53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ لوگ ایسے ہیں جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر ہلکے گناہ بیشک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور جب تم ماؤں کے پیٹوں میں تھے سو تم اپنی جانوں کو پاک باز نہ بتاؤ وہ تقوی والوں کو خوب جاننے والا ہے

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الذین یجتنبون کبرالاثم والفواحش '' (یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں) سے مراد وہ بڑے گناہ ہیں جن کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کا ذکر کیا (آیت ) '' والفواحش '' (سے مراد وہ گناہ ہیں) کہ جن دنیا میں حدمقرر کی ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' الا اللم '' زنا صدور دیگر اعضاء سے بھی ہوتا ہے : 2:۔ عبدالرزاق (رح) و سعید بن منصور (رح) واحمد (رح) وعبد بن حمید (رح) والبخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی (آیت ) '' الا اللم '' کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہ ہو جو ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر لکھ دیا ہے اس کا حصہ زنا میں ہے وہ لامحالہ اس کو پائے گا (اور) آنکھ کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، نفس اس کی تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھوٹا کرتی ہے۔ 3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر والحاکم (رح) (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے (آیت ) '' الا اللم '' کے بارے میں روایت کیا کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور ٹانگوں کا زنا چلنا ہے، اور پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھٹلاتی ہے اگر وہ آگے بڑھ گیا اپنی شرم گاہ کے ساتھ تو زنا کرنے والا ہے وگرنہ وہ (آیت ) '' الا اللم '' (یعنی گناہ کے قریب) ہے۔ 4:۔ مسدود ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللم '' کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ دیکھنا ہے آنکھ مارنا، بوسہ لینا، اور مباشرت یعنی جماع کرنا، جب ایک شرم گاہ دوسری شرم گاہ سے مل جاتی ہے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اور یہ زنا ہے۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللم '' سے مراد ہے دو حدوں کے درمیان میں ہونا۔ 6:۔ سعید بن صفیہ والترمذی (وصححہ) البزار وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہیقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' الا اللم '' کے بارے میں فرمایا وہ آدمی جو برے کام کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس سے توبہ کرلیتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اگر تو بخشنے والا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کو بخش اور چھوٹے چھوٹے گناہ تو کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس نے نہ کیے ہوں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللم '' (سوائے ہلکے گناہوں کے) یعنی جو پہلے ہوچکے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ مشرکوں نے کہا کہ وہ (مسلمان) کل تک ہمارے ساتھ عمل کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی '' الا اللم '' (مگر ہلکے گناہ) جو ان سے صادر ہوئے تھے اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا جب وہ اسلام لائے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے زید بن اسلم (رح) روایت کیا کہ (آیت ) '' الذین یجتنبون کبرالاثم '' (یہ وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے بچتے) یعنی شرک ، (آیت ) '' والفواحش '' (اور بےحیائی کے کاموں سے) یعنی زنا سے، اور اللہ نے اس کو چھوڑ دیا جب وہ اسلام میں داخل ہوئے اور اللہ نے ان کو بخش دیا جو کچھ انہوں نے اسلام سے پہلے کیا تھا اور جس کے قریب گئے تھے۔ 10:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و ابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث روایت کیا (آیت ) '' الا اللم '' سے مراد ہے وہ زنا سے قریب ہو کر پھر اس سے توبہ کرلیتا ہے پھر دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور یہی '' اللمۃ من الزنا '' اور ہے '' اللمۃ من الشراب الخمریہ '' ہے کہ شراب پینے کے قریب ہوتا ہے پھر اس سے توبہ کرلیتا ہے اور دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا فرمایا یہی '' المام '' ہے۔ '' للمم '' کا مطلب۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے (آیت ) '' الا اللمم '' کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کہا کرتے تھے کہ وہ آدمی جو زنا کے قریب پہنچتا ہے اور شراب کے قریب پہنچتا ہے پھر اس سے رک جاتا ہے یا اس سے توبہ کرلیتا ہے۔ 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو۔ (آیت ) '' الا اللمم '' کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں پھر آپ نے فرمایا وہ آدمی جو زنا میں واقع ہونے کے قریب ہوجاتا ہے پھر (اس کی طرف) نہیں لوٹتا اور وہ قریب ہوجاتا ہے شراب پینے کے خطرے سے پھر (اس کی طرف) نہیں لوٹتا۔ اور جو قریب ہوجاتا ہے چوری کے پھر (اس کی طرف) نہیں لوٹتا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللمم '' سے مراد ہے کہ وہ کبھی کبھار گناہ کرلیتا ہے تو پھر توبہ کرلیتا ہے۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے (آیت ) '' اللمم '' کے بارے میں پوچھا گیا میں نے کہا وہ آدمی جو گناہ کو پہنچتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے اور میں نے ابن عباس ؓ کو اس بات کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا کہ تیری مدد کی اس پر ایک بزرگ فرشتے نے۔ 