Ayahs 31:14–19کفر و شرک میں ماں باپ کی اطاعت جائز نہیں
1۔ ابو یعلی الطبرانی وابن مردویہ ابن عساکر نے ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت وان جاہداک علی انتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ عبادت میں اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اتو ان کا کہنا نہ مان کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا جب میں اسلام لایا تو میری والدہ نے کہا اے سعدیہ کیا ہے جو میں تجھ کو دیکھتی ہوں کہ تو نے کیا اختیار کرلیا ہے ؟ تو ضرور اس کو چھوڑے دے ورنہ میں نہ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی یہاں تک کہ میں نہ مرجاؤں گی سو تو میری وجہ سے عاردلا یا جائے گا اور کہا جائے گا اے اپنی ماں کے قاتل میں نے کہا اے میرماں تو ایسا نہ کر میں اس زمین کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا وہ دن اور رات ٹھہری رہی اور کچھ نہیں کھایا دوسرے دن اور رات کو وہ ٹھہری رہیں کچھ نہ کھایا اور اس کا بھوک کو برداشت کرنا سخت ہوگیا جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کہا اے میری ماں تو جان لے اللہ کی قسم اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک کر کے نکل جائے تب بھی میں اس دین کو نہ چھوڑوں گا اگر تو چاہے تو کھالے اور اگر تو چاہے تو مت کھا۔ جب اس نے یہ دیکھا یہ دین چھوڑنے والا نہیں تو کھانا کھالیا اس پر یہ آتی نازل ہوئی۔
2۔ ابن عساکر نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ میرے بارے میں انفال کی چار آیتیں نازل ہوئی جو کہ آیت وصاحبہما فی الدنیا معروفا یعنی دنیا میں والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو یعنی وصیت اور شراب والی آیت۔
3۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت وان جاہداک علی ان تشرک بی سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی۔
4۔ ابن سعد نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میں تیر اندازی سے واپس آیا اچانک لوگ جمع ہورہے ہیں میری ماں حمنہ بنت سفیان بن امیہ بن عبد شمس اور میرے بھائی عامر کے پاس جب وہ اسلام لایا میں نے کہا لوگوں کا کیا حال کیوں جمع ہو رہے ہیں لوگوں نے کہا یہ تیری ماں ہے کہ اس نے تیرے بھائی عامر کو پکڑ رکھا ہے اس حال میں وہ اللہ کی قسم اٹھارہی ہے کہ وہ سایہ میں نہیں بیٹھے گی اور کھانا نہیں کھائے گی اور پانی نہیں پیے گی یہاں تک کہ وہ اس نئے دین کو چھوڑے دے گا حضرت سعد ماں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے ماں میری طرف متوجہ ہو میرے ساتھ وعدہ کر ماں نے پوچھا کیسا حضرت سعد نے کہا تو کسی سائے میں نہیں بیٹھے گی تو کھانا نہیں گھائے تو پان نہیں پیے گی یہاں تک کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گی تو اس نے کہا میں اپنے نیک بیٹے کے لیے قسم اٹھاؤں گی تو اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت وان جاہداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما وصاحبہما فی الدنیا معروف آیت کے آخرتک اور اگر دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں ماں باپ کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔
5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہنا علی وہن یعنی سختی کے بعد سختی اور ایک صورت کے بعد دوسری صورت۔
6۔ ابن ابی حاتم نے عطاء الخراسانی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہنا علی وہن سے مراد ہے کمزوری کے بعد کمزوری۔
7۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن ابی جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہنا علی وہن میں وہن سے مراد ہے مشقت اور وہ بچہ ہے۔
8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہ درحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وہنا علی وہن سے مراد ہے بچے کی کمزوری والدہ کی کمزوری پر ہے۔
9۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وصاحبہما فی الدنیا معروفا سے مراد ہے کہ جب وہ مریض ہوجائے تو ان کی عبادت کیا کرو جب وہ مرجائیں تو جنازہپ کے ساتھ چلا کرو۔ اور ان کی غمکساری کیا کرو ان چیزوں میں سے جو تجھ کو اللہ نے عطا کیا آیت وتبع سبیل من اناب الی اور اس کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو۔
10۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واتبع سبیل من اناب الی میں محمد ﷺ مراد ہیں ان کی راہ پر چلو۔
11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہا ان تک مثقال حبۃ من خردل بلاشبہ اگر رائی کے دانے کے وزن کے برابر خیر یا شر میں سے ہوگا آیت فتکن فی صخرۃ یعنی کسی پہاڑ میں۔
12۔ ابن مردیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین مچھلی پر ہے اور مچھلی سمندر پر ہے اور سمندر ایک سبز چٹان پر ہے اور پانی کی سرسبزی چٹان سے ہے اور چٹان بیل کے سینگ پر ہے اور وہ بیل گیلی زمین پر ہے۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ گیلی زمین کے نیچے کیا ہے مگر اللہ تعالیٰ اسی کو فرمایا آیت لہ ما فی السموت وما فی الارض وما بینہما وما تحت الثری (طہ آیت 6) پس ساری چیزیں جو آسمان اور جو زمین میں ہیں اور جو کچھ ان کے درمیان ہیں اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہیں وہ رحمن کی حرم میں ہیں جب قیامت کا دن ہوگا اس کی مخلوق میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آیت لمن الملک الیوم آج کس کی بادشاہی ہے تو زمین و آسمان میں جو چیزیں ہیں سب کانپ جائیں گے پھر اللہ خود ہی جواب دیں گے اور فرمائیں گے آیت للہ الواحد القہار یعنی آج اس اللہ کی بادشاہی ہے جو اکیلا قہار ہے۔
13۔ الفریابی وابن جریر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آتی یات بہا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔
14۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ٓیت ان اللہ لطیف خبیر یعنی اللہ تعالیٰ باریک بین ہیں اس خردلہ کو نکالنے میں۔
اچھی باتوں کا حکم اور میری باتوں سے روکنا
15۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وامر بالمعروف یعنی حکم دے توحید کے ساتھ آیت وانہ عن المنکر اور منع کر شرک سے آیت واصبر علی ما اصابک یعنی صبر کر جو تجھ کو تکلیف پہنچے ان کے کاموں میں اور فرماتے ہیں یعنی جب تجھے نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے اور اس بارے میں تجھے تکلیف پہنچے۔ تو اس پر صبر کر آیت ان ذلک یعنی یہ صبر کرنا ہے نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے والے آیت من عزم الامور بیشک صبر کرنا ان کاموں میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے قطعی حکم دیا ہے۔
17۔ ابن ابی شیبہ واحمد والزہد وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی تالی التلخیص ابو جعفر خطمی (رح) روایت کیا کہ ان کے دادا عمیر بن حسیب (رح) وہ صحابی تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی اے میرے بیٹے بویوقوفوں کی مجلس سے بچ کیونکہ ان کی مجلس بیماری ہیں کیونکہ جو حکم کرتا ہے کسی بیوقوف سے تو وہ اسی حکم پر خوش ہوتا ہے اور جو بیوقوف سے محبت کرتا ہے وہ نادم ہوتا ہے بیوقوف جو کام کرتا ہے جو آدمی اس کے قلیل کا اقرار نہیں کرتا اسے کثیر کا اقرار کرنا پڑتا ہے جو ناپسندیدہ چیز پر صبر کرتا ہے وہ پسندیدہ چیز پالیتا ہے جب تم میں سے کوئی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے رواکنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے آپ کو تکلیف سے صبر کرنے پر آمادہ کرلے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے تو وہ عذاب کے چھونے سے بھی نہ پائے گا۔
18۔ الطبرانی وابن عدی وابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا تصعر خدک للناس کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اپنی باچھوں کو نہ مروڑ (یعنی لوگوں نے اپنا رخ نہ موڑا) ۔
19۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا تصعر خدک للناس سے مراد ہے کہ تکبر نہ کر کہ تو اللہ کے بندوں کو حقیر جانو اور ان کی طرف منہ کر جب وہ تجھ سے بات کریں
20۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا تصعر خدک للناس سے مراد وہ شخص کہ جب اس کو سلام کیا جائے تو اپنی گردن کو موڑ لے تکبر کرنے والے کی طرح۔
21۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آتی ولاتصعر خدک للناس سے مراد ہے کہ لوگوں سے اپنا منہ دوسری طرف کرلینا۔
22۔۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تصعر خدک للناس سے مراد ہے کہ اپنے چہرے کو فقراء سے نہ پھیرے تکبر کرتے ہوئے۔
23۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی شعب الایمان ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آتی ولا تصعر خدک للناس سے مراد ہے چاہیے کہ فقیر اور مالدار تیرے نزدیک علم میں برابر ہوں کیونکہ نبی ﷺ کو عتاب کیا گیا۔
24۔ ابن جریر ابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقصد فی مشیک سے مراد تواضع اختیار کر۔
25۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے یزید بن ابی حسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت واقصد فی مشیک سے مراد ہے جلدی۔
26۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واقصد فی مشیک یعنی تکبر نہ کر واغضض من صوتک یعنی اپنی آواز کو پست کر کیونکہ آیت ان انکر الاصوات یعنی بہت بری آوازیں آیت لصوت الحمیر۔
27۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واقصد فی مشیک یعنی تکبر سے منع فرمایا آیت واغضض من صوتک یعنی ایسی آواز میں میانہ روی کا حکم فرمایا آیت ان انکر الاصوات یعنی سب سے بری آواز آیت لصوت الحمیر گدھے کی آواز میں یعنی اس کا آغاز زمیر سے ہوتا ہے اور اس کا آخر شہیق ہے۔
28۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان انکر الاصوات لصوت الحمیر سے مراد ہے کہ یہ کانوں پر بہت زیادہ پسندیدہ ہے۔
29۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز کی آواز اللہ کی تسبیح کرتی ہے سوائے گدھے کی۔
30۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ اگر آواز کے بلند کرنے میں کوئی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ گدھے کی آواز کو بلند نہ فرماتے۔
Ayahs 31:20–26ظاہری اور باطنی نعمتیں
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ظاہر کی نعمت اسلام ہے اور اس نے جو تیری صورت کو خوبصورت بناای اور اس نے تجھ پر اپنا رزق نازل فرمایا اور باطنی نعمتوں سے مراد یہ ہے کہ جو اس نے تیرے برے اعمال پر پردہ ڈال دیا اے ابن عباس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تین چیزیں میں نے مومن کے لیے بنائی ہیں اس کے بعد مومن اسی پر نماز پڑھتے ہیں اور میں نے اسکے مال کے ایک تہائی حصہ کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنایا اور اس کے برے اعمال کو چھپادیا کہ میں نے ان میں سے کسی چیز کے ساتھ اس کو رسوا نہیں کیا اور اگر میں اس کو ظاہر کردیتا تو اس کے گھر والے اور دوسرے اسے دور پھینک دیتے۔
3۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ میں ظاہری نعمت مراد ہے اسلام اور باطنی نعمت سے ہر چیز مراد ہے جو تم سے چھپادی گئیں گناہوں میں سے عیوب میں سے اور حسد میں سے۔
4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ پڑھی اور فرمایا یہ لا الہ الا اللہ ہے۔
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کو پڑھتے تھے آیت واسبغ علیکم نعمہ پڑھی اور فرمایا اگر یہ نعمت ہوتی تو یہ نعمت دوسری نعمت سے ادنی درجے کی ہوتی۔
6۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی فی شعب الایمان مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واسبغ علیکم نعمہ سے مراد ہے کہ زبان پر لا الہ الا اللہ ظاہری نعمت ہے اور دل میں لا الہ الا اللہ باطنی نعمت ہے۔
7۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت نعمہ ظاہرۃ سے مراد ہے اسلام اور باطن سے مراد ہے کہ اللہ تعالٰ نے جو گناہ چھپا رکھے ہیں۔
8۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت نعمہ ظاہرۃ سے مراد ہے اسلام اور باطن سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو گناہ چھپارکھے ہیں۔
8۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق ضحاک (رح) سے فرمایا کہ آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ میں ظاہرہ سے مراد ہے اسلام اور قرآن اور باطن سے مراد ہے جو عیوب میں سے چھپادیا گیا۔
