Ayah 42:271:۔ ابن المنذر (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم فی الحلیہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں صحیح سند کے ساتھ ابوہانی الخولانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمرو بن حریث اور ان کے علاوہ (دوسرے لوگوں کو) یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ (اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے روزی فراخ کردیتا ہے تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے) اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا : اگر ہمارے لئے مال ہوتا۔ اور انہوں نے دنیا کی تمنا کی۔
2:۔ حاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی (یعنی) (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ اور اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا اگر ہمارے پاس مال ہوتا اور انہوں نے دنیا (ملنے) کی تمنا کی۔
دنیا کی چمک دمک خطرناک ہے :
3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کہا جاتا ہے بہترین رزق وہ ہے جو تجھ کو نہ سرکش بنائے اور نہ تجھے غافل کردے اور فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن چیزوں سے میں اپنی امت کے بارے میں خوف کرتا ہوں اس میں سے سب سے زیادہ جس سے ڈرتا ہوں وہ دنیا کی چمک دمک ہے ایک کہنے والے نے کہا اے اللہ کے نبی ! کیا چیز (یعنی مال) شر بھی لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ اور جب آپ پر وحی آئی تو اس سے آپ پریشان ہوجاتے اور آپ کا چہرہ مبارک بدل جاتا یہاں تک کہ جب یہ کیفیت جاتی رہی تو آپ نے فرمایا کیا مال برائی لاتا ہے آپ نے تین مرتبہ اس کو دہرایا کہ بیشک خیرخیر ہی کو لاتی ہے۔ لیکن اللہ کی قسم ! کبھی موسم بہار کوئی چیز نہیں اگاتا مگر بسیار خوری کی وجہ سے جانور کو مار ڈالتا ہے، مار ڈالنے کے قریب کردیتا ہے، مگر وہ بندہ جس کو اللہ تعالیٰ مال عطا کیا اور اس نے اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں رکھا (یعنی خرچ کیا جو اس پر فرض کیا گیا اور اس پر وہ راضی رہا یہ وہ بندہ ہے جس نے اس کے ذریعہ خیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے خیر کا ارادہ کیا گیا لیکن وہ بندہ جس کو اللہ نے مال عطا فرمایا اس نے اس کو اپنی شہوت اور اپنی لذت میں خرچ کیا اور اس پر جو اللہ کا حق تھا اس سے اس پر اعراض کیا یہ وہ بندہ ہے کہ جس نے اس کے ذریعہ شر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے شر کا ارادہ کیا گیا۔
4:۔ احمد وطیالسی (رح) و بخاری (رح) ومسلم (رح) و نسائی (رح) وابویعلی وابن حبان (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن چیزوں سے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں۔ ان میں سب سے زیادہ اس چیز سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نکالیں گے تمہارے لئے دنیا کی چمک دمک اور اس کی زینت کو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا مال بھی برائی لاتا ہے رسول اللہ ﷺ اس سے خاموش ہوگئے ہم نے دیکھا کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے اس آدمی سے کہا گیا تیرا کیا حال ہے۔ تو نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور انہوں نے تیرے ساتھ بات نہیں کی رسول اللہ ﷺ سے وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ نے اپنے جسم سے پسینے کو پوچھنا شروع فرما دیا اور پوچھا سائل کہاں ہے اور ہم نے دیکھا کہ آپ اس کی تعریف کررہے تھے اور آپ نے فرمایا کہ بیشک مال برائی نہیں لاتا بیشک موسم بہار جس چیز کو اگاتا ہے وہ بسیار خوری کی وجہ سے جانور کو مارڈالتا ہے یا مار ڈالنے کے قریب کردیتا ہے مگر سبزہ کھانے والے نہیں مار ڈالتا جب اس نے کھایا یہاں تک کہ اس کی کوکھیں بھر گئیں۔ وہ سورج کے سامنے آگیا اس نے برابر کیا اور پیشاب کیا پھر چرنے لگا بلاشبہ مال میٹھا اور سرسبز ہے اور اس کا مسلمان کیا ہی اچھا ہے اگر وہ صلہ رحمی کرے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرے اور اس شخص کی مثال جو ناحق لیتا ہے جیسے اس شخص کی مثال جو کھاتا رہے اور سیر نہیں ہوتا تو یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دینے والا ہوگا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ بہترین زندگی وہ ہے جو نہ تجھ کو سرکش بنائے اور نہ تجھ کو غافل کرے۔
6:۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاولیاء والحکیم الترمذی فی نوادرالاصول وابن مردویہ رحمۃ اللہ وابو نعیم فی الحلیہ وابن عساکر نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے دوست کو ذلیل ورسوا کیا تو اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا میں اپنے دوستوں کی حمایت کیلئے ایسا غضبناک ہوتا ہوں جیسے اکیلا رہنے والا اور شیر غضبناک ہوتا ہے، میرا مؤمن بندہ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا میرا مقرر کردہ فریضہ ادا کرنے سے حاصل کرتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے میرا مؤمن بندہ برابر مرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان اور آنکھیں اور ہاتھ اور تائید کرنے والا ہوجاتا ہوں اگر وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں اور وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں۔ جس کام کو میں کرنے والا ہوتا ہوں اس کے کرنے میں مجھے ایسا تردو نہیں ہوتا جتنا اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں مترد ہوتا ہوں جو مرنے کو ناپسند کرتا ہے جبکہ میں اس کی غلطی کو ناپسند کرتا ہوں جس کے بعد اس کے لئے کوئی چارہ نہیں ہوتا میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے عبادت کا دروازہ کھولنے کی درخواست کرتے ہیں لیکن میں اسے اس سے روک دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے اندر غرورپیدا ہوجائے جو اسے بگاڑ دے میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں ان کے ایمان کو صرف صحت ہی صحیح رکھ سکتی ہے اگر میں ان کو بیمار کردوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑ دے، اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ بیماری ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھ سکتی ہے اگر میں ان کو تندرست کردوں تو صحت ان کے ایمان کو خراب کردے میں اپنے بندوں کے معاملات کی اپنے علم کے مطابق تدبیر کرتا ہوں کیونکہ ان کے دلوں سے واقف ہوں بیشک میں بخوبی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
7:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا “ سے مراد ہے بارش۔
Ayahs 42:28–291:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ ایک آدمی نے عمر ؓ سے کہا اے امیر المؤمنین ! بارش نہیں ہوئی اور لوگ مایوس ہوگئے عمر ؓ نے فرمایا تب تو ضرور تم پر بارش ہوگی اور یہ (آیت) پڑھی۔ وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “ (اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے)
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من بعد ما قنطوا “ سے مراد ہے کہ (جب لوگ) مایوس ہوگئے۔
بارش کے وقت دعا کی قبولیت :
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ بارش کے وقت قبول ہوتی ہے پھر آیت یہ تلاوت فرمائی (آیت ) ” وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “۔
4:۔ حاکم اور بیہقی (رح) نے انی سنن میں سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (دعائیں رد نہیں کی جاتیں اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے نیچے (یعنی بارش کے وقت)
5:۔ طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے چار جگہوں میں صفوں کے ملنے کے وقت اللہ کے راستے میں (یعنی دشمن سے لڑائی کے وقت) بارش کے اترنے کے وقت نماز کے کھڑے ہونے کے وقت اور کعبہ کے دیکھنے کے وقت۔
6:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وما بث فیھما من دآبۃ “ (اور ان جانوروں کا پیدا کرنے جن کو اس نے آسمان اور زمین میں پھیلا رکھا ہے) اس سے مراد لوگ اور فرشتے ہیں۔ (واللہ اعلم ) ۔
Ayahs 42:30–311:۔ احمد وابن راہویہ وابن منیع وعبد بن حمید (رح) و حکیم ترمذی وابو یعلی وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والحاکم (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو اللہ کی کتاب میں سے سب سے افضل آیات کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جس کے بارے میں ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا (جب یہ آیت نازل ہوئی) (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “ (اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگزرہی فرماتا ہے تو آپ نے فرمایا اے علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں عنقریب تیرے لئے اس کی تفسیر بیان کروں گا دنیا میں جو بیماری سزا اور آزمائش تم کو پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں میں کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑی عزت والے ہیں کہ وہ تم کو دوبارہ آخرت میں سزا دے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں جس کو معاف کردے پس تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑی عزت والے ہیں کہ وہ معاف کرنے کے بعد (اس سزا کو) لوٹا دیں (یعنی دوبارہ اسے سزا دے ) ۔
2:۔ سعید بن منصور وھناد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو تم کو مکڑی کی خراش پہنچتی ہے اور کوئی رگ اپنی جگہ سے ہلتی ہے اور کوئی پتھر کی ٹھوکر لگتی ہے اور جو قدم پھسل جاتا ہے تو وہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور بہت گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی فرما دیتے ہیں۔
ہرتکلیف و مصیبت گناہ کے سبب سے ہوتی ہے :
