15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 15:30–31

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

چناچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ،

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ”۔

آیت نمبر 30 تا 31 فرشتوں نے تو یہ سجدہ اس لیے کیا کہ ان کی فطرت ہی عبادت الٰہی اور تعمیل حکم ہے۔ بغیر چون و چرا کے اور ابلیس نے انکار اس لیے کیا کہ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ ملائکہ نوری مخلوق ہیں اور شیطان ناری۔ فرشتے ایسے ہیں کہ ان کو اللہ کی طرف سے جو حکم بھی ملے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، انہیں جو حکم ملے وہ کر گزرتے ہیں اور ابلیس نے یہ حکم ملتے ہی انکار کیا اور استکبار کیا۔ اس لیے یقیناً وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔ یہاں استثناء متصل نہیں ہے ، یہ اس طرح ہے جس طرح کہتے ہیں کہ فلاں کی اولاد تو سب آگئے مگر احمد نہیں آیا۔ جبکہ احمد فلاں کے بیٹوں میں سے نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہنے والا ہوتا ہے یا ان کے آنے والے کے فعل کے ساتھ۔ اس کا بھی کچھ تعلق ہوتا ہے اس لیے اسے استثنائیہ جملے میں یکجا کردیا جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو تھا ہی فرشتوں کو ، پھر ابلیس اس حکم کے مدلول میں کس طرح شامل ہوگیا۔ تو جواب یہ ہے کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ابلیس بھی اس حکم میں شامل تھا۔ سورة اعراف میں تو صراحت کے ساتھ ابلیس کو شامل کیا گیا۔ قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک ” اس نے کہا کس چیز نے تجھے منع کیا کہ تو سجدہ کرے جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ انداز بیان ہے کہ وہ حالاتی مفہوم پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ اسلوب قرآن میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر قطعی الدلالت ہے کہ اللہ کی طرف ابلیس کو بھی حکم دے دیا گیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حکم وہی ہو جو فرشتوں کو دیا گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتوں کے احکام میں ہی ابلیس کو شامل کردیا گیا ہو کیونکہ وہ ان سے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابلیس کو علیحدہ حکم دیا گیا ہو ، لیکن یہاں اس کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ یہاں اسے نظر انداز کرنا مطلوب تھا اور فرشتوں کو نمایاں کرنا مطلوب تھا۔ لیکن جس طرح ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا اور ہم بھی یہی موقف اختیار کرتے ہیں۔ فرشتوں کی حقیقت کیا ہے ؟ ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ غیبی امور ہیں اور مسلمات ایمانیہ میں سے ہیں۔ ہم ان پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح نصوص میں ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے عقل کے لئے ان حقائق تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ نصوص کے سوا کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا دائرہ کار نہایت ہی محدود ہے۔
Ayahs 15:32–33

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

رب نے پوچھا ” اے ابلیس ، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

“ اس نے کہا ” میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے “۔

آیت نمبر 32 تا 33 یہ غرور و استکبار کا مزاج بول رہا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ گرم آگ سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق کس قدر سرکش ہے۔ اسے خشک بجنے والا گارا نظر آتا ہے۔ اس سے بھی پہلے اس کی سڑی ہوئی حالت بھی نظر آتی ہے لیکن اسے وہ قدرتی روح نظر نہیں آتی جو عالم بالا سے اس جسد خاکی میں پھونکی گئی۔ یہ مغرور تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی عظمت ، شان اور مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کروں جسے گلی سڑی ہوئی مٹی کے ایسے گارے سے بنایا گیا ہے جو بج رہا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ اسے راندۂ درگاہ کردیا جائے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دے دیا جائے۔ ،
Ayahs 15:34–35

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

رب نے فرمایا ” اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے ،

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور اب روزاجر تک تجھ پر لعنت ہے “۔

آیت نمبر 34 تا 35 اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔
Ayahs 15:36–38

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

اس نے عرض کیا ” میرے رب ، یہ بات ہے تو پھر مجھے اس روز تک کے لئے مہلت دے جب کہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے “۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا ، ” اچھا ، تجھے مہلت ہے اس دن تک

