Ayahs 11:42–43حضرت نوح (علیہ السلام) کے غرق ہونے والے بیٹے کا نام :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام جو غرق ہوا کنعان تھا۔
2:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ آپ کا بیٹا تھا سوائے اس کے کہ وہ ان کی مخالفت کرتا تھا نیت میں اور عمل میں۔
3:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی ھاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابو جعفر محمد بن علی (رح) کہ انہوں نے (آیت) ” ونادی نوح ابنہ “ کے بارے میں فرمایا کہ قبیلہ طی کی لغت میں اس کو بیٹا کہتے ہیں ورنہ وہ آپ کا بیٹا نہ تھا بلکہ وہ ان کی بیوی کا بیٹا تھا۔
4:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں ابوالشیخ رحمہما اللہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت) ونادی نوح ابنھا “۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم “ کے بارے میں فرمایا کہ آج کشتی والوں کے علاوہ کوئی نجات پانے والا نہیں ہے۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قاسم بن ابی برزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وحال بینھما الموج “ کے بارے میں فرمایا کہ نوح کے بیٹے اور پہاڑ کے درمیان (ایک موج حائل ہوگئی) جس سے وہ غرق ہوگیا۔
7:۔ الحاکم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے گھر والوں کی مثال نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی طرح ہے۔ جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔
8:۔ عبدبن حمید (رح) بن ھلال (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ایک آدمی کو اس شرط پر مزدوروں پر رکھا کہ وہ کشتی (بنانے) کے کام پر ان کی مدد کرے گا۔ وہ اس کے ساتھ عمل کرتا رہا یہاں تک کہ جب آپ فارغ ہوئے تو نوح نے اس سے فرمایا (دو باتوں میں سے) تو کون سی بہتر بات چاہتا ہے یا یہ کہ تیری مزدوری ہم پوری تجھ کو دے دیں یا ظالم قوم سے ہم تجھ کو بچادیں۔ اس نے کہا میں اپنی قوم سے مشورہ کروں گا اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ جا اور اپنی مزدوری لے لے۔ وہ آیا اور کہا میں اپنی مزدوری لوں گا نوح نے اس کو پوری پوری مزدوری دیدی۔ پس جو اس نے لیا اسے لے کر وہ آدمی وہاں تک پہنچا جہاں تک آپ اسے دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو اس کے بارے میں وہی حکم دیا جو قوم کے بارے میں حکم دیا تھا پھر وہ آدمی پانی میں غوطہ لگاتے ہوئے آیا اور کہنے لگا (نوح (علیہ السلام) سے) کہ اس (مزدوری) کو لے لو جو آپ نے مجھ کو دی تھی تو آپ نے فرمایا تیرے لئے وہی ہے جس کے ساتھ تو راضی ہے تو وہ (پانی میں) غرق ہوگیا جس میں قوم غرق ہوئی۔
Ayah 11:441:۔ ابن منذر وابن عساکر رحمہما اللہ نے الکلبی کے راستہ میں ابن عباس ؓ سے فرمایا جس دن نوح (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اس وقت کے بادشاہ کی بادشاہی کو بیاسی سال ہوچکے تھے اس زمانہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو برائی سے روکے اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا (اس وقت) ان کی عمر چار سو اسی سال تھی پھر انہوں نے (اپنی قوم کو) اپنی نبوت کے زمانہ میں ایک سو بیس سال تک بلایا پھر ان کو کشتی بنانے کا حکم دیا گیا انہوں نے اس کو بنایا اور اس پر سوار ہوئے ان کی عمر چھ سو سال تک رہی نوح (علیہ السلام) کا لڑکا پیدا ہوا سام اس کی اولاد میں سفیدی اور گندم گوئی رنگ تھا اور حام پیدا ہوئے اولاد میں سیاہی اور سفیدی تھی اور یافث (پیدا ہوئے) اور ان کے رنگ زردی اور سرخی تھی اور کنعان وہی ہے جو غرق ہوگیا اور عرب نسبت کرتے ہیں ماں کے ساتھ اور ان کی ماں ایک ہی تھے اور ایک وسیع عریض وادی کے کنارے نوح (علیہ السلام) نے کشتی تیار کی اور یہیں سے طوفان شروع ہوا تو نوح کشتی میں سوار ہوئے آپ کے ساتھ وہ بیٹے اور ان بیٹوں کی بیویاں بھی تھیں۔ اور بنوشیث میں سے تہتر افراد تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے اور وہ کشتی میں اسی آدمی تھے۔ اور آپ نے اپنے ساتھ ہر جنس سے نر اور مادہ (کا ایک جوڑا) بھی سوار کیا اور کشتی کی لمبائی تین سو ذراع تھی اور یہ ذراع نوح (علیہ السلام) کے دادا کا مقرر کردہ تھا۔ اور اس کی چوڑائی پچاس ذراع تھی اور اس کی لمبائی آسمان میں ( یعنی اس کی بلندی) تلبیس ذراع تھی۔ اور پانی سے چھ ذراع (باہر) نکلی ہوئی تھی اور یہ کشتی ڈھکی ہوئی تھی۔ آپ نے اس کے تین دروازے بنائے اس کا بعض دروازہ بعض کے نیچے تھا اللہ تعالیٰ نے چالیس دن بارش برسائی جب بارش پہنچی وحشی درندوں کو جانوروں کو اور سب پرندوں کو تو وہ نوح (علیہ السلام) کی طرف آئے وہ آپ کے لئے تابع کردیئے گئے۔ انہوں نے اس میں سے ان کو (کشتی میں) سوار کیا جسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا ہر جنس میں سے جوڑا جوڑا اور اپنے ساتھ آدم (علیہ السلام) کے جسد اطہر کو بھی سوار کیا اور اسے عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک ایک رکاوٹ بنادیا اور وہ اس میں سوار ہوئے رجب میں سے دس دن گزرنے کے بعد اور وہ اس میں سے نکلے محرم میں سے عاشوراء کے دن۔ اس لئے عاشوراء کے دن جنہوں نے روزہ رکھا اس کی وجہ یہی ہے اور اسی طرح پانی دو حصوں میں تقسیم ہو کر ظاہر ہوگیا۔ آدھا آسمان سے اور آدھا زمین سے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ففتحنا ابواب السمآء بمآء منھمر (11) “ (القمر آیت 11) یعنی آسمان کے دروازوں میں سے پانی انڈیل دیا گیا۔ (اور) فرمایا (آیت) ” وفجرنا الارض عیونا “ (لقمر آیت 12) یعنی ہم نے زمین کو پھاڑ دیا تو پانی مل گیا (بارش کے پانی سے) (آیت) ” علی امر قد قدر “ (ایک مقرر کام پر) اور پانی زمین کے سب سے بلند ترین پہاڑ پر پندرہ ذراع اوپر اٹھ گیا۔ ان کو لے کر کشتی چلتی رہی اور چھ ماہ میں ساری زمین کی طرف گھومی کسی چیز پر نہیں ٹھہری یہاں تک کہ حرم شریف پر آئی اور اس میں داخل نہیں ہوئی۔ اور حرم شریف کے ساتھ ایک ہفتہ گھومتی رہی اور بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا جس کو آدم نے بنایا تھا غرق ہونے سے بچا لیا گیا تھا اور وہی بیت المعمور ہے اور حجر اسود کو ابو قیس پہاڑ پر اٹھالیا گیا جب (یہی کشتی) حرم کے گرد گھومی ان کو لے زمین میں چلتی رہی یہاں تک کہ جودی پہاڑ پر جالگی۔ اور وہ حصین کے ساتھ ایک پہاڑ موصل کی زمین میں سے سال کے مکمل ہونے کے چھ ماہ بعد وہاں کشتی جا کر ٹھہری اور مطلق چھ ماہ کے بعد کا قول بھی کیا گیا ہلاکت اور بربادی ہو ظالم قوم کے لئے جب جودی پہاڑ پر ٹھہری تو کہا گیا (آیت) ” یارض ابلعی مآءک ویسمآء اقلعی “ یعنی اپنے پانی کو روک لو (آیت) ” وغیض المآء “ یعنی زمین نے پانی کو خشک کردیا اور ایسا ہوگیا کہ یہ سمندر جو تم زمین میں دیکھتے ہو آسمان سے اترے ہی نہیں وہ آخر پانی جو طوفان میں سے زمین میں باقی رہا۔ وہ پانی زمین میں چالیس سال تک باقی رہا طوفان کے بعد پھر پانی ختم ہوگیا پس نوح ایک بستی کی طرف نیچے اترے ان میں سے ہر ایک آدمی نے ایک گھر بنایا اور سوق الثمانین اس کا نام رکھا۔ قابیل کی اولاد سب ہلاک ہوگئیں اور نوح سے لے کر آدم تک درمیان کے آباؤ اجداد میں سے (سب) اسلام پر تھے نوح (علیہ السلام) نے شیر کے خلاف دعا کی تو اس پر بخار کو ڈال دیا جائے اور فاختہ کے لئے محبت کی دعا کی۔ اور کوے کو معیشت کی بدبختی قرار دیا نوح (علیہ السلام) نے بنو قابیل کی ایک عورت سے نکاح کیا اور اس میں سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام یوناطن تھا۔ جب سوق الثمانین کا گاؤں ان کے لئے تنگ ہوگیا تو وہ بابل کی طرف لوٹ گئے اور اس کو تعمیر کیا اور فرات اور صراہ کے درمیان ہے یہ لوگ وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ایک لاکھ تک پہنچ گئے اور یہ لوگ (مذہب) اسلام پر تھے۔ جب نوح کشتی سے باہر تشریف لائے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کو بیت المقدس میں دفن کردیا۔
