پر بھی اس کا فیصلہ کن اثر پوتا ہے۔ کسی انسان میں یہ شعور پیدا ہونا ضروری ہے کہ اسے سزا و جزاء صرف اس کے اعمال پر ہوگی اور اس سے مواخذہ صرف اس کے اعمال پر ہوگا۔ کسی دوسرے کی بدعملی پر اسے سزا نہ ہوگی اور اپنے اعمال بد سے بھی وہ کسی طرح بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے جو انسان کو ہر وقت بیدار رکھتا ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان جھوٹی امیدوں پر تکیہ نہیں کرتا کہ کوئی اسے فائدہ دے گا یا اس کی جگہ کوئی ذمہ داری برداشت کرلے گا۔ یہ اصول انسانوں کے لیے باعث اطمینان بھی ہے۔ اس میں ایک فرد اس بات سے مطمئن ہوجاتا ہے کہ پوری جماعت کی بداعمالیوں کا مواخذہ اس سے نہ ہوگا۔ یوں وہ خود اپنے اچھے اعمال سے مایوس نہ ہوگا بشرطیکہ اس نے جماعت اور سوسائٹی میں تبلیغ و نصیحت اور معروف کو جاری کرنے اور منکر کو روکنے کی سعی کی ہو اور اپنی طاقت اس کام کے لیے استعمال کی ہو۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا محاسبہ بحیثیت جماعت نہیں کرے گا۔ بلکہ ہر ایک مرد کا محاسبہ ہوگا ۔ اور یہ محاسبہ اس کے پورے اعمال کا ہوگا۔ ان حدود کے اندر ہوگا جو اس پر فرض کیے گئے ہیں اور ہر فرد پر یہ بھی فریضہ ہے کہ وہ دوسروں کو نصیحت کرے اور اپنی طاقت کی حد تک ان کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دے۔ اگر اس نے اپنی یہ اجتماعی ذمہ داری ادا کردی تو پھر سوسائٹی جو کچھ بھی کرتی ہے وہ اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ وہ صرف اپنے اچھے اعمال کی جزاء پائے گا۔ نیز اگر جماعت اور سوسائٹی اچھی ہو اور یہ شخص اس کے اندر گمراہ اور بدکار ہو تو بھی سوسائٹی کی اچھائی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کیونکہ اللہ لوگوں کا محاسبہ فہرستوں کے مطابق نہ کرے گا قرآن کریم نے اس اصول کو قرآن کے مخصوص انداز تعبیر کے مطابق بیان کیا ہے۔ اس انداز کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ یوں بتایا جاتا ہے کہ بیشمار لوگ ہیں اور انہوں نے اپنا اپنا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ کوئی شخص جس کا بوجھ ہلکا ہو وہ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا رہا ۔ اگر کسی کا بار گنا زیادہ ہے اور وہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بلاتا ہے تو کوئی شخص اس کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہتا اور کوئی اس کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ یہ ایک ایسے قافلے کا منظر ہے جس میں ہر شخص اپنا اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اپنے راستے پر جا رہا ہے یہاں تک کہ لوگ ترازو کے سامنے پہنچ جاتے ہیں اور وزن کرنے والا وزن کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اس منظر کو دیکھ کر نظر آتا ہے کہ ہر شخص بوجھ کے نیچے ہے۔ کوئی تھکا ماندہ ہے اور کوئی ہلکا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے نتیجے کا منتظر ہے اور اپنے آپ میں مشغول ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے جس میں اہل قافلہ تھکے ماندے ہیں روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ انما تنذر۔۔۔۔۔ الصلوۃ (35: 18) ” تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ڈرانا مفید ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ہے اور وہ نماز قائم کرکے اپنے رب کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ذات پیغمبر سے استفادہ کرسکتے تھے۔ تمہاری بات سن سکتے تھے۔ لہٰذا آپ پر ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو نماز قائم نہیں کرتے۔ ومن تذ کی فانما یتزکی لمنفسہ (35: 18) ” اور جو شخص پاکیزگی کی راہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی کے لیے کرتا ہے “۔ نہ آپ کسی کے ذمہ دار ہیں اور نہ کوئی اور کسی کا ٹھیکہ دار ہے۔ جو شخص نیکی اختیار کرتا ہے اور پاکیزگی کرتا ہے وہ خود اس سے نفع اندوز ہوتا ہے۔ (تزکی) کے اندر نہایت ہی لطیف اور گہرا مفہوم ہے۔ جس کے اندر ظاہری صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر قلب و شعور کی صفائی بھی شامل ہے۔ جس کے اندر طرز عمل اور رویہ کی صفائی بھی شامل ہے۔ (تزکی) کے اندر گہرا اشاراتی مفہوم پایا جاتا ہے۔ والی اللہ المصیر (35: 18) ” اور پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے “۔ اللہ ہی محاسب ہے۔ وہی جزاء و سزا دینے والا ہے۔ اس کے ہاں نہ اچھا عمل ضائع ہوتا ہے ، نہ برا عمل شمار سے رہ سکتا ہے اور نہ جزاء و سزا کے احکام ایسے لوگوں کے حوالے کیے جاتے ہیں جو فیصلے میں رعایت کرتے ہیں ، یا بھولتے ہیں یا ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک ایمان و کفر برابر نہیں ہیں۔ خیر و شر کی برابر قیمت نہیں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاں برابر نہیں ہوتے۔ اندھا اور آنکھوں والا بھی اس کے ہاں ایک نہیں ہوتے۔ روشنی اور تاریکی کی قدر وہاں ایک نہیں ہے۔ چھاؤں اور گرمی کی افادیت بھی برابر نہیں ہے اور نہ اللہ کے ہاں زندہ اور مردہ برابر ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں واضح طور پر قدر و قیمت کے اعتبار سے جدا ہیں۔
Ayahs 35:19–21

