56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

کیا تم اس کلام کو سرسری سمجھتے ہو

32۔ ابن جرور وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” افبہذا الحدیث انتم مدھنون “ (سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو) یعنی کیا تم جھٹلانے والے ہو (اس قرآن کو ) ۔ 33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” افبہذا الحدیث انتم مدہنون “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم ارادہ کرتے ہو کہ تم اس کے بارے میں اکتاہٹ کا ظہور کرو اور تم ان کی طرف مائل ہوجاؤ قولہ تعالیٰ آیت وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ 34۔ مسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں نے صبح کی اس حال میں کہ ان میں سے بعض شکر کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے کفر کرنے والے ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یہ رحمت جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ بارش لانے والے ستارے نے اسی طرح سچ کہا (یعنی ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی) یہ آیات نازل ہوئیں۔ آیت فلا اقسم بموقع النجوم سے لے کر آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ (اور اس کی تکذیب کو تم اپنا رزق بناتے ہو) ۔
Ayahs 56:82–85

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور تم نے اپنا حصہ یہی تجویز کرلیا ہے کہ جھٹلاتے رہو

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت تکتے رہتے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ہو

35۔ ابو عبید فی فضائلہ سعید بن مبصور عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ ما سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ اور فرماتے تم بارشوں کو جھٹلاتے ہو اور کسی قوم پر بارش نہیں ہوئی مگر ان کے بعض کافر ہوگئے اور وہ یہ کہتے تھے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (یہ آیت) اتاری۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ رزق صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ 36 ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شدید گرمی میں سفر کیا اور لوگ ایسی جگہ پر اترے جہاں پانی نہیں تھا۔ تو ان کو شدید پیاس لگی اور رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے پانی مانگا۔ تو آپ نے ان سے فرمایا شاید کہ میں ایسا کروں اور تم پیاس بجھالو پھر تم یہ کہوگے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ ستاروں کا وقت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگواکر وضو فرمایا پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو ہوا چلی بادل جمع جمع ہوئے اور انہوں نے بارش برسائی یہاں تک کہ ہر وادی بہنے لگی اور ان کو یقین ہوگیا رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو اپنے پیالے کو بھر رہا تھا اور کہہ رہا تھا یہ فلاں ستارے کے سبب سے ہوئی تو اس پر (یہ آیت) نازل ہوئی۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے ابو حرزہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت انصار میں سے ایک آدمی کے بارے میں غزوہ تبوک میں نازل ہوئی۔ حجر کے مقام پر صحابہ ؓ اترے رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اس کے پانی میں سے کچھ بھی اٹھائیں۔ پھر روانہ ہوئے اور دوسری منزل پر اترے اور ان کے پاس پانی نہ تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پانی کی شکایت کی آپ نے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی پھر دعا فرمائی ایک بادل آیا اور اس نے ان پر بارش برسائی یہاں تک کہ وہ اس سے سیراب ہوگئے۔ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی قوم میں سے دوسرے آدمی سے کہا اور وہ آدمی متہم کیا جاتا تھا نفاق کے ساتھ اس نے کہا تیرے لیے ہلاکت ہے تو دیکھ رہا ہے کہ جونہی نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہم پر آسمان سے بارش برسائی تو اس منافق نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کے سبب ہم پر بارش ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 38۔ احمد وابن منیع وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والخرائطی فی مساوی الاخلاق وابن مردویہ والضیاء نے المختارہ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں فرمایا کہ تمہارا شکریہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ ہم پر فلاں فلاں بارش والے ستارے نے اور فلاں فلاں نجم کے سبب بارش برسائی گئی۔ 39۔ ابن جریر نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی رات بھی قوم پر بارش نہیں ہوئی مگر قوم نے اس کے ساتھ کفر کرتے ہوئے صبح کی پھر فرمایا آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ (یعنی) ایک کہنے والا کہتا ہے ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ بارش برسانا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے 40۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لوگوں نے اس حال میں صبح کی کہ بعض ان میں شکر کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے کفر کرنے والے ہیں جنہوں نے کہا یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ اور بعض لوگوں نے کہا بارش لانے والے ستارے نے اس طرح سچ کیا (یعنی ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی) تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ” فلا اقسم بموقع النجوم “ سے لے کر یہاں تک پہنچے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 41۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن زبیر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ یہ آیت پڑھتے تھے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ اور فرماتے تھے کہ اس سے مراد ستارے ہیں اور کسی قوم پر بارش نہیں ہوتی مگر ان میں بعض کافر ہوجاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 42۔ ابن مردویہ (رح) نے روایت کیا کہ رسول اللہ نے صرف تھوڑی سی آیات کی تفسیر فرمائی۔ ان میں یہ آیت بھی ہے آیت ” تجعلون رزقکم “ یعنی تمہارا شکریہ ہے ( کہ تم کہتے ہو کہ فلان ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ) ۔ 43۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح پڑھا۔ آیت ” تجعلون شکرکم “۔ 44۔ ابن مردویہ نے ابو عبدالرحمن السمی (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ نے فجر کی نماز میں سورة واقعہ پڑھی اور اس طرح پڑھا آیت ” تجعلون شکرکم انکم تکذبون “ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا بلاشبہ میں پہچان چکا ہوں کہ عنقریب ایک کہنے والا کہے گا۔ اس کو اس طرح کیوں پڑھا ؟ بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا جب بارش ہوتی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ فلان فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت ” تجعلون شکرکم انکم اذا مطرتم تکذبون “ (اور تم نے اپنے شکو کرو اس طرح باتاتے ہو کہ تم پر اچانک بارش ہوتی ہے تو تم جھٹلاتے ہو) ۔ 45۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” تجعلون شکرکم انکم تکذبون “۔ 46۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے حسن (رح) نے فرمایا کہ کتنا برا ہے اس قوم کے لیے کہ جس نے کتاب اللہ سے سوائے تکذیب کے اپنے لیے کوئی حصہ نہیں بنایا۔ راوی نے کہا اور ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ لوگوں پر نبی ﷺ کے زمانہ میں بارش رک گئی اور وہ قحط زدہ ہوگئے تو ان لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی اگر آپ ہمارے لیے بارش کی دعا مانگیں آپ نے فرمایا عنقریب ایک قوم پانی سے سیراب ہوگی تو وہ کہیں گے کہ ہم کو فلاں فلاں ستارے کے سبب بارش عطا کی گئی پس اللہ کے نبی ﷺ نے بارش طلب فرمائی تو ان پر بارش برسا دی گئی۔ تو ایک آدمی نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے ابھی تک باقی تھی (یعنی ان کی وجہ سے بارش ہوئی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 47۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا یہ کہنا کہ بارش والے ستاروں میں سے ایک ستارے کے ذریعہ ہم پر بارش ہوئی۔ اور آپ کہتے ہیں تم یوں کہوں۔ ” ہو من عند اللہ تعالیٰ ہو رزقہ “ (کہ بارش اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور وہ اس کا رزق ہے) ۔ 48۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ سے مراد ہے کہ ستاروں سے بارش طلب کرنا تم نے اپنا حصہ بنا رکھا ہے۔ 49۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ کہو آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ سے مراد ہے کہ تم نے بنالیا ہے اپنا حصہ اس میں سے کہ تم جھٹلاتے رہو گے۔ عوف (رح) نے فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ عرب کے مشرکین جب زمانہ جاہلیت میں بارش ہوتی تھی تو کہتے تھے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسائی گئی۔ 50۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والدارمی والنسائی وابو یعلی اور ابن حبان نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ لوگوں سے بارش کو روک لیں پھر اس کو بھیج دیں تو یقیناً ایک جماعت کافرہوجائے اور وہ کہیں گے کہ یہ ذبح یعنی دبران ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ 51۔ مالک وعبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری وملسم وابوداوٗد والنسائی والبیہقی نے الاسماء والصفات میں زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ صلح حدیبیہ کے دوران بارش کے نشانات پر پھر جب ہم پر متوجہ ہوئے تو فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ جو کچھ تمہارے رب نے اس آیت میں فرمایا کہ میں اپنے بندوں پر کسی نعمت (کے ستھ) انعام کرتا ہوں تو ان میں سے ایک فریق کفر کرنے لگتا ہے لیکن جو شخص مجھ پر ایمان لایا اور میری حمد بیان کی میرے بارش عطا کرنے پر تو یہ وہ ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انکار کیا اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی وہ وہی ہے جو ستاروں پر ایمان لایا اور میرا انکار کیا۔ بارش کو ستاروں کی طرف منسوب کرنا کفر ہے 52۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کے ذریعہ بارش حاصل کرتے ہیں تو انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔ اور اس ستارے پر ایمان لائے اور جو لوگ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلایا تو وہ اللہ پر ایمان لائے اور اس تارے کا انکار کیا۔ 53۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن محیریز (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن عبدالملک نے ان کو بلایا۔ اور کہا اگر تو علم نجوم سیکھ لیتا تو میں تیرے علم میں اضافہ کردیتا۔ تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر تین چیزوں کا خوف ہے حکمرانوں کا ظلم کرنا اور تقدیر کو جھٹلانا اور ستاروں پر ایمان لانا۔ تقدیر کو جھٹلانا کفر ہے 54۔ عبد بن حمید نے رجاء بن حیوۃ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جن چیزوں کے بارے میں کہ میں اپنی امت پر ڈرتا ہوں (وہ یہ ہیں) ستاروں کی تصدیق کرنا۔ اور تقدیر کو جھٹلانا، اور اماموں یعنی حکمرانوں کا ظلم کرنا۔ 55۔ عبد بن حمید وابن جریر جابر سوائی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ میں اپنی امت پر تین چیزوں سے ڈرتا ہوں۔ ستاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا۔ اور بادشاہ وقت کا ظلم کرنا اور تقدیر کو جھٹلانا۔ 56۔ احمد نے معاویہ اللیثی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ قحط زدہ ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر اپنے رزق خاص میں سے رزق کو نازل فرماتا ہے مگر وہ مشرک ہوجائیں گے آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہوگا فرمایا وہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسائی گئی۔ 57۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کو صبح کے وقت یا شام کے وقت اپنی نعمت (یعنی بارش) سے نوازتا ہے پھر وہ قوم اس کے ساتھ کفر کرنے لگتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسائی گئی۔ 58۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ آیت ” تجعلون شکرکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو تم پر بارش اور رحمت اتاری گئی اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی۔ اور یہی ان کی طرف سے کفر اور انکار ہے اس انعام کے بدلہ میں جو اللہ نے ان پر کیا۔ 59۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی قوم پر بارش نہیں اتاری گئی مگر ان میں سے بعض کافر ہوگئے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت ” وتجعلون شکرکم انکم تکذبون “۔ 60۔ ابن جریر نے عطا خراسانی (رح) سے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں پر جب بارش ہوتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی۔ آیت ” فلولا اذا بلغت الحلقوم “۔ 61۔ ابن ماجہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کب بندے کی پہچان لوگوں سے ختم ہوتی ہے ؟ فرمایا جب وہ اپنی آنکھوں سے (موت کے فرشتے کو) دیکھنے لگے۔ 62۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المحتضرین میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اپنے مرنے والوں کے پاس حاضر ہوا کرو اور ان کو (کلمہ شریف) یاد دلایا کرو کیونکہ وہ (ایسی چیز) دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ 63۔ سعید بن منصور ابن ابی شیبہ وابوبکر المروزی نے کتاب الجنائز میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اپنے مرنے والوں کے پاس (ان کی موت کے وقت) حاضر ہوا کرو۔ اور ان کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو کیونکہ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان سے کہا جارہا ہوتا ہے۔ 64۔ سعید بن منصور والمزوری نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو۔ اور اسے سمجھو جو تم اطاعت کرنے والوں سے نتے ہو کیونکہ ان کے لیے امور صادقہ (یعنی حقائق) ظاہر کردئیے جاتے ہیں۔ 65۔ ابن ابی الدنیا ذکر الموت میں وابو یعلی نے طریق ابی یزید الرقاشی کے طریقے سے تمیم الداری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتے ہیں میرے دوست کے پاس چلا جا۔ اس کو میرے پاس لے آ۔ کیونکہ میں نے اس کو آزمایا ہے خوشحالی میں اور تنگ دستی میں اور میں نے اس کو ویسے ہی پایا ہے جو میں پسند کرتا ہوں۔ اس کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس کو راحت پہنچاؤ دنیا کے غموں سے۔ ملک الموت اس کی طرف جاتے ہیں ان کے ساتھ پانچ سو فرشتے ہوتے ہیں جن کے پاس کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے اور ان کے پاس پھولوں کی گلدستے ہوتے ہیں اس پھول کی اصل ایک ہوتی ہے لیکن اس کے اوپر سرے میں بیس رنگ ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک رنگ کی خوشبو ہوتی ہے جو ساتھ والے دوسرے رنگ سے علیھدہ ہوتی ہے اور ان کے ساتھ سفید ریشم ہوتا ہے جس میں اذفر کی مشک ہوتی ہے۔ ملک الموت اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ اور فرشتے اس کو گھیرے میں لے لیتے ہیں اور ان میں سے ہر فرشتہ اپنے ہاتھ کو اس کے اعضاء میں سے کسی عضو پر رکھتا ہے۔ اس کے لیے وہ سفید ریشم اور اذخر کی خوشبو کو اس کی ٹھوڑی کے نیچے بچھا دیتا ہے اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے تو اس کی ذات اس وقت جنت کی طرف دیکھنے میں مشغول ہوجاتی ہے کبھی جنت میں موجود بیویوں کی طرف دیکھتا ہے کبھی ان کے کپڑوں کی طرف اور کبھی اس کے پھلوں کی طرف دیکھتا جیسے جب کوئی بچہ رونے لگتا ہے تو اس کے گھروالے اسے مشغول کردیتے ہیں۔ اور اس کی بیویاں اس وقت اس کی مشتاق ہوتی ہیں اور روح خوشی سے اچھلنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے کہتے ہیں اے پاکیزہ ورح باہر نکل آ۔ بےخار بیریوں اور تہ بہ تہ کیلوں اور جاری پانی کی طرح۔ اور ملک الموت اس سے بہت زیادہ مہربان ہوتا ہے جتنا ماں اپنے بیٹے سے شفقت اور محبت کا اظہار کرتی ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ روح اپنے رب کے ہاں محبوب ہے اور اللہ کے نزدیک عزت والی ہے پس وہ اس روح کے ساتھ اپنی مہربانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی آرزو کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی روح کو نکالتا ہے جیسے بال کو نکالا جاتا ہے آٹے سے۔ اور جب اس کی روح نکلتی ہے تو فرشتے اس کے اردگرد ہوتے ہیں اور کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو جنت میں داخل ہوجاؤ ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے اور اسی کو فرمایا آیت ” الذین تتوفہم الملئکۃ طیبین، یقولون سلم علیکم “ (النحل : آیت 32) (جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ پاک ہیں فرشتے کہیں تم پر سلامتی ہو) اور فرمایا آیت ” فاما ان کان من المقربین، فروح وریحان، وجنت نعیم (پھر قیامت کے دن جو شخص مقرب لوگوں میں سے ہوگا تو اس کے لیے راحت ہے اور فراغت کی غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے) فرمایا اور روح موت کی تلخی اور شدت سے اس کے لیے راحت ہوتی ہے اور جسم سے خارج ہوتے ہی اسے پھولوں کے گلدستے پیش کیے جاتے ہیں۔ اور نعمتوں والی جنت اس کے سامنے ہوتی ہے جب ملک الموت اس کی روح کو قبض کرتے ہیں تو روح جسم سے کہتی ہے کہ تو میرے ساتھ اللہ کی اطاعت کی طرف جلدی کرنے وال اتھا۔ اور اس کی نافرمانی اور گناہ سے بچتا رہا تھا سو آج تجھ کو مبارک ہو (آج) تو نے خود بھی نجات پالی اور مجھے بھی نجات دلائی اور جسم روح سے اسی طرح کہتا ہے اور اس پر زمین کا وہ ٹکڑا روتا ہے جس پر وہ اللہ کی عبادت کرتا تھا۔ اور آسمان کے ہر اس دروازہ سے جس سے اس کے اعمال چرھتے تھے اور اس سے اس کا رزق نازل ہوتا تھا چالیس راتوں تک روتا ہے جب فرشتے اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں تو پانچ سو فرشتے اس کے جسم کے پاس کھڑے ہوجاتے ہیں کوئی انسان اس کی طرف اور اس کی کروٹ تبدیل نہیں کرتا مگر فرشتے ان سے پہلے اسے بدل دیتے ہیں اور انسانوں کے کفن پہنانے سے پہلے اس کو کفن پہنا دیتے ہیں اور ان کی خوشبو سے پہلے اس کو خوشبو لگا دیتے ہیں اور اس کے گھر کے دروازے سے اس کی قبر تک فرشتے دو صفوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور استغفار کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں اس وقت ابلیس سخت چیخ مارتا ہے اور اس وجہ سے اس کے جسم کی بعض ہڈیاں گرجاتی ہیں اور وہ اپنے لشکر سے کہتا ہے تمہارے لیے ہلاکت ہو کس طرح یہ بندہ تم سے نجات پا گیا تو وہ کہتے ہیں بیشک آدمی گناہوں سے محفوط رہا اور جب ملک الموت اس کی روح کے ساتھ آسمان پر چڑھتے ہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں وہ سب مل کر اسے اپنے رب کے پاس سے لاتے ہیں جب ملک الموت عرش تک پہنچتا ہے تو روح اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتے ہیں میرے بندے کی ورح لے جاؤ اور اسے خار بیریوں میں، اور تہ بہ تہ کیلوں میں اور لمبے سایوں میں اور جاری پانی میں رکھ دو جب جب اس کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے داہنی جانب نماز آجاتی ہے اور روزہ اس کی بائیں جانب آجاتا ہے قرآن اور ذکر اسے کے سر کی طرف آجاتے ہیں، اور نماز کی طرف اس کا چلنا آجاتا ہے اس کے پاؤں کی طرف اور صبر قبر کے ایک کونے میں آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک گردن عذاب میں سے بھیجتے ہیں وہ اس کی داہنی طرف آجاتی ہے اور نماز کہتی ہے پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم یہ ساری عمر مشقت کرتا رہا۔ اب اس نے آرام پایا ہے جب اس کو قبر میں رکھا گیا پھر وہ گردن اس کی بائیں طرف آتی ہے تو روزہ اسی طرح کہتا ہے پھر وہ اس کے سر کی طرف آتی ہے تو وہ بھی اسی طرح کہتا ہے سو کسی جانب سے بھی عذاب اس کے پاس نہیں آسکتا پھر وہ تلاش کرتا رہتا ہے کیا کسی طرف سے عذاب کے لیے اترنے کی جگہ ہے ؟ مگر اللہ کا ولی یہ جان لیتا ہے کہ اللہ کی اطاعت نے اسے بچا لیا ہے تو جونہی وہ دیکھتا ہے عذاب اس سے نکل جاتا ہے اور صبر سارے اعمال سے کہتا ہے کہ بیشک اس نے مجھے روکا نہیں کہ میں خود اس سے ملوں مگر اس نے دیکھا لیا ہے جو تمہارے پاس ہے پس اگر تم عاجز آجاتے ہو تو میں اس کا ساتھی ہوتا پس جب تم اسے جزا دلا دی ہے تو میں اس کے لیے ذخیرہ ہوں پل صراط پر اور اس کے لیے ذخیرہ ہوں میزان کے پاس پھر اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو بھیجتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چندھیا کردینے والی بجلی کی طرح ہیں اور ان کی آواز سخت گرج کی طرح ہے۔ اور ان کے نوکیلے دانت مرغ کی خاروں کی طرح ہیں۔ اور ان کی سانس شعلہ کی طرح ہے جو اپنے بالوں کو درست کیے ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک کے دونوں کندھوں کے درمیان اتنااتنا فاصلہ ہے۔ ان سے نرمی اور رحمت کھینچ لی گئی مگر ایمان والوں کے ساتھ نرمی کریں گے ان کو منکر نکیر کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے اگر تمام جن وانس اس پر جمع ہوجائیں تو اس کو نہ اٹھاسکیں۔ وہ دونوں اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کون ہے ؟ اور تیرا نبی کون ہے تو وہ ان کو جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ وحدہ لا شریک ہے اور اسلام میرا دین ہے اور محمد ﷺ نبی ہیں اور وہ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ تو نے سچ کہا پھر وہی دونوں قبر کو دھکیلتے ہیں۔ اور اس کو کشادہ کردیتے ہیں سامنے کی جانب سے پیچھے کی جانب سے دائیں اور بائیں کی جانب سے اس کے سر کی جانب سے اور اس کے پاؤں کی جانب سے پھر اس سے کہتے ہیں اپنے اوپر کی جانب سے دیکھ وہ دیکھتا ہے تو اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھلا ہوتا ہے۔ وہ اس سے کہتے ہیں اے اللہ کے ولی یہ تیر اگھر ہے۔ جب تو نے اللہ کی اطاعت کی اس ذات قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ کہ اس کے دل کو ایسی فرحت ومسرت حاصل ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی پھر اس سے کہا جائے گا اپنے نیچے دیکھ۔ وہ دیکھے گا تو دوزخ کی طرف دروازہ کھلا ہوتا ہے تو وہ دونوں اسے کہتے ہیں اے اللہ کے دوست تو نے اس سے نجات پالی۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس وقت بھی اس کے اس کے دل کو ایسی فرحت حاصل ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور اس کے لیے ستر دروازے جنت کی طرف کھول دئیے جاتے ہیں جس سے اس کی خوشبو اور اس کی ٹھنڈک اس کے پاس آتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کی قبر میں سے اٹھا کر جنت کی طرف لے جائے گا۔ لیکن کافر کے لیے اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتے ہیں کہ میرے بندے کی طرف جاؤ اور اس کو میرے پاس لے آؤ۔ میں نے اسے اپنا وسیع رزق عطا فرمایا اور میں نے اس کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔ اگر اس نے میری نافرمانی کی اور میری نعمتوں کا انکار کیا۔ اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آج میں اس سے انتقام لوں گے۔ ملک الموت کی بارہ آنکھیں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ کثیر کانٹوں والی آگ کی سلاخیں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ پانچ سو فرشتے ہوتے ہیں۔ اور ان فرشتوں کے پاس تانبا اور جہنم کے انگاروں میں سے انگارے اور آگ کے کوڑے ہوتے ہیں جو بھڑک رہے ہوتے ہیں۔ ملک الموت ان سلاخوں کے ساتھ اس کو مارتے ہی۔ تو ان سلاخوں میں سے ہر کانٹے کی جڑ ہر با اور اس کی رگوں میں سے ہر رگ میں پیوست ہوجاتی ہے۔ پھر اسے شدت کے ساتھ مروڑ تے ہیں پھر اس کی روح کو اس کے پاؤں کے ناخنوں میں سے کھینچ لیتے ہیں اور اس کو اس کی ایری میں ڈال دیتے ہیں اس وقت اللہ کا دشمن مدہوش ہوجاتا ہے اور فرشتے اس کے چہرے کو اور اس کی دبر پر ان کوڑوں سے مارتے ہیں۔ پھر اس طرح اس کی کوکھ اور اس کے سینے تک لے جاتے ہیں۔ پھر اسی طرح اس کے حلق تک کھینچ لاتے ہیں۔ پھر فرشتے وہ تانبا اور جہنم کے انگاروں کو۔ اس کی ٹھوڑی کے نیچے بچھا دیتے ہیں پھر ملک الموت کہتے ہیں اے لعنتی اور ملعون جان تو نکل آ۔ آگ اور کھولتے ہوئے پانی کی طرف اور لسیاہ دھویں کے سائے میں جو نہ ٹھندا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگا۔ جب ملک الموت اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں تو روح جسم سے کہتی ہے اللہ تعالیٰ میری طرف سے تجھ کو برا بدلہ دے۔ جو تو میرے ساتھ اللہ کی نافرمانی اور گناہ کی طرف تیزی سے بڑھتا رہا۔ میرے ساتھ تو اللہ کی اطاعت میں سستی اور غفلت برتتا رہا۔ تو خود بھی ہلاک ہوا اور مجھے بھی ہلاک کیا اور جسم بھی روح سے اسی طرح کہے گا اور زمین کا وہ ٹکڑا جس پر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیا کرتا تھا۔ وہ اس پر لعنت کرے گا۔ اور ابلیس کے لشکر اس کی طرف چل پڑتے ہیں اور اس کو خوشخبری دیتے ہیں کہ انہوں نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اس کے بندہ کو آگ میں ڈال دیا۔ جب اس کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کی قبر اس پر تنگ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ دائیں پسلیاں بائیں جانب میں اور بائیں پسلیاں دائیں جانب میں گھس جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک کالا سانپ بھیج دیتا ہے وہ اس کی ناک کی نوک اور اس کے قدموں کے انگوٹھوں سے پکڑ لیتے ہیں اور اس کے اندر داخل ہوجاتے ہیں کہ اس کے وسط میں پہنچ کر آپس میں مل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ اس سے سوال کرتے تیرا رب کون ہے تیرا دین کیا ہے تیرا نبی کون ہے۔ تو وہ جواب دیتا ہے میں نہیں جانتا تو اس سے کہا جاتا ہے نہ تو نے خود جانا اور نہ تو نے کسی کی اتباع کی پھر فرشتے اس کو سخت مارتے ہیں کہ چنگاریاں اس کی قبر میں اڑتی ہیں۔ پھر وہ اپنی حالت پر لوٹ آتا ہے وہ فرشتے اس کو کہتے ہیں اپنے اوپر دیکھ۔ وہ دیکھتا ہے تو جنت کی طرف دروازہ کھلا ہوا ہوتا ہے۔ اور اس سے کہتے ہیں اے اللہ کے دشمن اگر تو اللہ کی اطاعت کرتا تو تیرا یہ گھر تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس کے دل میں ایسی حسرت پہنچتی ہے جو کبھی نہ ہوگی۔ اور اس کے لیے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے اے اللہ کے دشمن یہ تیرا مقام ہے جب تو نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور اس کے لیے ستتر دروازے آگ کی طرف کھول دئیے جاتے ہیں۔ اس کی گرمی اور اس کی تپش اس کے پاس آتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی قبر سے اٹھا کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔
Ayahs 56:86–87