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

جس کا وقت ہمیں معلوم ہے “۔

آیت نمبر 36 تا 38 یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔
Ayahs 15:39–40

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

وہ بولا ، ” میرے رب ، جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لئے دل فریبیاں پیدا کر کے ان سب کو بہکا دوں گا ،

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔

آیت نمبر 39 تا 40 یہاں ابلیس نے اپنا میدان جنگ خود ہی متعین کردیا ہے ، یہ کہ وہ زمین میں انسان کے خلاف جنگ کرے گا۔ لا زینن لھم فی الارض ” مین زمین میں ان کے لئے اپنے دل فریبیاں پیدا کروں گا “۔ اسی طرح اس نے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار کا بھی اعلان کردیا۔ وہ یہ کہ میں غلط اور مضر اعمال کو ان کے لئے خوشنما بناؤں گا۔ برے کو بھلا قرار دوں گا۔ مصنوعی خوبصورتیوں کے ذریعے ان کو دام فریب میں گرفتار کروں گا۔ چناچہ جو شخص بھی شرکا ارتکاب کرتا ہے وہ تب ہی کرتا ہے کہ شیطان اس کے لئے اسے خوشنما بنا دیتا ہے۔ شر کو وہ خیر کا لباس پہناتا ہے اور وہ شر کو ہرگز شر کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ شیطانی حربے کو اچھی طرح سمجھ لے انسان کو ہر اس معاملے پر چوکنا ہو کر غور کرنا چاہئے ۔ جس چیز کو خوشنما بنا دیا گیا ہو اور جس کی طرف نفس انسانی کا میلان زیادہ ہو ، اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایسے معاملات کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوگا انسان شیطان کے ان خوشنما ہتھیاروں سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ وہ تعلق باللہ کو ہر وقت مضبوط رکھے ، اللہ کی بندگی کماحقہ ادا کرے کیونکہ شیطان خود اقرار کرتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے مقابلے میں اس کے یہ ہتھیار کندہوں گے۔ وہ کہتا ہے۔ ولاغوینھم اجمعین (39) الا عبادک منھم المخلصین (40) (15 : 39- 40) ” میں ان سب کو بہکا دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو “۔ اور ہر دور میں اللہ اپنے بعض بندوں کو خالص کرلیتا ہے۔ جبکہ اللہ کے وہ بندے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیتے ہیں اور وہ اللہ بندگی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان کے حربے کارگر نہیں ہوتے ۔ شیطان نے یہ استثناء خود کردیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کائنات میں سنت الٰہیہ کیا ہوگی ؟ اور یہ کہ سنت الٰہیہ سے فرار ممکن نہیں ہے۔ سنت الہٰیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو اپنے لیے چن لے گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا۔ ایسے بندے اللہ کی حمایت میں ہوں گے۔ اللہ کی زیر نگرانی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی صاف صاف جواب دے دیا :
Ayahs 15:41–42

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا ” یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا۔ تیرا بس تو صرف ان بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں “۔

آیت نمبر 41 تا 42 یہ سیدھی راہ ہے ، یہ ناموس فطرت ہے ، یہ سنت الٰہیہ ہے ، ہدایت و ضلالت میں اللہ نے یہی سنت قرار دی ہے ، یہ کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطانی چالیں کارگر نہ ہوں گی اور یہی قانون الٰہی ہے ، شیطان ان پر اثرات نہ ڈال سکے گا اور اس دنیا کو وہ ان کے لئے مزین نہ بنا سکے گا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ نے شیطان کو یہ کام کرنے سے روک دیا ہے۔ وہ اللہ کی حمایت میں آچکے ہیں ، ان بندوں تک شیطان کا داخلہ بند ہوتا ہے ، اس لیے کہ ان کی نظریں ہر وقت اللہ پر ہوتی ہیں اور یہ بندے ناموس فطرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شیطانی چالیں صرف ان لوگوں پر چلتی ہیں جو گمراہ ہوں اور جو شیطان کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ بھی استثناء منقطع ہے کیونکہ اللہ کے صالح بندے گمراہوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ شیطان تو صرف ان لوگوں کو شکار کرتا ہے جو بھٹک چکے ہوں جیسا کہ بھیڑیا بھٹکی ہوئی بکری کو بسہولت شکار کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے نفوس خالص ہیں اور اللہ کے لئے خالص ہوچکے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ ضائع ہونے نہیں دیتا۔ اس کی رحمتیں وسیع ہوتی ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے بھی رہ جائیں تو بھی وہ راہ پالیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو گمراہ ہوچکے ہیں تو ان کا انجام آغاز کائنات ہی سے معلوم ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
Ayahs 15:43–44