15:۔ البخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللمم '' سے مراد ہے کسی وقت زنا کرنے والا۔ 16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا اللمم '' سے مراد ہے زنا سے بچ جانا اس طرح کہ دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹے۔ 17:۔ ابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اللمم '' سے مراد ہے جماع کے قریب ہوجانا۔ 18:۔ ابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کو حسن ؓ کا قول ذکر کیا گیا (آیت ) '' اللمم '' کے بارے میں اس کا معنی ہے زنا میں پڑنا تو انہوں نے فرمایا ایسا نہیں لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کو بھینچ کردبانا اور بوسہ لینا اور سونگھنا ہے۔ 19:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اللمم '' سے مراد ہے شرک سے کم (گناہ ) ۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اللمم '' سے مراد ہے ہر وہ چیز ہے جو دنیا وآخرت کی دو حدوں کے درمیان ہے کہ اس (گناہ) کو نماز مٹا دیتی ہے اور وہ چیز جو ہر واجب سے کم ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کی حد اس سے مراد ہر وہ حد اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا میں مقرر کیا ہے۔ اور آخرت کی حد یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا خاتمہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کے ساتھ کیا۔ اور اس کی سزا کو آخرت تک مؤخر کردیا۔ 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اللمم '' میں '' لمم '' سے مراد ہے دو حدوں کے درمیان یعنی وہ چیز جو نہ دنیا کی حد تک پہنچتی ہو اور نہ ہی آخرت کی حد ثابت ہو تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کی حد کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے جہنم کی آگ کو واجب کردیا یا وہ ایسا گناہ نہ ہو جس پر دنیا میں حد قائم کی جائے۔ 22:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے زید بن ثابت ؓ سے (آیت ) '' الذین یجتنبون کبرالاثم والفواحش الا اللمم '' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپے ہوئے ہیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ھواعلم بکم اذا انشاکم من الارض '' 23:۔ ابن المنذ ر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی وابو نعیم فی المعرفہ وابن مردویہ (رح) اور الواحدی نے ثابت بن الحارث الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ یہودی جب ہلاک ہوئے تو ان کا ایک چھوٹا بچہ تھا تو انہوں نے کہا یہ صدیق ہے یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا یہودیوں نے جھوٹ کہا جس ذی روح کو اللہ تعالیٰ اس کی ماں کے پیٹ میں پیدا فرماتے ہیں تو وہ بدبخت ہوتا ہے یا نیک بخت ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) '' ھواعلم بکم اذا انشاکم من الارض '' (وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا تھا) آخری آیت تک۔ 24:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' ھواعلم بکم اذا انشاکم من الارض '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قول (آیت ) '' ھو اعلم بالمھتدین '' کی طرح ہے (کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں ہدایت پانے والوں کو) 25:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے (آیت ) '' اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ '' کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے (اور جب تم کو زمین سے پیدا کیا اور جب تم ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو زمین سے پیدا فرمایا پھر تم کو آدم سے پیدا فرمایا۔ 26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حسن (رح) سے (آیت ) '' ھواعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھتکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ یہ عمل کرے گا اور یہ چیز بتائے گا اور اس چیز کی طرف پھر جائے گا۔ 27:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلاتزکوا انفسکم '' (سو تم اپنے کو پاک مت سمجھا کرو) یعنی اپنی برأت مت ظاہر کرو (کہ ہم سب گناہوں سے بری ہیں) 28:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' فلاتزکوا انفسکم '' کے بارے میں روایت کیا کہ تم گناہوں کے اعمال نہ کرو جبکہ تم کہتے ہو کہ ہم اطاعت کے اعمال کرتے ہیں۔ 29:۔ ابن سعد واحمد ومسلم وابو اداؤد وابن مردویہ (رح) نے زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میرا نام برہ تھا (یعنی نیک) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' فلاتزکوا انفسکم '' (اپنے آپ کو پاک مت کہو) اللہ تعالیٰ نیک لوگوں خوب جانتے ہیں تم اس کا نام زینب رکھو۔ 30:۔ زبیر بن بکار نے موفقیات میں اپنے دادا عبداللہ بن مصعب (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے قیس بن عاصم ؓ سے فرمایا اپنے بارے میں ہمارئے لئے بیان کرو تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' فلاتزکوا انفسکم '' (اپنے کو پاک بازمت کہو) میں اپنے آپ کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اس بات سے ابوبکر نے بہت تعجب فرمایا۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے اسے دیکھا جس نے روگردانی کی

