Ayah 35:28(آیت) ” ومن الناس والدوآب والانعام “ یعنی اسی طرح لوگوں جانوروں چوپائیوں کے رنگ مختلف ہیں جس طرح پہاڑوں کے مختلف رنگ ہیں پھر فرمایا (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ (بلاشبہ اس کے بندوں میں سے علمایء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں) اس سے پہلے جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اس میں کوئی فضیلت نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے خوف کے اعتبار سے لوگ مختلف ہیں :
9:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض “ اس کے راستے مختلف ہیں جس طرح ان کا ذکر کیا گیا ہے لوگوں کے اسی طرح لوگوں جانوروں اور چوپائیوں کے رنگ مختلف ہیں جس طرح یہ جانور مختلف ہیں اسی طرح اللہ کے ڈرنے کے بارے میں بھی لوگ مختلف ہیں۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ سے ڈرنے ایمان لانے اور اطاعت میں مختلف ہیں۔ جیسے رنگوں میں مختلف ہیں۔
11:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم رکھنے والے ہی اس سے ڈرتے ہیں۔
12:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ میں ” العلماء “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
13:۔ ابن ابی حاتم وابن عدی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ علم کثرت حدیث سے نہیں ہوتا بلکہ علم اللہ تعالیٰ کے ڈر سے ہوتا ہے۔
14:۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔
15:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے صالح ابوخلیل (رح) سے (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں جو اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو وہی اس سے زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان کے طریق سے ابو حبان تیمی (رح) سے اور انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے علماء تین قسم کے ہیں۔ ایک عالم باللہ ہے (یعنی اللہ کی ذات کو جاننے والا) اور دوسرا عالم بامر اللہ (یعنی اللہ کے امر کو جاننے والا) اور تیسرا اللہ تعالیٰ جاننے والا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے امر کو نہیں جانتا اللہ تعالیٰ کے امر کو جاننے والا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتا جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے امر کو نہیں جانتا وہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے حدود فرائض کو نہیں جانتا اللہ تعالیٰ کے امر کو جاننے والا مگر اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتا وہ وہ ہے جو حدود فرائض کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔
17:۔ ابن ابی حاتم وابن عدی نے مالک بن انس (رح) سے روایت کیا کہ علم کثرت روایت کا نام ہے بلاشبہ علم وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ دل میں ڈالتا ہے۔
بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا :
18:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایمان اللہ تعالیٰ کو بغیر دیکھے ڈرنے کا نام ہے اور ان چیزوں میں رغبت کرے جن چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے رغبت دلائی اور ان چیزوں سے دور رہے جن پر اللہ ناراض ہوتے ہیں پھر یہ آیت تلاوت کی (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “
19:۔ عبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ انسان کے لئے اتنا علم کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور کسی آدمی کے جاہل ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے عمل پر فخر کا اظہار کرے۔
20:۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزھد وعبد بن حمید والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اتنا علم ہی کافی ہے انسان کا اپنے عمل سے دھوکہ کھانا اتنی جہالت ہی کافی ہے۔
21:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فقیہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔
22:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے الزھد میں حضرت عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے یوں دعا فرمائی (اے اللہ) تیری ذات پاک ہے آپ اپنے عرش پر متمکن ہیں تو نے اپنی حیثیت اس پر لازم کردی۔ جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور تیری مخلوق میں سے تیری طرف سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان میں سے تجھ سے زیادہ ڈرنے والا ہے اور وہ عالم نہیں جو تجھ سے نہیں ڈرتا اور اس میں کوئی دانائی نہیں جو تیرے حکم کی اطاعت نہیں کرتا۔
23:۔ احمد نے الزھد میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ علم کثرت روایت کا نام نہیں لیکن علم ڈرنے کا نام ہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ والترمذی اور حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم کی دو قسمیں ہیں ایک علم جو دل میں ہے۔ اور وہ نفع دینے والا علم ہے اور دوسرا علم زبان پر ہے اور وہ اللہ کی دلیل ہے اس کی مخلوق پر۔
25:۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انسان کے لئے اتنا علم ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
26:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حامل قرآن کو چاہئے کہ وہ شب بیداری سے پہچانا جائے جب لوگ سو رہے ہوں اور وہ روزہ سے پہچانا جائے جب لوگ روزہ افطار کررہے ہوں اور اپنے غم سے پہچانا جائے جب لوگ خوش ہو رہے ہوں اور اپنے رونے کے ساتھ پہچانا جائے جب لوگ ہنس رہے ہوں اور اپنی خاموشی کے ساتھ پہچانا جائے جب وہ آپس میں باتیں کررہے ہوں اور وہ عاجزی سے پہچانا جائے جب لوگ تکبر کررہے ہوں اور حامل قرآن کو چاہئے کہ وہ شور مچانے والا چیخنے والا اور تیز طیبعت والا نہ ہو۔
