52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 52:32–46

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں انہیں اس کا حکم دے رہی ہیں یا یہ ایسے لوگ ہیں جو سرکش ہیں ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا وہ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے بات بنالی ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

سو اس طرح کا کوئی اور کلام لے آئیں اگر سچے ہیں

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ کسی خالق کے بغیر پیدا کیے گئے ہیں یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ لوگ غلبہ والے ہیں

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا کیا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس سے باتیں سنتے ہیں سو ان کے سننے والا کوئی واضح دلیل لے آئے

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس کے لئے بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کسی معاوضہ کا سوال کرتے ہیں۔ سو وہ تاوان سے گراں بار ہورہے ہیں

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب ہے جسے لکھ لیتے ہیں

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا وہ لوگ کسی برائی کا ارادہ رکھتے ہیں، سو جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی برائی میں گرفتار ہوں گے

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا ان کا کوئی معبود ہے اللہ کے سوا اللہ پاک ہے اس چیز سے جو شرک کرتے ہیں

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور اگر آسمان سے کسی ٹکڑے کو دیکھ لیں گرتا ہوا آرہا ہے تو کہیں گے کہ یہ تو تہ بتہ جما ہوا بادل ہے

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

سو آپ انہیں چھوڑئیے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملاقات کریں جس میں وہ بےہوش ہوجائیں گے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن انکی کوئی تدبیر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گی اور ان کی کچھ بھی مدد نہ کی جائے گی

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔ اور یہ کہ اس معاوضہ نے ان کو اسلام لانے سے روک دیا ہو (آیت ) '' ام عندھم الغیب '' (کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے) الغیب سے مراد ہے قرآن۔ 7:۔ البخاری والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں جبیربن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورة طور پڑھتے ہوئے سنا جب اس ( آیت) '' ام خلقوا من غیر شیء ام ھم الخلقون '' (کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں) پر پہنچے قریب تھا کہ میرا دل اڑا جاتا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ام ھم المصیطرون '' (یا یہ لوگ اس محکمہ نبوت کے) حاکم ہیں۔ (آیت ) '' المصیطرون '' سے مراد ہے مسلطون یعنی کیا انہوں نے تسلط جما لیا ہے۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے فرمایا (آیت ) '' ام ھم المصیطرون '' یعنی یا وہ نازل ہونے والے ہیں (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لئے عذاب ہے، اس سے پہلے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک '' (اور ان ظالموں کے لئے قبل اس عذاب کے اور عذاب بھی ہونے والا ہے) یعنی قبر کا عذاب قیامت کے دن سے پہلے۔ 2:۔ ہناد نے زاذان (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عذاب قبر (کا ذکر) قرآن میں ہے پھر یہ (آیت) تلاوت کی '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک '' 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک '' سے مراد ہے دنیا میں قریش کے لئے بھوک اور قحط۔
Ayahs 52:48–49

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور آپ رب کی تجویز پر صبر کیجئے سو بیشک آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کی تسبیح اور حمد کیجئے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات کے حصہ میں بھی اس کی تسبیح بیان کی جائے اور ستاروں کے چھپنے کے بعد بھی

قولہ تعالیٰ : (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' 5:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' (اور اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) یعنی ہر مجلس سے (اٹھتے وقت) 6:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوالاحوص (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' یعنی جب آپ اٹھیں تو '' سبحان اللہ وبحمدہ '' کہیں۔ کفارئہ مجلس کی دعاء : 7:۔ عبد الرزاق (رح) نے جامعہ میں ابو عثمان فقیر (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو سکھایا کہ جب آپ اپنی مجلس سے کھڑے ہوں تو یہ کہا کریں : سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک : ترجمہ : اے اللہ تعالیٰ میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں آپ کی حمد کے ساتھ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں میں آپ سے استغفار کرتا ہوں اور آپ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابو داؤد والنسائی والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آخر میں یہ دعا فرماتے تھے جب آپ مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے : سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک : ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ اب آپ یہ کلمات کہتے ہیں جو کہ آپ اس سے پہلے نہیں کہا کرتے تھے آپ نے فرمایا یہ کفارہ ہے (ان باتوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے زیادبن حصین (رح) سے روایت کیا کہ میں ابوالعالیہ کے پاس آیا جب میں نے ارادہ کیا کہ آپ کے پاس سے باہر نکل جاؤں تو ابوالعالیہ نے فرمایا کیا میں تجھ کو ایسے کلمات نہ عطا کروں جو محمد ﷺ کو جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ؟ میں نے کہا کہوں نہیں فرمایا جب آپ مجلس سے کھڑے ہونے کا ارادہ فرماتے تو آخر میں یہ کلمات کہتے : سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک : پوچھا گیا یارسول اللہ ﷺ یہ کلمات کیا ہیں جو آپ ان کو پڑھتے ہیں ؟ فرمایا یہ کلمات ایسے ہیں جو مجھ کو جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں اور یہ کفارہ ہے (ان باتوں کا) جو مجلس میں ہوتی ہیں) 10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے یحییٰ بن جعدہ (رح) سے روایت کیا کہ مجلس کا کفارہ یہ کلمات ہیں : سبحانک اللہم وبحمدک واتوب الیک : 11:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' سے مراد ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں نماز کی طرف تو یہ کلمات کہیں : سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک : ترجمہ : اے اللہ تعالیٰ تیری ذات پاک ہے اور تعریف تیرے لئے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں : 12:۔ ابوعبید (رح) علیہ وابن المنذر (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ہر مسلمان پر حق ہے جب وہ نماز کی طرف کھڑا ہو تو یوں کہے '' سبحانک اللہم وبحمدک '' کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے فرماتے ہیں (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم ''۔ 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' سے مراد ہے کہ جب آپ اپنے بستر سے کھڑے ہوں تو اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کیجئے یہاں تک کہ آپ نماز میں داخل ہوجائیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم '' 14:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن الیل فسبحہ وادبارالنجوم '' (اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے اور ستاروں سے پیچھے بھی) اس سے مراد دورکعتیں ہیں صبح کی نماز سے پہلے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وادبارالنجوم '' سے مراد ہے فجر کی دو رکعتیں۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وادبارالنجوم '' سے مراد ہے صبح کی نماز۔ الحمد للہ سورة الطور مکمل ہوئی :