Ayahs 29:41–421۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین اتخذو من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشرک کے لیے بیان فرمائی اسے اس معبود اس کی کمزوری اور اجزاء کی قلت کی وجہ سے ذرا بھی فائدہ نہ دیں گے۔
مشرکین کا اپنے باطل معبود سے بہت کمزور تعلق ہے۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کے بارے میں روایت کیا کہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا اس شخص کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی مثال مکڑی کے گھر کی مثال کی طرح ہے۔
3۔ ابو داوء د نے اپنے مراسیل میں یزید بن مرشد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مکڑی شیطان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسخ کردیا ہے سو جو شخص اس کو پائے تو اس کو قتل کردے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے زید بن میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت العنکبوت سے مراد ہے شیطان۔
5۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ مکڑی نے دو مرتبہ جالا بنا۔ ایک مرتبہ داوٗ دعلیہ السلا پر اور دوسری مرتبہ نبی اکرم ﷺ پر
6۔ خطیب نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ غار میں داخل ہوئے مکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے دروازے پر جالا بن دیا سو تم اس کو قتل نہ کرو۔
Ayahs 29:43–441۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں کسی آیت سے نہیں گزر ا کہ میں نے اس کو نہ پہچانا ہو تو وہ مجھے رنج میں ڈال دیتی۔ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وتلک الامثال نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون کہ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور اس کو نہیں سمجھتے مگر عالم۔
Ayah 29:451۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں فرمایا کہ نماز روکنے والی ہے اور ڈانٹنے والی ہے اللہ کی نافرمانی سے۔
2۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے آیت انا الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں فرمایا کہ نماز میں تین باتیں ہیں اخلاص، خشیت اس کو برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کے ذکر سے مراد قرآن ہے جو اس کو نیک کاموں کا حکم کرتا ہے اور اس کو برے کاموں سے روکتا ہے۔
نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر، بلاشبہ نماز تجھ کو حکم کرتی ہے نیکی کا اور روکتی ہے بےحیائی اور برائی کے کاموں سے۔
4۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جس کی نماز اسے بےحیائی اور برے کاموں سے نہ روکے تو اس کی نماز نہیں۔
5۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو نماز بےحیائی اور برائی کے کاموں سے نہ روکے تو اس نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اس کی دوری میں زیادتی ہوتی ہے۔
6۔ عبد بن حمید وابن جریر والبیہقی فی شعب الایمان حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اس کی نماز بےحیائی اور برے کاموں سے نہ روکے تو اس کی نماز نہیں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ نماز اللہ تعالیٰ سے دوری کو زیادہ کرتی ہے۔
7۔ الخطیب فی رواۃ المالک میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نماز پڑھی اور اس کی نماز نے اس کو نیکی کا حکم نہ کیا اور برائی سے نہ روکا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی دوری کو زیادہ کردیت ہے۔
8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں جو نماز کی اطاعت نہ کرے اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ وہ بےحیائی اور برے کاموں سے رک جائے۔
9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ فلاں آدمی لمبی نماز پڑھتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ نماز نفع نہیں دے گی مگر جو اس کی اطاعت کرے پھر یہ آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر پڑھی۔
10۔ سعید بن منصور واحمد نے الزہد میں وابن جریر وابن المنذر والبطرانی والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس کو نماز نیکی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے تو وہ نماز اللہ تعالیٰ سے دور کردیتی ہے۔
11۔ احمد وابن حسان والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کے فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے آپ نے فرمایا عنقریب اس کو یہ نماز اس کام سے روک دے گی جو تو کہتا ہے۔