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک جہاد میں نکلے ایک آدمی آیا اس نے کوئی (سواری) نہیں پائی کہ اس پر وہ بھی (جہاد کے لئے) نکلے وہ اپنے ایک دوست سے ملا اور اس سے کہا مجھے کوئی چیز (سواری کے لئے) دے دو اس نے کہا میں تجھ کو اپنا جوان اونٹ دیتا ہوں اس شرط پر کہ تو میرے گناہوں کو اٹھالے، اس نے کہا (میں اٹھالوں گا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) '' نازل فرمائی '' افرء یت الذی تولی (33) واعطی قلیلا واکدی (34) '' (کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی اور تھوڑا مال دیا اور پھر بالکل بند کردی) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے دراج ابی السمح (رح) سے روایت کیا کہ ایک لشکر جنگ کے لئے نکلا تو ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ مجھے کوئی سواری (کاجانور) دے دیں آپ نے فرمایا میں (سواری کا جانور) نہیں پاتا کہ جس پر تجھ کو سوار کردو وہ آدمی غمگین ہو کر واپس لوٹ گیا پھر وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرا کہ اس کا اونٹ اس کے سامنے بندھا ہوا تھا اس نے اس کی طرف (سواری نہ ملنے کی) شکایت کی۔ اس آدمی نے اس سے کہا کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ میں تجھ کو اس پر سوار کردوں تاکہ تو لشکر سے مل جائے اس نے کہا ہاں تو یہ (آیت) نازل ہوئی '' افرء یت الذی تولی (33) سے لے کر '' ثم یجزہ الجزآء الاوفی '' تک۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ایک شخص مسلمان ہوگیا پھر وہ ایسے آدمی سے ملا جو اس کو عار دلانے لگا کہ تو نے اپنے بڑوں کے دین کو چھوڑ دیا اور تو نے ان کو گمراہ قرار دیا اور تو نے ان کے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ سب دوزخ میں ہیں اس نے کہا مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے تو اس نے آگے سے کہا تو مجھے کچھ مال دیدے تو میں تجھ پر سارے عذاب کو اٹھالوں گا جو تجھ پر ہوا اس شخص نے اس کو کچھ دیدیا اس نے کچھ مانگا دونوں ایک دوسرے سے متفق نہ ہوئے یہاں تک کہ اس نے کچھ اور بھی دیدیا اور اس نے اس کے لئے ایک تحریر لکھ دی اور گواہی بھی اس پر قائم کردی۔ اس بارے میں یہ (آیت) نازل ہوئی '' افرء یت الذی تولی (33) واعطی قلیلا واکدی (34) اعندہ علم الغیب فھویری (35) '' (کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی اور تھوڑا مال دیا اور پھر بالکل بند کردیا کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ اس کو دیکھ رہا ہے ) 4:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' افرء یت الذی تولی '' سے مراد ہے ولید بن مغیرہ کہ وہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر کے پاس آیا کرتا اور ان کو سنتا تھا جو کچھ وہ فرماتے تھے (آیت ) '' اوعطی '' اور اس نے اپنی جانب سے فقط سننا پیش کیا (آیت) '' والذی '' یعنی اس کی عطا اور سخاوت کٹ گئی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت ) '' اعندہ علم الغیب '' فرمایا غیب سے مراد ہے قرآن اس نے اس میں کوئی باطل دیکھا ہے اور وہ اپنی نگاہ کے ساتھ اس سے پار گزرتا جب وہ اختلاف کررہا ہے نبی کریم ﷺ اور ابوبکر ؓ سے۔
Ayahs 53:34–36

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا مال دیا اور بند کردیا

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے ان مضامین کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے

5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' یعنی پھر اس نے دنیا ختم کردیا تو (یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے تھوڑا مال دیا پھر وہ سلسلہ کٹ گیا۔ 7:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس نے تھوڑا سا اپنے مال میں سے دیا اور زیادہ مال کو روک لیا، پھر اسے احسان جتانے کے ساتھ مکدر کرنے لگا پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ واعطی قلیلا ثم اکدی بمنۃ ومن المعروف فی الناس یحمد : ترجمہ : اس نے تھوڑا سامال دیا پھر روک لیا احسان جتاتے ہوئے اور یہ وہ شخص ہے جو تم لوگوں میں نیکی پھیلاتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور جو ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں کہ جس نے پوری بجاآوری کردی

