Ayah 32:271۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الجرز کیا انہوں نہیں نہیں دیکھا کہ ہم سوکھی زمین کی طرف پانی کو چلاتے ہیں آیت الجرز سے وہ زمین مراد ہے کہ جس پر ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو ان کو سیلابوں کے علاوہ کوئی چیز نفع نہیں دیتی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے یمن کی سرزمین۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے یمن کی سرزمین۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت الی الارض الجرز کے بارے میں روایت کیا کہ وہ زمین جو کچھ نہیں اگاتی یہاں اور اس جیسے دوسرے علاقے ہوسکتے ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے بنجر زمین۔
5۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد ہے مردہ زمین۔
6۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری سے روایت کیا کہ آیت الی الارض الجرز سے مراد وہ بستیاں ہیں جو یمن اور شام کے درمیان ہیں۔
7۔ ابوبکر وابن حیان نے کتاب الغرر میں ربیع بن سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ مثالیں معانی کو عقول سے زیادہ قریب کرنے والی ہیں۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا۔ آیت اولم یروا ان انسوق الماء الی الارض الجرز کیا انہوں نے دیکھا کہ ہم چلاتے ہیں پانی کو بنجر زمین کی طرف اس میں آیت اولم یروا انا نسوق الماء کا مطلب ایک ہی ہے۔
Ayahs 32:28–301۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمارے لیے ایک دن ایسا آئے گا کہ عنقریب ہم اس میں آرام پائیں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے تو مشرکوں نے کہا آیت متی ہذا الفتح ان کنتم صدقین یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو۔
2۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل ابن عباس ؓ آیت ویقولون متی ہذا لفتح ان کنتم صدقین کے بارے میں فرمایا یہ بدر کا دن ہے جس میں نبی ﷺ نے فتح مکہ آیت لا ینفع الذین کفرو ایمانہم یعنی کافروں کو ان کا ایمان نے کچھ نفع نہیں دیا موت کے بعد۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یوم الفتح سے مراد ہے قیامت کے دن۔
4۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یوم الفتح سے مراد ہے فیصلہ کا دن آیت وانتظر انہم منتظرون آپ بھی انتظار کیجیے اور ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں قیامت کے دن کا۔