Ayah 15:70آیت نمبر 70
لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو راہ فطرت سلیم بہرحال دکھاتے جا رہے ہیں۔ وہ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ خالق حیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ بقائے نسل کے علاوہ یہ راہ دونوں جنسوں کے لئے مفید ، فرحت بخش اور باعث سکون بھی ہے ۔ قانون اور فطرت کے دائرے کے اندر۔ چناچہ حضرت انہیں راہ راست پر لانے کی یوں سعی فرماتے ہیں :
Ayah 15:71آیت نمبر 71
حضرت لوط (علیہ السلام) ایک نبی تھے ، وہ اپنی حقیقی بیٹیاں ان اوباشوں کے سامنے پیش نہ کر رہے تھے تا کہ وہ ان کے ساتھ بدکاری کریں بلکہ وہ ان کو قوم کی خواتین کی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ اللہ نے ان خواتین کو اس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور یہ فطری اور صحت مند راہ ہے۔ خود حضرت بھی جانتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ آپ کی بیٹیوں کے ساتھ بدکار کریں بلکہ انہوں نے تو فطری راہ کو چھوڑ کر بےراہ روی کی اپنائی ہوئی تھی۔
یہ منطر پیش نظر تھا ، قوم لوط اپنی مریضانہ ذہنیت کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ، اشاروں کنایوں میں برے ارادوں کا اظہار ہو رہا تھا ، ادھر حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے دفاع میں لگے ہوئے تھے ، وہ ان کی غیر خوابیدہ کو جگا رہے تھے۔ وہ ان کے ضمیر اور وجدان کو جگا رہے تھے اور ان میں فطرت سلیمہ کے رحجان کو تلاش کر رہے تھے جبکہ وہ اپنے سفلی ارادہ میں آگے ہی بڑھ رہے تھے۔
یہ منظر یوں ہی اسکرین پر تھا کہ اچانک خالص عربوں کے انداز میں لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کی اس کشمکش پر ایک تبصرہ آتا ہے اور خطاب قسم سے شروع ہوتا ہے :
Ayah 15:72آیت نمبر 72
یہ تھی ان کی اصل تصویر اور اس حالت میں وہ ہمیشہ رہتے تھے ، اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کو سعی کے باوجود ان کے بارے میں یہ امید نہ تھی کہ وہ راہ راست پر آجائیں گے ، نہ یہ امید تھی کہ ان میں شرافت اور غیرت کے جذبات جاگ اٹھیں گے یا وہ خدا سے ڈر کر راہ راست اور فطرت سلیمہ کی طرف لوٹ آئیں گے۔
اب ان کے خاتمے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور اللہ کا کلمہ سچ ہو رہا ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو نہیں بھیجتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت پھر کسی کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ اب ہمارے سامنے آخری منظر آتا ہے۔ یہ ہلاکت ، تباہی اور زمین میں دھنس جانے کا منظر ہے۔ ایک ہمہ گیر تباہی ہے جو ہر طرف نظر آتی ہے۔
Ayahs 15:73–74آیت نمبر 73 تا 74
حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر جو عذاب آیا وہ بظاہر شدید زلزلے اور آتش فشانی کے مشابہ ہے ، جس میں گاؤں کے گاؤں دھنس جاتے ہیں ، جس میں پتھروں کی بارش بھی ہوتی ہے اور جس میں خاک آلود پتھر بھی ہوتے ہیں اور ہمہ گیر تباہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے بحیرۂ لوط اس ہمہ گیر حادثے کے بعد نمودار ہوا ، اس وقت جب سدوم کی پوری کی پوری آبادی زمین میں دھنس گئی ، اور اس جگہ اس قدر بڑا گڑھا نمودار ہوا کہ وہاں پانی جمع ہو کر بحیرہ بن گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی یہ بستیاں حجاز سے شام جاتے ہوئے شارع عام پر واقعہ تھیں اور ان کو دیکھ کر ہر عقل مند اور ذی بصیرت شخص عبرت حاصل کرسکتا ہے لیکن یہ تمام آیات و نشانات صرف ان دلوں کے لئے مفید ہوتے ہیں جن میں صلاحیت ہو اور جو ہدایت کے لئے کھلے ہوں اور جن میں حقیقی ایمانی نظریات موجود ہوں۔
Ayahs 15:75–77آیت نمبر 75 تا 77
یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔
٭٭٭
یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔