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کے لئے جہنم کی وعید ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لئے کی گئی ہے ) اس کے سات دروازے ہیں ، ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک حصہ مخصوص کردیا گیا ہے “۔

آیت نمبر 43 تا 44 سات دروازے کا لفظ محض عدد کا اظہار ہے یا واقعی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے دونوں معنوں کے لینے سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گمراہوں کی کئی اقسام اور درجات ہیں اور گمراہی کی بھی کئی شکلیں اور رنگ ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے لوگوں کے لئے ایک دروازہ مخصوص ہوگا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے۔ یہ قصہ اب مقام عبرت اور غرض وغایت کے بیان کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے کہ انسان کی ذات میں اس کا مادی پہلو کس طرح انسان کے روحانی پہلو پر غالب آجاتا ہے اور یہ کہ جو لوگ تعلق باللہ کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کو دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ آخر میں گمراہوں کے انجام کے بالمقابل بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کا انجام کس قدر خوبصورت ہوگا۔
Ayahs 15:45–48

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بخلاف اس کے متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بےخوف و خطر۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے ۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

انہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے “۔

آیت نمبر 45 تا 48 متقی کون ہیں ؟ وہ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں جو عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں۔ جتنوں میں جن چشموں کا ذکر ہے وہ سات ابواب کے بالمقابل ہے۔ یہ لوگ جنتوں میں نہایت ہی امن و اطمینان سے اتریں گے اور وہ اس طرح خوفزدہ نہ ہوں گے جس طرح اہل جہنم تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی وہ بھی ہم نکال دیں گے ۔ جبکہ ابلیس کے دل میں جو حسد اور کینہ ہوگا وہ اہل جہنم کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے۔ جبکہ اہل جنت کے لئے کوئی مشقت نہ ہوگی اور نہ ان کے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ یہ لوگ زمین میں خدا سے ڈرتے تھے ، لیکن یہاں ان کے لئے کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔ رب کریم کے جوار رحمت میں خوش و خرم ہوں گے۔ درس نمبر 117 ایک نظر میں اس سبق میں اللہ کی رحمت اور اللہ کے عذاب دونوں کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی کبرسنی کے باوجود اولاد دی جاتی ہے اور اسے اولاد علیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو نجات دی جاتی ہے اور اس رحمت سے صرف ان کی بیوی محروم ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ظالمین سے تھا۔ پھر یہاں اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے برے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ تمام قصص اور مثالیں اس تمہید کے بعد آتی ہیں : نبیء عبادی ۔۔۔۔۔ الرحیم (39) وان عذابی ھو العذاب الالیم (50) (15 : 49 – 50) ” اے نبی میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے “۔ چناچہ ان امثلہ و قصص میں سے بعض تو اللہ کی رحمت کی مثالیں ہیں اور بعض اللہ کے عذاب کی۔ یہ قصص اس سورة کے ابتدائی تبصرے کے بھی مناسب ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا : ذرھم یاکلوا ۔۔۔۔ یعلمون (3) وما اھلکنا ۔۔۔۔۔ (4) ما تسبق ۔۔۔۔۔ (5) (15 : 3 تا 5) ” چھوڑ دو ، انہیں ، کھائیں پئیں ، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی تھی۔ کوئی قوم نہ تو اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے “۔ چناچہ یہ قصص ان بستیوں کی مثالیں ہیں جو ہلاک کی گئیں اور جب ان کی مہلت عمل ختم ہوگئی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ نیز سورة کے آغاز میں فرشتوں کے نزول کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا کہ وہ حق کے ساتھ اترتے ہیں۔ وقالوا یایھا الذی ۔۔۔۔۔۔ لمجنون (6) لو ما تاتینا ۔۔۔۔۔ من الصدقین (7) ما ننزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔ منظرین (6 تا 8) ” یہ لوگ کہتے ہیں ” اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا ؟ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی “ ۔ یوں یہ سورة ایک متحد اور مربوط مضمون بن جاتی ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے موید نظر آتے ہیں ، یہ اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن سے نازل نہ ہوتی تھیں جس طرح ہم مصحف میں پاتے ہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ سورتوں کے اندر آیات کی ترتیب اللہ کی جانب سے ہے یعنی توقیفی ہے۔ لہٰذا اس خدائی ترتیب کے اندر حکمت اور ترتیب ضرور ملحوظ ہے۔ ان سورتوں کے مضامین کی ترتیب اور ہم آہنگی کے سلسلے میں اللہ نے بعض پہلو ہم پر منکشف کیے ہیں جن کا بیان ہم نے تمام سورتوں کے مقدمات میں کیا ہے۔ ہر سورة کی ایک فضا اور اس کے خدو خال بیاں کئے ہیں ، حقیقی علم بہر حال اللہ کو ہے۔ ہم نے جو ترتیب ، ربط مضامین اور حکمت بیان کی ہے وہ اجتہادی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
Ayahs 15:49–50

