Ayah 22:291۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” التفث “ حج کے سارے احکام ہیں۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” التفث “ سے مراد ہے حج کے سارے احکام پورے کرنا۔
3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ” التفث “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے سر کو مونڈنا۔ (داڑھی کے) جانبین سے (بڑھے ہوئے بالوں کو) لینا۔ بغل کے بالوں کو نوچنا۔ زیر ناف بالوں مونڈنا۔ عرفات میں وقوف کرنا۔ صفا مروہ کے درمیان چکر لگانا۔ شیاطین کو کنکریاں مارنا۔ ناخنوں کو کاٹنا۔ اور مونچھوں کے بالوں کو کترنا اور (جانور) ذبح کرنا۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ثم لیقضوا تفثہم “ یعنی ” بالتفث “ سے مراد ہے کہ سر کے بال مونڈوانے کے بعد اپنے احراموں کو کھول دینا۔ اور (سلے ہوئے) کپڑے پہن لینا اور ناخنوں کو تراش لینا اور اسی طرح آیت ” ولیوفوا نذورھم “ جو اونٹ یا گائے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے اس کو پورا کرو۔
5۔ عبد بن حمدی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ثم لیقضوا تفثہم “ سے مراد ہر وہ کام جو احرام کی وجہ سے حرام ہوگیا تھا۔ آیت ولیوفوا نذورہم سے مراد ہے حج کی نذر کو پورا کرنا۔
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ثم لیقضوا تفثہم “ سے مراد ہے سر اور زیر ناف بالوں کو مونڈنا۔ بغل کے بال اکھاڑنا مونچھوں اور ناخنوں کا کاٹنا۔ شیاطین کو کنکریاں مارنا۔ اور داڑھی کو کاٹنا (جو ایک مشت سے زائد ہو) (اور فرمایا) آیت ” ولیوفوا نذورہم “ یعنی حج کی نذر کو ( پورا کرنا)
7۔ ابن ابی شیبہ نے محمد بن کعب (رح) سے ورایت کیا کہ ” التفث “ سے مراد ہے زیر ناف بالوں کا مونڈنا بغل کے بال اکھاڑنا، مونچھوں اور ناخنوں کو کاٹنا۔
8۔ ابن ابی شیبہ عاصم (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا آیت ولیوفوا نذورہم، تشدید اور لام کی جزم کے ساتھ آیت والیطوفوا مشدد لام کے ساتھ۔
9۔ عبد بن حمود وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم سے آیت ” والیوفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے دسویں ذوالحجہ کے دن واجب طواف۔
10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ولیوفو روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ذوالجحہ کا واجب طواف۔
11۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیوفوا سے مراد ہے طواف زیارت۔
12۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولیوفوا سے مراد ہے طواف زیارت اور ابن جریر کے یہ الفاظ ہیں کہ وہ طواف زیار ہے یوم النحر کے دن۔
بیت اللہ پر کوئی جابر شخص غلبہ نہ پائے گا۔
13۔ بخاری نے تاریخ میں اور ترمذی وحسنہ وابن جریر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے والبیہقی نے دلائل میں عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے (کعبہ کو) بیت العتیق فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جابر لوگوں سے آزاد کیا (اب) کبھی بھی اس پر کوئی جابر شخص غلبہ نہیں پائے گا۔
14۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بیت عتیق اس لیے ہے کہ اس کو جابر لوگوں سے آزاد کردیا گیا ہے۔
15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ بتی عتیق اس لیے نام رکھا گیا کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جابر لوگوں سے آزاد کردیا کبھی اس پر کسی جابر کو نہیں چھوڑا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ زمین میں کوئی جابر ایسا نہیں ہے جو دعویٰ کرے کہ کعبہ اس کا ہے (یعنی وہ کعبہ کا مالک ہے)
16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بیت عتیق اس لیے نام رکھا گیا کہ جس کسی نے اس کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا وہ ہلاک ہوگیا۔
17۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ بیت عتیق اس لیے نام رکھا گیا کیونکہ وہ نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں غرق ہونے سے آزاد کیا گیا۔
18۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عتیق اس لیے نام رکھا گیا کیونکہ وہ پہلا گھر ہے جو (زمین پر) بنایا۔
19۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیت اللہ کے طواف کو پناہ کی جگہ بنادیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ابلیس کو سجدہ کا حکم فرمایا تو اس نے انکار کیا تو رحمن ناراض ہوگئے۔ تو فرشتوں نے کہا بیت اللہ کی پناہ طلب کی یہاں تک رحمن کی ناراضگی ختم ہوگئی۔
20۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے اردگرد طواف کیا۔
21۔ سنیان بن عیینہ والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے کیونکہ رسول اللہ نے اس کے پیچھے سے بیت اللہ کا طواف کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “۔
22۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الوداعی طواف واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ آیت والیطوفوا بالبیت العتیق۔
23۔ ابن ابی حاتم نے ابوحمزہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا تو سورة الحج پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “ پھر فرمایا حج کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہے۔
24۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ منیٰ سے ہی گھروں کو چلے جاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو۔ اور آپ نے حائضہ عورت کے لیے گھر جانے کی اجازت فرمادی۔
25۔ بیہقی نے شعب میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے اس گھر کے ساتھ چکر لگائے اور اس میں کوئی بات نہ کی سوائے تکبیر یا تہلیل کے تو اس کے لیے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ہوگا۔
26۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے پڑھ دو رکعت نماز پڑھی تو (گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا) جیسے آج اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
27۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔
بیت اللہ کے طواف کی فضیلت
28۔ ابن ابی شیبہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے جن کو اس نے شمار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھ دیں گے اور اس سے ایک برائی مٹا دیں گے اور اس کے لیے ایک درجہ بلند کردیں گے۔ اور اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا۔
29۔ ابن عدی اور بیہقی نے ابو عقال رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ میں نے انس ؓ کے ساتھ بارش میں طواف کیا تو انہوں نے ہم کو فرمایا نئے سرے سے عمل کرو الہ تعالیٰ نے تمہارے پہلے گناہ معاف کردئیے ہیں میں نے تمہارے نبی ﷺ کے ساتھ طواف کیا تھا اس دن کی طرح تو آپ ﷺ نے فرمایا نئے سرے سے عمل کرو تمہارے گناہ معاف کردئیے گئے ہیں۔
30۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے محمد بن المنکر (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے اور اس میں کوئی بیکار بات نہیں کی تو (اس کا ثواب) ایک غلام کے برابر ہوگا جس کو آزاد کردیتا ہے۔
31۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے بیت اللہ کے پچاس طواف کئے تو وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
23۔ ابن ابی شیبہ والحاکم وصححہ نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے بنو عبد مناف ! اس گھر کے طواف سے کسی کو نہ روکو ! اور نہ نماز پڑھنے روکو خواہ جس وقت رات میں یا دن میں طواف کرے یا نماز پڑھے۔
33۔ ابن ابی شیبہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عصر کے بعد طواف کیا اور دو رکعت طواف کی پڑھیں ان سے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ شہر دوسرے شہروں کی طرح نہیں ہے۔
34۔ الحاکم وصححہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ جب بیت اللہ کا طواف کرتے تھے تو ہر چکر میں حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے۔
35۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو حجر اسود کو چومتے ہوئے اور اس پر جھکتے ہوئے دیکھا پھر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن یمانی کا بوسہ لیتے ہوئے اور اس پر اپنے رخسار مبارک کو رکھتے ہوئے دیکھا۔
36۔ الحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے اس حدیث کو یاد کرلو اور وہ اس کو نبی ﷺ سے نقل فرماتے تھے۔ کہ آپ دونوں رکنوں کے درمیان یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔
رب قنعنی بما رزقتنی وبارک لی فیہ واخلف علی کل غائبۃ لی بخیر
اے میرے رب مجھے قناعت دے جو تو مجھے رزق دے اور اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور جو چیز مجھ سے غائب ہے اب میری بجائے تو اس کا بھلائی کے ساتھ نگران بن جا (یعنی میرے اہل و عیال پر اور میرے مال پر)
37۔ ترمذی والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے نے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے۔ لیکن تم طواف میں باتیں کرتے ہو پس جو کوئی طواف میں بات کرے تو خیر کی بات کرے۔
38۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف کے دوران پانی پیا۔
39۔ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب میں عبدالاعلی تیمی (رح) سے روایت کیا کہ خدیجہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کیا دعا مانگوں جب میں بیت الہ کا طواف کروں آپ نے فرمایا تو یوں کہہ۔
اللہم اغفر ذنوبی وخطئی وعمدی واسرافی فی امری انک ان لا تغفر لی تلیکنی۔
اے اللہ بخشدے میرے گناہوں کو میری خطاؤ کو اور میرے جان بوجھ کر کئے ہوئے گناہوں کو اور میرے کام میں تجاوز کرنے کو بلاشبہ اگر آپ نے میر بخشش نہ فرمائی تو آپ مجھے ہلاک کردیں گے۔
40۔ احمد والحاکم وصححہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطاء (رح) سے کہا کیا تو نے سنا ابن عباس ؓ کو کہ تم طواف کا حکم دئیے گئے ہو اور تم کو اس میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عطاء (رح) نے فرمایا کہ ہم کو اس میں داخل ہونے سے منع نہیں فرمایا لیکن میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا مجھ کو اسامہ بن زید ؓ نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے جب آپ باہر تشریف لائے تو بیت اللہ کی طرف دورکتعیں پڑھٰن اور فرمایا یہ قبلہ ہے۔
41۔ الحاکم وصححہ نے عائشہ ؓ عنہسا سے روایت کیا کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے اس حال میں کہ آپ آسودہ خاطر اور خوشگوار طبیعت میں تھے۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو غمگین تھے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے جبکہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی اور آپ کی طبیعت خوش تھی پھر آپ واپس تشریف لائے تو پریشان تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ میرے سے گئے تو خوش تھے اب کیا بات پیش آئی ؟ فرمایا میں کعبہ میں داخل ہوا اور میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس کو ام کو کرنے والا نہ ہوتا میں خوف کرتا ہوں کہ میں اپنے بعد اپنی امت کو تھکانے والا ہوں۔
42۔ الحاکم وصححہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتی تھیں تعجب ہے اس مسلمان مرد کے لیے جب وہ کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس کی چھت کی طرف نگاہ اٹھاتے وقت اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کو چھوڑدیتا ہے۔ سول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے آپ کی نظر آپ کے سجدوں کی جگہ سے نہیں ہٹی یہاں تک کہ آپ باہر تشریف لے آئے۔
Ayahs 22:30–311۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حج اور عمرہ اور وہ تمام گناہ مراد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا
2۔ عبد بن حمید نے عطاء اور عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ میں ” الحرمات “ سے مراد ہے۔ المشعر الحرام البیت الحرام، المسجد الحرام، اور البلد الحرام۔
مکہ مکرمہ کی تعظیم امت پر لازم ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ وابن ابی حاتم نے عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ امت ہمیشہ خیر پر ہوگی جب کہ مکہ کی تعظیم کرتی رہے گی جب وہ لوگ اس تعظیم کو ضائع کردیں گے تو ہلاک ہوجائیں گے۔
5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فاجتنبوا الرجس من الاوثان “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم بتوں کی عباد تمہیں شیطان کی اطاعت سے بچتے رہو۔ آیت ” واجتنبوا قول الزور یعنی اللہ پر اختراع باندھنے اور اللہ تعالیٰ کی تکذیب سے بھی بچتے رہو۔
6۔ احمد والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ایمن بن خریم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! جھوٹی گمراہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے کے برابر ہے تین مرتبہ آپ نے اسی طرح فرمایا پھر یہ آیت فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور پڑھی۔
7۔ احمد وعبد بن حمید وابن داوٗد وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں خریم بن فاتک اسدی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر تین مرتبہ فرمایا جھوٹی گواہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت واجتنبوا قول الزور حنفاء للہ غیر مشرکین بہ۔
8۔ احمد والبخاری ومسلم اور ترمذی نے ابوبکر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو سب سے بڑے نگاہ نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبردار ! (غور سے سنو) جھوٹ بولنا خبردار (غور سے سنو) اور جھوٹی گواہی دینا برابر آپ اس بات کو لوٹاتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ خاموش ہوجاتے۔
9۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے (پھر) یہ آیت پڑھی آیت فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور۔
10۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واجتنبوا قول الزور سے مراد ہے جھوٹ ہے۔
11۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا آیت وجتنبوا قول الزور کہ سے مراد ہے بات کی ذریعہ شرک کرنا اور وہ اس طرح سے کہ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور اپنے تلبیہ میں یوں کہتے تھے، لبیک لا شریک لک لبیک الا شریکا ہو لک تملکہ وما ملک۔ (اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ مگر وہ شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور تو اس کا بھی مالک ہے جس کا وہ مالک ہے۔
12۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت حنفاء للہ غیر مشرکین بہ، سے مراد ہے اللہ کے لیے حج کرنے والا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانے والا اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ شرک کرتے ہوئے حج کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کردیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا اب تم حج کرو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتے ہوئے۔
3ٍ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ لوگ حج کرتے تھے حالانکہ وہ شرک کرنے والے تھے۔ ان لوگوں کو حنفاء الحجاج کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت حنفاء للہ غیر مشرکین بہ۔
14۔ ابن ابی حاتم نے ابوبکر صدیق ؓ کے آزاد کردہ عبداللہ بن قاسم ؓ سے روایت کیا کہ مضر قبیلہ کے کچھ لوگ اور انکے علاوہ (دوسرے لوگ) بیت اللہ کا حج کرتے تھے حالانکہ وہ مشرک تھے اور مشرکین میں سے جو حج نہیں کرتے تھے تو وہ کہتے تھے۔ تم کہو حنفاء۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت حنفاء للہ غیر مشرکین بہ۔ یعنی حج کرو جبکہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔
15۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا قرآن میں جہاں حنفاء آیا ہے اس سے مراد مسلمان ہیں اور یہاں حنفاء سے مراد حجاج ہیں۔
16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” حنفاء “ مراد ہے حج کرنے والے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
17۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” حنفاء “ سے مراد ہے تابعداری کرنے والے۔
18۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء، کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ایک مثال ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا اس مشرک کے لیے جو ہداتی سے بہت دور ہے اور ہلاکت میں ہے۔
19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی مکان سحیق “ سے مراد ہے دور۔
Ayahs 22:32–341۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے اونٹ (یعنی قربانی کے جانور )
2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے کہ (قربانی کے جانوروں کا) موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کا احترام کرنا۔ آیت لکم فیہا منافع الی اجل مسمی یعنی ان کو بد نہ کہنے تک۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذالک ومن یعظم شعائر اللہ تعظیم سے مراد ہے قربانی کے جانوروں کا خوب موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کو اچھے طریقے سے رکھنا آیت لکم فیہا منافع الی اجل مسمی (یعنی نفع حاصل کرسکتے ہو) ان کو ہدی کہنے سے پہلے ان کی پیٹھ سے اور ان کی اون سے اور ان کے بالوں سے جب تم نے اس کو قربانی کا جانور نامزد کردیا۔ تو اب منافع حاصل کرنا درست نہیں۔
4۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) اور عطاء (رح) سے اس آتی کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں منافع یہ ہیں کہ اس پر سوار کرنا جب ضرورت ہو اور ان کے بالوں اور ان کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنا ہے ” اجل مسمی “ سے مراد ہے کہ تیرا اسے قلادہ پہنانا اور بد نہ بنانا ہے۔ آیت ثم محلہا الی البیت العتیق۔ یعنی قربانی کے دن اس کو منی ٰ میں ذبح کرنا ہے۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم محلہا الی البیت العتیق۔ یعنی جب وہ (قربانی کا جانور) حد حرم میں داخل ہوگیا تو تحقیق وہ اپنے قربان ہونے کی جگہ کو پہنچ گیا۔
شعائر اللہ کی تعظیم سے کیا مراد ہے
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن موسیٰ (رح) سے آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ عرفہ میں وقوف کرنا شعائر اللہ میں سے ہے۔ اور مزدلفہ میں (رات گزارنا) شعائر اللہ میں سے ہے۔ اور قربانی کا جانور شعائر اللہ میں سے ہے اور شیاطین کو کنکری مارنا شعائر اللہ میں سے ہے۔ اور حلق کرانا شعائر اللہ میں سے ہے۔ سو جو شخص ان تمام چیزو کی تعظیم کرتا ہے۔ آیت فانہا من تقوی القلوب، لکم فیہا منفع الی اجل مسمی۔ فرمایا تمہارے لیے اس میں سے ہر مشعر میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے نکل جاؤ دوسرے مشعر کی طرف، آیت ثم محلہا الی البیت العتیق اور ان تمام شعائر کا محل بیت اللہ کا طواف کرنا ہے۔
7۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء (رح) وسلم روایت کیا کہ ان سے شعائر اللہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا حرمات اللہ سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنا اور اس کی اطاعت کی اتباع کرنا یہ سب چیزیں شعائر اللہ ہیں۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکل امۃ جعلنا منسکا سے مراد ہے عید۔
9۔ عبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکل امۃ جعلنا مسنکا۔ سے مراد ہے خون بہانا۔
10۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکل امۃ جعلنا منسکا سے مراد ہے ذبح کرنا۔
11۔ ابو داوٗد والنسائی والحاکم وصححہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ رسول للہ ﷺ نے اس سے فرمایا عید الاضحی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو میری امت کے لیے بنادیا ہے۔ اس آدمی نے کہا اگر میں مذکر یا مؤنث بکری کے ذبح کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا صرف مجھ پر ذبح کرنا لازم ہے آپ نے فرمایا تو اپنے ناخنوں کو کات لے۔ اپنی مونچھوں کو تراش لے۔ اپنے زیر ناف بالوں کو مونڈلے۔ یہ تیری قربانی کی تکمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔
12۔ الحاکم وصححہ وضعفہ الزہبی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تو نے ہماری عید کو کیسے پایا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ آسمان والوں پر فخر فرمایا ہے۔ اے محمد ﷺ آپ جان لیں کہ دنبہ بکریوں کے نر سے بہتر ہے اور دنبہ بیل سے بھی بہتر ہے اور دنبہ اونٹ سے بھی بہتر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ دنبہ سے بہتر جانور کو جانتے تو ابراہیم (علیہ السلام) کے قربانی کے عوض اسے قربان کرتا۔
13۔ احمد وابوداوٗد والترمذی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز لوگوں کو پڑھائی۔ جب اپنے خطبے اور نماز سے فارغ ہوئے ایک مینڈھے کو منگوایا اور اس کو خود ذبح فرمایا اور فرمایا بسم اللہ اللہ اکبر۔ اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے میری امت میں سے قربانی نہیں کی۔
15۔ احمد وابوداوٗد وابن ماجہ وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کے دن میں دو دنبوں کی قربانی کی ان کو قبلہ کی طرف لٹاتے ہوئے دیہ دعا پڑھی۔
انی وجھت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا واما انا من المشرکین۔ قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت وانا اول المسلین اللہم منک ولک وعن محمد وامتہ
ترجمہ : میں نے اپنا رخ کیا اس ذات کی طرف جو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والی ہے ایک اسی کی طرف رخ کرتے ہوئے اور فرمانبردار بن کر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے ساتھ میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ یہ آپ کی طرف سے ہے اور آپ کے لیے اور محمد ﷺ اور ان کی امت کی طرف سے۔
پھر آپ نے بسم اللہ اور تکبیر پڑھی اور ذبح فرمایا۔
16۔ ابن ابی الدنیا نے الاضاحی میں اور بیہقی نے شعب میں حضرت علی ؓ نے روایت کیا کہ انہوں نے (جانور کو) ذبح کرنے کے وقت یہ دعا پڑھی۔
انی وجھت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا واما انا من المشرکین۔ قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت وانا اول المسلین
ترجمہ : میں نے اپنا رخ کیا اس ذات کی طرف جو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والی ہے ایک اسی کی طرف رخ کرتے ہوئے اور فرمانبردار بن کر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے ساتھ میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ یہ آپ کی طرف سے ہے
17۔ احمد والبخاری ومسلم ولنسائی وابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ جانور ذبح کرتے تھے تو یوں فرماتے تھے۔ بسم اللہ واللہ اکبر اللہم منک وبک اللہم تقبل منی (یعنی اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ سب سے بڑے ہیں اے اللہ ! یہ (قربانی) آپ کی طرف سے ہے اور آپ کے لیے ہے اے اللہ میری طرف سے اسے قبول فرمائیے۔
19۔ ابن ابی حاتم مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلہ اسلمو سے مراد ہے اخلصو (یعنی خالص نیت سے اللہ کی عبادت کرو۔
20۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وبشر المخبتین، یعنی اطاعت کرنے والے۔
21۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا نے ذم الغضب میں اور ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عمرو بن اوس (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبشر المخبتین میں المخبتون سے مراد ہے وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتے اور جب ظلم کیے جائیں تو بدلہ نہیں لیتے۔
22۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” وبشر المخبتین “ سے مراد ہے یعنی عاجزی کرنے والے۔
23۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وبشر المخبتین “ سے مراد ہے ڈرنے والے (اللہ کے عذاب سے ) ۔
24۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ جب ربیع بن خثیم کو دیکھتے تھے تو فرماتے آیت ” وبشر المخبتین “ اور ان سے فرمایا آپ کو دیکھ کر مجھے مخبتین یاد آجاتے ہیں۔
Ayahs 22:35–371۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم، وہ اللہ کے ذکر کے وقت ان کے دل اللہ کی عظمت کی وجہ سے کانپتے ہیں اور آیت ” والصبرین علی ما آصابہم) (صبر کرنے والے) بلاؤں پر اور مصیبتوں پر آیت ” والمقیمی الصلوۃ “ یعنی وہ نمازوں کو اللہ کے حکم کے مطابق صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” والبدن “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد اونٹ اور گائیں ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد کھر والے جانور ہیں۔
5۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” البدن “ سے مراد ہے بدن والے جانور یعنی اونٹ اور گائے۔
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” البدن “ سے مراد ہے اونٹ۔
7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبدالکریم (رح) سے روایت کیا کہ عطا اور حکم (رح) نے اختلاف کیا۔ عطا (رح) نے کہا بدنہ اونٹ اور گائے سے ہے اور حکم (رح) نے کہا کہ بدنہ صرف اونٹ کے لیے ہے۔
8۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ البدن سے مراد اونٹ اور گائے ہے۔
9۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ البدن سے مراد گائیں ہیں۔
10۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے یعقوب الریاحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو ایک بدنہ کی وصیت کی۔ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ ایک آدمی نے مجھے بدنہ کی وصیت کی ہے کیا میری طرف سے ایک گائے کافی ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا تمہارا ساتھی کن لوگوں میں ؟ میں نے عرض کیا بنو ریاح میں سے فرمایا تو کون سے جانور پالتا ہے۔ کہا بنو ریاح نے گائے سے اونٹ تک پالے ہیں اور وہ تمہارا ساتھی ہے۔ گائے تو اسد اور عبدالقیس کے لیے ہے۔
11۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بدنہ کو اس کے موٹا ہونے کی وجہ سے بدنہ کہتے ہیں۔
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے ورایت کیا آیت ” لکم فیہا خیر “ ھا ضمیر سے بدنہ مراد ہے۔ اگر محتاج ہوجائے پیٹھ کی طرف (یعنی اس پر سوار ہونے کی ضرورت پڑجائے) تو سوار ہوجائے یا دودھ کی ضرورت پڑجائے تو تمہارے لیے ان میں خیر ہے۔
13۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لکم فیہا خیر “ سے مراد ہے کہ تمہارے لیے اجر ہے۔ اور (دوسرے) منافع ہیں بدنہ میں۔
قربانی کا اجر عظیم
14۔ احمد وعبد بن حمید وابن ماجہ والطبرانی والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب میں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ پھر پوچھا یا رسول اللہ ! اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اون کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔
15۔ ابن عدی والدارقطنی والطبرانی اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عید کے دن قربانی سے افضل کسی چیز میں پیسے خرچ کرنا نہیں ہے۔
16۔ ترمذی وحسنہ وابن ماجہ والحاکم وصححہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قربانی کے دن (جانور) کا خون بہادینے سے ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں اور بلا شبہ وہ قربانی کا جانور البتہ قیامت کے آئے گا اپنے سینگون اپنے کھروں اور اپنے بالوں کے ساتھ اور خون زمین پر واقع ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچتا ہے۔ پس قربانیاں خوش دلی سے کرو۔
17۔ ابن ماجہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش پاتا ہے (پھر بھی) وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن انس (رح) سے روایت کیا کہ سعید بن المسیب نے حج کیا اور ان کے ساتھ حرملہ (رح) نے بھی حج کیا۔ سعید (رح) نے ایک دنبہ خریدا اور اس کی قربانی کی اور ابن حرملہ (رح) نے ایک بدنہ چھ دینار میں خریدا اور اس کو نحر کردیا۔ سعید (رح) نے ان سے پوچھا کیا تیرے لیے ہماری سنت کافی نہ تھی۔ انہوں نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت ” والبدن جعلنا ہا لکم من شعائر اللہ لکم فیہا خیر “ تو میں نے یہ پسند کیا کہ میں اس خیر کو حاصل کروں۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے دلالت فرمائی۔ تو ابن المسیب اس بات سے بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سے یہ بات بیان کرتے تھے۔
19۔ ابو نعیم نے ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ صفوان بن سلیم (رح) نے حج کیا۔ اور ان کے پاس سات دینار تھے۔ ان پیسوں سے انہوں نے ایک بدنہ خریدا۔ ان سے کہا گیا آپ کے پاس صرف سات دینار تھے کہ کہ جس سے آپ نے ایک بدنہ خرید لیا تو انہوں نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت لکم فیہاخیر،
20۔ قاسم بن اصبغ وابن عبدالبر نے تمہید میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اے لوگو ! قربانی کرو اور خوش دلی سے کرو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کوئی بندہ اپنی قربانی کو قبلہ کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اس کا خون، اس کے سینگ اور اس کا اون سب میزان میں ہوں گی قیامت کے دن بلاشبہ خون اگر مٹی میں واقع ہوجائے تو وہ اللہ کی محفوظ پناہ گاہ میں واقع ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھوڑا عمل کرو تو زیادہ بدلہ دئیے جاؤ گے۔
