46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 46:24–25

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

سو جب انہوں نے بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کردے گی۔ سو وہ اس حال میں ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کوئی دکھائی نہ دیتا تھا، ہم ایسے ہی مجرم قوم کو سزا دیا کرتے ہیں

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عارض ممطرنا “ سے مراد ہیں بادل یعنی (یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا) 2:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) وعبد بن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم و ابوداؤد اور ابن لمنذر وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ کو کبھی اس طرح کھلکھلا کر ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں نے آپ کے حلق کو دیکھا ہو۔ آپ صرف مسکراتے تھے اور جب آپ کسی بادل کو یہ ہوا کو دیکھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک میں (پریشانی کے اثرات) پہچانے جاتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ لوگ جب بادل کو دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور جب آپ دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی اور پریشانی کے آثار نظر آتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! ؓ میں اس بات سے امن میں نہیں ہوں کہ اس میں عذاب ہوگا اور یقینی بات ہے کہ ایک قوم کو ہوا کا عذاب دیا گیا۔ اور قوم نے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے (آیت ) ” ھذا عارض ممطرنا “۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آندھی چلتی تو رسول اللہ ﷺ (یہ دعا) فرماتے : اللہم انی اسئلک خیرھا وجزما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واعوذلک من شرھا وشرمافیھا وشرما ارسلت بہ۔ ترجمہ : (اے اللہ میں) آپ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا جو اس کے اندر ہے اور اس خیر کا جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اور اس شر سے جو اس کے اندر ہے اور اس شر سے کہ جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی۔ جب بادل آسمان پر گرجتا تو آپ کا رنگ بدل جاتا کبھی آپ گھر سے باہر تشریف لاتے کبھی اندر جاتے اور چہرہ مبارک کبھی ایک طرف پھیرتے اور کبھی دوسری طرف اور جب بارش ہوجاتی تو (یہ کیفت) آپ سے دور ہوجاتی (جب میں نے یہ صورتحال دیکھی) تو میں نے آپ سے سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ؓ میں نہیں جانتا شاید کہ ایسا ہو جیسے قوم عاد نے کہا تھا (آیت ) ” ھذا عارض ممطرنا “ (یہ بادل ہے جو بارش برسائے گا) مگر وہ عذاب بن کر آیا۔ 4:۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب السحاب وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتھم “ (سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتا دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا یعنی یہ ایسا بادل جس میں بارش ہے سب سے پہلے ان لوگوں نے پہچانا کہ وہ عذاب ہے جنہوں نے اپنی سواریوں اور دیگر سازوسامان کو شہر سے باہر آسمان اور زمین کے درمیان تنکوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھا (یہ دیکھ کر) وہ اپنے گھروں میں داخل ہوگئے اور اپنے دروازوں کو بند کرلیا ہوا آئی اور ان کے دروازوں کو کھول لیا اور ان پر ریت ڈال دی وہ مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ریت کے نیچے دبے رہے (اس حال میں کہ ہو نیچے گرے ہوئے کراہ رہے تھے پھر ہوا کو حکم دیا گیا تو اس نے ان سے ریت کو ہٹا دیا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا اسی کو فرمایا (آیت ) ” فاصبھو لا یری الا مسکنہم “ (چنانچہ وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا) 5:۔ ابن ابی الدنیا وابویعلی والطبرانی وابوالشیخ (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر ہوا کو مہر کی طرح کھول دیا جس میں وہ ہلاک کئے گئے وہ ہوا بستی والوں کے پاس سے گزری ان کو اور ان کے مالوں کو اٹھا کر آسمان و زمین کے درمیان اڑانے لگی قوم عاد کے شہر کے رہنے والوں نے اس ہوا کو دیکھا اور جو کچھ اس میں تھا کہنے لگے (آیت ) ” ھذا عارض ممطرنا “ (کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا) تو اس ہوا نے ان بستی والوں کو اور ان کے مویشیوں کو شہر کے رہنے والوں پر پھینک دیا (جس سے وہ بھی ہلاک ہوگئے) 6:۔ الطبرانی (رح) وابوالشیخ (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر ہوا نہیں کھولی مگر مہر کی جگہ کی مقدار ان پر ہوا بھیجی گئی تو ہو جنگل کے رہنے والوں کو شہر کے رہنے والوں کی طرف اٹھا کرلے آئی۔ اس کو شہر والوں نے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا جو آرہا ہے ہماری وادیوں کی طرف وہاں دیہات کے رہنے والوں کو شہر کے رہنے والوں پر پھینک دیا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگئے پھر فرمایا وہ آندھی ان کے تہہ خانوں میں پر بھی چلی، یہاں تک کہ ان کے دروازوں کے درمیان سے نکل گئی۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے عمر وبن میمون (رح) سے روایت کیا کہ ھود (علیہ السلام) اپنی قوم میں کھڑے ہوئے تھے ایک گھٹا ٹوپ بادل نمودار ہوا تو ان لوگوں نے کہا یہ بادل ہے برسنے والا ہود نے فرمایا (آیت) ” بل ہو ماستعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم “ (بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلد آنے کے تم خواستگار تھے ایک آندھی ہے جس میں دکھ پہنچانے والا عذاب ہے) اس (ہوا) نے خیمہ کو اکھاڑ دیا اور چھپے ہوئے لوگوں کو بھی نکال لے گئی۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) والحاکم (رح) علیہ) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر میری اس انگوٹھی کے مقدار ہوا کو بھیجا۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) نے میمون (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) ” لا تری الا مسکنہم تاء اور نصب کے ساتھ۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” لایری الا مسکنہم “ یا اور نون کے رفع کے ساتھ۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ان چیزوں میں قدرت دی تھی جن میں تمہیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کو سننے کی قوت دی اور آنکھیں بھی اور دل بھی سوا انہیں فائدہ نہ دیا ان کے کانوں نے اور ان کی آنکھوں نے اور ان کے دلوں نے کچھ بھی اس لئے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انہیں اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق کرتے تھے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد مکنھم فیماان مکنکم فیہ “ (اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی) یعنی ہم نے ان کو وہ قوت دی تھی جو قوت ہم نے تمہیں قوت اس میں نہیں دی تھی۔ 2:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ولقد مکنہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے قوم عاد کو زمین میں اس سے بڑھ کر قوت اور طاقت دی جتنی کہ اس امت کو دی گئی۔ اور وہ سخت قوت والی کثیراولاد والے اور لمبی عمروں والے تھے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کردیا جو تمہارے آس پاس تھیں اور ہم انہیں بار بار اپنی نشانیاں بیان کردیں تاکہ وہ باز آجائیں