نمازی بےحیا نہیں ہوتا
12۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اے آدم کے بیٹے بیشک نماز وہ ہے جو تجھے بےحیائی اور برے کاموں سے روک دے اگر تیری نماز نے تجھ کو بےحیائی اور برے کاموں سے نہ روکا تو گویا تو نے نماز نہیں پڑھی۔
13۔ ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے سند سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نماز پڑھی اور نماز نے اسکو نہیں روکا بےحیائی اور برے کاموں سے تو وہ اللہ تعالیٰ سے دور کرنے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتی۔
14۔ ابن جرری وابن ابی حاتم نے ابو عون انصاری (رح) سے آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو نماز میں ہے تو گویا تو نیکی میں ہے اور یقینی بات ہے کہ نماز تجھ کو بےحیائی اور برے کاموں سے روک دے گی اور تو اس نماز میں اللہ کے بڑے ذکر میں ہوتا ہے۔
15۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حماد بن ابو سلیمان (رح) سے آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں روایت کیا کہ جب تک تو نماز میں ہوتا ہے تو نماز تجھ کو بےحیائی سے اور برے کام سے روک دیتی ہے۔
16۔ ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر سے مراد ہے کہ وہ قرآن جو مساجد میں پڑھا جاتا ہے۔
17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں فرمایا اور اللہ کا یاد کرنا اپنے بندوں کو یہ بندوں کا اپنے رب کو یاد کرنے سے بڑا کام ہے۔
18۔ الفریابی سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی شعب الایمان عبداللہ بن ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے ابن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ اللہ کے ذکر سے مراد تسبیح ہے یعنی سبحان اللہ کہنا اور تہلیل ہے یعنی لا الہ الا اللہ کہنا اور تکبیر ہے یعنی اللہ اکبر کہنافرما ای نہیں اللہ تعالیٰ خاص کر تم کو یاد کرتا یہ زیادہ بڑا ہے تمہارے خاص طور پر اس کو یاد کرنے سے پھر یہ آیت پڑھی آیت فاذکروانی اذکرکم یعنی تم مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا۔
19۔ ابن ابی شیبہ وعبد اللہ بن احمد بن حنبل فی الزوائد الزہد وابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کا یاد کرنا اپنے بندے کو یہ بڑا عمل ہے بہ نسبت بندے کا یاد کرنا اللہ کو۔
20۔ ابن السنی وابن مردویہ والدیلمی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولذکر اللہ اکبر سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت فاذکرونی اذکرکم کہ تم مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا تو اللہ تعالیٰ کا خاص طور پر تم کو یاد کرنا بڑا عمل ہے تمہارے خاص طور پر اس کو یاد کرنے سے۔
اللہ کا ذکر بڑا عمل ہے
22۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولذکر اللہ اکبر یعنی اللہ تعالیٰ کا یاد کرنا اپنے بندے کو بڑا عمل ہے بندے کا اپنے رب کو یاد کرنے سے نماز میں اور اس کے علاوہ دوسری عبادت میں
23۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا خاص کر تم کو یاد کرنا جب تم اس کو یاد کرو یہ بڑا عمل ہے تمہارے خاص طور پر اس کو یاد کرنے سے
24۔ عبد بن حمید وابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابو قرہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کا یاد کرنا بڑا عمل ہے تمہارے خاص طور پر اس کو یاد کرنے سے
25۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اس چیز پر جسے اس نے حرام کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا خاص کر تم کو یاد کرنا بڑا عمل ہے تمہارا خاص کر اس کو یاد کرنے سے۔
26۔ عبد بن حمید نے وابن جریر نے ابو مالک (رح) سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں روایت کیا بندے کا اللہ کو یاد کرنا نماز میں نماز سے بڑاعمل ہے۔
27۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی چیز اللہ کے ذکر سے بڑی نہیں۔
28۔ احمد فی الزہد وابن المنذر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ آدمی کا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اس کو اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا نہیں۔ لوگوں نے کہا کیا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اللہ کے ذکر سے بڑھا ہوا نہیں ہے تو آپ نے فرمایا یہ عمل بھی بڑھا ہوا نہیں ہے کہ ان کو اپنی تلوار سے اس قدر مارے یہاں تک کہ خود مرجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں آیت ولذکر اللہ اکبر کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔
29۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر والحاکم فی الکنی والبیہقی نے شعب الایمان میں عنزہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بیٹھ کر کتاب کا سبق پڑھتی ہے آپس میں اس کا مذاکرہ کرتے ہیں تو فرشتے اپنے پروں کے ساتھ ان پر سایہ کرتے ہیں اور وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں جب تک وہ اس کام میں رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں اور جو آدمی ایسے راستے پر چلا کہ جس میں وہ علم کو تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی طرف راستہ آسان کردیتے ہیں۔
30۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو سب سے افضل عمل کے بارے میں نہ بتاؤں اور تمہارے مالک کی طرف جو زیادہ محبوب ہو اور تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہو۔ اور اس سے بھی بہتر ہو کہ تم اپنے دشمنوں سے لڑو وہ تمہارے گردنوں کو ماریں اور تم ان کی گردنوں کو مارو اور دینار اور دراہم سے یعنی یعنی خیرات کرنے سے بھی بہتر ہو تو لوگوں نے پوچھا اے ابودرداء وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے آیت ولذکر اللہ اکبر۔ کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔
31۔ ابن جریر والبیہقی نے ام درداء ؓ نے آیت ولذکر اللہ اکبر کے بارے میں فرمایا کہ اگر تو نماز پڑھے تو وہ اللہ کے ذکر میں سے ہے اگر تو روزہ رکھے تو وہ اللہ کے ذکر میں سے ہے اور ہر وہ نیکی کا کام جس کو تو کرتا ہے تو وہ اللہ کے ذکر میں سے ہے اور ہر برائی سے جس سے تو بچتا ہے وہ بھی اللہ کے ذکر میں سے ہے اور اس میں سے سب سے افضل اللہ کی تسبیح ہے۔
32۔ ابن جریر نے سلمان ؓ سے روایت کی کہ ان سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا آیت ولذکر اللہ اکبر یعنی کوئی چیز اللہ کے ذکر سے افضل نہیں واللہ اعلم۔
Ayahs 29:46–471۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن الا لذین ظلموا منہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ہے۔ یا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بالکل بندھا ہوا ہے، اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں یا انہوں نے محمد ﷺ کو تکلیف دی اور وہ اہل کتاب تھے اور فرمایا آیت وقولوا امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم جو یہ نہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے یا اللہ فقیر ہے اور محمد ﷺ کو تکلیف نہیں دی۔
2۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) نے آیت ولا تجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ بڑی بات کہیں تو تم خیر کی بات کہو الا الذی ظلموا منہم مگر جنہوں نے ظلم کیا تو ان سے انتقام لے لو۔
3۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) نے ولا تجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن الا الذین ظلمو منہم کے بارے میں روایت کیا کہ تم نہ لڑو مگر جو تم سے لڑے اس سے لڑو اور جو جزیہ نہ دے اس سے بھی لڑو اور جو ان میں سے جزیہ ادا کردے تو اس سے اچھی بات کہو۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا تجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن سے مراد ہے کہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ ان سے جھگڑا کرو یعنی ان کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دو ۔
5۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن حسین (رح) نے آیت بالتی ہی احسن کے بارے میں فرمایا یعنی تم کہواٰمنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم ولاہنا والہکم واحد ونحن لہ مسلمون یعنی ہم ایمان لائے اس چیز پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر جو تمہارے طرف اتاری گئی اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے اور اہم اس کے فرمانبردار ہیں یعنی اسطرح ان سے جھگڑا کرو جو اچھے طریقے سے ہو۔
6۔ ابو داوئد نے فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری المصاحف میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن سے مراد ہے کہ اس آیت میں ان کو جھگڑا کرنے سے منع کردیا گیا پھر یہ حکم منسوخ کردیا گیا اور فرمایا قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاٰخر (التوبہ آیت 29) یعنی لڑو تم ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر کیونکہ تلوار سے زیادہ سخت کوئی جھگڑا نہیں۔