27:۔ الخطیب نے المتفق والمفترق میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں عکرمہ کے ساتھ آیا اور میں ابن عباس کی رہبری کررہا تھا جبکہ آپ کی بینائی ختم ہوچکی تھی یہاں تک کہ آپ مسجد حرام میں داخل ہوگئے اچانک کچھ لوگ آپس میں جھگڑا کررہے تھے۔ اپنے حلقے میں بنو شیبہ کے دروازے کے پاس ابن عباس نے فرمایا ان جھگڑا کرنے والوں کے حلقہ کی طرف مجھے لے جاؤ میں آپ لے کر چلا یہاں تک میں میں ان کے پاس آگیا آپ نے ان کو سلام کیا انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ ان کے ساتھ بیٹھو مگر آپ نے انکار کر کیا اور فرمایا مجھے اپنا نسب بتاؤ تاکہ میں تم کو پہچان لوں تو انہوں نے ان کی طرف اپنی نسبت ظاہر کی تو فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں کہ ان کو اللہ کے خوف نے خاموش کردیا جبکہ وہ (بولنے سے) عاجز نہ تھے اور نہ گونگے تھے (محض اللہ کے خوف سے خاموش ہوگئے) حالانکہ ان کے عمدہ کلام کرنے والے، خوب بولنے والے، شرفا اور اللہ کے ایام کے عالم تھے۔ سوائے اس کے کہ جب انہوں نے اللہ عظمت کا ذکر کیا تو اس سے ان کی عقلیں بےبس ہوگئیں اور ان کے دل ٹوٹ گئے اور ان کی زبانیں بولنے سے رہ گئین جب وہ ان کیفیات سے سنبھلے تو انہوں نے اللہ کی طرف پاکیزہ اعمال کے ساتھ جلدی کی تمہارا ان سے کیا تعلق ؟ پھر آپ ان سے واپس ہوگئے پھر اس کے بعد دو آدمی بھی بیٹھے نہ دکھائی دیئے۔
28:۔ الخطیب نے ایضا سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے اٹھارہ کلمات مرتب کئے لوگوں کے لئے جو سب کی سب حکمت کی باتیں تھیں جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اس کے بارے میں تو اگر اللہ تعالیٰ کی اتنی ہی اطاعت کی تو تو نے اسے سزا نہیں دی۔ اپنے بھائی کے معاملہ میں اچھی تعبیر کی۔ یہاں تک کہ اس کی طرف سے ایسا فعل صادر ہو جو تجھ پر غالب آجائے اور ایس بات کو برا گمان نہ کر جو کسی مسلمان کے فتنہ سے نکلی ہے جب تک تو اس کے لئے اچھا محل پاتا ہے۔ اور جس نے اپنے آپ کو تہمت کے لئے پیش کردیا تو اس پر ملامت نہ کر جو آدمی اس کے بارے میں براگمان رکھتا ہے جو آدمی اپنا راز چھپائے رکھتا ہے تو بھلائی اس کے ہاتھ میں رہتی ہے سچے لوگوں کے ساتھ رہو ان کے پڑوس میں زندگی بسر کرو کیونکہ وہ لوگ خوشحالی میں زینت کا باعث ہوتے ہیں اور مصیبت میں سہارے کا باعث ہوتے ہیں اور سچ کو لازم پکڑو۔ اگرچہ وہ تجھ کو قتل کردیں ایسے کام کی طرف توجہ نہ کرو جو بےفائدہ ہو اور سوال نہ کر ایسی چیز کے بارے میں جو (موجود) نہ ہو۔ کیونکہ جو چیز موجود ہے اس میں مشغولیت ہے نہ کر جو چیز موجود نہیں اس سے اپنی حاجت طلب نہ کرو جو اس کا پانا تیرے لئے پسند نہیں کرتا۔ اور نہ ہلکا سمجھ جھوٹی قسم کو کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو ہلاک کردے گا اور برے لوگوں کی صحبت اختیار نہ کر تاکہ وہ ان کی فسق وفجور کو جان لے اور اپنے دشمن سے دور رہ اور اپنے دوست سے ڈر مگر جو امین ہو اور کوئی امین نہیں ہے مگر جو اللہ سے ڈرتا ہے اور قبروں کے پاس عاجزی اختیار کر اور اطاعت کے وقت انکساری اختیار کر اور معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ سے عصمت کو طلب کر اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان سے مشورہ طلب کر کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “
عالم کی فضیلت عابد پر :
29:۔ عبد بن حمید نے مکحول ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا عالم اور عابد کے بارے میں تو آپ نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی آدمی پر پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے آسمان والے اور زمین والے اور مچھلیاں سمندر میں خیر کے سکھانے والوں پر رحمت کی دعا بھیجتے ہیں۔
Ayahs 35:29–311:۔ عبدالغنی بن سعید الثقفی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” ان الذین یتلون کتب اللہ واقاموالصلوۃ “ (کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں) حصین بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد مناف قریشی کے بارے میں نازل ہوئی۔
2: عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “ (کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی) اس سے مراد ہے جنت (آیت) ” لن تبور “ (جو ہرگز ماند نہ ہوگی) یعنی ہرگز ختم نہ ہوگی (آیت) ” لیوفیھم اجورھم ویزید ھم من فضلہ “ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے زیادہ بھی ہوگا) (آیت) ” انہ غفور “ وہ بخشنے والا ہے۔ ان کے گناہوں کو (آیت) ” شکور “ یعنی وہ قدردانی کرنے والا ہے ان کی نیکیوں کی۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “ یعنی وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو ہرگز ہلاک نہ ہوگی۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین یتلون کتب اللہ واقاموالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ مطرف بن عبداللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ قراء کے بارے میں آیت ہے۔
Ayah 35:321:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “ (پھر ہم نے وارث بنایا اس کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے) فرمایا کہ اس سے مراد محمد ﷺ کی امت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر کتاب کا وارث بنایا جو نازل کی گئی ان کے ظالم کو بخش دیا جائے گا۔ اور ان کے درمیانی درجہ والوں سے آسان حساب کیا جائے گا اور ان پر سے سبقت لے جانے والا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔
ہر مسلمان جنت میں جائے گا :
2:۔ الطیالسی واحمد عبد بن حمید اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرت “ (پھر ہم نے اس کتاب کا ان لوگوں کو وارث جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے، اور ان میں سے متوسط درجہ کا ہے اور ان میں سے نیکیوں کے ساتھ آگے بڑھنے والے ہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ سب لوگ ایک مرتبہ والے ہیں اور سارے جنت میں ہوں گے۔
3:۔ الفریابی واحمدورعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم، والطبرانی والحاکم وابن مردویہ والبیہقی نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرت باذن اللہ “۔ (سو وہ لوگ جو سابقین ہیں یہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور وہ لوگ جو متوسط درجہ کے ہیں ان سے آسان حساب لیا جائے گا اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ طویل وقت حشر کے میدان میں روکے جائیں گے پھر ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ملاقات فرمائیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو کہیں گے (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، ان ربنا لغفور شکور (24) الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب “ (اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے رنج اور غم کو دور کردیا بلاشبہ ہمارا رب بہت مغفرت کرنے والا اور بڑا قدر دان ہے جس نے اپنی مہربانی سے ہم کو ہمیشہ رہنے والے مقام میں لا اتارا یہاں تک کہ ہم کو نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ خستگی پہنچے گی ) ۔
