65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تم کو شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عورتوں کو حیض نہیں آتا، اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کردے گا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا

1۔ اسحاق بن راہویہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے عورتوں کی عدت کے بارے میں کہ یقینی طور پر عورتوں کی عدت میں سے ایک مدت ابھی باقی ہے جو قرآن میں ذکر نہیں کی گئی۔ کہ کم عمر اور عمر رسیدہ عورتیں کہ جن سے حیض منقطع ہوگیا ہے اور حمل والی عورتیں کہ ان کا ذکر نہیں کیا گیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سورة النساء میں آیت نازل فرمائی اور وہ یہ ہے آیت والئ یئسن من المحیض (اور تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہیں) الایۃ۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے دوسری سند سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب متوفی اور مطلقہ عورتوں کی عدت کے بارے میں حکم نازل ہوا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کہ کم عمر اور عمر رسیدہ اور حاملہ عورتوں کے بارے میں اللہ کا حکم باقی رہ گیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی آیت والئ یئسن من المحیض۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے الثوری کے طریق سے اسماعیل (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت والمطلقت یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء (البقرہ : آیت 228) اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ تو صحابہ ؓ نے نبی ﷺ سے سوال کیا۔ یا رسول اللہ ! آپ بتائیے جس عورت کو حیض نہیں آتا اور وہ جو حیض سے مایوس ہوچکی ان کا کیا حکم ہے۔ اور انہوں نے ان دونوں کے بارے میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ان ارتبتم یعنی اگر تم شک کرو آیت فعتہن ثلثۃ اشہر والئ لم یحضن۔ ان کی عادت تین مہینے ہے اور جن کو حیض نہیں آتا۔ وہ بھی ان کی طرح ہیں آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ اور حاملہ عورتیں ان کی عدت وضع حمل ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت والئ یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتہن ثلثۃ اشہر۔ اور تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہیں اگر تم کو ان کی عدت میں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے بیٹھ گئی ہیں۔ آیت والئ لم یحضن۔ اور وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا۔ یعنی وہ کنواری لڑکیاں جو ابھی حیض کو نہیں پہنچیں آیت فعتہن ثلث اشہر والئ لم یحضن واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ یعنی جب رحم باہر پھینک دے جو کچھ اس کے اندر ہے تو اس کی عدت کتم ہوگئی۔ راوی نے کہ ا اور ہم کو یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ سبیعہ بنت الحارث الاسلمیہ نے بچہ جن دیا اپنے شوہر کی وفات کے پندہ راتوں کے بعد تو نبی ﷺ نے ان کو دوسری شادی کرنے کا حکم فرمایا۔ اور حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اگر عورت باہر رکھ دے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے یعنی اس کا بچہ پیدا ہوجائے۔ حالانکہ اس کا خاوند قبر میں دفن ہونے سے پہلے چارپائی پر رکھا ہوا ہو۔ تو اس کے دفن کرنے سے پہلے یہ عورت حلال ہوجائے گی۔ یعنی اس کی عدت گزر جائے گی اور دوسرا نکاح حلال ہوجائے گا۔ 5۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت والئ یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعتہن ثلثہ اشہر کے بارے میں روایت کیا کہ بڑی عمر والی بوڑھی عورت جو حیض سے مایوس ہوچکی۔ تو اس کی عدت تین مہینے ہے پھر فرمایا آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ 6۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ارتبتم سے مراد ہے کہ اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ اس کو حیض آتا ہے یا نہیں ؟ اور وہ عورت جو حیض سے بیٹھ گئی یعنی اس کو حیض آنا ختم ہوگیا اور وہ عورت جس کو حیض نہیں آتا فعدتہن ثلثۃ اشہر تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ 7۔ عبد بن حمید نے عامر شعبی (رح) سے روایت ہے کہ آیت ان ارتبتم سے مراد ہے کہ اگر تم کو شک ہو حیض کے بارے میں کہ اس کو حیض آیا ہے یا نہیں ؟ 8۔ عبد بن حمید نے حماد بن زید (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا یعنی یہ آیت ان ارتبتم فعدتہن ثلثۃ اشہر کہ ایک عورت نو مہینے کی عدت گذارے گی اگر اسے حمل کے بارے میں علم نہ ہو اور یہی شک ہے۔ پھر فرمایا اب وہ تین ماہ عدت گزارتی ہے۔ حیض والی عورت کی عدت حیض ہے 9۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عورت حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اگرچہ سال میں حیض ایک ہی مرتبہ ہو۔ اگر اس کو حیض نہیں آتا ہو تو وہ مہینوں کے اعتبار سے عدت گزارے گی اور اگر اس کو حیض آگیا مہینوں کے پورا ہونے سے پہلے تو پھر وہ ابتداء سے حیض کے ساتھ عدت گزارے گی۔ 10۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عورت حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اگرچہ اس کو سال میں ایک مرتبہ حیض آئے۔ 11۔ عبدالرزاق نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کو حیض آتا ہے اور خون بہت زیادہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ نہیں جانتی کہ اس کا حیض کیسا ہے تو فرمایا کہ وہی تین ماہ عدت گزارے گی اور فرمایا کہ یہی شک ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان ارتبتم اگر تم شک میں پڑجاؤ ابن عباس اور زید بن ثابت ؓ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔ 12۔ عبد بن حمید نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ وہ جابر بن زید ؓ سے اس نوجوان عورت کے بارے میں روایت کرتے تھے جس کو طلاق ہوجاتی ہے اور اس کا حیض بند ہوجاتا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ اس کا بند ہونا کتنی دیر کے لیے ہے۔ تو فرمایا وہ حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور طاؤس (رح) نے فرمایا وہ تین مہینے عدت گزارے گی۔ 13۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ سے ایسی عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس کو اس کے شوہر نے ایک طلاق دی تھی۔ پھر اس کو ایک یا دو بار حیض آیا پھر اس کا حیض بند ہوگیا وہ نہیں جانتی کہ کس چیز نے اس کا حیض روک دیا تو وہ انتظار کرتی رہے گی اس وقت سے لے کر نومہینوں کے گزرنے تک۔ اگر اس کا حمل ظاہر ہوگیا تو وہ حاملہ ہوگئی اور اگر نو مہینے گزر گئے اور اس کا حمل ظاہر نہ ہوا تو وہ تین ماہ عدت گزارے گی۔ اس کے بعد پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 14۔ عبداللہ فی زوائد المسند وابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن کے بارے میں پوچھا کیا یہی عدت ہے جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں اور اس کی جس کا خاوند مرگیا تو آپ نے فرمایا یہی عدت ہے جس کو تین طلاقیں دی گئی اور اس کی جس کا خاوند مرگیا ہو۔ 15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور دار قطنی نے دوسری سند سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ آیت مشترک ہے یا غیر واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون سی آیت ؟ میں نے عرض کیا آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ کیا یہ مطلقہ اور جس کا خاوند مرگیا۔ دونوں کو شامل ہے فرمایا : جی ہاں۔ 16۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ و سعید بن منصور وابوداوٗد والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ علی ؓ فرماتے تھے کہ وہ دو مدتوں میں سے دوسری مدت گزارے گی پھر فرمایا جو شخص چاہے میں اس کے لیے یہ فیصلہ دیتا ہوں بیشک وہی آیت جو چھوٹی سورة نساء میں نازل ہوئی وہ سورة بقرہ کے بعد نازل ہوئی یعنی یہ آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ پس وہ مطلقہ اور جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ 17۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جو چاہے میں اس سے قسم کھانے کے لیے تیار ہوں کہ وہ آیت جو چھوٹی سورة نساء میں ہے آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔ نے ہر عدت کو منسوخ کردیا کہ اب ہر حاملہ عورت کی عدت چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہود گیا ہو وضع حمل ہے۔ 20۔ الحاکم فی التاریخ اور الدیلمی نے ابن مسعود ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا۔ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے 21۔ عبد بن حمید والبخاری والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تم عورت پر سختی تو کرتے ہو اور تم اس کے لیے رخصت کو نہیں لیتے۔ اور فرمایا چھوٹی سورة نساء طویل سورة نساء کے بعد نازل ہوئی یعنی آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن سے مراد ہے جب بچہ پیدا ہوگا تو عدت ختم ہوجائے گی۔ 22۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ چھوٹی سورة نساء نازل ہوئی سات سال کے بعد اس آیت سے جو سورة بقرہ میں ہے۔ 23۔ عبدالرزاق نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن کیا وہ حاملہ عورت جس کا شوہر مرجائے اس کی عدت وضع حمل ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہاں۔ متوفی عنہا زوجہا کی عدت 24۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابوداوٗ دوالترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ اکٹھے بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا مجھے فتویٰ دیجیے ایسی عورت کے بارے میں جس کا بچہ پیدا ہوا اس کے شوہر کی وفات کے چالیس راتوں کے بعد کیا وہ حلال ہوگئی ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا دو مدتوں میں سے دوسری عدت پوری کرے گی۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ طلاق کے بارے میں ہے ابو سلمہ ؓ نے کہا آپ بتائیے کہ ایک عورت کا حمل ایک سال موخر ہوگیا تو اس کی عدت کیا ہوگی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا دو مدتوں میں سے دوسری مدت پورا کرے گی۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں اپنے بھائی ابو سلمہ ؓ کے ساتھ ہوں پھر ابن عباس ؓ نے اپنے غلام کریب کو ام سلمہ ؓ کی طرف بھیجا۔ کہ وہ ان سے پوچھ کر آئے کیا اس کے بارے میں کوئی سنت حدیث ہے۔ ام سلمہ ؓ نے کہا کہ سبیع الاسلمیہ کا خاوند مقتول ہوا اور وہ حاملہ تھی اور اس کی موت کے بعد چالیس روز کے بعد اس نے بچہ جن دیا اس کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نکاح کردیا۔ 25۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن مردویہ نے ابو السنابل بن بعکک سے روایت کیا کہ سبیعہ بنت الحارث نے اپنے شوہر کی وفات کے تئیس دنوں کے بعد بچہ جنا اس کے بعد اس نے نکاح کے لیے بناؤ سنگھار کرلیا تو اس کے لیے اسے پسند نہ کیا گیا یا عیب لگایا گیا پھر نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا اگر اس نے ایسا کیا ہے تو ٹھیک ہے اس کی عدت گزر چکی ہے۔ 26۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت تئیس رات تک ٹھہری رہی۔ پھر اس نے بچہ جنا وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور یہ بات بتائی۔ تو آپ نے فرمایا اپنے کام کے لیے خاوند تلاش کر یعنی تو شادی کرلے۔ 27۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے سبیعہ الاسلمیہ ؓ سے روایت کیا کہ اس کا شوہر وفات پا گیا۔ اور اس کی وفات کے پچیس راتو کے بعد اس نے بچہ جن دیا پھر وہ نکاح لیے تیار ہوگئی۔ ابو السنابل بن بعکک ؓ نے اسے کہا تو نے جلدی کی ہے تو آخر الاجلین یعنی چار ماہ اور دس دن عدت گزار تو اس عورت نے کہا میں نبی ﷺ کے پاس آئی اور ان کو بتایا تو آپ نے فرمایا اگر تو نیک شوہر پالے تو اس سے شادی کرلے۔ 28۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا کہ سبیعہ بنت الاسلمیہ ؓ کا شوہر فوت ہوگیا اور وہ حاملہ تھی۔ اور وہ نہیں ٹھہری مگر چند راتیں۔ یہاں تک اس نے بچہ جن دیا۔ جب وہ نفاس کے ایام سے فارغ ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ کو یہ بات ذکر کی گئی تو آپ نے اس کو اجازت فرمادی اور اس نے دوسرا نکاح کرلیا۔ 29۔ عبد بن حمید نے حسن رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا اور کچھ دنوں بعد اس نے بچہ جن دیا پھر اس نے خضاب لگایا اور بناؤ سنگھار کیا۔ ابو السنابل بن بعکک ؓ اس کے پاس گزرے۔ اور کہا تو نے غلط کیا تیری عدت دو مدتوں میں سے دو سری مدت ہے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو اس بارے میں بتایا آپ نے فرمایا ابو السنابل نے جھوٹ بولا تو شادی کرلے۔ 30۔ عبد بن حمید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ سے روایت کیا کہ ان کا ابن عباس ؓ سے ایک عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کا شوہر مرگیا اور وہ حاملہ تھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں مدتوں میں سے دوسری مدت یعنی چار ماہ دس دن۔ اور ابو سلمہ ؓ نے فرمایا جب اس کا بچہ پیدا ہوگیا تو وہ حلال ہوجائے گی ابوہریرہ ؓ وہاں آگئے اور فرمایا میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں۔ یعنی ابو سلمہ ؓ کے ساتھ پھر انہوں نے عائشہ ؓ کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ ؓ نے اپنے شوہر کی وفات کے چند راتوں کے بعد بچہ جن دیا پھر اس نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت فرمادی اور اس نے نکاح کرلیا۔ عدت وفات چارماہ دس دن ہے 31۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے عبیداللہ بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مروان نے عبداللہ بن عتبہ کو سبیعہ بنت الحارث کے پاس بھیجا تاکہ اس سے سوال کرے اس بارے میں جو ان کو رسول اللہ ﷺ نے فتویٰ دیا تھا۔ تو اس نے ان کو بتایا۔ کہ وہ سعد بن خولہ ؓ کے نکاح میں تھیں۔ اور حجۃ الوداع میں ان کا شوہر مرگیا اور وہ بدری صحابی تھے۔ ان کی وفات سے چار ماہ اور دس دن گزرنے سے پہلے اس نے بچہ کو جنم دیا پھر ابو السنابل بن بعکک سے اس کی ملاقات اس وقت ہوئی جبکہ وہ اپنے نفاس کے ایام گزار چکی تھی جو وہ آنکھوں میں سرمہ اور دوسرا بناؤ سنگھار کرچکی تھی۔ تو ابوالسنابل ؓ نے یہ دیکھ کر کہا شاید تو نکاح کرنے کا ارادہ رکھتی ہے حالانکہ ابھی تیرے خاوند کو فوت ہوئے چند دن گزرے ہیں۔ سبیعہ ؓ نے کہا پھر میں نبی ﷺ کے پاس آئے اور یہ بات میں نے ان کو بتائی اور میں نے آپ سے ابو السنابل ؓ کی بات بھی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے آپ کو روکے رکھ۔ حالانکہ تیری عدت اس وقت سے گزر چکی ہے جب سے تو نے بچے کو جنم دیا ہے۔ 32۔ عبد بن حمید وابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے اس حاملہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنے تو وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے۔ 33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس حاملہ عورت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے جس کا خاوند مرگیا کہ وہ دونوں مدتوں میں سے دوسری مدت کے گزرنے کا انتظار کرے۔ 34۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے علی بن ابی طالب ؓ سے اور زید بن ثابت ؓ سے مشورہ کیا تو زید ؓ نے کہا وہ عورت حلال ہوگئی اور علی ؓ نے فرمایا کہ اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ زید نے کہا آپ بتائیے اگر وہ عورت حیض سے مایوس ہوچکی ہو تو علی ؓ نے فرمایا اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے دوسری ہے عمر ؓ نے فرمایا اگر حاملہ عورت بچہ جن دے اور اس کا شوہر اپنے تابوت پر ہو اور اسے ابھی قبر میں داخل نہ کیا گیا ہو تو وہ عورت حلال ہوجائے گی۔ 35۔ ابن المنذر نے مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے شعبی (رح) سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ حضرت علی بن طالب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ وہ حاملہ عورت جس کا خاوند مرجائے اس کی عدت دو مدتوں میں سے دوسری مدت ہے۔ یعنی چار ماہ دس دن۔ شعبی ؓ نے فرمایا کیوں نہیں اور جتنی میں کسی چیز کی تصدیق کرتا ہوں اس سے کہیں زیادہ مضبوطی کے ساتھ انہوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ علی ؓ فرمایا کرتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن مطلقہ عورت کے بارے میں۔ 36۔ مالک والشافعی وعبدا لرزاق وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور وہ حاملہ ہو۔ تو آپ نے فرمایا جب وہ بچہ جنے گی تو وہ حلال ہوجائے گی۔ انصار میں سے ایک آدمی نے آپ کو بتایا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا اگر اس حال میں بچہ جنے اور اس کا خاوند اپنی چارپائی پر ہے ابھی دفن نہیں ہوا تو بھی وہ عورت حلال ہوگئی۔ 37۔ عبدالرزاق نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب عورت کسی چیز کو ڈال دے اور یہ جان لیا گیا کہ وہ حمل سے ہے تو اس کے ساتھ بھی عدت گزر گئی اور ام الولد آزاد ہوگئی۔ 38۔ عبد بن حمید نے حسن ومحمد رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ جب کوئی عورت حمل ساقط کردے تو اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔ 39۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا جب خلق رابع میں کوئی بچہ اوندھا ہوگیا اور وہ اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کی وجہ سے لونڈی آزاد ہوجائے گی اور اس کے ساتھ ہی عدت ختم ہوجائے گی۔ 40۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اک لونڈی خریدی جو حاملہ تھی کیا وہ اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں اور یہ آیت پڑھی آیت واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