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

سو اگر تمہارا حساب و کتاب ہونے والا نہیں

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو تم اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لیتے اگر تم سچے ہو

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” غیر مدینین “ (تمہارا حساب ہونے والا نہیں ہے) سے مراد ہے غیر محاسبین یعنی جن کا محاسبہ نہ ہو۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلولا ان کنتم غیر مدینین “ (اگر فی الواقع تمہارا حساب ہونے وال انہیں) یعنی تمہارا حساب فہمی نہیں ہوگی آیت ترجعونہا “ (پھر اس روح کو بدن کی طرف نہیں لوٹاتے ہو) یعنی تو پھر نفس یعنی روح کیوں نہیں لوٹا دیتے۔ 3۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، حسن اور قتادہ رحمہم اللہ نے اسی طرح روایت کیا۔ 4۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلولا ان کنتم غیر مدینین “ سے مراد ہے اگر تم قیامت کے دن نہیں اٹھائے جاؤ گے۔ جہنمیوں کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی
Ayahs 56:88–90

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر جو شخص مقربین میں سے ہوگا

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

اس کے لیے راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور جو شخص داہنے والوں میں سے ہوگا

6۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد وعبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فاما ان کام من المقربین۔ فروح وریحان “ ( پھر جو شخص مقرب لوگوں میں سے ہوگا تو اس کے لیے راحت ہے اور فراغت کی غذائیں ہیں) یعنی یہ اس کے لیے موت کے وقت ہوگا آیت ” وجنت نعیم “ (اور آرام کی جنت ہے) یعنی اس کے لیے جنت چھ؛ الی جائے گی قیامت کے دن تک۔ آیت ” واما ان کان من المکذبین الضالین۔ فنزل من حمیم “ (اور جو شخص تکذیب والے گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی) یعنی یہ موت کے وقت ہوگا آیت ” وتصلیۃ جحیم (اور دوزخ میں اس کا داخلہ ہوگا) یعنی اس کے لیے دوزخ چھپادی جائے گی قیامت کے دن تک۔ 7۔ ابوعبید فی فضائلہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ وابو داوٗد والترمذی وحسنہ والنسائی والحکیم الترمذی فی نوادر الاصول والحاکم وصححہ وابو نعیم فی الحلیۃ وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا آیت ” فروح وریحان “ یعنی راء کے رفع کے ساتھ۔ 8۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سورة واقعہ پڑھی جب اس آیت ” فروح وریحان “ پر پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یعنی آیت ” فروح وریحان “ 9۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ” فروح وریحان “ یعنی راء کے رفع کے ساتھ فروح پڑھتے تھے۔ 10۔ ابو عبید و سعید بن منصور وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا اس کو یوں پڑھتے تھے آیت ” فروح “ یعنی رحمت اور حسن (رح) بھ یہی پڑھتے تھے آیت ” فروح “ اور فرماتے کہ اس کے معنی ہے رحمت۔ 11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فروح “ سے مراد ہے راحت آیت ” وریحان “ سے مراد ہے راحت کو طلب کرنا۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت ” وریحان “ سے مراد ہے آرام پانے والا دنیا (کی تکلیفوں) سے آیت ” وجنت نعیم “ سے مراد ہے مغفرت اور رحمت۔ 13۔ مالک واحمد وعبد بن حمید فی مسندہ ووالبخاری ومسلم والنسائی نے ابوقتادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک جنازہ گزرا آپ نے فرمایا یہ آرام پانے والا ہے یا اس سے (لوگوں نے) آرام پایا۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ” مستریح اور مستراح منہ “ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا مومن بندہ دنیا کی مشقت اور اس کی تکلیف سے اللہ تعالیٰ سبحانہ کی رحمت کی طرف آرام پاتا ہے۔ اور فاسق وفاجر بندے سے دوسرے بندے اور شہر، درخت اور جانور آرام پاتے ہیں۔ مومن کو موت کے وقت بشارت 14۔ القاسم بن مندہ نے فی کتاب الاحوال والایمان بالسوال سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وفان کے وقت مومن کو سب سے پہلے روح اور ریحان اور جنت نعیم کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اور سب سے پہلے مومن بندے کو قبر میں یہ خوشخبری دی جائے گی کہ تجھے اللہ کی رضامندی اور جنت کی خوشخبری ہو تیرا آنا خوب ہے مرحبا۔ خوش آمدید یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے تجھے بخش دیا ہے جس نے تجھ تیری قبر تک پہنچایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کردی جس نے تیری گواہی دی۔ اور اس کی دعا قبول ہوگی جس نے تیرے لیے استغفار کیا۔ 15۔ ہناد بن السری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فروح وریحان “ کہ ” روح “ سے مراد ہے خوشی اور ریحان سے مراد ہے رزق۔ 16۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فروح وریحان “ سے مراد ہے غم سے نجات جس میں وہ پہلے مبتلا تھے اور عمل کرنے سے راحت پانا کہ وہ نہ نماز پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے۔ 17۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” روح “ سے مراد ہے آرام اور ” ریحان “ سے مراد ہے رزق۔ 18۔ عبد بن حمید وابن جریر وابوالقاسم بن مندہ نے کتاب السوال میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فروح وریحان “ یعنی وہ آخرت میں ہوگا اور قوم کے بعض لوگوں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! موت کے وقت ان کو (اس خوشخبری سے) خوش کیا جائے گا۔ 19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فروح وریحان “ میں ریحان سے مراد ہے رزق۔ 20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ روح سے مراد ہے رحمت اور ” الریحان “ سے مراد ہے پھول پودا۔ 21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فروح وریحان “ میں الروح سے مراد ہے رحمت اور الریحان (یعنی خوشبو) کہ آدمی اس کو موت کے وقت جا ملتا ہے۔ 22۔ المروزی فی الجنائز وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن کی روح اس کے جسم سے ریحانہ میں نکلتی ہے پھر یہ آیت ” فاما ان کان من المقربین، فروح وریحان “ پڑھی۔ 23۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی ذکر الموت و عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابو عمران جونی (رح) سے آیت ” فاما ان کان من المقربین۔ فروح وریحان “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ مومن کو جب موت آتی ہے تو جنت سے ریحان کے گلدستے کو پاتا ہے اور اس میں اس کی روح رکھی جاتی ہے۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ مقربین میں سے کوئی دنیا سے جدا نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ جنت کے خوشبو دار پودوں میں سے ایک ٹہنی لائی جاتی ہے وہ اس کو سونگھتا ہے پھر اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔ 25۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں بکر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا جب ملک الموت کو حکم کیا جاتا ہے مومن کی روح قبض کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ تو جہنم میں سے ایک دھاری دار کپڑا لایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کی روح کو اسی میں قبض کرو۔ اور جب کافر کی روح کو قبض کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ تو جہنم میں سے ایک دھاری دار کپڑا لایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کی روح کو اسی میں قبض کرو۔ 26۔ البزار وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں۔ اس میں مشک اور ریحان گلدستے ہوتے ہیں۔ تو اس کی روح اس طرح نکالی جاتی ہے جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے اے پاکیزہ جان باہر نکل (اس حال میں) کہ تو اپنے رب سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے اللہ کی رحمت اور کرامت کی طرف جب اس کی روح نکلتی ہے تو اس کو مشک اور ریحان میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اور اس پر ریشمی کپڑا لپیٹ دیا جاتا ہے پھر اسے علیین کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اور کافر کی موت جب قریب آتی ہے تو فرشتے ٹاٹ لے کر حاضر ہوتے ہیں جس میں آگ کے انگارے ہوتے ہیں تو اس کی روح کو سختی کے ساتھ کھینچتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے اے خبیث اور ناپاک روح باہر نکل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ذلت اور رسوائی اور اس کے عذاب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے ناراض اور وہ تجھ سے ناراض ہے۔ جب اس کی ورح نکلتی ہے تو ان انگاروں پر رکھا جاتا ہے اور وہ روح اس پر جوش مارنے اور کھولنے لگتی ہے اور پھر اس پر ٹاٹ کو لپیٹ دیتے ہیں۔ پھر اس کو سجین کی طرف لے جاتا ہے۔
Ayah 56:91

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو اس سے کہا جائے گا کہ تیرے لیے سلامتی ہے تو داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے

مومن کا استقبال جنت کی نعمتوں میں سے 27۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مومن کا اس کی موت کے وقت جنت کی خوشبؤوں میں سے خوشبو اور جنت کے پھولوں میں سے خاص پھول کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ پھر اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔ اور اس کو جنت کے ریشم میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر اس خوشبوکو (اس کے اوپر) چھڑکا جاتا ہے اور پھر اس (روح) کو ریحان میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر رحمت کے فرشتے اس کو وپر لے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو علیین میں رکھ دیتے ہیں۔ 28۔ ابن جریروابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فسلم لک من اصحب الیمین “ (تیرے لیے امن وامان ہے کہ تو دائیں طرف والوں میں سے ہے) یعنی فرشتے اس کے پاس اللہ کی طرف سے سلام کر آتے ہی اور اس کو سلام کہتے ہیں اور اس کو یہ خبر دیتے ہیں کہ تو اصحاب الیمین میں سے ہے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسلم لک من اصحاب الیمین “ سے مراد ہے کہ وہ سلامت ہے اللہ کے عذاب سے اور اللہ کے فرشتے اس پر سلام پیش کرتے ہیں۔
Ayahs 56:92–94

