22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 22:40–44

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے گھروں سے ناحق صرف یہ کہنے کی وجہ سے نکالے گئے کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع فرماتا ہے تو نصایٰ کے خلوت خانے اور عبادت کانے اور یہود کے عباد خانے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے گرادئیے جاتے اور یہ بات ضوری ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے، بلاشبہ اللہ قوی ہے غلبہ والا ہے

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم، اور عاد، اور ثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین والے جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ کو جھٹلایا گیا سو میں نے کافروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، سو کیسا تھا میرا عذاب

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین اخرجوا من دیارہم سے مراد ہے مکہ سے مدینہ کی طرف آیت بغیر حق، یعنی محمد ﷺ ا اور آپ کے اصحاب کو ہجرت پر مجبور کرنا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت الذین اخرجو من دیرہم بغیر حق، ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد ہم کو نکالا گیا ہمارے گھروں سے ناحق۔ پھر ہم کو اللہ تعالیٰ نے حکومت دی زمین میں (یعنی مدینہ منور میں) تو ہم نے نماز کو قائم کیا اور ہم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ اور ہم نے نیکی کا حکم کیا اور برائی سے روکا تو یہ آیت میرے اور میرے اصحاب کے بارے میں ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ثابت بن عوسجہ خفیری (رح) سے بیان فرمایا کہ مجھ سے حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ کے اصحاب میں سے ستائیس آدمیوں نے بیان کیا۔ ان میں لاحق بن الاقمر اور العیزار بن جرول وطیہ القرظی شامل ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت آیت ولولا دفع اللہ الناس محمد ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کے اصحاب اور تابعین کے ذریعہ دفع نہ فرماتے تو خانقاہیں گرادی جاتیں۔ 4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ولولا دفع اللہ الناس، بغیر الف کے پڑھا ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید رجیا للہ عنہ سے روایت کیا کہ آیت ولولادفع اللہ الناس سے مراد ہے اگر قتال اور جہاد نہ ہوتا تو عباد خانے گرادئیے جاتے۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے بعض کو بعض کے ذریعہ گواہی اور حق میں روکا اور اس جیسی دوسری چیزوں میں روکا اگر یہ نہ ہوتا تو یہ درویشوں کی خانقاہیں اور دوسری عبادت گاہیں ہلاک ہوجاتیں۔ 8۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت لھدمت صوامع کے بارے میں فرمایا کہ صوامع وہ عبادت گاہیں ہیں جس میں راہب رہتے ہیں اور ” البیع “ سے مراد یہودیوں کی عبادت گاہیں اور ” صلوت “ نصاریٰ کے گرجا گھر ہیں اور ” مساجد “ مسلمانوں کی مسجدیں ہیں۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ البیع سے مراد ہے عیسائیوں کے گرجا گھر اور صلوت سے مراد ہے یہودیوں کی عبادت گاہیں 10۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ صلوت سے مراد ہے یہودیوں کی عبادت گاہیں اور کنیسہ کو صلاۃ کہتے ہیں۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” وصلوت “ پڑھا اور فرمایا کہ ” صلوت “ ” صوامع “ کے علاوہ ہیں پھر فرمایا صلاۃ کیسے منہدم کی جاتی ہے۔ 12۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” البیع “ سے مراد ہے عیسائیوں کے گرجا گھر اور ” الصلوات “ سے مراد ہے عیسائیوں کی چھوٹی عبادت گاہیں۔ خانقاہوں کی حفاطت 13۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابولاعالیہ رھمۃ اللہ علیہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ صوامع سے مراد ہے درویشوں کی خانقاہیں اور البیع سے مراد ہے نصاریٰ کے گرجا گھر اور صلوت سے مراد ہے صائبین کی مسجدیں جن کو وہ صلوات کہتے ہیں۔ 14۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صوامع سے مراد ہے صائبین کے عبادت خانے اور البیع سے مراد ہے عیسائیوں کے گرجا گھر اور صلوات سے مراد ہے یہودیوں کے عبادت خانے اور مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں۔ 15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمی وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ صوامع سے مراد ہے راہبوں کی عبادت گاہیں۔ اور البیع سے مراد ہے یہودیوں کے گرجے اور صلوات اور مساجد اہل کتاب اور اہل اسلام کی راستوں پر عبادت گاہیں ہیں 16۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ اہل اسلام کی نمازیں ختم ہوجاتی ہیں جب ان پر دشمن داخل ہوتے ہیں تو مساجد میں عبادت نہیں ہوتی۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) آیت یذکر فیھا اسم اللہ کثیرا۔ سے کے بارے میں میں روایت کیا کہ ہر عبادت خانے میں جن کا ذکر کیا گیا۔ یعنی درویشوں کی خانقاہوں سے اور عیسائیوں کے گرجا گھروں سے اور مسجدوں سے کہ ان میں سے ہر ایک میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور مساجد کو اس آیت میں مخصوص نہیں فرمایا۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ رھمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت آلزین ان مکنہم فی الارض سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب سے روایت کیا کہ آیت الذین ان مکنہم فی الارض سے مراد حکمران ہیں۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ان مکنہم فی الارض سے مدینہ کی زمین مراد ہے۔ آیت اقاموا الصلوۃ یعنی فرض نماز ادا کرتے ہیں۔ آیت واٰتوا الزکوۃ یعنی فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ آیت وامروا بالمعرو۔ یعنی لا الہ الا اللہ کے ذریعہ نیکی کا حکم دیتے ہیں آیت ونہوا عن المنکر یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کو روکتے ہیں۔ آیت وللہ عاقبۃ الامور یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثواب ہے جو انہوں نے نیک اعمال کیے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا حکم نیکی کے ساتھ یہ ہے کہ وہ ایک اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں اور ان کا روکنا ہے کہ وہ شیطان اور بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ان مکنہم فی الارض سے مراد ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شرط ہے اس امت پر کہ اگر ہم ان کو حکومت دیں گے تو وہ نماز، زکوٰۃ وغیرہ کو قائم کریں گے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

سو کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جو ظلم کرنے والی تھیں سو وہ اپنی جھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی کنویں ہیں جو بےکار ہیں اور کتنے ہی محل ہیں جو مضبوط بنائے ہوئے تھے