اہل کتاب کی تصدیق و تکذیب نہ کرنا
7۔ البخاری والنسائی ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اہل کتاب عبرانی زبان میں تورات پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو اور یوں کہو آیت اٰمنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم والہنا والہکم والہکم واحد ونحن لہ مسلمون۔
8۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے بہت باتیں کرتے تھے اور وہ باتیں مسلمانوں کو اچھی لگتی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو اور یوں کہو آیت اٰمنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم والہنا والہکم واحد ونحن لہ مسلمون۔
9۔ عبدالرزاق نے المصنف میں وابن سعید واحمد اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابو نملہ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک آدمی نے جنات کے بارے میں کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ باتیں کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اہل کتاب تم کو بیان کریں تو نہ تم ان کی تصدیق کرو اور نہ تم ان کی تکذیب کرو اور یوں کہو اٰمنا باللہ وکتبہ ورسولہ اگر وہ سچی بات ہے تو تم نے ان کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ بات جھوٹی ہے تو تم نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
10۔ البیہقی نے اپنی سن میں اور الشعب میں والدیلمی واب نصر السجز نے الدبانہ میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی چیز کے بارے میں اہل کتاب سے نہ پوچھو بلاشبہ وہ ہرگز تم کو ہدایت نہیں دیں گے اور وہ گمراہ ہوچکے ہیں اگر تم ایسا کرو گے تو یا تم جھوٹ کو سچ کہو گے اللہ کی قسم اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو تمہارے درمیان تو ان کو میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
11۔ عبدالرزاق نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی چیز کے بارے میں اہل کتاب سے نہ پوچھو کیونکہ وہ ہرگز تم کو ہدایت نہیں دیں گے اور وہ خود گمراہ ہوچکے ہیں۔
12۔ عبدالرزاق ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو کیونکہ وہ ہرگز تم کو ہدایت نہیں دیں گے اور وہ خود گمراہ ہوچکے ہیں اگر ایسا کرو گے تو تم حق کو جھٹلاؤ گے اور جھوٹ کو سچ کہو گے اگر تم کو ضروریات پوچھنا پڑے تو ہر حال میں تم دیکھو اگر وہ اللہ کی کتاب کے موافق ہے اس کو لے لو اور جو اللہ کی کتاب کے خلاف ہے تو اس کو چھوڑ دو ۔
Ayahs 29:48–501۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے تھے کہ محمد ﷺ نہ تو اپنے ہاتھ سے لکھیں گے اور نہ کتاب کو پڑھیں گے تو یہ آیت وماکنت تتلو من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک ولا تکطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلہون یعنی آپ سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو اس وقت باطل پرست یعنی کفار شک میں پڑجاتے۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المردویہ والاسمعیلی نے اپنی معجم میں ابن عباس ؓ سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے آپ امی تھے آیت بل ہو آیت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی شان کے بارے میں تورات اور انجیل میں اہل علم کے لیے یہ نازل فرمایا تھا اور اس کا انہیں علم تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے لیے ایک نشانی بنادیا اور ان کے لیے فرمایا کہ ان کی نبوت کی نشانی یہ ہے کہ جب آپ ظاہر ہوں گے نہ آپ کتاب کو جانتے ہوں گے اور نہ دائیں ہاتھ سے لکھیں گے اور یہ واضح نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائیں۔
آپ (علیہ السلام) نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نہ اس سے پہلے کتاب کو پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے اور آپ امی تھے آپ لکھتے نہ تھے اور فرمایا آیت اٰیت بینت یعنی نبی ﷺ کی ذات واضح نشانی تھی آیت فی صدور الذین اوتوا العلم من اہل الکتب ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دئیے گئے تھے اہل کتاب میں سے اور حسن نے فرمایا کہ یہاں علم سے مراد قرآن ہے۔ ا ٰ یت بینت فی صدور الذین اوتو العلم میں اوتوا العلم سے مراد مومنین ہیں۔
