27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 27:62–64

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

کیا وہ جو بےچین آدمی کی دعاء کو سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور بدحالی کو دور فرماتا ہے اور تمہیں زمین میں خلیفہ بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ تم بہت کم دھیان دیتے ہو

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

کیا وہ جو تمہیں خشکی میں اور دریا کے اندھیروں میں راہ بتاتا ہے اور جو ہواؤں کو بھیجتا ہے جو اس کی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ؟ اللہ اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

کیا وہ جو مخلوق کو اول بار پیدا فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ پید ارمائے گا اور جو تمہیں آسمان سے اور زمین سے رزق دیتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے ؟ آپ فرمادیجیے کہ تم اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو

ہر تکلیف کو دور کرنا اللہ کی قدرت میں ہے 1۔ احمد وابوداوئد والطبرانی نے بلجیم کے ایک آدمی سے تو روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں آپ نے فرمایا میں ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو پس تو اس سے دعا کر تو وہ تجھ سے مصیب کو دو کردے گا اور اگر تو بےآب وگیاہ جگہ میں راستہ بھول جائے تو اسے پکار تو وہ تجھ کو جواب دے گا۔ اگر تجھ کو قحط سالی پہنچ جائے پھر تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے لیے بارش کو نازل کردے گا۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویکشف السوء “ سے رماد ہے تکلیف کو ہٹا دے گا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے سحیم بن نوف (رح) سے روایت کیا اس درمیان کہ ہم عبداللہ ؓ کے پاس تھے اچانک ایک لونڈی اپنے آقا کی طرف آئی اور کہا کس چیز نے آپ کو یہاں روک رکھا ہے۔ فلاں آدمی نے اپنی نظر سے تیرے گھوڑے کو آگ لگا دی۔ اور اسے گھر میں یوں چکر لگاتے ہوئے چھوڑ دیا ہے۔ گویا کہ وہ فلک ہے۔ کھڑا ہوجا کسی جھاڑ پھونک والے کو ڈھونڈ عبداللہ ؓ نے فرمایا کسی جھاڑ پھونک والے کو نہ ڈھونڈو اور دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ پھونک دو اور یہ کہو۔ ترجمہ : کوئی حرج نہیں اے لوگوں کے رب پکڑ کو دور فرما اور شفادے تو ہی شفا دینے والا ہے کوئی مصیب کو دور نہیں کرسکتا مگر تو۔ راوی نے کہا کہ وہ گیا پھر ہماری طر فلوٹ آیا اور اس نے کہ اس نے ایسا ہی کیا جو آپ نے مجھ کو حکم فرمایا تھا میں اس وقت آیا جب وہ لید اور پیشاب کرچکا تھا اور چارہ کھاچکا تھا۔ 4۔ الطبرانی نے سعد بن جنادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جماعت جدا ہوا تو وہ اپنے چہراے کے بل آگ میں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء ویجعلم خلفاء الارض “ پس خلافت اللہ عز وجل کی طرف سے ہے اگر وہ خیر ہے تو وہی اسے لے جاتا ہے۔ اور اگر بری ہے تو اس کے ساتھ مواخذہ کیا جاتا ہے ہم پر اطاعت کرنا لازم ہے ان کاموں میں کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا۔ 5۔ البغوی فی معجمہ ایاد بن لقیط (رح) سے روایت کیا کہ جعدہ بن ہبیرہ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا کہ میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور میں نے اسے پایا ہے جسے تم نہیں پایا امیرمعاویہ کے بعد ایسے امراء آئیں گے جو ان جیسے نہ ہوں گے ان میں کوئی کوتاہ قدر اور دم بریدہ نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ یہ بادشاہت اللہ کی بادشاہت ہے جس کے حق میں چاہتا ہے ہعطا کردیتا ہے تم اسے کسی جگہ نہیں رکھتے خبردار اور بلاشبہ راعی یعنی حکمران کا حق ہے رعیت پر اور رعیت کا حکمران پر حق ہے۔ ان کو ان کے حق ادا کرے۔ اگ وہ تم پر ظلم کریں تو ان کو اللہ تعالیٰ کے سپر دکردو بلاشبہ تم اور وہ آپ میں جھگڑوگے قیامت کے دن اور بلاشبہ تم اپنے ساتھی کو وہ حق ادا کروگے جو اس پر دنیا میں لازم تھا پھر یہ آیت پڑھی آیت ” فلنسئلن الذین ارسل الیہم ولنسئلن المرسلین “ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ‘” والوزن یومئذن الحق “ اسی طرح پڑھا۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویجعلم خلفاء الارض “ یعنی خلیفہ کے بعد خلیفہ 7۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویجعلم خلفاء الارض “ یعنی خلیفہ بنایا ان لوگوں کا جو تم سے پہلے تھے امتوں میں سے۔ 8۔ ابن المنذر وابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” امن یہدیکم فی ظلمت البر “ سے مراد ہے راستے کی گمراہی کو والبحر سے مراد ہے اس کے راستوں پر موج اور اس میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی تاریکی۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ فرمادیجے کہ آسمانوں میں اور زمینوں میں جو بھی چیزیں موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور یہ لوگ علم نہیں رکھتے کہ کب زندہ کیے جائیں گے۔