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

اے نبی ؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے “۔

درس نمبر 117 تشریح آیات 49 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 84 آیت نمبر 49 تا 50 گمراہوں کے عذاب اور متبعین کی جزاء کے ذکر کے متصلاً بعد حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس مضمون کا اعلان کردیں۔ سیاق کلام میں اس کا ربط ظاہر ہے ، یہاں اعلان رحمت اور مغفرت کو مقدم کیا گیا ہے اور اعلان سزا کا تذکرہ بعد میں کیا گیا ہے ، کیونکہ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ لوگوں کو اس کی رحمت و مغفرت نصیب ہو ، کیونکہ اللہ نے رحمت و مغفرت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ، ہاں کبھی کبھی مضمون اور مقام کے تقاضے کے مطابق صرف عذاب کا تذکرہ ہوتا ہے یا تذکرہ تو دونوں کا ہوتا ہے لیکن سیاق کلام میں کسی مخصوص حکمت کی وجہ سے عذاب الٰہی کا تذکرہ پہلے آجاتا ہے۔ اس کی تشریح ایسے مقامات پر بھی کی گئی ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان فرشتوں کا قصہ آتا ہے جو قوم لوط کی بیخ کنی کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ قصہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ اسے مختلف انداز میں لایا گیا ہے۔ ہر مقام کی مناسبت سے اس قصے کا ایک حصہ لیا گیا ہے۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ بعض مقامات پر علیحدہ بھی آیا ہے۔ سورة اعراف میں قصہ لوط کا ایک حصہ گذر گیا ہے۔ پھر سورة ہود میں بھی قصہ ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ہے۔ سورة اعراف میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب سے اپنی قوم کی فحاشی پر نکیر اور سرزنش کا ذکر تھا اور قوم کی طرف سے ان کی نکیر کا یہ جواب دیا گیا تھا : اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون ” نکالو ان کو اپنے گاؤں سے ، یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں “۔ لیکن جب عذاب الٰہی آیا تو اللہ نے انہیں اور ان کے اہل و عیال کو نجات دے دی ، ماسوائے ان کی ایک بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہاں فرشتون کی آمد اور ان کے بارے میں قوم کی سرگوشیوں کا ذکر نہ تھا۔ سورة ہود میں یہ قصہ ذکر ملائکہ پر مشتمل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بات کی گئی ہے لیکن انداز گفتگو ہر جگہ مختلف ہے۔ وہاں بعض تفصیلات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آپ کی بیوی کھڑی تھی اور فرشتوں کی جانب سے بشارت سن رہی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے تکرار شروع کردی۔ ان کڑیوں کا تذکرہ یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں واقعات کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ سورة ہود میں جو واقعات بیان ہوئے ، ان میں فرشتوں کی حقیقت کو پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کی حقیقت ان پر اس وقت کھلی جب لوگ لوط (علیہ السلام) کے خوبصورت مہمانوں کا سن کر دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بےعزتی سے بچانے کی خاطر ان کی منت سماجت کر رہے تھے اور وہ آپ کی ایک بھی نہ مان رہے تھے یہاں تک کہ ان کو دل بھر آیا اور وہ یہ اندوہناک بات کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔ لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید ” اے کاش کہ میں تمہارے مقابلے میں قوت رکھتا یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لیتا “۔ یہاں قصے میں ابتداء ہی سے فرشتوں کی حقیقت بتا دی گئی ہے اور لوگوں کے مشورے اور برے ارادوں کی بات کو بعد میں لایا گیا ہے ، کیونکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ قصہ کے واقعات کی ترتیب کیا ہے بلکہ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کا عذاب کس طرح آتا ہے اور یہ کہ جب فرشتے آتے ہیں تو پھر مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 15:51–56