3:۔ عبد بن حمید (رح) و ترمذی نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے کم یا زیادہ تو وہ اس کے گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی فرما دیتے ہیں اور یہ (آیت) پڑھی ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا فی الکفارات وابن ابی حاتم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ ایک دوست ان کے پاس آیا (اس حال میں) جبکہ آپ کے جسم میں کوئی تکلیف تھی اس سے کہا ہم آپ کے بارے میں خوف کررہے ہیں ہم آپ کے جسم میں تکلیف کو دیکھ رہے ہیں فرمایا تو خوف نہ کر جو کچھ تو دیکھ رہا ہے یہ گناہ کی وجہ سے ہے اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں پھر یہ (آیت) تلاوت فرمائی ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “۔
5:۔ ابن المبارک وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) (رح) علیہ وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جس نے قرآن کو سیکھا پھر اس کو بھول گیا تو یہ گناہ کی وجہ سے ہے جو وہ کرتا ہے پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم “ اور فرمایا قرآن کو بھول جانے سے اور بڑی مصیبت کیا ہوگی ؟
6:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے علاء بن بدر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جب میں چھوٹا تھا میری نظر جاتی رہی فرمایا یہ تیرے والدین کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں قتادہ ؓ سے اس (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ “ کے بارے روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ابن آدم کو کوئی لکڑی لگنے میں خراش نہیں آئی اور رگ اپنی جگہ سے نہیں ہلتی مگر یہ بھی کسی گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتے ہیں۔
8:۔ ابن مردویہ (رح) نے براء ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا نہیں ہوتا قدم کا پھسلنا اور نہ رگ کا پھڑکنا اور نہ لکڑی کی خراش مگر تمہارے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں کو معاف ہی فرما دیتے ہیں۔
9:۔ ابن سعد (رح) نے ابن ابی ملکیہ (رح) سے روایت کیا کہ اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ کو سر میں درد ہوتا تو وہ اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھتیں اور فرما تیں یہ میرے گناہ کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں کو تو معاف فرمادیتے ہیں۔
10:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم “ سے مراد ہے حدود۔
Ayah 42:321:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ ومن ایتہ الجوار فی البحر “ (اور اس کی نشانیوں میں سے وہ جہاز ہیں جو سمندروں میں ہیں) یعنی کشتیاں ” کالا علام “ یعنی پہاڑوں کی طرح۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اس سمندر کی کشتیاں ہوا کے ساتھ چلتی ہیں جب ان سے ہوا ٹھہر جاتی ہے تو کشتیاں بھی ٹھہر جاتی ہیں۔
Ayahs 42:33–373:۔ ابن المنذر (رح) نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیظللن رواکد علی ظہرہ “ (تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں) یعنی نہ وہ حرکت کرتی تھیں اور نہ وہ سمندر میں چلتی تھیں۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواکد “ سے مراد ہے وہ ٹھہر جاتی ہیں ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو ہلاک کردیتا ہے۔
5:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو غر ق کردے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ ان کو ہلاک کردے۔
7:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالھم من محیص “ یعنی ان کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔
8:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” اویوبقھن بما کسبوا “ (یا ان کے بداعمالی کی وجہ سے ان کو تباہ کردے) یعنی انکے اہل کے گناہوں کی وجہ ہے۔
9:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابو ظیبان (رح) سے روایت کیا کہ ہم مصاحف علقمہ پر پیش کیا کرتے تھے انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور “ (بلاشبہ اس میں ہر صابر وشاکر (مومن) کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ علقمہ نے کہا کہ عبداللہ ؓ نے فرمایا : صبر آدھا ایمان ہے۔
10:۔ سعید بن منصور (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ شکر آدھا ایمان ہے اور صبر آدھا ایمان ہے اور یقین سارا ایمان ہے اور (آیت) ” ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، وایۃ للمؤمنین “ (اور یہ نشانی ہے یقین کرنے والوں کیلئے )
Ayah 42:381:۔ عبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) نے الادب میں وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ کسی قوم نے (آپس میں) مشورہ نہیں کیا مگر ان کو ہدایت دی گئی اور ان کا معاملہ درست ہوگیا۔ یہ (آیت ) ’ ’ وامرھم شوری بینہم “ (اور ان کا ہر کام آپس میں مشورہ سے ہوتا ہے)
آپس کے صلح و مشورے کی اہمیت :
2:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایک ایسا معاملہ جو آپ کے بعد ہم پر آجائے جس کے بارے میں نہ قرآن نازل ہوا اور نہ اس کے بارے میں آپ سے بھی کوئی بات سنی گئی (تو پھر کیا کریں) آپ نے فرمایا اس مسئلہ کے لئے میری امت میں سے ایک عبادت کرنے والے کے پاس جمع ہوجاؤ اور آپس میں اس مسئلے کے بارے میں مشورہ کرو اور تم اس کا فیصلہ نہ کرو ایک آدمی کی رائے سے۔
3:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تم عقل مند آدمی سے رہنمائی طلب کرو تم رہنمائی پاجاؤ گے اور تم اس کی نافرمانی نہ کرو ورنہ ندامت اٹھاؤگے۔
4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی کام کا ارادہ کرے اس میں مشورہ کرے اور (پھر) فیصلہ کرے تو وہ ہدایت پاجائے گا اور اس کے معاملات درست ہوجائیں گے۔
5:۔ بیہقی (رح) نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ کیونکہ یہ چیز کا مقصود ہے، اے میرے بیٹے تو اس وقت تک کسی کام کا فیصلہ نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے مرشد (یعنی رہنما) سے مشورہ نہ کرے کیونکہ دوسرا اس کے برابر نہیں ہوسکتا اگر تو نے ایسا کرلیا تو اے میرے بیٹے تو اس سے رشد کو حاصل کرے گا اپنے پہلے دوست کو لازم پکڑ کیونکہ آخر والا دوست اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔
Ayah 42:391:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ (اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو برابر کا بدلہ لیتے ہیں) اس سے مراد ہے کہ مؤمن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ وہ ظالم کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور جب وہ قدرت رکھے تو درگزر کے معاملات کرے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے اس (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مؤمن اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل ؔ ظاہر کریں اور فاسق لوگ ان پر جرأت کرنے لگیں۔
3:۔ نسائی وابن ماجہ (رح) وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس حضرت زینب ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ میری طرف دیکھ کر مجھ کو برا بھلاکہنے لگیں نبی کریم ﷺ نے ان کو ڈانٹا مگر وہ نہ رکیں آپ نے مجھ سے فرمایا : اسے جواب دو تو میں نے بھی اس کو برا کہا یہاں تک کہ اس کے منہ میں اس کی تھوک خشک ہوگئی (یعنی وہ لاجواب ہوگئی) رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے کھلا ہوا تھا۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے علی بن زید بن جدعان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے انصار میں سے اس جیسی حدیث نہیں سنی جو حدیث مجھے میرے والد کی ام ولد نے بیان کی حضرت نے بیان کی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں گھر میں تھی اور ہمارے پاس زینب بنت جحش بھی تھیں۔ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو آپ کی طرف متوجہ ہو کر زینب کہنے لگیں ہم میں سے ہر ایک آپ کے پاس باتوں سے دھوکہ دینے والا ہے۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر مجھے برابھلا کہنے لگیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم بھی اس کو ایسا ہی جواب دو جیسے یہ تم کو کہہ رہی ہے۔ پھر میں بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی (اور اس کو جواب دینا شروع کیا) جبکہ میں اس سے بہتر گفتگو کرنے والی تھی (یہ سن کر) وہ کھڑی ہوگئی (یعنی چلی گئی )
5:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ سے مراد ہے کہ وہ ان سے بدلہ لیتے ہیں جو ان پر زیادتی کرتے ہیں مگر حد سے تجاوز نہیں کرتے۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی “ سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ پر ؔ ظلم کیا گیا اور آپ پر بغاوت کی گئی آپ کو جھٹلایا گیا (آیت ) ” ھم ینتصرون “ (وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں) یعنی محمد ﷺ تلوار کے ساتھ بدلہ لیتے ہیں
Ayah 42:401:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ (کہ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے) دنیا میں جو لوگ ایکدوسرے سے تکلیف اٹھاتے ہیں اور (بدلے میں) قصاص لیا جاتا ہے۔
2:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں جو کچھ کہتے ہیں تو اس کے گناہ ابتداء کرنے والے پر ہیں یہاں تک یہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔ پھر یہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ تلاوت کی۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب تجھ کو گالی دی جاتی ہے تو بھی اس کو اسی طرح کی گالی دیدے مگر اس سے تجاوز نہ کر۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی نجیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ کہ اگر آدمی کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرے تو جواب میں دوسرا بھی کہہ سکتا ہے۔ اللہ اس کو رسوا کرے۔
عفو و درگزر سے کام لینا :
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمائیں گے کہ وہ آواز لگائے کہ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ پر ہے تو نہیں کھڑا ہوگا مگر وہ شخص جس نے دنیا میں معاف کردیا تھا اسی کو فرمایا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ (لیکن جو شخص معاف کردے اور صلح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے)