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور جو شخص جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہوگا

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

سو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی ضیافت ہوگی

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور وہ دوزخ میں داخل ہوگا

30۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واما ان کان من المکذبین الضالین۔ فنزل من حمیم (اور جو شخص تکذیب کرنے والے لوگوں میں سے ہوگا۔ تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی) یعنی کافر دنیا کے گھ رکی طرف نہیں نکلے گا یہاں تک کہ کو لتے ہوئے پانی کا پیالہ پئیے گا۔ 31۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا تو اس کا چہرہ جہنم کے انگاروں سے زخمی ہوگا۔ 32۔ احمد وابن المنذر وابن مردویہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے بعض اصحاب (رح) سے نقل کیا کہ آیت ” فاما ان کان من القربین فروح وریحان “ یعنی یہ حکم اس کے لیے دنیا میں ہے آیت ” واما ان کان من المکذبین الضالین۔ فنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم “ اور یہ حکم بھی اس کے لیے دنیا میں پورا ہوگا۔ 33۔ احمد وابن المنذر وابن مردویہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو فلاں بن فلاں بن فلاں نے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتے ہیں اور جس شخص نے اس کی ملاقات کو ناپسند کیا تو وہ قوم روتے ہوئے گر پرے گی۔ اور کہتے گی ہم موت کو ناپسند کرتے تھے آپ نے فرمایا اب نہیں ہے۔ لیکن جب اس کو (موت) حاضر ہوگی۔ آیت ” فاما ان کان من المقربین۔ فروح و وجنت نعیم “ تو جب اس کو اس بات کی خوشخبری دی جائے گی تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کریں گے۔ آیت ” واما ان کان من المکذبین الضالین فنزل من حمیم “ جب اس کو اس بات کی خبر سنائی جائے گی۔ تو وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرمائیں گے۔ 34۔ آدم بن ابی ایاس نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ آیت ” فلولا اذابلغت الحلقوم “ سے لے کر آیت ” فروح وریحان۔ وجنۃ نعیم “ تک اور اس سے لے کر آیت ” فنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم تک پھر فرمایا جب موت کا وقت ہوتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے۔ پھر اگر وہ دائیں طرف والوں میں سے ہے۔ تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرے گا تو تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کریں گے۔ اور اگر وہ اصحاب شمال (یعنی بائیں ہاتھ والوں) میں سے ہے۔ تو وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کریں گے۔
Ayah 56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ تحقیقی یقینی بات ہے

اللہ تعالیٰ کی ملاقات مومن بندہ سے 35۔ بخاری ومسلم و ترمذی اور نسائی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی ہے بخاری ومسلم و ترمذی اور نسائی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہے۔ لیکن مومن بندہ پر جب موت حاضر ہوتی ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور اس کے اکرام کے خوشخبری دی جاتی ہے۔ تو اس کی طرف کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی۔ ان چیزوں میں سے جو اس کے سامنے ہوتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں اور کافر کو جب موت حاضر ہوتی ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی خوشخبری دی جاتی ہے تو کوئی چیز اس کی طرف زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہوتی ان چیزوں میں سے جو اس کے سامنے ہوتی ہیں۔ اور وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔ 36۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مرتا ہے تو وہ اپنے غسل دینے والے کو پہچانتا ہے اور اس کے اٹھانے والے کو قسم دلاتا ہے اگر وہ نیک ہے تو اس کے لیے آیت ” فروح وریحان وجنت نعیم “ ہے کہ وہ اسے جلدی لے چلے۔ اور اگر وہ برا ہے تو (اس کے لیے) آیت ’ ’ فنزل من حمیم۔ وتصلیۃ جحیم “ ہے (یعنی کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی اور دوزخ میں اس کا داخلہ وہ گا کہ وہ اسے روک لے۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا لہو حق الیقین “ (بلاشبہ یہ سچی اور یقینی بات ہے) یعنی جو کچھ ہم نے اس سورت میں آپ پر بیان کیا۔ وہ یقیناً حق ہے۔ 38۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان ہذا لہو حق الیقین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کسی ایک چیز کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ یہاں تک کہ وہ اسے یقینی واقفیت کرادے گا۔ اس قرآن کے بارے میں۔ اور مومن نے دنیا ہی میں اس کا یقین کرلیا تو یہ اس کو قیامت کے دن نفع دے گا۔ اور کافر قیامت کے دن یقین کرلے گا۔ اس وقت اس کو یہ یقین نفع نہ دے گا۔ 39۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ان ہذا لہو حق الیقین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ یقینی خبر ہے۔ 40۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید وابن المنذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص ارادہ کرے کہ وہ پہلے لوگوں اور پچھلے لوگوں کی خبریں اور دنیا وآخرت کی خبریں اور جنت اور دوزخ کی خبریں جان لے تو اس کو چاہیے کہ سورة ” اذا وقعت الواقعۃ “ پڑھ لے۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فسبح باسم ربک العظیم “ (اپنے بڑے رب کے نام کے ساتھ تسبیح بیان کیجیے) سے مراد ہے اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے۔