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' ابراہیم (علیہ السلام) چاشت کی نماز پڑھتے تھے : 8:۔ سعید بن منصور (رح) نے عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والشیرازی فی الالقاب والدیلمی نے ضعیف سند کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ کا اس قول (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' سے کیا مراد ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں پھر فرمایا ان کے دن کے عمل میں چار رکعت تھیں جو وہ دن کے اول حصے میں پڑھتے تھے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ چاشت کی نماز ہے۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' (اور ابراہیم (علیہ السلام) جس نے احکام کی پوری بجا آوری کی) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا پورا پورا حق ادا کردیا۔ 10:۔ الفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' سے مراد ہے کہ آپ نے اسے پورا کردیا جو کچھ ان پر فرض کیا گیا تھا۔ 11:۔ الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسلام تیس حصے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کسی نے ان کو نہیں چھوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' (کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے احکام کی پوری بجاآوری کی ) 12:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اپنے رب کا پیغام اس کی مخلوق کی طرف پہنچانے میں (پورا پورا حق ادا کردیا) 13:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد و عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' کے بارے میں روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری (28) (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا) کی تبلیغ فرمائی۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' یعنی انہوں نے تبلیغ کی جو ان کو حکم دیا گیا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو پورا کیا اس کام میں جو انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیا جب انہوں نے (بیٹے کو ذبح کرنے خواب دیکھا اور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفہ میں تھا (آیت ) '' ولاتزر وازرۃ وزر اخری '' (کہ کوئی کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا) آیت کے آخرتک۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' (انہوں نے اللہ کے حکم کو پورا کیا) یعنی اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کے بارے میں۔ 17:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' کے بارے روایت کیا کہ اسلام کے سارے حقوق میں (انہوں نے اللہ کے حکم کو پورا کیا) اور ان کے علاوہ کسی نے اسکو پورا نہیں کیا اور یہ تیس حصے ہیں اس میں دس (سورۃ) برأۃ میں ہیں (جسے فرمایا) (آیت ) '' ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالھم '' (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو خرید لیا) (ساری آیتیں) اور دس سورة احزاب میں ہیں یعنی (آیت ) '' ان المسلمین والمسلمت '' (ساری آیات) اور چھ (آیت ) '' قد افلح المؤمنون '' میں ہیں سورة کی ابتداء میں تمام آیات ہیں اور چا (سورۃ) (آیت ) '' سأل سائل '' میں ہیں۔ یعنی (آیت ) '' والذین یصدقون بیوم الدین '' (اور) والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون (27) (ساری آیات) یہ سب تیس حصے ہیں جس نے ان میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے پورا کردیا تو اللہ تعالیٰ اسلام کے حصوں میں سے اس حصے کا پورا پورا عوض اسے عطا فرمائے گا اور کسی نے اسلام کے سارے حصوں کو پورا نہیں کیا سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' (کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکموں کو پورا کیا) (واللہ اعلم )
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کوئی بوجھ نہ اٹھائے گا

1:۔ عبد بن حمید (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة النجم نازل ہوئی آپ اسے پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' پھر (آگے) فرمایا (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری '' سے لے کر (آیت ) '' من النذر الاولی '' تک۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف سے یہ حکم پہنچا دیا کہ (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری '' (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا ) 3:۔ الشافعی و سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عمرو بن اوس (رح) سے روایت کیا کہ جایک آدمی کو دوسرے کے گناہ میں پکڑا جاتا تھا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' (کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے احکام کی پوری بجاآواری کی) آپ نے اس کی تبلیغ فرمائی اور حق ادا کردیا اور فرمایا (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری '' (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا ) ۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وابرھیم الذی وفی '' کے بارے میں روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے ولی کو مولی کے بدلے میں پکڑلیتے تھے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ نے یہ حکم فرمایا (آیت ) '' الاتزر وازرۃ وزر اخری ''۔ کوئی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : 5:۔ ابن المنذر (رح) نے ھذیل بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) سے لئے کر ابراہیم (علیہ السلام) تک اس درمیانی مدت میں ایک آدمی کو دوسرے کے گناہ میں پکڑ لیا جاتا تھا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے اور یہ اعلان فرمایا (آیت ) '' الاتزروازرۃ وزر اخری '' (کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا )
Ayahs 53:39–41

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لئے نہیں ہے مگر وہی جو کچھ اس نے کمایا