6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجائے تو بہت ساری گردنیں کھڑی ہوں گی ان سے کہا جائے گا تمہارا اللہ کے ذمہ کیا اجر ہے ؟ وہ کہیں گے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظالموں کو معاف کیا تھا اور یہی قول ہے اللہ تعالیٰ کا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ ان سے کہا جائے گا اللہ کے حکم سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا جب بندے حساب کیلئے کھڑے ہوں گے تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا کہ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کو چاہئے کہ جنت میں داخل ہوجائے پھر دوسری مرتبہ آواز دے گا۔ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ لوگ کہیں گے کون ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ فرشتہ کہے گا جو لوگوں کو معاف کردیتے تھے تو اتنے اتنے ہزار لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔
8:۔ البیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کا اجر اللہ کے ؔ ذمہ ہے اسکو چاہئے کہ جنت میں داخل ہوجائے یہ اعلان دو دفعہ ہوگا۔ تو وہ آدمی کھڑا ہوجائے گا جس نے اپنے بھائی کو معاف کردیا اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “ (جو شخص معاف کردے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے)
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے آواز لگانے والا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان کرے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ؟ تو وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جنہوں نے دنیا میں معاف کیا تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم لوگوں نے میرے لئے معاف کیا تھا تمہارا ثواب جنت ہے۔
10:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن المنکدر (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین پر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا خبردار ! جس کا حق اللہ پر ہے اس کو چاہئے کہ کھڑا ہوجائے تو ہو شخص کھڑا ہوجائے گا جس نے معاف کیا اور اصلاح کی کوشش کی۔
11:۔ ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آواز لگانے والاقیامت کے دن آواز دے گا آج کے دن کوئی کھڑا نہ ہوگا مگر جس کا اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی احسان ہو تو مخلوق کہے گی آپ کی ذات پاک ہے بلکہ احسان تو آپ کا ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیوں نہیں۔ جس شخص نے دنیا میں قدرت ہوتے ہوئے معاف کیا (اس کا اجر میرے پاس ہے)
12:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں سے کون زیادہ عزت والا ہے، فرمایا وہ شخص جو قدرت ہوئے معاف کردے۔
13:۔ احمد و ابوداؤد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابوبکر ؓ کو گالی دی اور نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے آپ نے تعجب فرمایا اور مسکرانے لگے جب اس آدمی نے زیادہ باتیں کیں ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا (اس پر) نبی کریم ﷺ غصہ ہو کر کھڑے ہوگئے، ابوبکر پیچھے سے جا کر ملے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ مجھے برا کہہ رہا تھا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو کر کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا کہ تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تو نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو شیطان آگیا میں ہرگز شیطان کے ساتھ بیٹھنے والا نہیں پھر فرمایا اے ابوبکر تو نے اپنا حق پالیا ہے کہ جس کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خطاچشم پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور جس آدمی نے عطیہ کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعے وہ صلہ رحمی کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ دیتا ہے۔ اور جس آدمی نے (لوگوں سے) سوال کرنے کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعہ مال کی کثرت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی تنگی میں اور اضافہ کردیتے ہیں۔
Ayahs 42:41–431:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل “ (جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم معمولی زخموں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑے سے واقع ہوتا ہے جس پر کوئی سزا نہیں ہوتی اور اگر کوئی آدمی تجھ پر ظلم کرے تو اس پر ظلم نہ کر اور اگر وہ تجھ کو برا بھلانہ کہہ اور اگر وہ تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر کیونکہ مؤمن پورا پورا ادا کرنے والا ہوتا ہے اور بدکار آدمی خیانت کرنے والا اور دھوکہ دینے والا ہوتا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ والترمذی (رح) والبزار وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ظلم کرنے والے پر بددعا کی تو یقینی طور پر اس نے بدلہ لے لیا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک چور نے ان کی چوری کی تو عائشہ ؓ نے اس پر بددعا کی نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا بددعا کرکے اس کو ہلکا مت کر۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ کے لئے اجازت ہے کہ آپ تلوار سے بدلہ لیں اور فرمایا (آیت ) ” انما السبیل علی الذین یظلمون الناس “ (اخروی عذاب اور دنیا کی سزا کی راہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں) یعنی اہل شرک میں سے۔