4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نہ کتاب پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے اور اسی طرح ان کی تعریف تورات اور انجیل میں بیان فرمائی کہ آپ امی ہوں گے نہ کتاب پڑھیں گے اور نہ لکھیں گے اور یہ واضح نشانی ہے پھر فرمایا وما یجحد باٰیتنا الا الظلمون اور ہماری آیت کا وہی انکار کریں گے جو ظالم ہوں گے یعنی وہ صفت جو بیان کی گئی ہے اہل کتاب کے لیے وہ ان کو اسی صفت کے ذریعے پہنچانتے ہیں۔
5۔ البیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے آیت وماکنت تتلوا من قبلہ من کتب کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نہ کتاب کو پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے۔
Ayahs 29:51–521۔ الدارمی وابوداوٗد فی مراسیلہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے یحییٰ بن جعدہ ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ مسلمانوں میں سے کتابیں لاتے کہ جس میں اپنوں نے بعض وہ باتیں لکھی تھی جو انہوں نے یہودیوں سے سنی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم کی حماقت اور گمراہی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کریں جو ان کے نبی ان کے لیے لائے اور اس چیز میں رغبت کا اظہار کریں جو ان کے پاس ان کا غیر لایا تو یہ آیت نازل ہوئی آیت اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم یعنی کیا ان کے لیے یہ کافی ہے کہ ہم نے آپ پر ایک کتاب اتاری ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔
2۔ الاسمعیلی نے اپنی معجم میں وابن مردویہ نے یحییٰ میں جعدہ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ تورات میں سے لکھتے تھے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ احمقوں میں سب سے زیادہ احمق اور گمراہوں میں سے سب زیادہ گمراہ وہ قوم ہے جو اس پیغام سے اعراض کرتے ہیں جو ان کے نبی لے کر آئے اور اس کی طرف رغبت کرتے ہیں جو دوسروں کا نبی لایا اور اس امت کی طرف لایا جو دوسروں کی امت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم
قرآن کریم تمام سابقہ کتب کے لیے ناسخ ہے
3۔ عبدالرزاق نے المصنف میں والبیہقی نے شعب الایمان میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ حفصہ ؓ نبی ﷺ کے پاس یوسف (علیہ السلام) کے قصوں میں سے ایک کتاب اپنی بغل میں لے آئیں اور آپ کے سامنے پڑھنا شروع کردیا جبکہ نبی ﷺ کا رنگ متغیر ہورہا تھا آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) آجائیں اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں اگر تم ان کی اتباع کرو گے اور مجھ کو چھوڑدو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔
4۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن الضریس والحاتم نے الکنی میں والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن ثابت حرث انصاری ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نبی ﷺ کے پاس ایک کتاب لے کر آئے جس میں تورات کے بھی چند مقامات تھے اور عرض کیا کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی سے لی ہے۔ اور میں اس کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا رنگ بدل گیا کہ اس طرح کبھی میں نے نہیں دیکھا تھا عبداللہ بن حارث نے عمر ؓ سے کہا کیا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھ رہا۔ یہ غصہ دیکھ کر عمر نے فرمایا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر یہ سن کر رسول اللہ ﷺ سے غصہ جاتا رہا۔ اور آپ نے فرمایا اگر موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے درمیان آجائیں اور تم اس کی اتباع کروگے اور مجھ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے نبیوں میں سے میں تمہارا حصہ ہوں اور تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو۔
5۔ عبدالرزاق والبیہقی نے ابوقلابہ ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کتاب پڑھ رہا تھا کچھ دیر سنا اور اچھا جانا اس آدمی سے کہا کہ اس کتاب میں سے میرے لیے لکھ دو اس آدمی نے کہا ہاں لکھ دیتا ہوں پھر انہوں نے لے کر چمڑہ خریدا اس کو درست کیا پھر اس کے پاس لے آئے اس آدمی نے آپ کے لیے اس کی دونوں جانب لکھ دیا۔ پھر حضرت عمر ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے پڑھنا شروع کیا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک غصہ سے رنگین ہوگیا۔ انصار میں سے ایک آدمی نے کتاب پر اپنا ہاتھ مارا اور کہا تجھ کو تیری ماں روئے اے خطاب کے بیٹے ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھا اور تو ان کے سامنے یہ کتاب پڑھ رہا ہے اس وقت نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں بھیجا گیا ہوں فاتح اور خاتم کی حیثیت سے مجھے جوامع الکلم اور فواتح عطا کیے گئے اور میرے لیے بات کو مختصر کردیا گیا اور بیوقوف لوگ تم کو ہلاکت میں نہ ڈال دیں۔