2:۔ عبدالرزاق وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ نے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک فاختہ کو بھیجا وہ زیتون کا ایک پتہ لے آئی آپ نے وہ عطا فرمایا جو اس کی گردن میں ہے اور کے پاوں میں خضاب لگایا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید (رح) نے روایت کیا کہ میں کڑوا پانی پینے کے ارادہ سے باہر نکلا تو کہا گیا کڑوا پانی مت پی، کیونکہ جب طوفان کا زمانہ تھا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم فرمایا تھا کہ اپنے پانی کو نگل جا اور آسمان کو حکم دیا فرمایا کہ تھم جا اس پر (زمین کے) بعض ٹکڑوں نے نافرمانی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی تو اس کا پانی کڑوا ہوگیا۔ اور اس کی مٹی میں شور ہوگیا اور وہ کوئی چیز نہیں اگا سکتی۔
4:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ جب زمین کو حکم دیا گیا کہ پانی جذب کر تو سوائے کوفہ کی زمین ساری زمین خشک ہوگئی تو اس پر لعنت کی گئی ساری زمین دو نوروں پر ہوگی اور کوفہ کی زمین چار پر ہوگی۔
5:۔ ابن منذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” یارض ابلعی “ میں ” اباحی “ حبشی زبان کا لفظ ہے۔
6:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کیا کہ (آیت) ” و قیل یارض ابلعی مآءک “ حبشی زبان ہے یا فرمایا ازدیہ زبان کا ہے۔
7:۔ ابوالشیخ (رح) نے جعفر بن محمد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” یارض ابلعی “ سے مراد ہے پی جا۔ ہندوستان کی لغت میں۔
8:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یارض ابلعی “ یعنی رک جا (آیت) ” وغیض المآء “ یعنی (پانی) خشک ہوگیا۔
9:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) نے روایت کیا کہ (آیت) ” وغیض المآء “ یعنی پانی اتر گیا (آیت) ” وقضی الامر “ قوم نوح (علیہ السلام) کی ہلاکت کا حکم نافذ ہوگیا۔
اما قولہ تعالیٰ : واستوت علی الجودی :
عاشوراء کے دن کا روزہ :
10:۔ احمد وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ یہودیوں کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے اور انہوں نے عاشورہ کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا یہ کیا روزہ ہے ؟ انہوں نے کہا یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو غرق ہوجانے سے نجات دی تھی اور اس میں فرعون کو غرق کردیا۔ اور یہ وہ دن ہے جس میں کشتی جودی پہاڑ پر جالگی تھی تو نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) دونوں نے اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کے لئے روزہ رکھا یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں آپ نے روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کو بھی روزے کا حکم فرمایا۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے عبدالعزیز بن عبدالغفور سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رجب کے پہلے دن نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے اور انہوں نے روزہ رکھا اور جو ان کے ساتھ تھے (سب نے روزہ رکھا) اور کشتی ان کو لے کر چھ ماہ تک چلتی رہی اور یہ سفر حرم پر جا کر رکا۔ اور عاشورہ کے دن کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی نوح (علیہ السلام) نے روزہ رکھا اور جو ان کے ساتھ تھے ( کشتی میں) وحشی درندے جانور سب کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو سب نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے روزہ رکھا۔