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فہی خاویۃ علی عروشہا سے مراد ہے کہ وہ ویران پڑی ہیں ان میں کوئی رہنے والا نہیں آیت وبئر معطلۃ یعنی ان کنوؤں کے مالکوں نے ان کو بیکار کردیا ہے اور ان کو چھوڑ دیا۔ آیت وقصر مشید یعنی انہوں نے مضبوط محل بنائے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے اور ان کو چھوڑ گئے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وبئر معطلۃ سے مراد ہے کہ ایسے کنویں جن کو ان کے مالکوں نے چھوڑ دیا کہ اب ان کا کوئی مالک نہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقصر مشید سے مراد ہے ایسا محل جس کو چونے سے بنایا گیا ہو۔ 4۔ طستی نے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وقصر مشید سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے وہ محل جو چونے اور پکی اینٹوں سے بنایا گیا ہو۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو نہیں سنا وہ کہتا ہے شادہ مرمرا وجللہ کلسا فللطیر فی ذراہ وکور ترجمہ : اس نے مضبوط کیا اس کو سنگ مرر سے اور اس کو چونے اور گچ سے مزین کیا اور اس کی چوٹی پر پرندوں کے گھونسلے ہیں۔ 5۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقصر مشید سے مراد ہے ایسا محل جو گچ اور چونے سے بنایا گیا۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقصر مشید سے مراد ہے چونے گچ سے بنایا ہوا محل۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھر تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن کے ذریعہ سمجھتے اور ایسے کان ہوتے جن کے ذریعہ سنتے سو بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں لیکن دل ادندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں (

1۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التفکر میں ابن دینار (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ لوہے کے جوتے اور ایک لاٹھی بناؤ پھر زمین میں چلو پھرو۔ اور زمین میں نشانات اور عبرتوں کو ڈھونڈو۔ یہاں تک کہ جوتے گھس جائیں اور لاٹھی ٹوٹ جائے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانہا لاتعمی الابصار سے مراد ہے یہ سروں کی آنکھیں کیا ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منافع کا باعث بنایا لیکن نفع دینے والی آنکھیں وہ ہیں جو دل میں ہیں۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت عبداللہ بن زائدہ یعنی ابن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3۔ حکیم ترمذی نے بوادر الاصول میں اور ابو نصر السجزی نے شعب الایمان میں ابانہ میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں عبداللہ بن جراد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ وہ اندھا نہیں ہے جو ظاہری آنکھوں سے اندھا ہو لیکن اندھا وہ ہے جو بصیرت سے اندھا ہو۔
Ayahs 22:47–48

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور وہ آپ سے جلد عذاب لانے کا تقاضا کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہ فرائے گا اور بلاشبہ آپ کے رب کے نزدیک ایک ایسا دن ہے جو تم لوگوں کے شمار کے مطابق ایک سال کے برابر ہوگا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو میں نے مہلت دی اس حال میں کہ ظلم کرنے والے تھے پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں روایت کیا کہ اس وقت کے جاہل لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے عذاب کا مطالبہ کیا اور کہا۔ آیت اللہم ان کان ہذا ہوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ یعنی اے اللہ اگر یہ دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آ۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تدون۔ کے بارے میں روایت کیا یعنی ان چھ دنوں میں سے کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ 3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون سے مراد قیامت کا دن ہے۔ 4۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ دن مومن پر صرف صبح اور عصر کی نماز کے درمیانی وقت کے برابر لمبا ہوگا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دنیا ایک جمعہ ہے آخرت کے جمعوں میں سے یعنی سات ہزار سال اور اس میں سے چھ ہزار سال گزر چکے۔ 6۔ ابن ابی الدنیا نے الامل میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ دنیا ایک جمعہ ہے آخرت کے جمعوں میں سے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی سے روایت کیا جو مسلمان ہوچکا تھا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ اور فرمایا۔ آیت وان یوم عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ یعنی تیرے رب کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کی طرح ان سالوں میں سے جن کو تم گنتے ہو۔ اور دنیا کی مدت تو چھ دن ہے۔ اور قیامت ساتویں دن میں ہوگی۔ چھ دن گزر چکے اور تم ساتویں دن میں ہو پس اس کی مثال اس حاملہ عورت کی طرح ہے جو آخری مہینے میں داخل ہوچکی ہو۔ اور یہ معلوم نہیں کہ کس وقت میں بچہ کو جنم دے دے۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے صفوان بن سلیم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فقراء مسلمان جنت میں آدھا دن پہلے داخل ہوں گے مالدار مسلمان سے۔ پوچھا گیا آدھا دن کتنا ہے ؟ فرمایا پانچ سو سال اور یہ آیت آی وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ تلاوت فرمائی۔ 9۔ ابن جریرو ابن مردویہ نے ضمیر بن نہار کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ غریب مسلمان امیر مسلمانوں سے آدھادن جنت میں پہلے داخل ہوں گے۔ میں نے پوچھا آدھے دن کی کیا مقدار ہے ؟ فرمایا کیا تو نے قرآن کو نہیں پڑھا۔ آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ 10۔ احمد نے زہد میں ضمیر بن نہار سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت کے غریب لوگ۔ امیر لوگوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اور یہ آیت آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون پڑھی۔ 11۔ بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے جنازہ پر نماز پڑھی پھر اس کے دفن سے فارغ ہونے سے پہلے واپس آگیا تو اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہوگا۔ اگر اس نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس کے دفن سے فارغ ہوگئے تو اس کے دو قیراط ثواب ہوگا۔ اور قراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا قیامت کے دن اپنے ترازوں میں پھر ابن عباس رضی الہ عنہما نے فرمایا۔ ہمارے رب کی عظمت کا یہ حق ہے کہ اس کا قیراط احد کے برابر ہو اور اس کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہو۔ 12۔ ابن عدی اور دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا ساری سات دن ہے آخرت کے دنوں میں سے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔
Ayahs 22:49–51

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو ! میں تمہارے لیے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جن لوگوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے عاجز کرنے کے لیے ہماری آیات کے بارے میں کوشش کی یہ لوگ دوزخ والے ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کو ” رزق کریم “ فرماتے ہوئے سنے تو اس سے مراد ہے جنت۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ انہوں نے پڑھا معاجزین، اور فرمایا کہ سارے قرآن میں الف کے ساتھ ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے مشقت اٹھانے والے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معجزین سے مراد، یعنی دشمنی کرنے والے۔ 4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن الزبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت والذین سعو فی ایتنا معزجین (یعنی بغیر الف کے) سے مراد ہے مثبطین، یعنی روکنے والے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ ان لوگوں پر تعجب کرتے تھے جو اس آیت کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت والذین سعوا فی ایتنا معجزین اور فرمایا کہ عرب کے کلام میں سے نہیں ہے۔ اور وہ ہے معجزین، یعنی روکنے والے ہیں 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین سعوا فی ایتنا معجزین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور گمان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں گے اور وہ ہرگز اس کو عاجز نہیں کرسکتے۔
Ayahs 22:52–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے ہم نے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو جب اس نے پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں شبہ ڈال دیا پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ختم کردیتا ہے پھر اپنی آیات کو محکم کردیتا ہے، اور اللہ علیم ہے حکیم ہے۔

