Ayahs 74:40–417۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہد وابن ابی داوٗد وابن الانباری ومافی المصاحف وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عمروبن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت فی جنت یتساء لون عن المجرمین باغوں میں ہوں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے مجرم لوگوں سے اے فلانے ما سلککم فی سقر۔ کس چیز نے تمہیں دوزخ میں ڈالا عمرو (رح) نے فرمایا اور مجھے لقیط (رح) نے بتایا کہ میں نے ابن الزبیر ؓ سے سنا کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا۔
Ayahs 74:42–448۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ما سلککم فی سقر اے کافرو ! کونسی چیز تم کو یہاں لے آئی۔
Ayahs 74:45–469۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکنا نخوض مع الخائضین۔ اور ہم بکواس کرنے والوں کے ساتھ بکواس کیا کرتے تھے۔ جب بھی گمراہ ہوانے وال گمراہ ہوا تو ہم بھی اس کے ساتھ گمراہ ہوگئے۔ آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین۔ پس ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی سفارش قبول فرمائیں گے ان کے بعض لوگوں کی بعض کے بارے میں۔ قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کی سفارش کے سبب بنو تمیم سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ ربیعہ اور مضر دونوں قبیلوں میں سے بھی زیادہ۔ اور ہم یہ بیان کرتے تھے۔ کہ شہید اپنے گھر کے ستر آدمیوں کی سفارش کرے گا۔
Ayah 74:4710۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت حتی اتٰنا الیقین یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی۔ یعنی موت۔
Ayah 74:4811۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین یعنی ان کو کسی سفارش کرنے والے کی کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری سفارش سے ضرور نکلتے رہیں گے۔ ایمان والے دوزخ میں سے یہاں تک کہ اس میں کوئی باقی نہ رہے گا۔ سوائے ان کے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ آیت ما سلککم فی سقر سے لے کر آیت شفاعۃ الشفعین تک
ہر مومن کے حق میں شفاعت ہوگی
13۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ ایک دن عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے۔ عمر ؓ نے ان سے فرمایا مجھ سے بیان کیجیے کہ جہاں محمد ﷺ کی سفارش قیامت کے دن ختم ہوجائے گی۔ کعب ؓ نے فرمایا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کو خبر دی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ماسلککم فی سقر سے لے کر الیقین تک کعب ؓ نے فرمایا اس دن آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے یہاں تک کہ ان تک پہنچ جائیں گے۔ جنہوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی اور نہ کبھی کسی مسکین کو کھانا کھلایا۔ اور نہ ہی قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لایا۔ جب ان لوگوں کو شفاعت پہنچے گی تو کوئی باقی نہیں رہے گا جس میں خیر اور نیکی ہو۔
14۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سے ایک ادنی دوزخی کو لایا جائے گا قیامت کے دن۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے سونے اور چاندی سے بھری ہوئی زمین تو فدیہ میں دے سکتا ہے ؟ اگر تجھے مل جائے وہ کہے گا ہاں اگر میں اس پر قادر ہوجاؤں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے جھوٹ کہا تو مجھے اس کی رغبت دلاتا تھا۔ جو تجھ پر انتہائی آسان ہو کہ تو مجھ سے سوال کر تو میں تجھ کو عطا کروں اور اگر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تیری مغفرت کردوں گا اور اگر تو مجھ سے دعا کرے تو میں تیری دعا کو قبول کروں گا لیکن تو مجھ سے نہیں ڈرا دن رات میں ایک ساعت بھی اور نہ کبھی مجھ سے کوئی امید اور آرزو وابستہ کی اور نہ کبھی میری سزا سے خوفزدہ ہوا۔ اور اس کے سوا اور کچھ نہیں مگر وہی جو اس سے بڑھ کر مشقت آمیز اور تکلیف دہ ہے۔ تو پھر اس سے کہا جائے گا آیت ماسلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین سے لے کر آیت حتی اتٰنا الیقین تک۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین۔ نہیں نفع دے گی ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش۔