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ذرا ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا قصہ سناؤ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ آئے اس کے ہاں اور کہا ” سلام ہو تم پر “۔ تو اس نے کہا ” ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے “۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ۔ ” ڈرو نہیں ، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں “۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا ” کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

“۔ انہوں نے جواب دیا ، ” ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں ، تم مایوس نہ ہو “۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں “۔

آیت نمبر 51 تا 56 جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے : فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کے واقعات بیان کرنا مطلوب نہیں ہے ، اس لیے یہاں جلدی سے خوشخبری کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔ قالوا لا تو جل انا نبشرک بغلم علیم (15 : 53) ” انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں “۔ یوں یہ خوشخبری تیزی سے دی گئی ، جیسا کہ ہمیشہ خوشخبری دینے والا تیزی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی سیاق کلام میں تفصیلات کو چھوڑ کر خوشخبری سنا دی۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں جواب و استفسار واستعجاب کا ذکر ہوتا ہے اور حضرت کی بیوی کا کلام ترک کردیا جاتا ہے۔ قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون (15 : 54) ” فرمایا کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی خوشخبری دیتے ہو ؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہو ہو ؟ ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بات کو مستبعد سمجھا کہ اس عمر میں ان کو اولاد نصیب ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جبکہ دوسری جگہ تصریح آئی ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میری بیوی بوڑھی اور بانجھ ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا : قالوا بشرنک بالحق فلا تکن من القنطین (15 : 55) ” انہوں نے کہا ہم نے تمہیں برحق بشارت دی ہے ، تم مایوس نہ ہو “۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائی اور مایوسی کا انکار کردیا۔ قال ومن یقنط من رحمۃ ابہ الا الضالون (15 : 56) ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا “ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات میں قرآن کریم نے لفظ رحمت کو نقل کیا ہے ، یہ سیاق کلام میں موضع و محل کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ ان کی بات ایک قاعدہ قرار پاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صراط مستقیم گم کردیا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہوتے ہیں ، ان پر رحمت خداوندی کی خوشگوار ہوا نہیں چلتی ، ان کو یہ احساس نہیں رہتا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی رحمتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہر ہر لمحہ وہ اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جو قلب رحمت خداوندی سے تروتازہ ہوتا ہے ، جو رحمان سے جڑا ہوا ہوتا ہے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ مصائب و شدائد میں گھرا ہوا ہو ، اگرچہ اس کے ارد گرد مصائب کی تاریکیاں ہوں ، اگرچہ مایوسیوں کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں اور اگرچہ منزل کا پتہ دور دور تک نہ ہو ، اس لیے کہ رحمت خداوندی ہر وقت قلوب مومنین سے قریب ہوتی ہے۔ اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مخلوق یعنی فرشتوں کی طرف سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہوں نے جو خوشخبری دی اس پر ان کو ولی اطمینان اور مسرت حاصل ہوگئی ہے۔ اب وہ ان فرشتوں کی آمد کی اصل غرض وغایت پوچھتے ہیں۔
Ayahs 15:57–60