Ayah 42:445:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) نے (آیت ) ” ھل الی مرد من سبیل “ (کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی صورت ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دنیا کی طرف (واپس جانے کی تمنا کریں گے )
Ayahs 42:45–481:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ (سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے) یعنی ذلیل ہوکر۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ سے مراد ہے کہ وہ نظرکو چرائیں گے آگ کی طرف (یعنی چوری چوری دیکھیں گے ) ۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے خلف بن خوشب (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی یوم لامردلہ من اللہ “ (تم اپنے رب کا حکم ماقبل اس کے کہ ایسا دن آجائے جس کیلئے خدا کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ پھر یوں فرمایا ” لبیک من زید “ یعنی زید کی جانب سے لبیک۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من ملجا یومئذ “ (اس روز تم کو کوئی پناہ نہیں ملے گا) یعنی بچاؤ (آیت) ” ومالکم من نکیر “ (تمہارے بارے میں خدا سے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ ہوگا یعنی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو تمہاری مدد کرے۔
Ayahs 42:49–51کسی کے لیے اولاد ہونا نہ ہونا اللہ کے اختیار میں ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اولاد اللہ کا ہبہ ہیں (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے) اور اولاد اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہوجاؤ۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کی برکت میں سے ہے جو پہلی مرتبہ بچی جنے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (یعنی اس میں پہلے بیٹی کا ذکر فرمایا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ سے مراد ہے کہ بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں نہ ہوں۔ (آیت) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ سے مراد ہے کہ اس کی بیٹی اور بیٹا پیدا ہوئے (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی ان کی کوئی اولاد نہ ہوتی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثا “ یعنی وہ آدمی جس کے صرف بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ (آیت ) ” ویھب لمن یشآء الذکور “ یعنی وہ آدمی جس کے صرف بیٹے پیدا ہوتے ہیں (آیت ) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ یعنی وہ آدمی جس کے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ وہ آدمی جس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ سے مراد ہے جوڑے (یعنی اس کے ہاں جڑواں اولاد پیدا ہوتی ہے)
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی جس کے کوئی اولاد پیدا نہ ہو۔
7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی جس عورت کو حمل نہیں ہوتا۔
8:۔ عبدالرزاق (رح) نے المنصف میں عبداللہ بن حرث بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے اپنی ایک حبشی لونڈی سے خواہش پوری کی، اس سے عزل کیا، پھر اس کو بیچ دیا وہ اپنے آقا کے ساتھ چلی گئی یہاں تک کہ جب (آقا نے) راستے میں اس سے جماع کرنے کا ارادہ کیا۔ تو ہو اس سے رک گئی (اور قریب نہیں آئی) اچانک وہاں ایک بکریاں چرانے والا تھا۔ اس نے اس چرواہے کو بلایا اور اس نے عجمی زبان میں بات کی اور اس کو بتایا کہ وہ اس لونڈی کا آقا ہے۔ اس لونڈی نے کہا میں اپنے پہلے آقا سے حاملہ ہوئی جو اس سے پہلے (میرا) آقا تھا اور میرے دین میں یہ حکم ہے کہ ایک آدمی سے حاملہ ہونے کی صورت میں دوسرا آدمی مجھ سے وطی نہ کرے اس کے آقا نے ابوبکر ؓ یا عمر کی طرف خط لکھا اور ان کو کی خبر دی یہ بات نبی کریم ﷺ کو مکہ میں پہنچی۔ نبی کریم ﷺ نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ جب کل کا دن ہوا اور ان کی مجلس مقام حجر میں تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری مجلس میں جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور اللہ کی طرف سے (یہ پیغام لائے) کہ تم میں سے کسی کو اللہ پر اختیار نہیں ہے۔ جب انتہائی پاگل اپنے پاگل پن کا اظہار کرے لیکن (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ اپنے بیٹے کا اعتراف کرو تو آپ نے اس بارے میں ان کو لکھ دیا۔