4:۔ الطیالسی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط والحاکم وابن مردویہ نے عقبہ بن صھبان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے کہا آپ بتائیے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب “ کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا جو سابقین ہیں تو وہ چلے گئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ان کے حق میں جنت کی شہادت ہے جو مقتصد ہیں کہ جس نے اس امر کی پیروی کی اور ان کے اعمال کی طرح عمل کئے یہاں تک کہ ان کے ساتھ جا ملے سب جنت میں ہیں۔
5:۔ الطبرانی والبیہقی نے البعث میں اسامہ بن زید ؓ سے (آیت) ” فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرت “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سب لوگ اس امت کے افراد ہیں اور یہ سب لوگ جنت میں ہوں گے۔
بغیر حساب جنت میں جانے والے :
6:۔ ابن ابی حاتم والطبرانی نے عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کو تین حصوں میں برابر تقسیم کیا گیا ایک تہائی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور ایک تہائی سے آسان حساب لیاجائے گا پھر جنت میں داخل ہوں گے اور ایک تہائی سے چھان بین ہوگی اور ان پر غم مسلط ہوگا پھر فرشتے آکر کہیں گے ہم نے اللہ کو (آیت) ” لا الہ الا اللہ وحدہ “ کہتے ہوئے پایا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ان کے ” لا الہ الا وحدہ “ کہنے کی بدولت ان کو جنت میں داخل کردو۔ اور ان کے گناہوں کو جھٹلانے والوں پر ڈال دو اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ویلمن اثقالھم واثقالا مع القالھم “ (عنکبوت آیت 13) اور وہ ضرور جھٹلانے اپنے بوجھوں کو اور دوسرے بوجھ بھی اپنے بھی اپنے بوجھوں کے ساتھ) اور اس کی تصدیق ہے اس میں جو فرشتوں نے ذکر کیا اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “ اللہ تعالیٰ نے ان کی تین قسمیں بنائی ہیں (آیت) ” منہم ظالم لنفسہ “ ان میں سے ایک وہ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی چھان بین ہوگی (آیت) ” ومنہم مقتصد “ اور یہ وہ ہے جس کا آسان حساب لیا جائے گا (آیت) ” ومنہم سابق بالخیرت “ اور یہ وہ ہیں جو جنت میں بغیر حساب اور بغیر عذاب کے داخل ہوں گے اللہ کے حکم سے۔ وہ سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے کہ ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی (آیت) ” یحلون فیھا من اساور من ذھب “ (ان میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) سے لے کر لغوب تک۔
7:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت میں یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ایک تہائی جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوگی اور ایک تہائی سے آسان حساب لیا جائے گا اور ایک تہائی سے ان کے گناہوں کا حساب ہوگا مگر یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک نہیں کیا تو رب تعالیٰ فرمائیں گے ان لوگوں کو میری وسیع رحمت میں داخل کردو۔ پھر یہ (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “۔
8:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر والبیہقی نے البعث میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ اس آیت سے استدلال فرماتے تو فرماتے ! بیشک ہم میں سے آگے بڑھنے والا آگے بڑھنے والا ہے اور ہم میں سے متوسط درجے والا نجات پانے والا ہے اور ہمارا ؓ عنہظالم بھی بخشا ہوا ہے۔
9:۔ العقیلی وابن لال وابن مردویہ اور بیہقی نے دوسری سند سے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا سابق سبقت لے جانے والا ہے، اور ہمارا مقتصد نجات پانے والا ہے، اور ہمارا ظالم بخشا ہوا ہے۔ پھر عمر ؓ نے (یہ آیت) پڑھی ” منھم ظالم لنفسہ “
10:۔ ابن النجار نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا آگے بڑھنے والا آگے بڑھنے والا ہے، اور ہمارا متوسط درجے والا نجات پانے والا ہے، اور ہمارا ظالم بخشا ہوا ہے۔
گناہگار مسلمان شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے :
11:۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نیکیوں میں آگے بڑھنے والا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا اور درمیانی درجہ والا اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا اور اعراف والے لوگ محمد ﷺ کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے۔
12:۔ سعید بن منصور ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت سے استدلال کیا کہ ہمارے سابقہ جہاد کرنے والے اور ہمارے مقتصد سے نجات پانے والے ہیں وہ ہمارے شہروں والے ہیں کہ ہمارے ظلم کرنے والے ہمارے دیہاتی لوگ ہیں۔
13:۔ سعید بن منصور والبیہقی نے البعث میں براء بن عازب ؓ سے (آیت) ” منھم ظالم لنفسہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اللہ پر گواہی دیتا ہوں کہ وہ ان سب کو جنت میں داخل کرے گا۔
14:۔ الفریابی وابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “ پھر فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک نجات پانے والا ہے اور یہ سب اسی امت سے ہیں۔
15:۔ الفریابی وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثل اس آیت کے ہے جو سورة واقعہ میں ہے (آیت) ” فاصحاب المیمنۃ واصحاب المشئمہ “ (کہ دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے اور ” السبابقون “ کہ یہ دو قسمیں نجات پانے والے ہیں اور ایک قسم ہلاک ہونے والی ہے۔
16:۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”، فمنہم ظالم لنفسہ، سے مراد ہے کافر ” مقتصد “ سے مراد دائیں ہاتھ والے۔
17:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا “ سے لے کر ” لغوب “ تک تلاوت کی، پھر فرمایا رب کعبہ کی قسم وہ لوگ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ فرمایا وہ لوگ سب کے سب جنت میں ہیں کہ تم اس کے بعد والی آیت کو نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ” (آیت) ” والذین کفروا لھم نار جھنم “ کہ یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ بات حسن کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ان پر سورة واقعہ انکار کرتی ہے۔
18:۔ ابن ابی حاتم نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سونے اور چاندی کے کنگن اور موتیوں کے تاج پہنے ہوں گے اور ان پر پے درپے موتیوں اور یاقوت پٹکے ہوں گے اور ان پر تاج ہوں گے بادشاہوں کے تاجوں کی طرح۔ جرد ( یعنی بےلباس ) ، امرد (یعنی بےریش) سرمہ لگائے ہوئے ہوں گے۔
19:۔ ابن مردویہ والدیلمی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو تین قسموں پر اٹھائیں گے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے (آیت) ” فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرت باذن اللہ “۔ اس میں سابق بالخیرات بغیر حساب جنت میں داخل ہوگا اور مقتصد سے آسان حساب لیا جائے گا اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا۔
20:۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو تین حصوں میں تقسیم کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” واصحب الشمال، ما اصحب الشمال (41) اصحاب الیمین واصحاب الیمین، والسبقون السبقون (10) اولئک المقربون (سورۃ الواقعہ) اور وہ لوگ بھی اسی کے مثل ہیں۔
21:۔ ابن مردویہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” ظالم لنفسہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد کافر ہے۔
22:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فمنہم ظالم النفسہ “ سے مراد ہے منافق (آیت) ” ومنہم مقتصد “ سے مراد ہے صاحب یمین (یعنی دائیں طرف والا) (آیت) ” ومنہم سابق بالخیرت باذن اللہ “ سے مراد ہے مقرب قتادہ نے فرمایا موت کے وقت لوگوں کی تین منزلیں ہوں گی تین منزلیں دنیا میں اور تین منزلیں آخرت میں ہوں گی۔ دنیا میں وہ مؤمن منافق اور مشرک تھے اور موت کے وقت تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاما ان کان من المقربین “ (اگر وہ مقر بین میں سے ہے) (آیت) ” واما ان کان من اصحاب الیمین “ اگر وہ داہنی طرف والوں میں ہے (آیت) ” واما ان کان من المکذبین الضالین “ اور اگر وہ جھوٹ بولنے اور گمراہ ہونے والوں میں سے ہے اور آخرت میں وہ تین قسم پر ہوں گے (آیت) ” اصحاب الیمین “ داہنے ہاتھ والے ’(آیت) ” واصحاب المشئمۃ “ بائیں ہاتھ والے (آیت) ” والسبقون السبقون اولئک المقربون “ اور آگے بڑھنے والے یہ لوگ مقرب ہوں گے۔
23:۔ عبد بن حمید اور بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فمنہم ظالم لنفسہ “ سے مراد ہے منافق جو جہنم میں گرے گا اور متوسط درجہ والے درجہ والے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے والے جنت میں ہوں گے۔
24:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبیہقی نے عبد بن عمر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سب کے سب نیک لوگ ہیں۔
25:۔ عبد بن حمید نے صالح ابوالخلیل (رح) سے روایت کیا کہ کعب نے فرمایا بنی اسرائیل کے بڑے علماء مجھے ملامت کرتے ہیں کہ میں اس امت میں داخل ہوں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اس کو جمع فرمادیا پھر ان کو جنت میں داخل فرمادیا پھر یہ آیت (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، یہاں تک کہ وہ پہنچے (آیت) ” جنت عدن “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جنت میں داخل فرمادیا۔
26:۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ علماء تین قسم پر ہیں اپنی ذات اور اپنے غیر کو جاننے والا اور یہ سب سے افضل اور بہترین ہے اور ان میں سے دوسرا وہ ہے جو اپنی ذات کو جاننے والا ہے تو وہ اچھا ہے اور تیسرا وہ ہے جو نہ اپنی ذات کو جانتا ہے اور نہ ہی غیر کو جانتا ہے تو یہ ان سب سے برا ہے۔
27:۔ عبد بن حمید نے ابو مسلم خولانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے کہ امت قیامت کے دن تین قسموں پر تقسیم کی جائے گی ان میں سے ایک قسم بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گی اور دوسری قسم سے اللہ تعالیٰ آسان حساب لیں گے اور وہ بھی جنت میں داخل ہوگی، اور تیسری قسم وہ ہوگی جن کو روکا جائے گا اور ان سے اللہ تعالیٰ لے گا جو چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردیں گے اور ان سے درگزر فرمادیں گے۔
28:۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا “ سے مراد ہے کہ وہ سب جنت میں داخل ہوں گے رب کعبہ کی قسم ! اس کی خبر حسن (رح) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم سورة واقعہ ان پر اس کا انکار کرتی ہے۔
29:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عبد اللہ بن الحارث (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس نے کعب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، کے بارے میں تو فرمایا وہ سب نجات پائیں گے فرمایا رب کعبہ کی قسم ان کے کندھے رگڑے جائیں گے، پھر ان کو افضلیت دی جائے گی ان کے اعمال کی وجہ سے۔
30:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ اس امت کو تین چیزیں دی گئیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں (آیت) ” فمنہم ظالم لنفسہ “ کہ ان سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بخش دیئے جائیں گے اور ان کے مقتصد جنتوں میں ہوں گے ” ومنہم سابق “ اور ان میں سے سبقت لے جانے والے اعلیٰ مکان میں ہوں گے۔
31:۔ عبد بن حمید وابن جرری وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، فمنہم ظالم لنفسہ “ کہ وہ بائیں ہاتھ والے ہیں ” ومنہم مقتصد “ کہ وہ دائیں ہاتھ والے ہیں (آیت) ” ومنہم سابق بالخیرت باذن اللہ “ کہ وہ سارے لوگوں سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں۔
32:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک ھوالفضل الکبیر “ سے مراد ہے کہ یہ اللہ کی نعمت ہے۔
