Ayahs 56:41–421۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واصحب الشمال، ما اصحب الشمال، اور جو بائیں طرف والے ہیں وہ بائیں طرف والے کیسے برے ہیں) یعنی کیا ہے ان کے لیے اور کیا ہے جو ان کے لیے تیار کیا گیا۔
Ayah 56:432۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم والحاکم صححہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وظلم من یحموم (اور دھویں کے سایہ میں ہوں گے) یعنی سیاہ دھویں کے سائے میں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ جہنم کے دھویں کے سایہ میں ہوں گے۔
3۔ ہناد وعبد بن حمید مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وظل من یحموم سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے دھویں کے سائے میں ہوں گے۔
4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وظلم من یحموم سے رماد ہے کہ وہ دھویں کے سائے میں ہوں گے۔
5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وظل من یحموم سے مراد ہے دھواں۔
6۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آگ سیاہ ہوگی اور اس کے رہنے والے بھی سیاہ ہوں گے اور اس میں ہر چیز سیاہ ہوگی۔
Ayah 56:447۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لابارد ولا کریم (نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرھت بخش ہوگا) یعنی نہ اس سے اترنے کی جگہ ٹھنڈی ہوگی اور نہ اس کا منظر راحت دینے والا ہوگا۔
Ayah 56:458۔ ابن جریر وابنا لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہم کانوا قابل ذلک مترفین (اور وہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی سے رہتے تھے) یعنی ہر قسم کی نعمتوں میں آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم (اور بڑے بھاری گناہ یعنی کفر و شرک پر اصرار کیا کرتے تھے) یعنی بڑے گناہ پر۔
Ayahs 56:46–549۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔
Ayahs 56:55–5710۔ ابن عدی والشیرازی فتح الالقاب والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ میں یہ آیت آیت فشربون شرب الہیم پڑھی (وہ پئیں گے پیاسے اونٹوں کی طرح) یعنی انہوں نے شین کی فتح کے ساتھ پڑھا اور یہ شرب سے ہے۔
11۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس طرح پڑھتے تھے۔ ” شَرب الہیم “ (پیاسے اونٹ کا پینا) ۔
12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیر وایت کیا کہ ” شرب الیہم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ۔
13۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فشربون شرب الہیم “ کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے وہ اونٹ جس کو بیماری نے پکڑ لیا ہو۔ اس کو ” ہیم “ کہتے ہیں۔ وہ پانی سے سیراب نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کے کھولتے ہوئے پانی میں سے پینے کو اس پیاسے اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
اجزت الی معار فہا بشعب واطلاح من العبدی ہیم
ترجمہ : میں اس کی تلاش و جستجو میں گھاٹی سے آگے گزر گیا اور میرا غلام سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے شدید پیاسا ہوگیا۔
14۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ بیماری والا اونٹ پانی کو چوستا رہتا ہے اور سیراب نہیں ہوتا۔
جہنم میں پیاس کی کیفیت
15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ بیمار اونٹ پانی کو چوستا رہتا ہے اور سیراب نہیں ہوتا۔
16۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ یہ ہیم اونٹ کی ایک بیماری ہے جو اس میں سرایت کر جاتی ہے۔ تو اس کی وجہ سے وہ سیراب نہیں ہوتا۔ (یعنی اس کی پیاس نہیں بجھتی) ۔
17۔ سفیان بن عیینہ نے اپنی جامع میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے ” ہیام الارض “ یعنی ریت
18۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا ” ہیم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ
19۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرب الہیم سے مراد ہے پیاسا اونٹ
20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” شرب الہیم “ میں ہیم ایک ایسی بیماری ہے جو اونٹ وکو لگ جاتی ہے اور جب یہ بیماری کسی کو لگ جائے تو وہ سیراب نہیں ہوتا (یعنی اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی)
