25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 25:27–31

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور یوں کہتے گا کہ کاش میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ راستہ بنا لیتا

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری بربادی کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

البتہ اس نے مجھے اس کے بعد ذکر سے ہٹا دیا جبکہ میرے پاس ذکر آگیا تھا اور شیطان انسان کو بےیار ومدد گار چھوڑنے والا ہے

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول اللہ ﷺ کا کہنا ہوگا کہ اے رب میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے مجرم لوگوں میں ہر نبی کے لیے دشمن بنائے ہیں اور ہدایت دینے اور مدد کرنے کو آپ کا رب کافی ہے

رسول ﷺ کی اتباع نہ کرنے والے خسارے میں ہوں گے 1۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل بسند صحیح من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو معیط نبی ﷺ کے پاس مکہ میں بیٹھا کرتا تھا اور آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا اور وہ بردبار آدمی تھا اور باقی قریش جب آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کو تکلیف دیتے تھے۔ اور ابو معیط کا ایک دوست شام میں رہتا تھا جو موجود نہیں تھا قریش نے کہا ابو معیط نے دین تبدیل کرلیا اس کا دوست شام سے رات کو آیا اور اپنی بیوی سے کہا محمد ﷺ نے کیا کیا اس دین کے بارے میں جس پر وہ تھے اس کی بیوی نے کہا وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ پھر اس نے پوچھا میرے دوست ابو معیط نے کیا کیا۔ اس نے کہا کہ اس نے دین تبدیل کرلیا ہے یہ سن کر اس نے بڑی تکلیف میں رات گزاری جب صبح ہوئی تو ابو معیط اس کے پاس آیا اس نے سلام کیا مگر اس نے جواب نہیں دیا ابو معیط نے کہا تجھے کیا ہوا ہے تو نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا اس نے کہا میں تیرے سلام کا جواب کیسے دوں اور تو صابی ہوگیا اس نے پوچھا کیا قریش نے ایسا ہی کہا ہے۔ اس نے کہا ہاں ! ابو معیط نے کہا میرا کون ساعمل انکے سینوں سے میری ناراضگی دور کرے گا اگر میں ایسا کروں دوست نے کہا ہم اس کی مجلس میں جاتے ہیں (یعنی محمد ﷺ کی مجلس میں) اور تو ان کے چہرہ پر تھوک دینا اور اس کو گالیاں دینا ان بری گالیوں میں سے جو تو جانتا ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ نبی ﷺ نے اس تھوک کو اپنے چہرہ مبارک سے صاف کیا پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اگر میں نے تجھ کو مکہ کے پہاڑوں کے باہر پالیا تو میں انتقام میں تیری گردن ماردوں گے۔ جب بدر کا دن تھا اور یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلا اس نے نکلنے سے انکار کیا تو اس کے ساتھیوں نے کہا ہمارے ساتھ نکل اس نے کہا کہ آدمی (یعنی محمد ﷺ نے کہا تھا کہ تیری گردن انتقام میں ماروں گا۔ انہوں نے کہا تیرا سرخ اونٹ ہے۔ وہ تجھ کو نہیں پاسکے گا اگر شکست ہوئی تو اس پر بیٹھ کر بھاگ جانا تو وہ ان کے ساتھ باہر نکلا جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی تو اس کے اونٹ نے اسے کیچڑ والی زمین میں گرادیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قیدی بنا کر پکڑ لیا قریش کے ستر قیدیوں میں ابو معیط آپ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ مجھے ان کے درمیان قتل کردیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس وجہ سے جو تو نے میرے چہرہ پر تھوکا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ابو معیط کے بارے میں یہ آیت اتاری۔ آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ سے لے کر ” وکان الشیطان للانسان خذولا “ تک۔ 2۔ ابو نعیم من طریق الکلبیابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ بن ابی معیط جب سفر سے آتا تھا تو کھانا تیار کرتا اور سارے مکہ والوں کو دعوت دیتا اور وہ اکثر نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا اور آپ کی باتوں سے خوشی ہوتا تھا اس پر بدبختی غالب آئی ایک دن وہ سفر سے آیا اور کھانا تیار کیا پھر رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا اپنے کھانے کی طرف آپ نے فرمایا میں تیرے کھانے میں سے نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تو گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا اے میرے بھتیجے کھانا کھائیں آپ نے فرمایا میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک تو پھر نہ کہے گا عقبہ نے گواہی دی اور آپ نے اس کے کھانے میں سے کھالیا۔ یہ بات ابی بن خلف کو پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا اے عقبہ تو نے دین تبدیل کرلیا ہے اور وہ اس کا قریبی دوست تھا اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں نے دین تبدیل نہیں کیا لیکن میرے پاس ایک آدمی یعنی محمد ﷺ آیا اس نے میرے کھانے میں سے انکار کردیا مگر اس صورت میں کہ میں اس کے لیے گواہی دوں تو مجھے شرم آئی کہ میرے گھر سے کھائے بغیر چلا جائے تو میں نے اس کی گواہی دے دی تو اس نے کھالیا ابی بن خلف نے کہا میں تجھ سے راضی نہیں ہوں گا یہاں تک کہ تو اس کے پاس جا کر کر اس کے چہرہ پر تھوک دے عقبہ نے ایسا کرلیا اس کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں تجھ کو مکہ سے باہر ملا تو میں تلوار سے تیری گردن اڑا دوں گا عقبہ بدر کے دن قید ہوگیا اور اس انتقام میں قتل کردیا گیا اس دن اس کے علاوہ قیدیوں میں کوئی قتل نہ ہوا۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابی بن خلف نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور عقبہ بن ابی معیط نے اس کو ڈانٹا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ سے لے کر ” وکان الشیطان للانسان خذولا “ تک۔ نبی کا دشمن بدر میں قتل کیا گیا 4۔ عبدالرزاق فی المصنف وابن جریر وابن المنذر مقسم سے جو ابن عمر ؓ کے غلام ہیں ان سے روایت کیا کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف جمحی دونوں آپس میں ملے عقبہ بن ابی معیط نے ابی بن خلف سے کہا اور دونوں جاہلیت میں دوست تھے اور ابی نبی ﷺ کے پاس آیا آپ نے اس کو اسلام پیش کی اجب یہ بات عقبہ نے سنی تو اس سے کہا میں تجھ سے راضی نہیں ہوں گا یہاں تک کہ تو محمد ﷺ کے پاس آئے اور ان کے چہرہ مبارک پر تھوک دے اور ان کو برا بھلا کہے اور ان کو جھٹلادے راوی نے کہا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے حضور ﷺ پر غلبہ نہیں دیا۔ جب بدر کا دن تھا تو عقبہ بن ابی معیط کو دوسرے قیدیوں میں قید کرلیا گیا نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب ؓ کو اس کے قتل کردینے کا حکم فرمایا عقبہ نے کہا یا محمد ﷺ کیا ان لوگوں کے درمیان صرف میں قتل کیا جاؤں گا ؟ فرمایا ہاں اس نے کہا کیوں ؟ فرمایا تیرے کفر تیری نافرمانی اور تیری سرکشی اور اللہ اور اس کے رسول پر زیادتی کی وجہ سے علی بن ابی طالب ؓ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کی گردن ماردی۔ لیکن ابی بن خلف نے کہا اللہ کی قسم ! میں محمد ﷺ کو قتل کردوں گا (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بلکہ میں انشاء اللہ اس کو قتل کردوں گا وہ اس بات سے ڈر گیا اور اس کے دل میں کھٹکا پید اہو گیا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات نہیں سنی تھی مگر وہ سچی ہوتی جب احد کا دن تھا تو وہ مشرکین کے ساتھ نکلا اور اس نے نبی ﷺ کو ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ ان پر حملہ کردے تو ایک آدمی مسلمانوں میں سے نبی ﷺ اور اس کے درمیان حائل ہوجاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے جب یہ دیکھا تو اپنے اصحاب سے فرمایا اس کا راستہ چھوڑد و آپ نے نیزہ لیا اور اس کے ساتھ اس کو مار دیہا تو وہ نیزہ اس کی ہنسلی کی ہڈی میں جاری ہوگیا اس کا زیادہ خون بھی نہیں نکلا تھا اور خون اس کے پیٹ میں چلا گیا تو بیل کی طرح ڈکارتا تھا اس کے ساتھی آئے یہاں تک کہ اس کو اٹھایا جیسا کہ وہ ڈکار رہا تھا اس کے ساتھیوں نے کہا کیا ہے یہ اللہ کی قسم تجھ کو ایک معمولی خراش ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اس کی چمک ہی لگ جاتی تو مجھے قتل کر ڈالتی کیا آپ نے یوں نہیں فرمایا تھا کہ میں تجھ کو قتل کروں گا اللہ کی قسم جو زخم مجھے لگا ہے اگر یہ تمام حجاز والوں کو لگتا تو سب کو قتل کردیتا۔ راوی نے کہا کہ وہ نہیں ٹھہرا یعنی وہ زندہ نہیں رہا مگر ایک دن یا اتنا ہی عرصہ یہاں تک کہ دوزخ کی طرف مرگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں نازل فرمایا آیت ” ویوم یعض الظالم علی عیدیہ “ سے لے کر آیت ” وکان الشیطان للانسان خذولا ‘ ‘ 5۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن خلف نے کھانا تیار کیا پھر وہ آیا اس مجلس میں جس میں نبی ﷺ تشریف فرما تھے اور کہا کھڑے ہوجاؤ تو نبی ﷺ کے علاوہ سب کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا میں کھڑا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ تو اس بات کی گواہی نہیں دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلا شبہ میں اللہ کا رسول ہوں تو اس نے گواہی دے دی اور ابی بن خلف کی ملاقات عقبہ بن ابی معیط سے ہوئی تو اس نے پوچھا کیا تو نے اس طرح اس طرح کہا ہے تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے کھانے کے لیے ارادہ کیا تھا کہ کسی طرح نبی ﷺ کھانا کھالیں اور میں مسلمان نہیں ہوا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آیت ” ویم یعض الظالم علی یدیہ “ یعنی جس روز ظالم افسوس سے اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں رسول اللہ کے ساتھ ان کی راہ پکڑ لیتا۔ دین حق قبول کرنے کے بعد انکار 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) نے آیت ” ویوم یعض الظالم علی عیدیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ عقبہ بن ابی معیط نے نبی ﷺ کو کھانے کی مجلس میں بلایا نبی ﷺ نے کھانے سے انکار فرمایا اور فرمایا میں نہیں کھؤں گا یہاں تک کہ تو اس بات کی گواہی نہ دے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس نے گواہی دیدی اور آپ نے کھانا تناول فرما لیا عقبہ بن ابی معیط کی اپنے دوسرے امیہ بن خلف سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ تو نے اپنا دین چھوڑدیا ہے امیہ نے کہا تیرا بھائی اسی دین پر ہے جس کو تو جانتا ہے لیکن میں نے کھانا تیار کیا تھا تو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا یہاں تک کہ میں وہ یہ بات کروں یعنی گواہی دوں میں نے وہ الفاظ کہہ دئیے لیکن میرے دل میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ہشام (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویویعض الظالم علی عیدیہ “ سے مراد ہے کہ وہ اپنی ہتھلیوں کو ندامت کی وجہ سے کھائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے کندھوں تک پہنچے گا اور اسے احساس بھی نہیں ہوگا۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ یعنی اپنے ہاتھ کو کھائے گا پھر اس کا ہاتھ پھوٹ پڑے گا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس کو چبائے گا یہاں تک کہ ہڈی ٹوٹ جائے گی پھر وہ ہڈی پیدا ہوجائے گی۔ 10۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ی آیت امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ ہاتھ کاٹنے والا عقبہ ہے۔ اور آیت ” لم اتخذ فلانا خلیلا “ اور خلیل سے مراد امیہ اور عقبہ امیہ کا دوست تھا اور امیہ کو یہ بات پہنچی کہ عقبہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ میرا چہرا تیرے چہرے سے حرام ہے اگر تو اسلام لایا تو میں تجھ سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا تو اس نے ایسا کرلیا (یہ اسلام لانے سے باز آگیا) تو یہ دونوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ قیامت کے روز کف افسوس 11۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر ابو مالک (رح) نے آیت ” لم اتخذ فلانا خلیلا ‘ کے بارے میں فرمایا کہ عقبہ بن ابی معیط اور میہ بن خلف دونوں جاہلیت میں آپس میں بھائی بھائی تھے۔ امیہ بن خلف کہے گا اے افسوس مجھ کو کہ میں عقبہ بن ابی معیط کو دوست نہ بناتا۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن میمون (رح) سے آیت ” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آتی عقبہ بن ابی معیط اور ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی کہ نبی ﷺ عقبہ کے پاس ایک ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اس نے لوگوں کے لیے کھانا پکایا ہوا تھا اس نے نبی ﷺ کو کھانے کی دعوت دی آپ نے فرمایا میں کھانا نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تو اسلام لائے اس نے اسلام قبول کرلیا تو آپ نے کھانا تناول فرمالیا یہ خبرابی بن خلف کو پہنچی وہ عقبہ کے پاس آیا اور اس کو ید دلایا جو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھ لیا عقبہ نے اس سے کہا تیری کیا رائے ہے کہ میرے گھر میں محمد ﷺ جیسا کوئی شخص داخل ہو جبکہ کھانا بھی تیار ہو پھر وہ کھائے بغیر چلا جائے ؟ اس نے کہا کہ میرا چہرہ تیرے چہرے پر حرام ہے یہاں تک کہ تو اس دین کو نہ چھوڑ دے جس میں تو داخل ہو تو عقبہ لوٹ (یعنی اسلام چھوڑدیا) تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 13۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ویوم یعض الظالم “ سے مراد امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط ہیں اور وہ دونوں جہنم میں دوست ہوں گے اور آگ کے ایک ہی منبر پر ہوں گے۔ 14۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ ایک آدمی قریش میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتا تھا اس کو ایک دوسرا آدمی قریش میں سے ملا وہ اس کا دوست تھا وہ برابر اس کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس کو پھیر دیا اور روک دیا رسول اللہ ﷺ کے ملنے سے تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں نازل فرمایا جو تم سنتے ہو۔ 15۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ” یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا “ میں فلاں سے مراد شیفان ہے (کاش میں اس کو دوست نہ بناتا) 16۔ عبد بن حمید وابن المنذر واطبن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الشیطان للانسان خذولا “ سے مراد ہے کہ شیطان قیامت کے دن اس کا ساتھ چھوڑدے گا اور اسے بری ہوجائے گا آیت ” وقال الرسول یرب ان قومی اتخذوا ہذا القراٰن مہجورا “ یہ تمہارے نبی کا قول ہوگا جو اپنی قوم کی اپنے رب سے شکایت کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو صبر دلاتے ہوئے فرمایا آیت ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین “ یعنی آپ سے پہلے بھی رسول نے اپنی قوموں کی اسی طرح تکلیفیں اٹھائی اس لیے یہ تجھ پر ہرگز بھاری نہ ہوں۔ 17۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتخذوا ہذا القراٰن ہجورا “ کفار نازیبا باتیں کر کے بکواس مارتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ یہ جادو ہے۔ 18۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتخذوا ہذا القراٰن مہجورا “ یعنی ناحق باتیں کرتے ہیں کیا تو نے مریض کو نہیں دیکھا جب وہ بکواس بکتا ہے اس وقت کہتے ہیں حجر المریض یعنی مریض نے ناحق بات کی۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین ‘ سے مراد ہے کہ کبھی کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر مجرمین اس کے دشمن بن گئے اور کبھی کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر بعض مجرم زیادہ سخت ثابت ہوئے بعض سے (دشمنی کے لحاظ سے) 20۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین “ سے مراد ہے کہ نبی ﷺ کا دشمن ابو جہل تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن قارون تھا اور قارون، موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ 21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کو اس بات پر قائل کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں میں سے نبی اکرم ﷺ کے دشمن بنانے والا ہے جیسے کہ ان سے پہلے انبیاء کے دشمن بنائے۔
Ayahs 25:32–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ ان پر قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہ کردیا گیا، ہم نے اسی طرح نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتار ہے