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا ” اے فرستاد گان الٰہی ، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

“ وہ بولے ” ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

صرف لوط (علیہ السلام) کے گھر والے مستثنیٰ ہیں ، ان سب کو ہم بچالیں گے ،

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے اس کی بیوی کے جس کے لئے (اللہ فرماتا ہے کہ ) ہم نے مقدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

آیت نمبر 57 تا 60 یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو دونے کے بعد اس کے تھنوں میں رہ جاتا ہے ) چناچہ فرشتے قوم لوط کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 15:61–66

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب یہ فرستادے لوط (علیہ السلام) کے ہاں پہنچے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو اس نے کہا ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ” نہیں ، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے ۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھروالوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی پلٹ نہ دیکھے ۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔

آیت نمبر 61 تا 66 یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔ قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو یقین تھا کہ یہ قوم ان کے مہمانوں کے ساتھ برا سلوک کرے گی۔ نیز یہ کہ وہ اپنی قوم میں کمزور ہیں اور لوگ طاقتور اور فساق و فجار ہیں ، یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اس گاؤں میں آگئے ہو حالانکہ یہ لوگ جس فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور تم جیسے لوگوں کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے ہیں وہ معروف و مشہور ہے لیکن فرشتوں نے وضاحت کردی : قالوا بل ۔۔۔۔ فیہ یمترون (63) واتینک ۔۔۔۔۔ لصدقون (64) (15 : 63- 64) ” انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس آنے کے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان تاکیدان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملے میں کس قدر بےبس ہوگئے تھے اور ان کی بےچینی کا عالم کیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک طرف سے وہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں اور دوسری جانب وہ قوم کے مقابلے میں بےبس ہیں۔ چناچہ فرشتوں نے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں ان کو تسلی دی اور ان کو فائنل ہدایات دینے سے قبل ان کو اچھی طرح مطمئن کردیا کہ اب ان لوگوں کا وقت ختم ہے۔ فاسر باھلک ۔۔۔۔۔۔ حیث تومرون (15 : 65) ” لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی بات پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے “۔ سری ، رات کے سفر کو کہتے ہیں۔ رات کا قطعہ یعنی اس کا ایک حصہ ، حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے وقت نکل جائیں ، صبح سے پہلے پہلے ، حضرت خود ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ ان میں سے کوئی تذبذب نہ کرے ، پیچھے نہ دیکھے یعنی اپنے علاقے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ انسان جب اپنا محبوب علاقہ چھوڑتا ہے تو وہ نکلنے میں سست روی اختیار کرتا ہے۔ بار بار پیچھے دیکھتا ہے اور یہاں چونکہ صبح کے وقت ہی عذاب آنے والا تھا اور وقت مقرر تھا اس لیے ان کو بروقت نکلنے کی سخت تاکید کی گئی ۔ وقضینا الیہ۔۔۔۔۔ مصبحین (15 : 66) ” اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی “۔ یہ عظیم فیصلہ تھا اور پیغمبر کو قبل از وقت اس سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ صبح سے پہلے پہلے ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ جب ان کی جڑ کٹ گئی تو شاخیں خود بخود کٹ گئیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس سے ان کا مکمل استیصال ظاہر ہوتا ہے ، لہٰذا اہل اسلام کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔ یہ نہ ہو کہ کفار کی طرح یہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے۔ کیونکہ پیچھے رہنے والے عمومی عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں اس انجام کو دوسرے واقعات سے قبل ہی پیش کردیا گیا کیونکہ سورة کے موضوع اور محل کا تقاضا ہی یہ تھا۔ اس کے بعد وہ واقعات دے دئیے جو مہمانوں کی آمد کے موقع پر پیش آئے۔ انہوں نے جب سنا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر چاند جیسے چہروں والے نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں ، (بعض روایات میں آیا ہے کہ ان مہمانوں کے بارے میں اطلاع خود حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان اوباشوں کو دی تھی ) تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے کہ خوب شکار ملا ہے۔
Ayah 15:67