21 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” شرب الہیم “ کا شین کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 56:58–591۔ عبدالرزاق وابن المنذر والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں حجر المرادی (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت علی ؓ کے پاس تھا اور وہ رات کو نماز میں (سورۃ واقعہ) پڑھ رہے تھے جب اس آیت آیت افرء یتم ماتمنون، ء انتم تخلقونہ ام نحن الخلقون پر گزرے (بتلاؤ تم جو عورتوں کے رحم میں نطفہ ٹپکاتے ہو اس کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں) تو فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی پیدا فرماتے ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا پھر یہ آیت ءانت تزرعونہ پڑھی (اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں، پھر فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی اگاتے ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا پھر یہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن، (اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برساتے ہیں) پڑھی۔ اور فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی برساتے ہیں اس کو تین مرتبہ فرمایا پھر یہ آیت ءانتم انشأتم شجرتہا، (کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں) اور فرمایا اے میرے رب بلکہ آپ ہی نے پیدا فرمایا۔ اس کو تین مرتبہ فرمایا۔
Ayah 56:602۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن قدرنا بینکم الموت ہم نے تمہارے درمیان موت کو ٹھہرا رکھا ہے، سے مراد ہے کہ ہم نے زمین اور آسمان والوں کے لیے تقدیر بنا دی ہے اس میں ان کے شریف لوگ اور ان کے ضعیف لوگ سب برابر ہیں۔
موت کا وقت مقرر ہے
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن قدرنا بینکم الموت یعنی ہم نے تمہارے درمیان موت کو تاخیر سے یا جلدی سے مقرر کردیا ہے۔
Ayah 56:61آیت وننشئکم فی مالا تعلمون (اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جو کس تم جانتے بھی نہ ہو) یعنی ہم تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جیسے ہم چاہیں اور فرمایا آیت ولقد علمتم النشأۃ الاولی۔ (اور تم کو اول پیدائش کا علم ہے) جب تم کچھ بھی نہ تھے۔
Ayah 56:624۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد علمتم النشأۃ الاولی سے مراد ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش۔
Ayah 56:635۔ ابزار وابن جریر وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی فی شعب الایمان وضعفہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز ” زرعت “ نہ کہے (یعنی میں نے اگایا “ لیکن حرثت کہو کہو (یعنی میں نے کھیتی کی) ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ افرء یتم ماتحرثون، ء انتم تزرعونہ ام نحن الزرعون، (یہ بتاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں) بیہقی نے کہا یہ روایت ضعیف ہے۔
6۔ عبد بن حمید نے ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ وہ ’ زرعت ‘ کہنے کو ناپسند کرتے تھے اور یوں کہتے ہیں حرثت میں نے کھیتی کی۔
Ayah 56:647۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ء انتم تزرعونہ “ سے مراد ہے کیا تم اس کو اگاتے ہو۔
Ayah 56:658۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فظلتم تفکہوں، (پھر تم متعجب ہو کر رہ جاؤ) یعنی تم تعجب کرنے لگو۔
9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فظلتم تفکہوں سے مراد ہے کہ پھر تم ندامت کا اظہار کرتے رہو۔
Ayahs 56:66–6810۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا لمغرمون (کہ ہم پر تاوان پڑگیا) بیشک تو شر میں مبتلا ہوگئے آیت بل نحن محرو موت (بلکہ محروم ہی ہو کر رہ گئے) یعنی ہم تو خیر سے روک دئیے گئے۔ (پھر فرمایا) ء انتم انزلتموہ من المنز (کیا تم ہو اس کو نازل کرنے والے بادل سے) مزن سے مراد ہے بادل۔
Ayahs 56:69–7211۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ءانتم انزلتموہ من المزن یعنی بادل سے۔
12۔ عبد بن حمید نے حسن اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
پانی پینے کے بعد کی دعاء۔
13۔ ابن ابی حاتم نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ جب پانی پیتے تھے۔ تو فرماتے :۔
الحمد للہ الذی سقانا عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو میٹھا پانی پلایا اپنی رحمت سے اور اس کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے کڑوا نہیں بنایا۔