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ کے سامنے کیسا ہی عجیب سوال کریں ہم ضرور اس کا ٹھیک جواب خوب وضاحت میں بڑاھ ہوا آپ کو عطا کردیں گے

1۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والضیا فی المختارہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے کہا اگر محمد ﷺ نبی ہیں جیسے وہ گمان کرتے ہیں تو ان کا عذاب نہ دیتا اللہ تعالیٰ نے ان پر یکبارگی میں قرآن کیوں نازل نہیں کیا آپ پر کبھی ایک آیت کبھی دو آیتیں اور کبھی ایک سورت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر جواب کو نازل فرمایا جو انہوں نے کہا تھا آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ سے لے کر آیت ” واضل سبیلا “ تک۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ یعنی ایک مرتبہ قرآن کیوں نہیں اتارا گیا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلنہ ترتیلا “ یعنی ہم نے اس کو کھول کر بیان کیا آیت ” ولا یاتونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیر “ یعنی اس کی بہترین تفصیل کرتے ہوئے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کذلک لنثبت بہ فؤادک “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر ایک آیت کو نازل فرماتے تھے جب رسول اللہ ﷺ اسے جان لیتے تھے تو پھر دوسری آتی نازل ہوتی تاکہ آپ اس کتاب کو زبانی یاد کرلیں اور اس کے ذریعہ آپ کے دل کو ثابت کردیں آیت ” ولا یاتونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیر ا “ یعنی ہم اس کی بہترین تفسیر کردیں۔ 4۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کذلک لنثبت “ تاکہ پختہ کردیں اس کو تیرے دل میں اور ہم آپ کے دل کو مضبوط کردیں آیت ” ورتلنہ ترتیلا “ اور ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجا آتی ” ولا یاتونک بمثل “ یعنی اگر ہم ایک ہی دفعہ قرآن نازل کردیتے پھر وہ لوگ آپ سے سوال کرتے تو آپ اس کا جواب نہ دے سکتے۔ لیکن ہم اسے آپ پر رو کے رکھتے ہیں جب وہ آپ سے سوال کریں گے تو میں جواب دوں گا۔ قرآن تیس سال کے عرصہ میں نازل ہوا۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے کہا کیا وجہ ہے کہ قرآن نبی ﷺ پر یکبارگی نازل نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلنہ ترتیلا “ یعنی تھوڑا تھوڑا جیسے وہ آپ پر کوئی اعتراض نہیں کرتے مگر ہم لاتے ہیں اس چیز کو جو ان کا توڑ کردیتی ہے سو ہم نے اس کو آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا جب وہ کوئی اعتراض کرتے ہیں تو ہم ان کو ایسا جواب دیتے ہیں جو وضاحت کے لحاظ سے بہترین چیز ہوتی ہے۔ 6۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت ’ ’ ورتلنہ ترتیلا “ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ پر ایک آیت یا دو آیتین یا کئی آیات نازل ہوتی تھیں ان کافروں کے کے سوالات کے جواب میں جب وہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں آیات کو نازل فرماتے تھے اور نبی ﷺ کی طرف سے رد فرماتے تھے جن کے بارے میں کافر نازیبا باتیں کرتے تھے اور یہ سلسلہ تقریباً بیس سال تک چلتا رہا۔ 7۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ” کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلنہ ترتیلا “ کی بارے میں روایت کیا کہ قرآن مشرکوں کے جواب میں نازل ہوتا تھا کہ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ان کا جواب دیتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں آیت ” ولا یاتونک بمثل الا جئنک بالحق “ فرمایا کفار جو بھی باتیں کریں گے تو ہم وہ قرآن لائیں گے مشرک جو اعتراض کریں گے وہ ان کو رد کردے گا۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ورتلنہ ترتیلا “ سے مراد ہے کہ (قرآن متفرق طور پر نازل کیا گیا ) ۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” ورتلنہ ترتیلا “ سے مراد ہے کہ ہم نے اسے خوب کھول کر بیان کیا۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے عطار (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واحسن تفسیرا “ سے مراد ہے تفصیل کے ساتھ۔ 11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واحسن تفسیر “ سے مراد ہے (بہترین طریقہ سے) بیان کرنا۔
Ayahs 25:34–38