Ayah 35:3333:۔ الترمذی والحاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تلاوت فرمائی (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا یحلون فیھا من اساور من ذھب ولؤلؤا “ (وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کی جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کو وہ وہاں سونے کی کنگنوں اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے گا) یعنی ان پر تاج ہوں گے کہ ان میں سے ادنی درجے کا وہ موتی ہوگا جو مشرق اور مغرب کے درمیانی حصہ کو روشن کردے۔
Ayah 35:3434:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت والے جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ کہ ساری تعریفین اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم سے رنج کو دور کردیا یعنی وہ ایسے لوگ تھے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے تھے اور اپنے رب کی عبادت میں چھپے ہوئے اور اعلانیہ طور پر کوشش کیا کرتے تھے اور ان کے دلوں میں ان گناہوں کا رنج ہوگا جو گناہ ان سے پہلے ہوئے اور وہ ڈرتے ہوں گے کہ ان کی وجہ سے ان کی یہ عبادت (شاید) قبول نہ کی جائے ان گناہوں کی وجہ سے جو گزر چکے۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یوں کہیں گے) (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور “ یعنی ہماری مغفرت عظیم ہے۔ اور ہمارے اعمال کی طرف سے نعمتوں پر جو شکر ہوا وہ تھوڑا ہے۔
35:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے، ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ حزن سے مراد جہنم کا غم ہے۔
36:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذی اذھب عنا الحزن “ یعنی جو وہ عمل کیا کرتے تھے اس کا غم مراد ہے۔
اہل جنت کے کلمات حمد :
37:۔ حاکم وابو نعیم وابن مردویہ نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا کہ مہاجرین ہی آگے بڑھنے والے ہیں جو اعتماد کرنے والے ہیں اپنے رب پر اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ بلاشبہ یہ لوگ قیامت کے دن آئیں گے اپنے کندھوں پر ہتھیار اٹھائے ہوئے اور وہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے جنت کا داروغہ ان سے پوچھے گا تم کون ہو ؟ تو وہ کہیں گے ہم مہاجرین ہیں تو داروغے ان سے کہیں گے کیا تم سے حساب لیا گیا ؟ (یہ سن کر) وہ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب کیا اس کے ساتھ تمہارا حساب کیا جائے گا حالانکہ ہم نکل گئے اور ہم نے اپنے اہل کو مال کو اور اولاد کو چھوڑ دیاتو اللہ تعالیٰ ان کے سونے کے پر بنا دیں گے جو زبر جد اور یاقوت سے مرصع کئے ہوئے ہوں گے پھر یہ لوگ اڑیں گے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مقصد ہے (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ سے لے کر ولا یمسنا فیھا لغوب “ (اور ہم کو اس میں سے کوئی خستگی نہ پہنچے گی) (پھر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ان کے مکانات دنیا میں ان کے مکانات سے زیادہ نمایاں ہوں گے۔
38:۔ ابن المنذر نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ یعنی ان کا غم یہی غم ہوگا۔
39:۔ ابن المنذر نے شمرین بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ میں ” الحزن “ سے مراد بھوک ہے۔
40:۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ (کہ ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے رنج کو دور کردیا) سے مراد ہے کہ دنیا میں روٹی کی طلب ہے (لیکن اب) ہم اس کا اہتمام نہیں کرتے جتنا اہتمام دنیا میں صبح شام کے کھانے کا کرتے تھے۔
41:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ اس شخص کے لئے جو غمگین رہتا ہے اس کو چاہئے کہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ (شاید) وہ جنت والوں میں سے خارج نہ ہو کیونکہ جنتیوں کا یہ قول ہے (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ (یہ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا) اور اس شخص کو چاہئے جو ڈرنے والا ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ شایدوہ جنت والوں سے خارج نہ ہو کیونکہ وہ کہیں گے (آیت) ” قالوا اناکنا قبل فی اھلنا مشفقین “ (الطور آیت 26) (وہ کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے اہل و عیال میں ڈرتے رہتے ہیں )
42:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں شمربن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “ سے مراد ہے کھانے میں (ہم سے دور کردیا ہے) (آیت) ” ان ربنا لغفور شکور “ (بلاشبہ ہمارا رب البتہ بخشنے والا ہے، اور قدر دانی کرنے والا ہے) فرمایا کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا گیا جو انہوں نے عمل کئے تھے اور ان کی نیکیاں قبول کرلیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کی تھی انہوں نے ان پر عمل کیا اور ان پر ان کو بدلہ عطا فرمایا۔
43:۔ ابن ابی حاتم نے ابورافع (رح) سے روایت کیا کہ ہر ایک بندہ قیامت کے دن تین رجسڑوں کے ساتھ آئے، ایک رجسٹر میں نعمتوں کا ذکر ہوگا اور دوسرے رجسٹر میں اس کے گناہوں کا ذکر ہوگا اور تیسرے رجسٹر میں اس کی نیکیوں کا ذکر ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس بندے پر جو سب سے چھوٹی نعمت کی ہوگی اسے کہا جائے گا کہ کھڑی ہوجا اور اس کی نیکیوں میں سے اپنا پورا حصہ لے لے، وہ کھڑی ہوگی اور اس کی ساری نیکیوں کو وہ نعمت طلب کرلے گی (یعنی ساری نیکیاں لے لی) اور اس پر کی جانے والی باقی نعمتیں اور اس کے سارے گناہ باقی رہیں گے پھر وہ بندہ کہے گا جب اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا (وہ کہے گا) (آیت) ” ان ربنا لغفور شکور “ کہ بلاشبہ ہمارا رب البتہ بخشنے والا اور قدر دانی کرنے والا ہے۔
44:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ربنا لغفور شکور “ کہ بلاشبہ ہمارا رب البتہ بخشنے والا اور قدر دانی کرنے والا ہے) یعنی بخشنے والے ہیں ان کے گناہوں کو ” شکور “ قدر دانی کرنے والے ہیں ان کی نیکیوں کی (آیت) ” الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ “ (کہ انہوں نے ہم کو اپنے فضل سے قیام کرنے کے گھر میں اتار دیا یعنی پھر وہ جنت میں مقیم ہوں گے نہ وہ خود وہاں سے نکلیں گے اور نہ ان کو نکالا جائے گا (آیت) ” لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب “ (جہاں ہم کو نہ کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ مشکل پہنچے گی) فرمایا دنیا میں یہ قوم اللہ کی اطاعت میں کوشش کرتے تھے اور یہ وہ قوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تھوڑے وقت کے لئے مشقت میں ڈالا پھر ان کو زیادہ وقت کیلئے راحت دی تو ان کے لئے مبارک بادی ہو۔
Ayahs 35:35–3645:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے بعث میں عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ نیند ان چیزوں میں سے ہے کہ جس کے اللہ تعالیٰ دنیا میں ہم کو راحت عطا فرماتا ہے، کیا جنت میں نیند ہوگی ؟ فرمایا نہیں کیونکہ نیند موت کی ساتھی ہے اور جنت میں موت نہیں ہوگی، عرض کیا یارسول اللہ پھر ان کی راحت کیسے ہوگی ؟ تو اس سوال کو نبی کریم ﷺ نے ناگوار جانا اور فرمایا کہ اس میں کوئی تھکان نہیں ہوگی اس کے ہر کام میں راحت ہوگی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب “ (جہاں ہم کو نہ کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ خستگی)
46:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یمسنا فیھا نصب “ میں نصب سے مراد ہے درد۔
47:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لغوب “ سے مراد ہے تھکان۔
Ayahs 35:37–381:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم یصطرخون فیھا “ (اور وہ دوزخ کے اندر چیخیں گے) یعنی وہ اس میں مدد طلب کریں گے۔
2:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ، حاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ (کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلیتا) اس سے ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔
3:۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں بیہقی نے اپنی سنن میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو کہا جائے گا ساٹھ سال والے کہاں ہیں ؟ یہی وہ عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔
4:۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری والنسائی اور البزار وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کا عذر قبول کرلے گا جس کی عمر کو اس نے مؤخر کردیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کو پہنچ گیا۔
5:۔ عبد بن حمید والطبرانی والرویانی نے الامثال میں والحاکم وابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ ساٹھ سال کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں عذر قبول فرما لیتا ہے۔
6:۔ ابن جریر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ وہ عمر جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے وہ ساٹھ سال ہے۔
ساٹھ سال کی عمر نیکی میں گذارنے کی فضیلت :
7:۔ الرامہرمزی نے الامثال میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال کی عمر دی تو اس کی عمر میں اللہ تعالیٰ عذر قبول فرما لیتا ہے وہ اس آیت (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ سے یہی مراد ہے۔
8:۔ الترمذی وابن المنذر والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی عمریں ساٹھ سال کے درمیان ہیں اور بہت ہی کم ہوں گے جو اس سے تجاوز کریں گے۔
9:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عمر ساٹھ سال ہے۔
10:۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ سے چھالیس سال کی عمر ہے۔
11:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولم نعمر ما یتذکر فیہ من تذکر “۔ سے مراد چالیس سال کی عمر ہے۔
12:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم جان لو کہ لمبی عمر حجت ہے تو ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم کو لمبی عمر کی وجہ سے عار دلائی جائے پھر فرمایا کہ (یہ آیت) نازل ہوئی، تو ان میں اٹھارہ سال والے بھی تھے (آیت) ” وجآء کم النذیر “ سے مراد ہے کہ اس کے خلاف دلیل قائم کی گئی عمر اور رسول کے ذریعے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء کم النذیر “ (کہ آئے تمہارے پاس ڈرانے والے) یعنی محمد ﷺ ۔
14:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء کم النذیر “ محمد ﷺ مراد ہیں اور (یہ آیت) بھی پڑھی (آیت) ” ھذا نذیر من النذر الاولی “ (النجم آیت 56) یعنی یہ ڈرانے والا ہے پہلے ڈرانے والوں میں سے ہے ) ۔
15:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء کم النذیر “ سے مراد ہے بڑھایا۔
16:۔ ابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء کم النذیر “ سے مرادبڑھایا ہے۔
Ayahs 35:39–401:۔ عبد بن حمید وابن جریر جو ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ (وہی ذات ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا) یعنی امت کے بعد ایک امت بنایا۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعلکم خلئف فی الارض “ سے مراد ہے کہ امت کے بعد ایک امت بنایا اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم بنایا (آیت) ” ارونی ما ذا خلقوا من الارض “ (مجھے بتاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا) یعنی کوئی چیز (پیدا نہیں کی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میں سے پیدا فرمایا (آیت) ” ام لھم شرک فی السموت “ (کیا آسمانوں میں ان کی کوئی شراکت ہے) نہیں اللہ کی قسم ان کے لئے ان دونوں میں کوئی شراکت نہیں۔ (آیت) ” ام اتینہم کتبا فھم علی بینۃ منہ “ (کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی کہ وہ اس میں سے ایک دلیل پر ہے یعنی کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی کہ وہ ان کو حکم کرتی ہے کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں۔