1۔ الطیالسی و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات مسروق (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا عائشہ نے فرمایا تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی کی تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ بولا میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ عائشہ نے فرمایا جس نے یہ گمان کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا مسروق نے کہا میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا میں نے کہا اے مومنین کی ماں مجھے مہلت دیجیے اور جلدی نہ کیجیے۔ ایسی بات پر کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا آتی ” ولقد راٰہ بالافق المبین، ولقد راٰ ہ نزلۃ اخری “ یعنی اس کو دیکھا واضح کنارے پر اور دیکھا اس کو اس نے ایک بار۔ اور عائشہ نے فرمایا اس امت میں پہلی عورت میں ہوں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا وہ جبرئیل ہے میں نے جبرئیل کو اس صورت میں دو موقع پر دیکھا ہے جس صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا میں نے اس کو دیکھا آسمان سے اترتے ہوئے۔ اس کے عظیم جثہ نے آسمان اور زمین کے درمیانی حصہ کو بھر دیا تھا۔ عائشہ نے فرمایا کیا تو نے اللہ عزوجل کا یہ قول نہیں سنا آیت ” لاتدر کہ الابصار وہو یدرک الابصار وہوللطیف الکبری (الانعام آیت 103) (یعنی اس کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کو پالیتا ہے اور باریک بین خبر رکھنے والا ہے) لے کر ” علی حکیم “ تک اور جس نے ی گمان کیا کہ محمد ﷺ نے اللہ کی کتاب میں سے کوئی چیز چھپالی تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا اور اللہ بڑے مرتبہ والا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک سے لے کر، آیت واللہ یعصمک من الناس (المائدہ 67) تک یعنی اے رسول تبلیغ کیجیے جو آپ کی طرف اپنے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچا لیں گے پھر عائشہ نے فرمایا اور جس نے گمان کیا وہ خبر دیتے ہیں لوگوں کو جو کل کو ہونے والا ہے تو اس نے بھی اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “ (فرمادیجیے کہ کوئی نہیں جانتا آسمان میں زمین اور زمین میں غیب کو سوائے اللہ کے )
Ayahs 27:66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم نیست ونابود ہوگیا، بلکہ یہ لوگ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، بلکہ یہ اس کی طرف سے اندھے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافروں کے کہا کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادے تو کیا ہم ضرور نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

بلاشبہ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس کا وعدہ کیا گیا ہے پرانے لوگوں کی نقل کی ہوئی باتیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے تم زمین میں چلو پھر سو دیکھ لو مجرموں کا کیا انجام ہوا

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور آپ ان پر رنج نہ کیجیے اور یہ جو مکر کرتے ہیں اس کی وجہ تنگ دل نہ ہوجائیے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تم جس عذاب کی جلدی مچا رہے ہو عنقریب اس کا بعض حصہ تم سے آہی لگا ہے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ شکر نہیں کرتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب ان باتوں کو ضرورجانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپاتے ہیں اور یہ جو کچھ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو کتاب مبین میں نہ ہو

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل ادارک علمہم فی الاخرہ میں بل ام کے معنی ہے اس آیت میں آی ” ہم قوم طاعرون “ (الزاریات آیت 52) 5۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل ادارک علمہم فی الاخرۃ سے مراد ہے کہ اپنی جماعت اور جہالت کا علم ان کو آخرت میں پے درپے ہوگا۔ آیت بل ہم منہا عمون بلکہ وہ آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت بل ادارک علمہم فی الاخرۃ یعنی ان کا علم سست پڑگیا دنیا میں جب انہوں نے آخرت کو دیکھا آیت ” فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو قوم لوط کو قوم صالح اور دوسری امتوں کو عذاب دیا۔ 8۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عسی ان یکون ردف لکم یعنی وہ قریب ہے تمہارے لیے۔ 10۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عسی ان یکون ردف لکم یعنی اس نے جلدی کی تمہارے لیے۔ 11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیتردف لکم یعنی وہ قریب ہے تمہارے لیے۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ردف لکم بعض الذی تستعجلون یعنی جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو وہ تمہارے قریب ہے۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان ربک لیعلم ماتکن صدورہم وما یعلنون سے مراد ہے کہ وہ یعنی اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ جو انہوں نے رات اور دن کے وقت اعمال کیے۔ 14۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان ربک لیعلم ماتکن صدورہم یعنی وہ راز جو ان کے سینوں میں ہیں ان کو جانتا ہے۔ 15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین سے راد ہے کہ آسمان اور زمین میں کوئی چھپی ہوئی یا اعلانیہ بات نہیں مگر وہ اس کو جانتا ہے۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما من غائبۃ یعنی نہیں ہے تیرے قول میں سے اور میرے علم میں سے جو آسمان اور زمین میں ہے مگر وہ اس کے پاس ہے آیت فی کتب مبین یعنی لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے۔
Ayahs 27:76–79

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن چیزوں میں وہ جھگڑ رہے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن مومنین کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلے فرمائے گا اور وہ عزیزیز ہے، علیم ہے

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو آپ اللہ پر بھروسہ کیجیے بلاشبہ آپ صریح حق پر ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا القراٰن یقص علی بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں اور فرمایا آیت اکثر الذی ہم فیہ یختلفون یعنی یہ قرآن مجید ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ 2۔ الترمذی وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت کو آزمائش میں ڈالا جائے گا آپ کے بعد اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے آپ نے فرمایا آیت وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید۔ اللہ کی کتاب جس میں باطل دا (رح) نہیں ہوسکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے اتاری ہوئی ہے اس ذات کی طرف سے جو حکمت والا ہے اور تعریف کیا ہوا ہے جس نے قرآن مجید کے علاوہ کسی اور جگہ سے علم حاصل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا اور جس شخص کو حاکم بنایا گیا اور اس نے قرآن کے مطابق فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا یہ ذکر حکیم تو نور مبین اور صراط مستقیم ہے۔ اس میں پہلے اور بعد کی خبریں ہیں تمہارے درمیان موجود جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والا ہے یہ قول فیصل ہنسی مذاق نہیں ہے۔
Ayahs 27:80–81