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے یہ لوگ جگہ کے اعتبار سے بھی بدترین ہیں اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہیں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی کو وزیر بنادیا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ اس قوم کی طرف چلے جاؤ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، پھر ہم نے اس قوم کو بالکل ہی ہلاک کردیا۔ اور ہم نے قوم نوح کو ہلاک کیا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے انہیں غرق کردیا اور ان کو لوگوں کے لیے عبرت بنادیا، اور ہم نے ظالموں کے لیے درناک عذاب تیار کیا

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود کو اور اصحاب الرس کو اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کو ہلاک کیا

1۔ ابن جریر وابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک شر مکانا “ سے مراد ہے کہ یہ کافر بری جگہ ہوں گے اہل جنت کے مقابلہ میں آیت ” واضل سبیلا “ یعنی طریقے کے لحاظ سے بھی بہت گمراہ ہیں۔ 2۔ عبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا معہ اخاہ ہر وان وزیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار اور سہارا بنادیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فدمرنہم تد میرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔ 4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وعادا وثمودا “ یعنی ثمودا کو تنوین کے ساتھ۔ 5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرس “ قوم ثمود کی ایک بستی تھی۔ 6 ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرس “ آذر بئیجان کا ایک کنواں ہے۔ 7۔ ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واصحب الرس “ سے مراد ہے شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” واصحب الرس “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو بیان کیا گیا کہ رس والے یمامہ میں صلح والے ہیں اور وہ کنویں جن پر وہ رہتے ہیں۔ 9۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الرس “ ایک کنواں تھا کہ جس پر قوم آباد تھی ان کو کہا جاتا ” واصحب الرس ]‘ یعنی کنویں والے۔ 10۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واصحب الرس “ سے مراد ہے کہ ان لوگوں نے اپنے نبی ﷺ نے ایک کنواں دفن کردیا تھا۔ 11۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب ؓ سے آیت ” واصحب الرس “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد کنویں والا۔ جس نے کہا آیت ” یقوم اتبعو المرسلین، (یعنی اے میری قوم رسولوں کی اتباع کرو تو اس کی قوم نے اس کو پتھروں کے ساتھ کنویں میں دفن کرویا۔ 12۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الرس “ سے مراد وہ کنواں ہے کہ جس میں صاحب یسین کو قتل کیا گیا۔ 13۔ ابن ابی الدنی اس فی ذم الملاہی والبیہقی وابن عساکر جعفر بن محمد بن علی ؓ سے روایت ہے کہ دو عورتوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ یہ حکم اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں کہ ایک عورت کا دوسری عورت کے پاس جانا حرام ہے فرمایا ہاں ! وہ عورتیں جو تبع بادشاہ کے عہد میں تھیں اور وہ رس والی تھیں۔ ہر نہر اور کنویں کو رس کہتے ہیں۔ پھر فرمایا ایسی عورتوں کے لیے آگ کا جادو اور آگ کی قمیض اور آگ کا کمر بند اور آگ کا تاج اور آگ کے دو موزے اور ان کے اوپر سخت کھردرا موٹا بدبو دار کپڑا ہوگا جو آگ سے بنا ہوا ہوگا جعفر نے فرمایا یہ باتیں اپنی عورتوں کو سکھاؤ۔ 14۔ ابن ابی الدنیا نے واثلہ بن اسقع (رح) سے روایت کیا کہ مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ عورتوں کا آپس میں خوہش پوری کرنا یہ ان کا آپس کا زنا ہے۔ 15۔ عبدالرزاق نے المصنف میں عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے سوار ہونے والی اور جس پر سوار ہواجائے دونوں پر لعنت کی ہے۔ (یعنی ایک دوسرے کے اوپر ہو کر خواہش نفس پوری کرنے والیاں) ۔ 16۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ایکہ والے اور رس والے دو قومیں تھیں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف ایک نبی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو دو عذابوں کے ذریعے عذاب دیا۔ سیاہ رنگ کا جنتی 17۔ ابن اسحاق وابن جریر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے پہلے ایک سیاہ رنگ والا آدمی جنت میں داخل ہوگا اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کو ایک بستی والوں کے پاس بھیجا بستی والوں میں ایک بھی ایمان نہ لایا مگر صرف یہی سیاہ رنگ والا آدمی پھر بستی والے نبی کے دشمن ہوگئے انہوں نے اس کے لی ایک کنواں کھودا اور اس میں ان کو ڈال دیا پھر اوپر سے بھاری پتھر سے کنویں کو بند کردیا وہ سیاہ رنگ والا جاتا اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لادتا پھر ان کو بیچ کر کھانا اور پینا خریدتا پھر وہ اس کنویں کی طرف آتا اس پتھر کو اوپر اٹھاتا اس پر اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے تو وہ اس کھانے اور پینے کو اس میں لٹکا دیتا پھر اس چٹان کو اس طرح کردیتا جیسے وہ پہلے تھی جب تک اللہ نے چاہا یہ سلسہہ چلتا رہا۔ پھر ایک دن وہ لکڑیان کاٹنے گیا جیسے وہ کیا کرتا تھا اس نے اپنی لکڑیوں کو جمع کیا اور اس کا گٹھا باندھا اور اس سے جب فارغ ہوا تو ارادہ کیا کہ اس کو اٹھاؤں اس کو اونگھ آنے لگی وہ لیٹا اور سوگیا وہ سات سال تک نیند کی حالت میں ایک ہی پہلو پر سویا رہا پھر وہ نیند سے بیدا ہوا پھر اٹھا اور چند قدم چلا تو دوسری طرف کو جھک گیا تو لیٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اس کو دوسرے پہلو پر سات سال کے لیے سلا دیا پھر وہ نیند سے بیدار ہوا اپنا گٹھا اٹھا یا اور اس نے ایسا خیال کیا کہ وہ دن کے کچھ وقت کے لیے سویا تھا وہ بستی کی طرف آی آپنے گٹھے کو بیچا پھر کھانا پینا خریدا جیسے وہ کیا کرتا تھا پھر وہ اس کنویں کی طرف گیا جس میں وہ تشریف رکھتے تھے اس نے اس کو تلاش کیا مگر اس کو نہ پایا اور اس کی قوم کو اللہ کی طرف سے کچھ ظاہر ہوا تو انہوں نے اس نبی کو باہر نکالا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی اور وہ نبی صل اللہ علیہ ولسم ان سے حبشی سیاہ رنگ والے آدمی کے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ اس کا کیا حال ہے تو وہ کہتے ہم نہیں جانتے یہاں تک کہ وہ نبی اس دنیا سے اٹھا لیے گئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سیاہ رنگ والے آدمی کو نیند سے ان کے بع دبیدار کیا یہ وہی سیاہ رنگ والا آدمی ہے جس سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔ 18۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بعد عدنان بن ادبن زید بن البراء اور اعراق الثری پھر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ہلاک ہوگئے۔ آیت ” وعادا وثمودا واصحب الرس وقرونا بین ذلک کثیرا۔ لایعلمہم الا اللہ “ (یعنی عاد اور ثمود اور رس والے اور اس کے درمیان بہت سی جماعتیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر ام سلمہ نے فرمایا ” اعراق الثری “ سے مراد ہے اسماعیل زید ہمیسع برانیت۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” وقرونا بین ذلک کثیرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ قرن سے مراد ستر سال ہیں۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زرارہ بن اوفی ٰ ؓ سے روایت کیا کہ قرن ایک سو بیس سال کا ہے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جس قرن میں بھیجے گئے تھا اس کا آخری سال وہ تھا جس میں یزید بن معاویہ نے وفات پائی۔ 21۔ ابن مرفویہ نے ابی سلمہ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس قرن تھے اور نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان بھی دس قرن تھے ابو سلمہ نے فرمایا کہ قرن سو سال کا ہے۔ 22۔ الحاکم وابن مردویہ نے عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سر پر رکھا اور فرمایا کہ یہ لڑ کا ایک قرن زندہ رہے گا تو وہ سو سال زندہ رہے۔ سو سال زندہ رہنے کی پیشنگوئی 23۔ ابن جریر وابن ابی حاتم محمد بن القاسم الحمصی کے طریق سے عبداللہ بن بسر مازنی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سر پر رکھا اور فرمایا عنقریب یہ لڑکا ایک قرن زندہ رہے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قرن کتنا ہوتا ہے ؟ فرمایا سو سال محمد بن قاسم نے کہا ہم برابر ان کی عمر کو گنتے رہے یہاں تک کہ سو سال پورے ہوئے پھر وہ فوت ہوئے۔ 24۔ ابن مردویہ نے ابو ہیثم بن دھر اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرن پچاس سال کا ہے۔ 25۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت پانچ قرن ہے اور ایک قرن چالیس سال کا ہے۔ 26۔ ابن المنذر نے حماد بن ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرن چالیس سال کا ہے۔ 27۔ ابن جریر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرن چالیس سال کا ہے۔ 28۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے نے فرمایا کہ قرن ساٹھ سال کا ہے۔ 29۔ الحاکم نے الکنی میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نسب بیان کرتے ہوئے معد بن عدنان تک پہنچے تو رک گئے پھر فرمایا کہ نسب بیان کرنے والوں نے جھوٹ کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” وقرونا بین ذلک کثیر ا “
Ayahs 25:39–42

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ان میں ہر ایک کے لیے ہم نے امثال بیان کیں اور ہر ایک ہم نے پوری طرح ہلاک کردیا

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ اس بستی پر گزرے ہیں جس پر بری بارش برسائی گئی کیا یہ اسے نہیں دیکھتے رہے، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ موت کے بعد اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جب وہ آپ کو دیکھتے تو بس آپ کا مذاق ہی اڑاتے ہیں کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس نے تو ہمیں معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے ہوئے نہ رہتے، اور جس وقت یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے اس بات کو جان لیں گے کہ کون شخص راہ سے ہٹا ہوا تھا

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کی ہر ایک کے لیے دلائل کو واضح کیا پر ان سے انتقام لیا آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطر السوء “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی آیت ” بل کانوا لایرجون نشورا “ (یعنی وہ لوگ نہ امید رکھتے تھے نہ اٹھنے کی اور نہ حساب کی۔ 2۔ عبدالرزاق وابن اجریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکلا تبرنا تتبیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” تتبیرا “ نبطی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ “ سے قوم لوط کی سدوم بستی مراد ہے آتی ” التی امطرت مطر السوء “ یعنی پتھروں کی بارش کی گئی۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ “ سے وہ بستی مراد ہے جو شام اور مدینہ کے درمیان ہے۔ 7۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایرجون نشورا “ کہ وہ اٹھنے کی امید نہیں رکھتے۔ اور آتی ” لو لاان صبرنا علیہا “ یعنی اگر ہم ان معبودوں کی پوجا پر جمے نہ رہتے۔
Ayahs 25:43–44

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنالیا، سو کیا آپ اس کے وکیل ہیں