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

” اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بیتا ہو کر لوط (علیہ السلام) کے گھر چڑھ آئے “۔

آیت نمبر 67 اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فسق و فجور اور فحاشی وبے حیائی کی حدیں پار کر گئے تھے اور یہ قوم سب کی سب اخلاقی مریض تھی۔ یہ منظر کس قدر عجیب و شرمناک ہے کہ یہ لوگ گروہ در گروہ آرہے ہیں ، خوشیاں منا رہے ہیں اور اعلانیہ کہہ رہے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے۔ ایک تو برائی اور بےراہ روی ہے ، دوسرے یہ کہ یہ اعلانیہ اور دیدہ دلیری سے کی جا رہی ہے۔ کوئی بھی صحت مند انسانی معاشرہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک فرد تو یہ رویہ کبھی کبھار اختیار کرسکتا ہے لیکن وہ بھی اپنی بیماری کو چھپاتا ہے۔ وہ یہ بےراہ لذت خفیہ طور پر حاصل کرسکتا ہے اور اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے شرمندگی سے بچا سکتا ہے ۔ لیکن ایک پورا معاشرہ اعلانیہ ایسا کرے اس لیے کہ اگر جنسی لذت سے کوئی سلیم الفطرت شخص جائز حدود کے اندر بھی لطف اندوز ہوتا ہے تو وہ بھی خفیہ طور پر ایسا کرتا ہے۔ بعض حیوانات بھی جنسی ملاپ کو چھپاتے ہیں لیکن ان لوگوں کو دیکھو کہ یہ لوگ میلے ٹھیلے کی طرح اعلانیہ اس فحاشی کے لئے جا رہے ہیں ، اس کا اعلانیہ مطالبہ کرتے ہیں ، ارادہ ظاہر کرتے ہیں اور اجتماعی شکل میں اس کام کے لئے آتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسانی سوسائٹی کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ان حالات میں ، نہایت بےبسی کے حالات میں ، حضرت لوط (علیہ السلام) نہایت ہی کربناک اور اندوہناک حال پریشانی میں کھڑے ہیں ، وہ اپنے مہمانوں اور اپنی آبرو بچانے کی سعی کرتے ہیں ، وہ انہیں انسانی شرافت اور انسانی قدروں کا واسطہ دے رہے ہیں ، وہ ان کو خدا سے ڈراتے ہیں ، وہ اللہ کا واسطہ دے رہے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے دل خدا خوفی سے عاری ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں میں نہ آدمیت کا احساس ہے ، نہ انسانی شعور ہے ، اور نہ ان کے اندر خدا خوفی اور تقویٰ نام کی کوئی چیز ہے۔ لیکن وہ اس حالت پریشانی میں بھی بہرحال اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور انہیں انسانیت کا واسطہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ تو مہمان ہیں اور خدا سے ڈراتے ہیں کہ تمہارے جو ارادے ہیں وہ خدا کے حکم کے خلاف ہیں ، بہرحال وہ سعی کرتے ہیں۔
Ayahs 15:68–69

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے کہا ” بھائیوں ، یہ میرے مہمان ہیں ، میری نصیحت نہ کرو ،

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو ، مجھے رسوا نہ کرو “۔

آیت نمبر 68 تا 69 حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ دلدوز اپیل ، بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں انسانی جذبات کو ابھارے اور یہ کہ وہ شرم محسوس کریں ، اس کے جواب میں انہوں نے مزید دیدہ دلیری شروع کردی۔ انہوں نے خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو ڈانٹ پلانا شروع کردی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کو اپنا مہمان بناتے ہیں جو ہمارے کام کے ہیں۔ گویا مجرم وہ نہیں ہیں بلکہ اصل مجرم حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ان کے سامنے ایک ایسا شکار لاتے ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ پر کوئی ضبط نہیں کرسکے۔