3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اھلکنا ماحولکم من القری “ ‘ اور البتہ یقینی بات ہے کہ ہم نے ہلاک کردیا تمہارے ارد گرد کی بستیوں کو یعنی یہاں وہاں یعنی یمن میں یمامہ میں اور شام میں۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

سو اللہ کے سوا ان لوگوں کی انہوں نے کیوں مدد نہیں کی جنہیں نے انہوں نے تقرب حاصل کرنے کے لئے معبود بنارکھا تھا بلکہ وہ لوگ ان سے غائب ہوگئے اور ان پر ان کی تراشی ہوئی بات ہے اور وہ بات ہے جس کو وہ جھوٹ بتاتے ہیں

4:۔ سعید بن منصور نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت ) ” وذلک افکہم “ (اور یہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں ) 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” وذلک افکہم “ (اور وہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں) یعنی الف اور کاف کے فتح کے ساتھ اور فرمایا یہ انکی اصل ہے۔
Ayahs 46:29–34

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے آپ کی طرف جنات کی ایک جماعت کو پھیر دیا جو قرآن سننے لگے، سو جب یہ لوگ قرآن کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے کہ چپ رہو پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر چلے گئے ،

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے اے ہماری قوم ! بیشک ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے نازل کی گئی ہے وہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے تھیں وہ حق کی طرف اور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دینے والی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرمادے گا اور تمہیں سخت عذاب سے بچا دے گا

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے تو وہ زمین میں عاجز کرنے والا نہیں اور اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی والی نہ ہوگا، یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا وہ اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کرے ہاں اسے ضرور قدرت ہے، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز کافر لوگ آگ پر پیش کئے جائیں گے کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ کہیں گے کہ قسم ہے ہمارے رب کی یہ ضرور امر واقعی ہے ارشاد ہوگا تو چکھ لو عذاب اس سبب سے کہ تم کفر کرتے تھے

جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں : 1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان میں ایک ذوبعہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ سے لے کر (آیت ) ” اولئک فی ظلل مبین “ تک۔ 3:۔ ابن جریر والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نصیبن کے رہنے والوں میں سے انیس جنات تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کو ان کی قوم کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ 4:۔ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنات دو مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیرے گئے اور وہ نصیبیں کے اشراف اور سردار جنات تھے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نعیم (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جنات نصیبین کے رہنے والے تھے اور وہ آپ کے پاس بطن نخلہ میں حاضر ہوئے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وبن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن مسعود (رح) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج رات میں نے جنات پر (قرآن) پڑھتے ہوئے گزاری جنات کی مرافقت میں جحون کے مقام پر۔ 7:۔ البخاری ومسلم وابن مردویہ (رح) نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا کس نے نبی کریم ﷺ کو اس رات جنات کے ساھت دیکھا جس رات جنات نے آپ سے قرآن کو سنا تو انہوں نے فرمایا آپ ﷺ نے ان کو ایک درخت کے پاس خبردار کیا۔ 8:۔ ابن مردویہ (رح) اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات پر کہاں (قرآن) پڑھا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک گھاٹی میں ان پر قرآن پڑھا تھا جس کو حجون کہا جاتا ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) واحمد ومسلم والترمذی نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے کہا کہ جنات کی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تم میں سے کوئی ساتھ تھا انہوں نے فرمایا ہم میں سے کوئی ساتھی نہ تھا لیکن ہم نے ایک رات آپ کو گم پایا تو ہم نے کہا آپ ﷺ کو پکڑ لیا گیا یا آپ کو اچک لیا گیا (پتہ نہیں کیا ہوا ہے) ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہم نے انتہائی تکلیف اور پریشانی کے ساتھ رات گزاری سب صحابہ کرام ؓ کیفیت یہی تھی۔ جب صبح ہوئی تو اچانک وہ ہمارے پاس حرا کی طرف سے تشریف لے آئے ہم نے آپ کو اپنی پریشانی بتائی کہ ہم پوری رات پریشان رہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنات میں سے ایک بلانے والا میرے پاس آیا تو میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پر قرآن کو پڑھا پھر آپ ﷺ نے ہم کو ان کے نشانات اور ان کی آگ جلانے کے آثار دکھائے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مومل کے جزیرے سے بارہ ہزار جنات تھے۔ 11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سات جنات تھے اہل حران سے تین اور نصیبین میں چار اور ان کے نام یہ تھے حسی مسی شاہرماصر ارداینان اور احقم اور سرق۔ 12:۔ الطبرانی والحاکم وابن مردویہ (رح) نے صفوان بن معطل (رح) سے روایت کیا کہ ہم حج کے لئے نکلے جب ہم عرج کے مقام پر تھے اچانک ہم نے ایک سانپ مضطرب حالت میں دیکھا تھوڑی دیر کے بعد وہ مرگیا ایک آدمی نے اس کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اس کو دفن کردیا، پھر ہم مکہ میں آئے اور مسجد حرام کے پاس تھے اچانک ہم پر ایک شخص آکھڑا ہوا اور کہا کہ کون تم سے عمرو کا ساتھی ہے ؟ ہم نے کہ ہم عمرو کو نہیں پہچانتے اس نے کہا کون تم میں سے عمرو کا ساتھی ہے ؟ ہم نے کہا ہم عمرو کو نہیں پہچانتے۔ اس نے کہا کون تم میں سے جنات کا ساتھی ہے ؟ انہوں نے کہا یہ (آدمی) ہے تو اس نے کہا وہ نو میں سے آخری مرنے والا تھا۔ جو رسول اللہ ﷺ کے پاس قرآن سننے کیلئے حاضر ہوئے تھے۔ 13:۔ ابونعیم (رح) نے دلائل میں ابوجعفر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جنات نبوت کے گیا رہوں سال ربیع الاول میں آئے تھے۔ 14:۔ ابواقدی و ابونعیم (رح) نے کعب بن احبار ؓ سے روایت کیا کہ اہل نصیبین میں سے نوجنات بطن نخلہ سے واپس لوٹے اور وہ فلاں اور فلاں اور فلاں اور فلاں اور ارد اور اینان اور احقہ تھے اور وہ اپنی قوم میں ڈرانے والے بن کر آئے تھے اس کے بعد وہ وفد بن کر رسول اللہ ﷺ کی خدم میں حاضر ہوئے اور یہ تین سو تھے اور وہ حجوں کے مقام پر جاکر رک گئے (ان میں سے العقب آیا اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور کہا کہ ہماری قوم حجوں میں حاضر ہے وہ آپ سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے اسی رات کو کسی ساعت میں حجوں کے مقام پر (ملنے کا) وعدہ فرمایا (واللہ اعلم
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجئے جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان لوگوں کے لئے جلدی نہ کیجئے جس دن یہ لوگ وعدہ کی چیز کو دیکھیں گے گویا صرف دن کی ایک گھڑی ٹھہرے تھے، یہ پہنچا دینا ہے سو ہلاک نہیں ہوں گے مگر نافرمانی کرنے والے ہیں