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، یہ لوگ محض چوپایوں کی طرح سے ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ’ ’ ارءیت من اتخذ الہہ ہواہ “ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی ایک زمانے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا تھا جب اس سے خوبصورت پتھر کو پاتا تھا تو اس کو پھینک دیتا تھا اور دوسرے کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ،۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابو رجاء عطاردی (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں خون کو بالوں کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے جب بعد میں اس سے خوبصورت پتھر کو پاتے تو پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے کی عبادت کرتے تھے جب دوسرا گم ہوجاتا تو کسی منادی کرنے والے کو حکم کرتے تو وہ منادی دیتا اے لوگو ! تمہارا خدا گم ہوگیا ہے اس کو تلاش کرو تو اللہ تاعلیٰ نے یہ آیت ” ارء یت من اتخذ الہہ ہواہ “ اتاری یعنی کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو خدا بنا رکھا ہے۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ ارء یت من اتخذ الہہ ہواہ “ سے مراد وہ کافر ہے جس نے اپنا دین اللہ کی طرف سے بغیر ہدایت اور دلیل کے لیا ہے۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذور وابن ابی حاتم نے حسن بصری سے روایت کیا کہ آیت ” ارء یت من اتخذ الہہ ہوہ “ سے مراد ہے وہ جس چیز سے محبت کرتے تھے اس کی پیروی شروع کردیتے۔ محض خواہش کی اتباع کرنے والا۔ 5۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ارء یت من اتخذ الہہ ہوہ “ سے مراد ہے کہ جب بھی وہ کسی چیز سے محبت کرتا تو اس پر سوار ہوجاتا اور جب بھی کسی چیز کی خواہش کرتا تو اس کے پاس آتا اور اس بات سے اسے تقویٰ اور خدا کا خوف نہ رد کرتا تھا۔ 6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا قبلہ والوں میں شرک ہے فرمایا ہاں منافق مشرک ہے کیونکہ مشرک اللہ کو چھوڑدیتا ہے سورج اور چاند کو سجدہ کرتا ہے۔ جبکہ منافق اپنی خواہشات کی عبادت کرتا ہے پھر یہ آیت ” ار ئیت من اتخذ الہہ ہواہ، افانت تکون علیہ وکیلا “ تلاوت فرمائی۔ 7۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان کے نیچے اللہ کے نزدیک خواہشات نفس سے برا کوئی معبود نہیں ہے جس کی اتباع کی جائے۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” ام تحسب ان اکثرہم یسمعون “ یے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا جیسے مثال اونٹ کی گدھے کی اور بکری کی جب آپ ان سے کہتے ہیں کھاؤ ! تو وہ نہیں سمجھتے سوائے اس کے کہ وہ جانور تیری آواز کو سنتا ہے اسی طرح کافر ہے اگر تو اسے خیر کا حکم کرے یا اس کو برائی سے روکے یا اس کو نصیحت کرے تو وہ نہیں سمجھتا جو تو کہتا ہے سوائے اس کے کہ وہ تیری آواز کو سنتا ہے۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل ہم اضل سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ غلط راستے والے ہیں۔
Ayahs 25:45–47

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے اپنے رب کی طرف نظر نہیں کی کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلایا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ٹھہرا ہوا رکھتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر علامت مقرر کیا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس اور نیند کو آرام کی چیز بنایا اور دن کو پھیل جانے کا وقت بنایا

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے (سایہ کو کیسے بڑھایا) 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل سے مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا جب تو نے فجر کی نماز پڑھی تو سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک ایک سایہ ہوتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ اس پر سورج کو دلیل بنا کر بھیجتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سائے کو قبض کرلیتا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ یہاں سائے کے پھیلانے سے مراد طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک کا عرصہ آیت ” ولشاء لجعلہ سکنا “ یعنی اگر ہم چاہیں تو اس کو دائمی کردیں۔ آتی ” ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا “ یعنی طلوع شمس کو ہم نے اس پر دلیل بنا دیا۔۔ آیت ” ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا “ یعنی پھر ہم اس کو قبض کرلیتے ہیں جلدی سے۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے کہ صبح کا سایہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے آیت ” ولشاء لجعلہ ساکنا “ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس سائے کو دائمی بنا دیتا نہ اسے سورج پہنچتا اور نہ ہی وہ زائل ہوتا آیت ” ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا “۔ پھر اس میں ہم سورج کو دلیل بناتے ہیں جو اس سے جمع کرلیتا ہے۔ آیت ” ثم قبضنہ الینا “ پھر ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے۔ آیت ” قبضا یسیرا “ یعنی ہلکے ہلکے انداز میں۔ 5۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح فجر صادق کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے طلوع ہونے کے درمیان سایہ مشرق سے مغرب تک پھیلادیا ہے۔ آیت ” ولو شاء لجعلہ ساکنا “ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے یونہی مشرق سے مغرب تک پھیلا رہنے دیتا۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ایوب بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کو سایہ بنادیا یہ صبح کی نماز سے لے کر سورج کے طلوع ہونے کے درمیان ہوتا ہے۔ آیت ’ ’ ثم قبضناہ الینا قبضا یسیرا “ یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے یہ اس کو سمیٹ لیتے ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم تیمی ضحاک اور ابو مالک غفاری رحمہم اللہ سے آیت ” کیف مد الظل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ سایہ ہے جو طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک ہوتا ہے۔ آتی ” ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا “ یعنی پھر ہم نے سورج کو اس سایہ پر دلیل بنادیا۔ آیت ” ثم قبضناہ الینا قبضا یسیرا “ یعنی سورج جو سائے کو سمیٹتا ہے۔ 8۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کیف مد الظل “ سے وہ سایہ مراد ہے جو فجر کے طلوع ہونے سے سورج کے طلوع ہونے تک ہوتا ہے۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعلنا الشمس علیہ دلیلا “ سے مراد ہے کہ سورج سایہ کا پیچھا کرتا ہے اور اس کو قبض کرلیتا ہے جہاں کہیں ہوتا ہے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ دن بارہ گھنٹے کا ہے پہلا گھنٹا جو طلوع فجر سے لے کر سورج کے خوب روشن ہونے تک ہے دوسرا گھنٹہ جب تو دیکھے سورج کی شعاع کو اشراق کے روشن ہونے تک اس وقت سورج کا کوئی حصہ بےنور نہیں رہتا اور اس کا رنگ صاف ہوجاتا ہے اور جب تیری آنکھ تجھے سورج دو نیزوں کے برابر دکھائے تو یہ چاشت کا آغاز ہے جو ضحی کا وقت ہے اور وہ پہلا گھنٹہ ہے چاشت کے گھنٹوں میں سے ہے پھر اس کے بعد چاشت کے دو گھنٹے ہیں پھر چھٹا گھنٹہ وہ ہے جب سورج نصف النہار کو جائے جب سورج نصف النہار سے ڈھل جائے تو وہ نماز ظہر کا گھنٹہ ہے یہی وہ وقت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آتی ’ اقم الصلوۃ لدلوک الشمس “ (اسراء آیت 78) یعنی آفتاب کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کرو۔ پھر اس کے بعد دو گھنٹے ہیں پھر دسواں گھنٹہ عصر کی نماز کا گھنٹہ ہے اور یہی آصال ہے پھر اس کے بعد دو گھنٹے رات تک ہیں۔ 11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعل النہار نشورا “ یعنی اس میں وہ دن کو پہلا پھیلا دیتا ہے۔ 12۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ” وجعل النہار نشورا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن کو ان کی معاش کے لیے اور ان کی ضروریات کے لیے اور دیگر کاموں کے لیے بنایا۔
Ayahs 25:48–49

