75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے

18۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والنسائی والدار قطنی فی الرویۃ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا تم کو سورج کے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب اس پر بادل نہ ہو ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا بلاشبہ تم اسی طرح حق تعالیٰ شانہ کو دیکھوگے۔ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور فرمائیں گے۔ جو شخص کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے سو جو سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے ہوجائیں گے۔ جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے پیچھے ہوجائیں گے جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ بتوں کی پیچھے ہوجائیں گے پس یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں منافقین بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت کے سوا جسے وہ پہچانتے ہیں ایک دوسری صورت میں آئے گا اور فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں تو وہ لوگ کہیں گے۔ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم اسی مقام پر ہیں یہاں تک کہ ہمارے پاس ہمارے رب تعالیٰ آئیں گے۔ اور ہم ان کو پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئیں گے جس کو وہ پہچان لیں گے۔ اور فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں تو وہ لوگ کہیں گے تو ہمارا رب ہے اور وہ لوگ اس کی اتباع کریں اور جہنم پر پل رکھ دی جائے گی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کو پار کروں گا اور رسولوں کی دعا اس دن یہ ہوگی اللہم سلم اللہم سلم۔ اے اللہ سلامتی کے ساتھ گزار دے۔ اور اس میں سعدان گھاس کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی اس کی عظمت کی مقدار کو نہیں جانتا۔ پس وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب کھینچ لے گی ان میں سے کوئی اپنے عمل کے سبب ہلاک ہوجائے گا اور کوئی ان میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دوزخ میں گرجائے گا پھر وہ نجات پاجائے گا یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوجائیں گے اور ان کو آگ سے نکالنے کا ارادہ فرمائیں گے ان لوگوں میں لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتے تھے تو فرشتوں کو حکم فرمائیں گے کہ ان کو نکالو۔ وہ ان کو سجدوں کے نشانات سے پہچانیں گے۔ ان کو اس حال میں نکالیں گے کہ جو جل چکے ہوں گے۔ تو ان پر پانی انڈیلا جائے گا۔ جس کو زندگی کا پانی کہا جاتا ہے۔ تو وہ حسین و جمیل صورت میں دانے کے اگنے کی طرح اگیں گے۔ اور ایک آدمی باقی رہ جائے گا جو اپنا چہرہ آگ کی طرف کیے ہوئے ہوگا۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! مجھ کو اس کی بو نے تکلیف میں ڈال رکھا ہے اور مجھ کو اس کے شعلوں نے جلا دیا ہے میرا چہرہ آگ سے پھیر دیجیے۔ وہ برارب اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اگر میں نے تجھے یہ عطا کردیا یعنی تیرا چہرہ آگ سے ہٹا دیا۔ تو پھر تو مجھ سے اس کے علاوہ اور سوال کرنے لگے گا۔ وہ کہے گا نہیں آپ کی عزت کی قسم ! میں اس کے علاوہ اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس چہرے کو آگ سے پھیر دیں گے۔ پھر اس کے بعد وہ کہے گا۔ اے میر رب مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردیجیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اے ابن آدم تیری ہلاکت ہو تو کتنا عہد توڑنے والا ہے وہ برابر دعا کرتا رہے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے مجھے یقین ہے اگر میں نے تیری یہ خواہش پوری کردی پھر و اس کے علاوہ اور سوال کرے گا وہ کہے گا نہیں آپ کی عزت کی قسم ! میں اس کے علاوہ اور سوال نہیں کروں گگا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمادیں گے جو اس نے سال کیا اس کے اس عہد و پیمان کی وجہ سے کہ وہ اس کے علاوہ اور سوال نہیں کرے گا۔ سو اس کو جنت کے دروزے کی طرف قریب کردیں گے پھر وہ خاموش رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ وہ خاموش رہے۔ پھر وہ کہے گا اے میرے رب مجھے جنت میں داخل فرمادیجیے اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اے ابن آدمی تیری ہلاکت ہو تو کتنا دھوکے باز ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو مجھے اپنی مخلوق میں سے بدبخت اور شقی نہ بنائیے وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ عز وجل ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ اس بات سے ہنس پڑیں گے تو اس کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دے دیں گے۔ جب وہ اس میں داخل ہوجائے تو اس سے کہا جائے گا تو کسی خواہش کا اظہار کر چناچہ وہ آرزو کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے اس طرح کوئی اور آرزو کر تو وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ یہ تیرے لیے ہے جو تو نے مانگا اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی تیرے لیے ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آدمی جنت میں داخل ہونے کے لحاظ سے اہل جنت میں سے آخری آدمی ہوگا۔ راوی نے کہا کہ ابوسعید خدری، ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے اس حدیث میں سے کسی چیز کو تبدیل نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اس قول پر پہنچ گئے آیت ہذا لک و مثلہ معہ ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ کہ یہ تیرے لیے ہے جو تو نے مانگا اور اس سے دس گنا اور بھی تیرے لیے ہے ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے تو یہ لفظ یاد کیے ہیں آیت و مثلہ معہ۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہر مومن کو نصیب ہوگا۔ 19۔ درقطنی نے الرویۃ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا تم کو چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ جب وہ بادل میں نہ ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ نہیں ! پھر آپ نے فرمایا دوپہر کے وقت کیا تم کو سورج کے دیکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ جب بندہ ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے کیا میں نے تجھے عزت واحترام نہیں دیا۔ کیا میں نے تجھے سرداری نہیں دی کیا میں نے تجھے جوڑا نہیں بنایا۔ کیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیا اور تجھے رئیس اور سردار نہیں کر چھوڑا۔ تو وہ عرض کرے گا ہاں یہ ٹھیک ہے اے میرے رب۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تیر گمان تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرے گا ؟ وہ کہے گا اے میرے رب نہیں پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج کے دن میں تجھ کو بھلا دوں گا جیسے تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ تیسرے شخص سے ملاقات فرمائیں گے اور فرمائیں گے تو کون ہے وہ کہے گا میں تیرا بندہ ہوں میں تجھ پر ایمان لایا۔ تیرے نبیوں پر تیری کتابوں پر میں نے روزے رکھے میں نے نماز پڑھی۔ اور میں صدقہ کرتا رہا اور اچھے انداز میں حمد وثنا بیان کرے گا جتنی وہ طاقت رکھے گا۔ اس سے کہا جائے کیا ہم تیرے خلاف گواہ نہ لے آئیں تو وہ اپنے دل میں سوچے گا کون مجھ پر گواہی دے گا ؟ راوی نے کہا پھر اس کے منہ پر مہرلگا دی جائے گی۔ اور اس کی ران سے کہا جائے گا بول تو وہ بولے گی اور اس کی ران اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بولیں گی جو یہ منافق عمل کرتا تھا تو وہ عذر پیش کرے گا اپنی طرف سے اور اس پر اللہ تعالیٰ غصہ فرمائیں گے۔ پھر ایک آواز لگانے والا آواز دے گا کہ ہر ایک جماعت اس کے پیچھے چلی جائے جس کی جو عبادت کرتا تھا۔ تو شیطان کے دوست شیطان کے پیچھے جائیں گے اور یہود و نصاری اپنے دوستوں کے پیچھے جہنم کی طرف جائیں گے پھر ہم باقی رہ جائیں گے جو ایمان والے ہوں گے ہمارے پاس ہمارے رب عز وجل آئیں گے اور وہ ہمارے رب ہیں وہ فرمائیں گے کیوں نہ لوگ کیوں کھڑے ہوئے ہیں وہ لوگ کہیں گے ہم اللہ کے بندے ایمان والے ہیں۔ ہم نے اس کی عبادت کی ہے اور وہ ہمارے رب ہیں اور وہی ہمارے پاس آئے گا اور ہمیں چلائے گا اور یہ ہمارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ تو اللہ عز وجل فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں پس تم چلو سو پل صراط بچھائی جائے گی اس پر آگ کے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک لیں گے۔ اس وقت شفاعت کی اجازت ہوگی یعنی اے اللہ ! سلامتی کے ساتھ گذار دے جب وہ پل کے پار ہوجائیں گے جس نے اس مال میں سے جس کا وہ مالک ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ہوگا تو جنت کا ہر خازن اس کو بلائے گا اے اللہ کے بندے اے مسلم یہ خیر اور نیکی ہے تو آگے آجا۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بندے کو جانتے ہیں جیسے ایک دروازہ سے بلایا جائے اور دوسرے دروازہ سے داخل ہوگا۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ میں امید کرتا ہوں کہ تو ان میں سے ہوگا۔ 20۔ دارقطنی نے الرویۃ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا تو رب تعالیٰ اپنی شان کے مطابق ایمان والوں کے پاس آئیں گے اور ان کے پاس ٹھہریں گے اور ایمان والے ایک بلند مقام پر ہوں گے۔ پھر فرمائیں گے کیا تم اپنے رب عزوجل کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے اگر ہم نے اس کی ذات کو جان لیا تو ہم اس کو پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ فرمائیں گے کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے اگر ہم نے اس کی ذات کو جان لیا تو ہم اس کو پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائیں گے اور ان کے سامنے اپنی شان قدرت کے مطابق مسکرائے گا تو وہ لوگ اس کے لیے سجدہ میں گرپڑیں گے۔ 21۔ النسائی والدارقطنی وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم سورج کو دیکھتے ہو اس دن میں جس میں بادل نہ ہو اور تم چاند کو دیکھتے ہو اسی رات میں جس میں بادل نہ ہو ہم نے عرض کیا ہاں ! پھر فرمایا عنقریب تم اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے۔ یہاں تک کہ کوئی تم میں سے اپنے رب کے ساتھ سوال و جواب کرے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری مغفرت کے سبب ہی تو اس مقام پر پہنچا ہے۔ 22۔ دارقطنی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ عزوجل کو اس طرح دیکھو گے جیسے تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو یا جیسے تم سورج کو دیکھتے ہو۔ جب اس پر بادل نہ ہوں۔ 23۔ احمد وعبد بن حمید والدارقطنی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائیں گے اور ابوبکر صدیق ؓ کے لیے خاص تجلی فرمائیں گے۔ 24۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والدارقطنی والحاکم اور بیہقی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم کو دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے جبکہ دن صاف ہو اور اس میں بادل نہ ہو۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم کو چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ وہ صاف ہو اور اس میں بادل نہ ہو ؟ ہم نے کہا یا رسول اللہ کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں تم کو کوئی رکاوٹ نہ ہوگی جیسے تم کو ان دونوں یعنی سورج اور چاند کے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ 25۔ عبد بن حمید والدارقطنی وابن مردویہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری امتوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے۔ جب اللہ عزوجل ارادہ فرمائیں گے کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان تفریق ڈال دیں تو ہر قوم کے لیے اس چیز کا نمونہ بنائے گا جس کی وہ عبادت کرتے تھے پس وہ ان کے پیچھے چلیں گے یہاں تک کہ وہ ان کو جہنم میں پھینک دیں گے پھر ہمارا رب ہماری طرف متوجہ ہوگا اور اس وقت ہم ایک اونچی جگہ پر ہوں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم کون ہو ؟ وہ کہیں گے ہم مسلمان ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم کس کا انتظار کر رہے ہو وہ کہیں گے ہم اپنے رب عزوجل کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم اس کو پہچان لو گے اگر تم اس کو دیکھ لو ؟ وہ کہیں گے ہاں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم کس طرح اس کو پہچانوگے اور تم نے اس کو نہیں دیکھا وہ کہیں گے ہم اس کو پہچان لیں گے کیونکہ اس کی کوئی نظیر اور مثل نہیں پھر اللہ تعالیٰ ہمارے لیے ہنستے ہوئے ظاہر ہوں گے پھر فرمائیں گے اے مسلمانوں کی جماعت خوش ہوجاؤ کیونکہ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے مگر کوئی یہودی اور نصرانی کو اس کی جگہ آگ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر سجدہ ریز ہونا 26۔ ابن عساکر نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب قیامت کا دن ہوگا ہر قوم کے لیے اس چیز کا مجسمہ بنایا جائے گا جس کی وہ دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ ان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ پھر اہل توحید باقی رہ جائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا تم کس کا انتظار کر رہے ہو حالانکہ لوگ تو چلے گئے۔ تو وہ کہیں گے بلاشبہ ہمارا ایک رب ہے ہم دنیا میں اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ اور ہم نے اس کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم اس کو پہچان لو گے اگر تم اس کو دیکھ لو ؟ وہ کہیں گے ہاں ان کو کہا جائے گا تم اس کو کس طرح پہچانو گے حالانکہ تم نے اس کو نہیں دیکھا۔ وہ کہیں گے کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے پردہ کھول دیں گے اور وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف دیکھیں گے۔ اور اس کو سجدہ کرتے ہوئے گرپڑیں گے پھر ایسی قومیں باقی رہ جائیں گے ان کی پیٹھیں گائے کے سینگوں کی مثل ہوں گی۔ وہی سجدوں کا ارادہ کریں گے مگر سجدے نہ کرسکیں گے۔ پس اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آیت یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلا یستطیعون (القلم آیت 42) اور اللہ عزوجل فرمائیں گے اے میرے بندو ! اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ میں نے تمہارا بدل بنادیا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ میں نے تم میں سے ہر آدمی کے بدلے یا اس کے فدیہ کے طور پر یہودیوں اور عیسائیوں میں سے ایک آدمی جہنم میں ڈال دیا ہے۔ 27۔ دارقطنی نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار تنہائی میں کرے گا جیسے تم میں سے ہر ایک چودھویں رات کے چاند کو تنہائی میں مشاہدہ کرتا ہے۔ 28۔ دارقطنی نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک ساتھ علیحدگی میں سوال و جواب کرے گا یہاں تک کہ تم اس سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوجاؤ گے۔ اس وقت انہوں نے ایک قریب کی چیز کی طرف اشارہ فرمایا۔ 29۔ دارقطنی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن وہ پہلا دن ہوگا جس میں کوئی آنکھ اللہ عزوجل کی طرف دیکھے گی۔ 30۔ احمد ومسلم والدارقطنی نے ابو الزبیر (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو درود کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ایک بلند جگہ پر ہوں گے، لوگوں کے اوپر۔ امتوں کو ان کے بتوں کے ساتھ بلایاجائے گا جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ پس بالترتیب یکے بعد دیگرے وہ امتیں بلائی جائیں گے۔ پھر اس کے بعد ہمارے پاس ہمارے رب تعالیٰ تشریف لائیں گے اور فرمائیں گے تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ وہ کہیں گے ہم اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے یہاں تک کہ ہم آپ کی طرف دیکھیں گے تو اللہ جل شانہ ان سے مسکراتے ہوئے تجلی فرمائیں گے اور ان کے ساتھ چلیں گے۔ اور وہ لوگ ان کے آگے اور پیچھے چلیں گے ان میں سے ہر انسان کو نور عطا فرمائے گا۔ 31۔ دارقطنی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے رب عزوجل ہمارے لیے تجلی فرمائیں گے۔ تو لوگ اس کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھتے ہوئے سجدہ میں گرجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ۔ آج کا دن عبادت کا نہیں ہے۔ 32۔ دارقطنی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے تجلی فرمائیں گے اور ابوبکر ؓ کے لیے خاص طور پر تجلی فرمائیں گے۔ 33۔ دارقطنی اور الخطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ آیت پڑھائی آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ اور فرمایا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ نہیں فرمایا جب سے اس کو نازل فرمایا وہ لوگ اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی زیارت کریں گے۔ اور کھائیں گے پئیں گے۔ خوشبو لگائیں گے اور زیور پہنیں گے اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ کو اٹھالیا جائے گا۔ وہ لوگ اس کی طرد یکھیں گے اور اللہ عز وجل ان کی طرف دیکھیں گے اس لیے اللہ عز وجل کا یہ قول ہے آیت ولہم رزقہم فیہا بکرۃ وعشیا ان کے لیے اس میں صبح شام رزق ہوگا۔ 34۔ دارقطنی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا ایمان والے لوگ اپنے رب عز وجل کو دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ہر جمعہ کو اپنا دیدار کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور ایمان والی عورتیں یوم الفطر اور یوم النحر کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گی۔ ؂ جمعہ کے دن بھی ایمان والوں کے عید ہے 35 دارقطنی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور ان کے ہاتھ میں شیشے کی طرف ایک سفید چیز تھی کہ اس کے درمیان میں سیاہ نکتے کی طرح کوئی چیز تھی۔ میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا یہ جمعہ کا دن ہے جو آپ پر آپ کے رب نے پیش کیا ہے تاکہ۔ یہ دن آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے آپ کے بعد عید بن جائے۔ میں نے کہا اے جبریل ! یہ سیاہ نکتہ کیا ہے۔ جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ قیامت ہے جو اسی جمعہ کے دن قائم ہوگی اور یہ دن دنیا کے کا سردار ہے۔ اور ہم اسی دن جنت میں یوم المزید کی دعا مانگتے ہیں میں نے کہا اے جبریل تم اس دن یوم المزید کی دعا سے کیوں کیوں مانگتے ہو تو جبریل ﷺ نے کہا کیونکہ اللہ عزوجل نے جنت میں ایک وادی بنائی ہے جو سفید کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو ہمارے رب تعالیٰ اپنی شان کے مطابق اس کرسی پر نزول فرماتے ہیں اس وادی کی طرف۔ اور عرش کو گھیرا گیا ہے جو کہ جواہر سے مرصع چادروں سے مزین کیے گئے ہیں اور ان منبروں کو نور کی کرسیوں کے ساتھ ڈھانک دیا گیا ہے۔ پھر اہل عرفات کو بلایا جائے گا اور وہ آجائیں گے اور گھٹنوں تک مشک کے ٹیلوں میں دھنس جائیں گے ان پر سونے اور چاندی کے کنگن ہوں گے اور ان کے کپڑے ریشم اور اطلس کے ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس وادی کی طرف پہنچیں گے اور اس میں اطمینان سے بیٹھ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک ہوا کو بھیجیں گے جس کو مثیرہ کہا جاتا ہے۔ تو سفید کستوری کے چشمے ان کے چہروں اور ان کے کپڑوں میں پھوٹ پڑیں گے اور وہ اس دن بن بال کے اور بن داڑھی مونچجھ کے تینتیس سال کی عمر کے پستہ قد ہوں گے ان میں سے کثیر تعداد کو پلنگوں اور تختوں پر بٹھایا جائے گا۔ آدم (علیہ السلام) کی اس دن کی صورت پر جس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا۔ پھر رب العزت تبارک وتعالی رضوان (چوکیدار) کو بلائیں گے۔ اور وہ جنت کا خازن ہے۔ اس سے فرمائیں گے۔ اے رضوان ! میرے اور میرے بندوں اور میری زیارت والوں کے درمیان سے پردہ اٹھادے۔ پس یونہی ان کے اور اس کے درمیان سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ تو وہ لوگ اس کے حسن کی چمک اور اس کے نور کو دیکھیں گے تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرجائیں گے۔ تو ان کو اللہ عزوجل آوازدیں گے کہ اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ کیونکہ عبادت دنیا میں تھی اور آج تم بدلے کے گھر میں ہو۔ مجھ سے سوال کرو جو کچھ تم چاہو۔ میں تمہارا رب ہوں۔ جس نے تمہارے ساتھ اپنے وعدے سچ کر دکھائے۔ اور تم پرا پنی نعمتوں کو پورا کردیا۔ اور یہ میری عزت و کرامت کی جگہ ہے۔ سو جو چاہو مجھ سے سوال کرو۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! کونسی وہی بھلائی ہے جو آپ نے ہمارے ساتھ نہیں کی۔ کیا تو وہی نہیں ہے جس نے سکرات الموت کی حالت میں ہماری مدد کی۔ اور ہم سے وحشت کو دور فرمایا قبر کے اندھیروں میں اور صورپھونکنے کے وقت ہم کو خوف سے امن دیا۔ کیا آپ نے ہماری لغزشوں کو کم نہیں کردیا (یعنی معاف نہیں کردیا) اور ہم پر ہمارے پرے کاموں کو چھپادیا جو ہم نے کیے۔ اور جہنم کی پل پر ہمیں ثابت قدم رکھا کیا تو وہی نہیں جس نے ہم کو اپنے پڑوس میں قریب کیا اور اپنی گفتگو کی ذت سے ہمارے کانوں کو لطف اندوز کیا اور ہمارے لیے اپنے نور کے ساتھ تجلی کی۔ پس کونسی خیر ہے جو آپ نے ہمارے ساتھ نہیں کی پھر اللہ عز وجل لوٹ جائیں گے اور پھر ان کو اپنی آواز قدرت سے آواز دیں گے۔ اور فرمائیں گے میں تمہارا وہ رب ہوں جس نے تمہارے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کیا مجھ سے سوال کرو۔ وہ کہیں گے ہم آپ سے آپ کی رضا کا سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری رضامندی تم کو حاصل ہے کہ میں نے تمہاری لغزشوں کو معاف کیا اور تم پر تمہارے برے کاموں کو چھپادیا۔ اور تمہارا پڑوس مجھ سے قریب ہوگیا اور تم نے تم کو اپنے بولنے کی لذت سنائی۔ اور میں نے اپنے نور کے ساتھ تمہارے لیے تجلی کی۔ اور یہ جگہ ہے میری عزت کی مجھ سے سوال کرو تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کے سوال ختم ہوجائیں گے۔ پھر اللہ عزوجل فرمائیں گے مجھ سے سوال کرو پھر وہ سوال کریں گے یہاں تک کہ ان کی رغبت ختم ہوجائے گی۔ پھر اللہ عزوجل فرمائیں گے مجھ سے سوال کرو وہ کہیں گے ہم اپنے رب سے راضی ہیں اور ہم سلام کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو مزید دیں گے اپنے فضل اور اپنی کرامت سے اور جنت کی زیب وزینت کو زیادہ کریں گے ایسی چیزوں سے جو کسی آنکھ نہیں دیکھا۔ اور کسی کان نہیں سنا اور کسی آدمی کے دل پر ایسی نعمتوں کا خیال نہیں گذرا اور وہ اسی طرح ہوگا۔ یہاں تک کہ ان کے جدا ہونے کی مقدار ایک جمعہ سے ہوگی۔ یعنی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کی مقدار انس ؓ نے کہا کہ میں نے کہا یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کہ ان کی جدائی کی مقدار کتنی ہوگی۔ فرمایا ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کی مقدار۔ پھر فرمایا کہ ہمارے رب کے عرش کو اوپر والے فرشتے اٹھائیں گے اور ان کے ساتھ دوسرے فرشتے اور انبیاء ہوں گے پھر اہل عرفات کو اجازت دی جائے گی وہ اپنے عرفات کی طرف لوٹیں گے اور وہ سبز زمرد کے دو محلوں میں ہوں گے اور ان کا کسی چیز کی طرف بھی اس سے زیادہ شوق نہیں ہوگا۔ جمعہ کے دن تک کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھیں گے اور وہ ان کو اپنے مزید فضل و کرامت سے نوازے گا۔ انس ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نہیں ہوگا۔ 36۔ عبداللہ بن احمد وزوائد المسند والحاکم نے لقیط بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلے اور ایک ساتھی میرے ساتھ تھا جس کو نہیک بن عاصم کہا جاتا تھا۔ لقیط نے بیان کیا میں اپنے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت حاضر ہوئے جب جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا اے لوگو ! سنو میں چار دن سے تم سے اپنی آواز کو چھپائے ہوئے ہوں۔ آج میں تم کو سناؤں گا۔ سنو کیا آج کوئی ایسا آدمی ہے جسے اس کی قوم نے بھیجا ہو تو لوگوں نے کہا آپ ہمارے لیے وہ مکمل طور پر جان لیجیے جو رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے۔ شاید اسے اپنے دل کی بات یا اپنے ساتھی کی بات غافل کر رہی ہو۔ یا پھر گمراہی اسے غافل کر رہی ہو۔ خبردار سنو ! مجھ سے پوچھا جائے گا کیا میں نے حق کا پیغام پہنچادیا خبردار ! تم زندہ رہو گے خبردار تم بیٹھ جاؤ خبردار بیٹھ جاؤ راوی کا بیان ہے کہ لوگ بیٹھ گئے۔ اور میں اور میرا ساتھی کھڑے رہے یہاں تک کہ جب آپ قلب وبصر سے ہمارے لیے فارغ ہوگئے تو ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ کے پاس علم غیب میں سے کچھ ہے تو آپ مسکرادئیے اور فرمایا اللہ کی قسم اور ساتھ اپنا سر مبارک ہلادیا۔ اور جان لیا کہ میں ایک نوجوان ہوں۔ پھر فرمایا تیرے رب کی پانچ غیب کی چابیوں کو اپنے لیے خاص کیا ہے کہ ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ بھی فرمایا۔ میں نے عرض کیا وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا موت کا علم تحقیق وہ جانتا ہے کہ تم میں سے کس کی موت کب آئے گی۔ اور تم اسے نہیں جانتے اور اس کا علم رکھتا ہے جو کچھ کل ہوگا اور جو تو آنے والے کل کو کھائے گا۔ لیکن تو اسے نہیں جانتا بارش کے دن کا علم بادل تم پر جھانکنے لگتے ہیں جب تم خوفزدہ ہو کر مایوس اور ناامید ہوجاتے ہو بس وہ اپنی شان کے مطابق مسکرانے لگتا ہے۔ تحقیق وہ جانتا ہے کہ تمہارے سوا کوئی اس کے قریب ہے۔ لقیط نے کہا کہ میں نے کہا ہم رب سے ہرگز ناامید نہیں ہوں گے کہ وہ خیر اور قیامت کے دن کے علم پر مسکراتا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم وہ جانتے ہیں اور جو کچھ میرا ساتھی جانتا ہے بیشک ہم ایسے قبائل میں رہتے ہیں جن میں کوئی آدمی ہماری تصدیق نہیں کرے گا۔ یعنی قبیلہ مذحج سے جو کہ ہمارے قریبی ہیں۔ اور خثعم سے جو کہ ہمارے دوست ہیں اور ہمارا وہ خاندان جس سے ہم خود تعلق رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم ٹھہرے رہوگے جتنا تم ٹھہرے رہے پھر تمہارا نبی فوت ہوجائے گا پھر تم زندہ باقی رہو گے۔ جتنا باقی رہے اور تیرے خدا کی قسم ! پھر ایک چیز بھیجی جائے گی چونکہ اس زمین کی پشت پر کوئی چیز نہیں چھوڑے گی مگر وہ مرجائے گی۔ اور وہ فرشتے جو تیرے رب کے ساتھ ہیں پس تیرا رب شہروں میں چکر لگائے گا اور شہر اپنے رہنے والوں سے خالی ہوجائیں گے یعنی سب مرجائیں گے۔ پھر تیرا رب عرش کے پاس بارش برسانے والا بادل بھیجے گا اور تیرے رب کی قسم ! وہ اس کی پشت پر نہ کوئی مقتول کا گڑھا چھوڑے گا اور نہ کسی میت کا مدفن مگر اس سے پھٹ جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اسے سر کی جانب سے اٹھائے گی۔ اور وہ سیدھا بیٹھ جائے۔ تیرا رب کہے گا۔ کیا حال ہے کتنی دیر تک اس حال میں رہا ؟ وہ عرض کرے گا اے میرے رب کل اور آج یعنی دو دن کی زندگی کے ساتھ۔ اپنے خصوصی لگاؤ کی وجہ سے وہ گمان کرے گا کہ اس کا اپنے اہل کے ساتھ زمانہ قریب ہی رہا ہے۔ تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ ہم کو کیسے جمع کرے گا حالانکہ ہوائیں بلائیں اور درندے وغیرہ ہم کو پھاڑدیں گے ؟ تو آپ نے فرمایا میں تجھے اس قسم کی مثال بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک زمین ہے تو اس پر گیا اور وہ پرانی فاسد خراب ہوچکی تھی۔ تو نے کہا یہ کبھی زندہ یعنی کاشت کے قابل نہ ہوگی۔ پھر تیرے رب کی قسم ! وہ یقینی طور پر زیادہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ انہیں پانی سے جمع کرے اور انہیں زمین کی نباتات سے بھی جمع کرنے کی قدرت رکھتا ہے سو وہ قبروں سے نکلیں گے یا اپنے گرنے کی جگہوں سے پھر وہ اس کی طرف دیکھیں اور وہ ان کی طرف دیکھے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ کیسے ہوسکے گا حالانکہ ہم زمین کو بھرے ہوئے ہوں گے اور وہ ایک شخص ہے وہ ہماری طرف دیکھے گا اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اس کی مثال تجھے بتاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سورج اور چاند ہیں یہ اس کی ایک چھوٹی سے نشانی ہے تم ان دونوں کو دیکھتے ہو اور اس ی ایک ساعت میں وہ دونوں تم کو دیکھتے ہیں اور تم ان کو دیکھتے ہو حالانکہ ان کی رویت میں تم کو کوئی دشواری اور مشقت نہیں ہوتی اور تیرے خدا کی قسم یقیناً وہ اس پر زیادہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ تم کو دیکھے اور تم اسے دیکھو یا تم ان دونوں کو دیکھتے ہو اور وہ تمہیں دیکھتے ہیں اور ان کے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہمارا رب ہمارے ساتھ کیا کرے گا جب ہم اس سے ملیں گے۔ آپ نے فرمایا تم ظاہراً اس پر پیش کیے جاؤ گے اور تمہارے سینے اس کے سامنے ہوں گے۔ تم میں سے کوئی بھی اس پر چھپا ہوا نہیں ہوگا۔ پس تیرا رب اپنے دس قدرت میں پانی کا ایک چلو اور وہ تمہارے سامنے چھڑک دے گا۔ اور تیرے الہ کی قسم ! اس کا کوئی قطرہ کسی چہرے سے خطا نہیں کرے گا۔ پس رہا مسلمان تو وہ اس کے چہرے کو مضبوط اور سفید کردے گا اور کافر کی ناک پر لگے گا اور اسے سیاہ کوئلے کی طرح کردے گا۔ خبردار سنو ! پھر تمہارے نبی مکرم ﷺ واپس پھریں گے اور ان کے نشانات قدم پر صالحین لوٹ پڑیں گے اور جہنم پر بچھائی گئی پل صراط پر گذریں گے تو ان میں سے ایک کہے گا کوئی حیلہ بنادے۔ تیرا رب فرماتا ہے کہ وہ تم کو پیاس کی صورت میں حوض الرسول پر مطلع فرمائے گا خدا کی قسم ! تو اسے دیکھے گا تو سیراب ہوجائے گا۔ اور تیرے الہ کی قسم ! تم میں سے کوئی بھی اپنا ہاتھ نہیں پھیلائے گا مگر اس پر ایسا خالص پانی پڑے گا۔ جو تنکوں، پیشاب اور اذیت کی ملاوٹ سے بالکل پاک ہوگا۔ اور وہ سورج اور چاند کو روک لے گا اور تم ان میں سے کسی کو نہیں دیکھ سکو گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کیسے دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا اسی طرح کی آنکھ کے ساتھ جیس آج موجود ہے اور وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ایسے دن میں ہوگا جو زمین کو روشن کردے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہماری نیکیوں اور ہماری برائیوں کی کیا جزا دی جائے گی۔ تو آپ نے فرمایا ایک نیکی کا بدلہ اس جیسی دس نیکیوں کے ساتھ اور برائی کا بدلہ اس جیسی ایک برائی کے ساتھ ہوگا۔ مگر یہ کہ تیرا رب معاف فرمادے۔ جہنم کے سات دروازے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جنت کیا ہے اور جہنم کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا تیرے معبود کی قسم ! جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ میں ایک گھڑ سوار ستر سال تک چلتا رہے گا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جنت میں ہم کس پر وارد ہوں گے تو آپ نے فرمایا : شہد کی صاف شفاف نہروں پر اور شراب سے بھری ہوئی نہروں پر جس کے سبب نہ سرور ہوگا اور نہ ہوئی کوئی شرمندگی اور نہ ہی ندامت اور دودھ کی نہروں پر جس کا ذائقہ متغیر نہ ہوگا اور خالص میٹھے پانی پر اور دوسرے پھلوں پر وارد ہوں گے اور تیرے معبود کی قسم ! جیسا تم جانتے ہو نیکی کے ساتھ اس کی مثل ہوتی ہے۔ اور پاکیزہ اور وہاں حسین و جمیل بیویاں ہوں گی۔ میں عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہمارے لیے ان میں بیویاں بھی ہوں گی ؟ تو آپ نے فرمایا پاکیزہ اور صالحہ بیویاں، صالحین کے لیے ہوگی۔ تم ان سے اس طرح لطف اندوز ہوگے۔ جس طرح دنیا میں لذت حاصل کرتے ہو اور وہ بھی تم سے لذت حاصل کریں گی۔ مگر وہاں اولاد نہیں ہوگی۔ لقیط نے کہا تو میں نے کہا کہ وہ انتہا کیا ہے جہاں پر پہنچیں گے۔ اور وہاں رک جائیں گے۔ مزید عرض کیا کہ کس پر میں آپ کی بیعت کروں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا اور فرمایا نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور شرک کو اس طرح زائل کرنے کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے سوا کسی غیر کو شریک نہیں ٹھہرائے گا۔ میں نے عرض کیا : بیشک ہمارے لیے وہ ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے تو نبی مکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا پھر اپنی انگلیاں پھیلا دیں اور یہ گمان کیا کہ میں کسی چیز کی شرط لگانے والا ہوں۔ اور آپ وہ عطا نہیں کریں گے۔ میں نے عرض کیا ہم جہاں چاہیں وہیں اتر پڑتے ہیں اور کوئی بھی اپنے نفس کے سوا کسی کے خلاف کوئی جرم نہیں کرتا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک آگے بڑھایا اور فرمایا یہ تیرے لیے مباح ہے کہ جہاں تو ہے وہاں پڑاؤ ڈال لے اور یہ تیرے نفس کے سوا کسی کے خلاف جرم نہیں ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر واپس لوٹ آئے اور آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا تیرے معبود کی قسم ! بیشک یہ دونوں آدمی دنیا وآخرت میں لوگوں کی نسبت زیادہ متقی ہیں۔ تو حضرت کعب ؓ نے آپ ﷺ نے فرمایا بنو منتقف اس کے اہل ہیں پس ہم پھر آئے اور میں آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا کسی کے لیے اس خیر اور نیکی کا بدلہ بھی ہے جو نیکی انہوں نے اپنے دور جاہلیت میں کی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ قریش کی ایک جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا ہے اللہ کی قسم ! تیرا باپ منتقف جہنم میں ہے۔ اس نے کہا جو کچھ آپ نے میرے باپ کے بارے میں عام لوگوں کے سامنے بات کی وہ سینے اور چہرے کے درمیان لگی۔ اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ کہوں اور آپ کا باپ کہاں ہے یا رسول اللہ ﷺ ۔ پھر میں نے کہا یارسول اللہ ! اور آپ کے اہل کہاں ہیں آپ نے فرمایا اور میرے اہل اللہ تعالیٰ کی بقا اور دوام کی قسم ! تو جب عامری یا قریش مشرک کی قبر سے جس پر آئے تو اسے کہنا مجھے محمد ﷺ نے تیری طرف بھیجا ہے کہ جو برائیاں جو کرتا رہا ہے ان کے عوض میں تجھے بشارت دیتا ہوں کہ تجھے اپنے چہرے اور اپنے پیٹ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! ان کے ساتھ کیا کیا گیا جنہوں نے ایسا عمل کیا جس کے سوا وہ مزید اچھا نہیں کرسکتے تھے۔ حالانکہ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مصلحین ہی۔ آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا سو جس نے اس نبی کی نافرمانی کی وہ ضالین اور گمراہوں میں سے ہوگا۔ اور جس نے اس نبی کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہ ہدایت پانے والوں میں سے ہوا۔ 37۔ عبد بن حمید وابو داوٗد وابن ماجہ نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم سب قیامت کے دن اپنے رب کو اکیلے اکیلے دیکھیں گے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا اس کی نشانی اور دلیل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم سب کے سب چودھویں رات کے چاند کو اکیلے اکیلے نہیں دیکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا سو اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے۔ 38۔ ابوا لشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے اندھا اللہ تبارک وتعالیٰ کا دیدار کرے گا (یعنی جو دنیا میں اندھا تھا) اولیاء اللہ کی تین قسمیں 39۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے موسیٰ بن صالح بن صباح ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اہل ولایت کو اللہ کے پاس لایا جائے گا۔ وہ لوگ اللہ کے سامنے تین قسموں میں کھڑے ہوں گے۔ پہلی قسم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے ! تو نے کس لیے عمل کیا ہے ؟ وہ کہے گا۔ اے میرے رب ! آپ نے پیدا کیا جنت کو اور اس کے درختوں کو اور اس کے پھلوں کو اور اس کی نہروں کو اور اس کی حورو کو اور اس کی نعمتوں کو اور جو کچھ آپ نے تیار کیا اور میں تیری اطاعت کرنے والوں کو اس میں شمار نہیں کرسکا۔ اور میں بھی اپنی راتوں میں جاگا۔ میں نے اپنے دن کو بھی پیاسا رکھا۔ اس کی طرف شوق کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے بلاشبہ تو نے جنت کے لیے عمل کیا تو اس میں داخل ہوجا اور جو تجھ پر ہوا میرے فضل میں سے وہ یہ ہے کہ میں نے تجھ کو آگ سے آزاد کردیا۔ پس وہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ پھر دوسری قسم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میرے بندے تو نے کس لیے عمل کیا ؟ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے آگ کو پیدا کیا اور اس کے طوق اور اس کی بھڑکتی آگ اور اس کی زہر اور اس کے کھولتے ہوئے پانی کو پیدا کیا میں تجھ سے عداوت رکھنے والوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کو اس میں شمار نہ کرسکا۔ چناچہ میں اپنی رات کو جاگتا رہا اور اس کے خوف سے اپنے دن کو پیاسا رکھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے ! بلاشبہ تو نے آگ کے خوف سے عمل کیا۔ بلاشبہ میں نے تجھ کو آگ سے آزاد کرتا ہوں۔ اور تجھ پر میرا فضل یہ ہوا ہے۔ میں نے تجھ کو اپنی جنت میں داخل کردیا۔ پس وہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں داخل ہوجائیں گے پھر تیسری قسم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے تو کس لیے عمل کرتا رہا۔ وہ کہے گا میرے رب ! صرف تیری محبت کے لیے اور تیرے شوق کے لیے میں نے عمل کیا اور تیری عزت کی قسم ! میں اپنی راتوں میں جاگا، اور اپنے دنوں کو پیاسا رکھا تیری طرف شوق کرتے ہوئے اور تجھ سے محبت کرتے ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ میرے بندے تو بلاشبہ تو نے میری طرف شوق کرتے ہوئے اور مجھ سے محبت کرتے ہوئے عمل کیا تو رب تعالیٰ اس کے لیے تجلی فرمائیں گے اور فرمائیں گے ہاں میں وہی ہوں میری طرف دیکھ لے۔ پھر فرمائیں گے تجھ پر میرا فضل یہ ہے کہ میں نے تجھے کو آگ سے آزاد کدیا۔ اور تیرے لیے اپنی جنت حلال کردی۔ اور میں نے تیری اپنے فرشتوں سے ملاقات کرائی اور تجھے بذات خود تیری سلام کی سعادت سے سرفراز کیا پھر وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہوجائے گا۔ 40۔ ابن ابی شیبہ والنسائی اور بیہقی نے اعمال والصفات میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دعاؤں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا۔ اللہم بعلمک الغیب وقدرتک علی الخلق احیینی ماعلمت الحیاۃ خیرا لی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی اللہم اسئلک خشیتک فی الغیب ولاشہادۃ واسئلک کلمۃ الحکم فی الغضب والرضاء واسئلک القصد فی الفقر والغنی واسئلک نعیما لا یبید وقرۃ عین ولا تنقطع واسئلک الرضا بعد القضاء وائلک برد العیش بعد الموت واسئلک لذۃ النظر الی وجہک والشوق الی لقائک فی غیر ضراء مضرۃ ولا فتنۃ مضلۃ۔ اللہم زینا بزینۃ الایمان واجعلنا ہداۃ مہتدین۔ ترجمہ : اے اللہ غیب کے علم کے واسطے سے اور مخلوق پر آپ کی قدرت کے مجھے زندہ رکھیے جب تک تو میرے لیے نزدہ رہنا باعث خیر جانتا ہے اور مجھے موت دیجیے جب میری وفات میرے لیے بہتر ہو۔ اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں۔ آپ سے خشیت کا غیب میں اور حاضر میں اور آپ سے سوال کرتا ہوں حکمت کے کلمات کا غصہ میں اور رضامندی میں اور آپ سے سوال کرتا ہوں میانہ روی کا غربت میں اور مالداری میں اور آپ سے سوال کرتا ہوں ایسی نعمت کا جو ختم نہ ہو اور آنکھ کی ٹھنڈک کا جو ختم نہ ہو اور آپ سے سوال کرتا ہوں قضا کے بعد رضا کا اور آپ سے سوال کرتا ہوں زندگی کی راحت اور سکون کا موت کے بعد اور آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے چہرہ قدرت کے دیدار کی لذت کا اور آپ کی ملاقات کے شوق کا کسی تکلیف دہ چیز کے نقصان پہنچائے بغیر اور بغیر گمراہ کن فتنہ کے۔ اے اللہ ہم کو ایمان کی زینت سے مزین کردے اور ہم کو ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت عطا فرما۔ زید بن ثابت ؓ کی دعاء 41۔ بیہقی نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ دعا سکھائی اور اس کا فرمایا کہ خود اور اس کے گھر والے ہر روز اسے مانگا کریں۔ پھر فرمایا جب تم صبح کرو تو یوں کہو لبیک اللہم لبیک لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک ومنک وبک والیک۔ اللہم ما قلت من قول او حلفت من حلف من او نذرت من نذر فمشیتک بین یدی ذلک ماشئت کان ومالم تشأ لم یکن لا حول ولا قوۃ الا بک انک علی کل شیء قدیر۔ اللہم ماصلیت من صلاۃ فعلی من صلیت وما لعنت من لعن فعلی من لعنت انت ولی فی الدنیا والاٰ خرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین اسئلک اللہم الرضا بعد القضاء برد العیش بعد الموت ولذۃ النظر الی وجہد وشوقا الی لقائک من غیر ضراء مضرۃ ولا فتنۃ مضلۃ واعوذبک ان اظلم او اظلم او اعتدی او یعتدی علی او اکسب خطیءۃ او ذنبا لا تغفرہ۔ اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب والشہادۃ ذالجلال والاکرام فان اعہد الیک فی ہذہ الحیوۃ الدنیا واہشدک وکفی بک شہیدا انی اشہد ان لا الہ الا انت وحدک لاشریک لک لک الملک ولک الحمد وانت علی کل شیء قدیر واشہد ان محمدا عبدک ورسولک واشہد ان ودک حق لقائک حق والساعۃ اٰتیۃ لا ریب فیہا وانت تبعث من فی القبور واشہد انک ان تکلنی الی وہن وعورۃ وذنب وخطیءۃ وانی لا اثق الا برحمتک فاغفرلی ذنبی کلہ انہ لایغفر الذنوب الا انت وتب علی انک انت التواب الرحیم۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں حاضر ہوں۔ حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تجھ سے ہے اور تیری وجہ سے ہے اور تیری طرف سے ہے، اے اللہ جو میں بات کہوں یا کوئی حلف اٹھاؤں یا کوئی نذر مانوں سو تیری چاہت میرے آگے ہو وہ ہوگا جو تو چاہے گا اور جو تو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہوگا اور تیری مدد کے بغیر نہ کسی میں نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی قوت اور بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ جو میں نے نماز پڑھی نماز میں تو مجھ پر ہے اس کا ثواب جو میں نے نماز پڑھی اور جو میں لعنت کی لعنت میں سے تو مجھ پر اس کا گناہ جو میں نے لعنت کی۔ آپ ہی میرے کارساز ہیں دنیا میں اور آخرت میں مجھ کو مسلمان ہونے کی حالت میں فوت کیجیے۔ اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دیجیے۔ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں فیصلے کے بعد رضا مندی کا اور موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک اور آپ کے چہرہ کی طرد یکھنے کی لذت کا اور آپ سے ملاقات کے شوق کا کسی تکلیف دہ چیز کے نقصان پہنچائے بغیر اور بغیر گمراہ کن فتنے کا۔ میں آپ سے پناہی مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں یا میں زیادی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے یا میں ایسا گناہ کروں جس کو آپ نہ بخشیں اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے غیب اور حاضر کے جاننے والے جلال اور اکرام والے۔ بلاشبہ میں آپ کی طرف یہ معاہدہ کرتا ہوں اس دنیا کی زندگی میں اور میں آپ کی گواہی دیتا ہوں اور آپ کافی ہیں۔ گواہی دینے والے بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ کے لیے آپ کا کوئی شریک نہیں۔ آپ کے لیے بادشاہی ہے اور آپ کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا وعدہ سچا ہے اور آپ کی ملاقات سچی ہے اور قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شریک نہیں اور آپ دوبارہ زندہ کریں گے جو قبروں میں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اگر مجھے اپنے نفس کے سپرد کردیا تو ساتھ سو میرے سارے گناہوں کو معاف کردیجیے۔ بیشک آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا اور میری توبہ قبول کیجیے۔ آپ ہی بہت توبہ قبول کرنے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں 0 روایت ضعیف ہے سلسلۃ الضعیفہ 6733) 42۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ سے مراد ہے کہ بعض چہرے اس دن حسین ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی وہ ثواب کا انتظار کریں گے اپنے رب کی جانب سے۔ 43۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی ربہا ناظرہ سے مراد ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے ثوب کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے چہرے اس دن بد رونق ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کر رہے ہوں گے کہ ہمارے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا

44۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ووجوہ یومئذ باسرۃ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے بعض چہرے اس دن پیشانی پر بل ڈالے ہوئے اور تیوری چڑھائے ہوئے ہوں گے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن الارزق کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ صبحناتمیما غداۃ النساء شھباء ملمومۃ باسرۃ ترجمہ : ہم نے تمیم کو گدھوں کا کھانا، قحط زدہ ملامت زدہ اور تیوری چڑھائے اور منہ بسورنے والا بنایا۔ 45۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووجوہ یومئذ باسرۃ۔ اور کتنے چہرے اس دن اداس ہوں گے تیوری چڑھائے ہوئے آیت تظن ان یفعل بہا فاقرۃ۔ خیال کر رہے ہوں گے کہی ان کے ساتھ کمر توڑنے والی سختی کی جائے گی۔ یعنی ان کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جائے گا۔ 46۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووجوہ یومئذ باسرۃ سے مراد ہے کہ اس دن بعض چہرے دانت نکالے ہوں گے آیت تظن ان یفعل بہا فاقرۃ اور گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ بہت وحشت ناک سلوک کیا جائے گا۔
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

واقعی بات ہے کہ جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذ ا بلغت التراقی جب ہنسلی تک سانس پہنچ جائے گی سے مراد ہے حلقوم 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقیل من راق۔ اور کہا جائے گا کوئی جھاڑنے والا ہے یعنی کوئی طبیب ہے شفا دینے والا ہے (کہ یہ موت سے بچ جائے) 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن جریر وابن المنذر نے ابی قلابہ (رح) سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اطباء کو تلاش کیا لیکن انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور فیصلے کے خلاف کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچایا آیت وظن انہ الفراق۔ اور وہ خیال کرے گا کہ یہ وقت جدائی کا ہے۔ یعنی وہ یقین کرلے گا کہ یہ فراق اور جدائی کی گھڑی ہے۔ آیت والتفت الساق بالساق اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی یعنی اس کی دونوں پنڈلیاں بےجان ہوگئیں اور وہی اسے اٹھا نہیں سکتیں حالانکہ وہی ان دونوں پر بہت گھومتا پھرتا تھا۔ ،
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے کہ کون ہے دم کرنے والا