Ayahs 15:78–84آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد مدین اور ایکہ والے ہیں کیونکہ ان دونوں بستیوں کے کھنڈرات شارع عام پر موجود ہیں اور ابھی تک ان کے آثار قائم ہیں۔ ان دونوں سے مراد قریہ لوط اور قریہ شعیب بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی شارع عام پر موجود ہیں۔ ہلاکت سے دوچار ہونے والی اقوام کا شارع عام پر ہونا زیادہ عبرت آموز ہوتا ہے کیونکہ انسان صبح و شام وہاں سے گزرتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ یہ بستیاں بھی اسی طرح زندہ تھیں جس طرح آج ان کا ماحول زندہ ہے۔ ان کھنڈرات کے اردگرد زندگی سے بھر پور آبادیاں ہیں اور وہ سوئی پڑی ہیں
اصحاب الحجر کون تھے ؟ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھے۔ حجر بھی شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں واقع ہے۔ یہ وادی اور اس کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں کیونکہ یہ بستیاں انہوں نے بڑی بڑی چٹانیں کاٹ کر بنائی تھیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ترقی یافتہ تھے اور ان کے ہاں ٹیکنالوجی کس قدر ترقی کرچکی تھی۔
ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15 : 80) “ حجر کے لوگ بھی اس سے قبل رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں ”۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لیکن صالح جماعت رسل کے نمائندہ تھے۔ لہٰذا ایک کی تکذیب سب کی تکذیب قرار پائی۔ جب انہوں نے ان کی تکذیب کی تو کہا گیا کہ انہوں نے تمام مرسلین کی تکذیب کی۔ کیونکہ رسول اور رسالت ایک ہی ادارہ ہیں۔ وہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی نظریہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود وہ ایک ہی تھے۔
واتینھم ایتنا فکانوا عنھا معرضین (15 : 81) ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے ”۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نشانی اور ان کا معجزہ تو ناقہ تھی لیکن نشانی کے بجائے نشانیاں اس لیے کہا گیا کہ ناقہ کے علاوہ اور نشانیاں بھی تو اس کائنات میں بکھری پڑی ہیں۔ خود انسان کی ذات میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ یہ سب نشانیاں ہمارے غورو فکر کو دعوت دے رہی ہیں ، اگر انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ایک معجزے سے انکار کیا تو دراصل انہوں نے اس کائنات میں بکھرے ہوئے تمام معجزات کا انکار کردیا۔ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے اپنے ضمیر و شعور کے دروازے بند رکھے۔
وکانوا۔۔۔۔۔ امنین (82) فاخذتھم ۔۔۔۔ مصبحین (83) فما اغنی ۔۔۔۔۔ یکسبون (84) (15 : 82 تا 84) “ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بےخوف اور مطمئن تھے۔ آخر کار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے ہی آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ”۔ یہ لمحہ ان کے لئے اچانک آیا ، یہ لوگ پہاڑ کے تراشے ہوئے مکانات کے اندر محفوظ بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے جو کچھ کمایا تھا ، جو مضبوط عمارات تعمیر کی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر جس قدر مضبوط رہائش گاہیں بنائی تھیں ان میں سے کچھ ان کے کام نہ آیا۔ ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ان بستیوں میں پھر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ لمحہ انسانی شعور پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر جو لوگ اپنے لئے پناہ گاہیں بناتے ہیں ان سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان رات گزار کر جب صبح میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت وہ بڑے اطمینان سے رات کو بلا خوف و خطر الوداع کہتا ہے ، لیکن صبح کے ان اطمینان بخش لمحات میں ان کو ایک زبردست دھماکہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ سب کچھ کھو دیتے ہیں ، ان کی تمام احتیاطی تدابیر ختم ہوجاتی ہیں ، ان کے محفوظ قلعے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کڑک دار دھماکے کے پیچھے کچھ چیز بچ کر نہیں نکلتی۔ یہ تیز ہوا تھی ، یا تیز دار تھی اور اس کے اثر سے یہ لوگ اپنے محفوظ ترین گھروں میں لاشوں کے ڈھیر بن گئے۔