Ayahs 56:73–7414۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نحن جعلنہا تذکرۃ (اور ہم نے اس کی یاد دہانی کی) یعنی یہ آیت ہمارے لیے بڑ آگ کے بارے میں ہے نصیحت ہے آیت ومتاعا للمقوین اور مسافروں کے لیے فائدے کی چیز ہے۔ یعنی سارے لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے ہے کہ ہر شہری اور دیہاتی کے لیے سود مند ہے۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت نحن جعلناھا تذکرہ، یعنی ہم نے ہی اسے بڑی آگ کے لیے نصیحت بنادیا ہے۔ آیت ومتاعا للمقوین یعن مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز
16۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یعنی بڑی آگ کے لیے نصیحت بنادیا آیت ومتاعا للمقوین یعن مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز۔ پھر فرمایا کتنی قوموں نے سفر کیا پھر ان کا زاد راہ ختم ہوگیا پھر انہوں نے آگ کو جلایا اور اس سے گرمی حاصل کی اور اس سے نفع اٹھایا۔
17۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومتاعا للمقوین یعنی مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز ہے۔
18۔ طبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ روکو اللہ کے بندوں سے بچے ہوئے پانی کو اور نہ خودرو گھاس کو اور نہ آگ کو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز بنادیا ل۔ اور کمزور لوگوں کے لیے قوت کی چیز بنادیا اور ابن عساکر ؓ کے لفظ اس طرح ہیں کہ نفع حاصل کرنے والوں کے لیے زندگی گزارنے کی چیز بنادیا۔
Ayahs 56:75–761۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت فلا اقسم میں لا کو مد کے ساتھ اور ” اقسم ‘ کی الف کو مرفوع پڑھا آیت بموٰ قع النجوم (ستاروں کے چھپنے کی جگہ) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم (سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی) اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بموٰقع النجوم، سے مراد ہے آسمان کے ستارے۔
4۔ عبد بن حمیدوابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں اور اور حسن (رح) نے فرمایا کہ ” مواقع النجوم “ سے مراد ہے قیامت کے دن ستاروں کا گرنا اور بکھرجانا۔
5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے ستاروں کی منزلیں۔
7۔ عبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نٖر وابنا لمنذر وابی ابن حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے قرآن، آیت وانہ لقسم لو تعلمون عظیم سے مراد ہے قرآن۔
8۔ النسائی وابن جریر ومحمد بن نضر والحاکم وصححہ ابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن لیلۃ القدر میں اوپر والے آسمان سے نازل کیا گیا دنیا والے آسمان کی طرف ایک ہی بار پھر اسے سالوں میں تقسیم کردیا گیا اور ایک روایت میں یوں ہے پھر دنیا والے آسمان سے زمین کی طرف تھوڑا تھڑا کر کے اتارا گیا۔ پھر آپ نے یہ آتی پڑھی آیت فلا اقسم بموقع النجوم۔
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم یعنی الف ک کے ساتھ اور فرمایا اس سے مراد ہے نجوم القرآن) قرآن کے ستارے یعنی آیات) جب وہ نازل ہوتا ہے۔
10۔ ابن المنذر وابن الانباری فی کتاب المصاحف وابن مردویہ نے ابن عباس رضی الہ عنہما سے روایت کیا کہ سارا قرآن ایک ہی بار دنیا کے آسمان پر نازل کیا گیا۔ پھر وہاں سے تھوڑ اتھوڑا کر کے زمین کی طرف نازل کیا گیا کبھی تین آیات یا پانچ آیات یا اس سے تھوڑا یا زیادہ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلا اقسم بموقع النجوم۔
11۔ الفریابی نے صحیح سند کے ساتھ منہال بن عمرو (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے یہ آیت پڑھی آیت فلا اقسم بموقع النجوم۔ پھر فرمایا ا (اس سے مراد ہے) کہ میں قسم کھاتا ہوں محکم قرآن کی جو نبی اکرم ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا تھا۔
12۔ ابن نصر وابن الضریس نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں محکم قرآن کی۔
13۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بمواقع النجوم سے مراد ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں کتاب کے مستقر کی اس کے اول اور آخر کی۔
Ayahs 56:77–78قرآن کریم کا ایک خاص وصف