12:۔ اصبہانی (رح) نے الترغیب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ عاشورہ کا وہ دن ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول فرمائی۔ اور یہ وہ دن ہے جس میں نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا اور یہ وہ دن ہے جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اس کا روزہ رکھنا سنت مرورہ کے مطابق ہے۔
13:۔ ابن مردویہ (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب جودی پہاڑ پر کشتی ٹھہر گئی جتنا اللہ نے چاہا اس پر ٹھہرے رہے پھر ان کو اجازت دی گئی تو وہ پہاڑ سے نیچے اترے۔ پھر آپ نے ایک کوے کو بلا کر فرمایا جا زمین کی خبر لے آیا کوا زمین پر گرپڑا اور اس میں قوم نوح (علیہ السلام) کے غرق ہونے والے (پڑے) تھے تو کوے نے آپ کے حکم کو موخر کردیا تو انہوں نے اس پر لعنت کی اور ایک فاختہ کو بلایا وہ نوح (علیہ السلام) کی ہتھیلی پر آبیٹھی اس سے فرمایا جا اور میرے پاس زمین کی خبر لے آ وہ اڑی اور نہیں ٹھہری مگر تھوڑی دیر یہاں تک کہ اس حال میں آئی کہ وہ اپنے پروں کو اپنی چونچ میں جھاڑ رہی تھی اور کہنے لگی اتر جائیے زمین خشک ہوگئی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے اور تیرے گھر میں برکت عطا فرمائے۔ تجھے لوگوں کے نزدیک محبوب بنادے اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ تیری ذات پر قابض ہوجائیں گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تیرے سر کو سونے کا بنا دیتا۔
14:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جودی پہاڑ ہے جزیرہ میں اور اس دن غرق ہونے سے بچنے کے لئے پہاڑ بلند ہوگئے اور لمبے ہوگئے اور اس نے اللہ کے لئے عاجزی اختیار کی وہ غرق نہیں ہوا اور اس پر نوح (علیہ السلام) کی کشتی کو بھیج دیا گیا۔
15:۔ ابو الشیخ (رح) نے العظمۃ میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ پہاڑ آسمان میں بلند ہوگئے سوائے جودی کے جودی نے یہ یقین کرلیا کہ اللہ کا حکم عنقریب اس کو پالے گا تو وہ ٹھہرا رہا اور فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوقیس (پہاڑ) میں رکن (سواری) یعنی حجر اسود کو چھپا دیا۔
16:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جودی موصل میں ایک پہاڑ ہے۔
17:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جودی پہاڑ کو الجزیرہ کی زمین سے باقی رکھا (جو بطور عبرت ہے اور نشانی کے یہاں تک کہ اس امت کے پہلے لوگوں نے اس کو دیکھا اور کتنی کشتیاں جو بعد میں تھیں اور وہ تباہ ہوگئیں۔
Ayah 11:451:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اھلی “ سے مراد ہے کہ نوح نے اپنے رب سے عرض کیا کہ بلاشبہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ آپ میرے لئے میرے اہل و عیال کو نجات دیں گے اور بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے۔
2:۔ عبدالرزاق الفریابی وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کی بیوی بدکار نہیں ہوتی اور فرمایا (آیت) ” انہ لیس من اھلک “ یعنی یہ تیرے اہل و عیال میں سے نہیں ہے کہ جن کو ہم تیرے ساتھ نجات دیں گے۔
Ayahs 11:46–47عمل کے بغیر صرف نسب سے نجات نہ ہوگی :
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء کی عورتیں زنا کار نہیں ہوتی اور وہ یہ آیت پڑھتے تھے (آیت) انہ عمل غیر صالح “ یعنی اے نوح جو آپ کا مجھ سے سوال کرنا اچھا عمل نہیں۔ میں اس سے تیرے لئے راضی نہیں ہوں گا (یعنی میں اسے تیرے لئے پسند نہیں کرتا)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید (رح) کے راستہ سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب ہم نے آپ کو منع کیا کہ وہ کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں تو پھر اپنے رب کی طرف رجوع کرنا غیرصالح عمل تھا (اور) عبداللہ کی قرابت میں یون ہے (آیت) ” فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم “ اور قتادہ ؓ کے علاوہ کسی دوسرے سے روایت ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام جو غرق ہوا کنعان تھا اور قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس نے مخالفت کی نوح (علیہ السلام) کی نیت میں اور عمل میں۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ا بو جعفر الرازی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زید بن اسلم سے پوچھا کہ تم یہ حرف کیسے پڑھتے ہو تو انہوں نے کہا (آیت) انہ عمل غیر صالح “