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بلاشبہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستہ دکھا سکتے ہیں آپ تو انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں سو وہ فرمانبردار ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” انک لا تسمع الموتی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافر کے لیے بیان فرمائی جیسے میت نہیں سنتی اسی طرح کافر بھی نہیں سنا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے آیت ولا تسمع الص الدعاء اذا ولوا مدبرین یعنی بہرا اگر پیٹھ پھیر کر چلا جائے پھر اس کو بلایا جائے تو وہ نہیں سنتا اسی طرح کافر نہیں سنتا اور وہ جانتا ہے اس سے نفع حاصل نہیں کرتا۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر وعدہ پورا ہونے والا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکال دیں گے جو جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں لاتے تھے

1۔ ابن المبارک نے الزہد میں وعبد الرزاق والفریابی وابن ابی شیبہ ونعیم بن حماد فی الفتن وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا وقع القول علیہم اخرجنالہم دابۃ من الارض تکلمہم یعنی جب وہ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں نکلیں گے۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت ہوگا جب وہ نیکی کا حکم نہیں کریں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے۔ 3 ابن مردویہ نے ابوسعید خدری رجی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم کے بارے میں پوچاھ گیا تو فرمایا کہ جب وہ نیکی کا حکم کرنا چھوڑ دیں گے اور برائی سے روکنا چھوڑ دیں گے تو ان پر غصہ واجب ہوجائے گا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا وقع القول علیہم یعنی جب قول ان پر واجب ہوجائے گا آیت اخرجنالہم دابۃ من الارض تکلمہم اور بعض قراتوں میں تکلمہم کے بجائے آیت تحدثیہم ہے یعنی وہ ان کو کہے گا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حفصہ بنت سیرین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو العالیہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا واقع القول علیہم اخرجنالہم دابۃ من الارض تکلمہم کے بارے میں سوال کیا کہ ان پر قول واقع ہونے سے کیا مراد ہے تو فرمایا آیت واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد اٰمن (ھود آیت 36) حفصہ نے فرمایا گویا کہ اس نے میرے سامنے سے پردہ کو دور کردیا۔ کثرت طواف اور کثرت تلاوت 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بیت اللہ کے طواف کی کثرت کرو اس سے پہلے کہ اس کو اٹھالیا جائے اور لوگ اس کی جگہ کو بھی بھول جائیں اور تلاوت قرآن کی کثرت کرو پہلے اس سے کہ اس کو اٹھالیا جائے کہا گیا کس طرح اٹھالیا جائے گا جو لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ فرمایا رات کے وق ہوا ان پر چلے گی تو لوگ صبح کریں گے تو قرآن سے خالی ہوں گے اور آیت ” لا الہ الا اللہ “ کے قول کو بھول جائیں گے اور جاہلیت کی باتوں اور اشعار میں پڑجائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب قول ان پر واقع ہوگا۔ 7۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا واقع القول علیہم سے مراد ہے جب ان پر قول ثابت ہوجائے گا۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی اتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت دابۃ من الارض سے مراد ہے کہ ان سے بات کرے گا۔ 9۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تکلمہم یعنی وہ لوگو کو بتائے گا آیت دابۃ من الارض یعنی لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوداوٗد اور نقیع اعمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم سب کچھ ہوگا وہ مومن سے بات کرے گا کافر سے بات کرے گا اور اسکو زخمی کردے گا۔ 11۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم، کو تشدید کے ساتھ اور آیت ان الناس میں الف کے نصب کے ساتھ۔ 12 نعیم بن حماد وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب وعدہ پورا ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اخرجنالہم دابۃ من الارض تکلمہم یعنی کہ کوئی بات چیت نہ ہوگی بلکہ نشان ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لگائے گا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ حکم دے گا۔ وہ جانور صفا سے نکلے منی کی رات میں سب لوگ اس کے سر اور دم کے درمیان صبح کریں گے۔ کوئی داخل ہونے والا داخل ہوگا اور نہ کوئی نکلنے والا نکلے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جو حکم دیا گیا اس سے وہ فارغ ہوجائے گا۔ سو ہلاک ہونے والا ہلاک ہوگا اور نجات پانے والا نجات پائے گا وہ اپنا پہلا قدم انطاکیہ میں رکھے گا۔ 13۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا کہ الدابۃ روئیں دار ہوگا اس کی او اور بال ہوں گے۔ 14۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الدابۃ سے مراد ہے کہ یہ جانور اون اور پروں والا ہوگا جن میں ہر رنگ ہوگا اس کے چار پاؤں ہوں گے حج کرنے والوں کی پشت کی جانب سے نکلے گا۔ 15۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ زمین کا جانور اون والا ہوگا اور آسمان سے قریب ہوگا 16۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان کو دابہ دکھائے وہ تین دن اور رات تک نکلا وہ آسمان تک جا پہنچا اس کی جانب کوئی بھی نہیں دیکھتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خوفناک منظر دیکھا اور کہا اے میرے رب اس کو لوٹادوتو اس کو لوٹا دیا گیا۔ 17۔ عبد بن حمید نے عبدللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ گھر والے ایک برتن پر جمع ہوں گے۔ اور وہ پہچان لیں گے ان کے مومنین کو ان کے کافروں میں سے لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوگا فرمایا کہ وہ دابہ نکلے گا اور لوگوں کی مذمت کر رہا ہوگا وہ ہر انسان کو اس کے سجدے کی جگہ کو چھوئے گا اس کے چھونے سے سفید نقطہ پڑجائے گا اور وہ اس کے چہرے پر پھیل جائے گا یہاں تک کہ اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا لیکن اس کے چھونے سے کافر کی سجدہ گاہ پر سیاہ نقطہ پڑجائے گا پھر وہ اس کے چہرے پر پھیل جائے گا یہاں تک کہ اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا لوگ آپس میں خریدو فروخت کریں گے وہ آپس میں کہیں گے اے مومن یہ چیز تو کتنے میں بیچے گا اور اے کافر یہ چیز تو کتنے میں بیچے گا اور وہ ایک دوسرے کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ 18۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ورایت کیا کہ اجیاد سے نکلے گا اس جگہ سے جو صفا سے ملی ہوئی ہے 19۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید سماک کے طریق سے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ دابہ مکہ سے نکلے گا۔ 20۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ دابہ نکلے گا تو لوگ گھبراکر اس کی طرف متوجہ ہوں گے وہ جانور ایک آدمی کے پاس آئے گا اور وہ نماز پڑھ رہا ہوگا وہ دابہ کہے گا جتنی نماز لمبی کرسکتا ہے کرلے اللہ کی قسم میں تیرے ناک پر ضرور نشان لگاؤں گا۔ قیامت کے قریب ایک جانور کا نکلنا 21۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانور جس دن نکلے گا اور وہ پگڑی اور پروں والا ہوگا لوگوں سے ابتیں کرے گا مومن کے چہرے میں سفیدنقطہ لگادے گا تو اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا اور کافر کے چہرے میں سیاہ نکتہ لگادے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا اس کے بعد وہ لوگ بازاروں میں خریدو فروخت کریں گے اور کہیں گے اے مومن یہ چیز تو کتنے میں بیچے گا اور اے کافر یہ چیز تو کتنے میں بچے گا۔ پھر دجال نکلے گا اور وہ کانا ہوگا اس کی آنکھ پر موٹا ناخن ہوگا اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا ہر مومن اور کافر اس کو پڑھ لے گا۔ 22۔ احمد وسمویہ وابن امردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا دابہ نکلے گا تو ان کی ناکوں پر نشان لگائے گا پھ روہ تمہارے درمیان زندہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی جانور خریدے گا اس سے پوچاھ جائے گا تو نے کس سے خریداہ ہے اس سے کہا جائے گا کہ اس آدمی سے جس کی ناک میں نکیل ہے۔ 23۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دابہ زمین سے نکلے گا اور اس کا نکلنا تین مرتبہ ہوگا پہلی مرتبہ اس کا نکلنا جنگل کی زین میں ہوگا اور دوسری مرتبہ وہ تمام مساجد عظیم شرف اور عزت والی سے نکلے گا اس کی جھکی ہوئی گردن ہوگی اس کو دیکھیں گے مشرق کے رہنے والے جیسے اس کو دیکھیں گے مغرب کے رہنے والے اس کا چہرہ انسان کی طرح سے ہوگا اور اس کی چونچ پرندوں کی طرح ہوگی جو اون اور روئی والی ہوگی اس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی اور سلیمان بن داوٗ د (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی وہ اونچی آواز سے آواز دے گا۔ آیت ان الناس کانو بایتنا لایوقنون۔ یعنی لوگ ہماری آیات کے ساتھ یقین نہیں لاتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ رونے لگے کہا گیا یارسول اللہ اس کے بعد کیا ہوگا فرمایا بھلائیاں ہی بھلائیاں ہوگی پھر سرسبز وشادابی ہوگی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ 24۔ ابن مردویہ نے حذیفہ بن سید (رح) سے روایت کیا کہ میرا خیال ہے انہوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے کہا کہ دابہ اس مسجدہ سے نکلے گا جو حرمت کے اعتبار سے سب مسجدوں سے اعظم ہے اسی اثناء میں کہ لوگ بیٹھے ہوں گے اونچی زمین میں اور وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اچانک زمین پھٹ پڑے گی۔ ابن عیینہ نے فرمایا کہ دابہ نکلے گا جب امام رات کو مزدلفہ سے چلے اور حاجیوں کے پیچھے چلنے والا لوگوں کو بتائے گا کہ دابہ نہیں نکلا۔ 25۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کیا میں تم کو وہ جگہ نہ دکھاؤں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ زمین کا جانور یہاں سے نکلے گا پھر آپ نے اپنی لاٹھی شق کی جانب ماری جو صفا میں ہے۔ 26۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے واقع ہونے سے پہلے دجال دابہ یا جوج ماجوج دھواں اور مغرب سے سورج طلوع ہوگا۔ 27۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جانور (مکہ شریف کے محلہ) اجیاد سے نکلے گا۔ 28۔ ابن جریر نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دابہ کا ذکر فرمایا حذیفہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کہاں سے نکلے گا فرمایا ان مساجد میں سے ایک سے جو اللہ کے ہاں سب سے بڑی حرمت والی ہیں اس اثناء میں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے اور ان کے ساتھ مسلمان بھی ہوں گے ان کے نیچے سے اچانک زمین حرکت کرنے لگے گی قندیل حرکت کرے گی۔ اس سے قریب والی جگہ سے مقام صفا پھٹ جائے گا اور جانور صفا سے نکلے گا سب سے پہلے اس کا چمکتا ہوا سر نکلے گا جو اون اور پروں والا ہوگا اس کو تلاش کرنے والا ہرگز اس کو نہیں پاسکے گا۔ اور بھاگنے والا ہرگز اس سے نہیں بھاگ سکے گا ہر مومن اور کافر کو ناک پر لگائے۔ مومن کا چہرہ یوں دکھائی دے گا گویا کہ وہ چمکتا ہوا موتی ہے اس کی آنکھوں کے درمیان مومن لکھا ہوگا اور کفر کی آنکھوں کے درمیان سیاہ نقطہ لگادے گا۔ مومن اور کافر کے چہرے پر لکھا جائے گا 20۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی فی البعث ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا جب وہ مکہ میں تھے اگر میں چاہوں تو اپنی دونوں کمانوں کو پکڑ لوں پھر میں چلو یہاں تک کہ داخل ہوجاؤ ایسی وادی میں کہ جس میں سے زمین کا جانور نکلے گا وہ نکلے گا تو یہ لوگوں کے لیے نشانی ہوگی وہ مومن سے ملے گا اس کے چہرہ پر نشان لگا دے گا تو اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا اور وہ کافر کے چہرہ پر نشان لگا دے گا تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا اور یہ جانو بالوں اور پروں والا ہوگا اور وہ کہے گا آیت ان الناس کانوا باٰیتنا لایوقنون کہ اکثر لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے۔ 30۔ سعید بن منصور ونعیم بن حماد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی البعث ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین کا جانور تہامہ کی بعض وادیوں سے نکلے گا جو بالوں اور پروں والا ہوگا اس کی چار ٹانگیں ہوں گے مومن کی آنکھوں کے درمیان نشان لگائے تو اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا اور کافر کی آنکھوں کے درمیان نشان لگا دے گا تو اس کا چہرہ کالا ہوجائے گا۔ 31۔ احمد والطیالسی وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ ولابیہقی فی البعث ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین کا جانور نکلے گا اور اس کے ساتھ موسیٰ کی لاٹھی سیلمان کی انگوٹھی ہوگی مومن کے چہرہ کو انگوٹھی کے ساتھ چمکا دے گا اور لاٹھی کے ذریعہ کافر کا چہرہ سیاہ کردے گا یہاں تک کہ لوگ دسترکوان پر جمع ہوں گے تو مومن پہچان لیاجائے گا کافر سے۔ 32۔ الطیالسی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی البعث حذیفہ بن اسید غفاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دابہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس کے لیے تین مربتہ نکلنا ہوگا زمانے سے پہلی مرتبہ وہ یمن کے دور حصے سے نکلے اس کا ذکر صحرا کے ددردراز حصوں میں پہنچ جائے گا اور اور وہ مکہ میں داخل نہ ہوگا پھر لمبا عرصہ تک چھپ جائے گا پھر اس کے علاوہ دوسری مرتبہ نکلے گا پھر اس کا ذکر جنگل کے رہنے والوں تک جا پہنچے گا اور اسک ذکر مکہ مکرمہ تک پہنچے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اس درمیان کہ لوگ اس مسجد میں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والی ہے ،۔ یعنی مسجد حرام میں لوگوں کو کوئی چیز نہ ڈرائے گی مگر یہ کہ وہ رکن اور مقام کے درمیان بلا رہی ہوگی وہ اپنے سر سے مٹی کو جھاڑے گی تو لوگ اس سے بھاگ کھڑے ہوں گے اور مومنین میں سے ایک جماعت باقری رہے گی۔ پھر وہ پہچان لیں گے کہ وہ ہرگز اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ دابہ انہیں سے آغاز کرے گی اور ان کے چہروں کو روشن کردے گی یہ ان تک کہ وہ ان کو ایسا بنادے گی گویا کہ وہ روشن ستارہ ہے اور زمین میں پھرے گا کوئی طلب کرنے والا اس کو پا نہیں سکے گا اور اس سے بھاگ کر نجات نہیں پائے گا۔ یہاں تک کہ ایک آدمی نماز کے ذریعے اس سے پناہ مانگے گا وہ واپس اس کے پیچھے سے آجائے گا اور کہے گا اے فلاں تو اب نماز پڑھتا ہے اس پر وہ آدمی متوجہ ہوگا اور وہ اس کے چہرے میں نشان لگا دے گا پھر وہ چلا جائے گا اور لوگ اموال میں شریک ہوں گے اور شہروں میں ایک دوسرے کی صحبت اختیار کریں گے مومن کافر سے پہچانا جائے گا یہاں تک کہ مومن کہے گا اے کافر میرا حق ادا کردے اور کافر کہے گا اے مومن میرا حق ادا کردے۔ 33۔ ابن مردویہ والبیہقی فی البعث ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جیاد کی گھاٹی کتنی بری ہے یہ دو یاتین مرتبہ فرمایا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح فرمایا اس میں سے جانور نکلے گا جو تین مرتبہ چیخے گا جو خافقین کے درمیان رہتے ہوں گے اس کی آواز سن لیں گے۔ 34۔ ابن مردویہ والبیہقی فی البعث ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نے فرمایا زمین کا جانور محلہ جیاد میں سے نکلے گا اس کا سینہ رکن یمانی تک پہنچے گا اور اس کی دم اس کے پیچھے سے نہیں نکلے گی پھر فرمایا کہ یہ جانور اون اور پاؤں والا ہوگا۔ 35۔ البخاری فی تاریخہ وابن ماجہ وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ جنگل میں دابہ کے نکلنے کی جگہ کی طرف لے گئے جو مکہ سے قریب تھی وہ ایک خشک زمین تھی اور اس کے ارگرد ریت تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس جگہ سے دابہ نکلے گا اور وہ ایک بالشت جگہ تھی۔ 36۔ ابن ابی حاتم نے نزال بن سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ سے پوچھا گیا کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ ہی دابۃ الارض ہیں۔ فرمایا اللہ کی قسم ! کہ زین کے جانور کے پر اور روئیں ہوں گے اور میرے پر اور روئیں نہیں اور اس کے کھر ہوں گے اور میرے کھر نہیں ہیں اور وہ البتہ نکلے گا تیز رفتار گھوڑے کی طرح تین مرتبہ جبکہ مجھے تو اس کے دو ثلث نہیں نکالا گیا۔ 37۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے ابن عمر رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ جانور مزدلفہ کی رات کو نکلے گا اور لوگ منی کی طرف چل رہے ہوں گے اور وہ ان سب کو اپنی گردن اور دم کے درمیان اٹھائے گا اور کوئی منافق باقی نہیں رہے گا جسے وہ نکیل اور مومن کو بھی چھوئے۔ لوگ یوں ہوجائیں گے گویا دجال کے لوگ ہیں۔ 38۔ ابن ابی شیبہ والخطیب فی التلخیص ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ دابہ تشریق کے دنوں میں جیاد کے پہاڑ میں سے نکلے گا اور لوگ منی میں ہوں گے اور فرمایا کہ اس وجہ سے حاجیوں کے پیچھے چلنے والا لوگوں کی سلامتی کی خبر لائے گا۔ 39۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ دابہ میں ہر قسم کا رنگ ہوگا اس کے سینگوں کے درمیان ایک فرسخ کا فاصلہ ہوگا۔ 40۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عمر رضی للہ عنہ سے روایت کیا کہ دابہ صدع جگہ سے صفا میں تین دن نکلے گا۔ جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور اس کا ایک تہائی نہیں نکلا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ دابہ جیاد کے مقام سے صخر کے نیچے سے نکلے گا اس کا منہ مشرق کی طرف ہوگ اور وہ چیخے گا پھر وہ شام کی طرف متوجہ ہوگا پھر وہ ایک چیخ مارے گا جو دور تک جاپہنچے گی شام کو مکہ مکرمہ سے چلے گا اور صبح عسفان میں کرے گا عرض کیا گیا پھر کیا ہوگا فرمایا میں کچھ نہیں جانتا۔ 42۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دابہ میں مختلف چیزیں جمع ہوں گی وہ روؤں اور پروں والا ہوگا اس میں ہر جانور کے رنگ ہوں گے اور اس میں ہر ایک امت میں سے ایک نشانی ہوگی۔ اور اس کی نشانی اس امت میں سے یہ ہوگی کہ وہ واضح عربی زبان میں بات کرے گا اور ان سے ان کے کلام کے ساتھ بات کرے گا۔ دابۃ الارض کی شکل وصورت 43۔ ابن ابی حاتم وبن مردویہ نے ابولزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے دابہ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا اس سر بیل کے سر جیسا ہوگا اس کی آنکھیں خنزیر کی آنکھ جیسی اور اس کے کان ہاتھی کے کانوں جیسے اس کے سینگ بارہ سنگھا کے سینگوں جیسے اس کی گردن شتر مرغ کی گردن جیسی اس کا سینہ شیر کے سینہ جیسا اس کا رنگ چیتے کے رنگ جیسا اس کی کو چھ بلی کی کوکھ جیسی اس کی دم مینڈھے کی دم جیسی اور اس کی ٹانگیں اونٹ کی ٹانگوں جیسی ہوں گی ہر جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصہ ہوگا اس حال میں نکلے گا کہ اس کے ساتھ موسیٰ کی لاٹھی اور سلیمان کی انگوٹھی ہوگی کوئی مومن باقی نہیں رہے گا مگر اس کی سجدہ کی جگہ میں ایک سفید نقطہ لگا تے موسیٰ کی لاٹھی کے ساتھ یہ نکتہ پھیل جائے گا یہاں تک کہ اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا اور کوئی کافر باقی نہیں رہے گا مگر اس کے چہرہ میں ایک کالا نقطہ لگا دے گا سلیمان کی انگوٹھی سے یہ نقطہ پھیل جائے گا یہاں تک کہ اس کا چہرہ کالا ہوجائے گا یہاں تک کہ لوگ بازاروں میں خرید وفروکت کریں گے اور کہیں گے اے مومن یہ چیز کتنے کی ہے اور اے کافر یہ چیز کتنے کی ہے۔ 42۔ ابن ابی حاتم نے صدقہ بن مزید (رح) سے روایت کیا کہ دابہ ایک آدمی کے پاس آئے گا اور وہ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہوگا اس کی آنکھوں کے رمیان اس کو جھوٹا لکھ دے گا۔ 45۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن سے پہلے جانو ردو مرتبہ نکلے گا یہاں تک کہ اس کے بارے میں لوگوں کو مارا جائے گا پھر تیسری مربہ تمہاری مساجد میں عظیم مسجد کے پاس نکلے گا وہ قوم کے پاس آئے گا اور لوگ ایک دوسرے پاس جمع ہوں گے تو دابہ کہے گا کس چیز نے تم کو اللہ کے دشمن کے پاس جمع کردیا وہ لوگ جلدی کریں گے تو مومن کو نشان لگائے گا یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کریں گے۔ ایک کہے گا اے مومن پکڑ لو اور دسرا کہے گا اے کافر پکڑ لو۔ 46۔ نعیم بن حماد نے فتن میں عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ دابہ جیاد کی گھاٹی سے نکلے گا اس کا سر چھوئے گا بادل کو اور اس کی ٹانگیں ابھی نہیں نکلیں گی زمین سے وہ ایک آدمی کے پاس آئے گا اور وہ نماز پڑھ رہا ہوگا اس سے کہے گا نماز تیرے کسی کام کی نہیں یہ تو محض بچاؤ کا بہانہ اور ریاکاری ہے پھر اسے نکیل ڈال دے گا۔ 47۔ نعیم نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں پہلی نشانی روم کی فتح اور پھر دجال اور تیسری نشانی یاجوج ماجوج اور چوتھی نشانی عیسیٰ کی تشریف آوری اور پانشیوں دھواں کا ظاہر ہونا اور چھٹی نشانی جانور کا نکلنا۔ 47۔ نعیم نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں پہلی نشانی روم کی فتح اور پھر دجال اور تیسری نشانی یاجوج ماجوج اور چوتھی نشانی عیسیٰ کی تشریف آوری اور پانچویں دھواں کا ظاہر ہونا اور چھٹی نشانی جانور کا نکلنا۔
Ayahs 27:83–86