14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا آیت انہ لقراٰن کریم، فی کتب مکنون۔ (کہ یہ ایک معزز قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے، اور مکنون سے مراد ہے کہ جس کو کوئی چیز نہیں چھو سکتی مٹی سے اور نہ غبار سے آیت لا یمسہ الا لمطہرون یعنی وہ ملائکہ (علیہم السلام) ہیں جو پاک ہیں اور اسے صرف وہی چھوتے ہیں۔
Ayahs 56:79–8016۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی کتب مکنون سے مراد ہے تورات اور انجیل آیت لا یمسہ الا المطہرون یعنی تورات کو انجیل کو اٹھانے والے۔
17۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت لایمسہ الا المطہرون۔
18۔ آدم وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے المعرفہ میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے وہ کتاب جو آسمان میں نازل کی گئی اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر فرشتے۔
19۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے ملائکہ (علیہم السلام)
20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایمسہ الا المطہرون سے مراد ہے وہ کتاب جو رب العالمین کے پاس ہے۔ آیت لایمسہ الا لمطہرون۔ اسے وہی چھوتے ہیں جو پاک ہیں یعنی فرشتے اور جو تمہارے پاس ہے اسے مشرک پلید اور منافق ناپاک بھی چھوتے رہتے ہیں۔
بے وضو قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں
21۔ ابن مردویہ نے ایک سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ آیت انہ لقرراٰن کریم، فی کتب مکنون سے مراد ہے بیشک قرآن اللہ کے پاس پاکیزہ صحیفوں میں سے ہے آیت لایمسہ الا المطہرون، یعنی مقرب لوگ ہی اسے چھوتے ہیں۔
22۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے علقمہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم سلمان فارسی ؓ کے پاس آئے اور آپ ہمارے پاس اپنے گھر سے تشریف لائے ہم نے ان سے کہا اے ابو عبداللہ اگر آپ وضو کرلیں۔ پھر ہم پر فلاں فلاں سورة پڑھیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کتاب کے بارے میں فرمایا آیت ” فی کتب مکنون لایمسہ الا المطہرو “ یعنی یہ وہ کتاب ہے جو آسمان میں ہے۔ نہیں چھوتے اس کو مگر فرشتے (علیہم السلام) پھر آپ نے وہ ہم پر پڑھا قرآن میں سے جو ہم نے چاہا۔
23۔ عبد بن حمید وابن ابی داوٗد فی المصاحف وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی کتب مکنون “ سے مراد ہے کہ (بےشک یہ قرآن) آسمان میں ہے آیت ” لا یمسہ الا المطھرون “ یعنی اس کو ملائکہ (علیہم السلام) کے سوا کوئی نہیں چھوتا۔
24۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لا یمسہ الا المطہرون “ سے مراد ہے ملائکہ (علیہم السلام) اور (اس سے) مراد نہیں ہو اے گناہ کرنے والو۔
25۔ ابن المنذر نے نعیمی (رح) سے روایت کیا کہ مالک (رح) نے فرمایا کہ جو میں نے اس آیت کے بارے میں سنا ہے وہ بہت اچھا ہے کہ یہ آیت آیت ” لایمسہ الا المطہرون “ اس آیت کی طرح ہے جو سورة عبس میں ہے، یعنی آیت ” فی صحف مکرمۃ “ سے لے کر آیت ” ثم امتہ فاقبرہ “ تک (عبس آیت 16)
26۔ ابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اس قرآن کو وضو والا ہی چھوئے گا۔
27۔ عبدالرزاق وابن ابی داوٗد وابن المنذر نے عبداللہ بن ابی بکر (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عمرو بن حزم ؓ کے لیے لکھ کر بھیجا آیت ” ولا تمس القراٰن الا علی طہور “ (کہ تم قرٓن کو ہاتھ نہ لگاؤ مگر وضو کے ساتھ)
28۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر والحاکم وصححہ عبدالرحمن بن زید (رح) سے روایت کیا کہ ہم سلمان رضی اللساتھ تھے۔ وہ حاجت کی طرف چل دئیے اور ہم سے غائب ہوگئے۔ پھر وہ ہماری طرف آئے اور ہم نے کہا اگر آپ وضو کرلیتے (تو اچھا تھا) تو ہم آپ سے قرآن میں سے کئی چیزوں کے بارے میں پوچھتے۔ انہوں نے فرمایا مجھ سے پوچھو کہ میں اس کو نہیں چھوں گا کیونکہ اس کو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں پھر (یہ آیت) آیت ” لا یمسہ الا المطہرون “ تلاوت فرمائی۔
29۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن کو نہیں چھوئے گا مگر جو پاک ہو (یعنی وضو کی حالت میں) ۔
30۔ ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو ان کے معاہدہ میں یہ لکھا کہ قرٓن کو کوئی نہیں چھوئے گا مگر وہی جو پاک ہو۔
1۔ ابن مردویہ نے ابن حزم انصاری ؓ سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کی طرف لکھا کہ قرآن کو کوئی نہیں چھوئے گا مگر وہی جو پاک ہو۔