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) والدیلمی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دن بھر روزے سے رہے پھر آپ نے کچھ نہ کھایا پھر آپ نے روزہ رکھ لیا پھر افطار کے وقت کچھ نہی کھایا پھر آپ نے روزہ رکھ لیا اور فرمایا اے عائشہ ؓ کہ دنیا محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے لائق نہیں اے عائشہ ؓ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اولا العزم رسولوں سے مگر یہ کہ مشکلات اور تکلیفوں پر صبر کریں اور مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کے چھوڑنے پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں یہی پسند کیا کہ مجھے بھی ان چیزوں کا پابند بنائے جن کا ان کو مکلف بنایا اور فرمایا (آیت ) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “ (پس آپ صبر کیجئے جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا) اللہ کی قسم میں ضرور صبر کروں گا جیسے انہوں نے صبر کیا۔ میری کوشش بھی اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے کوشش کی اور قوت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اولوالعزم رسولوں میں سے نبی کریم ﷺ اور نوح ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابوالشیخ (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان وابن عساکر (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “ سے مراد ہیں نوح ھود اور ابراہیم (علیہم السلام) اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی اسی طرح صبر کریں جیسے انہوں نے صبر کیا اور وہ تین تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ چوتھے تھے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” یقوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری بایت اللہ “ (یونس آیت 71) اگر تمہیں میرا تم میں رہنا اور آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو) اس کے آخرتک تو سن لو میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا پھر ان کی جدائی ظاہر ہوگئی اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس وقت کہا جب انہوں نے کہا (آیت ) ” ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوٓء قال انی اشھد اللہ واشھدوا انی بریء مماتشرکون (54) “ (ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھے ہمارے کسی معبود نے تیری طرح جھپٹ لیا ہے کہا بیشک میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور مت بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں کہ جن کو تم اللہ کے سوا شریک کرتے ہو) پس ان کے مفارقت اور جدائی بھی ظاہر ہوگئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے فرمایا (آیت ) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرھیم “ (بےشک تمہارے لئے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے) آیت کے آخرتک تو انکے لئے مفارقت کو ظاہر کردیا اور فرمایا اے محمد ﷺ (آیت) ” قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ “ (الانعام آیت 56) فرمادیجئے مجھے منع کیا گیا ہے اس سے کہ میں بندگی کروں ان کی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو) رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پاس کھڑے ہوگئے اور (یہ آیت) مشرکین پر پڑھی اور ان کے لئے جدائی کو ظاہر فرمادیا۔ 4:۔ ابن عساکر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالعزم “ سے نوح، ھود، ابراہیم، شعیب اور موسیٰ (علیہم السلام) مراد ہیں۔ 5:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالعزم “ سے مراد ہے اسماعیل، یعقوب اور ایوب (علیہم السلام) اور ان میں سے آدم نہیں ہیں اور نہ یونس اور نہ سلیمان (علیہم السلام) ہیں۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالعزم “ سے مراد ہے نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالعزم کما صبر اولوالعزم من الرسل “ سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو قتال کا حکم دیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ اس کام کو ہمیشہ کرتے رہے اور وہ نوح، ھود، صالح، موسیٰ ، (اور سلیمان (علیہم السلام) ہیں) 8:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے، کہ (آیت ) ” اولوالعزم “ رسول تین سوتیرہ تھے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فھل یھلک الا القوم الفسقون “ (سو وہی تباہ ہوں گے جو نافرمانی کریں گے) کے بارے میں روایت کیا کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی ہلاک نہیں کریں گے سوائے ایسے مشرک کہ جو اسلام سے اپنی پیٹھ کر پھیرے یا منافق جو اپنی زبان سے سچ بولے اور اپنے دل سے مخالفت کرے۔ 10:۔ الطبرانی (رح) نے الدعا میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تو چاہے اور تو اس بات کو پسند کرے کہ تو کامیاب ہوجائے تو یوں کہے : لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ العلی العظیم لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ رب السموت والارض ورب العرش العظیم۔ ترجمہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی شریک نہیں بلند مرتب والا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور وہ رب ہے عرش عظیم کا۔ الحمد للہ رب العالمین کأنتم یوم یرونھا لم یلبثوا لا عشیۃ اوضحاھا کأنہم یوم یرون مایوعدون لم یلبسوا الا ساعۃ من نھار بلاغ یھل الا القوم الفاسقون۔ ترجمہ : ساری تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے جس دن اسے دیکھ لیں گے تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں گویا ہم ایک شام یا اس کی صبح تک ٹھہرے تھے گویا کہ وہ جس دن عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا تو انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ ایک دن میں سے ایک گھڑی بھر رہے تھے آپ کا کام پہچانا دینا تھا سو کیا نافرمان لوگوں کے سوال اور کوئی ہلاک ہوگا۔ اللہم انی اسئلک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والسلامۃ من کل اثم والغنیمۃ من کل بر والفوز بالجنۃ والنجاۃ من النار۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں وہ تمام اسباب جو تیری رحمت کیلئے لازم ہوں اور وہ سب اسباب جن سے تیری مغفرت یقینی ہوجائے اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں اور ہر نیکی میں سے مال غنیمت کی طرح کا حصہ اور کامیابی جنت کے ساتھ اور آگ سے نجات مانگتا ہوں۔ اللہم لا تدع لی ذنبا الا غفرتہ ولا ھما لا فرجتہ ولا حاجۃ ھی لک رضا الا قضیتھا یا ارحم الراحمین والحمداللہ رب العالمین “ ترجمہ : اے اللہ کوئی میرا گناہ باقی نہ چھوڑ جس کو تو نہ بخش دے اور نہ کوئی فکر جس سے تو رہائی نہ دے اور نہ ایسی ضرورت جو تیری رضا مندی کا سبب ہو جس کو پورا نہ فرمائے اے سب رحم کرنے والوں میں سے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے اور ساری تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔ الحمد للہ سورة الاحقاف مکمل ہوئی :۔