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت ان لوگوں میں سے جمع کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی کردی جائے گی

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ حاضر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلا یا حالانکہ تم ان کو اپنے احاطہ علمی میں بھی نہ لائے بلکہ تم اور کیا کیا کام کرتے تھے۔

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر وعدہ پورا ہوچکا ہے سو وہ بات نہ کریں گے کیا

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا کہ وہ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو بنایا جس میں دیکھیں بھالیں بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم نحشر من کل امۃ فوجا یعنی جماعت آیت باٰیتنا فہم یوزعون، یعنی لوٹایاجائے گا ان کے اول کو ان کے اخر کی طرف۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوزعون سے مراد ہے کہ وہ ہانکے جائیں گے 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووقع القول یعنی قول ثابت ہوگیا قول سے مراد غصہ ہے، آیت والنہار مبصرا سے مراد ہے روشن۔ واللہ اعلم۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین ہیں سب گھبراجائیں گے سوائے اس کے جسے اللہ چاہے اور سب اس کے حضور میں عاجزی کے ساتھ حاضر ہوجائیں گے۔

1۔ سعید بن منصور وابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ففزع من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ “ سے مراد ہے شہداء۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” وکل اتوہ دکرین “ یعنی الف مد اور تارء کے رفع کے ساتھ پڑھا اس کے معنی کہ وہ لوگ اس کو کرنے والے ہیں۔ 3۔ سعی دبن منصور عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وکل اتوہ داخرین میں تاء کو الف خفیفہ تاء کے رفع کے ساتھ جس کا معنہ ہے کہ وہ لوگ اس کے پاس آئے یعنی الف کو بغی رمد کے پڑھا۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ آیت حفظ کرلی جو سورة نمل میں وکل اتوہ دخرین جس کے معنی پر (یعنی وہ لوگ اس کے پاس آئے۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داخرین سے مراد ہے ذلیل ہونے والے۔ 6۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا 7۔ ابن جریروابن ابی حاتم نے ابن زید رحا 8 ۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ داخرین یعنی ذلیل ہو کر بھاگنے والا کیونکہ وہ آدمی جب گھبراتا ہے تو اس کا ارادہ بھاگنے کا ہوتا ہے اس کام سے کہ جس سے وہ گھبرایا جب صور میں پھونکا جائے گا تو لوگ گھبراجائیں گے اور اللہ سے علاوہ ان کی پناہ کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تو پہاڑوں کو ایسی حالت میں دیکھ رہا ہے جس میں تجھ کو خیال ہوتا ہے کہ یہ یوں ہی جمے ہوئے رہیں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح گزریں گے یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنایا ہے بلاشبہ وہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

قیامت کے روز پہاڑوں کی حالت جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنای ہے بلاشہ وہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو (88) 1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتری الجبال تحسبہا جامدۃ یعنی کھڑے ہوئے صنع اللہ الذی اتقن کل شیء میں اتقن کا معنہ ہے مضبوط۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتری الجبال تحسبہا جامدۃ سے مراد ہے اپنی بنیادوں میں مضبوط حرکت کر تنے والے آیت وہی تمر مر السحاب 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت صنع اللہ الذی اتقن کل شیء یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہترین اور مضبوط بنایا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت صنع اللہ الذی اتقن کل شیء یعنی ہر چیز کو اچھا بنایا 5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی اتقن کل شیء “ یعنی ہر چیز کو مضبوط کیا۔ 6۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذی اتقن کل شیء، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا ہر جانور کی طرف کس طرح وہ اپنی جان کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔
Ayahs 27:89–90

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور ایسے لوگ اس دن گھبراہٹ سے پر امن ہوں گے

