Ayahs 60:12–131۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے مطابق اس عورت کا امتحان لیتے تھے جو مومن عورتوں میں سے آپ کی طرف ہجرت کر کے آتی تھی آیت یا ایہا النبی اذاجاءک المومنت یبایعنک سے لے کر غفور رحیم تک۔ اے نبی اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں۔ جو عورت ایمان والی عورتوں میں سے اس شرط پر اقرار کرلیتی۔ تو اس کو رسول اللہ ﷺ فرماتے میں نے تیری بیعت کرلی ہے۔ اللہ کی قسم کبھی آپ نے عورت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا بیعت کرنے میں جو آپ ان سے بیعت فرماتے تھے مگر یہ بات فرماتے تھے کہ میں نے اس آیت پر تیری بیعت لے لی۔
مہاجر عورتوں سے بیعت لینے کا ذکر
2۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن سعد واحمد والترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے امیمہ بن رقیقہ ؓ سے روایت کیا کہ میں عورتوں میں نبی ﷺ کے پاس آئی۔ تاکہ ہم آپ سے بیعت کریں۔ تو جو قرآن میں تھا وہ آپ نے ہم کو پڑھ کر سنایا۔ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا یعصینک فی معروف اور شرعی باتوں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ پھر فرمایا ان کاموں میں جتنی طاقت رکھو اس پر عمل کرو۔ ہم نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہماری جانوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ یا رسول اللہ ! آپ ہم سے مصافحہ نہیں فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا میری بات سو عورتوں کے لیے ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت کے لیے۔
3۔ احمد وابن مردویہ نے عمرو بن شعیب سے روایت ہے اور وہ اپنے باپ داد اسے روایت کرتے ہیں کہ امیمہ بنت رقیقہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تاکہ وہ اسلام پر بیعت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھ سے اس شرط پر بیعت کروں گا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گی۔ چوری نہیں کرے گی، زنا نہیں کرے گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرے گی۔ اور نہ تو جھوٹا الزام لگائے گی جو تو نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا اور گزشتہ زمانہ جاہلیت میں کیے جانے والے بناؤ سنگھار کی طرح اپنے محاسن اور بناؤ سنگھار کسی پر ظاہر نہ کرے گی۔
4۔ ابن سعد واحمد وابن مردویہ نے سلمی بنت قیس ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی انصار کی عورتوں کے ہمراہ تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ جب آپ نے ہم پر یہ شرط لگائی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور ہم چوری نہیں کریں گے اور ہم زنا نہیں کریں گی اور ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور نہ جھوٹا الزام لگائیں گی کہ جس کو ہم نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑلیا ہو اور نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ اور اپنے شوہروں کے ساتھ بددیانتی اور دھوکہ نہیں کریں گی تو ہم نے ان شرائط پر آپ سے بیعت کرلی۔ پھر ہم چلی گئیں۔ میں نے ایک عورت سے کہا لوٹ جا اور ان سے پوچھ کہ اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ اور بددیانتی سے کیا مراد ہے ؟ چناچہ اس عورت نے یہ سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ تو اس کے مال میں سے لے لے اور اس کے سوا کسی اور سے محبت کا اظہار کرے۔
5۔ عبد بن حمید وابن مردویہ و بخاری ومسلم و نسائی وابن المنذر نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے ساتھ اس شرط پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگے اور تم چوری نہیں کروگے اور تم زنا نہیں کروگے اور مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا تم میں سے جس نے یہ وعدہ پورا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہوگا۔ اور جس نے ان میں سکسی چیز کا ارتکاب کیا اور اس کو دنیا میں سزا دے دی گئی۔ اور وہ اس کے لیے کافرہ بن جائے گی اور جس نے ان میں سے کوئی بھی کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو چھپا دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اگر چاہے گا تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے گا تو اس کو بخش دے۔
عورتوں سے عہد لینا
6۔ البخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عید الفطر کے دن میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز کے لیے حاضر ہوا۔ تو آپ اترے اور چل پڑے یہاں تک کہ آپ عورتوں کے پاس شریف لائے اور آپ نے یہ آیت پڑھی آیت یا ایہالنبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین یہاں تک کہ آپ نے ساری آیت پڑھی جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تم اس پر بیعت کے لیے تیار ہو تو ایک عورت نے کہا جی ہاں !
7۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت فتح مکہ دن نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر مردوں سے بیعت لی۔ اور حضرت عمر ؓ نے عورتوں سے بیعت لی۔ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے۔
8۔ احمد وابن سعد وابوداوٗد وابو یعلی وعبد بن حمید وابن مردویہ والبیہقی سے الشعب میں ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع فرمایا۔ اور عمر بن خطاب ؓ کو ان کی طرف بھیجا آپ دروازہ پر کھڑے ہو کر سلام کیا۔ پھر فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف تم اس شرط پر بیعت کرلو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگی۔ اور نہ چوری کرو گی اور نہ زنا کروگی۔ الایۃ ہم نے کہا ہاں ٹھیک ہے پھر آپ نے مکان کے باہر سے اپنا ہاتھ آگے پھیلایا اور ہم نے مکان کے اندر سے لمبا کیا۔ اسماعیل (رح) نے فرمایا میں اپنی دادی سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا آیت ولا یعصینک فی معروف اور شروع باتوں میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو انہوں نے بتایا کہ ہم کو نوحہ کرنے سے روکا گیا۔
9۔ سعید بن منصور وابن سعد واحمد وابن مردویہ نے اسماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کی بیعت کی دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر آپ نے فرمایا میں تم سے ہرگز مصافحہ نہیں کروں گا۔ لیکن تم پر وہ پڑھوں گا۔ جو اللہ نے بیان فرمایا۔
10۔ سعید بن منصور وابن سعد نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں سے بیعت فرماتے تھے۔ اور اپنے ہاتھ پر کپڑا رکھتے تھے۔ اس کے بعد جب آپ عورتوں کو خبر دے دیتے تو پھر آپ ان پر یہ آیت پڑھتے آیت یا ایہا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولادہن جب ان عورتوں نے اقرار کرلیا تو آپ نے فرمایا تم بیعت ہوچکی ہو۔ یہاں تک کہ ہند ابو سفیان کی بیوی آئی جب آپ نے کہا آیت ولا یزنین تو اس نے کہا کیا آزاد عورت زنا کرتی ہے ؟ ہم زمانہ جاہلیت میں اس سے حیا کرتی تھیں اور اسلام میں کیسے کریں گے۔ پھر آپ نے فرمایا آیت ولا یقتلن اولادہن تو اس نے کہا آپ نے ان کے آباؤ و اجداد کو قتل کیا اور اب آپ ہمیں ان کے بیٹوں کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے پھر فرمایا آیت ولا یسرقن تو اس نے کہا یا رسول اللہ کہ میں اپنے شوہر ابو سفیان کے مال میں سے کچھ لے لوں بغیر اجازت کے تو آپ نے اسے اس کی رخصت دے دی۔
11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ کو حکم فرمایا کہ ان عورتوں سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تم سے اس شرط پر بیعت لیں گے۔ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروگی۔ اور ہند عورتوں میں بھیس بدل کر بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر عمر ؓ نے فرمایا کہ ان سے کہو آیت ولا یسرقن وہ چوری نہیں کریں گے تو ہند نے کہا اللہ کی قسم ! میں ابو سفیان کے مال میں سے کبھی کبھی اٹھالیتی ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا ولایزنین وہ زنا نہیں کریں گے تو اس نے کہا کیا آزاد عورت زنا کرتی ہے ؟ پھر آپ نے فرمایا آیت ولا یقتلن اولادہن کہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے تو ہند نے کہا آپ نے ان کو بدر کے دن قتل کیا۔ پھر آپ نے فرمایا آیت ولا یاتین ببہتان یفترینہ بین ایدیہن وارجلہن ولا یعصینک فی معروف یعنی ان کو نوحہ کرنے سے منع کیا گیا، زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرتے ہوئے کپڑوں کو پھاڑتی تھیں چہروں کو پیٹتی تھیں اور بالوں کو کاٹی تھیں اور ہلاکت اور بربادی کو پکارتی تھیں۔
12۔ الحاکم وصححہ نے فاطمہ بنت عتبہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ان کے بھائی ابو حذیفہ ان کو اور ہند بنت عتبہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بیعت کرانے کے لیے لے آئے۔ فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کچھ شرائط بیان فرمائیں تو میں نے ان سے کہا اے چچا کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے ان صفات میں سے کوئی چیز اپنی قوم میں۔ ابوحذیفہ ؓ نے کہا جو بھی شرطیں ہوں ان سے بیعت کرلو کیونکہ ان شرائط کے ساتھ آپ بیعت فرماتے ہیں اور اسی طرح کے شرائط عائد کرتے ہیں۔ تو ہند نے کہا میں آپ سے چوری پر بیعت نہیں کروں گی کیونکہ میں اپنے شوہر کے مال میں سے چوری کرتی ہوں۔ تو نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ کو روک لیا اور ہند نے اس کے لیے حلال کردیا۔ تو ابوسفیان نے کہا اگر وہ تر ہے تو درست ہے اگر وہ خشک ہے تو نہیں اور نہ کوئی نعمت اور احسان ہے فاطمہ ؓ نے کہا پھر ہم نے آپ سے بیعت کرلی۔
13۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت ولا یاتین ببہتان یفترینہ کے بارے میں روایت کیا کہ آزاد عورت بچی کو جنم دیتی تھی تو اس کی جگہ بچہ رکھ دیا جاتا تھا۔
14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا یاتن ببہتان یفترینہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ غیر اولاد کو اپنے شوہروں سے نہیں ملائیں گی۔ آیت ولا یعصینک فی معروف کہ بیشک یہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ یہ شرط لگائی ہے۔
15۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سلمہ انصاریہ ؓ سے روایت کیا کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے یہ معروف کیا ہے ؟ جس کے لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اس میں آپ کی نافرمانی نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نوحہ نہیں کروگی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! بنی فلاں نے میرے چچا کی وفات پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی۔ لہٰذا میرے لیے اس کا بدلہ چکانا ضروری ہے کہ میں بھی نوحہ کرنے میں ان کی مدد کروں تو آپ نے اجازت نہ دی لیکن میں بار بار اپنی بات دہراتی رہی۔ پھر آپ مجھے اس کا بدلہ چکانے کے لیے اجازت فرمادی۔ اس کے بعد میں نے کبھی نوحہ نہیں کیا اور میرے سوا کوئی عورت بھی نوحہ کرنے سے محفوظ نہیں رہی۔
اسلام میں نوحہ کی اجازت نہیں
16۔ سعید بن منصور وابن منیع وابن سعد وابن مردویہ نے ابوالملیح (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک عورت نبی اکرم ﷺ سے بیعت کرنے کے لیے آئی جب آپ نے اس پر یہ شرط لگائی کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگے اور چوری نہیں کر گے زنا نہیں کروگی۔ تو اس نے اقرار کیا جب آپ نے یہ فرمایا آیت ولایعصینک فی معروف یعنی تو نوحہ نہیں کرے گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! کہ فلاں عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی کیا میں ایک بار اس کی مدد کرسکتی ہوں ؟ پھر دوبارہ نوحہ نہیں کروں گی۔ تو آپ ﷺ نے اس کو رخصت نہیں دی۔
17۔ احمد وعبد بن حمید وابن سعد وابی مردویہ نے جید سند کے ساتھ مصعب بن نوح انصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ایک بڑھییا کو پایا وہ ان عورتوں میں سے تھی جنہوں نے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی۔ اس بڑھیا نے کہا ہم سے جو اقرار لیا گیا ان باتوں میں جو لیا گیا کہ تم نوحہ نہیں کروگی۔ اور فرمایا کہ المعروف سے یہی مراد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولا یعصینک فی معروف میں نے کہا اے اللہ کے نبی ! کہ لوگوں نے مصیبتوں پر میری مدد کی تھی جو مجھ کو پہنچیں اور اب ان کو بھی مصیبت پہنچ چکی ہے اور میں ارادہ کرتی ہوں کہ ان کی مدد کردوں آپ نے فرمایا چلی جا اور ان کا بدلہ اتاردے۔ پھر وہ آئی تو آپ نے اس کو بیعت فرمایا۔
18۔ ابن سعد وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے اسید بن ابی اسید البراد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے بیعت کرنے والوں میں سے ایک عورت سے روایت کیا کہ ان باتوں میں سے جن کا اقرار ہم سے رسول اللہ ﷺ نے لیا کہ ہم کسی بھی نیکی میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ اور ہم چہروں کو نہیں نوچیں گی اور ہم گریبان نہیں پھاڑیں گی اور ہم ہلاکت کو نہیں پکاریں گی۔
19۔ ابن ابی حاتم نے ابو حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یعصینک فی معروف سے مراد ہے کہ اپنے گریبانوں کو نہیں پھاڑیں گی اور اپنے رخساروں پر طمانچے نہیں ماریں گے۔
20۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے سالم بن ابی الجعد ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا یعصینک فی معروف سے مراد ہے نوحہ کرنا۔
21۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یعصینک فی معروف سے مراد ہے نوحہ کرنا اور فرمایا ہر وہ چیز جو اللہ کے حکم کے مطابق ہو وہ طاعت ہے اور وہ اپنے نبی کے لیے راضی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جائے۔