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بلاشبہ طلم کرنے والے دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ وہ لوگ زیادہ یقین کرلیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ بیشک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے، پھر ایمان پر زیادہ قائم ہوجائیں پھر ان کے دل اس کی طرف اور بھی جھک جائیں، اور بلاشبہ اللہ ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت فرمایا ہے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ برابر اس کی طرف سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے یا ان کے پاس کسی ایسے دن کا عذاب آجائے جس میں کوئی خیر نہ ہو

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہوگی وہ ان کے درمیان فیصلے فرمائے گا سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا سو ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

1۔ عبد بن حمدی وابن الانباری نے مصاحف میں عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث، 2۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے پہلے ولا محدث اتارا گیا تھا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اور محدثون یہ تھے۔ صاحب یسین، لقمان یہ آل فرعون میں سے تھے اور صاحب موسیٰ ۔ 3۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر آیات نازل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی طرف نئی شریعت نہیں بھیجی جاتی۔ 4۔ عبد بن حمید نے سدی کے طریق سے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو مشرکین نے کہا تم ہمارے معبودوں کا ذکر خیر کے ساتھ کرو تو ہم بھی معبود حقیقی کا ذکر خیر کے ساتھ کریں گے۔ پھر فرمایا۔ آیت القی الشیطان فی امنیتہ۔ یعنی شیطان نے اس کے پڑھنے میں شبہ ڈال دیا۔ جب آپ نے یہ پڑھا آی افرء یتم اللات والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ (تو شیطان نے اپنی طرف سے یہ کلمات آپ کی زبان پر ڈال دئیے۔ ) ۔ انہن لفی الغرانیق العلی وان شفاعتہن لترتجی۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا آپ ﷺ کی یہ امید تھی کہ آپ کی قوم مسلمان ہوجائے۔ 5۔ البزار والطبرانی وابن مردویہ اور ضیاء نے مختار میں سعید بن جبیر کے طریق سے مضبوط سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو بلاقصد آپ کی زبان پر یہ الفاظ بھی جاری ہوگئے تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہن لترتجی۔ مشرکین اس کو سن کر خوش ہوگئے اور کہا کہ انہوں نے ہماریے معبودوں کو ذکر کیا ہے تو جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر وہ پڑھئے جو میں آپ کے پاس لے کر آیا ہوں تو آپ نے پڑھ ا۔ افرء یتم اللات والعزای۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ (اور یہ بھی پڑھ دیا) تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہن لترتجی۔ جبریل (علیہ السلام) نے یہ سن کر فرمایا میں ان الفاظ کو آپ کے پاس نہیں لایا یہ شیطان کی طرف سے ہیں تو الللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت اتاری۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی۔ آیت کے آخرتک۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبی ررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سورة تجم پڑھی۔ جب اس جگہ پہنچے۔ آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ الفاظ ڈال دئیے۔ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہن لترجی۔ یعنی یہ اونچے اونچے بت کہ ان کی البتہ امید کی جاتی ہے۔ مشرکین نے کہ آج سے پہلے ہمارے معبودوں کو خیر سے یاد نہیں کیا گیا۔ آپ نے سجدہ فرمایا تو مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ اس کے بعد جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور فرمایا مجھ پر پڑھئے جو میں آپ کے پاس لے کر آیا تھا آپ نے پڑھا جب آپ پہنچے تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ میں آپ کے پاس نہیں لایا تھا یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی۔ ضعیف ہے۔ 7۔ ابن جریر وابن مردویہ نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ہمارے درمیان نماز پڑھ رہے تھے اچانک آپ پر عرب کے معبودوں کا واقعہ نازل ہوا۔ آپ نے اس کو پڑھنا شروع کیا مشرکین نے بھی اس کو سنا اور کہنے لگ گئے ہم نے اس کو سن لیا کہ ہمارے معبودوں کا خیر کے ساتھ ذکر کررہے ہیں وہ لوگ آپ سے قریب ہوئے آپ تلاوت کرتے ہوئے آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثہ الاخری تک پہنچے تو شیطان نے یہ الفاظ آپ کی زبان پر ڈال دئیے۔ ان تلک الغرانیق اعلی وان شفاعتہن لرتجی۔ آپ اس کو پڑھنے لگے تو حضرت جبرئیل علیہ السلان نازل ہوئے اور ان الفاظ کو مٹا دیا۔ پھر فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے لے کر حکیم تک۔ ضعیف ہے۔ 8۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابو سالح عن ابن عباس اور ابوبکر الہذلی اور ایوب عن عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سورة نجم پڑھی۔ جب اس آیت پر آئے۔ آیت افرء تم اللات والعزی ومنۃ الثالثۃ الاخری، تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ الفاظ ڈال دئیے۔ انہن الغرانیق العلی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آتی اتاری آیت وما ارسلنا من قبلک۔ 9۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے یونس کے طریق سے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے وب بکر بن عبدالرحمن بن حارث ؓ نے بیان کیا کہ رسول الہ ﷺ نے مکہ میں سورة النجم پڑھی۔ جب اس آیت پر پہنچے آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخر۔ تو فرمایا ان شفاعتہن ترتجی۔ اور رسول اللہ ﷺ بھول گئے۔ مشرکین اس سے بہت خوش ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار بلاشبہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ۔ حتی کہ عذاب یوم عقیم تک پہنچے۔ یہ حدیث مرسل صحیح السند ہے۔ شیطان کا فتنہ ارتداد 10۔ ابن ابی حاتم نے موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ جب سورة نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہتے تھے اگر یہ آدمی ہمارے معبودوں کا ذکر خیر کے ساتھ کرے تو ہم اس کو اور اس کے اصحاب کو تسلیم کرلیں گے۔ لیکن وہ ان لوگوں کا ذکر اس لیے نہیں کرتے جو یہود و نصاری کے دین کے مخالف ہیں جیسے وہ ہمارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ پر کفار کی اذیتیں اور ان کی تکذیب بہ تشاق گزری اور ان کی گمراہی نے بہت پریشان کیا ہوا تھا۔ آپ کفار کی تکلیفوں کو روکنا چاہتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سورة نجم اتاری اور فرمایا آیت افرء یتم اللات والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاکری۔ تو شیطان نے ان کے ساتھ یہ کلمات ڈال دئیے جب طواغیت کا ذکر کیا تو یہ الفاظ کہے۔ وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی اور یہ شیطان کی سجع اور اس کے فتنہ میں سے تھا تو یہ دونوں کلمات مکہ میں ایک مشرک کے دل میں واقع ہوئے اور اس کے ساتھ ان کی زبانیں تیز ہوگئیں اور اس کے ساتھ ایک دوسرے کو خوشخبری دینے لگے کہ محمد ﷺ اپنے پہلے اور اپنی قوم کے دین کی طرف لوٹ آئے۔ رسول اللہ ﷺ جب نجم کے آخر میں پہنچے تو سجدہ کیا اور ہر ایک نے سجدہ کیا جو وہاں حاضر تھا مسلمانوں اور مشرکین میں سے۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اور اس کو شیطان نے خوب پھیلایا یہاں تک کہ حبشہ کی زمین تک پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ واضح کردیا اور شیطان کی سجع سے برات فرمائی تو مشرکین لوٹ گئے اپنی گمراہی میں اور مسلمانوں سے اپنی دشمنی کرنے لگے اور ان پر اور زیادہ سخت ہوگئے۔ 11۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں موسیٰ بن عقبہ سے روایت کیا اور ابن شہاب کا ذکر نہیں کیا۔ 12۔ طبرانی (رح) نے عروہ رجی اللہ نعہ سے اسی کی مثل روایت کیا۔ 13۔ سعید بن منصور وابن جریر نے محمد بن کعب قرظی اور محمد بن قیس (رح) دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قریش کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں تشریف فرما ہوئے جس میں اکثر قریشی تھے۔ اس دن آپ نے تمنا کی کہ اللہ تعایلٰ کی طرف سے کوئی ایسی چیز نہ آئے کہ جس کو سن کر وہ لوگ بھاگ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتارا آیت والنجم اذا ہوی۔ (یعنی پوری سورت) رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھا یہاں تک کہ آی افر ئیتم اللات والعزی، ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو شیطان نے دو کلمات آپ کی زبان پر ڈال دئیے۔ تلک الغرا نیق العلی، وان شفایتہن لترتجی۔ (یعنی یہ اونچے اونچے بت اور بلاشبہ ان کی شفاعت کی البتہ امید کی جاتی ہے ) ۔ آپ نے یہ کلمات پڑھ دئیے پھر آپ پڑھتے رہے یہاں تک کہ پوری سورت پڑھ دی۔ پھر آپ نے سورت کے آخر میں سجدہ کیا تو ساری قوم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ اور آپ کے ان الفاظ کی وجہ سے قریش خوش ہوئے۔ جب شام ہوئی جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے آپ نے ان کے سامنے سورة پڑھی جب ان کلمات پر پہنچے جو شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالے تھے تو جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا میں ان دو کلمات کو نہیں لایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور میں نے وہ بات کہی جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی۔ آیت وان کادوا لیفتنونک سے لے کر نصیرت، تک۔ تو آپ برابر رنج اور غم میں رہے ان کلمات کی وجہ سے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت وما ارسلنا من قبلک (پوری آیت) ۔ تو اس سے آپ خوش ہوگئے اور پریشانی جاتی رہی۔ 14۔ ابن جریر ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تھے۔ آپ پر عرب کے معبودوں کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ آپ سورة النجم کی آیت میں اللات والعزی کا ذکر بار بار پڑھ رہے تھے۔ مکہ والوں نے اس کو سنا کہ وہ ان کے معبودوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس سے وہ خوش ہوئے اور سننے کے لیے قریب ہوگئے۔ تو شیطان نے آپ کی تلاوت میں (یہ کلمات) ڈال دئیے۔ تلک الغرانیق العلی منہا الشفاعۃ ترتجی۔ نبی ﷺ نے اس کو اسی طرح پڑھ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وما ارسلنا من قبلک سے لے کر حکیم تک۔ 15۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سند صحیح کے ساتھ ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اگر آپ اپنے کلام میں ہمارے معبودوں کا ذکر کریں تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھ جائیں گے۔ کیونکہ آپ کے ساتھ وہ لوگ ہیں جو لوگوں میں سب سے نادار اور کمزور ہیں۔ جب وہ ہم کو آپ کے پاس دیکھیں گے تو لوگوں کو بیان کریں گے اس بارے میں تو وہ لوگ بھی آپ کے پاس آئیں گے۔ اور آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ” والنجم “ (والی سورت) پڑھی حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ شیطان نے آپ کی زبان پر یہ الفاظ بھی ڈال دئیے۔ تلک الغرانیق العلی وشفاعتہن لترتجی ومثلھن لاینسی۔ جب آپ سورة کے ختم سے فارغ ہوئے سجدہ کیا اور مسلمانوں نے اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ یہ بات حبشہ پہنچی کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہوگئے ہیں مگر یہ بات نبی ﷺ پر بھاری گزری تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی، آیت وما رسلنا من قبلک سے لے کر عذاب یوم عقیم تک۔ 16۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ سورة نجم مکہ میں نازل ہوئی تو قریش نے کہا اے محمد ﷺ کہ آپ کے پاس فقیر اور مسکین لوگ بیٹھتے ہیں اور آپ کے پاس دور دور سے لوگ آتے ہیں اگر آپ ہمارے معبودوں کا خیر سے ذکر کریں تو ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ جائیں رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم پڑھی۔ جب اس آیت پر پہنچے افرء یتم اللات والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ الفاظ ڈال دئیے۔ وھی الغرانیق العلی شفاعتہن ترتجی۔ جب سورة سے فارغ ہوئے سجدہ کیا اور مسلمانوں اور مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ ابو حیحہ سعید بن وقاص نے سجدہ نہ کیا اس نے ہتھیلی میں مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ اور کہا کہ اب ابن ابی اکبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہمارے معبودوں کا ذکر خیر کے ساتھ کیا۔ یہ بات مسلمانوں کو پہنچی جو حبشہ میں تھے کہ قریش مسلمان ہوگئے تو انہوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر بہت بھاری گذری اور آپ کے اصحاب کرام ؓ پر، جو شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ اچانک آپ کو اونگھ آگئی۔ شیطان نے آپ کی زبان پر کچھ کلمات ڈال دئیے آپ نے وہ کلمات پڑھ دئیے تو مشرکین اس وجہ سے آپ کو چمٹ گئے۔ آپ نے جب پڑھا آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ الفاظ ڈال دئیے۔ وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی۔ مشرکین نے یہ الفاظ یاد کرلیے اور ان کو شیطان نے بھی خبر دے دی کہ اللہ کے نبی نے ان کو پڑھا ہے تو ان کی زبانیں ان کلمات کے ساتھ تیز ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دھتکار دیا اور اپنے نبی کو اپنی حجت تلقین کی۔ 18۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی تو شیطان نے آپ کے منہ مبارک میں اپنی طرف سے آیات کے درمیان کچھ کلمات ڈال دئیے۔ 19۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن یہ آیت آیت افرء یتم اللات والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ الکم الذکر ولہ النثی۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی۔ پڑھی تو شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی زبان پر یہ الفاظ ڈال دئیے۔ تلک اذا فی الغرانیق العلی۔ تلک اذن شفاعۃ ترتجی۔ تو رسول اللہ ﷺ خوفزدہ ہوئے اور گھبرائے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی۔ آیت وکم من ملک فی السموت لا تغنی شفاعتہم شیئا۔ پھر آپ کی طرف یہ آیت نازل کی گئی۔ آپ کی پریشانی ختم ہوگئی۔ آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ۔ سے لے کر حکیم تک۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ مسجد حرام میں نماز کے لیے تشریف لے گئے اس درمیان میں آپ پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے پڑھا۔ آیت افرء یتم اللات والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ تو شیطان نے آپ کی زبان پر ڈال دیا۔ اور آپ نے یہ الفاظ پڑھے۔ تلک اخرالقۃ العلی۔ وان شفاعتہن ترتجی۔ یہاں تک کہ جو سورة کے آخر پر پہنچے تو آپ نے سجدہ فرمایا اور آپ کے صحابہ کرام نے اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا ان کے معبودوں کا ذکر کرنے کی وجہ سے جب آپ نے سراٹھایا تو تمام لوگوں نے سر اٹھایا مکہ کے دو کناروں کے درمیان بات سخت پھیل گئی وہ کہتے تھے کہ یہ نبی بنو عبد مناف کے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے آپ نے ان کو سورة نجم سنائی اور آپ نے ان حروف کو بھی پڑھا تو جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں نے آپ کو یہ الفاظ نہیں پڑھائے۔ تو آپ پر یہ بات بھاری گزری اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو خوش کرنے کے لیے یہ آیت اتاری۔ آیت وما ارسلنا من قبلک الایۃ۔ 21۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ بات کرتے تو شیطان اپنی بات آپ کے دل میں ڈالنے کی کوشش کرتا۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ اذا تمنی یعنی یہ تلاوت اور قرآن کے معنی میں ہے یعنی جب آپ نے تلاوت اور قراۃ کا ارادہ کیا آیت القی الشیطان فی امنیتہ تو شیطان نے نبی ﷺ کی تلاوت میں ضرور مداخلت کی۔ آیت فینسخ اللہ یعنی جبریل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے شیطان کی بات کو منسوخ کردیتا ہ۔ ما القی الشیطان (جو شیطان نے ڈالے تھے، نبی ﷺ کی زبان پر ) 23۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیجعل ما یلقی الشیطان فتنۃ اللذین فی قلوبہم مرض۔ یعنی منافقین کے لیے یہ بات آزمائش بن گئی۔ آیت والقاسیۃ قلوبہم، یعنی مشرکین کے دل سخت ہوگئے۔ آیت ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق، یعنی قرآن حق ہے۔ آیت ولا یزال الذین کفرو۔ یعنی قرآن کے بارے میں برابر شک میں رہیں۔ عذاب یوم عقیم سے مراد ایسا دن ہے جس کے ساتھ رات نہ ہو۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت مریۃ منہ۔ یعنی منافق لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں ان باتوں میں جس کو ابلیس خبیث لے کر آتا ہے اور وہ ان کے دلوں سے نہیں نکلتی ہیں اور ان کی گمراہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 26۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عذاب یوم عقیم سے مراد ہے بد کا دن۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ چارآیات میں یوم بد کا ذکر ہے۔ آیت او یأتیہم عذاب یوم عقیم۔ اس سے مراد بدر کا دن ہے۔ آیت فسوف یکون لزاما۔ یہ بھی بدر کا دن ہے۔ آیت یوم نبطش البطشۃ الکبر۔ (الدکان : 16) یہ بھی بدر کا دن مراد ہے۔ آیت ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (السجدۃ : 21) ۔ اس سے بھی بدر کا دن مراد ہے۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 30۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عذاب یوم عقیم سے بدر کا دن مراد ہے۔ 29۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 30۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عذاب یوم عقیم سے مراد ہے قیامت کا دن کہ اس کے لیے رات نہیں ہے۔ 31۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 32۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کیے گئے یا طبعی موت سے وفات پاگئے اللہ انہیں ضرور ضرور اچھا رزق عطا فرمائے گا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ خیر الرازقین ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ضرور ضرور ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس میں وہ خوش ہوں گے اور بلا شبہ اللہ خوب جاننے والا ہے، بہت حکم والا ہے