یوں اس سورة میں تاریخی قصص و واقعات پر ایک سر سری نظر ڈالی جاتی ہے اور ان تمام قصص میں صرف یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے ، اقوام کی بربادی کا وقت آ پہنچتا ہے پھر سنت الہٰیہ کے مطابق عذاب الٰہی آتا ہے اور فرشتے حق کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور پھر سنت الٰہیہ ایک لمحے کی مہلت نہیں دیتی ۔ یہ سبق ان تمام قصص کا قدر مشترک ہے اور اس کی وجہ سے یہ سب واقعات آپس میں مربوط ہیں۔
Ayahs 15:85–86درس نمبر 118 ایک نظر میں
یہ ہیں وہ سنن الٰہیہ جن میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ان نوامیس اور سنن کے مطابق چلتی ہے۔ یہی قوانین و نوامیس کائنات اور زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جماعت اور تحریکات کو بھی یہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے نتائج بھی ان نوامیس الٰہیہ کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ اقوام کا انجام اور آخرت کا حساب و کتاب بھی انہی نوامیس فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سورة کا ہر سبق انہی نوامیس فطرت اور سنت الٰہیہ کے مطابق اختتام پذیر ہوتا ہے اور مختلف اسالیب میں سنن الٰہیہ کو پیش کرتا ہے۔ یہ نوامیس فطرت اللہ کی تمام مخلوقات کے اندر پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے اور فطرت کائنات اسی حق پر قائم ہے۔
چناچہ اس سورة کے خاتمے پر اس عظیم سچائی کو واضح کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سچائی زمین و آسمان اور ان کے درمیان پائے جانے والے تمام موجودات کی فطرت میں عیاں ہے۔ یہ کہ قیامت برپا ہونے والی ہے۔ یہ اس کائنات کا فطری انجام ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے ، اور یہ کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے اور اس ناموس فطرت کے مطابق ہے۔ تمام رسولوں کے درمیان قدرت مشترک یہ ہے کہ وہ ایک ہی عظیم حق کے حامل ہیں جو روشن ہے۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ سچائی تمام مخلوقات کے اندر موجود ہے ، اور اللہ ہی اس سچائی کا خالق ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم (15 : 86) “ یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ لہٰذا اس سچائی کو آگے بڑھنا چاہئے اور اس سچائی پر جو اسلامی دعوت برپا ہے اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھے۔ داعیان حق کسی کی پرواہ نہ کریں اور آگے بڑھیں۔ اور دعوت کے مخالفین اور مذاق اڑانے والوں کی کوئی پرواہ نہ کریں۔
فاصدع بما تومر واعرض عن المشرکین ( 15 : 94) “ آپ ﷺ کو جو حکم دیا جاتا ہے اسے صاف صاف بتائیں اور مشرکین کو نظر انداز کردیں ”۔ اللہ کی سنت بھی اپنی راہ پر گامزن ہے ، وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ سنت الٰہیہ کی پشت پر جو سچائی ہے اور یہ سچائی دعوت اسلامی ، قیام قیامت اور تخلیق ارض سے وابستہ ہے۔ یہ سچائی ان تمام چیزوں سے متعلق ہے جو زمین و آسمان میں موجود ہیں اور جو اخلاق علیم کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی اور تنبیہ ہے جس پر اس سورة کا خامتہ ہو رہا ہے اور یہ تنبیہ انسان کو اس عظیم سچائی کی طرف متوجہ کرتی ہے جس پر یہ وجود قائم ہے۔
آیت نمبر 85 تا 86
یہ تبصرہ کہ آسمان و زمین کی تخلیق ایک سچائی کے ساتھ ہوئی ہے ایک عظیم اور اہم تبصرہ ہے یعنی یہ کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سچائی کے ساتھ پیدا کردہ ہیں۔ یہ انداز بیان بھی عجیب ہے کہ تمام موجودات حق کے سوا کسی اور ناموس پر پیدا نہیں کئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس فقرے کا حقیقی مفہوم کیا ہے ؟۔
وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق (15 : 85) “ ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ”۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں سچائی کا گہرا دخل ہے۔ یہ سچائی کائنات کی گہرائیوں میں ہے۔ کائنات کی رفتار کے ضابطے میں سچائی موجود ہے۔ کائنات کا انجام اور خاتمہ بھی حق پر ہوگا۔