6۔ البیہقی نے اور اس کو ضعیف قرار دیا عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے تورات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی تعلیم حاصل نہ کرو اور اس پر ایمان لے آؤ اور تم وہ چیز سیکھو جو تمہاری طرف اتاری گئی اور اس پر ایمان لے آؤ۔
7۔ ابن الضریس نے عمر بن خطاب ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کہ اہل کتاب ہم کو کچھ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو ہمارے دلوں کو قابو کرلیتی ہیں اور ہم نے ارادہ کیا کہ ہم ان کو لکھ لیں آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے کیا تم اسی طرح تکالیف میں پڑو گے جیسے یہود و نصاری تکالیف میں پڑے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے لیے سفید روشن چیز لایا ہوں لیکن مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے اور میرے لیے بات کو مختصر کردیا گیا۔
8۔ ابن عساکر نے ابن ابی ملکہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عامر بن کز نے عائشہ ؓ کو ایک ہدیہ بھیجا انہوں نے گمان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمرو ہیں تو انہوں نے واپس کردیا اور فرمایا وہ کتب کی چھان بین کرتا رہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب کو اتارا جو ان پر پڑھی جاتی ہے پھر جب آپ سے کہا گیا کہ ہدیہ بھیجنے والا۔ عبداللہ بن عامر ہیں تو آپ نے ہدیہ قبول کرلیا۔
Ayahs 29:53–551۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں فرمایا کہ اس امت کے کچھ جاہل لوگوں نے یہ کہا تھا اللہم ان کان ہذا ہوا لحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم (الانفال اے اللہ اگر یہ دین حق ہے آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پترھ برسا ئیے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آئیے )
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیاتینہم بغتتۃ وہم لایشعرون اور ان پر عذاب اچانک آئے گا اور ان کو پتہ بھ نہ ہوگا اور یہ بدر کا دن ہوا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان جہنم لمحیطۃ بالکفرین سے مراد ہے کہ جہنم میں بحر اخضر ہے جس میں ستارے گرتے ہیں اور اس میں سورج اور چاند بھی ہوں گے پھر آگ کو جلایا جائے گا پھر وہ جہنم بن جائے گا۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان جہنم لمحیطۃ سے سمندر مراد ہے۔
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یغشہم العذاب میں عذاب سے مراد آگ ہے۔
Ayah 29:56اللہ تعالیٰ کی زمین عبادت کرنے والوں کے لیے وسیع ہے۔
1۔ الفریابی وابن جریر نے والبیہقی فی شعب الایمان سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یعبادی الذین اٰمنوا ان ارضی واسعۃ سے مراد ہے کہ اے میرے بندو ایمان والو ! میری زمین وسعی ہے یعنی تو جب کسی زمین میں نافرمانی کے کام کئے جائیں تو وہاں سے نکل جاؤ۔
2۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ارضی واسعۃ یعنی میری زمین وسیع ہے جسے نافرمانی کا حکم دیا جائے سو اس کو چاہیے کہ وہ بھاگ جائے۔
3۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت یعبادی الذین ٰمنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون یعنی میری زمین وسیع ہے تو وہاں سے ہجرت کر جاؤ اور جہاد کرو۔
4۔ ابن ابی الدنیا نے العزل میں وابن جریر نے عطا (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جب تم کو گناہ کا حکم دیا جائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ میری زمین وسیع ہے۔
5۔ احمد نے زبیر بن عوام ؓ سے رویت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جب تم کو گناہ کا حکم دیا جائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ میری زمین وسیع ہے۔
5۔ احمد نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہر اللہ کے شہر ہیں اور بندے اللہ کے بندے ہیں پس جہاں تو خیر کو پائے وہاں ٹھہر جا یعنی وہیں رہائش کر۔
6۔ الطبرانی والقصاص والشیرازی فی الالقاب والخطیب وابن المنذر والبیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا تم سفر کرو صحت مند رہوگے اور غنیمت پاؤ گے۔