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو وہ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا سے مراد ہے لا الہ الا اللہ ومن جاء بالسیءۃ فکبت وجوہہم فی النار سے مراد ہے شرک۔ 2۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے دو ثابت ہونے والی چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا، وہم من فزع یومئذ اٰمنون، ومن جاء باسیءۃ فکبت وجوہہم فی لنار، ہل تجزون الا ماکنتم تعملون۔ سے مراد ہے وہ شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوا۔ 3۔ الحاکم نے الکنی میں صفوان بن عسال ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو ایمان اور شرک رب کے سامنے گھٹنوں کے بل حاضر ہوں گے اللہ تعالیٰ ایمان سے فرمائیں گے کہ تو اور ایمان والاجنت میں چلا جائے اور شرک سے فرمائیں کہ تو اور شرک کرنے وال ادوزخ کی طرف چلا جائے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا یعنی نیکی سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کہنا آیت من جاء بالحسنہ یعنی برائی سے مراد ہے شرک آیت فکبت وجوہہم فی لنار یعنی ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ وانس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اخلاص اور شرک قیامت کے دن آئے گا وہ دونوں رب کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہوں گے رب تعالیٰ اخلاص سے فرمائیں گے تو اور مخلص جنت میں چلے جاؤ پھر شرک سے فرمائیں گے کہ تو اور مشرک آگ کی طرف چلے جاؤ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ’ ’ فکبت وجوہہم فی النار، یعنی لا الہ اللہ کی شہادت کے ساتھ آیت ” فلہ خیر منہا، یعنی آیت ” بالخیر “ سے مراد ہے جنت آیت من جاء بالحسنۃ سے مراد ہے شرک آیت وجوہہم فی النار کہ ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ 5۔ ابو الشیح وابن مردویہ والدیلمی نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول من جاء بالحسنہ فلہ خیر منہا کے بارے میں فرمایا یعنی لا الہ اللہ کی شہادت کے ساتھ آئے گا۔ آیت ومن جاء بالسیءۃ یعنی شعک کے ساتھ آئے گا تو کہا جائے گا کہ یہ نجات دے گا اور یہ ہلاک کردے۔ 6۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی الاسماء والصفات والخرائطی فی مکارم الاخلاق ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ آیت من جاء بالحسنۃ یعنی لا الہ اللہ کے ساتھ آئے گا آیت ومن جاء بالسیءۃ اور جو شرک کو لے کر آیا۔ 7۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ حذیفہ ؓ ایک ھلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے پوچھا تم لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو آیت من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا، وہم من فزع یومئذ امنون، ومن جاء بالسیءۃ فکبت وجوہہم فی النار۔ تو لوگوں نے کہا ہاں ابو حذیفہ کہ جو ایک نیکی لے کر آئے گا تو اسے دس گنا اجر ثواب چیاجائے گا پھر انہوں نے سنگریزوں کی ایک مٹھی بھری پھ ران کو زمین پر پھینک دیا اور فرمایا ہلاکت ہو تمہارے لیے اور آپ بڑے ذہین تھے۔ اور فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ لے کر آیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس نے شرک کیا اس کے لیے دوزخ واجب ہوگئی۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی ابن عبا ؓ سے روایت کیا کہ آیت من جاء الحسنہ یعنی جو لا الہ الا اللہ کہے، آیت فلہ خیر منہا تو اس کے لیے اس میں سے بہترے ہے، آیت ومن جاء بالسیءۃ یعنی جو شرک کرے۔ 9۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ من جاء بالحسنۃ سے مراد ہے لا الہ الالہ کے ساتھ ومن جاء بالسءۃ یعنی جو شرک لے کر آیا۔ 10 عبد بن حمید نے حسن و ابراہیم واب و صالح سعید بن جبیر وعطاء و قتادہ اور مجاہ درحمہم اللہ تعالیٰ سے بھی اسی کی مثل روایت نقل کی ہے۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلہ خیرمنہا سے مراد ہے ثواب۔ 21۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من جاء بالحسنۃ سے مراد ہے شہادۃ لا الہ الا اللہ فلہ خیر منہا، یعنی اسے اس کے بدلہ میں جنت عطا کی جائے گی۔ جنت کی قیمت لا الہ الا اللہ 13۔ عبد بن حمید نے ھسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت کی قیمت لا الہ الا اللہ ہے۔ 24۔ ابن ابی حاتم نے زرہع بن ابراہیم (رح) سیر وایت کیا کہ آیت من جاء بالحسنۃ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ فلہ خیر فیہا کہ لا الہ الا اللہ خیر ہے کوئی چیز لا الہ الا اللہ سے زیادہ خیر والی نہیں۔ 15۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت “ وہم من فزع یومئذ اٰمنون “ میں فزع کو تنوی کے ساتھ یومئذ کو منصوب پڑھتے تھے۔
Ayahs 27:91–93

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی ہے اور ہر چزی اس کی ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں سو جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے سو وہ اپنے ہی لیے راہ ہدایت پر آتا ہے اور جو شخص گمراہی پر رہے آپ فرمادیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں سے ہوں

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور آپ یوں کہیے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے وہ عنقریب اپنی نشانیاں دکھادے گا سو تم ان کو پہچان لو گے اور اس کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم لوگ کرتے ہو

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اعبد رب ہذہ البلدۃ میں البلدۃ سے مراد ہے مکہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو یہ گمان ہے کہ البلدۃ سے مراد مکہ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو لاعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ البلدۃ سے منی مراد ہے۔ 5۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قراءت یہ ہے کہ آیت وان اتلوا القرٰن ہے، یعنی اتل امر کا صیغہ ہے۔ اور ابی بن کعب کی قرءت میں ہے آیت وان اتلوا القرآن، (یعنی ان پر قرآن کی تلوت کیجیے۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وا بن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت آیت ” سیریکم اٰیتہ فتعرفونہا “ یعنی عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے کہ تم اس کو پہچان لوگ یعنی تمہاری جانوں میں آسمانوں میں زمین میں اور رزق میں وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا۔ 7۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا قرآن میں جہاں بھی آیت وما ربک بغافل عما تعملون ہے وہ تاء کے ساتھ ہے اور آیت وما ربک بغافل عما یعملون ہے وہ یاء کے ساتھ ہے الحمدللہ سورة النمل ختم ہوئی