اس کائنات کے وجود میں سچائی ہے اور اس کی منصوبہ بندی اور اس کے نقشہ تخلیق میں سچائی ہے ، یعنی یہ کہ یہ بطور کھیل تماشا پیدا نہیں کی گئی۔ نہ یہ کائنات اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ اس کے اصل نقشے اور منصوبے میں نہ دھوکہ و فریب ہے ، نہ کھوٹ ہے اور نہ یہ باطل مخلوق ہے۔ اس پر اگر بظاہر باطل چھایا ہوا نظر آتا بھی ہے تو وہ اوپر ہوا ہوتا ہے ، باطل اس کائنات کے حقیقی عناصر میں سے نہیں ہے۔
اس کائنات کی ساخت میں سچائی بہت گہری ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی وہ ہیں جو حق کے عناصر ترکیبی ہیں۔ اس میں نہ وہم ہے ، نہ فریب ہے۔ وہ قوانین جو عناصر کائنات کو جوڑے رکھتے ہیں ، وہ سچائی پر مبنی ہیں اور ان قوانین میں کبھی بھی تخلف نہیں ہوتا۔ نہ ان میں تبدیلی آتی ہے اور نہ ان میں اضطراب ہوتا ہے۔ نہ ان میں کوئی التباس اور افراتفری ہوتی ہے۔
اس کائنات کی تدبیر اور کنٹرول نہایت ہی گہرے ضوابط پر ہے۔ اور اسے سچائی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس کائنات کے چلانے کے لئے جو نوامیس و ضوابط وضع کئے گئے ہیں وہ صحیح اور عادلانہ ہیں۔
اس کائنات کے انجام میں بھی حق گہرائی تک رچا بسا ہے۔ نہایت ہی محکم قوانین کے مطابق اس کائنات کے تمام نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان اشیاء کے اندر جو تغیر و تبدل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سچائی کے ساتھ ہوتا ہے اور سچائی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس کائنات میں جزاء و سزا کا ہر واقعہ اور ہر اصول سنت الٰہیہ کے مطابق ہے اور کوئی واقعہ سنت الہٰیہ کے برخلاف وقوع پذیر نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ قیامت جو یقیناً وقوع پذیر ہونے والی ہے ، وہ اسی سچائی کا نتیجہ ہے ، کیونکہ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ ہوئی ہے ، لہٰذا قیامت نے ایک دن واقعہ ہونا ہے ، یہ ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ جس ناموس کے مطابق یہ کائنات قائم و دائم ہے اور رواں دواں ہے ، اسی حق کا تقاضا ہے کہ ایک دن قیامت آئے۔ یہ بذات خود حق ہے۔ جب قیامت حق ہے تو اس کا وقوع بھی حق ہے۔
فاصفح الصفح الجمیل (15 : 85) “ لہٰذا ان لوگوں کی بیہودگیوں پر شریفانہ درگذر سے کام لیں ”۔ اور اپنے دل کو تنگ نہ کریں ، اور کسی کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھیں کیونکہ سچائی بہرحال سچ ہو کر رہنے والی ہے۔
ان ربک ھو الخلق العلیم ( 15 : 86) “ بیشک تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے ”۔ وہ پیدا کرنے والا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا اور کیوں پیدا کیا ؟ چونکہ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے لہٰذا ہر چیز کی ماہیت میں حق و دیعت شدہ ہے۔ لہٰذا جس طرح سچائی سے اس جہان کا آغاز ہوا اسی طرح سچائی پر اس کا اختتام ہوگا ۔ کیونکہ سچائی اس کائنات کی اصل ماہیت ہے اور سچائی کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے ، کھوٹ ہے ، ختم ہونے والی ہے اور زندہ و تابندہ اور دائماً سچائی نے رہنا ہے جو قلب کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے۔
رسول جو پیغام لے کر آئے ہیں وہ بھی اس کائناتی سچائی ہی کا ایک حصہ ہے ، اور اس کا ظہور بشکل قرآن ہے ، جو حضرت نبی ﷺ کو دیا گیا۔
Ayah 15:87آیت نمبر 87