Ayahs 29:57–591۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت انک میت وانہم میتون الذمر نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب کیا ساری مخلوق مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون یعنی ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر ہماری طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
Ayahs 29:60–63رسول اللہ ﷺ کا فقر اختیاری تھا
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے بعض باغات میں داخل ہوئے آپ نے گری ہوئی کھجوریں اٹھانی شروع فرماءٰں اور کھانے لگے مجھ سے فرمایا اے ابن عمر تجھے کیا ہوا تو نہیں کھاتا میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن مجھے خواہش ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کوئی کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کو پایا اگر میں چاہتاتو میں اپنے رب سے دعا کرتا کہ مجھے بھی کسری اور قیصر جیسے خزانے عطا فرمائیے۔ اے ابن عمر ؓ تیرا کیا خیال ہوتا جب تو ایسی قوم میں رہتا جو اپنے سال بھر کا رزق ذخیرہ کریں گے اور یقین کمزور ہوجائے گا ابن عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں تھے یہ آیت نازل ہوئی۔ وکاین من دابۃ لا تحمل رزقہا اللہ یرزقہا وایاکم وہو السمیع العلیم۔ اور کتنے ہی جانور اپنی روزی اپنے اوپر اٹھائے نہیں پھرتے اللہ ہی ان کو روزی دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے اور خواہشات کی پیروی کا حکم نہیں دیا خبردار اللہ کی قسم میں دینار اور درہم کا خزانہ ذخیرہ نہیں کرتا اور نہ ہی ذخیرہ کرتا ہوں کل کے لیے۔
2۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکاین من دابۃ لا تحمل رزقہا سے مراد ہے پرندے اور جانور۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن اقمر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکاین من دابۃ لا تحمل رزقہا سے مراد ہے کہ وہ کل کے لیے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کرتے۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابومجلز (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جانور کل کے لیے ذخیرہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اسے ہر دن اللہ تعالیٰ رزق پہنچاتا ہے یہاں تک کہ وہ مرجاتے ہیں۔
5۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانی یوفکون سے مراد ہے آیت یعدلون یعنی وہ اعراض کرتے ہیں۔
Ayahs 29:64–661۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان، سے مراد ہے کہ آخرت کا گھر ہی باق رہنے والا ہے۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت لہی الحیوان سے مراد ہے دائمی زندگی۔
3۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما کیا بہت زیادہ تعجب اس آدمی پر جو تصدیق کرنے والا ہے دائمی زندگی کے گھر کی کہ جب وہ کوشش کرتا ہے دھوکے والے گھر یعنی دنیا کے لیے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیتمتعوا فسوف یعلمون یعنی عنقریب تم دیکھ لوگے جو کچھ دنیا میں ہے اور جو کچھ آخرت میں ہوگا عنقریب وہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے گا۔
Ayahs 29:67–691۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا جعلنا حرما اٰمنا کیا انہوں نے نہیں دیکاھ کہ ہم نے حرم کو امن والا بنادیا اور یہ ان کے لیے اس میں سے نشانی ہے کہ لوگوں پر حملے کیے جاتے ہیں ان کا مال چھین لیا جاتا ہے جبکہ وہ امن میں رہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا آیت افبالباطل یومنین یعنی شرک کے ساتھ ایمان لاتے ہیں آیت وبنعمۃ اللہ یکفرون اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔
2۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان مشرکین نے کہا اے محمد ﷺ ہم کو کوئی چیز نہیں روکتی کہ ہم تیرے دین میں داخل ہوں مگر یہ خوف ہے کہ ہم کو لوگ اچک لیں گے اور ہم کو قتل کردیں گے کیونکہ ہماری تعداد تھوڑی ہے اور عربوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جب ان کو یہ پتہ چلے گا ہم تیرے دین میں داخل ہوچکے ہیں تو ہم کو اچک لیا جائے گا اور ہم ہر شر والے کا لقمہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اولم یرو انا جعلنا حرم اٰمنا یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکاھ کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
الحمد للہ سورة عنکبوت ختم ہوئی۔