25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

وہ ذات عالی شان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ان میں ایک چراغ بنایا اور روشن کرنے والا چاند بنایا

1۔ الخطیب فی کتاب النجوم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی جعل فی السماء بروجا “ سے بارہ برج مراد ہیں اس کا پہلا حمل ہے پھر ثور ہے پھر جوزا ہے پھر سرطان ہے پھر اسد ہے پھر سنبلہ ہے پھر میزان ہے پھر عقرب ہے پھر قوس ہے پھر جدی ہے پھر دلو ہے پھر حوت ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی جعل فی السماء بروجا “ سے وہ محلات مراد ہیں جو آسمان کے دروازوں پر ہیں جن میں چوکیدار ہوتے ہیں۔ 3۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر نے یحییٰ بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے آسمان میں محلات مراد ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے مراد ہیں محلات پھر اس آیت ” ولکنتم فی بروج مشیدہ “ (النساء آیت 75) سے استدلال کیا۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ میں بروج سے مراد ہیں ستارے۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے ستارے مراد ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 8۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی جعل فی السماء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے اور عکرمہ (رح) نے فرمایا کہ آسمان والے دنیا کی مساجد کے نور کو دیکھتے ہیں جیسے دنیا والاے آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے مراد ہے سورج۔ 10۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” جعل فی السماء بروجا “ میں سراج کو واحد کا صیغہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ 11۔ سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو ” سراجا “ پڑھتے تھے۔ 12۔ سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت ” وجعل فیہا سراجا وقمرا منیرا “۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا اس شخص کے لیے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وہوالذی جعل الیل والنہار خلفۃ “ یعنی دن کو سفید اور رات کو سیاہ بنایا۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ رات دن کے پیچھے آتی ہے ار دن رات کے پیچھے آتا ہے آیت ” لمن اراد ان یذکر “ یعنی وہ ان دونوں (رات دن) میں اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کرے آیت ” یذکر او اراد شکورا “ ان نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ وہ دونوں مختلف ہیں رات سیاہ ہوتی ہے اور دن سفید ہوتا ہے مومن کبھی رات کو بھول جاتا ہے تو دن کو یاد کرلیتا ہے اور جب دن کو بھول جاتا ہے تو رات کو یاد کرلیتا ہے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ جس شخص کا رات کا کوئی عمل فوت ہوجائے تو وہ دن کے وقت کرے اور جس شخص کا دن کے وقت کا کوئی عمل فوت ہوجائے تو وہ رات کو کرے۔ 5۔ الطیالسی وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے چاشت کی نماز لمبی کردی تو ان سے پوچھا گیا آج آپ نے ایسا کام کیا جو آپ نے اس سے پہلے نہیں کیا۔ تو انہوں نے فرمایا میرا رات کا ورد رہ گیا تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا اس کو پورا کرلوں یا فرمایا کہ اس کی قضا کرلوں اور یہ آیت ” وہو الذی جعل الیل والنہار خلفۃ “ تلاوت فرمائی۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات کو دن کا خلیفہ اور دن کو رت کا خلیفہ بنایا جس سے دن کے ورد میں کوتاہی ہوجائے تو وہ اس کی قضا کرے۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے اگر رات کو عمل نہیں کرسکتا تو دن کو عمل کرے اور اگر دن کو عمل نہیں کرسکتا تو رات کو عمل کرے یہ اس کا نائب ہے۔ 8۔ عبد بن حمدی نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ جو شخص عاجز آگیا رات کے وقت میں عمل کرنے سے تو وہ دن کے شروع میں قضا کرے اور جو شخص دن کے وقت میں عمل کرنے سے عاجز آگیا تو وہ رات کے وقت اس کی قضا کرے۔ رات کے نوافل دن میں پڑھ لینا چاہیے 9۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سلمان فارسی ؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں رات کے قیام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو انہوں نے فرمایا اگر تو رات کے قیام کی طاقت نہیں رکھتا تو دن کو عاجز مت ہوجا (یعنی دن کو عبادت کرلے) قتادہ نے فرمایا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ہے جو آدمی بھی اس وقت میں نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس میں خیر کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرما دیتا ہے قتادہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنے اچھے عمل دکھاؤ رات اور دن میں کین کہ یہ دونوں یعنی رات اور دن سواریاں اور لوگوں کو ان کی موت تک اٹھائے پھرتی ہیں ہر دور کو قریب کردیتی ہیں اور نئی چیزوں کو بوسیدہ کردیتی ہیں اور ہر وعدہ کو لاتی ہیں قیامت کے دن تک۔ 10۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” لمن اراد ان یذکر “ کو تشدید کے ساتھ پڑھا۔ 11۔ سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو آیت ” لمن اراد ان یذکر “ پڑھتے تھے۔
Ayahs 25:63–67

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو عاجزی کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور جب ان سے جہالت والے بات کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سلام ہے

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لیے اس طرح رات گزارتے ہیں کہ سجدوں میں اور قیام میں مشغول رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب دور رکھیے بلاشبہ اس کا عذاب بالکل ہی تباہ کرنے والا ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بیشک وہ برا ٹھکانہ ہے اور برا مقام ہے

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا اس کے درمیان اعتدال والا ہوتا ہے