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیج دیں اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس کے ذریعے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور تاکہ یہ پانی ہم اپنی مخلوق میں سے چوپایوں کو اور بہت سے انسانوں کو پلادیں

1۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وہوا لذی ارسل الریح “ اس میں الریاح کو جمع کا صیغۃ اور ” بشرا “ باء کے رفع کے ساتھ دونوں کے درمیان نون خفیفہ پڑھا۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الریاح بشرا “ میں الریاح کو جمع کا صیغہ اور بشرا کو بشراً پڑھا یعنی نون اور آخر میں تنویں اور نون خفیفہ کے ساتھ پڑھا۔ 3۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے آیت ” وانزلنا من السماء ماء طہورا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ 4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والدارقطنی نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پاک پانی اتارا کوئی چیز اس کو ناپاک نہیں کرتی۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی وہ پاک کرتا ہے اور کوئی چیز اس کو پاک نہیں کرتی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” وانزلنا من السماء ماء طہورا “ یعنی ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا۔ 6۔ الشافع واحمد ووابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن اماجہ والدارقطنی والحاکم والبیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا پوچھا گیا یارسول اللہ ! کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کرلیں اور وہ ایسا کنواں تھا جس میں حیض کے کپڑے کتوں کا گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں آپ نے فرمایا پانی پاک ہے کوئی چیز اس کو نجس نہیں کرتی۔ کیچڑ کی پاکی کا مسئلہ 7۔ عبدالرزاق نے المصنف میں قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زبیر سے بارش سے بننے والے کیچڑ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تو نے مجھ سے دو پاک چیزوں کے بارے میں پوچھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” وانزلنا من السماء ماء طہورا “ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاک بنادیا گیا۔
Ayahs 25:50–52

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، لیکن اکثر لوگ ناشکری کے بغیر نہیں رہتے

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

سو کافروں کی بات نہ مانئیے اور اس کے ذریعہ ان سے خوب بڑا مقابلہ کیجئے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی ” ولقد صرفنہ بینہم “ سے مراد ہے بارش جو کبھی اس زمین کو سیراب کرتی ہے اور دوسری کی سیرابی روک دیتی ہے۔ آیت ” لیذکرو، فابی اکثر الناس الا کفورا “ عکرمہ نے کہا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کافروں کی ناشکری سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ستاروں کے باعث ہم پر بارش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سورة واقعہ میں فرمایا۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صرفنہ بینہم سے مراد ہے بارش ایک زمین میں اتاری جاتی ہے اور دوسری میں نہیں اتاری جاتی آیت ” فابی اکثر الناس الا کفورا “ اس میں کافروں کی ناشکری سے مراد یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر اس ستارے کی وجہ سے بارش نازل کی گئی۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد صرفنہ بینہم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رزق کو اپنے بندوں کے درمیان تقسیم فرمادیا ہے اور ان کے درمیان اس کو پھیلا دیا ہے اور فرمایا ہم کو ذکر کیا گیا کہ ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے کسی سال بھی بارش دوسرے سال کی نسبت کم نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بندوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں قتادہ (رح) نے فرمایا کہ ایک زمین انسان کو رزق دیتی اور دوسری زمین اسے محروم رکھتی ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر اوابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی سننہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک سال بارش کم نہیں ہوتی دوسرے سال سے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو پھیر دیتے ہیں جہاں چاہتے ہیں پھر یہ آیت ” ولقد صرفنہ بینہم لیذکروا۔ الایۃ 5۔ خرائطی نے مکارم الاخلاق میں ابن مسعود ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے عمر مولی غفرہ (رح) سے روایت کیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) بھی جنازوں کی جگہ میں تھے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے جبرئیل میں محبوب رکھتا ہوں کہ میں بادلوں کے معاملے کو جان لوں جبرئیل نے فرمایا یہ بادلوں کا فرشتہ ہے آپ اس سے پوچھیے آپ نے اس سے پوچھا تو فرشتے نے کہا ہمارے پاس مہر لگے ہوئے پیغام آتے ہیں کہ فلاں فلاں شہر کو اتنے قطرات سے سیراب کردو۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں یہ روایت مرسل ہے۔ 7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولق صرفنہ بینہم سے مراد ہے قرآن کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس قول میں غور فکر نہیں کرتے آیت ” ولو شئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیر “ 8۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت ” وجاہدہم بہ “ سے قرآن مراد ہے۔ 9۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجاہدہم بہ جہادا کبیرا “ سے مراد ہے آیت ” واغلظ علیہم “ (التوب آیت 53) کہ ان پر سختی کیجئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کھارے اور میٹھے پانی کا دریا ساتھ ساتھ
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا جن میں یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا ہے، اور یہ شور ہے کڑوا ہے، ان کے درمیان میں ایک حجاب بنادیا۔