موت کے وقت کی بےبسی 4۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقیل من راق سے طبیب مراد ہے۔ 5۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا جو جھاڑ پھونک کرے۔ 6۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 7 ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی روح کھینچی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کی ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کون اس کی روح لے کر چڑھے گا۔ رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے آیت والتفت الساق باالساق یعنی اس پر دنیا اور آخرت آپس میں مل گئیں۔ 8۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑتے ہیں کہ ان میں سے کون اسے لے کر بلندی کی طرف چڑھے گا۔ 9۔ ابن جریر نے ابوا الجوزاء (رح) سے آیت وقیل من راق کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے آپس میں ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ کون اس روح کو اور لے جائے گا کیا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے۔
Ayah 75:28

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ یقین کرلے کہ بلاشبہ یہ جدائی کا وقت ہے

10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت وظن انہ الفراق کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ فراق کی گھڑی ہے۔
Ayah 75:29

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے

11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت والتفت الساق باالساق کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے دنوں میں سے آخری دن آخرت کے دنوں میں سے پہلا دن ہے۔ پس شدت دوسری شدت کے ساتھ مل جاتی ہے مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ 12۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت والتفت الساق باالساق کے بارے میں روایت کیا کہ موت کے وقت امر دنیا امر آخرت کے ساتھ مل گیا۔ 13۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت والتفت الساق بالساق کے بارے میں روایت کیا کہ ساق آخرت ساق دنیا کے ساتھ مل گئی اور ایک شاعر کا قول ذکر کیا۔ وقامت الحرب بنا علی ساق کہ ہمارے ساتھ جنگ ساق پر کھڑی ہوگئی (یعنی پوری شدت کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی) 14۔ عبد بن حمید نے عکرمہ، ربیع عطیہ اور ضحاک رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 15۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتفت الساق باالساق، ساق سے مراد مصیبت اور آزمائش ہے یعنی ایک آزمائش دوسری آزمائش کے ساتھ مل گئی۔ 16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت والتفت الساق بالساق کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں زندگی اور موت جمع ہوگئیں۔ 17۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے آیت والتفت الساق باالساق کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی پنڈلیوں کو لپیٹ دیا جائے گا موت کے وقت نزع کی حالت میں۔ موت کے وقت پاؤں پر پاؤں رکھنا 18۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتفت الساق باالساق سے مراد ہے کہ اس کی دونوں پنڈلیاں موت کے وقت مل گئیں 19۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت والتفت الساق باالساق کے بارے میں روایت کیا کہ تو دیکھتا ہے کہ جب موت حاضر ہوتی ہے تو اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر مارتا ہے۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے آیت والتفت الساق بالساق کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ اس کے بدن کو تیار کرتے ہیں یعنی اس کفن کا سامان مہیا کرتے ہیں اور فرشتے اس کی روح کو تیار کرتے ہیں۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والتفت الساق باالساق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ اس کی دونوں پنڈلیاں ہیں جب وہ کفن میں لپیٹ دی جاتی ہیں۔
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس روز تیرے رب کی طرف چلنا ہے

22۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی ربک یومئذ المساق تیرے رب کی طرف اس دن چلنا ہوگا یعنی آخرت میں۔
Ayahs 75:31–32

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

اور لیکن جھٹلایا اور منہ موڑا

23۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا صدق۔ اس نے تصدیق نہیں کی یعنی کتاب اللہ کی۔ آیت ولا صلی ولکن کذب۔ اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ بلکہ اس نے کتاب اللہ کو جھٹلایا۔ آیت وتولی۔ اور منہ پھیرلیا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے۔ آیت ثم ذہب الی اہلہ یتمطی پھر اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا۔ اور وہ ابوجہل بن ہشام تھا جو اپنی چال میں اکڑ کر چلتا تھا ہم کو بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس کے کپڑے کے پلو کو پکڑ کر فرمایا آیت اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی۔ اے انسان تیرے لیے خرابی ہی خرابی ہے پھر تیرے لیے خرابی ہی خرابی ہے۔ یعنی تیرے لیے وعید پر وعید ہے۔ تو ابو جہل نے کہا نہ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو نہ تمہارا رب۔ میں ان دو پہاڑوں کے درمیان بسنے والوں میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر امت کے لیے فرعون ہے اور اس امت کا فرعون ابو جہل ہے۔
Ayah 75:33

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھروالوں کی طرف اکڑتا ہوچلا گیا

24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کہ ثم ذہب الی اہلہ یتمطی سے مراد ہے اکڑنا تکبر کے ساتھ چلنا اور وہ ابوجہل تھا۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کہ یتمطی سے مراد ہے کہ غرور اور تکبر کرنا۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

تیرے لیے کمبختی ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے

26۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اولیٰ لک فاولیٰ کے بارے میں پوچھا کیا یہ کلمات رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ابوجہل کو کہے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا بلکہ آپ ﷺ نے اپنی طرف سے ابوجہل کو کہے تھے یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا بلکہ آپ ﷺ نے پہلے یہ کلمات اپنی جانب سے اسے کہے پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے بھی نازل فرمادیا۔
Ayahs 75:36–39

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا نطفہ نہ تھا جو ٹپکایا گیا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ خون لوتھڑا تھا سو اللہ تعالیٰ نے اسے بنادیا اور پھر اس کے اعضاء درست کردئیے

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنادیں ایک مرد اور ایک عورت

27۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان یترک سدی سے مراد ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی بےکار کہ اس پر کوئی پابندی اور نگرانی نہ ہوگا۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان یترک سدی سے مراد ہے کہ اسے باطل چھوڑدیا جائے گا نہ اسے حکم کیا جائے گا اور نہ روکا جائے گا۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کردے

اللہ تعالیٰ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے 29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یترک سدی یعنی بیکار اور فرمایا آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی پھر کیا وہ اللہ تعالیٰ مردے کو زندہ کردینے پر قادر نہی ہے۔ ہم کو یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے جب آپ اس کو پڑھتے تھے۔ آیت سبحانہ وبلی یعنی اس کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور کیوں نہیں وہی زندہ کردینے پر قادر ہے۔ 30۔ عبد بن حمید وابن الانباری نے المصاحف میں صالح بن ا بی الخلیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب یہ آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی پڑھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے آیت سبحانہ وبلی۔ تیری ذات پاک اور کیوں نہیں آپ قادر ہیں۔ 31۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب یہ آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی پڑھتے تھے تو فرماتے آیت سبحانک اللہم وبلی اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے اور کیوں نہیں آپ قادر ہیں۔ 32۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ کے حج کے بعد آپ کی اکثر قراءت یہ ہوتی تھی۔ آیت لا اقسم بیوم القیمۃ۔ اور جب آپ یہ پڑھتے آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموت تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا آیت بلی وانا علی ذلک من الشاہدین۔ کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ 33۔ عبد بن حمید وابو داوٗد اور بیہقی نے اپنی سنن میں موسیٰ بن ابی عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے گھر کے اوپر نماز پڑھ رہا تھا جب اس نے یہ آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموت پڑھی تو اس نے کہا آیت سبحانک فبلی۔ آپ کی ذات پاک ہے سو کیوں نہیں آپ قادر ہیں۔ تو لوگوں نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے۔ 34۔ احمد وابو داوٗد والترمذی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی تم میں سے پڑھے آیت والتین والزیتون (پوری سورت) اور اس کے آخر پر پہنچے یعنی آتی الیس اللہ باحکم الحاکمین۔ کیا اللہ تعالیٰ حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں۔ تو یوں کہے کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ اور جو شخص آیت لا اقسم بیوم القیمۃ پڑھے۔ اور یہاں تک کہ پہنچے آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی تو یوں کہے ” بلی “ کیوں نہیں۔ اور جو شخص والمرسلات پڑھے اور یہاں تک پہنچے آیت فبای حدیث بعدہ یومنون۔ (المرسلات آیت 50) بس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔ تو یوں کہے اٰمنا باللہ۔ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ (روایت موضوع ہے ضعیف الجامع 5784) 35۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تو آیت لا اقسم بیوم القیمۃ پڑھے اور یہاں تک پہنچے آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی۔ تو کہے۔ بلی۔ کیوں نہیں آپ قادر ہیں۔ 36۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب تو سبح اسم ربک الاعلی پڑھے تو کہہ آیت سبحان ربی الاعلی۔ میرا رب پاک ہے اور اعلی ہے۔ اور جب تو پڑھے آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی تو کہہ آیت سبحانک وبلی۔ تیری ذات پاک ہے اور کیوں نہیں آپ قادر ہیں۔