عبادالرحمن کے اوصاف 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن “ سے مراد ہے ایمان والے آیت ’ ’ الذین یمشود علی الارض ھونا “ یعنی وہ زمین پر چلتے ہیں اطاعت پاکدامنی اور تواضع کے ساتھ۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہیں علماء اور حکماء لوگ کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ سریانی زبان میں بردبار لوگوں کو کہتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ ” ھونا “ سے مراد ہے بردبار لوگ سریانی زبان میں۔ 6۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی شعب الایمان مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہے کہ رحمن کے بندے وقار اور مسکنت کے ساتھ چلتے ہیں آیت ” واذا خاطبہم الجہلون قالوا سلاما “ جب جاہل لوگ ان سے مخابط ہوتے ہیں جواب میں ٹھیک بات کرتے ہیں۔ عبد بن حمید نے عکرمہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ کہ وہ زمین پر سختی سے نہیں چلتے۔ 8۔ ابو نعیم نے حلیہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلنے میں تیزی کرنا مومن کے وقار کو ختم کردیتا ہے حدیث موضوع ہے ذخیرۃ الحفاظ۔ 9۔ الخرائطی فی مکارم الاخلاق فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذین یمشون علی الارض ھونا “ ‘ سے مراد ہے سکون اور وقار کے ساتھ آیت ” واذا خاطبہم الجہلون قالوا سلما “ اگر ان کے ساتھ جہالت کی جائے تو وہ حلم سے پیش آتے ہیں اگر ان کے ساتھ برا سلوک کیا جائے تو وہ اچھا سلوک کرتے ہیں اگر ان کو محروم رکھا جائے تو وہ عطا کرتے ہیں اگر ان سے تعلق توڑا جائے تو وہ تعلق کو جوڑتے ہیں۔ 10۔ الآمدی فی شرح دیوان الاعشی اپنی سند کے ساتھ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک جوان کو چلنے میں اکڑتے ہوئے دیکھا فرمایا اکڑ کر چلنے کو ناپسند کیا گیا ہے مگر اللہ کے راستے میں اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے اور فرمایا آیت ” وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا “ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذین یمشون علی الارض ھونا “ یعنی وہ تواضع اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لیے آیت ” واذا خاطبہم الجہلون قالوا سلما “ کہ وہ جہالت نہیں کرتے جہالت کرنے والون کے ساتھ۔ 12۔ ابو نعیم نے حلیہ میں محمد بن علی باقر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو گالی دی نبی ﷺ کی موجودگی میں وہ آدمی جس کو گالی دی گئی اس نے کہنا شروع کیا کہ تجھ پر سلام ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ تم دونوں کے درمیان ہے جو تیری طرف سے جواب دے جب بھی وہ تجھ کو گالی دیتا ہے تو یہ اس گالی دینے والے سے کہتا ہے تو ایسا ہے۔ اور تو اس کا مستحق زیادہ ہے جب تو نے اس سے کہا علیک السلام تو فرشتہ کہتا ہے نہیں بلکہ تو اس کا زیادہ مستحق ہے۔ 14۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا خاطبہم الجہلون یعنی بیوقوف لوگ آیت ” قالوا سلما “ یعنی وہ اچھا جواب دیتے ہیں آیت ” والذین یبیتون لربہم سجدا وقیاما “ یعنی وہ لوگ اللہ کے لیے رات کو نماز پڑھتے ہیں۔ 15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی فی شعب الایمان حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ یعنی وہ لوگ زمین پر چلتے ہیں بردبار اور متواضع ہو کر اور کسی سے جہالت نہیں کرتے اگرچہ ان کے ساتھ کوئی جاہل جہالت کرتے۔ یہ ان کا دن ہوتا ہے جب وہ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں آیت ” والذین یبیتون لربہم سجدا وقیامات اور یہ ان کی رات ہوتی ہے جب وہ اپنے رب اور اپنے درمیان خلوت میں ہوتے ہیں۔ حرام چیزوں سے اجتناب کرنا بھی عبادت ہے 16۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ تو عبادت گزار بن جائے گا اور اگر تو راضی ہوجائے اس چیز کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے مقدر کردی ہے تو مالدار ہوجائے گا اور اگر تو اچھا سلوک کرے ان لوگوں سے جو تیرے پاس رہے تو مسلمان بن جائے گا اور ایسا ہی معمالہ کر لوگوں سے جس کو تو پسند کرتا ہے کہ وہ تجھ سے ایسا ہی معاملہ کریں تو انصاف کرنے والا بن جائے گا زیادہ ہنسنے سے بچ کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے کچھ لوگ تھے جو زیادہ مال جمع کرتے اور مضبوط عمارتیں بناتے اور لمبی امیدیں رکھتے تھے وہ آج کہاں ہیں ان کی جمعیتیں ہلاک ہوگئیں ان کے عمل دھوکہ بن گئے اور ان کی رہنے کی جگہیں قبریں بن گئیں۔ ابن آدم بلاشبہ تو اپنے عمل کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے۔ اور تو اپنی اجل کے پورا ہونے پر اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا لے لے ان چیزوں میں جو تیرے ہاتھوں میں ہیں آنے والے دنوں کے لیے جو موت کے بعد آنے والے ہیں وہ تیرے لیے خیر لائے گا اے ابن آدم ! روند دے زمین کو اپنے قدموں کے ساتھ کیونکہ یہ تیری قبر کے قریب ہے بلاشبہ تو برابر اپنی عمر کو ختم کرنے میں لگا ہوا ہے جب سے تو اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا ہے اے ابن آدم لوگوں سے میل جول رکھ مگر ان سے جدا رہ اپنے بدن کے ساتھ ان سے میل جول رکھے اور اپنے دل اور اپنے عمل سے ان سے علیحدہ رہ اے ابن آدم ! تو پسند کرتا ہے کہ تیری نیکیوں کا ذکر کیا جائے اور تو ناپسند کرتا ہے تیری برائیوں کا ذکر کیا جائے اور تو گمان پر غصہ ہوجاتا ہے اور تو قائم رہتا ہے یقین پر یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ایمان والوں کے پاس جب یہ دعوت اللہ کی طرف سے آتی ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں تو ان کے دل ان کے بدن اور ان کی آنکھیں اس کے سامنے جھک جاتی ہیں اللہ کی قسم ! جب تو ان کو دیکھے گا تو ان کو ایسی قوم خیال کرے گا گویا وہ آنکھ کا دیکھنا ہے اللہ کی قسم ! وہ نہیں ہیں جھگڑنے والے اور باطل والے لیکن ان کے پاس اللہ کی طرف سے حکم آیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اللہ تعالیٰ نے ان کی قرآن مجید میں اچھی تعریف کرتے ہوئے فرمایا آیت ” وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا “ حسن ؓ نے فرمایا کہ عرب کے کلام میں ” ھون “ نرمی سکینہ اور وقار کو کہتے ہیں آیت ” واذا خاطبہم الجہلون قالوا سلما “ یعنی وہ بربار ہوتے ہیں جہالت نہیں کرتے اور اگر کوئی ان کے ساتھ جہالت کرتا ہے تو وہ حلم کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ دن کے وقت اللہ کے بندوں کی صحبت میں ہوتے ہیں جس کے بارے میں تم بھی سنتے ہو۔ پھر ان کی رات کو بہترین رات بتاتے ہوئے فرمایا آیت ” والذین یبیتون لربہم سجدا وقیاما “ وہ اللہ کے لیے اپنے قدموں پر کھڑے رہتے ہیں اور اپنے چہروں بچھاتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے ان کے آنسو ان کے رخساروں پر جاری ہوتے ہیں پنے رب سے ڈرتے ہوئے حسن نے فرمایا اس کے حکم کی بجاآوری کے لیے وہ اپنی راتوں کا جاگتے ہیں اور اس کے حکم کی بجاآوری کے لیے اپنے دنوں میں ڈرتے ہیں کہ کہیں حکم عدولی نہ ہوجائے آیت ” والذین یقولون ربنا الصرف عنا عذاب جہنم ان عذابھا کان غراما “ ہر وہ مصیبت جو ابن آدم کو پہنچتی ہے اور ہمیشہ نہیں رہتی تو وہ اس پر مصیبت نہیں ہوتی غراما اسے کہتے ہیں جو زمین و آسمان کے قائم رہنے تک موجود رہتی ہے۔ پھر فرمایا قوم نے سچی بات کہی اللہ قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں انہوں نے کام کیے اور آرزوئیں نہیں باندھیں سو تم ان آرزؤں سے بچوں اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا بلاشبہ الہ تعالیٰ نے کبھی بھی آرزو کے بدلے میں دنیا آخرت میں خیر عطا نہیں کیا وہ کہا کرتے تھے کاش ایسی نصیحت ہوتی جو دلوں کی زندگی کے موافق ہوتی۔ 17۔ عبد بن حمید نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت ” ان عذابہا کان غراما “ سے مراد ہے ہمیشہ کا عذاب۔ 18۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نافع بن ارزق (رح) نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” ان عذابھا کان غراما “ سے کیا مراد ہے تو فرمایا اس سے مراد ہے لازم رہنے والا سخت جیسے قرض خواہ مقروض کے ساتھ ساتھ رہتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کی اتونے بشر بن ابی حازم کا قول نہیں سنا ہے۔ آیت ویوم الفسار ویوم الفجار کانا عذابا وکانا غراما ترجمہ : یوم الفسار اور یوم الفجار کے دن کہ یہ دونوں دن عذاب کے دن تھے اور یہ دونوں لازم تھے۔ 19۔ ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع ارزق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” کان غراما “ کے بارے میں بتائیے کہ غراما کیا چیز ہے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے حد درحہ حریص اس میں شاعر نے کہا وما اکلۃ ان تلتہا بغنیمۃ ولا جو عۃ ان جعتہا بغرام ترجمہ : وہ کھانا نہیں اگر میں اسے غنیمت کے بدلے میں کھاؤں اور وہ بھوک نہیں اگر میں اسے پسندیدہ چیز کے بدلے میں پاؤں۔ 20۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان عذابھا کان غراما “ سے مراد ہے یقینی بات ہے کہ لوگ جان چکے ہیں کہ ہر قرض خواہ اپنے مقروض کو چھوڑدیتا ہے مگر جہنم جہنمی کو نہیں چھوڑے گی۔ 21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا “ سے مراد وہ مومن ہیں جو اسراف نہیں کرتے اگر اسراف کریں تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں پڑجائیں اور وہ کنجوسی بھی نہیں کرتے ہیں اگر ایسا کریں گے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پامال کریں گے۔ 23۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” ولم یقتروا “ یاء کے نصب اور تاء کے رفع کے ساتھ۔ 24۔ عبد بن حمید نے قادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا “ میں اسراف سے مراد ہے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنا اوراقتار سے مراد ہے اللہ کے حق کو روکنا اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے لوٹا دیا ہے تمہارے لیے لوٹنے کی جگہ بنائی ہے سو تم تو اللہ تعالیٰ کی پناہ کی طرف لوٹ جاؤ خرچ کرنے والے کے بارے میں فرمایا آیت ” یا ایہا الذین آیمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا “ (الاحزاب) یعنی تم سچی اور انصاف والی بات کہو اور مومنین کے لیے فرمایا آیت ” قل للمومنین یغضوا من ابصارھہم “ (النور آیت 30) یعنی ان چیزوں سے آنکھیں بند رکھو جو ان کے لیے حلال نہیں اور سننے کے بارے میں فرمایا آیت ” فبشر عبا۔ ، الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ ‘ (الزمر آیت 18) یعنی وہ اچھے طریقے سے اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لم یسرفوا ولم یقتروا “ سے مراد ہے کہ وہ باطل یعنی حرام کاموں میں خرچ نہیں کرتے اور نہ اس کو حق سے روکتے ہیں (یعنی صحیح جگہ خرچ کرنے سے بخل نہیں کرتے) ۔ 26 ابن جریر وابن ابی حاتم نے یزید بن ابی حبیب (رح) سیر وایت کیا کہ آیت ’ ’ والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا “ سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں جو کھانا محض اس لیے نہیں کھاتے تھے کہ وہ اس سے لذت حاصل کریں کپڑے اس لیے نہیں پنتے تے کہ جس کے ذریعہ وہ خوبصورتی کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے دل ایک ہی دل کی مانند تھے یعنی ایک ہی دل کی طرح جڑے ہوئے تھے ) ۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بین ذلک قواما “ سے مراد ہے انصاف۔ 28۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عمر مولی غفرہ (رح) سے روایت کیا کہ ” القوام “ سے مراد ہے کہ تو ناحق خرچ نہ کرے اور اس حق کو نہ روکے جو تیرے اوپر لازم ہے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن جریر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان بین ذلک قواما “ سے مراد ہے مالوں کا کچھ حصہ۔ 30۔ ابن جریر نے یزید بن مرہ جعفی (رح) نے فرمایا کہ علم عمل سے بہتر ہے اور نیکی دو برائیوں کے درمیان ہے یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں اور بہترین کام درمیانہ ہے۔ 13۔ عبدالرزاق نے حسن (رح) سے آیت ” لم یسرفوا ولم یقتروا “ کے بارے میں فرمایا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ فضول خرچی کے لیے کافی ہے کہ آدمی ایک چیز کی خواہش کرے اس کو خریدے اور کھائے۔ 32۔ احمد نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آدمی کی سمجھداری میں سے یہ ہے کہ اپنی معیشت میں میانہ روی اختیار کرے۔
Ayahs 25:68–71

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور وہ زنا نہیں کرتے، اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو وہ بڑی سزا سے ملاقات کرے گا

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اس کے لیے قیامت کے دن عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہے گا

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو شخص توبہ کرے اور نیک کام کرے سو وہ اللہ کی طرح خاص طور پر رجوع ہوتا ہے