Ayah 31:271۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود کے علماء نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں کہا اے محمد ﷺ آپ اپنے اس قول آیت لو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام کے بارے میں بتائیے آیا اس سے مراد ہم ہیں یا آپ کی قوم سب مراد ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں تو انہوں نے کہا تم اس میں تلاوت نہیں کرتے جو آپ کے پاس پیغام آیا ہے کہ ہم کو تورات عطا کی گئی اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے آپ نے فرمایا بلاشبہ اللہ کے علم میں جو ہے اس کے مقابلے میں تورات کا علم بہت تھوڑا ہے تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا آیت لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی ایک گھر میں جمع ہوئے اور انہوں نے نبی ﷺ کو بلابھیجا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئیں آپ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ سے رجم کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا مجھے سب سے بڑے عالم کے بارے میں بتاؤ کہ وہ کون ہے تو انہوں نے ابن صوریا الاعوار کی طرف اشارہ کیا آپ نے پوچھا کہ تو ان میں بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اسی طرح گمان کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تجھ کو اس عہد و پیمان کی قسم دیتا ہوں جو تم سے لیا گیا اور اس تورات کی قسم دیتا ہوں جو موسیٰ پر اتاری گئی تم لوگ تورات میں کیا پاتے ہو اس نے کہا اگر آپ مجھ قسم نہ دیتے جو آپ نے مجھے قسم دی ہے تو میں آپ کو نہ بتاتا میں اس میں رجم کو پات اہوں تو نبی ﷺ پر یہ آتی اتری آتی ارحمہم من الیوم ومن قلیلا کہ تم تھوڑا علم دئیے گئے۔ وہ لوگ اس گھر میں اکٹھے ہوئے اور ان کے سردار نے کہا اے یہود کی جامعت کہ تم کامیاب ہوسکتے ہو نبی ﷺ کے ذریعہ سے تو ان کو بلایا آپ ان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا اے محمد آپ نے ہم کو یہ خبر نہیں دی کہ آپ پر نازل ہوا آیت وکیف یحکمونک وعندہم التورۃ فیہا حکم اللہ پھر آپ نے ہم کو یہ خبر دی کہ آپ پر یہ حکم نازل ہوا آیت وما اعمالکم من العلم الا قریبا یہ مکتلف باتیں ہیں تو نبی ﷺ خاموش ہوگئے اور ان کو کچھ بھی جواب نہیں دیا تو نبی ﷺ پر یہ آیت ولوان مافی الارض من شجرۃ اقلام۔ نازل ہوئی اور ساری اللہ کی مخلوق کتاب اور یہ سمندر کہ اس میں اسی طرح کے سات سمندر مدد کریں اور یہ سارے کاتب مرجائیں اور یہ ساری قلمیں ٹوٹ جائیں اور یہ آٹھوں سمندر خشک ہوجائی اور اللہ کا کلام ایسے ہی رہے گا جیسے تھا کہ اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی لیکن تم تورات دئیے گئے کہ اس پر اللہ کا کچھ حکم موجود ہے یہ اللہ کے حکم میں تھوڑا ہے تو نبی ﷺ نے ان کو بلوایا اور ان پر یہ آیت پڑھی۔
کلام الٰہی بےانتہا ہے
3۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ فرماتے ہیں اور ایک آدمی نے کا ہ اے محمد ! تو گمان کرتا ہے کہ تو حکمت دیا گیا اور قرآن دیا گیا اور ہم تورات دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام اور اگر اس میں جتنے درخت ہیں سب قلم ہوجائیں ان کے پیچھے سے ہر بار سات سمندر مدد پہنچائیں یعنی سب قلم بن جائیں اللہ کی معلومات کے لیے تو قلم گھس کر ختم ہوجائیں اور وہ سیاہی ختم ہوجائے مگر اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اور اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس سے زیادہ ہے کہ جو تم علم میں سے دئیے گئے ہو وہ کثیر ہے تمہارے لیے تمہارے قول کے مطابق اور تھوڑا ہے میرے نزدیک۔
4۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اور آپ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیے میرے رب کے حکم سے ہے اور جو کچھ تم دئیے گئے ہو علم میں سے تھوڑا ہے تو اس پر انہوں نے کہا آپ گمان کرتے ہیں کہ ہم تھوڑا علم دئیے گئے حالانکہ ہم کو تورات دی گئی اور وہ حکمت ہے آیت یوتی الحکمۃ من یشاء ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیر کثیرا۔ اور جو شخص حکم دیا گیا تو وہ یقینی طور پر خیر کثیر دیا گیا تھا یہ آیت نازل ہوئی آیت ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام اور اگر زمین میں سے درخت قلمیں بن جائیں اور اللہ کی حکمت لکھیں تو قلم گھس جائے اور کلمات ختم نہ ہوں گے۔
5۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمۃ وابو نصر السجزی نے الابانہ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے کہا بلاشبہ وہ کلام ہے جو عنقریب ختم ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام یعنی اگر زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر کے ساتھ سات سمندر اور روشنائی بن جائیں تو قلمیں لکھتے لکھتے ٹوٹ جائیں گی اور سمندروں کا پانی ختم ہوجائے گا میرے رب کے عجائب ختم ہونے سے پہلے اور اس کی حکمت اور اس کے علم کے ختم ہونے سے پہلے۔