22۔ عبد بن حمید نے ابو ہاشم واسطی (رح) سے روایت کیا کہ ولا یعصینک فی معروف سے مراد ہے کہ وہ ہلاکت کو نہیں پکاریں گی اور گریبان نہیں پھاڑیں گی اور سر نہیں منڈائیں گی۔
23۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے بکر بن عبداللہ المزنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ گریبان نہیں پھاڑیں گی اور چہروں کو نہیں نوچیں گی۔ اور ہلاکت کو نہیں پکاریں گی اور بدکلامی نہیں کریں گی۔
24۔ طبرانی وابن مردویہ نے عائشہ بنت قدامہ بن مظعون (رح) سے روایت کیا کہ میں اپنی ماں رائطہ بنت سفیان کے ساتھ تھی اور نبی ﷺ عورتوں سے بیعت لے رہے تھے۔ اور فرما رہے تھے میں تم سے اس شرط پر بیعت لوں گا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگی اور تم چوری نہیں کروگی اور زنا نہیں کرو گی اور تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگی۔ اور نہ تم ایساجھوٹا الزام لگاؤ گی جس کو تم ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑلیتی ہو اور تم نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کر گی پس انہوں نے سر جھکادئیے اور شرائط کو قبول کرلیا عائشہ کہتی ہیں کہ میں اپنی ماں کو سن رہی تھی وہ مجھے اس بات کی تلقین کر رہی تھی اے میری بچی تم کہو بیشک میں اپنی طاقت کے مطابق عمل کروں گی۔ پھر میں بھی اس طرح کہتی رہی جیسے انہوں نے کہا۔
25۔ عبدالرزاق فی المصنف واحمد وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں سے یہ وعدہ لیا۔ جب ان سے بیعت لی کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی تو عورتوں نے یہ کہا یا رسول اللہ ! عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ہماری مدد کی تھی۔ کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسلام میں نہ مدد کرنا ہے اور نہ مکاری کرنا ہے اور اسلام میں کونچیں کاٹنے کی اجازت نہیں۔ اور نہ دھوکہ دینا ہے اور نہ دنیا سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی ہے اور جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
26۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات فامتحنوہن کے بارے میں فرمایا کہ کسی طرح امتحان لیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی اذا جءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا۔
27۔ ابن سعد وابن مردویہ نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عورتوں سے بیعت لیتے تھے۔ تو ایک پیالہ میں پانی منگواتے اور اس میں اپنے ہاتھ مبارک کو ڈبو لیتے پھر عورتوں کے ہاتھوں کو ڈبوتے تو یہ ان کی بیعت ہوتی تھی۔
28۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک سے لے کر آیت ولا یعصینک فی معروف فبایعہن تک نازل ہوئی۔ تو ام عطیہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آل فلاں کے سوا نوحہ کرنا بھی اسی میں سے ہے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں میری مدد کی تھی لہٰذا میرے لیے ضروری ہے کہ میں ان کی مدد کروں۔ آپ نے فرمایا آل فلاں کے لیے اب نوحہ کی اجازت نہیں ہے۔
29۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن مردویہ نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے بیعت کے وقت ہم پر یہ شرط لگائی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گے۔ ہم میں سے اس شرط کو پورا نہیں کیا مگر پانچ عورتوں نے یعنی ام سلیم، ام العلاء، ابو سبرہ کی بیٹی، ابو معاذ کی بیوی نے یا کہا ابو سبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی اور ایک دوسری عورت۔
30۔ بخاری ومسلم وابن مردویہ نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی آپ نے ہم پر یہ پڑھا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگی۔ اور ہم کو نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچک لیا۔ اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! کہ فلاں عورت نے میری مدد کی تھی اور میں ارادہ کرتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکاؤں۔ آپ نے اس کو کچھ نہیں فرمایا۔ وہ گئی اور لوٹ آئی۔ ام عطیہ ؓ نے کہا کہ ہم میں سے کسی عورت نے وعدہ کو پورا نہیں کیا مگر ام سلیم، ام العلاء، ابو سبرہ کی بیٹی جو معاذ کی بیوی تھی۔ یا فرمایا ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی نے۔
31۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے آیت ولا یعصینک فی معروف کے بارے میں روایت کیا کہ ان پر شرط لگائی گئی کہ وہ نوحہ نہیں کریں گے۔
نوحہ کی ممانعت کی تفصیل
32۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں پر معروف کے بارے میں جو شرط لگائی وہ یہ ہے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی تو ایک عورت نے کہا نوحہ کرنا ضروری ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اس کام کو ضروری کرنے والی ہو تو چہرے کو نہ نوچنا، اور کپڑے کو نہ پھاڑنا، اور بالوں کو نہ منڈوانا، اور ہلاکت کو نہ پکارنا، بدکلامی نہ کرنا، اور حق بات کے سوا کچھ نہ کہنا۔
33۔ ابن سعد نے عاصم بن عمرو بن قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نبی ﷺ سے ان عورتوں نے بیعت کی۔ ام سعد بن معاذ، کبشہ بنت رافع، ام عامر بنت یزید بن سکن اور حواء بنت یزید بن سکن۔
34۔ ابن ابی شیبہ نے یزید بن اسلم (رح) سے آیت ولا یعصینک فی معروف کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ گریبان نہیں پھاڑیں گی۔ اور چہروں کو نہیں نوچیں گی اور بالوں کو نہیں کھلویں گی اور ہلاکت کو نہ پکاریں گی۔
35۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہوں۔
37۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ نوحہ اور بخل کرنے والی پر لعنت کی گئی ہے۔
38۔ ابن مردویہ نے ام عفیف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب عورتوں سے بیعت لی اور جب آپ نے ہم سے عہد لیا کہ ہم باتیں نہیں کریں گے مگر محرم سے۔
39۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں پر جو شرائط عائد کی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ مردوں سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گی مگر وہ محرم ہوں اور مرد کے ساتھ عورت جب نرمی کا برتاؤ کرتی ہے تو اپنی رانوں میں میں مذی خارج کردیتا ہے۔
40۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یعصیک فی معروف سے مراد ہے کہ آپ نے عورتوں پر یہ شرط لگائی کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔ اور غیر مردوں سے باتیں نہیں کریں گی۔ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے فرمایا کہ ہمارے مہمان آتے تو ہم اپنی عورتوں سے غائب ہوجاتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا اس سے یہ مراد نہیں۔
41۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے عورتوں سے جن شرطوں پر بیعت لی تھی ان میں یہ بھی تھی کہ وہ محرم آدمی کے سوا دوسرے مردوں سے خلوت اختیار نہیں کریں گی۔ اور مرد جب عورت سے نرمی کا برتاؤ کرتا ہے تو وہ اپنی رانوں میں مذی کو خارج کرتا ہے۔
42۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت اذا جاءک المومنت یبایعنک نازل ہوئی تو فرمایا نیک کام جس میں نافرمانی نہ کی جائے وہ یہ ہے کہ کوئی مرد اور عورت اکیلے علیحدگی اختیار نہ کریں۔ اور جاہلیت والا نوحہ نہ کریں تو اس پر خولہ بنت حکیم انصاریہ نے کہا یارسول اللہ ! کہ فلاں عورت نے میری مدد کی تھی۔ اب اس کا بھائی فوت ہوگیا ہے اور میں ارادہ کرتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا دوں۔ آپ نے فرمایا چلی جا اس کا بدلہ چکا دے پھر لوٹ کر آ اور مجھ سے بیعت کرلے۔
43۔ ابن جریر وابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے اور وہ ابن عباس ؓ سے موصولاً روایت کرتے ہیں واللہ اعلم۔
44۔ ابن اسحاق وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر اور زید بن الحارث ؓ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں سے دوستی کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتتولوا قوما غضب اللہ علیہم نازل فرمائی اے ایمان والو ! اس قوم سے دوستی نہ لگاؤ جن پر اللہ کا غصہ ہوا۔
45۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتولو قوما غضب اللہ علیہم قد یئسوا من الاخرۃ۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں سے بھی دوستی مت کرو جن پر اللہ نے غضب نازل فرمایا۔ وہ آخرت کے ثواب اور فلاح سے ناامید ہوگئے جیسے کفار قبروالوں سے مراد ہے کہ نہ وہ آخرت پر ایمان لائے ہیں اور نہ اس کی امید رکھتے ہیں۔