Ayahs 48:27–281:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں (خواب) دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ میں امن وامان سے داخل ہورہے ہیں اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے پھر جب مدینہ کے مقام پر قربانی کے جانور کو ذبح کیا تو آپ کے ساتھیوں نے کہا آپ کا خواب کہاں گیا یا رسول اللہ ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ (سے لیکر) فجعل من دون ذلک فتحا قریبا “ (بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقع کے مطابق ہے کہ تم لوگ مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے تم میں سے کوئی سرمنڈاتا ہوگا اور کوئی بال جھوٹے کراتا ہوگا تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا سو اللہ کو وہ باتیں معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں پھر اس سے پہلے لگے ہاتھ ایک فتح دے دی یہ لوگ لوٹے اور خیبر کو فتح کیا پھر اس کے بعد آپ نے عمرہ کیا اور اس خواب کی تصدیق آئندہ سال میں ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ یعنی آپ کو خواب کی قضاعمرہ میں (ظاہر) ہوئی۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کا بیت اللہ میں داخل ہونا اور ایمان والوں کا اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ یعنی رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ وہ اور آپ کے ساتھی بیت اللہ کا طواف کررہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب کو سچ کردکھایا۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ یعنی آپ نے خواب میں دیکھا کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہورہے ہیں اور وہ امن میں ہیں اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید ؓ (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ (آیت کے آخرتک) کے بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا بلاشبہ میں نے دیکھا ہے کہ عنقریب تم مسجد حرام میں داخل ہوگے اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ترشواتے ہوئے۔ جب آپ حدیبیہ میں پہنچے تو اس سال میں (مسجد حرام میں) داخل نہ ہ و سکے تو اس بارے میں منافقین نے عیب لگایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “ (سے لیکر) ” لاتخافون “ تک یعنی ان کو یہ نہیں دکھایا گیا کہ وہ اس سال داخل ہوں گے لیکن آپ داخل ضرور ہوں گے (آیت ) ” فعلم مالم تعلموا “ (سو اللہ کو وہ باتیں معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں) پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس امکان کا رد کیا ہے۔ جو مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے ساتھ تھا اور ان کو مؤخر کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ داخل فرمائیں اپنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کا چاہیں ان لوگوں میں سے جو یہ ارادہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرمائے (آیت) فجعل من دون ذلک فتحا قریبا “ یعنی خیبر کی فتح جب یہ لوگ حدیبیہ سے واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر فتح کو کھول دیا تو آپ نے مال غنیمت کو سارے اہل حدیبیہ پر تقسیم فرما دیا سوائے انصار کے ایک آدمی کے جس کو ابودجاہ سماک بن خرشہ کہا جاتا تھا جو حدیبیہ میں حاضر تھے اور خیبر سے غائب تھے۔
7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ذوالقعدہ میں عمرہ کے لئے نکلے آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار تھے یہاں تک کہ آپ مدینہ پہنچے تو قریش آپ کی طرف نکل آئے اور ان کو بیت اللہ سے روک دیا یہاں تک کہ ان کے درمیان گفتگو اور تنازع شروع ہوگیا اور قریب تھا کہ ان کے درمیان لڑائی ہوجاتی نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے بیعت درخت کے نیچے اور ان کی تعداد پندرہ سو تھی اور وہ دن بیعت رضوان کا تھا نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا قریش نے کہا کہ ہم آپ سے صلح اس شرط پر کرتے ہیں کہ آپ قربانی کے جانور کو اس جگہ پر ذبح کردیں گے اور حلق کرائیں اور لوٹ جائیں یہاں اور جب آئندہ سال ہوگا تو ہم آپ کے لئے تین دن تک مکہ مکرمہ خالی کردیں گے چناچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور یہ لوگ عکاظ کی طرف نکلے اور اس میں تین دن ٹھہرے اور انہوں نے آپ پر یہ شرط بھی لگائی کہ آپ اس میں ہتھیار کے ساتھ داخل نہیں ہوں گے صرف تلوار کے ساتھ اور اہل مکہ میں سے کوئی آدمی آپ کے ساتھ آملے تو آپ اس کو ساتھ نہیں لے جائیں گے پس آپ نے قربانی کا جانور ذبح کردیا اور حلق کرایا اور واپس لوٹ گئے یہاں تک کہ جب آئندہ سال وہی دن آیا تو آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ قربانی کے اونٹ لائے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے آپ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت اتاری (آیت ) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق، لتدخلن المسجد الحرام ان شآء اللہ امنین، محلقین رء وسکم ومقصرین “ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی۔ (آیت ) ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرامت قصاص “ (البقرہ آیت 194) (حرمت والے مہینے بدلے حرمت والے مہینے کے تین اور سب قابل تعظیم باتوں کا بدلہ ہے)
اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” محلقین رء وسکم ومقصرین “
حج اور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد حلق کرنے والوں کی فضلیت :
8:۔ مالک والطیالسی وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابودادؤد والترمذی (رح) وابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ نے عرض کیا اور بال ترشوانے والوں پر بھی یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اللہ تعالیٰ رحم فرمائے سرمنڈوانے والوں پر صحابہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور بال ترشوانے والوں پر فرمایا اور بال ترشوانے والوں پر۔
9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری (رح) ومسلم وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ سرمنڈوانے والوں کو بخش دے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور قصر کرانے والوں کو بھی فرمایا اے اللہ سرمنڈانے والوں کو بخش دے تین مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور قصر کرانے والوں کو بھی پھر آپ نے فرمایا اور قصر کرانے والوں کو بخش دے۔
10:۔ الطیالسی واحمد وابو یعلی (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ کے دن اپنے سروں کو حلق کرایا مگر عثمان بن عفان اور ابوقتادہ ؓ نے حلق نہیں کرایا رسول اللہ ﷺ نے حلق کرنے والوں کیلئے تین مرتب اور قصر کرانے والوں کیلئے ایک مرتبہ مغفرت طلب کی۔
11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حبشی بن جنادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! سرمنڈانے والوں کی مغفرت فرما صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور قصر کرانے والوں کی بھی فرمایا اے اللہ ! سرمنڈانے والوں کی مغفرت فرما صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قصر کرانے والوں کی بھی فرمایا اے اللہ قصر کرانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔
12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے یزید بن ابی مریم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما تین مرتبہ فرمایا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اور قصر کرانے والوں کی بھی فرمایا اور قصر کرانے والوں کو بھی فضیلت عطا فرما اور میں نے اس دن اپنے سر کا حلق کرایا ہوا تھا اور اپنے سر کا حلق کرنا سرخ اونٹوں سے مجھے زیادہ خوش کررہا تھا۔
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم یحییٰ بن ابی الحصین سے روایت کیا اور وہ دادی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کو سرمنڈوانے والوں کے لئے تین مرتبہ قصر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے سنا۔
14:۔ احمد نے مالک بن ربیعہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے اللہ سرمنڈوانے والوں کو بخش دے تین مرتبہ فرمایا ایک آدمی نے کہا اور قصر کرانے والوں کو بھی تو آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا اور قصر کرانے والوں کو بخش دے۔
15:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سرمنڈوانے والوں کو تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ دعا مانگی یہ ترجیح کیوں دی ؟ تو انہوں نے فرمایا اس لئے کہ ان لوگوں نے کوئی شکایت نہیں کی۔
16:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ سرمنڈوانے والوں کو بخش دیجئے اس کو تین مرتب فرمایا صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ سرمنڈانے والوں کا کیا ہوا ؟ کہ آپ نے رحم کی دعا میں ان کو ترجیح دی آپ نے فرمایا (اس لئے کہ) ان لوگوں نے کوئی شکایت نہیں کی۔
17:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اس آدمی کے لئے یہ پسند کرتے تھے جو پہلا حج کرتا تھا کہ وہ حلق کرائے اور پہلی بار عمرہ کرنے والے کیلئے بھی یہ پسند کرتے تھے کہ وہ بھی حلق کرائے۔
18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ حلق کرانے والوں کو یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ حج یا عمرہ میں حلق کرے وہ دونوں تک ہڈیوں تک پہنچ جائے۔ (یعنی ان ہڈیوں تک جو کنپٹی کے نیچے ہیں یہ سنت کے موافق ہیں۔
19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ حلق دونوں ہڈیوں تک ہو۔
20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے سرمنڈوانے والے کو اس طرح فرمایا اور اپنے ہاتھ سے دائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا۔
21:۔ ابوداؤد و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں پر سرمنڈوانا نہیں بلکہ عورتوں پر قصر ہے۔
Ayah 48:291:۔ الخطیب نے رواۃ مالک میں ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” والذین مکۃ مثلہم فی التوراۃ “ تک (اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں ان کی مثال توراۃ میں ہے) اور (آیت ) ” کزرع اخرج شطہ فازرہ “ تک (جیسے کھیتی کہ پہلے اس نے اپنی سوئی باہر نکالی مالک (رح) نے فرمایا کہ انجیل میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی صفات نازل ہوئیں)
صحابہ ؓ کی آپس میں محبت کی مثال :
2:۔ ابن سعد نے الطبقات میں وابن ابی شیبہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب سعد بن معاذ ؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ حاضر ہوئے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں بلاشبہ ابوبکر ؓ کے رونے کو عمر کے رونے سے الگ پہنچاننے لگی حالانکہ میں اپنے حجرہ میں تھی اور وہ ایسے تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” رحماء بینہم “ (کہ وہ آپس میں رحم کرنے والے ہیں) پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے کیا کرتے تھے تو عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ کی آنکھیں کسی پر آنسوں نہیں بہاتی تھیں لیکن آپ جب ایسی کیفیت بناتے تھے تو اپنی داڑھی مبارک کو آپ پکڑ لیتے تھے۔
3:۔ جریر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں فرماتے۔
4:۔ عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق میں نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں۔
5:۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رحمت کس بدبخت سے چھینی جاتی ہے۔
6:۔ اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم فرماتے ہیں۔
7:۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ (ان کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں) فرمایا اس علامت سے مراد وہ نشان نہیں جو تم دیکھتے ہو لیکن اس سے مراد اسلام کی علامت اس کی ظاہری شکل و صورت اور اس کا حسن و جمال اور اس کا خشوع ہے۔
8:۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ میں السم سے مراد ہے حسن۔
9:۔ ابن ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود “ (ان کے آثار بوجہ تاثیر سجدہ کے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں) ان کے چہروں پر نور ہوگا قیامت کے دن سفیدی ڈھانک لے گی۔
10:۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود “ سے مراد ہے کہ ان کے چہروں کو قیامت کے دن سفیدی ڈھانک لے گی۔
11:۔ عبد بن حمید (رح) ابن نصر (رح) اور ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
12:۔ عطیہ العوفی (رح) سے روایت کیا کہ ان کے چہروں میں سجدے کی جگہیں زیادہ سفید اور روشن ہوں گی قیامت کے دن۔
13:۔ سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) آپس میں فخر کریں گے جن کی امت کے افراد زیادہ ہوں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں ان سب سے زیادہ ہوں (یعنی میری امت کے افراد سب سے زیادہ ہوں گے) اور ان میں سے ہر آدمی کو بلائے گا جس کو اپنی امت میں سے پہچانے گا اور ہر ایک امت کے لئے ایک نشان ہوگا کہ جس کے ذریعہ ان کو ان کے نبی پہچانیں گے۔
14:۔ احمد نے حمید (رح) بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ میں سائب بن یزید ؓ سے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ایک آدمی آیا جس کے چہرہ میں سجدوں کا اثر تھا تو انہوں نے فرمایا یقینی بات ہے کہ اس نے اپنے چہرے کو خراب کرلیا۔ اللہ کی قسم یہ وہ اثر نہیں ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے میں نے اپنے چہرہ پر اسی سال سے نمازیں پڑھ رہا ہوں میری آنکھوں کے درمیان سجدوں سے کوئی نشان نہیں بنا۔
15:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ سے چہرہ پر نشان مراد نہیں ہے اس سے خشوع مراد ہے۔
16:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ سے مراد ہے خشوع اور تواضع۔
17:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے وضو کے پاس کی تری اور مٹی کا ترہونا۔
شب بیداری کی فضیلت :
18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے روایت کیا کہ وہ ہے رات کی بیداری جب آدمی رات کو جاگتا ہے تو اس کا رنگ زرد ہوتا ہے۔
19:۔ ابی شیبہ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ سے مراد ہے رات کو جاگنے (کا نشان)
20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم “ کے بارے میں فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا جب آپ اپنی امت میں سے کسی آدمی کی طرف دیکھیں گے تو آپ وضو کے اثر سے پہچان لیں گے کہ یہ نماز پڑھنے والوں میں سے ہے اور جب آپ صبح کریں گے تو آپ پہچان لیں گے کہ اس نے رات کو نماز (یعنی تہجد) پڑھی ہے۔ اے محمد ﷺ وہ پاکدامن ہے دین میں اور حیا اور عادات وخصائل کا خوبصورت ہونا ہے۔
21:۔ ابوداؤد والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں کی طرف :
بسم اللہ الرحمن الرحیم، من محمد رسول اللہ صاحب موسیٰ واخیہ المصدق لما جاء بہ موسیٰ الا ان اللہ قد قال لکم یامعشر اھل التوراۃ واتکم تجدون ذلکم فی کتابکم “
ترجمہ : بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ کی طرف سے جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے صاحب ہیں جنہوں نے اس دین کی تصدیق کی جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے خبردار اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے فرمایا ہے اے تورات والوں کی جماعت بلاشبہ تم پاتے ہو اس کو اپنی کتاب میں) (آیت ) ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار بینہم “ سورة کے آخر تک (یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں (ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہیں) سورة کے آخر تک۔
22:۔ ابن جریر (رح) ابن مردویہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک مثلہم فی التورۃ “ (یہ ان کی مثال ہے تورات میں) یعنی لکھا ہوا ہے تورات میں اور انجیل میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے۔
23:۔ ابوعبید وابو نعیم (رح) علیہفی الحلیہ وابن المنذر (رح) نے بنوہاشم کے آزاد کردہ غلام عامر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے قدر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس کے بارے میں سورة فتح کے آخر پر اکتفا کرو یعنی (آیت ) ” محمد رسول اللہ “ (سورۃ کے آخر تک) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی صفات بیان فرمائیں ان کے پیدا کرنے سے پہلے۔
24:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رحمآء بینہم “ (آپس میں مہربان ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحمت ڈال دی ان کے بعض کیلئے بعض کے دلوں میں (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود “ یعنی ان کی نشانی نماز ہے۔ (آیت ) ” ذلک مثلہم فی التورۃ “ یعنی اس کی مثل تورات میں ہے (آیت ) ” ومثلھم فی الانجیل “ یہ دوسری مثل ہے (آیت ) ” کزرع اخرج شطہ “ (اس کھیتی کی طرح جو اپنی سوئی نکالے) فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کے صحابہ کی صفات ہیں انجیل میں آپ سے کہا گیا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی وہ کھیتی کے اگنے کی طرح اگیں گے۔ اور ان میں سے ایک جماعت ہوگی جو نیکی کا حکم کرے گی اور برائی سے روکے گی۔
25:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم، من اثر السجود “ یعنی ان کی نمازوں کے آثار ظاہر ہوں گے ان کے چہروں میں قیامت کے دن (آیت ) ” ذلک مثلھم فی التورۃ ومثلہم فی الانجیل کزرع اخرج شطۂ “ یعنی اس کی پانی جب اپنے دانے سے نکل کر نباتات بننے تک پہنچتی ہے (آیت ) ” فازرہ “ (پھر اس کو مضبوط کیا) یعنی جب اس کی کونپلیں اکٹھی ہو کر بالیں بن جاتی ہیں تو یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے لئے بیان فرمائی جب ایک قوم نکلے گی وہ اس طرح اگیں گے جیسے کھیتی اگتی ہے ان میں سے ایسے لوگ ہوں گے جو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے پھر ان میں وہی مضبوط ہوجائیں گے جو ان کے ساتھ تھے اور وہاں مثال جس کو محمد ﷺ کے لئے بیان فرمایا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اکیلے ہی تنہا نبی کو بھیجے گا پھر اس کی طرف تھوڑے اکٹھے ہوں گے جو اس پر ایمان لے آئیں گے پھر تھوڑے بہت ہوجائیں گے اور عنقریب وہ طاقتور ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو کافروں پر غلبہ دے گا پس وہ اپنی کثرت سے اپنے خوبصورت اگنے کے سبب ہونے والے کو خوش کررہا ہے۔
26:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کززع اخرج شطاہ یعنی گیہوں کا دانے متفرق ہوتا ہے پھر ہر ایک دانہ نے ایک کونپل اگائی پھر اس کے اردگرد اس طرح کی اور کونپلیں اگ آئیں یہاں تک کہ وہ موٹی ہوگئیں اور اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئیں فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کے اصحاب تھوڑے تھے پھر زیادہ ہوگئے اور طاقتور ہوگئے۔
27:۔ ابن مردویہ (رح) والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” کزرع “ کے بارے میں روایت کیا کہ کھیتی کی اصل اور بیناد عبد المطلب ہے جس نے اپنا خوشہ نکالا یعنی محمد ﷺ (کی صورت میں) پھر اس کو تقویت دی ابوبکر کے ساتھ پھر وہ طاقتور ہوگیا حضرت عمر ؓ کے ساتھ پھر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا حضرت عثمان غنی ؓ کے ساتھ اپنے تنے پر حضرت علی ؓ کے لانے ساتھ کافروں کو اس کے ذریعہ جلائے (یعنی کفار ان کو دیکھ کر غصہ کی آگ میں جلتے رہے)
28:۔ ابن مردویہ والدار القطنی واحمد بن محمد الذھری فی فضائل الخفاء الاربعۃ والشیرازی نے الالقاب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشد آء “ یعنی ابوبکر ” اشدآء علی الکفار “ یعنی عمر ؓ (آیت) ” رحمآء بینہم “ یعنی عثمان ؓ ” ترھم رکعا سجدا “ (تو ان کو دیکھے گا رکوع سجدہ کرتے ہوئے) یعنی علی ؓ (آیت) ” رکعا سجدا یبتغون فضلامن اللہ ورضوانا “ (وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے فضل کو اور رضا مندی کو) یعنی طلحہ اور زبیر ؓ (آیت ) ” سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود “ (ان کے آثار توجہ تاثر سجدہ کے ان کے چہروں میں نمایاں ہیں) یعنی عبد الرحمن بن عوف، سعدبن ابی وقاص اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ (آیت) ” ومثلھم فی الانجیل “ ، کزرع اخرج شطہ فازرہ “ ( اور ان کی مثال انجیل میں ایسی ہے جیسے کھیتی نے اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا) یعنی عمر ؓ کے ذریعہ (آیت ) ” فاستوی علی سوقہ “ (پھر وہ کھڑی ہوگئی اپنے تنے پر) یعنی عثمان ؓ کے ذریعہ (آیت ) ” یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار “ (کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ اس سے کافروں کو جلائے) یعنی علی ؓ کے ذریعہ (آیت ) ” وعداللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت “ (اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) یعنی محمد ﷺ کے سارے اصحاب سے۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کزرع اخرج شطۂ فازرہ “ یعنی اس کھیت کی طرح جس نے اپنی سوئی نکالی۔
30:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”’ کزرع اخرج شطۂ “ یعنی اس کھیتی کی طرح جس نے اپنی کونپلیں نکالیں۔
31:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کزرع اخرج شطۂ “ سے مراد ہے کہ جب اس سے طاقت نکلتی ہے ” فازرہ “ تو اس سے تقویت دی (آیت ) ” فاستغلظ فاستوی علی سوقہ “ یعنی یہی مسلمانوں کی مثال ہے۔
32:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) نے (آیت ) ” کزرع اخرج شطۂ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ کھیتی کے پہلو میں نکلتا ہے اور وہ اسے پورا کرتی ہے اور پڑھاتی ہے (آیت) ” فازرہ “ یعنی اس کو مضبوط کیا اور مدد کی (آیت ) ” علی سوقہ “ یعنی پھر وہ اپنی جڑوں پر سیدھی کھڑی ہوگئی “
33:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ ؓ کے پاس سورة فتح پڑھی۔ جب اس (آیت) پر پہنچا ” کزرع اخرج شطۂ “ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار “ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جلائے کافروں کو نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ پھر فرمایا تم کھیتی ہو اور اس کے کاٹنے کا وقت قریب آچکا ہے۔
34:۔ الحاکم (وصححہ) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” لیغیظ بھم الکفار “ سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے ان کو استغفار کا حکم دیا تو کفار نے ان کو برا بھلا کہا۔
الحمد للہ سورة الفتح مکمل ہوئی :