4:۔ ابن منذر (رح) نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قراءۃ میں یوں ہے (آیت) انہ عمل غیر صالح “
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) انہ عمل غیر صالح “ کے بارے میں فرمایا کہ کہا جاتا ہے آپ کا سوال اس چیز کے بارے میں ہے کہ جس کو آپ کو عمل نہیں ( کہ یہ عمل غیر صالح ہے)
6:۔ الطیالسی واحمد وابو داود والترمذی وابن منذر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے شہر بن خوشب کے واسطے سے اسماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ یوں پڑھتے تھے (آیت) انہ عمل غیر صالح “۔
7:۔ احمد وابو داود والترمذی والطرانی والحاکم وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیۃ میں شہر بن خوشب کے راستے سے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا (آیت) انہ عمل غیر صالح “ عبد بن حمید نے فرمایا کہ ام سلمہ ؓ میں اسماء بنت یزید ہیں۔ اس لئے یہ دونوں حدیثیں میرے پاس ایک ہیں۔
8:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں وابن مردویہ والخطیب نے چند طرق سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) انہ عمل غیر صالح “۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) انہ عمل غیر صالح “۔
10:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ بعض حروف میں یوں ہے۔ (آیت) انہ عمل غیر صالح “۔
11:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) انہ عمل غیر صالح “ سے مراد ہے کہ اس کا عمل اللہ کے ساتھ کفر کرنا تھا۔
12:۔ ابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) انہ عمل غیر صالح “۔ یعنی اس نے اللہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کا عمل کیا۔
13:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” فلا تسئلن مالیس لک بہ علم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو بیان فرمایا کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔
14:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی اعظک ان تکون من الجھلین “ کے بارے میں فرمایا کہ تجھ کو جہالت (یعنی نادانی) پہنچ گئی ہے میں اس کا وعدہ کو پورا نہیں کروں گا جو میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا یہاں تک کہ مجھ سے سوال کرے آپ نے عرض کیا بلاشبہ یہ (میری) خطا ہے۔ اے میرے رب ! میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آپ سے (ایسا) سوال کروں۔
تقوی کے مکمل گناہوں سے بچنا ضروری ہے :
15:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن المبارک (رح) سے روایت کیا کہ اگر ایک آدمی سو چیزوں سے بچتا ہے اور ایک چیز سے نہیں بچتا تو وہ متقین میں سے نہ ہوگا۔ اور اگر وہ سو چیزوں سے پرہیز کرتا ہے اور ایک چیز سے پرہیز نہیں کرتا تو وہ پرہیز نہیں۔ اگر کسی میں جہالت کی ایک عادت ہے تو وہ جاہلین میں سے ہوگا۔ کیا تو نے نہیں سنا جو نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) انہ لیس من اھلک “ تو اللہ تعالیٰ (جواب میں) فرمایا (آیت) ” انی اعظک ان تکون من الجھلین “