Ayah 35:411:۔ ابویعلی وابن جریر ابن ابی حاتم دارقطنی نے الافراد میں وابن مردویہ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں اور الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ اللہ عزوجل نیند کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تین دن تک جگائے رکھا اور ان کو دو شیشے کی بوتلیں دیں ہر ہاتھ میں بوتل تھی کہ ان کو حکم دیا کہ ان کی حفاظت کریں انہوں نے نیند کرنا شروع کردی اور آپ کے ہاتھ آپس میں ملنے لگے پھر وہ جاگتے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دور کرتے یہاں تک کہ وہ سو گئے ان کے آپس میں ٹکرانے سے دونوں بوتلیں ٹوٹ گئیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ مثال بیان فرمائی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اگر سو جاتے تو یہ آسمان باقی بچتے اور نہ زمین۔
اللہ تعالیٰ نیند اور اونگ سے پاک ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے خرشہ بن حر ؓ سے روایت کیا کہ عبید اللہ بن سلام ؓ نے مجھے بیان کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے جبرئیل (علیہ السلام) کیا تیرا رب نیند کرتا ہے جبرئیل نے فرمایا اے میرے رب کہ تیرا بندہ موسیٰ (علیہ السلام) آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ نیند فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل اس سے کہو کہ اپنے ہاتھ میں شیشے کی دو بوتلیں لے لو اور ایک پہاڑ پر رات کے شروع سے لے کر صبح تک کھڑے رہو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور دو بوتلیں پکڑ لیں جب رات کا آخری حصہ تھا تو آپ کو نیند آگئی دو بوتلیں گر کر ٹوٹ گئیں اور کہا اے جبرئیل دونوں بوتلیں ٹوٹ گئیں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل میرے بندے سے کہو اگر میں سو جاؤں تو آسمان اور زمین اپنی جگہ پر باقی نہ رہتے۔
3:۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرشتوں سے پوشیدہ باتیں کیں اور (ان سے پوچھا) کیا اللہ رب العزت نیند فرماتے ہیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) چار دن اور راتیں جاگتے رہے پھر منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور ان کو دو بوتلیں دی گئیں کہ ان کے ہر ہاتھ میں ایک بوتل تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ کو بھیج دیا اور وہ خطبہ دے رہے تھے اچانک ان کا ایک ہاتھ دوسرے کے قریب ہوگیا اور وہ ایک بوتل کو دوسری پر مارنے لگے پھر گھبرا گئے اور فرمایا (آیت) ” اللہ ہو لا الہ الا ہو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ اور قائم ہے اس کو کوئی نیند یا اونگھ نہیں آتی۔
عکرمہ نے فرمایا اونگھ وہ ہوتی ہے جس سے آدمی بیٹھنے کی حالت میں اپنے سر کو مارے اور وہ ہے کہ جس سے آدمی سو جائے۔
4:۔ ابوشیخ نے العظمہ میں اور بیہقی نے سعید بن ابی بردہ ؓ سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے پوچھا کہ آپ کا رب نیند کرتا ہے ؟ فرمایا اللہ سے ڈرو مگر تم ایمان والے ہو (یعنی ایسے سوال نہ کرو) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے آسمان اور زمین کو تھام رکھا ہے اور ایسا نہ ہو کہ وہ گرجائیں اگر میں سوجاؤں تو دونوں گرجائیں۔ بہیقی (رح) نے فرمایا کہ یہ اس بات کا مشابہ ہے کہ وہ (گرنے سے) محفوظ ہو۔
5:۔ طبرانی نے کتاب السنۃ میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کیا ہمارے رب نیند کرتے ہیں۔
6:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب تو کسی ہیبت والے بادشاہ کے پاس آئے اور تجھے خوف ہو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا تو یوں دعا کر۔
اللہ اکبر اللہ اعزین خلقہ جمیعا اللہ اعزقما اخاف واحزر اعوذ باللہ الذی لا الہ الا ھو الممسک السموات السبع ان یقص علی الارض الا باذنہ من شر عبدک فلان و جنودہ واتباعہ واشیاعہ من الجن والانس اللہم کن لی جارا من خیرھم جل ثناؤک وعزجاوک و تبارک اسمک ولا الہ غیرک (ثلاث مرات)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ عزت والے ہیں اللہ تعالیٰ زیادہ عزت والے ہیں ان چیزوں سے کہ جن سے خوف کیا جائے یا بچا جائے میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ جن کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی روکنے والا ہے ساتویں آسمانوں کو ایسا نہ ہو کہ وہ زمین پر گرپڑے مگر اس کی اجازت سے (اور میں پناہ مانگتا ہوں) تیرے فلاں بندے کے شر سے اور اس کے لشکروں سے اور اس کے تابعداروں سے اور اس کی جماعتوں سے جنات اور انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ مجھے اس کے شر سے پناہ دینے والا بنا دے تیری ثناء عظیم ہے جس کے تیری پناہ لی، وہ عزت والا ہو اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں (یہ تین مرتبہ پڑھئے)
(آیت) ” ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا “
7:۔ ابن السنی نے عمل یوم ولیلہ میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور اپنے بستر کی طرف آتا ہے تو اس کا فرشتہ اور اس کا شیطان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں شیطان اس سے کہتا ہے کہ تیرا اختتام شر پر ہو اور فرشتہ کہتا ہے تیرا اختتام بھلائی پر ہو۔ اگر وہ اللہ وحدہ کا ذکر کرتا ہے تو فرشتے شیطان کو بھگا دیتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جو اپنی نیند سے جاگتا ہے تو اس کا فرشتہ اور اس کا شیطان ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں شیطان اس سے کہتا ہے کہ بڑائی کے ساتھ آنکھ کھولو اور فرشتہ کہتا ہے کہ بھلائی کے ساتھ آنکھ کھول اگر وہ آدمی (یہ دعا) کرتا ہے۔
الحمد للہ الذی رد الی نفسی بعد موتھا ولم یم تھا فی منامھا :
(ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری طرف میری جان کو لوٹا دیا اس کی موت کے بعد اور مجھے اس کی نیند میں موت نہیں دی)
(آیت) ” الحمدللہ یمسک السموت والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا “ (سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین کو روکا ہوا ہے ایسا نہ ہو کہ گرجائیں اگر وہ گرگئے تو کوئی بھی ان کے بعد نہیں روک سکتا، بلاشبہ وہ بردبار اور بخشنے والے ہیں۔ اور کہا (آیت) ” ان اللہ یمسک السماء ان نفع علی الارض الا باذنہ ان اللہ بالناس لروف رحیم “ (اور فرمایا کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان کو روکا ہوا ہے ایسا نہ ہو کہ وہ زمین پر گرپڑے مگر اس کے حکم سے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر مہربانی کرنے والا اور رحم کرنے والے ہیں پھر فرمایا اگر وہ اپنے بستر سے نکلے اور مرجائے تو شہید ہوگا اور اگر وہ کھڑا ہو اور نماز پڑھنے لگا تو اس پر رحمت کی جائے گی۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابومالک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین ایک مچھلی پر قائم ہے اور ایک زنجیر مچھلی کے کان پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اسی کو فرمایا (آیت) ” ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا “ یعنی ایسانہ ہو کہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو اپنی جگہ سے ہلنے سے روکے ہوئے ہے۔
9:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ کعب ؓ کہا کرتے تھے کہ آسمان کلی پر اس طرح گردش کرتا ہے جیسے چکی کلی پر گھومتی ہے حنفیہ بن یمان نے فرمایا کہ کعب ؓ نے جھوٹ بولا (آیت) ” ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا “
10:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے شقیق (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ سے کہا گیا کہ کعب یوں فرماتے ہیں کہ آسمان میخ کے اسی طرح گھومتا ہے جس طرح چکی میخ کے گرد گھومتی ہے ایسے ستوں میں جو فرشتے کے کندھے پر ہے تو انہوں نے فرمایا کہ کعب نے جھوٹ بولا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (آیت) ” ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا “ یعنی اس کی اپنی جگہ سے ہلنے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ گردش کرے۔
Ayah 35:421:۔ ابن ابی حاتم نے ابو ہلال (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ قریش کہا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان نبی بھیج دیں امتوں میں سے کوئی امت ایسی نہیں ہوگی جو زیادہ اطاعت کرنے والی ہو اپنے خالق کے لئے اور اپنے نبی کی بات کو سننے والی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے والی نہ ہوگی (یعنی کتاب پر عمل کرنے والی نہیں ہوگی) تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ (آیت) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (الصافات آیت آیت 168) (اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کوئی کتاب ہوتی) (آیت) ” ولو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منہم “ (الانعام آیت 157) (اور اگر ہمارے اوپر کوئی کتاب اتاری جاتی ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے اور فرمایا (آیت) ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم “ اور انہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے گا تو وہ ہر امت سے زیادہ قبول کرنے والے ہوں گے اور یہودی بھی انصار پر فتح کو طلب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم نے ایک نبی کو پایا ہے۔ جو آنے والا ہے (تو ہم اس پر ایمان لا کر تم سے لڑیں گے اور تمہیں ختم کردیں گے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما جآء ھم نذیر “ (جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” مازادھم الا نفورا “ (42) ۔ استکبارا فی الارض ومکرالسیئی “ (تو ان کے آنے سے پس ان میں نفرت ہی ترقی کرتی گئی دنیا اپنے کو برا سمجھنے کی وجہ سے اور بری تدبیر کی وجہ سے اور شرک تھا (آیت) ” ولا یحیق المکر السیئی الا باھلہ “ (اور بری تدبیروں کا وبال تدبیر والوں پر پڑتا ہے) یعنی شرک کا وبال (آیت) ” فھل ینظرون الا سنت الاولین “ (کیا یہ لوگ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے کافروں کے ساتھ ہوتا رہا یعنی پہلے کافروں کے سزا کے منتظر۔
3:۔ ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت) ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم “ یعنی قریش نے پکی قسمیں کھائیں (آیت) ” لیکونن اھدی من احدی الامم “ (یہ کہ وہ ضرور ضرور آیات ہدایت والے ہوں گے دوسری امتوں میں سے) یعنی اہل کتاب میں (آیت) ” ومکرالسئیی “ سے مراد شرک۔
4:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ تین کام ایسے ہیں جو ان کو کرلے وہ نجات پائے گا یہاں تک کہ وہ انہیں کے ساتھ اترے گا ” مکر “ (یعنی شرک، بری تدبیر) اور ” بغی “ (سرکشی اور بغاوت) ” نکث “ وعدہ کو توڑنا پھر یہ (آیت) ” ولا یحیق المکر السیئی الا باھلہ “ (فاطر آیت 43) اور تیری تدبیروں کا وبال تدبیر کرنے والوں پر بھی پڑتا ہے، اور فرمایا (آیت) ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ (یونس آیت 23) (اے لوگوں ! تمہاری بغاوت تمہارے اپنے بڑھ جائے گی (اور فرمایا) (آیت) ” فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ “ (الفتح آیت 10) (اور جس نے عہد کو توڑ دیا تو وہ توڑے گا اپنی جان یعنی اس کے توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان کے طریق سے ابو زکریا کوفی (رح) سے روایت کیا اور وہ ایک آدمی سے روایت کیا اور وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بری تدبیروں سے بچو کیونکہ فرمایا (آیت) ” ولا یحیق المکر السیئی الا باھلہ “ (اور بری تدبیروں کا وبال تدبیر کرنیوالوں پر بھی پڑتا ہے اور ان کا طلب کرنے والا ہے اللہ کی جانب سے۔
Ayahs 35:43–446:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھل ینظرون الا سنت الاولین “ سے مراد ہے کیا یہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کو ایسا عذاب دیا جائے گا جیسے پہلے لوگوں یعنی کافروں کو عذاب پہنچا۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان اللہ لیعجزہ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کم نہیں پائے گی۔
Ayah 35:45وقولہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس :
8:۔ الفریابی وابن المنذر والطبرانی والحاکم (نے اس کو صحیح کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو گوہ کا کیڑا البتہ عذاب دیا جاتا جاتا اپنے سوراخ میں انسان کے گناہ کی وجہ سے پھر (یہ آیت) پڑھی ” ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبۃ “ (اور اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی فوری گرفت ان کے اعمال پر کرتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا) واللہ اعلم۔
الحمد اللہ سورة فاطر مکمل ہوئی :