Ayahs 79:36–41جہنم ظاہر کردی جائے گی
17۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبرزت الجیحم لمن یری اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی۔ یعنی ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی۔
Ayah 79:4218۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ سو جب وہ بڑا حادثہ آئے گا یعنی جب دوزخی دوزخ کے داروغہ مالک کی طرف بھیجے جائیں گے آیت فاما من طغی سو جس نے سرکشی کی یعنی نافرمانی کی یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰہا آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا یعنی اس کا وقت کب ہوگا۔ آیت فیم انت من ذکرٰہا آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ یعنی قیامت سے۔
19۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو یہ آیت فیم انت من ذکرہا نازل ہوئی۔
20۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مشرکین نے نبی ﷺ سے مذاق کرتے ہوئے سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہوگی تو یہ آیت یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰہا نازل ہوئی یعنی اس کا آنا کب ہوگا۔ آیت فیم انت من ذکرہا۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ اس کا علم نہیں رکھتے۔ آیت الی ربک منتھٰہا یعنی اس کا آنا کب ہوگا۔ آیت فیم انت من ذکرہا۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ اس کا علم نہیں رکھتے۔ آیت الی ربک منتہہا یعنی اس کے علم کی انتہا تیرے رب کے پاس آیت انما انت منذر من یخشہا۔ بیشک آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔ یعنی جو قیامت سے ڈرتا ہے آیت کانہم یوم یرونہا جس دن اسے دیکھ لیں گے گے۔ یعنی قیامت کو دیکھیں گے ان کو یوں محسوس ہوگا آیت لم یلبثو ا کہ وہ نہیں ٹھہرے تھے۔ یعنی دنیا میں اور انہوں نے اس کی نعمتوں سے کوئی لطف نہیں اٹھایا تھا آیت الا عشیۃ مگر ایک شام تک یعنی ظہر کے وقت سے لے کر سورج کے غروب ہونے کے وقت تک۔ آیت او ضحٰہا یا اس کی صبح تک یعنی سورج کے طلوع ہونے سے آدھے دن تک۔
Ayahs 79:43–4521۔ البزار وابن جریر وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ برابر قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ ان پر یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی ربک منتہہا۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔ نازل ہوئی پھر آپ نے اس بارے میں سوال نہیں کیا۔
22۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروۃ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔
23۔ عبد بن حمید والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر اکثر فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت فیم انت من ذکرہا الی ربک منتہہا نازل ہوئی تو پھر آپ اس سے رک گئے۔
24۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آتے تھے تو آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ تو آپ غور وفکر کرتے ایسے انسان میں جوان نیا پیدا کیا گیا۔ اور فرماتے : اگر یہ ایک صدی زندہ رہا تو تم پر قیامت قائم ہوجائے گی۔
Ayah 79:46جنتی اور جہنمی کون ؟
25۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک وہ شخص جنت میں داخل ہوگا جو اس کی امید رکھتا ہے اور بیشک وہ شخص دوزخ سے محفوظ رہے گا جو اس سے ڈرتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا جو خود رحم کرتا ہے۔ مرسل ہے۔
26۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی ربک منتہہا یعنی قیامت کے علم کی انتہا تیرے رب کے پاس ہے آیت الا عشیۃ او ضحہا یا ایک عشیہ ( یعنی اتنا وقت جو ظہر اور غروب آفتاب کے درمیان ہے)
27۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم یوم یرونہا گویا وہ جس دن اسے دیکھ لیں گے۔ یعنی قوم کے لوگوں میں دنیا ریزہ ریزہ ہوجائے گی اس وقت وہ آخرت کے امر کو دیکھ لیں گے