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھ لیاجائے گی

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا

قولہ تعالیٰ : (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' 6:۔ ابوداؤد والنحاس کلاھما فی الناسخ وابن جریر وابن المنذر (رح) اور مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' (اور یہ کہ انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بہم ذریتھم (الطور آیت 21) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی جنت میں ملادیں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اولاد کو بھی جنت میں داخل کردیں گے آباء کے اعمال صالح کی وجہ سے۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب یہ (آیت) '' وان لیس للانسان الا ماسعی '' (39) وان سعیہ سوف یری (40) ثم یجزہ الجزآء الاوفی (41) پڑھتے تھے تو عجز و انکساری کا اظہار فرماتے۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ ، الدارقطنی فی الافراد اور البغوی نے اپنی تفسیر میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) '' وان الی ربک المنتھی '' کے بارے میں فرمایا کہ رب تعالیٰ کے بارے میں سوچ وبچار نہیں ہے۔ اور سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان الی ربک المنتھی '' (اور سب کو آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے) سے مراد ہے کہ نہیں ہے سوچ وبچار رب تعالیٰ کے بارے میں۔ 2:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں غورفکر کررہے تھے آپ نے فرمایا مخلوق میں غوروفکر کرو اور خالق میں غوروفکر نہ کرو کیونکہ تم اس پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتے۔ 3:۔ ابوالشیخ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی مخلوق میں غور کرو اور اللہ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ اللہ کی مخلوق میں غور کی جائے۔ 4:۔ ابوالشیخ نے یونس بن میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے اور وہ اللہ کی عظمت کا ذکر کررہے تھے آپ نے پوچھا تم کس چیز کا ذکر کررہے تھے انہوں نے عرض کیا ہم اللہ کی عظمت کے بارے میں غور وفکر کررہے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار اللہ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو تین مرتبہ فرمایا (اور فرمایا) خبردار اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق میں غوروفکر کرو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ 5:۔ ابوالشیخ نے ابوامیہ مولی شبرمہ (رح) سے (اس کا نام حکم ہے) اور اس نے کوفہ کے بعض آئمہ کرام سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ گفتگو کررہے تھے آپ نے ان کا ارادہ فرمایا (یعنی ان کے پاس تشریف لائے) تو وہ خاموش ہوگئے۔ آپ نے پوچھا تم کیا باتیں کررہے تھے ؟ انہوں نے کہا ہم سورج کی طرف دیکھ رہے تھے اور ہم اس کے بارے میں غور وفکر کررہے تھے کہ یہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور کررہے تھے آپ نے فرمایا اسی طرح اللہ کی مخلوق میں غور کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مغرب کے پیچھے سفید زمین ہے اس کی سفیدی اور اس کا نور سورج سے چالیس دنوں کے فاصلہ پر ہے۔ اس میں ایک مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا لہذا تم پلک جھپکنے تک بھی اللہ کی نافرمانی نہ کرو کہا گیا یارسول اللہ ! وہ آدم کی اولاد میں سے ہیں۔ فرمایا وہ نہیں جانتے کہ آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے یا نہیں پھر پوچھا گیا اے اللہ کے نبی ! ابلیس ان سے کہاں ہے ؟ فرمایا وہ نہیں جانتے کہ ابلیس کو پیدا کیا گیا یا نہیں پیدا کیا گیا۔ 6:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم مسجد میں حلقہ بنائے ہوئے بیٹھے تھے ہم کو فرمایا تم کس بارے میں سوچ رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا ہم غور وفکر کررہے ہیں سورج کے بارے میں وہ کس طرح طلوع ہوتا ہے کس طرح غروب ہوتا ہے ؟ـ فرمایا تم نے اچھا کیا تم اس طرح کیا کرو تم مخلوق میں غور وفکر کرو اور خالق میں غوروفکر نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا جو چاہا جب چاہا اور اس سے تم تعجب کرو گے بیشک کے نیچے سات سمندر ہیں ہر سمندرپانچ سو برس کا ہے اور ان سات زمینیں ہیں ان کا نور اس کے رہنے والوں کے لئے چمکتا ہے۔ اور ان سات زمینوں سے آگے ستر ہزار امتیں ہیں جن کو پرندوں کی شکل میں پر پیدا کیا گیا وہ اور اس کے بچے ہوا میں ہیں وہ ایک تسبیح سے بھی غافل اور سست نہیں ہوتے اور اس کے آگے ستر ہزار امتیں اور ہیں جن کو ہو اسے پیدا کیا گیا ان کا کھانا اور ان کا پینا ہوا ہے۔ ان کے کپڑے ہوا کے ہیں ان کے برتن بھی ہوا سے ہیں اور ان کے چوپائے بھی ہوا کے ہیں تم یہ خواہش نہ کرو انکو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے قیامت کے قائم ہونے تک ان کی آنکھیں ان کے سینوں میں ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی ایک ہی بار سوتا ہے پھر وہ جاگ جاتا ہے اور اس کے سر کے پاس اس کا رزق ہوتا ہے اور اس کے آگے عرش کا سایہ ہے اور عرش کے سائے میں ستر ہزار امتیں ہیں وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور نہ آدم کی اولاد کو اور نہ ابلیس کو اور نہ کی اولاد کو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) '' ویخلق مالا تعلمون '' ( اور وہ پیدا فرماتے ہیں جو تم نہیں جانتے )
Ayahs 53:43–47