۔ یہ سبع مثانی کیا ہیں ؟ راجح بات یہ ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی سات آیات ہیں۔ جیسا کہ روایات میں بھی وارد ہے ، مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز میں ان کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا ان کو مثانی اس یے کہا گیا کہ ان میں اللہ کی ثنا بیان ہوتی ہے۔ جبکہ قرآن عظیم سے مراد بقیہ قرآن ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں قرآن عظیم کو آیات تخلیق کائنات اور آیات وقوع قیامت کے ساتھ ایک ہی لڑی میں لایا گیا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تخلیق کائنات ، قیام قیامت اور نزول قرآن اسی ایک سچائی کی کڑیاں ہیں جو اس پوری کائنات کی روح ہے۔ اس طرح قرآن کریم دلوں کو اس عظیم سچائی اور نوامیس قدرت کو سمجھنے کے لئے مائل کرتا ہے جو اس کائنات میں پوشیدہ ہیں۔ نفس انسانی اور آفاق میں موجود ہیں۔ انہی کے مطابق لوگوں کو ہدایت و ضلالت نصیب ہوتی ہے ۔ حق و باطل کا انجام ، خیر وشر کی اقدار ، صلاح و فساد کا تعین اسی ناموس حق کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم اس حقیقی سچائی کی دفعات اور اصولوں پر مشتمل ہے اور قرآن ہی کے ذریعے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ جس سچائی پر کائنات قائم ہے وہ کیا ہے ؟ گویا جس سچائی پر اس کائنات کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ قرآن کریم ہے۔ اس سے نوامیس فطرت ثابت ہوتے ہیں ، اور یہ ان نوامیس فطرت کے ساتھ مربوط اور مرتب ہے۔ یہ قرآن کریم کوئی عارضی چیز نہیں ہے ، نہ ملنے والی حقیقت ہے۔ یہ حق ہے اور یہ ہمیشہ موثر رہے گا۔ یہ زندگی کی راہنمائی کرتا رہے گا۔ اگرچہ خندۂ و استہزاء کرنے والے خندہ و استہزاء کرتے رہیں۔ اگرچہ باطل پرست باطل کے جھنڈے اٹھائیں کیونکہ باطل زائل ہونے والا ہے اور ایک دن مٹنے والا ہے۔
جن لوگوں کو سورة فاتحہ دی گئی اور یہ قرآن عظیم دیا گیا ، جو اس کائنات کی عظیم سچائی پر مشتمل ہے جس کا اس عظیم سچائی اور حق اکبر کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، ان کی نظریں اس قدر بلند ہوجاتی ہیں کہ وہ پھر اس دنیا میں باطل چیزوں اور زائل ہونے والی چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ نہ ان کو باطل پرستوں کے ہاؤہو سے سے غرض ہوتی ہے ۔ وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے کہ وہ قلیل ہیں یا کثیر ہیں۔ ان کی تعداد کم ہے یا زیادہ ہے بہرحال ایسے لوگ اپنی راہ پر چلتے رہتے ہیں کیونکہ حق ان کے ساتھ ہوتا ہے لہٰذا ہر حال میں ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔
Ayahs 15:88–89آیت نمبر 88 تا 89
آنکھیں لمبی نہیں ہوتیں۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15 : 88) “ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو۔ جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ”۔ درحقیقت نظریں پھیلتی اور لمبی ہوتی ہیں لیکن للچائی نظروں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ گویا آنکھیں نکل کر لمبی ہوگئی ہیں۔ تخیل کی یہ تعجب انگیز اور طرب آمیز تصویر کشی ہے۔ مفہوم یہی ہے کہ اے رسول ، ان چیزوں کی طرف توجہ ہی نہ کرو ، ان کو اہمیت ہی نہ دو ، بعض مردوں اور عورتوں اور طبقوں کو جو یہ دولت دی گئی ہے اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے۔
ان چیزوں کو زیادہ اہتمام سے نہ دیکھو۔ ان کو خوبصورت نہ سمجھو ، ان کو دیکھ کر تمہاری نظریں خیرہ نہ ہوجائیں اور تم ان کی تمنائیں نہ کرنے لگو۔ یہ تو زائل ہونے والی چیزیں ہیں ، یہ حق نہیں ہیں ، باطل ہیں جبکہ اے پیغمبر ، آپ تو عظیم سچائی ، مثانی اور قرآن عظیم کے حامل ہیں۔
اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا میں محروم طبقات کو حالت محرومیت ہی میں چھوڑ دیا جائے ، اور منعم اور عیش پرست لوگوں کو ان کے مال و منال میں غرق اور مست چھوڑ دیا جائے جبکہ اعلیٰ اقدار مٹ جائیں اور معاشی عدل ختم ہوجائے اور دنیا مستقلاً محرومین اور مترفین کے درمیان منقسم ہوجائے۔ اسلام جو سچائی پر قائم ہے اور جو یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق اس کائنات کی روح ہے تو وہ کیسے اس قسم کی ظالمانہ اور غیر عادلانہ صورت حال کو جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