9:۔ عبدالرزاق (رح) نے غیلان سے اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے ایک آدمی سے عجمی لونڈی خریدی وہ آدمی اس سے جماع کرچکا تھا۔ اور وہ عورت اس سے حاملہ تھی ابوبکر (رح) نے اس سے جماع کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس لونڈی نے انکار کردیا وہ حاملہ ہے، یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی گئی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ اسے محفوظ کردیا جب تم میں سے کوئی اس قسم کے پاگل پن کا مظاہر کرے تو اسے اللہ تعالیٰ پر کوئی اختیار نہیں تو ابوبکر ؓ نے وہ لونڈی اس مالک کو واپس کردی جس سے خریدی تھی۔
اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے اقسام :
10:۔ بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں یونس بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زہری (رح) سے سنا ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا “ (کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے سے) لیکن وہ کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پردہ کے پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا تھا اور وحی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء میں سے کسی نبی کی طرف وحی فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ وہ حکم نبی کے دل میں ثبت کردیتے ہیں (پھر) اس کے ذریعہ نبی بات کرتا ہے اور اسے یاد کرلیتا ہے۔ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے اور اس میں سے ایک ایسی وحی بھی ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے درمیان اور اس میں سے یوں بھی ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اس کے متعلق بات تو کرتے ہیں اور کسی کے لئے لکھتے نہیں اور اس کے لکھنے کا حکم بھی فرماتے لیکن وہ لوگوں سے اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور ان کو بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم بھی نہیں فرماتے لیکن وہ لوگوں سے اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور ان کو بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو بیان کریں اور ان کو پیغام پہنچائیں اور وحی کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے منتخب فرشتوں کی طرف بھیجتا ہے۔ اور وہ فرشتے انبیاء کرام سے کلام کرتے ہیں اور وحی میں سے یہ بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے جس کی طرف بھیجتا ہے تو وہ رسولوں کے دلوں میں وحی کے ذریعہ انکار کردیتے ہیں۔
11:۔ بخاری (رح) ومسلم اور بیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کس طرح آپ کے پاس وحی آتی ہے ارشاد فرمایا کبھی تو اس طرح آتی ہے جیسے گھنٹی کی آواز یہ وحی میرے لئے بڑی سخت ہوتی ہے جب وہ وحی مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں فرشتے کے کہے ہوئے کلمات یاد کرچکا ہوتا ہوں۔ اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور بات کرتا ہے کہ تو جو کچھ کہتا ہے مجھے یاد ہوجاتا ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ پر شدید سردی میں وحی نازل ہوتی تو جب وحی کا سلسلہ ختم ہوتا تو آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا۔
12:۔ ابویعلی وعقیلی و طبرانی (رح) نے (الاسماء والصفات میں اور اس کو ضعیف کہا) سہل بن سعد اور عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سامنے ستر ہزار پردے ہیں اور نور اور ظلمت کے کوئی بھی جاندار ان پردوں کی حرکت کو سنتا ہے تو اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے۔ (یعنی مرجاتا ہے )
Ayahs 42:52–531:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “ (اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی یعنی اپنے حکم میں سے) میں روحا سے مراد ہے قرآن مجید۔
2:۔ ابونعیم (رح) (نے دلائل میں) وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کی آپ نے کبھی بتوں کی عبادت کی ؟ فرمایا نہیں پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ؟ فرمایا نہیں میں لگاتار ان چیزوں کے بارے میں پوچھتا رہا جن پر کافر پابند تھے (آیت ) ” ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان “ (یعنی میں نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے) اور اسی بارے میں قرآن نازل ہوا (کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیسا ہے) ۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانک لتھدی “ (اور اس میں شک نہیں کہ آپ ہدایت کررہے ہیں یعنی آپ دعوت دیتے ہیں (ہدایت کی طرف)
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ (اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ہدایت کررہے ہیں راستے کی طرف) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وبکل قوم ھاد “ (الرعد آیت 7) (اور ہر قوم کے لئے ہدایت کرنے والا ہوتا ہے) یعنی ایسا دعوت دینے والا ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ سے مراد ہے کہ آپ بلاتے ہیں لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف۔
الحمد للہ سورة شوری مکمل ہوئی :