15۔ ابن مردویہ نے صہیب الفقیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم مکہ میں تھے اور میرے ساتھ طلق بن حبیب (رح) تھے ہم خوارج کی رائے رکھتے تھے اور ہم تک یہ خبر پہنچی کہ جابر بن عبداللہ ؓ شفاعت کے بارے میں کچھ فرماتے ہیں۔ ہم ان کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا ہم کو آپ کی طرف سے یہ خبر پہنچی ہے کہ شفاعت کے بارے میں آپ کا نظریہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے خلاف ہے جو اللہ کی کتاب میں ہے۔ انہوں نے ہمارے چہروں کی طرد یکھا اور فرمایا تم اہل عراق میں سے ہو۔ ہم نے کہا ہاں۔ تو وہ مسکرائے اور فرمایا تم نے اللہ کی کتاب میں سے کہاں پایا ؟ میں نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ۔ (آل عمران آیت 192) اے ہمارے رب جس کو آپ دوزخ میں داخل فرمادیں تو یقینی طور پر آپ نے اس کو رسوا کردیا) ۔ آیت یریدون ان یخرجوا من النار وما ہم بخرجین منہا (المائدہ آیت 37) اور دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں حالانکہ وہ اس میں سے نکلنے والے نہیں۔ آیت کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا (السجدہ آیت 20) اور جب وہ اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اس میں دوبارہ لوٹادئیے جائیں۔ اور قرآن میں ان جیسی اور آیتیں یہ سن کر جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا تم اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتے ہو یا میں جانتا ہوں۔ ہم نے کہا بلکہ آپ ہی زیادہ جانتے ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں اس کے نازل ہونے کے وقت حاضر تھا رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں۔ اور شفاعۃ الشافعین کے نزول کے وقت میں۔ اور البتہ یقینی طور پر میں نے اس کی تاویل کو رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ بلاشبہ شفاعت اس کے نبی کے لیے ہے اللہ کی کتاب میں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا جو سورة مدثر میں ذکر کی گئی۔ یعنی آیت ماسلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین۔ الایۃ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ شفاعت حلال کی گئی ہے۔ اس شخص کے لیے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور اس پر کسی سے مدد نہیں لی۔ اور اس بارے میں نہ کسی سے مشورہ فرمایا۔ سو جس کو چاہیں گے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اور جس کو چاہیں گے دوزخ میں داخل کریں گے۔ پھر بلاشبہ اللہ تعالیٰ توحید والوں پر مہربانی فرمائیں گے اور ایک فرشتے کو اپنے پاس سے پانی اور روشنی دے کر بھیجیں گے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور وہ پانی کو چھڑکے گا مگر وہ پانی نہیں پہنچے گا مگر اس کو جس کو اللہ چاہیں گے۔ اور نہیں پہنچے گا مگر جو دنیا سے اس حال میں نکلا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو وہ ان کو نکالے گا یہاں تک کہ ان کو جنت کے قریب سرزمین میں ڈال دے گا۔ پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پانی اور روشنی کو اور زیادہ کردیں گے۔ پھر وہ داخل ہوگا اور پانی کو جھڑکے گا۔ مگر ہو پہنچے گا جس کو اللہ چاہیں گے۔ پھر وہ اس شخص کو پہنچے گا جو دنیا سے اس حال میں نکلا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو پھر وہ ان کو نکالے گا اور جنت کے قریب میں ڈال دے گا پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والوں کو اجازت فرمائیں گے۔ وہ لوگ ان کے لیے شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے اپنی رحمت سے اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے۔
16۔ بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں میں سے ایک قوم کو عذاب دیں گے۔ پھر ان کو محمد ﷺ کے شفاعت سے جہنم سے نکالیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی باقی نہیں رہے گا سوائے ان لوگو کے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا آیت ما سلککم فی سقر سے لے کر آیت شفاعۃ الشافعین تک۔
Ayah 74:4917۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمالہم عن التذکرۃ معرضین پس انہیں کیا ہوگا کہ وہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں اس میں ” التذکرۃ “ سے مراد قرآن مجید ہے۔
Ayah 74:5018۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کانہم حمر۔ گویا کہ وہ گدھے ہیں میں کان کو مثقلہ اور مستنفرۃ میں فاء کسرہ کے ساتھ پڑھا۔
23۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ۔ گویا کہ وہ بدکنے والے گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہیں یعنی وہ وحشی جانور جو اپنے تیر مارنے والے سے بھاگتا ہے۔
24۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری۔
25۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری تیر پھینکنے والا۔
26۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے تیر پھینکنے والا۔
27۔ الخطیب فی تاریخہ عطا بن ابی رباح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
28۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے تیر۔
29۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من ق سورة “ سے مرد ہے شکاروں کی رسیاں۔
30۔ سفیان بن عیینہ فی تفسیرہ وعبدالرزاق وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ من قسورۃ سے مراد ہے لوگوں کی آوازیں۔
31۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے ” من قسورۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے شیر مگر عرب کی زبان میں اسد کو کہتے ہیں۔ اور حبشہ کی زبان میں قسورۃ کہتے ہیں
32۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد شیر ہے۔
33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سدی سے روایت کیا اور انہوں نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ کافروں نے کہا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو چاہیے کہ صبح کے وقت ہم میں سے ہر آدمی کے سر کے نیچے ایک پرچہ ہو جس میں اس کی دوزخ سے براءت اور اس سے امن کھا ہوا ہو۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔
Ayah 74:5119۔ ابو عبید وابن المنذر وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ جو شیر سے بھاگے ہیں میں ق سورة سے مراد ہے تیر پھینکنے والے، شکار کرنے والے لوگ۔
21۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ق سورة سے مراد ہے تیر پھینکنے والے آدمی۔
22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ق سورة سے مراد شیر ہے۔ اور فرمایا اس کو میں کسی عرب کی لغت میں نہیں جانتا کہ اسد (شیر) سے مرادمردوں کی ایک جماعت ہے۔
Ayahs 74:52–5634۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔
35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت کلا، بل لا یخافون الاٰخرۃ۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو آخرت سے بھی نہیں ڈرتے۔ یہ اس وجہ سے جو قوم کو ہنسایا اور ان کو خراب کہا وہ یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے اور نہ آخرت کے دن کی تصدیق کرتے ہیں مزید فرمایا آیت کلا انہ تذکرۃ۔ ہرگز نہیں بیشک یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ۔ وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی بخشنے والا ہے یعنی بلاشبہ ہمارے رب یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کی حرام کردہ چیزوں سے بچا جائے گا۔ اور وہ اس لائق ہیں کہ اپنے بندوں کے بہت گناہوں کو معاف کردیں۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا، بل لایخافون الاٰخرۃ۔ یعنی آخرت کا خوف نہ ہونا ہی وہ شی ہے جس نے ان کو ذلیل ورسوا کردیا۔
37۔ احمد والدارمی والترمذی والنسائی وابن ماجہ والبزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عدی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ کو پڑھا اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے جس شخص نے کسی اور کو میرے ساتھ معبود نہیں بنایا تو میں اس لائق ہوں کہ اس کی مغفرت کردوں۔
اللہ اس کا اہل ہے کہ اللہ سے ڈرا جائے
38۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ کو اور ابن عمر اور ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ۔ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے۔ اور میرے ساتھ کوئی شرک نہ بنایا جائے تو میں اس لائق ہوں کہ اس علاوہ جو گناہ ہوں ان کو بخش دوں۔
39۔ الحکم الترمذی نے نوادر الاصول میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں سب سے بڑا عزت والا اور سب سے بڑا ہوں عفو و درگزر کے لحاظ سے اور اس لحاظ سے بھی عظیم اور بلند شان والا ہوں کہ میں دنیا میں اپنے بندے کے گناہوں کو چھپائے رکھوں اور اسے چھپانے کے بعد پھر اس کو رسوا کردوں۔ اور میں برابر اپنے بندے کی مغفرت کرتا رہوں گا۔ جب تک مجھ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے سے شرم کرتا ہوں کہ جب وہ اپنے ہاتھوں کو میری طرف اٹھائے اور میں اس کو خالی لوٹادوں۔ فرشتوں نے کہا ہمارا الہ اس کے اہل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں شرم کرتا ہوں اپنے بندے سے اور اپنی باندی سے حیاء کرتا ہوں جب وہ اسلام میں بوڑھے ہوجائیں پھر اس کے بعد ان کو جہنم میں عذاب دوں (ذخیرہ الحفاظ 1038 سلسلۃ الضعیفہ 4036)