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

” اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہیں۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے

وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔ ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔ ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔ پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔ کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔ اب روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں “۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، سنواتا ہے ، مگر (اے نبی ﷺ تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔

ان اللہ یسمع ۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (22 – 26) ” اس کائنات کی حقیقت اور نفس انسانی کی ماہیت میں امتیازات حقیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور دعوت اسلامی کے حوالے سے ان کا ردعمل بھی جدا ہوتا ہے اس طرح جس طرح بصارت اور اندھے پن کا ، سائے اور دھوپ کا ، اندھیروں اور روشنی کا اور حیات اور موت کا ، اور ان تمام معاملات کی پشت پر اللہ کی حکمت اور قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا رسول صرف نذیر ہوتا ہے۔ اس کی انسانی طاقت محدود ہوتی ہے۔ وہ قبروں کے اندر پڑے مردوں تک دعوت نہیں پہنچا سکتا۔ نہ ایسے چلتے پھرتے مردوں کو وہ دعوت دے سکتا ہے یا سنا سکتا ہے۔ وہ اصل میں حقیقی مردوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو ہر اس شخص کو سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ جب چاہے ، جس طرح چاہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے۔ اگر کوئی منہ پھیرتا ہے تو پھیرے بشرطیکہ رسول ﷺ نے دعوت دے دی ہو اور رسالت کی ڈیوٹی ادا کردی ہو۔ لہٰذا جو سنتا ہے ، سنے ، اور جو اعراض کرتا ہے ، اعراض کرے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا تھا۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔

فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” پس آپ ﷺ ان پر حسرت کرکے اپنے آپ کو گھلا نہ دیں “۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا۔ آپ ﷺ کا منصب ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا۔ وہ تعداد میں تو بہت زیادہ تھے کیونکہ ہر امت اور ہر قوم کے لیے رسول بھیجا جاتا رہا ہے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو

وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر (35: 24) ” اور کوئی امت نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو “ اگر آپ کی قوم تکذیب کر رہی ہے تو بیشمار رسولوں کی اقوام نے اسی طرح تکذیب کی ہے اور اس تکذیب کی وجہ رسولوں کی تبلیغ کا قصور نہ تھا۔ اور نہ دلائل کی کمی تھی۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

۔ اب اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب لے کر آئے تھے۔

وان یکذبوک فقد ۔۔۔ بالکتب المنیر (35: 25) ” اب اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب کے کر آئے تھے “۔ بینات سے مراد مختلف قسم کے دلائل ہیں۔ معجزات بھی دلائل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے تھے اور تحدی دیتے تھے۔ الزبر سے مراد متفرق صحیفے ، رسائل اور پمفلٹ ہیں ، جن میں نصیحتیں ، ہدایات اور تکالیف و فرائض ہوتے تھے۔ کتاب منیر سے مراد مطابق قول راجح حضرت موسیٰ کی کتاب تورات ہے۔ لیکن ان کی امت نے کتب الہیہ کی تکذیب کی۔ ہمیشہ اکثر اقوام نے رسولوں اور ان کی ہدایات اور کتابوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ لہٰذا معاملہ جدید نہیں ہے۔ یہ حضور ﷺ کے ساتھ ہونے والا سلوک کوئی منفرد سلوک نہیں ہے۔ یہ تو ایک معمول بہ طرز عمل ہے۔ لیکن ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نہ مانا ان کو میں نے پکڑ لیا اور دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “۔

ثم اخذت الذین کفروا (35: 26) ” پھر جن لوگوں نے ظلم کیا میں نے ان کو پکڑا “۔ اور ذرا دیکھو یہ پکڑ کیسی تھی۔ فکیف کان نکیر (35: 26) ” دیکھو لو ، میری سزا کیسی سخت تھی “۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ نے ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا۔ لہٰذا جو لوگ اس راہ پر گامزن ہیں ، انہیں ذرا ڈرانا چاہئے کہ ان کا انجام ایسا ہی نہ ہوجائے۔ یہ ہے قرآنی ٹچ جس کے ساتھ یہ سبق مکمل ہوتا ہے۔ اب ہم ایک دوسری وادی کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