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وھو الذی مرج البحرین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک سمندر کو دوسرے پر چھوڑدیا اور میٹھا پانی نمکین کو خراب نہیں کرتا اور نمکین میٹھے کو خراب نہیں کرتا۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وہو الذی مرج البحرین “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سمندر کو دوسرے پر بہادیا (مگر پانی آپس میں نہیں ملتے) 3۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” مرج البحرین “ سے مراد ہے ایک سمندر آسمان میں اور ایک سمندر زمین میں۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ” فرات “ سے مراد ہے میٹھا اور ” اجاج “ سے مراد ہے نمکین۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وہذا ملح اجاج “ سے مراد ہے کڑوا۔ ؂ 6۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ دو دریا ہیں کہ جس سے چاہے وضو کرے پھر آیت تلاوت فرمائی آیت ” ہذا عذب فرات وہذا ملح اجاج “۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعل بینہما برزخا “ سے مراد ہے خشکی۔ 8۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” برزخا “ سے مراد ہے خشکی۔ 9۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ وجعل بینہما برزخا “ سے مراد ہے روکنے والا کہ میٹھا سمندر نمکین کے ساتھ خلط ملط نہیں ہوتا۔ 10۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعل بینہما برزخا “ سے مراد ہے حد۔ 11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعل بینہما برزخا “ سے مراد ہے ایسی رکاوٹ کہ جس سے میٹھا پانی نمکین میں نہیں ملتا بحر روم اور فارس بھی آپس میں نہیں ملتے بحر روم نمکین ہے ابن جریرج (رح) نے فرمایا کہ میں نے کسی سمندر کو میٹھا نہیں پایا بلکہ دریا میٹھے ہوتے ہیں کیونکہ دیا سمندر میں گرتا ہے وہ سمندر میں کڑوا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں سمندروں میں کے درمیان سفید دھاگے کی طرفح ہوجاتا ہے جب وہ پلٹتا ہے تو اس کے راستے میں سمندر نہیں ہوتا اور دریائے نیل کے بارے میں لوگوں نے گمان کیا کہ وہ سمندر میں بہتا ہے۔ 12۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے مکبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعل بینہما برزخا “ سے مراد ہے رکاوٹ۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وحجرا محجورا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو روک دیتا ہے اپنے حکم اور اپنے فیصلے کے مطابق۔ 14۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وحجرا محجورا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے اپنے لطف اور قدرت سے نمکین کو میٹھے سے اور میٹھے کو نمکین سے ایسا نہ ہو کہ وہ آپس میں مل جائیں
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے انی سے انسان کو پیدا فرمایا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنادیا اور تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے

1۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ نسبتی اور سسرالی رشتہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم نسب کو تو پہچان چکے ہو مگر سسرالی رشتہ تو وہ دو بہنیں اور صحابہ ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلہ نسبا وصہرا “ میں نسب سے مراد ہے رضاعت اور صہر سے مراد ہے دامادی رشتہ۔ چودہ قسم کی عورتیں حرام ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ” فجعلہ نسبا وصہرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سسرالی رشتہ کو نسبی رشتہ کے ساتھ ذکر فرمایا اور چودہ عورتوں کو حرام فرمایا سات نسبتی رشتہ سے اور سات سسرالی رشتہ سے اور اللہ تعالیٰ نے نسب اور صہر میں حرمت کو برابر کردیا۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ کچھ نفع پہنچا سکیں اور نہ انہیں کچھ ضرر دے سکیں اور کافر اپنے رب کا مخلاف ہے۔

1۔ ابن جریر وابن امردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ میں کافر سے مراد ہے کہ ابو الحکم جس کو رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل بن ہشام کا نام دیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے ابوجہل۔ 3۔ ابن المنذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے ابو جہل۔ 4۔ ابن ابی شیبہ سعید بن منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ میں کافر سے مراد شیطان کی مدد کرنے والا اللہ کی نافرنامی پر۔ عبد بن حمید نے حسن اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے اپنے رب کے خلاف شیطان کی مدد کرنے والا دشمنی اور شرک میں۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے شیطان کی مدد کرنے والآپنے رب کی دشمنی میں۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ طلب کرتا ہاں جو شخص یہ چاہے کہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کیا

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا “ سے مراد ہے کہ خوشخبری دینے والا جنت کی اور ڈرانے والا آگ سے۔ آیت ” الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا “ یعنی اس کی اطاعت کے ساتھ جو چاہ اپنے رب کا راستہ اپنالے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر “ سے مراد ہے اے محمد ﷺ ان کو فرمادیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اس دعوت پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی دنیا کے مالوں میں سے کسی مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور آپ اسی ذات پر بھروسہ کیجیے جو زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی اور اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیے اور وہ اپنے بندوں گے گناہوں سے خبردار ہونے کے لیے کافی ہے

1۔ ابن ابی الدنیا فی التوکل والبیہقی فی شعب الایمان عتبہ بن ابی ثبیت (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ کسی انسان پر بھروسہ نہ کر، کیونکہ انسان کو دوام حاصل نہیں ہے۔ لیکن بھروسہ اس ذات پر ہو جو ہمیشہ زندہ رہے گا اس کو موت نہیں آئے گی۔
Ayahs 25:59–60

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چکھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا وہ بڑا مہربان ہے سو اس کی شان کسی جاننے والے سے دریافت کرلو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہے کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کو تو سجدہ کرنے کا ہمیں حکم دیتا ہے، اور ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے

1۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فسئل بہ خبیرا “ سے مراد ہے کہ میں نے تجھے جس چیز کے بارے میں بتایا تو نے مجھے اس کے بارے میں باخبر کردیا۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الرحمن فسئل بہ خبیرا “ یعنی یہ قرآن اس کے بارے میں آگاہ ہے (اس سے سوال کر) 3۔ ابن ابی حاتم نے عطاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا آیت ” واذا قیل لہم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن “ یعنی انہوں نے کہا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے مگر یمامہ والے رحمن کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آیت ” ینظرون، والہکم الہ واحد، لا الہ الا ہو الرحمن الرحیم “۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے حسین جحفی (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا وما الرحمن “ تو اس کے جواب میں فرمایا، آیت ” الرحمن، علم القرآن، (یعنی وہ رحمن جس نے قرآن کو سکھایا۔ 5۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ اسود (رح) نے آیت ” انسجد لما تامرنا “ کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور یحییٰ (رح) نے اسی طرح پڑھا۔ آیت ” انسجد لما تامرنا وزادہم نفورا “۔ (یعنی ہم نے سجدہ کیا جیسے ہم کو حکیم دیا گیا “۔ 6۔ عبد بن حمید نے سلمان (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (رح) نے سورة فرقان میں یوں پڑھا۔ آیت ” انسجد لما تامرنا “ یا کے ساتھ اور اسی طرح سلمان (رح) نے بھی پڑھا۔