یہاں اس کا ایک خاص مقامی مفہوم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو رشد و ہدایت کی جو دولت دی گئی ہے وہ ان لوگوں کی زرق وبرق زندگی اور دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہٰذا آپ ان سرمایہ داروں کو نظر انداز کردیں اور مخلص مومنین کی طرف متوجہ ہوں ۔ کیونکہ یہ اہل ایمان جو دنیاوی اعتبار سے اگرچہ غریب ہوں گے لیکن یہ اس سچائی کے حاملین ہیں جس کے اوپر اس کائنات کی تخلیق کی گئی ہے اور ان تمام چیزوں کی تخلیق کی گئی ہے جو اس کائنات کے درمیان ہیں۔ دنیا دار لوگ تو باطل کے پیرو کار ہیں جو عارضی چیز ہے اور اس کا اس کائنات کی اصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ولا تحزن علیھم (15 : 88) “ اور ان کے حال پر اپنا دل نہ کڑھاؤ ”۔ یہ فکر نہ کرو کہ ان لوگوں کا انجام نہایت ہی بھیانک ظاہر ہونے والا ہے۔ قیامت کے دن یہ برا انجام اس حق کا تقاضا ہے لہٰذا ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔
واخفض جناحک للمومنین (15 : 88) “ اور ایمان لانے والوں کی طرف اپنے پر جھکاؤ ”۔ یہاں نرمی ، محبت اور شفقت کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے سامنے پر بچھاتا ہے۔ یہ نہایت ہی مصور انداز تعبیر ہے اور اسے قرآن کریم بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص فنی انداز ہے۔
وقل انی انا النذیر المبین (15 : 89) “ اور کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں ”۔ دعوت کا موثر اور حقیقی طریقہ ہی یہ ہے کہ بات واضح طور پر کہو ، یہاں موقعہ و محل چونکہ مکذبین اور مذاق کرنے والوں کا تھا۔ یہاں صرف ڈراوے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بشارت کو ترک کردیا گیا ہے۔ کیونکہ خطاب ان لوگوں سے تھا جو دنیا پرست ہیں اور اس سچائی پر غوروفکر نہیں کرتے جو تخلیق کائنات کی بنیاد ہے جس کے اوپر قرآن آیا ہے اور جس کے مطابق قیامت برپا ہوگی۔
تخلیق کائنات کی عظیم سچائی اور فاتحہ اور قرآن عظیم کے ذکر کے موقعہ پر یہاں یہ بھی بتا دیا گیا کہ رسولان سابق کے بعض معصبین قرآن کریم پر غور نہیں کرتے۔ اس کی بعض باتوں کو تو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی جو باتیں ان کی کتابوں سے موافق ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں اور جو باتیں زیادہ ہیں ان کو نہیں مانتے حالانکہ قرآن کریم اللہ کی آخری اور مکمل کتاب ہے اور اس میں وہ تمام سچائیاں جمع کردی گئی ہیں جن پر کتاب سابقہ مشتمل تھیں۔
Ayahs 15:90–93آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو تو قبول کرتے ہیں اور دوسرے حصے کو رد کردیتے ہیں۔ ( عضین جمع عضی ہے یعنی جزء۔ عضی الشاۃ یعنی فصل بین اعضائھا ان لوگوں نے اس رویہ کی مخالفت کی جو ان سے اہل کتاب ہونے کے حوالے سے متوقع تھا۔
فو ربک لنسئلنھم اجمعین (92) عما کانوا یعملون (93) (15 : 92- 93) “ تو قسم ہے تیرے رب کی ہم ضرور ان سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو ”۔ اور پوچھنے کا مقصد معلوم ہے یعنی سزا۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو حضور اکرم ﷺ کو براہ راست خطاب کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہ پر گامزن رہیں ۔ جو حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے اسے ببانگ دہل کہہ دیں۔ یہاں اس کے لئے صدع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی چیرنے کے ہیں یعنی پوری قوت سے بات کریں۔ لوگوں کا شرک کرنا اور اس پر اصرار کرنا آپ کو اپنی جدو جہد سے نہ روک دے۔ کیونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام اپنے انجام سے جلد ہی خبردار ہوجائیں گے۔ اسی طرح آج جو لوگ تحریکی اسلامی سے استہزاء کرتے ہیں وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے مذاق کو دعوت اسلامی کی رفتار پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔
Ayahs 15:94–96آیت نمبر 94 تا 96
اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔
Ayahs 15:97–99آیت نمبر 97 تا 99
یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