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے جوڑے پیدا کئے یعنی مذکر اور مؤنث

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

نطفے سے جبکہ وہ ڈالا جاتا ہے

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا

7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم پر سے گزرے جو ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت روتے اور تھوڑا ہنستے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی '' (بلاشبہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے) پھر آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا میں چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو (آیت ) '' وانہ ھواضحک وابکی ''۔ 8:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) جنت سے سفید یاقوت کے ساتھ اترے کہ جس سے اپنی آنکھوں کو پوچھتے تھے پھر فرمایا آدم (علیہ السلام) جنت (کی جدائی) پر چالیس سال روئے جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے آدم آپ کیوں روتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف تسلی دینے والا بنا کر بھیجا ہے (یہ سن کر) آدم (علیہ السلام) ہنس پڑے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' ھواضحک وابکی '' یعنی آدم (علیہ السلام) ہنسے تو آپ کی اولاد بھی ہنستی ہے آدم (علیہ السلام) روئے تو آپ کی اولاد بھی روتی ہے۔ 9:۔ ابن شیبہ (رح) نے جارالطائی (رح) سے روایت کیا کہ میں مصعب بن زبیر کی ماں کے جنازہ میں حاضر ہوا اس میں ابن عباس ؓ بھی تھے ہم نے نوحہ کرنے کی آوازیں سنیں میں نے کہا ابن عباس یہ کیا ہورہا ہے ؟ اور آپ یہاں ہیں تو انہوں نے فرمایا اے جبار ! ہم کو چھورڑ دے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہنساتا اور رلاتا ہے۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے دولت دی اور سرمایہ باقی رکھا

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھو اغنی واقنی '' (بلاشبہ وہ غنی کرتا ہے اور باقی رکھتا ہے) یعنی وہی عطا کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔ 2:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اغنی '' یعنی وہ زیادہ عطا کرتا ہے (آیت ) '' واقنی '' یعنی وہ قناعت پر مجبور کرتا ہے۔ صبر و قناعت کا ذکر : 3:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' وانہ ھو اغنی واقنی '' کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے فقر سے نکال کر غنی کردیا اور مالداروں سے نکال کر بقدر حاجت عطا کیا اور وہ اسی پر قناعت کرنے والا ہوگا پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عشرہ عبسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : فاقنی حیاءک لا ابالک واعلمنی انی امروسأ موت ان لم اقتل : ترجمہ : اپنی شرم وحیا پر قناعت کر کہ تیرا کوئی باپ نہیں اور تو جان لے میں ایک آدمی ہوں عنقریب مرجاؤں گا اگر مجھے قتل نہ کیا گیا۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اغنی '' سے مراد ہے راضی کرنا (آیت) '' واقنی '' سے مراد ہے خرچ برداشت کرنا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اغنی واقنی '' سے مراد ہے کہ مال کے ساتھ مالدار بنا دیتا ہے اور وہی مفلس بنادتیا ہے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھو اغنی واقنی '' سے مراد ہے کہ اس نے اپنے آپ کو غنی بنادیا اور ساری مخلوق کو اپنا محتاج بنادیا۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی شعری کا رب ہے

8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھورب الشعری '' (بلاشبہ وہ رب ہے شعری ستارے کا) فرمایا وہ ایک ستارہ ہے جن کو شعری کہا جاتا ہے۔ 9:۔ الفاکہی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ لوگ شعری کی عبادت کرتے تھے اور یہ وہ ستارہ ہے جو جوزاء کے پیچھے ہوتا ہے۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ شعری وہ ستارہ ہے جو جو زاء کے پیچھے ہوتا ہے وہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے۔ 11:۔ عبدرالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس ستارے کی عبادت کرتے تھے جس کو شعری کہا جاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 53:50–52

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی سو باقی نہیں رکھا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو بیشک یہ لوگ خوب بڑھ کر ظالم اور سرکش تھے

12:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھو اھلک عاد الاولی '' (اور یہ کہ اسی نے قوم عاد کو (اس کے کفر کی وجہ سے ہلاک کیا) دوسرے عاد حضرموت میں تھے۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقوم نوح من قبل انہم کانوا ھم اظلم واطغی '' (اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا۔ بیشک وہ سب زیادہ ظالم اور سرکش تھے) یعنی قوم نوح سے بڑھ کر لوگوں میں سے اس سے زیادہ ظالم اور سرکشی کرنے والے نہیں تھے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو ساڑھے نوسوسال (دین کی) دعوت دی جب بھی پہلی نسل مرجاتی اور دوسری نسل پیدا ہوجاتی تو آپ ان کو بھی (دین کی) دعوت دیتے یہاں تک کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک آدمی اپنے بھائی یا اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے ان کی طرف چلتا تھا اور کہتا تھا اے میرے بیٹے میرے باپ بھی اسی طرح) مجھے اس کی طرف لے کر چلا تھا اور میں آج کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکذیب اور لگا تار گمراہی کو اختیار کرنے میں تیری طرح ہوں۔
Ayahs 53:53–56

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک دیا

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

سو ان بستیوں کو ڈھانپ لیا جس چیز کو ڈھانپا ہو

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرتا رہے گا

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ ایک ڈرانے والا ہے پرانے ڈرانے والوں میں سے

14:۔ عبد بن حمید (رح) وابو الشیخ نے وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' (اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اس اوندھی بستی کو آسمان کی طرف اٹھاکر نیچے پھینک دیا۔ 15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم کہ ان کے ساتھ زمین کو الٹ دیا گیا بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا پس ان کے ساتھ قیامت کے دن تک دھنستی رہے گی۔ 16:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والمؤتفکۃ اھوی '' سے مراد ہے قوم لوط کی بستیاں (آیت ) '' فغشھا ماغشی '' (پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے گھیر لیا یعنی پتھروں نے ان کو گھیر لیا (آیت ) '' فبای الآء ربک تتماری '' (سو تو اپنے رب کی کونسی نعمت میں شک کرتا رہے گا )
Ayahs 53:57–58

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

جلدی آنے والی قریب آپہنچی

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں

17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومالک الغفاری (رح) سے (آیت ) '' الا تزروازرۃ وزر اخری '' (سے لے کر) ھذا نذیر من النذرالاولی '' تک کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اسی سے ڈرایا جس سے پہلے انبیاء نے ڈرایا۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ھذا نذیر من النذر الاولی '' (یہ محمد ﷺ ڈرانے والے ہیں پہلے ڈانے والوں میں سے) یعنی محمد ﷺ انہیں (احکام) کے سابھ بھیجے گئے جیسے ان سے پہلے رسول بھیجے گئے (آیت ) '' ازفت الازمۃ '' (آنے والی قریب آپہنچی ہے) یعنی قیامت (آیت ) '' لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ '' (اللہ کے سوا اس کو کوئی ذات ہٹانے والی نہیں) یعنی کوئی لوٹانے والا نہیں۔ 19:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الازمۃ '' قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 20:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ازفت الازمۃ '' سے مراد ہے قیامت قریب آگئی۔ 21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ازفت الازمۃ '' سے مراد ہے قیامت قریب ہے (آیت ) '' لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ '' یعنی اللہ کے سوا اسے کوئی ظاہر نہیں کرے گا۔ 22:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کے سوا اس کے معبودوں میں سے کوئی اس کو ظاہر کرنے والا نہیں۔
Ayahs 53:59–60

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا اس بات سے تعجب کرتے ہو

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث '' (کیا تم اس کلام خداوندی سے تعجب کرتے ہو یعنی اس قرآن سے) رسول اللہ ﷺ کی فکر آخرت : 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد فی الزھد وھناد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے صالح ابوالخیل (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث تعجبون (59) وتضحکون ولا تبکون '' (سو کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ اس کے بعد نہیں ہنسے مگر صرف تبسم فرماتے تھے اور عبد بن حمید (رح) نے الفاظ یہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ مسکراتے ہوئے یہاں تک کہ آپ دنیا سے چلے گئے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث تعجبون (59) وتضحکون ولا تبکون '' نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی تو اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے۔ 4:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) '' افمن ھذا الحدیث تعجبون (59) وتضحکون ولا تبکون '' نازل ہوئی تو اصحاب صفہ رونے لگے یہاں تک ان کے آنسوں ان کے رخساروں پر جاری ہوگئے جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی ہچکیوں کو سنا تو آپ بھی رونے لگے پھر آپ نے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رویا اور اللہ کی نافرمانی پر اصرار کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا اگر تم نے گناہ نہ کئے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے گی پھر ان کی مغفرت کردی جائے گی۔
Ayahs 53:61–62