تم ان عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے یے ضرر مت پہنچاؤ اور اگر وہ عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے تک ان پر خرچ کرو۔ پھر اگر وہ عورتیں تمہارے لیے دودھ پلائیں تو تم ان کو اجرت دو ۔ اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو۔ اور اگر باہم کشمکش کرو گے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلادے گی

1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اسکنوہن من حیث سکنتم من وجدکم۔ تم ان مطلقہ عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو سے مراد ہے اگر تو نہ پائے اس کے لیے کوئی مکان مگر اپنے گھر کے ایک جانب میں تو اسی میں اس کو ٹھہرادو۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت من حیث سکنتم من وجدکم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اپنی وسعت کے مطابق ان کو رہنے کی جگہ دو ۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من حیث سکنتم من وجدکم سے مراد ہے اپنی وسعت کے مطابق آیت ولا تضاروہن لتضیقوا علیہن۔ اور ان کو تنگ کرنے کے لیے ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ یعنی رہائش کے بارے میں۔ 4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا ” من وجدکم “ واؤ کے رفع کے ساتھ۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت وان کن اولات حمل فانفقوا علیہن حتی یضعن حملہن۔ اگر وہ عورتیں حمل والیاں ہیں تو وضع حمل تک ان کو کھانے پینے کا خرچہ دو ۔ یعنی وہ عورت جس کو شوہر نے طلاق دی ہے۔ اور وہ حاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اسے ٹھہرائے اور اس پر خرچ کرتا رہے یہاں تک کہ وہ بچہ جن دے۔ پھر اگر وہ بچہ کو دودھ پلائے۔ یہاں تک کہ بچہ روٹی کھانے لگے اور اگر وہ اس کو طلاق دے اور اس کو حمل نہ ہو۔ تو اس کے لیے رہائش کی جگہ ہوگی۔ یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے اور اس کے لیے نفقہ نہیں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فان ارضعن لکم اگر وہ تم کو دودھ پلائیں یعنی بچہ کو اور وہ زیادہ حقدار ہے اپنے بچہ کے لیے کہ وہ اس پر اتنی اجرت لے جتنی کہ اس کے علاوہ دوسری عورت دودھ پلانے پر اجرت لیتی۔ 7۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان تعاسرت تم فسترضع لہ اخری اور اگر تم باہم کشمکش کروگے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلادے گی۔ سے مراد ہے کہ جب رضاعت قائم ہو اس حال میں کہ دودھ پلانے والی اس کے علاوہ کوئی اور ہو۔ 8۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان تعاسرتم فسترضع لہ اخری سے مراد ہے کہ جب رضاعت طے ہوجائے کسی چیز کے عوض تو ماں کو ترجیح دی جائے گی۔ 9۔ عبد بن حمید نے ابراہیم، ضحاک اور قتادہ رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔ اللہ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے اللہ تنگی کے بعد جلدی خوشحالی دے دے گا

10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لینفق ذو سعۃ من سعتہ، ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ۔ وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق اپنے بچہ پر خرچ کرنچاہیے۔ اور جس کی آمدنی کم ہو تو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا دیا ہے اس میں سے بیوی بچہ پر خرچ کرے الایۃ۔ علی ؓ نے فرمایا کہ مطلقہ عورت کے لیے نفقہ ہوگا جب وہ بچے کو دودھ پلائے۔ 11۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن قدر علیہ رزقہ اور جس کے رزق کی تنگی کی گئی۔ یعنی آدمی جس پر رزق تنگ کردیا گیا آیت فلینق مما تہ اللہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے بیوی بچوں پر خرچ کرے۔ یعنی جتنا اللہ نے اس کو دیا ہے آیت لایکلف اللہ نفسا الا ما اتاہا۔ خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے۔ یعنی جتنا اس کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ ابو عبیدہ ؓ کا زہد وتقوی 12۔ ابن جریر نے ابو سنان (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابو عبیدہ کے بارے میں پوچھا تو ان کو کہا گیا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور سخت کھانا کھاتے ہیں۔ تو انہوں نے ان کی طرف ایک ہزار دینار بھیجا اور قاصد سے کہہ دیا تو دیکھنا کہ وہ ان پیسوں کا کیا کرتے ہیں جب وہ اس کو لیں گے۔ وہ تھوڑی دیر ٹھہرا تو انہوں نے نرم لباس پہنا اور اچھا کھانا کھایا۔ وہ قاصد آیا اور یہ خبر دی۔ تو فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے کہ انہوں نے اس آیت کی تاویل کی آیت لینفق ذو سعۃ من سعتہ۔ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ۔ 13۔ البیہقی فی شعب الایمان وضعفہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن نے اللہ سے اچھا ادب سیکھا ہے جب وہ اسے وسعت عطا فرمائے۔ تو وہ وسعت کرتا ہے اپنی جان پر اور وہ اس پر رزق تنگ کردے تو یہ بھی اپنے آپ پر تنگ کردیتا ہے۔ 14۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے سو اوقیہ میں سے دس اوقیہ پیش کیے۔ پھر ایک اور آدمی آپ کے پاس آیا اس نے سو دینار میں سے دس دینار پیش کیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم اجر میں برابر ہو کیونکہ تم میں سے ہر کوئی دسواں حصہ لایا ہے اپنے مال میں سے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت لینفق ذو سعۃ من سعتہ۔ 15۔ طبرانی نے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی تھے ان میں سے ایک کے پاس دس دینار تھے۔ اس نے اس میں سے ایک دینار صدقہ کیا اور دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے۔ اس نے اس میں سے ایک اوقیہ صدقہ کیا۔ اور تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے تو اس میں سے اس نے دس اوقیہ صدقہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ سب اجر میں برابر ہیں۔ ہر ایک نے اپنے مال میں سے دسواں حصہ سدقہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لینفق ذو سعۃ من سعتہ۔ چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت میں سے۔ 16۔ عبدالرزاق نے معر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زہری (رح) سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا۔ کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے ؟ زہری (رح) نے فرمایا اس کو مہلت دی جائے گی اور ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی۔ اور یہ آیت لایکلف اللہ نفسا ال اما اتاہا۔ سیجعل اللہ بعد عسر یسرا۔ تلاوت فرمائی۔ یعنی خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے اللہ تعالیٰ جلدی تنگی کے بعد فراغت بھی دیدے گا۔ معمر ؓ نے کہا اور مجھے کو یہ روایت پہنچی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے زہری (رح) کی طرح فرمایا۔
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں کی سرتابی کی۔ سو ہم نے ان کا سخت حساب کیا اور انہیں برا عذاب دیا

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فحاسبناھا حسابا شدید سو ہم نے ان کے اعمال کا سخت محاسبہ کیا یعنی ان ہستیوں پر کوئی رحم نہیں کیا گیا آیت وعذبناہا عذابا نکرا اور ان کو بڑی بھاری سخت سزا دی یعنی بڑی اور سخت سزا۔ 2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عذبانکرا میں نکر اکو مثقلہ پڑھا۔
Ayah 65:9

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو اس نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور ان کا انجام کار خسارہ ہوا

3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذاقت وبال امرہا۔ سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا۔ یعنی انہوں نے اپنے کام کی سزا کو چکھا۔ 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذاقت وبال امرہا سے مراد ہے اپنے کام کی سزا۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار فرمایا سو اے عقل والو ! جو ایمان لائے اللہ سے ڈرو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نامہ نازل فرمایا

5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد انزل اللہ الیکم ذکر۔ رسولا۔ خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا ہے جو ایک رسول ہیں۔ یعنی محمد ﷺ ہیں۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

ایک ایسا رسول ﷺ جو تم پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے جو واضح طور پر بیان کرنے والی ہیں تاکہ ان لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اللہ اسے ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی مقرر فرمائی ہے

6۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت آیات مبینت یا کے نصب کے ساتھ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان ہی کی طرح زمین بھی، ان سب میں احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر شیء پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو احاطۂ علمی میں لیے ہوئے ہے

زمین کے نیچے مخلوق ہے 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سوال کیا۔ کیا زمین کے نیچے مخلوق ہے ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھا۔ آیت خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن یتنزل الامر بینہن۔ اللہ ہی نے سات آسمان پید اکیے اور انہی کی طرح زمین بھی اور ان سب میں اللہ کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے آیت اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن۔ سورة کے آخر تک کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس ؓ نے اس آدمی سے فرمایا آدمی کے لیے وہی ہے جو تجھ کو ایمان لانے پر آمادہ کرے اگر وہ تجھے اس کے بارے میں خبر دے تو تو کفر کرے گا۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن کے بارے میں روایت کیا کہ ہر آسمان میں اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق میں سے کچھ مخلوق ہے اور امر ہے اس کے امر میں سے اور قضاء ہے اس کی قضا میں سے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت یتنزل الامر بینہن۔ اور ان سب میں اللہ کے احکام نازل ہوتے ہیں۔ یعنی ساتویں آسمان سے ساتویں زمین تک اللہ کا حکم نازل ہوتا ہے۔ 11۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت یتنزل الامر بینہن کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان جڑے ہوئے ہیں زمینیں جڑی ہوئی ہیں اور ان کے درمیاں حکم نازل ہوتا رہتا ہے۔ 12۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ہر آسمان اور زمین کے درمیان اس کی مخلوق اور اس کا امر ہے۔ سات زمینوں کا ثبوت 13۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن۔ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ہر زمین کا عرض پانچ سو سال کا راستہ ہے اور دو زمینوں کے درمیان بھی پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ اور مجھے خبردی گئی کہ ہوا دوسری اور تیسری زمین کے درمیان ہے اور ساتویں زمین یعنی ترمٹی کے اوپر ہے۔ اور اس کا نام تخوم ہے۔ اور کفار کی روحیں اس میں ہیں۔ ان کے لیے آج اس میں حنین یعنی رونا ہے جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو ان کو برہوت کی طرف پھینک دیا جائے گا۔ مسلمانوں کی روحیں جابیہ میں جمع ہیں۔ اور ثری اس چٹان کے اوپر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فی صخرۃ اور چٹان کا رنگ سبز ہے جیسے تاج پہنایا گیا ہے اور یہ چٹان بیل پر ہے اور اس بیل کے دو سینگ ہیں۔ اور اس کی تین ٹانگیں ہیں اور قیامت کے دن یہ زمین کا سارا پانی نگل جائے گا۔ اور بیل مچھلی پر ہے اور مچھلی کی دم اس کے سر کے پاس ہے جو نچلی زمین کے نیچے گول پڑی ہوئی ہے اور اس کی دونوں کنارے عرش کے نیچے بندھے ہوئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نچلی زمین بیل کے دونوں سینگوں کے سہارے پر ہے اور کہا جاتا ہے بلکہ اس کی پیٹھ پر ہے اور اس کا نام بہموت ہے وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ یہ دونوں اہل جنت کا کھانا ہوں گے۔ کہ وہ جنت کے پاس نازل ہوں گے اور وہ مچھلی کے جگر اور بیل کے سر سے پیٹ بھریں گے۔ اور مجھے یہ خبر دی گئی کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ وہ مچھلی کس پر ہے۔ آپ نے فرمایا وہ کالے پانی پر ہے اور جو اس میں سے مچھلی اس طرح پکڑی گئی جیس کہ تمہاری مچھلیوں میں سے کوئی مچھلی ان دریاؤں میں سے کسی دریا سے پکڑی جاتی ہے اور مجھے یہ بات بیان کی گئی کہ ابلیس مچھلی کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا اور اس کی برتری اور عظمت بیان کی اور کہا کہ تجھ سے بڑی کوئی مخلوق نہیں (تیرے مقابلے میں) نہ کوئی غنی ہے اور نہ کوئی زیادہ طاقت ور ہے۔ پس مچھلی نے اپنے دل میں احساس کو پایا اور حرکت کی پس اسی کی وجہ سے زلزلہ آتا ہے جب وہ حرکت کرتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے چھوٹی مچھلی کو بھیجا اور اس کو اس کے کان میں ٹھہرادیا بس جب بڑی مچھلی حرکت کرنے لگتی ہے تو وہ بھی حرکت کرتی ہے جو اس کے کان میں ہے تو پھر وہ ٹھہر جاتی ہے۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن الضریس نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت ومن الارض مثلہن کے بارے میں روایت کیا کہ اگر میں تم کو اس کی تفسیر بیان کروں تو تم کافر ہوجاؤ گے۔ اور تمہارا یہ کفر تمہارے اس آیت کے جھٹلانے کا سبب ہوگا۔ 15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی الشعب وفی الاسماء والصفات ابو الضحی سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ومن الارض مثلہن اور انہی کی طرح زمین بھی سے مراد ہے سات زمینوں میں سے ہر زمین میں ایک نبی ہے تمہارے نبی کی طرح۔ اور آدم ہے تمہارے آدم کی طرح اور نوح ہے تمہارے نوح کی طرح اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم کی طرح اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ کی طرح۔ 16۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وتعقبہ الذہبی فقال منکر اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک زمینوں میں سے ہر دوزمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ان میں سے ارض علیا مچھلی کی کمی پر ہے۔ اور اس کی دونوں طرفیں آسمان میں ملی ہوئی ہیں۔ اور مچھلی چٹان پر ہے۔ اور چٹان فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ اور دوسری زمین میں ہوا کو بند کیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا قوم عد کو ہلاک کرنے کا تو ہوا کے خازن کو حکم فرمایا۔ کہ ان پر ہوا کو بھیج دے جو قوم عاد کو ہلاک کردے۔ فرشتے نے کہا اے میرے رب ان پر بیل کے نتھنے کے برابر سوراخ سے ہوا بھیجوں گا۔ تو ملک جبار یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا تب تو وہ تباہ و برباد کردے گی زمین کو اور جو کچھ اس پر ہے۔ لیکن تو ان پر انگوٹھی کے برابر سوراخ سے ہوا بھیج دے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا آیت ما تذر من شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالرمیم۔ (الذارعات آتی 42) وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑتی جس پر وہ گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کردیتی) تیسری زمین میں جہنم کے پتھر ہیں اور چوتھی زمین میں جہنم کی گندھک ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آگ کے لیے گندھک ہے ؟ فرمایا ہاں ! اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ جہنم میں گندھک کی کوئی وادیاں ہیں۔ اگر اس میں پھاڑ ڈال دئیے جائیں تو وہ بھی پگھل کر بہہ جائیں اور پانچویں زمین میں جہنم کے سانپ ہیں ان کے منہ وادیوں کی طرح ہیں وہ کافروں کو شدید ڈسیں گے۔ اور وہ انہیں قصاب کی مڈھی پر پڑے ہوئے گوشت کی طرح کردیں گے یعنی ان کو ذلیل کریں گے۔ اور چھٹی زمین میں جہنم کے بچھو ہیں بیشک ان میں سے سب سے چھوٹا بچھو پالان لگے ہوئے خچروں کی طرح ہیں وہ کافر کو ایسا شدید ڈنگ ماریں گے تو اسکی سجہ سے وہ جہنم کی گرمی کو بھول جائے گا۔ ساتویں زمین میں سقر جہنم ہے اور اس میں ابلیس لوہے کے ساتھ باندھا گیا ہے ایک ہاتھ آگے کی جانب سے اور ایک ہاتھ اس کے پیچھے کی جانب سے۔ جب اللہ تعالیٰ اس کو آزاد کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو جتنی دیر کے لیے چاہے اسے آزاد کردیتے ہیں۔ 17۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک زمین کی موٹائی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور دوسری زمین کی موٹائی بھی اسی طرح ہے اور ہر دو زمینوں کے درمیان اسی طرح کا فاصلہ ہے۔ 18۔ عثمان بن سعید الدارمی نے الرد علی الجہینہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آسمانوں کا سردار وہ آسمان ہے جس میں عرش ہے اور زمینوں کا سردار وہ زمین ہے جس پر ہم ہیں۔ 19۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں کعب (رح) سے روایت کیا کہ ساتوں زمینیں ایک چٹان پر ہیں۔ اور وہ چٹان فرشتے کی ہتھیلی پر ہے اور وہ فرشتہ مچھلی کے پر پر ہے۔ اور مچھلی پانی میں ہے اور پانی ریح پر ہے اور ریح ہوا پر ہے اور وہ ریح عقیم ہے پیوند کاری نہیں کرتی اور اس کے سینگ فرش کے ساتھ معلق ہیں۔ 20۔ ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ وہ چٹان جو زمین کے نیچے ہے۔ وہاں مخلوق ختم ہوجاتی ہے اور اس کے اطراف میں چار فرشتے ہیں اور ان کے سر عرش کے نیچے ہیں۔ 21۔ ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ زمینیں مچھلی پر ہیں اور زنجیر مچھلی کے کان میں ہیں۔