6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ حیی بن اخطب نے کہا اے محمد تو گمان کرتا ہے کہ تجھے حکمت دی گئی ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی بلاشبہ تو گمان کرتا ہے کہ ہم تھوڑا علم دئیے گئے ہیں یہ دونوں باتیں کیسے جمع ہوں گی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام اور جو سوۃ کہف میں نازل ہوا آیت قل لو کان البحر مداد لکلمت ربی اور جو سورة کہف میں نازل ہوئی قل لو کان البحر مداد لکلمت ربی (الکہف آیت 109)
7۔ عبدالرزاق وابو نصر السجزی نے الابانہ میں ابوالجوزاء (رح) آیت ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام کے بارے میں روایت کیا کہ اگر یہ درخت زمین میں قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائیں تو اللہ کے کلمات لکھتے لکھتے پانی ختم ہوجائے اور قلمیں ٹوٹ جائیں میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے۔
8۔ الحاکم وصححہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت یمدہ من بعدہ رفع کے ساتھ۔
Ayahs 31:28–331۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت ویولج النہار فی الیل بعد داخل کرتے ہیں اور دن کو رات میں اور دن میں کم ہونا رات میں زیادہ ہوتا ہے۔ آتی کل یجری الی اجل مسمی ہر ایک چلتا ہے ایک وقت مقرررہ تک اسی وجہ سے یہ ایک کے لیے ایک وقت مقرر فرمایا نہ اس سے زیادہ ہوتا ہے نہ کم فرمایا یہ اور نہ کم ہوتا اور فرمایا آتی ان فی ذلک لا یت لکل صبار شکور بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لیے آیت فرمایا اللہ کے بندوں میں سے سب سے زیادہ محبوب اس کی طرف صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا ہے جب وہ کوئی نعمت دیا گیا تو اس نے شکر کیا اور جب کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو اس نے صبر کیا اور فرمایا آیت واذا غشیہم موج کا لظلل اور جب ان کو ڈھانپ لیتی مانند سائبان کے یعنی بادل کی طرح آیت ومایجحد باٰیتنا الا کل ختار کفور نہیں انکار کرتا ہماری آیات سے بدعہدی مگر ہر بد اور ناشکرا۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمنہم مقتصد بعض ان میں اعتدال پر ہوتے ہیں اور ایک قول میں اس سے مراد کافر ہے آیت وما یجحد باٰیتنا الا کل ختار کفور۔ یعنی ہر بد عہدی کرنے والا یعنی ظاہر۔
4۔ ابن جریر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ختار سے مراد ہے بہت انکار کرنے والا۔
5۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت کل ختار کفور کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سے مراد ہے کہ دھوکے باز اور بہت ظلم کرنے والا آیت الکفور سے مراد ہے جو نعمت چھپاتا ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو پہچانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے ایک شاعر کا قول نہیں سنا جو کہتا ہے۔
لقت علمت واستیفنت ذات نفسہا بان لاتخاف الدہر ولا ختری۔
ترجمہ : البتہ تحقیق اس نے جان لیا اور یقین کرلیا ایس ذات کے بارے میں کہ بلاشبہ زمانہ کو میرے انقطاع اور دھوکہ کا کوئی خوف نہیں
6۔ ابن ابی شیبہ وابن جریرنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ کل ختار سے وہ شخص مراد ہے جو ووعدہ توڑنے والا کفورا یعنی اپنے رب کے ساتھ ناشکر رہنے والا۔
7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولا یغرنکم باللہ الغرور اور اللہ کے متعلق تم کو کوئی فریب دینے والادھو کہ نہ دے پائے یعنی شیطان۔
8۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یغرنکم باللہ الغرور سے مراد ہے شیطان۔
9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یغرنکم باللہ الغرور سے مراد ہے شیطان۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یغرنکم باللہ الغرور سے مراد ہے کہ تم گناہ کا کام کرلے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھے۔
Ayah 31:341۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی دیہاتیوں میں سے آیا اور کہا میری بیوی حاملہ ہے مجھے بتائیے کیا وہ جنے گی۔ اور ہمارے شہر خشک ہو رہے ہیں مجھے بتائیے کب بارش نازل ہوگی اور میں نے جان لیا ہے کہ میں کب پیدا ہوا اب مجھے بتائیے کہ میں کب مروں گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔
2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جس کو وارث کہا جاتا وہ بنی مازن بن حفص بن قیص غیلان سے تعلق رکھتا تھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد قیامت کب قائم ہوگی ہمارے شہر خشک ہوچکے ہیں کب سرسبز ہوں گے اور اس نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا۔ وہ کب بچہ جنے گی اور میں نے جان لیا کہ میں نے آج کیا کیا ہے۔ اور میں کل کو کیا کام کروں گا اور میں نے جان لیا کہ میں کہاں پیدا ہوا اور کس جگہ مروں گا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
پانچ باتوں کا علم اللہ کے ساتھ خاص ہے
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ کے بارے میں فرمایا کہ پانچ چیزیں غیب میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ خاص کرلیا ہے ان پر کسی رشتے کو بھی مطلع نہیں فرمایا اور نہ کسی نبی مرسل کو آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔ بلاشبہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے لوگوں میں کوئی نہیں جانتا کہ کب قیامت قائم ہوگی کون سے سال میں اور کون سے مہینے میں رات میں یا دن آتی وینزل الغیث اور کوئی نہیں جانتا کہ کب بارش ہوگی رات میں یا دن میں آیت ویعلم مافی الارحام اور کوئی نہیں جانتا کہ رحموں میں کیا ہے۔ مذکر ہے یا مونث ہے سرخ ہے یا کا لا ہے۔ آیت وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گا اچھا یا برا آیت وما تدری نفس بای ارض تموت اور لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ زمین میں سے اس کی موت کی جگہ کہاں ہے خشکی میں یا ہموار میدان میں یا پہاڑ میں۔
4۔ الفریابی والبخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی چابیاں پانچ ہیں اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا اور قیامت کب قائم ہوگی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور رحموں میں کیا ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کب بارش ہوگی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین میں تو مرے گا۔
5۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ قیامت کب ہوگی آپ نے فرمایا جس سے سوال پوچھا گیا وہ سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے لیکن عنقریب میں اس کی نشانیوں کے بارے میں تم کو بتاؤں گا جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے اور جب ننگے پاؤں اور ننگے بدن لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے اور جب بڑی بڑی عمارتیں بکریاں چرانے والے بنانے لگیں تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے پانچ چیزیں ہیں غیب کی چیزوں میں سے اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا پھر یہ آیت تلاوت کی آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث آیت کے آخرتک۔
6۔ احمد والبزار وابن مردویہ والفریابی الضیاء صحیح سند کے ساتھ بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا پانچ چیزیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔
7۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
8۔ ابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس بدر کے دن حاضر ہوا اس کی اونٹنی دس ماہ کی گابھن تھی۔ اس نے کہا اے محمد میری اونٹنی کے پیٹ میں کیا ہے انصار میں سے ایک آدمی نے اس سے کہا اس کو چھوڑ دو میں تجھ کو بتاتا ہوں تو نے اس اونٹنی کے ساتھ برائی کی ہے۔ اس کے پیٹ میں تیرا نطفہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اعراض فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہر حیادار، کریم اور بات چھپانے والے کو پسند فرماتے ہیں اور رنجش کرنے والے کو ناپسند فرماتے ہیں پھر اس دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا پانچ چیزیں ہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ کے آیت کے آخر تک۔
9۔ ابن مردویہ نے سلمان بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سرخ قبا میں تھے کہ اچانک ایک آدمی گھوڑی پر سوار ہو کر آیا اور کہا آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پوچھا قیامت کب ہوگی آپ نے فرمایا کہ غیب کی بات ہے غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتے پھر اس نے پوچھا میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے آپ نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے اللہ کے سوا غیب کی بات کو کوئی نہیں جانتا۔