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص (مسلمانوں کی) سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس کو مجاہد کا اجر عطا فرمائے گا اور اس پر رزق کو بھی جاری فرمائے گا اور فتنوں سے اس کو امن دے گا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو۔ آیت والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ماتو۔ سے لے کر حلیم تک۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے فضالہ بن عبید انصاری صحابی ؓ سے روایت ہے کہ وہ ” ارودس “ میں تھے کہ دو جنازوں کو گزارا گیا ان میں سے ایک شہید تھا اور دوسرا متوفی تھا۔ لوگ اس شہید کی طرف مائل ہوئے۔ فضالہ ؓ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس شہید کی طرف مائل ہورہے ہیں اور اس کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے راستے میں شہید ہے تو فضالہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں ان دونوں قبروں میں سے جس سے بھی اٹھایا جاؤں۔ اللہ کی کتاب کو تم لوگ سنو۔ آیت والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ماتو۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت مدخلا یرضونہ۔ سے مراد ہے جنت۔
Ayahs 22:60–64

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ بات یوں ہی ہوگی اور جو شخص اس قدر بدلہ لے، جس قدر اسے تکلیف پہنچائی گئی پھر اس پر زیادتی کی جائے اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا اور بخشنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ بلا شبہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بلاشبہ اللہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ بیشک اللہ حق ہے اور اس کے علاوہ جو دوسروں کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور اللہ برتر ہے بڑا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر زمین ہری بھری ہوگئی۔ بلاشبہ اللہ بہت مہربان ہے خبر رکھنے والا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے سب اس کا ہے اور بلاشبہ اللہ غنی ہے تعریف کا مستحق ہے

1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت ذالک ومن عاقب الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا جبکہ محرم میں سے دو راتیں باقی تھیں۔ وہ مشرکین سے ملے تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے اصحاب سے لڑو۔ مگر وہ تو شہر حرام یعنی عزت والے مہینے میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر قتال نہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ وہ شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے مگر جو ان سے قتال شروع کرے تو پھر وہ بھی لڑتے ہیں مشرکین نے لڑنے کا آغاز کیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی ان سے لڑنے کو حلال جانا اور لڑنا شروع کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی مدد فرمائی۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ذلک ومن عاقب کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین نے نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب پر ایک دوسرے کی مدد کی۔ اور ان کو مکہ سے نکالاتو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا اور قصاص میں بھی یہی حکم ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان مایدعون من دونہ ہوالباطل سے مراد ہے شیطان (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو پکارتے ہیں)
Ayahs 22:65–66

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے وہ سب کچھ مسخر فرمادیا جو زمین میں ہے۔ اور کشتی کو مسخر فرمادیا وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے، مگر یہ کہ اسی کا حکم ہوجائے۔ بلاشبہ اللہ لوگوں پر بہت مہربان ہے نہایت رحم فرمانے والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ فرمائے گا، بلاشبہ انسان بڑا نا شکرا ہے

1۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر تو کسی خوفناک بادشاہ کے پاس جائے اور اس کے غالب ہونے کا اندیشہ ہو تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھو :۔ الہ اکبر اللہ اکبر من خلقہ جمیعا اللہ اعز ممن اخاف واحذ اعوذ باللہ الذی لا الہ الا ہو الممسک السمون السبع ان یقعن علی الارض الا باذنہ من شر عبدک فلان وجندہ واشیاعہ من الجن والانس الہی کن لی جار من شرہم جل شانک وعز جارک و تبارک اسمک ولا الہ غیرک اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ سب سے بڑے ہیں اپنی ساری مخلوق سے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ قوی ہیں جس سے میں ڈرتا ہوں اور خوف کھا رہا ہوں۔ میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں روکنے والا ہے ساتوں آسمانوں کو ایسا نہ ہوا کہ گرپڑیں مگر اس کی اجازت سے میں (پناہ مانگتا ہوں) تیرے فلاں بندے کے شر سے اور اس کے لشکر کے شر سے اور جنوں اور انسانوں میں خدمت گزاروں کے شر سے اے اللہ تو ہی مجھے ان کے سر سے پناہ دینے والا بن جا۔ تیری بلند شان ہے اور تجھ سے پناہ لینے والا ہمیشہ غالب ہوتا ہے۔ تیرا نام بڑی برکت والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الانسان لکفور۔ سے مراد ہے کہ انسان مصیبتوں کو شمار کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جہاں بھی قرآن میں آیت ان الانسان لکفور۔ ہے اس میں لکفور سے مراد کفار ہیں۔
Ayahs 22:67–69

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں جن کے مطابق وہ عبادت کرتے تھے، سو اس امر میں وہ آپ سے جھگڑا نہ کریں اور آپ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں بلاشبہ آپ ہدایت پر ہیں جو سیدھا راستہ ہے

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان چیزوں میں فیصلے فرمادے گا جن میں اختلاف کیا کرتے تھے

رسول اللہ ﷺ کا سیدھے راستہ پر ہونا یقینی ہے 1۔ ابن ابی حاتم نے ابو الملیح (رح) سے روایت کیا کہ چالیس سے سو تک اور اس سے زائد افراد کو امت کہتے ہیں۔ 2۔ احمد والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت لکل امۃ جعلنا منسکاہم ناسکوہ سے مراد ہے کہ ہر امت کے لیے ایک خاص جانور تھا قربانی کے لیے جس کو وہ ذبح کرتے تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو رافع ؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب قربانی کرتی ہوتی تو آپ دو مینڈھے موٹے چتکبرے سینگوں والے خریدتے جب آپ خطبہ اور عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو ان میں سے ایک کو ذبح فرماتے اور یہ فرماتے کہ اے اللہ یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے۔ جو تیرے لیے توحید کی گواہی دے اور میرے ذمے آپ کا پیغام پہنچادینا ہے۔ پھر آپ دوسرے مینڈھے کے پاس تشریف لائے اور اس کو ذبح کرتے اور فرماتے اے اللہ ! یہ محمد ﷺ اور آل محمد کی طرف سے ہے پھر ان دونوں کو مساکین کو کھلادیتے اور آپ خود بھی اور آپ کے اہل و عیال بھی کھاتے ہم دو سال ٹھہرے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کفایت فرمائی قرض سے اور مؤونت سے (یعنی ہمارے پاس مال بہت آگیا بنو ہاشم میں کوئی سبھی قربانی نہ کرتا تھا۔ ) 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم ناسکوہ یعنی وہ لوگ اسے ذبح کرتے ہیں۔ آیت فلا ینازعنک فی الامر یعنی ذبائح کے معاملے میں وہ لوگ آپ سے جھگڑا نہ کریں۔ 5۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لکل امۃ جعلنا منسکا ہم ناسکو۔ یعنی ہر امت کے لیے ہم نے ذبح مقرر کیا جو وہ ذبح کرتے ہیں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت منسکا ہم ناسکوہ سے مراد ہے کہ ہدی کے خون کا بہانا۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لکل امۃ جعلنا منسکا سے مراد ہے ذبح کرنا اور حج کرنا۔ 8۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا ینازعنک فی الامر۔ یعنی مشرک یہ کہتے تھے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائیں وہ تم نہیں کھاتے ہو اور جس کو تم اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہو تو وہ حلال ہے ؟ 9۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت وادع الی ربک۔ یعنی تیرے رب کے دین کی طرف بلاتے رہیے۔ آیت لعلی ہدی۔ سے مراد ہے دین مستقیم۔ آیت وان جٰدلوک۔ یعنی ذبائح کے بارے میں (اگر وہ تجھ سے جھگڑیں) 10۔ ابن المنذر نے جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان جادلوک فقل اللہ اعلم بما تعلمون۔ (یعنی آپ ان سے یہ کہہ دیجئے) اللہ تعالیٰ باخبر ہیں اسی سے جو تم کرتے ہو۔
Ayahs 22:70–71