کسی انسان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے 1۔ الفریابی احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن امردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن مسعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی میں نے پھر عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنے ہمسائے کی بویوی سے زنا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون “۔ 2۔ البخاری ومسلم وابداوٗ والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ ولبیہقی سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل شرک میں سے بعض لوگوں نے کثرت سے قتل کیے تھے اور زنا کیے تھے پھر وہ محمد ﷺ کے پاس آئے اور کہا جو آپ فرماتے ہیں اور اس کی طرف بلاتے ہیں وہ بہت اچھا دین ہے اگر ہم کو یہ بتادیا جائے کہ جو ہم نے بڑے عمل کیے ہیں اس پر کیا کفارہ ہے تو ہم ایمان لے آتے ہیں تو یہ آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اخر اور یہ آیت قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم نازل ہوئی۔ 3۔ البخاری وابن المنذر نے قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ عیہ سے سوال کیا کیا اس شخص کے لیے توبہ ہے جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا تو انہوں نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی آیت ” ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ سعید (رح) نے فرمایا کہ میں نے یہ آیت ابن عباس ؓ کو سنائی تھی جیسے کہ تو نے مجھے یہ آیت سنائی اور فرمایا یہ آیت مکی ہے اور اس کو مدنی آیت نے منسوخ کردیا جو سورة سناء میں ہے۔ 4۔ ابن المبارک نے شفی اصبحی (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس کو صعود کہا جاتا ہے۔ کافر اس کی چوٹی پر چڑھنے سے پہلے اس پر چالیس سال تک چڑھتا رہے گا اور جہنم میں ایک محل ہے اس کو ھوی کہا جاتا ہے کافر اس کے اوپر سے پھینکا جائے گا اس کی جڑ میں پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک گرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ومن یحلل علیہ غضبی فقد ہوای (طہ آیت 18) اور جہنم میں ایک وادی ہے جس کو اثام کہا جاتا ہے جس میں سانپ اور بچھو ہیں ایک سانپ کی پشت میں ستر مٹکوں کے برابر زہر ہوگا اور ان میں سے ایک بچھو پالان بندھے ہوئے خچر کی طرح ہوگا اور جہنم میں ایک وادی ہے جس کو غی کہا جاتا ہے۔ اس میں پیپ اور خون بہتا ہے۔ نمازوں کو ان کے اوقات میں پڑھنا افضل ترین عبادت ہے۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کون سے اعمال افضل ہیں ْ فرمایا نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا میں نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میں نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اگر میں زیادہ سوال کرتا تو آپ مجھ کو زیادہ جواب دیتے اور میں نے سوال کیا کون سا گناہ بڑا ہے اللہ کے نزدیک فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا تو اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھاناکھائے پھر ہم تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون “۔ 6۔ ابن مردویہ نے عون بن عبداللہ سے روایت کیا کہ میں نے اسود بن یزید سے سوال کیا کہ ابن مسعود ایک عمل کو دوسرے پر فضیلت دیتے تھے فرمایا ہاں میں نے ابن مسعود سے سوال کیا انہوں نے فرمایا میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ یارسول اللہ ! کون سے اعمال ایسے ہیں جو اللہ کی طرف زیادہ محبوب ہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب کرنے والے ہیں ْ تو آپ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا میں نے کہا پھر اس کے بعد کون سا عمل محبوب ہے فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میں نے کہا اس کے بعد کون سا عمل محبوب ہے۔ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اگر میں زیادہ سوال کرتا تو آپ زیادہ جواب دیتے۔ میں نے عرض کیا کون سے اعمال اللہ کی طرف زیادہ ناپسندیدہ ہیں اور اللہ سے زیادہ دور کرنے والے ہیں۔ ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانہ اس نے تجھ کو پیدا کیا اور یہ کہ تو قتل کرے اپنی اولاد کو کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی اور تو پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے پھر یہ آیت پڑھی آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اخر “۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سیر وایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو منع کیا ہے کہ تو مخلوق کی عبادت کرے اور خالق کو چھوڑ دے اور تجھ کو منع کیا ہے کہ تو اپنی اولاد کو قتل کرے اور اپنے کتے کو کھلائے اور تجھ کو منع کیا ہے کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے۔ اثام جہنم میں ایک وادی ہے 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ یلق اثاما “ میں اثام جہنم میں ایک وادی ہے۔ 9۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یلق اثاما “ میں ”’ اثام “ ‘ جہم میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے۔ 10۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اثام “ جہم میں وادیاں ہیں جن میں زناکار لوگ رہتے ہیں۔ 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یلق اثاما “ سے مراد ہے سخت سزا اور ہم سے یہ بھی بیان کرتے تھے کہ وہ جہنم میں ایک وادی ہے اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ لقمان کہا کرتے تھے اے میرے بیٹے ! زنا سے بچ کیونکہ اس کا اول ڈرنا ہے اور اس کا آخر ندامت ہے (یعنی اس کی ابتداء خوف سے ہوتی ہے اور انتہا شرمندگی سے ہوتی ہے ) ۔ 12۔ ابن المبار نے الزہد میں شفی اصبحی (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس کو اثاما کہا جاتا ہے اس میں ایسے سانپ اور بچھو ہیں کہ اس میں سے ہر ایک کی ریڑھ کی ہڈی میں ستر مٹکوں کے برابر زہر ہے۔ اور اس میں سے ایک بچھو پالان بندھے ہوئے خچر کی طرح ہے۔ 13۔ ابن الانباری نے حضرت ابن عباسر ضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” یلق اثاما “ کے بارے میں بتائیے کہ ” اثام “ کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے بدلہ اس کے بارے میں عامر بن طفیل (رح) نے فرمایا وروینا الاسنۃ من صداء ولاقت حمیز منا اثاما ترجمہ : اور ہم نے نیزوں کی پیاس بجھائی اور حمیر نے ہماری طرف سے جزاء پائی سامنے تھے گدھے ہم سے پیچھے تاخیر سے 14۔ الطبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اس کو آیت ” ومن یفعل ذلک یلق اثاما “ پڑھا۔ 15۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح سے پڑھا آیت ”’ یضعف “ رفع کے ساتھ۔ آیت ” لہ العذاب یوم القیامۃ “ اور آیت ” ویخلد فیہ “ کو یاء کے نصب اور لام کے رفع کے ساتھ پڑھا۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویخلد فیہ “ میں ضمیر سے مراد عذاب ہے۔ اور ” مہانا “ یعنی اس میں ذلیل ورسوا کیا جائے گا۔ 17۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اٰخر “ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ آیت بھاری گزری اور انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس نے شرک کیا قتل کیا اور زنا کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” یعبادی الذین اسرفو “ (الزمر آیت 53) تو کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو جو اس میں شرک کو پہنچے پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی آیت ” الا من تاب واٰمن وعمل عملا صالحا فائلئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کفر کو اسلام سے نافرمانی کو اطاعت سے اور نکار کو معرفت سے اور جہالت کو علم سے بدل دیا۔ 18۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی “ (فرقان کی یہ آیت مدینہ منورہ میں حمزہ ؓ کے قاتل وحشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ کہتے تھے ہم نے اسلام کو پہچان لیا اور اس کی فضیلت لیکن ہماری توبہ کیسے ہوگی اور ہم نے بتوں کی پوجا کی اور محمد ﷺ کے اصحاب کو قتل کیا اور ہم نے شراب پی اور مشرک عورتوں سے نکاح کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر “ نازل کی پھر ان کی توبہ کا حکم نازل ہوا آیت ” الا من تاب واٰمن واعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے سے بدل دیا اور مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح کو ایمان والی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں بدل دیا اور بتوں کی عبادت کرنے کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ بدل دیا۔ 19۔ عبد بن حمید نے عامر (رح) سیر وایت کیا کہ ان سے آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اخرت “ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے کہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں شرک کیا قتل کیا اور زنا بھی کیا۔ مسلمانوں نے ان سے کہا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ ہرگز ہم کو نہ بخشیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” الا من تاب “ پوری آیت۔ پھر فرمایا کہ توبہ ایامن اور نیک عمل آگیا جبکہ پہلے شرک قتل اور زنا تھا تو یہ تینوں کام تین کاموں کی جگہ پر ہیں۔ 20۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اخر “ نازل ہوئی تو نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے کہا ہم نے جاہلیت کے زمانے میں شرک کیا اور ہم نے ناحق قتل کیے تو یہ آیت ” الا من تاب “ نازل ہوئی۔ 21۔ ابن المنذو الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں ہم نے دو سال تک یہ آیت پڑھی آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر وال یقتلون النفس التی حرم اللہ الا الا بالحق ولا یزنون ومن یفعل ذلک یلق اثاما۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ” الا من تاب وامن “ میں نے نبی ﷺ کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ اس سے خوش ہوئے اور اس سے بھی خوش ہوئے آیت ” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ (الفتح) کہ ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح عطا فرمائی۔ 22۔ ابو داوٗ دنے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے آیت ” والذین لایدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون ومن یفعل ذلک یلق اثاما “۔ کے بارے میں روایت کیا پھر اس حکم سے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” الا من تاب وامن وعمل عملا صالح فاولئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت۔ مگر جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیں گے۔ توبہ ہر گناہ مٹا دیتی ہے۔ 23۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی پھر میں نماز سے فارغ ہو کر چلا گیا اچانک ایک عورت میرے دروازہ پر تھی اس نے کہا میں آپ کے پاس آئی ہوں اور میں سوال کرتی ہوں ان عملوں کے بارے میں جو میں نے برے اعمال کیے میرے لیے اس سے توبہ کی کوئی صورت ہے میں ن پوچھا وہ گناہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا میں نے زنا کیا جس کے نتیجے میں میں نے ایک بچہ جنا میں نے اسے بھی قتل کردیا میں نے کہا تیرے لیے کوئی توبہ نہیں اور نہ کوئی عزت ہے وہ کھڑی ہوگئی اور وہ کہہ رہی تھی ہائے افسوس کیا اس جسم کو آگ کے لیے پیدا کیا گیا جب میں نبی ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو میں نے اس عورت کا واقعہ آپ کو بیان کی آپ نے پوچھا تو نے اس کو کیا کہا تھا میں نے عرض کیا کہ میں نے اس سے کہا تیری کوئی توبہ اور نہ ہی کوئی عزت ہے۔ آپ نے فرمایا برا ہے جو تو نے کہا کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی آیت ” والذیدعون مع اللہ الہا اخر “ سے لے کر ” الا من تاب “ پوری آیت تک۔ ابوہریرہ نے کہا میں باہر نکلا اور میں مدینہ کے ہر گر اور گلی میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کیا تمہارے اندر وہ عورت ہے جو ابوہریرہ کے پاس آئی تھی وہ میرے پاس آجائے اور خوشخبری سن لے جب میں عشاء کے وقت گھر واپس آیا اچانک وہ عورت میرے دروازہ پر تھی میں نے کہا تو خوش ہوجا میں نے نبی ﷺ کو وہ بات بتائی جو تو نے مجھے کہی تھی اور جو میں نے تجھ کو کہا تھا آپ نے فرمایا برا ہے جو تو نے کہا کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی اور میں نے وہ آیت اس کو پڑھ کر سنائی تو وہ عورت سجدہ میں گر پڑی اور کہا میں اس اللہ کی تعریف کرتی ہوں جس نے میرے لیے توبہ اور اس گناہ سے نکلنے کا راستہ بنایا میں گواہی دیتی ہوں کہ یہ باندی جو اس کے ساتھ تھی اور اس کا بیٹا دونوں اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہیں اور بلاشبہ میں توبہ کی ان سب برے کاموں سے جو میں نے کیے۔ 24۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت “ کہ اس سے مراد وہ مومن ہیں کہ وہ اپنے ایمان سے پہلے برے کاموں پر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو برائیوں سے نفرت دلائی اور ان کو نیکیوں کی طرف پھیر دیا۔ اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ 25۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الا من تاب “ مگر جس نے توبہ کی گناہوں سے آیت ” واٰمن “ اور اپنے رب پر ایمان لایا آیت ’ ’ وعمل عملا صالحا “ اور نیک عمل کیے۔ یعنی اپنے اور اپنے رب کے درمیان معاملات کو درست کرے۔ آیت ” فاولئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ یہی لوگ ہیں جن کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتے ہیں اور فرمایا تبدیلی سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کے بعد اس کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کو بھلانے کے بعد اس کا ذکر کرنا اور برائی کرنے کے بعد نیکی کے کام کرنا ہے۔ 26۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فاولئک یبد اللہ سیاٰتہمہ حسنت “ دنیا میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تبدیل کردیں گے اس کے برے عمل کو نیک عمل سے اور شرک کو اخلاص سے اور بدکاریوں کو پاکدامنی سے اور اسی طرح کی مثالیں۔ 27۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ سے مراد ہے کہ شرک کے بعد ایمان سے بدل دیتے ہیں۔ 28۔ عبد بن حمید نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ یعنی جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے برے عملوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ 29۔ عبد بن حمید نے علی بن حسین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت سے مراد ہے آخرت میں برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جائے گا اور حسن (رح) نے فرمایا دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتے ہیں۔ 30۔ عبد بن حمید وابنا لمنذڑ نے ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ مومن کو اپنا اعمال نامہ دیا جائے گا پردہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو وہ اپنی برائیوں کو پڑھے گا۔ جب وہ پڑھے گا تو اس کا رنگ سیاہ ہوجائے گا مارے خوف کے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی نیکیوں کو پڑھے گا تو اس کا رنگ واپس آجائے گا پھر وہ دیکھے گا کہ اچانک اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل کدیا ہے اس وقت وہ کہے گا آیت ” ہاءم اقرء وا کتبیہ (الحاقہ آیت 19) یہ لے لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔ 31۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن اپنا اعمال نامہ دیا جائے گا وہ اس کے اوپر والا حصہ جپ پڑھے گا تو اس پر برائیاں ہوں گی تو وہ برے گمان میں مبتلا ہوگا وہ اس کے نیچے والے حصے کو دیکھے گا تو وہاں نیکیاں ہوں گی پھر وہ اس کے اوپر دیکھے گا تو اچانک ان کو نیکیوں میں بدل دیا گیا ہوگا۔ توبہ کی برکت سے برائیں نیکیوں میں تبدیل ہوں گی 32۔ احمد وہناد ومسلم والترمذی وابن جریر والبیہقی فی الاسماء والصفات ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اس سے کہا جائے گا کہ اس پر چھوٹے گناہوں کو پیش کرو اس پر اس کے چھوٹے گناہوں کو پیش کیا جائے گا اور اس کے بڑے گناہوں کو دور کردیا جائے گا اور اسے کہا جائے گا تو نے یہ گناہ کیے ہیں تو وہ اقرار کرے گا اور انکار نہیں کرے گا اور وہ بڑے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوگا کہ ابھی وہ آئیں گے اور حکم ہوگا اس کو ہر برائی کے بدلے اس کو ایک نیکی دے دو ۔ 33۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کچھ لوگ لائے جائیں گے جو اس بات کو پسند کریں گے کہ ان کی برائیں زیادہ ہوتیں پوچھا گیا یارسول اللہ وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہ لوگ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ 34۔ عبد بن حمید نے عمرو بن میمون (رح) سے آیت ” فاولئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں تک کہ بندہ یہ تمنا کرے گا کہ اس کی برائیاں زیادہ ہوتیں۔ 35۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ تمنا کریں گے کہ ان کے گناہ زیادہ ہوتے ابو العالیہ نے کہا یہ کیوں ؟ کہا کہ وہ اس آیت ” یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ کی تاویل کرتے ہیں۔ ابو العالیہ (رح) نے فرمایا اس نے ایسی بات کی خبر دی جس کو وہ نہیں جانتا اور کہا کہ میں ایمان لایا اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے کتاب میں نازل کی۔ پھر یہ آیت تلاوت کی آیت ” یوم تجد کل نفس ماعمل من خیر محضرا وما عملت من سوء تود لو ان بینھا وبینہ امدا بعیدا (آل عمران آیت 30) جس دن ہر آدمی پائے گا جو اس نے خیر میں سے عمل کیا تھا حاضر کیا ہوا اور جو اس نے برا عمل کیا تھا وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اس برے کام اور اس کے درمیان دور کی مدت ہوئی۔ 36۔ ابن ابی حاتم نے مکحول رحمۃ للہ علیہ سے روایت کیا کہ ایک بوڑھا آدمی آیا اور کہا یارسول اللہ ! ایک آدمی دھوکے باز اور بدکار ہے اس نے کوئی چھوٹا بڑا کام نہیں چھوڑا بلکہ خود اسے کیا اور اگر اس کے گناہوں کو تقسیم کردیا جائے زمین والوں کے درمیان تو ان کو ہلاک کردیں کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو مسلمان ہے ؟ اس نے کہا ہاں پھر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تجھ کو بخشنے والا ہے اور تیرے برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا ہے اس نے کہا یارسول اللہ اور میرے دھوکے بازیاں اور میرے گناہ کو بھی نیکیوں میں بدل دیں گے آپ نے فرمایا اور تیرے دھوکے بازیاں اور تیرے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے) 37۔ الطبرانی نے سلمہ بن کہیل (رح) سے روایت کیا کہ ایک نوجوان آیا اور کہا یارسول اللہ آپ بتائیے کہ جس نے ہر برائی اور غلطی کی اس کے لے جوئے کے تیر یا اس سے بڑھ کر کسی عمل کا موقع ملا تو اس نے اسے اپنے ہاتھ سے کیا اگر اس کے گناہوں کو مدینہ والوں میں تقسیم کردیا جائے تو وہ ان کو ڈھانپ لیں نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو مسلمان ہوچکا ہے اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں آپ نے فرمایا چلا جا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا اس نے کہا یارسول اللہ میری دھوکہ بازیوں اور میرے گناہوں کو بھی بدل دے گا آپ نے فرمایا تیری دھوکے بازیاں تیرے گناہوں کو بھی بخش دے گا تین مرتبہ اس کو فرمایا نوجوان لوٹ گیا اور وہ کہتا تھا اللہ اکبر۔ 38۔ ابن مردویہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ یہ تبیدلی تو قیام کے دن ہوگی جب ایک بندہ کھڑا ہوگا اللہ کے سامنے اور کتاب اس کے ہاتھ میں ہوگی وہ اس میں برائیوں اور نیکیوں کو دیکھے گا اور اس سے کہا جائے گا تجھ کو بخش دیا گیا تو وہ اس کے آگے یعنی اللہ کے سامنے سجدہ کرے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تیری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا وہ پھر سجدہ کر گے مخلوق کہے گی اس بندہ کے لیے خوشخبری ہے جس نے کبھی برا عمل نہیں کیا۔ 40۔ الطبرانی نے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ابن آدم سوجاتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے مجھے اپنا صحیفہ دے وہ اس کو دے دیتا ہے۔ اس کے صحیفہ میں جو ایک نیکی پاتا ہے تو اس کے بدلہ میں شیطان کے صحیفہ میں سے دس برائیوں کو مٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور جب تم میں سے کوئی نیند کا ارادہ کرے تو تینتیس مرتبہ اللہ اکبر اور چونتیس 34 مرتبہ الحمد للہ اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھے تو یہ سو پورے ہوں گے۔ 41۔ ابن عساکر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت ”’ یبدل اللہ سیاٰتہم حسنت “ سے مراد ہے کہ برائیوں کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ راوی نے کہا میں نے مکحول کو دیکھا وہ غصہ ہوگئے اور یہاں تک کہ کانپنا شروع کردیا۔
Ayahs 25:72–74

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کے کاموں میں حاضر نہیں ہوتے اور جب بیہودی کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ ہیں جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ سمجھایا جاتا ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائیے اور ہم کو متقیوں کا امام بنادیجئے

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ آیت ” والذین لا یشہدون الزور “ کے بارے میں فرمایا کہ زور مدینہ میں ایک بت تھا وہ لوگ اس کے اردگرد ساتویں دن کھیلتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کے پاس گزرے تو برے وقار کے ساتھ اس سے گزر جاتے تھے اور اس کی طرف نہ دیکھتے تھے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) و سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے شرک۔ 3۔ الخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے مشرکین کی عیدیں یعنی خوشی کے دن۔ جھوٹ اور جھوٹی گواہی دونوں حرام ہیں 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایشہدون الزور “ سے مراد ہے جھوٹ۔ ، 5۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے کہ مومن باطل والوں کی ان کے باطل پر مدد نہیں کرتے اور نہ ہی اس معاملہ میں ان سے دوستی کرتے ہیں۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن قیس الملائی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہیں۔ بری مجالس۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے وہ کھیل جو زمابہ جاہلیت میں تھا۔ 8۔ الفریابی وعبد بن حمید نے محمد بن الحنفیہ (رح) سیر وایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے، مراد ہے گانا اور کھیل تماشا۔ 9۔ عبد بن حمید نے ابو الجحاف (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے گانا۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ کہ غناء سے مراد نوحہ۔ 11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا ذم الغصب میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الشعب الایمان مجاہد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور سے مراد ہیں گانے کی مجلس۔ آیت ” واذا مروا باللغو مروا کراما “ یعنی جب ان کو تکلیف دی جاتی ہے تو معاف کردیتے ہیں۔ 12۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا مرو اباللغو مروا کراما سے مراد ہے جب وہ فضول کام کرنے والوں سے گزرتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں اور ان سے بات نہیں کرتے۔ 13۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت واذا مروا باللغو مروا کراما۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مکی ہے۔ 14۔ ابن ابی حاتم وابن عساکر نے ابراہیم بن میسرہ (رح) سیر وایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابن مسعود اعراض کرتے ہوئے گزرجاتے اور وہاں نہ ٹھہرتے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابن مسعود ؓ نے صبح یا شام کریم ہو کر گزاری پھر ابراہیم نے یہ آیت تلاوت کی آیت ” واذا مروا باللغو مروا کراما “ یعنی جب وہ گزرتے ہیں بری مجلس سے تو وہاں سے سنجیدگی کے ساتھ گزرجاتے ہیں۔ 15۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واذا مروا باللغو مرو کراما “ سے مراد ہے کہ لغو نہ ان کے حال میں اور نہ ان کے دل میں ہوتا ہے۔ 16۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واذا مروا باللغو “ کہ سارے لغو گناہ ہیں۔ 17۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” واذا مروا باللغو مروا کراما “ کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ نکاح کے ذکر پر آتے تھے تو اس سے رک جاتے تھے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین اذا ذکروا باٰیٰت ربہم لم یخروا علیہا صما وعمیانا “ سے مراد ہے کہ وہ حق سنتے تھے بہرے نہیں ہوتے اور حق دیکھنے سے اندھے نہیں ہوتے وہ ایسی قوم میں جو اللہ کی طرف سے عقل دئیے گئے ہیں تو وہ لوگ نفع اٹھاتے ہیں جس چیز کو سنتے ہیں اللہ کی کتاب میں سے۔ 19۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لم یخروا علیہا صما وعمیانا “ یعنی کتنے قاری ہیں جو اپنی زبان سے پڑھتے ہی اور وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر گرپڑتے ہیں۔ 20۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ’ والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “ سے مراد ہے جو اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں دنیا میں اور آخرت میں آیت ” وجعلنا للمتقین اماما “ یعنی ہم کو ہدایت کا امام بنادے کہ ہم سے ہدایت لی جائے اور ہم کو گمراہی کا امام نہ بنا۔ کیونکہ اہل سعادت کے لیے فرمایا۔ آیت ” وجعلنہم ائمۃ یہدون بامرنا “ (الانبیاء آیت 73) اور شقاوت کے بارے میں فرمایا ” وجعلنہم ائمہ یدعون الی النار “ (القصص آیت 41) 21۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “ سے مراد ہے کہ وہ حسن و جمال کے طالب نہیں بلکہ وہ اپنی بیویوں اور اولاد کے بارے میں یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ فرمانبردار بن جائیں۔ 22۔ ابن المبارک فی البر والصلۃ و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی شعب الایمان حسن بصری رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ ہم سے اس آیت (یعنی) آیت ” ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “ (کے بارے) پوچھا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دنیا میں ہے یا آخرت میں فرمایا نہیں اللہ کی قسم بلکہ وہ دنیا میں ہے کہا گیا وہ کیا ہے۔ فرمایا کہ ایک مسلمان آدمی دیکھتا ہے اپنی بیوی سے اپنی اولاد سے اپنے بھائی سے اور اپنے قریبی دوست سے اللہ کی اطاعت کو اور اللہ کی قسم ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہ ہوگی کہ وہ اپنے لڑکے کو یا والد کو یا دوست کو یا بھائی کو اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے دیکھے۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “ سے مراد ہے کہ اے اللہ ہم کو ایسی بیویاں اور ایسی اولاد عطا فرما جو تیری عبادت اچھی طرح کریں وہ عبادت کرتے وقت کسی قسم کے گناہ نہ کریں۔ آیت ” وجعلنا للمتقین اماما “ یعنی ہم کو ان کا مقتدی بنادیں۔ 24۔ احمد والبخاری فی الادب المفرد وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ مقداد بن اسود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو سخت مشکل حالات میں بھیجا انبیاء میں سے ایک نبی کو زمانہ جاہلیت میں اس کی قوم کی طرف بھیجا وہ نہیں جانتے تھے کہ دین افضل ہے بتوں کی عبادت سے۔ رسول اللہ ﷺ فرقان یعنی قرآن مجید) لائے کہ جس نے حق اور باطل کے درمیان تفریق کردی والد اور بیٹے کے درمیان تفریق کردی یہاں تک کہ اگر ایک آدمی دیکھتا تھا اپنے والد کو یا اپنی اولاد کو یا اپنے بھائی کفر کی حالت میں اور اللہ تعالیٰ نے کھول دیا تھا اس کے دل کے تالے کو ایمان کے ساتھ اور وہ جانتا تھا کہ اگر اس کا رشتہ دار اس حال میں فوت ہوگیا تو جہنم میں داخل ہوگا اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوگی اور وہ جانتا ہے کہ اس کا پیارہ رشتہ دار آگ میں ہوگا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “ (یعنی وہ لوگ کہتے ہیں اور ہمارے رب ہم کو عطا کیجیے ہماری بیویوں اور ہماری اولاد میں سے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی ان کو ہمارا فرمانبردار بنا دیجیے) ۔ 25۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو پڑھا آیت ” ہب لنا من ازواجنا وذریتنا “ یعنی ” وذریتنا “ کو واحد کا صیغہ پڑھا۔ 26۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا للمتقین اماما “ سے مراد ہے کہ ہم کو بھلائی میں قائد داعی اور ہادی بنا دے جن کی بھلائی میں اقتداء کی جاتی ہے۔ 27۔ الفریابی نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا للمتقین اماما “ یعنی ہم کو متقین کا امام بنادے۔
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے بالاخانے ملیں گے اور اس میں ان کو بقاء کی دعا اور سلام ملے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ ٹھہرنے کی اچھی جگہ ہے اور اچھا مقام ہے

1۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بالا خانے سرخ یاقوت یا سبز زبرجد کے یا سفید موتی کے ہوں گے اس میں نہ کوئی چیز ٹوٹی ہوئی ہوگی اور نہ پھٹی ہوئی ہوگی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ “ سے مراد ہے جنت۔ 3۔ ابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ بما صبرو “ سے مراد ہے کہ یہ بالا خانے ان کو دنیا میں وہ جو فقر پر صبر کرتے رہے اس پر ان کو بد دیا جائے گا۔ 4۔ زاہر بن طاہر الشحانمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایسے بالاخانے ہوں گے کہ جن میں اوپر سے زنجیر اور نیچے سے ستون نہ ہوں گے کہا گیا یا رسول اللہ اس میں ان کے رہنے والے کس طرح داخل ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس میں پرندے کی شکل میں داخل ہوں گے کہا گیا یارسول اللہ ! یہ بالاخانے کن کے لیے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا (دنیا میں) میں بیمار رہنے والے درد میں مبتلا رہنے والے اور مصیبت زدہ لوگوں کے لیے ہوں گے۔ 5۔ احمد نے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں کچھ بالا خانے ایسے ہیں جن کے اندر کی حالت باہر سے اور باہر کی حالت اندر سے دکھائی دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کے لیے تیار کیا ہے جو غریبوں کو کھانا کھلائے نرم کلام کرے متواتر روزے رکھے اور رات کو ایسے وقت نماز پڑھے جبکہ اور لوگ سو رہے ہوں۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ذکر ان آیات میں ہوا آیت ” یجزون الغرفۃ “ یعنی آخرت میں آیت ” الغرفۃ “ یعنی جنت آیت ” بما صبروا “ یعنی اپنے رب کے حکم پر صبر کیا آیت ” ویلقون فیہا “ یعنی ان سے فرشتے سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے آیت ” خلدین فیہا “ یعنی وہ نہیں مریں گے۔ آیت ” حسنت مستقرا “ یعنی ان کا اچھا ٹھکانہ جنت میں ہوگا ” ومقاما “ اور اچھی قیام گاہ ہوگی۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن سیرین سے ملا اور کہا ” حیتاک اللہ “ اللہ تجھ کو زندہ رکھے، تو انہوں نے فرمایا کہ بہترین سلام جنت والوں کا سلام ہے۔ 8۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” اولئک یجزون الغرفۃ “ میں الغرفہ کو واحد آیت ” بما صبروا ویلقون “ تخفیف اور یا کے نصب کے ساتھ پڑھا واللہ تعالیٰ اعلم۔