Ayah 41:331:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ (اس شخص کے قول سے بہتر کس کا قول ہوگا جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا) سے مراد ہے مؤذن (آیت ) ” وعمل صالحا “ (اور نیک عمل کیا) اس سے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت نماز پڑھنا مراد ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے دوسری سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں اس آیت کو نہیں دیکھتی ہوں مگر یہ مؤذنوں کے بارے میں نازل ہوئی (اور وہ یہ آیت ہے) (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ سے نبی کریم ﷺ کی ذات مراد ہے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ اس (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ مؤمن ہے جو نیک عمل کرے اور اللہ کی طرف بلائے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین “ سے وہ بندہ مراد ہے جو اپنے قول میں اپنے عمل میں اپنے داخل ہونے کی جگہ میں اور اپنے خارج ہونے کی جگہ میں اپنی پوشیدہ حالت میں اپنی ظاہری حالت میں اپنے حاضر ہونے کی جگہ میں اور اپنے غائب ہونے کی جگہ میں درست ہو۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ سے مراد ہے لا الہ اللہ “ کہنا یعنی مؤذن، اذان دینے والا۔ (آیت ) ” وعمل صالحا “ سے مراد ہے کہ جس نے روزہ رکھا اور نماز پڑھی۔
8:۔ خطیب (رح) نے (فی تاریخہ) قیس بن ابی حازم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا “ سے مراد ہے اذان (آیت ) ” وعمل صالحا “ سے مراد ہے نماز، اذان اور اقامت کے درمیان، خطیب نے کہا کہ ابوبکر النقاش نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن ابوداؤد نے اپنی تفسیر میں ایک لاکھ بیس ہزار احادیث بیان کی ہیں مگر یہ حدیث اس میں نہیں ہے۔ ؛
9:۔ سعید بن منصور نے عاصم بن جبیرہ (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اپنی اذان سے فارغ ہو تو کہہ ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وانا من المسلمین “ پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین “
10:۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اذان دینے والے قیامت کے دن لوگوں میں لمبی گردنوں والے ہوں گے۔
مؤذنین کی فضیلت :
11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ودیلمی (رح) نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلال ؓ قیامت کے دن اذان دینے والوں کے سردار ہوں گے اور ان کی تابعداری نہیں کرتا مگر مؤمن اور قیامت کے دن اذان دینے والے ہم سے لمبی گردنوں والے ہوں گے۔
12:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مؤذن کی بلند اس کے حق میں بخشش طلب کرتی ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کی تصدیق کرتی ہے۔
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے ایک آدمی سے فرمایا تو کیا کام کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں اذان دیتا ہوں تیرا کتنا اچھا عمل ہے ؟ تیرے لئے ہر چیز گواہی دیتی ہے جو چیز تجھ کو سنتی ہے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اگر میں اذان کی طاقت رکھتا اپنی اس خلافت کے ہوتے ہوئے تو میں ضرور اذان دیتا۔
15:۔ ابن ابی شیبہ نے سعد ؓ سے روایت کیا میرا اذان پر قوی ہونا مجھے حج عمرہ اور جہاد سے زیادہ محبوب ہے۔
16:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اگر میں مؤذن ہوتا تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں حج اور جہاد کرتا۔
17:۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے اذان دی اس کیلئے ستر نیکیاں لکھی جائیں گی اگر وہ اقامت بھی کہتے تو یہ بھی افضل ہے۔
18:۔ ابن ابی شیبہ نے ہشام کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگ جان لیتے کہ اذان میں کتنا ثواب ہے۔ تو لوگ آپس میں جھگڑا کریں اور یہ بات کہی جاتی تھی کہ اذان دینے میں جلدی نہ کرو اور امامت میں جلدی نہ کرو۔
19:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اذان دینے والے کو سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔
Ayahs 41:34–351:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ ادفع بالتیھی احسن، ادفع بالتیھی احسن “ (نیکی اور بدی برابر نہیں ہیں آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیا کریں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو غصہ کے وقت صبر کا حکم فرمایا۔ اور بردباری کا حکم فرمایا جہالت کے وقت، اور معافی کا حکم فرمایا زیادتی کے وقت، جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شیطان سے محفوظ کردے گا، اور اس کے دشمن کو انکے لئے سرنگوں کردے گا (آیت ) ” کانہ ولی حمیم “ (گویا کہ وہ گہرا دوست ہے)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ ادفع بالتیھی احسن، ادفع بالتیھی احسن “ سے مراد ہے کہ اس کو سلام کردو ” (آیت) ” فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم “ (پھر یکایک وہ شخص کہ آپ کے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی گہرا دوست ہو۔
3:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے الشعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ”، ادفع بالتیھی احسن “ سے مراد ہے سلام کرنا کہ تو اس کو سلام کر جب تو اس سے ملاقات کرے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عطار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ادفع بالتیھی احسن “ سے مراد ہے سلام کرنا۔
5:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ کانہ ولی حمیم “ سے مراد ہے رقیب نگہبان (آیت ) ’ ’ الا ذو حظ عظیم “ (مگر جو بڑا خوش نصیب ہے) سے مراد ہے جنت اس کی خوش نصیبی ہوگی)
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن ؓ سے (آیت ) ” وما یلقھا الا الذین صبروا “ (اور یہ بات انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے مستقل مزاج ہیں) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم وہ اسے اس وقت تک نہیں پائے گا جب تک وہ غصہ کو نہ پی جائے اور بعض ان باتوں سے درگزر نہ کرے جس کو ناپسند کرتا ہے۔ ؛
7:۔ ابن المنذر (رح) نے انس ؓ سے (آیت ) ” وما یلقھا الا الذین صبروا، وما یلقھا الا ذو حظ عظیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی کو اس کا بھائی برا بھلا کہتا ہے تو وہ کہتا ہے اگر تو سچ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دے اور اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تیری بھی مغفرت فرما دے ، (اللہ اعلم ) ۔
Ayah 41:361:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و بخاری (رح) ومسلم (رح) وابو داؤد (رح) و نسائی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے سلیمان بن صرد ؓ سے روایت کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آپس میں گالی گلوچ کی ان میں سے ایک کا غصہ تیز ہوگا نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ اس کو کہہ لے تو اس سے غصہ دور ہوجائے گا (اور وہ ہے) ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ اس آدمی نے کہا کیا آپ مجھے مجنون سمجھتے ہیں (پھر) آپ نے یہ (آیت) پڑھی ” واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “ (اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو فورا اللہ کی پناہ مانگ لیجئے ) ۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد (رح) و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن مردویہ (رح) نے معاذبن جبل ؓ سے روایت کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس (آپس میں) گالی گلوچ کیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے چہرہ میں غصہ پہچانا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ اس کو کہہ لے تو اس کا غصہ چلا جائے۔ (اور وہ ہے) ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ غصہ سے بچو۔ کیونکہ یہ ایک انگارہ ہے جو جلایا جاتا ہے آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کی دل میں کیا تو نے دیکھا اس کی آنتوں کو پھول جائے اور اس کی آنکھوں کی سرخی کو نہیں دیکھتے جو آدمی اس میں سے کوئی چیز محسوس کرے تو اس کو چاہئے کہ زمین کے ساتھ چمٹ جائے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے خیثمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ شیطان کہتا ہے آدم کا بیٹا مجھ پر کیسے غلبہ حاصل کرسکتا ہے جب وہ راضی ہے اس بات پر کہ میں اس کے دل میں ہوں اور جب وہ غصہ ہوتا ہے تو میں اڑ کر اس کے سر ہوجاتا ہوں۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) پڑھی ” واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ “ (اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو فورا اللہ کی پناہ مانگ لیجئے) فرمایا کہ ہمارے لئے ذکر کیا گیا کہ ہمارے درمیان نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اچانک آپ نے ٹیک لگانا شروع کی یہاں تک کہ آپ نے ایک ستون ٹیک لگائی پھر آپ فرما رہے تھے میں تجھ پر اللہ کی مکمل لعنت کرتا ہوں، آپ کے بعض صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کونسی چیز تھی ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کچھ کررہے تھے آپ نے فرمایا میرے پاس شیطان آگ میں سے ایک شعلہ لے کر آتا ہے تاکہ مجھے اس کے ساتھ جلادے تو میں نے اس پر اللہ تعالیٰ کی پوری لعنت کی وہ منہ کے بل گرا اور اس کی آگ بجھ گئی
Ayah 41:371:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات اور دن کو گالی نہ دو اور نہ سورج اور چاند کو اور نہ ہوا کو کیونکہ انکو ایک قوم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا جاتا ہے اور دوسری قوم کے لئے عذاب بنا کر۔
2:۔ طستی (رح) اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے (آیت ) ” لایسئمون “ کے بارے میں بتائیے فرمایا وہ نہیں اکتاتے اور نہ سستی کرتے ہیں، پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
من الخوف لا ذی سامۃ من عبادہ ولا مؤمن طول التعبد یجھد :
ترجمہ : وہ خوف کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں وہ اپنی عبادت سے اکتانے والا نہیں ہے اور نہ ہی وہ طویل عبادت پر مطمئن ہونے والا ہے بلکہ وہ پوری جدوجہد کوشش کرتا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ ” حم سجدہ “ کی ان دو آیتوں میں دوسری پر سجدہ کرتے تھے جبکہ ابن مسعود ؓ ان میں سے پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
