Ayahs 11:78–831:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ تیز چلتے ہوئے آئے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ یعنی وہ مردوں کے پاس آتے تھے (شہوت رانی کے لئے)
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآءہ قومہ یھرعون الیہ “ یعنی وہ ان کی طرف دوڑے ہوئے آئے۔
3:۔ طستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یھرعون الیہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آپ کی طرف انتہائی غصہ کے ساتھ آرہے ہیں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ـ؟
أتونا یھرعون وھم اساری سیوفہم علی رغم الانوف :
ترجمہ : وہ قید ہو کر ہماری جانب غصہ سے لبریز تیزی کے ساتھ آئے ان کی تلواریں خاک آلودہ ناپسندیدہ حال میں تھیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن قبل کانوا یعملون السیات “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ مردوں سے نکاح کرلیتے تھے۔
5:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال یقوم ھولآء بناتی “ کے بارے میں فرمایا کہ لوط (علیہ السلام) نے اپنی بیٹیوں کو اپنی قوم پر پیش نہیں فرمایا تھا نہ بدکاری کے لئے اور نہ نکاح کے لئے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ تمہاری عورتوں کی بیٹیاں ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ جب قوم کے درمیان موجود ہوتے ہیں تو ان کے باپ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرمایا (آیت) ” وازواجہ امھتہم “ اور گویا وہ ان کے باپ ہیں ابی کی قرأت میں۔
6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) نے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ھولآء بناتی “ کے بارے میں فرمایا ان کی بیٹیاں نہیں تھیں لیکن ان کی امت میں سے تھیں کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔
7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آپ نے ان کو ان کی اپنی عورتوں کی طرف بلایا کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔
8:۔ ابن ابی الدنیا وابن عساکر رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ھولآء بناتی “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے ان پر اپنی امت کی عورتوں کو پیش کیا کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے اور عبداللہ کی قراءۃ میں یوں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایمان والوں کے زیادہ حقدار ہیں ان کی اپنی جانوں سے بھی اور وہ ان کے باپ ہیں اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں (آیت) ” النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امھتہم “ (الاحزاب آیت 6)
9:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر رحمہا اللہ نے جویریہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب فاسقوں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں سنا تو وہ لوط کے دروازے تک آگئے لوط نے ان کے پیچھے دروازے کو بند کردیا پھر ان پر جھانک کر فرمایا یہ میری بیٹیاں ہیں (اور) اپنی بیٹیوں کو نکاح اور شادی کے ساتھ پیش کیا ان کو بدکاری کے لئے پیش نہیں کیا وہ لوگ کافر تھے تو ان پر (اپنی بیٹیوں سے) شادی کرلینے کو پیش کیا اور ان میں سے ایک بیٹی کا نام رغوثا تھا اور دوسری کا نام رمیشا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا نام دیونا تھا ان کا یہ قول (آیت) ” الیس منکم رجل رشید “ یعنی آپ ان کو نیکی کا حکم دیتے رہے اور برائی سے روکتے رہے لیکن جب وہ باز نہ آئے اور نہ آپ ان کو واپس لوٹا سکے اور انہوں نے نہ اس پیش کش کو قبول کیا جو آپ نے پیش کش کی تھی ان کی بیٹیوں کے بارے میں تو فرمایا (آیت) ” قال لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ یعنی اگر میری بھی کوئی جماعت یا گروہ ہوتا جو میری مدد کرتا تاکہ تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہوجاتا ان لوگوں نے دروازہ کو توڑا اور اندر داخل ہوگئے جبرائیل (علیہ السلام) اس صورت میں لوٹ آئے کہ جس صورت میں وہ آسمان پر ہوتے ہیں پھر فرمایا اے لوط ! خوف نہ کر ہم فرشتے ہیں یہ تیری طرف ہزگز نہیں پہنچیں گے۔ اور ہم کو ان کے عذاب کا حکم کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا اے جبرائیل (علیہ السلام) کیا تم ان کو ابھی عذاب دو گے حالانکہ آپ ان پر بہت غمگین اور پریشان تھے۔ جبرائیل نے فرمایا ان کا عذاب کا وعدہ صبح کو ہے کی صبح قریب نہیں ہے۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو رات کے اول حصہ میں وہ عذاب کو تیار کرتے ہیں۔ پھر صبح طلوع ہوتے ہی ان کو عذاب دیتے ہیں۔ راوی نے فرمایا پتھروں کو تیار کیا گیا قوم لوط کے لئے رات کے پہلے حصے میں تاکہ ان پر پتھر برسائے جائیں صبح سویرے اسی طرح (پہلی) امتوں عاد اور ثمود کو عذاب دیا گیا جب صبح طلوع ہوئی اور جبرائیل لوط کی بستیوں کی طرف گئے جن میں ان کے مرد عورتیں اور باغات وغیرہ تھے اور ان کو اڑادیا پہلے ان کو جمع کیا پھر ان کو لپٹیا پھر ان کو اکھیڑا نرم مٹی کی جڑوں سے پھر اس کو اٹھا کر اپنے پر کے نیچے سے اس کو آسمان کی طرف بلند کیا آسمان دنیا کے رہنے والوں نے کتوں کو پرندوں کو عورتوں اور مردوں کی جبرائیل (علیہ السلام) کے پر کے نیچے سے آواز سنیں پھر ان کو الٹا کر کے نیچے پھینک دیا۔ پھر اس کے بعد ان پر پتھر برسائے اور یہ پتھر چرواہوں کو اور تاجروں کو لگے اور جو کوئی ان کے شہروں سے باہر تھا (ان کو بھی پہنچ گئے)
10:ـ۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ ان پر پیش کیا اپنی بیٹیوں کو نکاح کے لئے اور یہ ارادہ کیا کہ اپنے مہمانوں کو بچا لیں اپنی بیٹیوں کی شادی کے سبب۔
11:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھولآء بناتی ھن اطھرلکم “ یعنی ان کو لوط نے حکم فرمایا تھا۔ عورتوں سے نکاح کرنے کا۔ اور فرمایا وہ زیادہ پاکیزہ ہیں تمہارے لئے۔
12:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تخزون فی ضیفی “ یعنی مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کے بارے میں۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے والا کوئی رجل رشید ہے ؟
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیس منکم رجل رشید “ سے مراد ہے وہ آدمی ہے جو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہو۔
14:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیس منکم رجل رشید “ رجل رشید وہ ہوتا ہے جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔
15:۔ ابن ابی حاتم والبیہقی رحمہما اللہ نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الیس منکم رجل رشید “ کے بارے میں فرمایا کیا تم میں سے ایک آدمی بھی نہیں جو ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہو۔
16:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لقد علمت مالنا فی بنتک من حق وانک لتعلم ما نرید “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے صرف ارادہ کیا مردوں کا (پھر فرمایا) (آیت) ” قال لوان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ یعنی میں پناہ لے سکتا ایک مضبوط لشکر کی طرف تو یقینی طور پر میں تم سے قتال کرتا۔
17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” او اوی الی رکن شدید “ یعنی قبیلہ (جو) ایک ہی باپ کی اولاد سے ہو۔
18:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن عساکر رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” او اوی الی رکن شدید “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کنبہ قبیلہ۔
خاندانی طاقت نہی عن المنکر میں مددگار ہے :
19:۔ ابو الشیخ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے خبطہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آدمی کا خاندان ایک آدمی کے لئے زیادہ مفید ہے بنسبت آدمی کے خاندان کے لئے اس وجہ سے اگر وہ روک دے ایک ہاتھ کو تو تو باوجود اپنی حجت اور نفرت کے بہت سے ہاتھ سے روک لیں گے۔ یہاں تک کہ بسا اوقات ایکآدمی دوسرے آدمی کے لئے ناراض اور غصہ نہیں ہوتا ہے۔ اور وہ اسے صرف اپنا ذہنی اور گمان کے مطالبہ میں پہچان سکتا ہے۔ اور عنقریب تم پر اللہ کی کتاب میں سے کئی آیات تلاوت کروں گا پھر اس آیت کو تلاوت فرمائی (آیت) ” قال لوان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ علی ؓ نے فرمایا کہ الرکن شدید سے مراد ہے خاندان اور لوط کا خاندان نہیں تھا اس ذات کی قسم ! کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اللہ تعالیٰ نے لوط کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر جو اپنی قوم میں اہل ثروت اور شوکت میں سے تھا۔
20:۔ ابن جریر (رح) نے ان جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” او اوی الی رکن شدید “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لوط کے پاس کوئی نبی نہیں بھیجے گئے مگر وہ اپنی قوم میں اہل میں سے تھا یہاں تک کہ (ہمارے) نبی ﷺ بھی۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” قال لوان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ میرے بھائی لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیتے رہے پس کونسی چیز کے لئے انہوں نے عاجزی اختیار کی۔
22:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے لوط پر کہ انہوں نے مضبوط سہارے کی طرف پناہ چاہی تھی اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا مگر وہ جو اپنی قوم میں صاحب ثروت تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کو بھی اپنی قوم میں ثروت میں بھیجا۔
23:۔ ابن جریر (رح) نے و ھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال لوان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ تو بھیجے ہوئے فرشتوں نے آپ کو غمگین پایا اور انہوں نے کہا اے لوط کہ بیشک تمہارا سہارا بہت مضبوط ہے۔
24:۔ سعید بن منصور وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوط کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا مگر وہ اپنی قوم میں سے عزت والا ہوتا ہے۔
25:۔ بخاری نے الادب میں والترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابو سلمہ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اس قول (آیت) ” او اوی الی رکن شدید “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیتے رہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف انکے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا مگر یہ کی جو اپنی قوم میں سے صاحب ثروت ہو۔
26:۔ سعید بن منصور والبخاری وابن مردویہ رحمہم اللہ نے الاعرج کے راستے سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) کی مغفرت فرمائے کہ وہ ایک مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیتے رہے۔
27:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ ایک مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے رہے تھے۔
28:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبدالرحمن بن بشر الانصاری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ڈراتے تھے۔ پھر ایک شام ان کے پاس فرشتے آئے وہ گزرتے تو وہ ان کو آواز دیتے ہوئے گزرے قوم لوط میں سے ان کے بعض نے بعض کو کہا ان کو نہ بھاگنے دو اور انہوں نے کسی قوم کو فرشتوں میں سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔ جب یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے گھر داخل ہوئے تو انہوں نے آپ کو اپنے مہمانوں کے بارے میں گناہ کی ترغیب دی۔ وہ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ان پر اپنی بیٹیوں کو پیش فرمایا انہوں نے انکار کردیا تو فرشتوں نے کہا (آیت) ” قالوا یلوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک “ لوط (علیہ السلام) نے پوچھا میرے رب کے بھیجے ہوئے ہو تو فرشتوں نے کہا ہاں لوط (علیہ السلام) سے فرمایا پس اب (عذاب ہوگا) اسی طرح۔
29:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ جب فرشتوں کو بھیجا گیا تو قوم لوط کی طرف تاکہ ان کو ہلاک کردیں۔ ان سے کہا گیا قوم لوط کو ہلاک نہ کریں یہاں تک کہ ان کے خلاف لوط تین مرتبہ گواہی دیدیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب ہو کر آئے تھے فرمایا (آیت) ” فلما ذھب عن ابرھیم الروع وجآء تہ البشری یجادلنا فی قوم لوط “ آپ کا مجادلہ خاص طور پر ان (فرشتوں) کے ساتھ تھا اور (ان سے) فرمایا تم بتاؤ اگر ان میں پچاس ایمان والے ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کردو گے ؟ فرشتوں نے کہا نہیں پھر فرمایا (اگر) چالیس ہوں فرشتوں نے کہا نہیں یہاں تک کہ دس اور پانچ تک پہنچے (تو فرشتوں نے کہا ان کو ہلاک نہیں کریں گے) پھر (یہ فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور وہ ایک زمین میں کام کررہے تھے۔ انہوں نے ان کو مہمان خیال کیا پس آپ اپنے گھر والوں کی طرف آئے یہاں تک کہ شام ہوگئی فرشتے بھی ان کے ساتھ چل پڑے تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا تم کیا رائے رکھتے ہو اس کے بارے میں جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں ؟ تو آپ نے کہا لوگوں میں سے ان سے کوئی برا نہیں فرشتے لوط (علیہ السلام) کے ساتھ چلے یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ فرمائی لوط (علیہ السلام) ان کو لے کر اپنے گھر پہنچے (ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر) ایک بداخلاق جو لوط کی بیوی تھی وہ اپنی قوم کے پاس آئی اور کہنے لگی آج کی رات لوط (علیہ السلام) نے ایسی قوم کو مہمان بنایا ہے۔ میں نے ان سے بڑھ کر حسین اور پاکیزہ خوشبو والے کبھی نہیں دیکھے (یہ سن کر) قوم والے ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے اور دروازے کو دھکیلنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ پر غالب آنے کے قریب ہوگئے ایک فرشتے نے اپنے پر کے ساتھ دروازے کو بند کردیا ان کے آگے اور لوط اوپر چڑھ گئے وہ لوگ بھی آپ کے ساتھ اوپر آگئے تو اس وقت لوط (علیہ السلام) نے کہنا شروع کیا (آیت) ھولآء بناتی ھن اطھر لکم فاتقواللہ “ سے لے کر (آیت) ” او اوی الی رکن شدید “ تک۔ فرشتوں نے کہا (آیت) ” قالوا یلوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک “ اس وقت انہوں نے جان لیا کہ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں فرشتے نے اپنا پر مارا اس رات ان میں سے ہر کوئی پر لگنے کی وجہ سے اندھا ہوگیا۔ ان لوگوں نے رات گزاری انتہائی تکلیف کی حالت میں اندھے ہو کر اور وہ عذاب کا انتظار کرنے لگے جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے ہلاک کرنے میں اجازت طلب کی تو ان کو اجازت دے د ی گئی انہوں نے زمین کو اٹھایا جس پر وہ تھے اور ان کو اتنی بلندی تک لے گیا یہاں تک آسمان دنیا کے رہنے والوں نے ان کے کتوں کی آواز کو سنا اور آپ نے ان کے نیچے آگ کو جلایا اور اس زمین کو ان کے ساتھ الٹا کردیا لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے دھماکہ کی آواز کو سنا اور وہ ان کے ساتھ تھی۔ وہ مڑ کر دیکھنے لگی تو اس کو بھی وہ عذاب پہنچ گیا اور ان کو جو لوگ سفر پر تھے ان پر بھی پتھر برسائے۔
30:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ کے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے۔ انہوں نے گمان کیا کہ وہ اس کی قوم کے مہمان ہیں۔ چناچہ آپ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو بالکل قریب کرکے بٹھایا پھر آپ اپنی بیٹیوں کو لے آئے اور وہ تین تھیں۔ اور ان کو اپنے مہمانوں اور اپنی قوم کے درمیان بٹھایا ان کی قوم ان کی طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ جب ان کو دیکھا تو فرمایا (آیت) ” ھولآء بناتی ھن اطھرلکم فاتقواللہ ولا تحزون فی ضیفی “ قوم والوں نے کہا تیری بیٹیوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں لوط (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال لوان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید “ ان کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا (آیت) ” انارسل ربک لن یصلوا الیک “ جب وہ قریب ہوئے تو آپ نے ان کی بینائی ختم کردی وہ اندھے ہو کر چلے اس حال میں کہ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے یہاں تک کہ جب وہ پہنچے ان لوگوں کی طرف جو دروازے میں تھے تو انہوں نے کہا ہم تمہارے پاس آئے ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ جادوگروں کے پاس سے پھر ان کو آدھی رات کے وقت اٹھا لیا گیا یہاں تک کہ وہ لوگ سن رہے تھے پرندوں کی آوازیں آسمان کی فضا میں پھر وہ زمین ان پر الٹ دی گئی پس جو بھی اس میں الٹا کردیا گیا وہ ہلاک ہوگیا اور جو اس سے باہر تھے تو وہ جہاں بھی تھے پتھر ان پر برسے اور پتھروں نے ان کو ہلاک کردیا لوط (علیہ السلام) اپنی بیٹیوں کو لے کر سفر پر روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ شام کے ایک مقام پر پہنے تو ان کی بڑی بیٹی مرگئی۔ اس کے نزدیک ایک چشمہ جاری ہوگیا پھر آپ وہاں سے چلے جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ پہنچے تو چھوٹی بیٹی بھی مرگئی۔ اس کے پاس بھی ایک چشمہ جاری ہو اب ان سے صرف درمیانی بیٹی آپ کے پاس باقی رہی۔
قوم لوط کا مہمانوں پر حملہ کی کوشش :
31:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے کتاب العقوبات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط نے مہمانوں پر دروازے کو بند کردیا۔ قوم والے آئے انہوں نے دروازہ توڑ دیا اور اندر داخل ہوگئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے انکی آنکھوں پر پر سے ضرب لگائی تو ان کی آنکھیں چلی گئیں۔ کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) ہمارے پاس جادوگر لائے ہو چناچہ انہوں نے آپ کو بڑی دھمکیاں دی تو آپ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ جب یہ چلے جائیں تو وہ مجھے تکلیف دیں گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” ان موعدھم الصبح الیس الصبح “ لوط نے فرمایا اسی وقت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” الیس الصبح بقریب “ کیا صبح قریب نہیں تو آپ نے کہا اسی وقت چناچہ بستی کو اٹھا لیا گیا یہاں تک کہ آسمان دنیا والوں نے کتوں کے بھونکنے سنا پھر ان کو الٹا کیا گیا اور ان پر پتھر برسائے گئے۔
32:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاسر باھلک “ یعنی رات کے وقت اپنے گھر والوں کو لے چلئے۔
33:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقطع من الیل “ سے مراد ہے آدھی رات۔
34:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بقطع “ یعنی رات کی اندھیری۔
35:۔ عبدالرزاق (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقطع من الیل “ یعنی رات میں سے کچھ حصہ۔
36:۔ ابن الانباری (رح) نے الوقف والابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فاسرباھلک بقطع من الیل “ کے بارے میں بتائیے کہ (آیت) ”’ بقطع “ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا سحری کا وقت آخری رات میں مالک بن کنانہ نے فرمایا۔
ونائحہ تقوم بقطع لیل علی رجل اھانتہ شعوب
ترجمہ : نوحہ کرنے والی عورت سحری کے وقت اس شخص پر نوحہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے جس کو قبیلہ والوں نے ذلیل کردیا۔
37:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولایلتفت منکم احد “ یعنی تم میں سے کوئی پیچھے نہ دیکھے۔
38:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولایلتفت منکم احد “ یعنی تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مڑکر نہ دیکھے (آیت) ” الا امراتک “ تک (مگر تیری بیوی کے پیچھے مڑ کر دیکھے گی اور ہلاک ہوگی ) ۔
39:۔ ابوعبید وابن جریر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت کے حروف یوں (آیت) ” فاسرباھلک بقطع من الیل الا امرا “ تک۔
40:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو (یہ بات) ذکر کی گئی کہ وہ ( یعنی لوط) کی بیوی انکے ساتھی تھی جب وہ طریہ (شہر) سے نکلے اس نے ایک آواز سنی تو اس طرف متوجہ ہوئی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک پتھر اس کو آکر لگا جس نے اسے ہلاک کردیا۔ اور یہ عورت اپنی ایک جگہ پر تھی جو قوم سے دور تھی اور عبداللہ کے مصحف میں یہ الفاظ اسی طرح ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے پورا کردیا اس کی طرف اس کے سب اہل و عیال کو مگر ایک بڑھیا تھی جو مصیبت میں مبتلا ہوئی۔ اور جب لوط سے کہا گیا کہ ان کے (عذاب کا) وعدہ صبح کے وقت ہے، تو انہوں نے فرمایا میں اس سے جلدی کا ارادہ رکھتا ہوں تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” الیس الصبح بقریب “ (کیا صبح قریب نہیں)
41:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لوط نے فرمایا ان کو ابھی اسی وقت ہلاک کردو تو فرشتوں نے کہا ہم کو ہرگز حکم نہیں دیا گیا مگر صبح کے وقت (اور) (آیت) ” الیس الصبح بقریب “
42:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) نے ان (فرشتوں) سے فرمایا ان کو ابھی ہلاک کردو تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت) ” ان موعدھم الصبح، الیس الصبح بقریب “ لوط (علیہ السلام) پر یہ (آیت) ” الیس الصبح بقریب “ اتری راوی نے کہا کہ پھر ان کو حکم دیا گیا کہ رات کے کچھ حصے میں اپنے گھروالوں کو لے کر چلے جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گا مگر تیری بیوی پس آپ چلے گئے اور جب ان کو ہلاک کرنے کا وقت آیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کو زمین میں داخل کیا۔ اس کو اوپر اٹھایا یہاں تک کہ آسمان والون نے مرغ کی اذان کو اور کتوں کے بھونکنے کو سنا اور ان کو اوپر لے جا کر نیچے گرا دیا اور ان پر آگ میں پکے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے دھماکے کی آواز سنی تو کہنے لگی ہائے میری قوم اتنے میں اس کو بھی ایک پتھر آپہنچا اور اس نے اس کو مار ڈالا۔
43:۔ ابن عدی وابن عساکر رحمہما اللہ ابوالحلہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے لوط کی بیوی کو دیکھا کہ اسے پتھر میں مسخ کردیا گیا اور اس کو ہر ماہ کے شروع میں حیض آتا ہے۔
44:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما جآء امرنا جعلنا عالیھا سافلھا “ یعنی جب ان لوگوں نے صبح کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کی بستیوں پر حملہ کیا اور ان کناروں سے ان کو ملا دیا۔ پھر اپنے پر کو داخل کیا پھر اس کو اپنے پروں پر اٹھایا ان سب چیزوں کے ساتھ جو اس میں تھیں پھر ان کو آسمان کی طرف اوپر اٹھایا یہاں تک کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے کو سنا پھر ان کو الٹ دیا۔ ان میں سے جو آپ سے پہلے نیچے گرے وہ ان کے بالاخانے تھے۔ کسی قوم کو ایسا عذاب نہیں پہنچا جو ان کو پہنچا پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا۔ پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا پھر آگ سے پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔
45:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب ان لوگوں نے صبح کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئی اس زمین کو جڑ سے اکھیڑا ساتوں زمینوں میں سے پھر اس کو اٹھایا یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ گئے۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو زمین کی طرف گرا دیا۔
46:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کی بستی میں آئے اپنے ہاتھ کو بستی کے نیچے داخل کیا پھر اس کو اٹھایا یہاں تک کہ دنیائے آسمان والوں نے کتوں کے بھونکنے کو اور پھر مرغوں کی آوازوں کو سنا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر گندھگ اور آگ کی بارش برسائی۔
قوم لوط کی بستی کا الٹنا :
47:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے اس شہر کو جڑ سے اکھیڑا قوم لوط کی زمین میں سے پھر اس کو اوپر اٹھایا اپنے پروں سے یہاں تک کہ ان کو پہنچایا جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر اس کے اوپر والے حصے کو نیچے کردیا۔ (یعنی اسے نیچے گرا دیا)
48:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے محمود بن کعب قرظی محمد بن قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بات بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا الٹی ہوئی بستیوں کی طرف یہ قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں تھیں انہوں نے ان کو اپنے پر کے ساتھ اٹھایا پھر ان کو اوپر لے گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے کو اور ان کے مرغوں کی آوازوں کو سنا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھر برسائے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” جعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل “ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان الٹی ہوئی بستیوں کے اردگرد رہنے والوں کو ہلاک کردیا اور یہ پانچ بستیاں تھیں صنع، صغرہ، عصرہ دوما، اور سدوم اور یہ بڑی بستی تھی۔
49:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ تین بستیاں تھیں ان میں وہ تعداد تھی جو اللہ تعالیٰ نے چاہی کہ کثرت سے ہو اور ہم کو یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ ان کی چالیس لاکھ تعداد تھی اور یہ سدوم بستی تھی مدینہ اور شام کے درمیان۔
50:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ یعنی مٹی سے اور ” مسومۃ “ یعنی وہ نشان زدہ تھے اور السوم سے مراد سرخی میں سفیدی کا ہونا ہے۔
51:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ سجیل کو فارسی زبان میں سنک کہتے ہیں اور یہ پتھر اور مٹی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور (آیت) ” مسومۃ “ یعنی نشان لگائے ہوئے۔
52:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ فارسی زبان میں حجارہ کہتے ہیں جو شروع میں پتھر ہو اور آخر میں مٹی ہو اور (آیت) ” مسومۃ “ یعنی نشان لگائے ہوئے۔
53:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ عجمی کلمہ ہے اس کو عربی بنایا گیا۔ اس کا معنی سنگ ورمل یعنی پتھر اور مٹی۔
54:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک پتھر ہے جس میں مٹی ہوتی ہے۔
55:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ یعنی مٹی سے بنائے ہوئے (آیت) ” منضود “ یعنی لگا تار (آیت) ” مسومۃ “ یعنی جسے خالص سرخ رنگ کا طوق پہنایا جائے۔ (آیت) ” وماھی من الظلمین ببعید “ یعنی اس سے کوئی ظالم بری نہیں ان کے بعد۔
56:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ربیع ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” منضود “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ پتھر ایک دوسرے پر آکر لگے (یعنی مسلسل برستے رہے) اور (آیت ) ” مسومۃ “ یعنی ان پر نشان تھا سفید لکیروں کا۔
57:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ایسے پتھر جو نشان لگے ہوئے تھے جو مشابہ نہ ہو زمین کے پتھروں سے۔
58:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے آسمان دنیا سے پتھر برسائے گئے اور آسمان دنیا کا نام سجیل ہے۔
59:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حجارۃ من سجیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ فارسی کا لفظ ہے۔
60:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے سوال کیا کیا قوم لوط میں سے کوئی باقی ہے ؟ فرمایا نہیں مگر ایک آدمی چالیس دن باقی رہا وہ مکہ میں تاجر تھا اس کے پاس پتھر آیا تاکہ اس کو حرم میں آکر لگے تو اس کی طرف حرم کے فرشتے کھڑے ہوگئے اور پتھر سے کہا لوٹ جا جہاں سے تو آیا ہے کیونکہ یہ آدمی اللہ کے حرم میں ہے تو پتھر لوٹ گیا اور حرم سے باہر چالیس دنوں تک ٹھہرا رہا آسمان اور زمین کے درمیان یہاں تک کہ آدمی نے جب اپنی تجارت پوری کرلی جب وہ باہر نکلا تو حرم کے باہر اس کو وہ پتھر پہنچ گیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت ) ” وماھی من الظلمین ببعید “ یعنی اس امت کے ظالموں سے دور نہیں ہے۔
61:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وماھی من الظلمین ببعید “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ قریش کو اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ان کو (وہ عذاب) پہنچ سکتا ہے جو قوم (لوط) کو پہنچا۔
62:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وماھی من الظلمین ببعید “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد عرب کے ظلم کرنے والے ہیں کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کو بھی اسی طرح کا عذاب دیا جائے گا۔
63:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہر ظالم کے بارے میں ہم نے سنا کہ اس کے مقابلہ کے لئے پتھر بنایا گیا ہے جو انتظار کرتا ہے کہ کب حکم ہوتا ہے کہ میں اس پر واقع ہوجاوں تو ظالموں کو خوب ڈرایا اور فرمایا کہ ظالموں سے (وہ عذاب) دور نہیں ہے۔
64:۔ ابن جریر وابن حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وماھی من الظلمین ببعید “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اس امت کے ظالم ہیں پھر فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی ظالم کو پناہ نہیں دی۔
65:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے ذم الملاھی میں وابن منذر والبیہقی نے شعب الایمان میں محمد بن المنکدر اور یزید بن حفصہ اور صفوان بن سلیم (رح) تینوں حضرات سے روایت کیا کہ خالد بن الولید نے ابوبکر صدیق کی طرف لکھا کہ ہم نے عرب کی بعض بستیوں میں ایک آدمی کو پایا وہ نکاح کرتا ہے جیسے عورتیں نکاح کرتی ہیں اور انہوں نے اس پر گواہ بھی قائم کردئیے ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے مشورہ فرمایا علی بن طالب نے فرمایا کہ یہ ایسا گناہ ہے کہ امتوں میں سے کسی امت نے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی سوائے ایک امت کے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ جو معاملہ فرمایا تم جانتے ہو میرا یہ خیال ہے کہ اس کو آگ میں جلا دیا جائے چناچہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ اس بات پر جمع ہوگئے کہ اس کو آگ میں جلا دیا جائے۔ ابوبکر ؓ نے خالد کی طرف لکھا کہ اس کو آگ میں جلا دو پھر ابن الزبیر ؓ نے اپنے دورامارت میں ان کو جلایا پھر ہشام بن عبدالملک نے بھی ان کو جلایا۔