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم تکبر کرتے ہو

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

سو اللہ کو سجدہ کرو اور عبادت کرو

5:۔ عبدالرزاق والفریابی وعبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم والطبرانی (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سمدون '' سے مراد ہے کہ تم غافل ہوتے ہوئے اس سے روگردانی کرنے والے ہو۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانتم سمدون '' (اور تم تکبر کرتے ہو یعنی تم غفلت کرنے والے ہو۔ 7:۔ عبدالرزاق والفریابی وابوعبیدفی فضائلہ وعبدبن حمید (رح) وابن ابی الدنیا فی ذم الملاہی والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انتم سمدون '' سے مراد ہے یمن کے گانے والے یعنی جب وہ قرآن سنتے تھے تو گانا شروع کردیتے تھے اور کھیلنے کودنے لگے۔ 8:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) '' سمدون '' کے بارے روایت کیا کہ یہ قبیلہ حمریہ کے گانے بجانے والے ہیں۔ 9:۔ الفریابی وابویعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عباس ؓ سے (آیت ) '' سمدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے کفار تکبر کرتے ہوئے نکل جاتے تھے کیا تو نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا وہ کس طرح تکبر کرتے ہوئے چلتا ہے، 10:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں اور الطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' سامدون '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا '' السمود '' سے مراد ہے لہو ولعب اور باطل پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے ھزیلہ بنت بکر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اور وہ قوم عاد پر روتے ہوئے کہتیں ہے۔ لیت عاد قبلوالحق ولم یبدوحجودا : ترجمہ : کاش عاد حق کو قبول کرلیتے اور ظاہر نہ کرتے انکار کو۔ قیل قم فانظر الیہم ثم دع عنک السمود ا ترجمہ : کہا گیا کھڑا ہوجا اور دیکھ ان کی طرف پھر تو چھوڑ دے اپنی طرف سے لہو ولعب۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' سمدون '' سے مراد ہے سخت غصہ کے سبب ہونٹ لٹکانے والا۔ 12:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے منصور کے طریق سے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ ناپسند کرتے تھے کہ قوم کھڑے ہو کر امام کا انتظار کرنے لگے اور کہا جاتا تھا کہ سمود تکبر میں سے ہے یا یہ تکبیر ہے اور منصور نے فرمایا جب مؤذن کھڑا ہوا تو وہ لوگ بھی کھڑے ہو کر انتظار کریں۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن ابی عروبہ (رح) کے طریق سے ابو معز سے اور انہوں نے نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اٹھنے کو ناپسند کرتے تھے جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے یہاں تک کہ امام آجائے اور یہ آیت پڑھتے (آیت ) '' وانتم سمدون '' سعید نے فرمایا کہ قتادہ ؓ بھی کھڑے ہونے کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ امام آجائے لیکن انہوں نے اس طرح اس آیت کی تفسیر نہیں کی۔ 14:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوخالد ابوالہی (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے پاس علی بن ابی طالب ؓ تشریف لائے نماز کھڑی ہوگئی تو ہم کھڑے ہو کر آپ کے آنے کا انتظار کرنے لگے تو آپ نے فرمایا کیا ہے تم کو کیا تم کھیل مزاح میں لگے ہوئے ہو تم نماز میں ہو اور نہ تم بیٹھے ہوئے انتظار کرنے والے ہو ؟ 15:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاسجدوا للہ واعبدوا '' (سو اللہ کی اطاعت کرو اور اسی کی عبادت کرو) یعنی ان چہروں کو اللہ کی رضا کے لئے مشقت میں ڈالو اور ان کو خاک آلود کرو اللہ کی اطاعت میں۔ 16:۔ البخاری والترمذی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سورة والنجم میں سجدہ فرمایا اور ان کے ساتھ مسلمانوں نے مشرکوں نے جنوں نے اور انسانوں نے بھی سجدہ کیا۔ 17:۔ احمد والنسائی وابن مردویہ (رح) نے مطلب بن ابی وداعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں سورة والنجم پڑھی اور سجدہ فرمایا اور جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ 18:۔ سعید بن منصور نے سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ہم کو فجر کی نماز پڑھائی پہلی رکعت میں سورة یوسف پڑھی پھر دوسری رکعت میں سورة والنجم پڑھی پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور '' اذا زالزلت '' پڑھی پھر رکوع کیا۔ الحمد للہ سورة النجم مکمل ہوئی :