4:۔ سعید بن منصور (رح) نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ اور اس کے ساتھی پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے بنوسلیم کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سنا کہ آپ پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
6:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ (رح) نے (نافع کے طریق سے) نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
7:۔ بخاری (رح) نے عبد بن حسین بصرہ (رح) سے روایت کیا کہ اور ان کی صبحت حاصل ہے کہ انہوں نے سورة حم میں سے پہلی آیت پر سجدہ کیا۔
8:۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ آخرت آیت میں سجدہ کرتے تھے
Ayahs 41:38–391:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ “ (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی دبائی پڑی ہوتی ہے) یعنی غبار آلود اور خشک (آیت ) ” فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت “ (جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں وہ ابھرتی اور پھولتی ہے) یعنی جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ خوب پھلتی پھولتی ہے۔
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اھتزت “ یعنی وہ ابھری ہے سبزے کیساتھ (آیت) ” وربت “ یعنی فصل اگانے سے پہلے کانپتی ہے۔
Ayah 41:401:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “ (بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں سے مراد ہے کہ کلام کو اس کی غیرجگہ میں رکھنا یعنی وہ لوگ سلف صالحین کی تفسیر کے خلاف قرآن کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں تحریف و تبدیل کرنا کفر ہے :
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “ سے مراد ہے کہ کلام کو اس کی جگہ (کے علاوہ) دوسری جگہ رکھنا یعنی قرآن کے معانی میں تحریف کرنا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “ میں الحادا سے کہتے ہیں جو اس کے ساتھ ذکر کیا جائے۔
4:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الحاد سے مراد ہے جھٹلانا۔
5:۔ احمد نے الزھد میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس کو اس کی جگہوں میں رکھو (یعنی اس کے معانی میں تحریف نہ کرو) اور اس میں اپنی خواہشات کی تابعداری نہ کرو۔
6:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیر “ (کی پس جو شخص آگ میں ڈالا جائے کیا وہ بہتر ہے) سے مراد ہے ابوجہل بن ہشام (آیت) ” ام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن سے آئے (وہ بہتر ہے ؟ ) اس سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں۔
7:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے بشر بن تمیم ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ابوجہل اور عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” افمن یلقی فی النار، یعنی ابوجہل ” من یاتی امنا یوم القیمۃ “ یعنی عمار بن یاسر ؓ ۔
8:۔ ابن عساکر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیر، ام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ عمار بن یاسر اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔
9:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اعملوا ما شئتم “ (جوچاہو تم عمل کرو) اس میں وعید ہے۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اعملوا ما شئتم “ سے مراد ہے کہ تم کو حکم دیا اپنے رسول کو بھیجا اپنی کتاب نازل ہوئی۔ اپنی شریعت کے احکام اپنی مخلوق کے لئے حجت اور تحفہ کے طور پر مشروع کئے۔
11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اعملوا ما شئتم “ خاص طور پر بدر والوں کے لئے ہے۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ (یہ بات) ذکر کی گئی کہ آسمان میں شگاف ہو بدر کے دن اور کہا گیا (آیت ) ” اعملوا ما شئتم “ (تم جو چاہو عمل کرو)
13:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ان کے لئے اعمال مباح کردیئے گئے
Ayahs 41:41–421:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ سے سوال پوچھا اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ہے جس کے نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے باطل ہوتا ہے (آیت ) ” تنزیل من حکیم حمید “ (اتارا گیا ہے حکمت والے اور خوبیوں والے کی طرف سے)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن سعد ؓ سے روایت کیا کہ اور میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ مسند روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کی مثال اور لوگوں کی مثال زمین اور بارش کی طرح ہے۔ اس درمیان کہ زمین مردہ اور خشک ہوتی ہے۔ پھر لگا تار بارشیں ہوتی ہیں یہاں تک کہ بیچ بویا جاتا ہے اور کھیتی اگتی ہے اور کا شان پوری ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں اس کی زینت اور رزق نکالتا ہے، اسی طرح کیا اللہ تعالیٰ نے اس قرآن اور لوگوں کے ساتھ۔