10۔ احمد والطبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھ میں ہر چیز کی چابیاں دی گئیں مگر پانچ چیزوں کی نہیں دی گئیں اور یہ آیت پڑھی آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔
11۔ احمد وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے نبی ﷺ کو پانچ چیزوں کے علاوہ ہر چیز کی چابیاں دی گئیں آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ پوری آتی۔
12۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے نبی ﷺ پر کوئی چیز مخفی نہیں کی مگر پانچ چیزیں غیب کے بھیدوں میں سے یہ آیت ہے جو سورة لقمان کے آخر میں ہے۔
13۔ سعید بن منصور واحمد والبخاری فی الادب ربعی بن حراش ؓ سے روایت کیا کہ مجھے بنی عامر میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ یارسول اللہ کیا علم میں سے کوئی چیز باقی ہے جس کا آپ کو علم نہ ہو تو آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے خیر کا علم عطا فرمایا ہے کہ اور علم میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے وہ پانچ ہیں آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔
14۔ ابن ماجہ نے ربیع بنت معوذ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ میری شادی کے موقعہ پر تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ہمارے درمیان ایسے نبی ہیں جو کل کی خبر رکھتے ہیں آپ نے فرمایا اس بات کو نہ کہو کل کیا ہوگا اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
15۔ الطیالسی احمد وابن ابی حاتم وابن مردویہ ولابیہقی فی الاسماء والصفات ابو غرہ الہذلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ کس بندے کی روح کسی علاقہ میں قبض کرنا چاہتے ہیں تو اس جگہ اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا فرمادیتے ہیں اور اسے موت نہیں آتی یہاں تک کہ وہ وہاں پہنچ جاتا ہے اور وہاں پہنچ جاتا ہے اور وہاں اس کو موت آجاتی ہے پھر رسول اللہ ﷺ یہ آیت وماتدری نفس بای ارض تموت کہ کوئی آدمی نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا۔
16۔ الترمذی وحسنہ وابن مردویہ نے مطر بن عکاس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے لیے کسی زمین میں موت دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا فرمادیتے ہی وہ وہاں جاتا ہے اور اس کو موت آجاتی ہے۔
اسلام کی بنیادی تعلیمان
17۔ احمد نے عامر یا ابو عامر ابومالک ؓ بھی موجود تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنی صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آپ کے پاس تشریف لائے آپ نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی سمجھا اس کو سلام کیا تو آپ نے سلام کو جواب دیا پھر اس نے ہاتھوں کو نبی ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیا اور آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے آپ کو جھکالے اور تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نبی ﷺ اس کے بدنے اور اس کے رسول ہیں اور تو قائم کر نماز کو اور ادا کر زکوٰۃ کو اس آدمی نے کہ اگر میں یہ کرلوں تو میں مسلمان ہوجاؤں گا۔ فرمایا ہاں پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے آپ نے فرمایا کہ تو ایمان لے آئے اللہ پر آخرت کے دن پر فرشتوں پر کتاب پر نبیوں پر موت اور موت کے بعد زندگی پر جنت جہنم حساب میزان اچھی اور بری تقدیر پر عرض کیا جب میں یہ کرلوں تو میں مومن ہوجاؤں گا آپ نے فرمایا ہاں پھر اس نے پوچھا احسان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کر جیسا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہی دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے اور اس آدمی نے کہا اگر میں یہ کرلوں تو میں احسان کرنے والا ہوجاؤں گا فرمایا ہاں اس نے پوچھا یارسول اللہ قیامت کب آئے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ، وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وماتدری نفس ماذا تکسب غدا۔ فرمایا بلاشبہ اللہ کے پاس قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہ جانتے ہیں جو کچھ رحموں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل کو کیا عمل کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کس زمین میں اس کو موت آئے گی بلاشبہ اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
الحمد للہ سورة لقمان ختم ہوئی۔