21۔ احمد نے ابوالاشد السلمی (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد اور دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ افضل قربانی وہ ہے جو مہنگی ہو اور موٹی ہو۔
22۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ قربانی کے دن لوگوں کے خون بہانے سے زیادہ اجر کے لحاظ سے کوئی خرچ کرنا نہیں مگر وہ خرچ جو صلہ رحمی پر کیا۔
23۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لکم فیہا خیر “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر محتاج ہو دودھ کی طرف تو اس کا دودھ پی لے۔ اگر محتاج ہو سواری کی طرف تو سوار ہوجائے۔ اگر محتاج ہواون کا (یعنی اون کی ضرورت پڑجائے) تو اس کو لے لے۔
24۔ ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کیا کوئی آدمی بدنہ پر سوار ہوجائے بغیر بوجھ کے فرمایا اس کا دودھ لے لو بغیر مشقت کے۔
25۔ ابن ابی شیبہ نے علی ؓ نے فرمایا آدمی سوار ہوجائے اپنے بدنہ پر معروف طریقے سے۔
26 ابن ابی شیبہ نے جابر ؓ سے رایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اجازت فرمائی کہ وہ اس قربانی کے جانور پر سوار ہوجائیں جب اس کی ضرورت ہو۔
27۔ ابن شیبہ نے عطاء رحمۃ اللہ علی سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے اجازت فرمائی کہ وہ اس قربانی کے جانور پر سوار ہوجائیں جب اس کی ضرورت ہو۔
28۔ مالک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم ابو داوٗد والنسائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو بدنہ کو ہانک رہا تھا آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجا۔ اس نے کہا یہ بدنہ ہے آپ نے پھر فرمایا اس پر سوار ہوجا تیرے لیے ہلاکت ہو۔
29۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو بدنہ یا ہدی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجا اس نے کہا یہ بدنہ ہے یا ہدی کا جانور ہے۔ آپ نے فرمایا اگرچہ بدنہ ہے سوار ہوجا۔
30۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا نے الاضاحی میں اور ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ اور بیہقی نے سنن میں ابو ظبیان (رح) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جب تو ارادہ کرے کہ بدنہ کو ذبح کرے۔ تو اس کو تین پاؤ پر کھڑا کر بلکہ اس کا ایک ہاتھ بندھا ہو پھر کہہ، بسم اللہ واللہ اکبر الہم منک ولک۔
31۔ الفریابی وابوعبید و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ” صواف سے مراد ہے باندھے ہوئے کھڑا ہونا۔
32۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بدنہ کو نحر کیا جبکہ وہ کھڑا تھا اور اس کا ایک ہاتھ باندھا ہوا تھا۔ اور فرمایا ” صواف “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
33۔ ابن ابی شیہ والبکاری مسلم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور وہ اس کو نحر کرنا چاہتا تھا تو اس سے فرمایا اس کو کھڑا کر اور اس کا ہاتھ باندھ دے یہ طرقہ ہے محمد ﷺ کا۔
34۔ ابن ابی شیبہ نے اببن سابط (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکمر ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی الہ عنہم بدنہ کی بائیں ٹانگ باندھ دیتے تھے اور اس کی باقی تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کرتے تھے۔
35۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ بدنہ کو نحر کرتے کہ اس کی داہنی ٹانگ بندھی ہوئی ہوتی تھی۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ بدنہ کو کس طرح ذبح کیا جائے تو انہوں نے فرمایا اس کی بائیں ٹانگ باندھ دے اور داہنے ہاتھ کی طرف سے اس کو نحر کر۔
37۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) اس کے بائیں ہاتھ کو باندھ دیتے تھے۔ جب اس کو نحر کرنے کا ارادہ فرماتے تھے۔
38۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء (رح) نے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں میں جو چاہو باندھ دو ۔
39۔ ابن الانباری نے مصاحف میں اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت فاذکرواسم اللہ علیہا صواف۔
40۔ ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” صوافن “ سے مراد ہے تین ٹانگیں بندھی ہوئی۔
41۔ عبدالرزاق وعبد بن حمدی وابن الانباری نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت فاذکر اسم اللہ علیہا صواف۔ اس سے مراد ہے باندھے ہوئے کھرے ہوئے۔
صواف کے بارے میں تفسیری اقوال
42۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے ” صوفن “ پھر فرمایا نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے دبنہ کو ذبح کر رہے تھے کہ وہ اپنی تینوں ٹانگوں پر کھڑا ہوا تھا اور چوتھی ٹانگ بندھی ہوئی تھی۔
43۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جس نے اس کو ” صوافن “ پڑھا اس سے مراد ہے بندھا ہوا اور جس نے اس کو ” صواف “ پڑھا یعنی اس کے سامنے کے سامنے ہاتھ بندھے ہوں اور عبدبن حمید کے لفظ یہ ہیں کہ جس نے اس کو ” صواف “ پڑھا یعنی وہ جانور کھڑا ہوا ہے اس حال میں اس کی ٹانگیں بندی ہوئی ہوں اور جس نے اس کو صوافن پڑھا یعنی کھڑا ہونا اور بدنھا ہوا ہونا اور ابن ابی شیبہ (رح) کے لفظ یوں ہیں یعنی کھڑا ہونا چار ٹانگوں پر اور ” صوافن “ یعنی تین ٹانگوں پر کھڑا ہوا۔
44۔ عبد الرزاق وابوعبید وعبد بن حمید وابن المنذر وابن الانباری نے مصاحف میں اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے ” صواف “ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اس لیے فرمایا کہ وہ لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے۔
45۔ ابو عبید وابن ابی حاتم نے زید بن اسلام رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ وہ آیت فاذکرو اسم اللہ علیہا صواف۔ یا منصوبہ کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرمایا اس کا مطلب یہ ہے خالص اللہ کے لیے جس میں شرک نہ ہو یہ اسلیے فرمایا کہ وہ جاہلیت میں شرک کرتے تھے جب وہ جانور کو ذبح کرتے تھے۔
46۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا وجبت، سے مراد ہے کہ جب وہ گرپڑے اپنے پہلو پر۔
47۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا وجبت یعنی جب وہ نحر کردی جائے۔
48۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا وجبت جنوبہا سے مراد ہے کہ جب وہ زمین پر گرپڑے۔
49۔ ابو داوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابو نعیم نے دلائل میں عبداللہ بن قرط (رح) سے روایت کیا کہ پانچ یا چھا ونٹ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے (قربانی کے لیے) وہ خود بخود آپ کی طرف جھک گئے جس سے آپ چاہیں ذبح کرنا شروع کریں۔ جب وہ اپنے پہلوؤں پر گرگئے تو آپ نے فرمایا جو چاہے ان کا گوشت کاٹ لے۔
50۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے اونٹ میں سے (دوسروں کو) (کھلاتے تھے خود کھانے سے پہلے اور فرماتے تھے کہ آیت فکلو منہا واطعموا، یعنی خود بھی اس میں سے کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ دونوں کام برابر ہیں۔
51۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ جس چیز کو اللہ کے لیے کردیتے تھے اس کو خود نہیں کھاتے تھے۔ پھر ان کے لیے اجازت دے دی گئی۔ کہ ہدی اور قربانی اور اس قسم کے دوسرے جانوروں میں سے کھائیں۔
52۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نذر کے جانور میں سے نہ کھایا جائے اور شکار کے جرمانے میں جو جانور ذبح کیا جائے اس میں سے بھی نہ کھایا جائے اور نہ اس جانور میں سے جو مساکین کے لیے ذبح کیا جائے۔ اس میں سے بھی نہ کھایا جائے اور نہ اس جانور میں سے جو مساکین کے لیے ذبح کیا جائے۔
53۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ نذر کے جانور میں سے نہ کھایا جائے اور نہ کفارے کے جانور میں سے اور نہ اس جانور میں سے جو مسکین کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔۔
54۔ ابن ابی شیبہ نے معاذ ؓ سے روایت کیا رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم قربانیوں میں سے پڑواسی کو سوال کرنے والے کو اور سوال سے بچنے والے کو کھلائیں۔
55۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” القانع “ سے مراد ہے سوال سے بچنے والا اور ” معتر “ سے مراد ہے سوال کرنے والا۔
57۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” قانع “ وہ شخص ہے جو اس کو مل جائے اس پر قناعت کرے۔ اور ” معتر “ وہ شخص ہے جو سامنے آتا ہے مگر سوال نہیں کرتا۔
58۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” قانع “ وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں بیٹا رہتا ہے۔
59۔ طستی نے مسائل میں حضرت ابن عباس رضی الہ عنہما سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” القانع والمعتر “ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا قانع سے مراد ہے وہ شخص جو اس چیز پر قناعت کرے جو اس کو مل جائے اور معتر وہ شخص ہے جو دروازوں پر مانگا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا وہ کہتا ہے
علی مکثریہم حق من یعتربہم وعند لمقلین السماحۃ والبذل
ترجمہ : ان کے بہت مالداروں پر حق ہے ان کا جو ان سے مانگتے پھرتے ہیں۔ اور تھوڑے مال والوں کے پاس درگزر کرنا اور خرچ کرنا ہے۔
60۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آنپ نے فرمایا قانع وہ ہے کہ اس کی طرف اسے کے گھر میں مال بھیجا جائے۔ اور معتر وہ ہے جو تجھ سے سوال کیلے آئے۔
61۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قانع وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور معتر وہ ہے جو سامنے آتا ہے مگر سوال نہیں کرتا۔
62۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ قانع سے مراد ہے سوال کرنے والا جو سوال کرتا ہے پھر شاعر کا یہ قول پڑھا۔
لمال المرء یصلحہ فیبقی معاقرہ اعف من القنوع
ترجمہ : انسان کا مال اصلاح کرتا ہے اور اس کی دہشت کو باقی رکھتا ہے تو سائل سے درگزر کر
63۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ قانع وہ ہے جو سوال کرتا ہے اس کا جو تیرے ہاتھ میں ہے اور معتر وہ ہے جو تیرے سامنے آئے تاکہ تو اس کو کھلائے ابن ابی شیبہ (رح) کے الفاظ میں یوں ہے کہ معتر وہ ہے جو تیرے سامنے آئے مگر تجھ سے سوال نہیں کرے۔
65۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قانع وہ ہے جو سوال کرتا ہے اور اپنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے اور معتر وہ ہے جو مانگتا ہے اور چکر لگاتا رہتا ہے۔
66۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قانع سے مراد ہیں مکہ والے اور معتر سے مراد ہیں دوسرے سارے لوگ۔
67۔ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا قانع سے مراد ہے سوال کرنے والا اور معتر سے مراد ہے خالی بدن (یعنی ننگے بدن والا)
68۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” البائس “ سے مراد وہ شخص ہے جو سوال کرتا ہے تو اپنے ہاتھ کو پھیلاتا ہے اور قانع سے مراد ہے طمع رکھنے والا جو تیرے پڑوس میں سے تیری قربانی کے گوشت کی طمع رکھتا ہے۔ اور معتر وہ ہے جو خود لوگوں کے سامنے آتا ہے اور سوال نہیں کرتا۔
69۔ عبد بن حمید نے قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو کھانے والا ہے اور جو دیتا ہے مانگنے والے کو اور نہ مانگنے والے کو فرمایا میں اس کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ پوچھا گیا قانع کون ہے ؟ فرمایا جو تیرے اردگرد ہو۔ پوچھا گیا اگرچہ وہ زبح کرے فرمایا اگرچہ وہ ذبح کرے اور معتر وہ ہے جو تیرے پاس آتا ہے اور سوال کرتا ہے۔
70۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین جب جانوروں کو ذبح کرتے تھے تو خون کے ساتھ کعبہ کی ط رف رخ کرتے تھے۔ پھر اس کو کعبہ پر مل دیتے تھے۔ مسلمانوں نے ایسے کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت لن ینال اللہ لحومہا ولا دماء ھا۔
71۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت والے بیت اللہ پر اونٹوں کے گوشت اور اس کا خون ملتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے کہا ہم خون اور گوشت کو بیت اللہ پر ملنے کے زیادہ حق دار ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت لن ینال اللہ لحومہا ولا دماء ھا۔
72۔ ابن جیر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے ورایت کیا کہ ” النصب “ بت نہیں ہیں بت وہ ہوتا ہے جس کی تصویر بنائی جاتی ہے اور اس پر نقش ونگار کیا جاتا ہے۔ اور یہ تین و ساٹھ پتھر نصب کیے گئے تھے۔ جب یہ لوگ ذبح کرتے تھے تو بیت اللہ کے سامنے والی دیوار میں جو بت ہوتے تھے ان پر خون چھڑکتے تھے اور گوشت کاٹ کر ان پتھروں پر رکھتے تھے تو مسلمانوں یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ! کہ زمانہ جاہلیت والے بیت اللہ کی خون کے ساتھ عزت واکرام کرتے ہیں اور ہم اس کی عزت کرنے کے زیادہ حق دار ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی بات کو پسند نہ فرمایا تو یہ آیت نال ہوئی۔ آیت لن ینال اللہ لحومہا ولا دماء ھا۔
73۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت لن ینال اللہ یعنی ہرگز اللہ کے تعالیٰ کے ہاں نہیں پہنچتے۔ آیت لحومہا ولا دماء ھا ولکن۔ یعنی اس کا گوشت اور اس کا خون لیکن بدنہ کو نحر کرنا اللہ کے خوف اور اس کی اطاعت کی وجہ سے ہے فرماتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری طرف سے نیک اعمال اور تقوی پہنچتا ہے۔
74۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکن ینالہ التقوی منکم۔ یعنی جن اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی طلب کی گئی ہو وہ اللہ کے ہاں پہنچتے ہیں۔
75۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکن ینالہ التقوی منکم، یعنی اگر تمہارا عمل پاکیزہ ہوگا اور تم خود بھی پاک ہوگے تو تمہارا عمل تمہارے نیک اعمال کی طرف پہنچے گا اور اس کو قبول کیا جائے گا۔
76۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت لتکبروا اللہ علی ماھداکم۔ یعنی اپنے ذبائح پر ان دنوں میں اللہ کا نام لو۔
77۔ الحاکم وابن مردویہ نے شعب میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا کہ بہترین لباس پہنیں عمدہ خوشبو لگائیں جو ہم پائیں اور موٹی قربانی کریں جو ہم پائیں اور فرمایا گائے سات آدمیوں کی طرف سے ہے اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے ہے اور ہم اعلانیہ تکبیر کہی اور ہم پر وقار اور سکون ہو۔
Ayah 22:381۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ان اللہ یدفع۔ الف اور یاء کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یدفع عن الذین اٰمنوا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ قسم ! اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کبھی ضائع نہیں فرماتے جو اس کے لیے اس کے دین کی حفاظت کرے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اللہ لایحب، سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا قرب نصیب نہیں فرماتے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں کفور آیا ہے اس سے مراد کفار ہیں
Ayah 22:391۔ اعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ماجہ والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان واطلبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے تو ابوبکر ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے اپنے نبی کو اپنے شہر سے نکالا ہے۔ آیت انا للہ وان الیہ راجعون۔ ضرور ضرور یہ قوم ہلاک ہوگی اس وقت یہ آیت آیت اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ نازل ہوئی اور ابن عباس ؓ اس کو پڑھتے تھے۔ ” اذن “ ابوبکر ؓ نے فرمایا میں جانتا ہوں عنقریب جنگ ہوگی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایمان والے مہاجرین لوگ مکہ سے مدینہ کی طرف نکلے کفار قریش ان کے پیچھے لگے تو ان سے لڑنے کے بارے میں ان کو جازت دے دی گئی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت آیت نازل فرمائی اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ تو مسلمان ان سے لڑے۔
مسلمانوں کو قتال کی اجازت ملنا
3۔ ابن ابی حاتم نے عروہ بن زیبر ؓ سے روایت کیا کہ پہلی آیت قتال کے بارے میں نزال ہوئی جب مسلمان کفار کے ہاتھوں تکلیف میں پڑے مکہ میں۔ ان کے خاندان کے لوگ ہی ان کے درمیان حائل ہوئے تاکہ وہ اسلام سے پھرجائیں اور ان کو ان کے گھروں سے نکال دیں اور ان پر غلبہ حاصل کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ اور یہ حکم اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو نکلنے کی اجازت دی اور ان کو لڑنے کی بھی اجازت دی۔
4۔ عبدالرزاق وابن المنذر ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ پہلی آیت تھی جو قتال کے بارے میں نازل ہوئی۔
5۔ ابن زید (رح) سے آیت اذن للذین یقتلون کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان سے دس سال درگذر کرنے کے بعد۔
6۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت اذن للذین یقتلون کے بارے میں فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ آیت بانہم ظلموا۔ یعنی ان پر مکہ والوں نے ظلم کیا اور جب ان کو ان کے گھروں سے نکالا تھا۔
7۔ ابن ابی شیبہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے محل سے باغیوں کو اوپر سے جھانکا اور فرمایا میرے پاس ایک آدمی کو لے آؤ جو کتاب اللہ کا قاری ہو۔ تو انہوں نے صعصعہ بن صوحان کو بھیجا۔ اس نے ان سے بات کی اور انہوں نے اپنے حق میں یہ آیت۔ آیت اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ وان اللہ علی نصرہم لقدیر پڑھی تو عثمان ؓ نے ان سے فرمایا تو نے جھوٹ کہا یہ تیرے اور تیرے اصحاب کے متعلق نہیں ہے لیکن یہ میرے اور میرے اصحاب کے متعلق ہے۔