3:۔ حاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) ان الذین کفروا بالذکر لما جآء ھم “ سے لیکر ” حمید “ تک تلاوت فرمائی پھر فرمایا بلاشبہ تم ہرگز نہیں لوٹو گے اللہ کی طرف کسی ایسی چیز کے ساتھ جو قرآن سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو۔
4:۔ بہیقی (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ تم ہرگز نہیں لوٹو گے اللہ کی طرف کسی ایسی چیز کے ساتھ جو قرآن سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو۔
5:۔ بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) عطیہ بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندے جو کلام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنے کلام سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں اور بندے رجوع نہیں کرتے اللہ کی طرف ایسے کلام کے ساتھ جو قرآن سے بڑھ کر اسے محبوب ہو۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یاتیہ الباطل “ میں باطل سے مراد ہے شیطان۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “ (کہ اس کے پاس باطل نہیں آتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے) فرمایا کہ ان میں شیطان وہ چیز داخل نہیں کرسکتا جو اس میں سے نہ ہو اور نہ ہی کوئی کافر اس میں داخل ہوسکتا ہے۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن الضریس (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ لکتب عزیز (41) لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “ (اور بلاشبہ یہ قرآن عزت والی کتاب ہے شیطان اس کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کو عزیز اس لئے فرمایا کیونکہ یہ اس کا کلام ہے اور باطل سے اس کی حفاظت فرمائی اور باطل ابلیس طاقت نہیں رکھتا کہ اس میں حق کو کم کردے اور اس میں باطل کو زیادہ کردے۔
Ayah 41:431:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) مایقال لک “ (جو کچھ کہا گیا تیرے لئے) جھٹلانے میں سے (آیت ) ” الا ما قد قیل للرسل من قبلک “ (مگر یہ کہا جاچکا رسولوں کے لئے آپ سے پہلے) جیسے آپ کو جھٹلایا گیا (اسی طرح دوسرے رسول بھی جھٹلائے گئے اور جیسے انہوں نے اپنی قوم میں تکلیفوں پر صبر کیا آپ بھی اپنی قوم کی تکلیف پر صبر کیجئے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا ما قد قیل للرسل من قبلک “ آپ سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے پیغمبروں سے کہی جا چکی ہیں۔ یعنی جو اذیت دی گئی۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں مراد ہے صبر کی تلقین۔
Ayah 41:441:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولو جعلنہ قرانا اعجمیا “ (اگر ہم اس کو عجمی زبان میں قرآن بناتے ہیں یعنی اگر ہم قرآن کو عجمی زبان میں بتاتے اور اے محمد ﷺ آپ کی زبان عربی ہوتی (آیت ) ” لقالواء اعجمی وعربی “ (تو لوگ یوں کہتے ہیں کہ کتاب تو عجمی ہے اور رسول عربی ہیں) یعنی ہمارے پاس مختلف یا ملی جلی چیز لاتا ہے۔ (آیت ) ” لولا فصلت ایتہ “ (اس کی آیات صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئی) یعنی قرآن بھی زبان کی طرح ہے وہ کہتا ہے تاکہ وہ یہ بات نہ کریں تو یہ ان کے خلاف دلیل ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر ہم قرآن کو عجمی زبان میں نازل کرتے تو مشرکین کہتے یہ کیسا ہوگا کہ قرآن عجمی زبان میں ہے اور رسول اللہ ﷺ عربی ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے کہا کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن عجمی اور عربی زبان میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” اتاری ” لقالوا لولا فصلت ایتہء اعجمی وعربی “ اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد ایک آیت کو نازل فرمایا جس میں ہر زبان کا ذکر ہے جیسے (آیت ) ” بحجارۃ من سجیل “ ابن جریر (رح) نے فرمایا اور اس صورت میں اعجمی کی قرأت استفہام کے لئے ہوگی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابومیسرہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں ہر زبان ہے۔
5:۔ عبدبن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولئک ینادون من مکان بعید “ (یہی لوگ ہیں (گویا) بڑی دور جگہ سے انکو پکارا جائے گا یعنی انکے دلوں سے دور ہے۔
Ayahs 41:45–461:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک “ اور اگر یہ بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا) یعنی اللہ کی طرف سے وقت اور ان کی اجل کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
Ayahs 41:47–541:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت دیں۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنریھم ایتنا فی الافاق “ (ہم عنقریب اپنی قدرت کی نشانیاں ان کے گرد نواح میں بھی دکھائیں گے) یعنی یہ لوگ سفر کرتے تھے اور قوم عاد اور ثمود کے آثار دیکھتے تھے تو کہتے تھے اللہ قسم ! کہ محمد ﷺ سچ کہتے ہیں اور فرمایا (آیت ) ” وما اراھم فی انفسھم “ اس میں (آیت ) ” فی انفسھم “ سے مراد ہیں امراض۔
الحمد للہ سورة فصلت مکمل ہوئی