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھے معلوم نہیں جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے بلا شبہ یہ اللہ اس کو جانتا ہے سب کچھ کتاب میں لکھا ہے بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ اور نہ ان کے پاس ان کی کوئی دلیل ہے اور ظالمین کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو پیدا فرمایا مخلوق کو پیدا کرنے سے سو سال پہلے اور قلم سے فرمایا لکھ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اور اللہ تعالیٰ عرش پر تھے۔ اس نے کہا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا (لکھ) میرا علم لکھ مخلوق کے بارے میں قیامت قائم ہونے کے دن تک تو قلم جاری ہوا۔ اور اس نے وہ سب کچھ لکھا جو قیامت تک علم الٰہی میں ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا۔ آیت الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض، یعنی سب کو اللہ جانتا ہے یعنی جو کچھ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں ہے۔ آیت ان ذلک۔ یعنی یہ علم، فی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے سے پہلے، آیت ان ذلک علی اللہ یسیر۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر یہ کام آسان ہے۔ 2۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ میری امت پر تقدیر میں سے ایک دروازہ کھولے گا آخریہ زمانے میں جس کو کوئی چیز بند نہیں کرے گی۔ اور تمہارے لیے کافی ہوگا اس میں سے کہ تم یوں کہو۔ آیت الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض، ان ذلک فی کتاب، ان ذلک علی اللہ یسیر۔ 3۔ اللا لکائی نے سنۃ میں دوسرے طریق سے سلیمان بن جعفر قرشی (رح) نے مرفوعاً روایت کیا اور اس کی مثل مرسل بھی روایت کیا۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں جو خوب واضح ہیں تو اے مخاطب تو کافروں کے چہروں میں ناگواری کو پہچان لے گا، قریب ہے کہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتے ہیں۔ آپ فرمادیجئے کیا میں اس سے زیادہ ناگوار چیز نہ بتادوں ؟ وہ دوزخ ہے، جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ فرمایا ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یکادون یسطون سے مراد ہے یبطشون یعنی وہ پکڑ لیں گے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یکادون یسطون کہ وہ کفار قریش ان پر حملہ کردیں گے ان کو پکڑ لیں گے (جو انکے سامنے ہماری آیات پڑھتے ہیں)
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ! ایک مثل بیان کی گئی ہے سو تم اسے دھیان سے سن لو۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں وہ ہرگز مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے لیے وہ سب اکٹھے ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کئی چیز چھین لے تو اسے چھڑا نہیں سکے، طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

لوگوں نے اللہ کی ایسی تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے بلا شبہ اللہ بڑی قوت والا ہے زبردست ہے

ا۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ، یہ مثال ایک بت کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ضعف الطالب، یعنی (کمزور ہیں) تمہارے معبود، والمطلوب یعنی مکھی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت لن یخلقوا ذبابا، یعنی یہ بت ہرگز ایک مکھی کو پیدا نہیں کرسکتے۔ آیت وان یسلبہم الذباب شیئا۔ یعنی وہ لوگ جو بتوں کے لیے کھانے رکھتے تھے ان پر مکھی بیٹھتی تھی تو ان میں سے کھاتی تھی اور یہ بت طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اس سے چھڑا لیں۔ پھر کلام کا رخ فرمایا لوگوں اور بتوں کی طرف اور فرمایا۔ آیت ضعف الطالب یعنی جو طلب کرتا ہے اس بت سے جو ایک مکھی پید انہیں کرسکتا اور اس سے چھڑانے کی طاقت رکھتا ہے جو وہ اس سے چھین کرلے گئی۔ آیت والمطلوب، اس سے مراد بت ہے جو نہ مکھی پیدا کرسکتا ہے اور نہ اس سے چھڑا سکتا ہے جو وہ اس سے چھین کرلے گئی۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین تدعون من دون اللہ سے لے کر آیت لایستنقذوہ منہ سے مراد ہے وہ بت جو مکھی سے وہ چیز چھڑا بھی نہیں سکتے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماقدرو اللہ حق قدرہ۔ یعنی جب وہ ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہوئے جو مکھی کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو واقعی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر کو نہیں پہچانا۔ مکھی کی وجہ سے جنت اور جہنم 6۔ ابن ابی شیبہ اور احمد نے زہد میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ سلمان ؓ نے فرمایا کہ ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا اور ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیا تھی ؟ پھر انہوں نے ایک انسان کے کپڑوں پر ایک مکھی دیکھی کہا یہ مکھی ہے لوگوں نے پوچھا اور یہ کس طرح ہوا فرمایا دو مسلمان آدمی گزرے ایک قوم پر جو اپنے بت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی آدمی اس سے نہیں گزرتا تھا مگر وہ کوئی چیز اس بت کو پیش کرتا تھا ان لوگوں نے ان دونوں مسلمانوں سے کہا تم دونوں بھی ہمارے بت کے لیے کچھ پیش کرو انہوں نے کہا ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ان لوگوں نے کہا تم پیش کرو۔ اگرچہ ایک مکھی کیوں نہ ہو۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تیرا کیا خیال ہے دوسرے نے کہا میں اللہ کے ساتھ کسی شریک نہیں کرتا۔ اس کو قتل کردیا گیا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ دوسرے نے کہا اور اپنے چہرے پر اپنے ہاتھ سے ایک مکھی کو پکڑا اور اس کو بت پر ڈال دیا۔ لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑدیا تو اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا۔
Ayahs 22:75–77

