Ayahs 80:34–423۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے بےپرواہ کردے گی۔
4۔ طبرانی نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو پیدا، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کیے ہوئے اٹھایا جائے گا۔ پوچھا گیا یارسول اللہ ! مرد عورتوں کی طرف دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا آیت لکل امرء منہم یومئذ شان یغنیہ۔
5۔ الطبرانی فی الاوسط صحیح سند کے ساتھ ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگوں کو قیامت کے دن ننگے بدن اور ننگے پاؤں اٹھایا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اور ان کی شرم گاہوں جو ننگی ہوں گی ہمارا بعض، بعض کی طرف دیکھے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لوگ مشغول ہوں گے میں نے عرض کیا ان کا کیا مشغلہ ہوگا ؟ فرمایا ان کے اعمال نامے چونٹیوں اور رائی کے دانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں۔
6۔ الحاکم وصححۃ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کیے ہوئے اٹھائے جائیں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! شرم گاہوں کا کیا ہوگا۔ جبکہ وہ ننگی ہوں گی۔ آپ نے فرمایا آیت لکل امرء منہم یومئذ شان یغنیہ۔
7۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے قیامت کے دن جو اپنے باپ سے بھاگے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے اور سب سے پہلے جو اپنی ماں سے بھاگے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں۔ اور سب سے پہلے جو اپنے بیٹے سے بھاگے گا وہ نوح (علیہ السلام) ہوں گے۔ اور سب سے پہلے جو اپنے بھائی سے بھاگ گا ہو ہابیل ہوں گے۔ اور سب سے پہلے جو اپنی بیوی سے بھاگے گا وہ نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) ہوں گے۔ ا وریہ آیت تلاوت کی آیت یوم یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ پس وہ جانتے ہیں کہ یہ آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی۔
8۔ ابو عبید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن انسان پر اس سے شدید اور سخت کوئی چیز نہ ہوگی کہ وہ دیکھے گا اس کو جس کو پہچان نے گا اس خوف سے کہ وہ اس سے ظلم کا بدلہ طلب کرے گا پھر یہ آیت پڑھی آیت یوم یفر المرء من اخیہ۔ الایۃ۔
9۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسفرۃ سے مراد ہے کہ ان کے چہرے روشن ہوں گے آیت ترھقہا قترۃ ان پر سیاہی چھارہی ہوگی یعنی ان پر شدت اور ذلت چھائی۔
10۔ ابن ابی حاتم نے عطا خراسا انی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کہ قترۃ سے مراد ہے چہروں کا سیاہ ہوں ا۔
11۔ ابن ابی حاتم من طریق جعفر بن محمد سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کو پسینے کی لگام دی جائے گی۔ پھر ان کے چہروں پر غبار واقع ہوگا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ۔ اور کچھ چہرے اس دن ایسے ہوں گے کہ ان پر غبار پڑا ہوگا۔