66:۔ ابن منذر (رح) نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن الرائے (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو عذاب دیا اور ان پر کنکر کے پتھر پھینکے پس تو یہ سزا نہ ہٹا ان لوگوں سے جو قوم لوط والا عمل کریں۔
Ayahs 11:84–88قوم شعیب (علیہ السلام) کا ذکر :
1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی ارکم بخیر “ سے مراد اشیاء کی قیمتوں کا سستا ہونا۔ (اور فرمایا) (آیت) ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ سے مراد ہے کہ قیمتوں کا چڑھنا اور مہنگا ہونا ہے (یعنی میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن سے جبکہ قمیتیں چڑھ جائیں اور بھاؤ مہنگا ہوجائے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کا رزق۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ خیر لکم “ یعنی تمہارا حصہ تمہارے رب کی طرف سے بہتر ہے تمہارے لئے۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت۔
5:۔ ابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کی وصیت وہ بہتر ہے تمہارے لئے۔
6:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بقیت اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ کا رزق تمہارے لئے بہتر ہے تمہارا لوگوں کے مالوں کو گھٹانے سے۔
7:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصلوتک تامرک “ یعنی کہا تیری قرأت تجھے حکم دیت ہے۔
8:۔ ابن عساکر (رح) نے احنف (رح) سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) انبیاء میں سب سے زیادہ نماز پڑھتے تھے۔
9:۔ ابن جریر وابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یشعیب اصلوتک تامرک “ الآیہ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو منع کیا ان دنانیر اور دراہم کے (ناحق) کاٹنے سے (لوگوں کے مالوں سے) تو کہنے لگے یہ ہمارے مال ہیں ان میں ہم جو چاہیں کریں۔ اگر ہم نے چاہا تو بند کو توڑ دیں گے۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو جلا دیں گے اور اگر ہم چاہیں تو ان کو پھینک دیں۔
10:۔ ابن جریر وابن منذر نے محمد بن کعب قرظی ؓ نے فرمایا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو عذاب دیا گیا ان کے دراہم توڑنے کی وجہ سے (وہ کہتے ہیں) (آیت) ” اوان نفعل فی اموالنا مانشوا “۔
11:۔ ابن جریر وابن منذر ابوالشیخ نے زید بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اوان نفعل فی اموالنا مانشوا “۔ یعنی (ناحق) دراہم کو کاٹ دینا (لوگوں کے مالوں سے) اور وہ زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔
12:۔ عبدالرزاق وابن سعید وابن منذر وابوالشیخ وعبدبن حمید رحمہم اللہ نے سعید بن المسیب ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت میں اشارہ دراھم اور دنانیر اور ان مثاقیل کو توڑنے کی طرف ہے جو لوگوں کے درمیان رائج تھے اور انہوں نے اس سے زمین میں فساد برپا کیا۔
13:۔ ابوالشیخ نے ربیع بن ابی ھلال سے روایت کیا کہ ابن زبیر نے سزا دی درھم کو توڑنے پر۔
14:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک لانت الحلیم الرشید “ یعنی وہ لوگ کہتے تھے کہ نہ تو بردبار ہے اور نہ ہی تو رشید (یعنی دانا) ہے اور وہ مذاق کے طور پر آپ کو کہا کرتے تھے کہ پس تم ہی دانا اور نیک چلن رہے گئے ہو۔
15:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک لانت الحلیم الرشید “ یعنی ان الفاظ سے مذاق کرتے تھے۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورزقنی منہ رزقا حسنا “ یعنی رزق حلال ہے۔
17:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ “ یعنی میں ایسا نہیں ہوں کہ میں تم کو منع کروں اس کام سے کہ جس کو میں (خود) کروں۔
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت ابن مسعود کے پاس آئی اور اس نے کہا میں مواصلہ (اپنے بالوں میں دوسرے بال لگوانا) سے روکتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کہنے لگی شاید کہ وہ تیری بعض عورتوں میں سے بھی کوئی ہو تو انہوں نے فرمایا تو نے ایک نیک بندے کی وصیت کی حفاظت نہیں کی۔ اور فرمایا (آیت) وما ارید ان اخالفکم الی ماانھکم عنہ “۔
19:۔ احمد (رح) نے معاویہ قشیری (رح) سے روایت کیا کہ ان کے بھائی مالک نے کہا اے معاویہ ! محمد نے میرے پڑوسی کو پکڑ لیا ہے۔ تم اس کی طرف جاؤ چناچہ میں اس کی طرف اس کے ساتھ گیا۔ اور اس نے کہا میرے پڑوسی کو میرے لئے چھوڑ دے حالانکہ وہ مسلمان ہوچکے تھے تو اس سے اعراض کیا اور کہا خبردار ! اللہ تعالیٰ کی قسم بلاشبہ لوگ گمان کریں گے کہ آپ ایک کام کا حکم کرتے ہیں اور آپ (خود) اس کے خلاف کرتے ہیں پھر اس نے کہا کیا انہوں نے اس طرح کیا ہے ؟ اگر میں بھی ایسا کروں تو وہی سزامجھ پر ہے جو اس پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کا اکرام :
20:۔ ابوالشیخ (رح) نے مالک بن دیناررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو پڑھا (آیت) ” وما ارید ان اخالفکم الی ماانھکم عنہ “ اور فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے دن نصیحت کرنے والے مرد صادق کو بلایا جائے گا اور اس کے سر پر تاج شاہی رکھا جائے گا پھر اس کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا وہ کہے گا اے میرے خدا کہ قیامت کے مقام پر کچھ ایسی قومیں ہیں جو میری مدد کرتی تھیں دنیا میں اس کام پر جو بھی میں کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے ساتھ ایسے ہی کیا جائے گا جیسے اس کے ساتھ کیا گیا پھر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی عزت و کرامت کے ساتھ ان کی قیادت کرتے ہوئے جنت کی طرف چلا جائے گا۔
21:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابو اسحاق فزاری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جب بھی کسی کام کا ارادہ کیا تو اس وقت میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو میرے لئے اس کا یقین ہوگیا علی وجہ البصیرت (وہ آیت یہ ہے) (آیت) ” ان ارید الا الاصلاح ما استطعت، وما توفیقی الا باللہ، علیہ توکلت والیہ انیب “
22:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والیہ انیب “ یعنی میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
23:۔ ابونعیم (رح) نے الحلیۃ حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مجھے وصیت فرمائیے آپ نے فرمایا تو کہہ میرا رب اللہ ہے پھر اس پر پکا ہوجا، میں نے عرض کیا (آیت) ” ربی اللہ وما توفیقی الا باللہ، علیہ توکلت والیہ انیب “ (یعنی میرا رب اللہ ہے اور نہیں ہے میری توفیق مگر اللہ کی مدد سے اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اس کی طرف میں نے رجوع کیا) آپ نے فرمایا اے ابوالحسن (یہ حضرت علی کی کنیت ہے) یہ علم تجھ کو مبارک ہو تو سیراب ہوگیا اور تو نے اس کی پیاس خوب بجھائی ہے۔
Ayahs 11:89–971:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔
3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “ میرا رب اس کے لئے بڑا مہربان ہے جس نے اس کی طرف رجوع کیا گناہ سے توبہ کرتے ہوئے (آیت) ” ودود “ یعنی وہ اس سے محبت کرتا ہے پھر اس کی محبت کو اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے پس تم اس کی طرف لوٹ جاؤ (آیت) ” قالوا یشعیب مانفقہ کثیرا مما تقول وانا لنراک فیناضعیفا “ اور ہم تجھ کو دیکھتے ہیں کہ تو اندھا ہے (آیت ) ” ولولا رھطک “ یعنی اگر تیرے اس خاندان کا لحاظ نہ ہوتا جس میں تو رہتا ہے (آیت) ” لرجمنک “ یعنی البتہ ہم تجھ کو قتل کردیتے ” (آیت) واما انت علینا بعزیز “ (تو ہم پر غالب نہیں ہے) (آیت) ” قال یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ “ (کیا میرا کنبہ زیادہ عزت والا ہے اللہ سے) انہوں نے کہا بلکہ اللہ تعالیٰ تو آپ نے فرمایا تم نے اللہ کو اپنے پیٹھ پیچھے ڈال دیا ہے (آیت) ” ظھریا “ یعنی تم نے اس کے حکم کو ترک کردیا اور تم نے اس کے نبی کو جھٹلادیا ہے مگر میرے رب کا علم تم کو گھیرے ہوئے ہے (آیت) ” ان ربی بما تعملون محیط “ ابن عباس ؓ نے فرمایا شرک کے بعد ان کے بڑے گناہوں میں سے ناپ تول میں کمی کرنا تھا اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں کم کرنا تھا اس کے ساتھ ساتھ (دوسرے) گناہ تھے جو وہ کرتے تھے شعیب (علیہ السلام) نے ان کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور ظلم سے روکا اور اس کے علاوہ جو کچھ تھا اسے چھوڑ دیا۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے خلف بن جوشب (رح) سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوئی ایک ایک جو کے سبب پیمانہ یعنی (ترازو) کو بوجھل کرتے ہوئے لیتے تھے اور ہلکا کرتے ہوئے دیتے تھے (یعنی لیتے وقت ترازو خوب بھر کرلیتے اور دیتے وقت ترازو کو ہلکا رکھتے تھے)
5:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویقوم لایجرمنکم شقاقی “ کے بارے میں فرمایا کہ میری دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم جھک جاؤ گمراہی اور کفر میں اور (پھر) تم کو وہ عذاب پہنچ جائے جو ان کو پہنچا۔
6:۔ عبدالرزاق وابن جریر رحمہما نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ کے بارے میں فرمایا کہ قوم لوط کا زمانہ میری اس گفتگو (کے زمانہ) سے زیادہ قریب ہے قوم نوح اور ثمود کے بعد۔
7:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابو یعلی الکندی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ نے لوگوں کو اوپر سے دیکھا اپنے گھر میں سے کہ انہوں نے ان کو احاطہ کیا ہوا تھا تو فرمایا (آیت) ” ویقوم لایجرمنکم شقاقی ان یصیبکم مثل ما اصاب قوم نوح اور قوم ھود اور قوم صلح وما قوم لوط منکم ببعید “ اے میری قوم مجھے قتل نہ کرو اگر تم نے مجھے قتل کیا تو تمہارے ساتھ بھی اسی طرح ہوگا اور انہوں نے اپنی انگیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔
8:۔ ابوالشیخ وابن عساکر رحمہما اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ کے بارے میں فرمایا کہ (شعیب (علیہ السلام) نابینا تھے اور وہ اللہ کی محبت میں رونے کی وجہ سے نابینا ہوگئے تھے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اللہ کی محبت میں رونا :
9:۔ ابواحدی وابن عساکر (رح) نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ فرمایا شعیب (علیہ السلام) کی محبت میں اتنا روئے کہ نابینا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی نظر کو لوٹا دیا اور ان کی طرف وحی فرمائی اے شعیب ! یہ کیا رونا ہے جنت کی طرف شوق کرتے ہوئے یا آگ سے ڈرتے ہوئے فرمایا نہیں لیکن آپ کو محبت میرے دل میں پختہ ہوگئی ہے۔ جب میں آپ کی طرف دیکھ لوں گا تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تو میرے ساتھ کیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے انکی طرف وحی بھیجی اے شعیب (علیہ السلام) ! اگر یہ حق ہے تو تجھے میری ملاقات مبارک ہو (پھر فرمایا) اے شعیب اس وجہ سے میں نے تیری خدمت کے لئے موسیٰ بن عمران کلیمی کو مقرر کیا ہے۔
10:۔ ابن ابی حاتم والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا والخطیب وابن عساکر رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ میں ضعیف سے مراد ہے کہ آپ کی بصارت کمزور ہے۔
11:۔ ابو الشیخ (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ کے بار میں فرمایا کہ ” ضعیفا “ سے مراد اندھا ہے۔ اور ان کے لئے کہا گیا کہ وہ انبیاء (علیہ السلام) کے خطیب تھے۔
12:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ تو اکیلا ہے (اور کوئی بھی تیرے ساتھ نہیں ہے اس لئے ہم تمہیں کمزور سمجھتے ہیں)
13:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر تیری قوم اور تیرے کنبہ کا لحاظ نہ کرتے تو ہم تجھ کو پتھر مار مار کر قتل کردیتے۔
14:۔ سعید بن منصور (رح) نے زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی طرح اگر لوط (علیہ السلام) کے ساتھی ہوتے تو وہ یقینا ان کی مدد سے اپنی قوم سے جہاد کرتے۔
15:۔ ابوالشیخ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ آیت (آیت) ” وانا لنرک فینا ضعیفا “ شعیب کے بارے میں تلاوت فرمائی (پھر فرمایا) وہ نابینا تھے اس لئے ان لوگوں نے ان کو کمزوری کی طرف منسوب کیا اور کہا (آیت) ” ولولارھلک لرجمناک “ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس اللہ تعالیٰ کی قسم ! کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ نہیں ڈرے رب تعالیٰ کے جلال سے (لیکن) وہ ڈر رہے تھے کنبے سے (یعنی شعیب (علیہ السلام) کے خاندان سے ) ۔
16:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ یعنی تم نے اس کے حکم کو پھینک دیا۔
17:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ یعنی یہ ایک فیصلہ ہے جس کا فیصلہ کیا گیا (تمہاری طرف سے)
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ کے بارے میں فرمایا کہ تم اس سے نہیں ڈرتے ہو۔
19:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے اسے (یعنی اللہ کی ذات) کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا ہے کہ تم نے نہ تو اس کی اطاعت کی اور نہ تم اس سے ڈرے۔
20:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے اس کے بارے میں سستی کی (اس لئے تم اس سے نہیں ڈرتے ہو)
21:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واتحذتموہ ورآء کم ظھریا “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” ظھریا ‘ سے مراد ہے فالتو (ضرورت ہے زائد) مثلا اونٹ والے کو اپنجے ساتھ ایک فالتو اونٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس پر کوئی چیز نہیں لادتا مگر یہ کہ اس کی طرف اگر اس کی ضرورت پڑجائے پھر وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ تمہارا رب تمہارے نزدیک اسی طرح ہے اگر تم کو اس کی ضرورت ہو (یعنی اس کی طرف محتاج ہوتے ہو تو اس کا حکم مان لیتے ہو) اور اگر تم کو ضرورت نہ ہو تو وہ (پھر) کوئی چیز نہیں۔ (یعنی پھر تم اللہ تعالیٰ کی کوئی چیز نہیں سمجھتے ہو )
Ayahs 11:98–991:۔ ابن جریر وابن ابی منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یقدم قومہ یوم القیمۃ “ یعنی اس نے ان کو گمراہ کردیا اور ان کو اتار دیا آگ میں۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یقدم قومہ یوم القیمۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ فرعون اپنی قوم کے آگے چلے گا حتی کہ ان کو ساتھ لے کر آگ پر گرے گا۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاو ردھم النار “ میں ” المورود “ سے مراد ہے داخل ہونا۔
4:۔ ابن جریروابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” المورود “ قرآن مجید میں چار ہیں۔ سورة ھود میں ہے (آیت) ” وبئس الورد المورود “ اور سورة مریم میں ہے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ اور اس میں یہ بھی ہے (آیت) ” ونسوق المجرمین الی جھنم وردا “ اور سورة انبیاء میں ہے (آیت) ” حصب جھنم، انتم لھا وردون “ (انبیاء : 98) اور فرمایا کہ ہر ایک معنی ہے داخل ہونا۔
5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واتبعوا فی ھذہ لعنۃ ویوم القیمۃ “ کے بارے میں فرمایا ان پر اس دنیا میں پے درپے لعنت بھیجی جاتی رہی اضافہ کیا جائے گا۔ ایک اور لعنت کا (قیامت کے دن) یہ دو لعنتیں ہوئیں (آیت) ” وبئس الورد المورود “ یعنی لعنت کے بعد لعنت بہت بری ہے۔
6:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وبئس الورد المورود “ کے بارے میں فرمایا کہ لعنت ہے دنیا میں اور آخرت میں۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا فرعون کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا گیا مگر لعنت کی گئی فرعون پر اس کی زبان سے اور قیامت کے دن بھی ہوگی اور زیادہ کی جائے گی ایک اور لعنت آگ میں۔
8:۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں والطستی (رح) نے نافع بن ازرق سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وبئس الورد المورود “ کے بارے میں بتائیے فرمایا بری ہے لعنت بعد لعنت کے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے بلغہ بنی ذیبان کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے۔
لالقد من رکن لا کفای لہ وانما تفک الاعدابالرفد
ترجمہ : تو اے لشکر کی طرف مت پیش قدمی کر جس کا کوئی مددگار نہ ہوئے شک کبھی دشمنوں کو لعنت سے بھی ختم کردیا جاتا ہے۔
Ayah 11:1001:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” منھا قآئم “ سے مراد ہے ایسی بستیاں جو آباد ہیں اور (آیت) ” حصید ‘ سے وہ بستیاں مراد ہیں جو راکھ کی طرح بجھی ہوئی ہیں۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ذلک من انبآء القری نقصہ علیک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ سے یہ بات فرمائی (اور) (آیت) ” قآئم “ سے مراد ہے کہ جن کی جگہیں دکھائی دیتی ہیں۔ (اور) (آیت) ” وحصید “ سے مراد ہے کہ (اب) ان کا کوئی نشان نہیں دکھائی دیتا (یعنی وہ مٹ گئیں) اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ھل تحس منہم من احد اوتسمع لہم رکزا “ (مریم آیت 98)
(آیت) ” ذلک من انبآء القری نقصہ علیک “ (100)
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” منھا قآئم “ یعنی وہ گری ہوئی ہیں اپنی چھتوں پر ” وحصید “ یعنی وہ مل چکی ہیں زمین سے (گویا ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا)
4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قآئم وحصید “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” الحصید “ سے مراد وہ بستی جو اجڑ گئی اور تباہ و برباد ہوگئی۔