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو چن لیتا ہے اور آدمیوں میں سے بھی، بلا شبہ اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور خیر کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت اللہ یصطفی یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام چن لیتے ہیں۔ 2۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چن لیا موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔ 3۔ الحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران صفی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے 4۔ بغوی نے معجم میں اور باوردی اور ابن قانع والطبرانی وابن عساکر نے زید بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے یہ فرمانا شروع کیا فلاں کہاں ہے ؟ فلاں کہاں ہے ؟ آپ نے بہت سے صحابہ کا پوچھا اور ان کی طرف پیغامات بھیجے یہاں تک کہ آپ کے پاس آکر اکٹھے ہوگئے۔ آپ نے فرمایا میں تم کو ایک بات بیان کرتا ہوں تم اس کو یاد کرلو اور دل میں بٹھالو پھر اپنے آنے والی نسل کو بتانا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کچھ بندوں کو چن لیا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس۔ فرمایا اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اور بلاشبہ میں بھی چنتا ہوں کچھ لوگوں کو تم میں سے جن کو میں چننا پسند کرتا ہوں اور میں بھائی چارہ قائم کرتا ہوں۔ تمہارے درمیان جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان بھائی چارہ بنایا۔ پھر فرمایا اے ابوبکر کھڑے ہوجاؤ۔ وہ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا اے ابوبکر تیرا مجھ پر احسان ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو بدلہ دے گا۔ اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو میں تجھ کو خلیل بناتا آپ کا تعلق میرے نزدیک اسی طرح ہے جیسے میری قمیص کا تعلق میرے جسم کے ساتھ ہے اور آپ نے اپنی قمیص کو اپنے ہاتھ سے حرکت دی۔ پھر فرمایا اے عمر ! قریب ہوجا وہ قریب ہوگئے پھر فرمایا اے عمر ! قریب ہوجاؤ اور قریب ہوگئے۔ پھر فرمایا تم ہم پر بہت سخت تھے (اے) ابوحفص ! میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ تیرے ذریعہ دین کو عزت دے یا ابوجہل کے ذریعہ۔ یہ عزت اللہ نے تجھے بخشی اور تو مجھے ابوجہل سے زیادہ محبوب تھا۔ اور تو میرے ساتھ ہوگا جنت میں تیسرے نمبر پر پھر عمر ؓ پیچھے ہٹ گئے اور آپ نے اخوت قائم کردی۔ عمر ؓ اور ابوبکر ؓ کے درمیان۔ پھر آپ نے عثمان بن عفان ؓ کو بلایا اور فرمایا اے عثمان قریب ہوجاؤ۔ وہ برابر آپ سے قریب ہوتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھٹنوں کو رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں سے ملادیا۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا پھر آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے بڑی عظمت والی ہے اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر عثمان کی طرف دیکھا اچانک ان کی چادر کچھ کھلی ہوئی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کو درست کردیا پھر فرمایا اپنی چادر کے پلو کو اپنی گردن سے باندھ لو۔ بلاشبہ تیری بڑی شان ہے آسمان کے رہنے والوں میں۔ تو ان لوگوں میں سے ہے جو میرے پاس حوض پر آئیں گے اور آپ کی رگوں میں خون بہہ رہا ہوگا۔ میں کہوں گا کس نے تیرے ساتھ یہ معاملہ کیا ؟ تو کہے گا فلاں نے اور یہ جبریل (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ جب وہ لمبی آواز سے پکاریں گے آسمان سے۔ مگر یہ کہ عثمان ؓ ہر اس شخص پر امیر ہیں جس کی مدد نہیں کی گئی۔ پھر عبدالرحمن بن عوف ؓ کو بلایا۔ اور فرمایا قریب ہوجاؤ ایک اللہ کے امین۔ اور آسمان میں امین۔ اللہ تعالیٰ تجھے مال کو حق میں خرچ کرنے کی توفیق دے گا۔ لیکن تیرے لیے میرے پاس ایک دعا ہے لیکن میں نے اس کو موخر کردیا ہے۔ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے عرض کیا کرم فرمائیے یا رسول اللہ ! پھر فرمایا اے عبدالرحمن تجھے امانت نے آمادہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تیرے مال کو اور زیادہ کردے اور آپ ان کے ہاتھ کو حرکت دے رہے تھے پھر عبدالرحمن ایک طرف ہوگئے اور آپ نے ان کے اور عثمان ؓ کے درمیان مواکات قائم کردی۔ پھر آپ نے طلحہ ؓ اور زبیر ؓ کو بلایا آپ نے فرمایا میرے قریب ہوجاؤ وہ آپ سے قریب ہوگئے پھر آپ نے فرمایا تم میرے حواری ہو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرح۔ پھر ان کے درمیان مواخات قائم کردی۔ پھر سعد بن ابی وقاص ؓ کو بلایا اور عمار بن یاسر ؓ کو فرمایا اے عمار ! تجھے ایک باغیوں کی جماعت قتل کرے گی۔ پھر ان کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا۔ پھر ابو درداء ؓ اور سلمان ؓ کو بلایا فرمایا اے سلمان تو ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تجھ کو علم اول اور علم آخر کتاب اول اور کتاب آخر عطا فرمائی پھر فرمایا اے ابو درداء ؓ کیا میں تجھ کو ایک بات نہ بتاؤ ؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا اگر تم ان پر تنقید کرو گے تو وہ تم پر تنقید کریں گے۔ اور اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو تجھ کو نہیں چھوڑیں گے اور اگر تو ان سے بھاگے گا تو وہ تجھ کو پالیں گے۔ اپنے فقر کے دن کے لیے کچھ اپنے سامان میں آج ان کو دے دو ۔ پھر آپ نے ابودرداء اور سلمان فارسی کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ ؓ کے چہروں میں دیکھا اور فرمایا خوش ہوجاؤ۔ اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرو۔ تم پہلے ہوگے جو میرے پاس حوض کوثر پر آؤ گے اور تم ہی بالاخانوں میں رہو گے۔ پھر عبداللہ بن عمر ؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے گمراہی سے ہدایت دی۔ علی ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ میری روح نکل رہی ہے اور میری پیٹ ٹوٹ رہی ہے جب سے میں نے آپ کو دیکھا کہ جو آپ میرے سوا سب صحابہ کو ایسا ایسا فرما رہے ہیں اور آپ نے میری طرف التفات نہیں فرمایا اگر یہ مجھ پر ناراضگی کی وجہ سے ہے تو پھر بھی آپ کی طرف سے رضا اور کرامت ہے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تجھ کو نہیں موخر کیا مگر اپنی ذات کے لیے۔ تیرا مرتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسے ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا اور تو میرا وارث ہے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کی طرف سے وراثت کیا ہے ؟ فرمایا انبیاء جس چیز کا وارث بناتے ہیں فرمایا آپ سے پہلے انبیاء کی وراثت کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی کتاب اور ان کے نبی کی سنت۔ اور تو میرے ساتھ میرے محل میں جنت میں ہوگا۔ فاطمہ ؓ میری بیٹی بھی ساتھ ہوگی اور تو میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت اخوانا علی سرر متقابلین، (الحجر : 47) اللہ کے لیے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ارکعوا۔ کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ یہ ادب ہے اور نصیحت ہے۔