16:۔ ابو الشیخ (رح) نے فصیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے جب اپنے رب سے سوال کیا اے میرے رب ! کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے نوح ! کہ تیرا مجھ سے سوال کرنا خاص طور پر کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے یہ عمل اچھا نہیں (اس لئے) (آیت) ” فلا تسئلن مالیس لک بہ علم، انی اعظک ان تکون من الجھلین “ (46) ۔ (پھر فرمایا) مجھ کو یہ بات پہنچی کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی اس بات (آیت) ” انی اعظک ان تکون من الجھلین “ پر چالیس سال تک روتے رہے۔
17:۔ احمد (رح) نے الزہد میں وھب بن ورد حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نوح کو عتاب فرمایا اس کے بیٹے کے بارے میں اور ان پر (یہ آیت) اتاری (آیت) ” انی اعظک ان تکون من الجھلین “ تو تین سو سال تک روتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی آنکھوں کے نیچے نالیاں بن گئیں۔
Ayah 11:481:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” قیل ینوح اھبط بسلم منا “ الآیہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ اتر جائیے (اس حال میں) کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہیں۔ اور تم لوگ اتر جاؤ اللہ کی طرف سے سلامتی کے ساتھ۔ یہ لوگ اس کی رحمت کے اہل تھے۔ اس زمانہ کے لوگوں میں سے پھر اس کے بعد ان میں سے فضل کا نکالا گیا اور اس سے امتیں پیدا کیں۔ ان میں سے بعض پر اللہ کی رحمت ہوئی اور بعض کو عذاب دیا گیا اور (یہ آیت) ” وعلی امم ممن معک وامم سنمتعہم “ پڑھی اور فرمایا امتیں جدا ہوئیں۔ اس جماعت میں سے جو اس پانی سے نکالی گئی اور سلامت رہیں۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اھبط بسلم منا و برکت وعلیک وعلی امم ممن معک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برابر ہمارے لئے حصہ لیتا رہا ہے۔ اور اس طرح وہاں وہ ہم کو یاد کرے گا اس طرح پر کہ جہاں ہم اپنے آپ کو یاد نہیں کریں گے جب بھی کوئی امت ہلاک ہوئی تو اس نے ہمیں ان کی امتوں میں رکھا جو اس کی مہربانی سے نجات پاتے رہے یہاں تک کہ ہم کو بہترین امت میں سے بنا دیا جو لوگوں کے لئے نکالی گئی۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن السنی رحمہم اللہ نے الطب النبوی میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کشتی سے باہر نکلنے کے بعد نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلا آس کا درخت لگایا۔
4:۔ ابو الشیخ (رح) نے عثمان بن ابی العات کہ (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) نے اس وقت کلام کیا جب ان کے قدم زمین پر جمے کشتی سے نکلنے کے بعد (وہ یہ تھا ) ” یامور اتقن “ یہ کلمہ ہے سریانی زبان کا یعنی اے میرے آقا تو اصلاح فرما۔
5:۔ ابو الشیخ وابن عساکر رحمہما اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نوح کی قوم کو غرق کردیا تو نوح کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے مخلوق کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس کو حکم دیا اپنی اطاعت کا تو انہوں نے میری نافرمانی کی اور میرے غصہ کو ترجیح دی تو وہ شخص عذاب دیا گیا پس میں نافرمانی کرنے والوں کو گناہ کے سبب اپنی مخلوق میں سے ان کو بھی عذاب دیا۔ جنہوں نے میری نافرمانی نہیں کی۔ میں نے قسم کھائی ہے اور کونسی چیز میرے مثل ہے (اور) میں نہ عذاب دوں گا عام غرق کے ساتھ اس کے بعد اور میں نے بنا دیا ہے اپنی قوس (قزح) کو (امان کا ذریعہ) اپنے بندوں کے لئے اور شیروں کے لئے غرق ہونے سے پہلے قیامت کے دن تک اس قوس میں کمان اور تیر تھا جب اللہ تعالیٰ فارغ ہوئے اس قول سے نوح کی طرف تو قومیں تیر کمان نکال لئے اور اس کو اپنے بندوں کے لئے اور اپنے شہروں کو غرق سے بچنے کے لئے امان بنادیا۔
6:۔ ابن عساکر (رح) نے خفیف (رح) سے روایت کیا کہ جب نوح (علیہ السلام) کشتی سے اتر آئے اور مسمار پہاڑ پر چڑھ گئے تو جبہ ان کے ٹیلے کو دیکھا دو دریاوں کے درمیان تو حران میں آئے اور اس کا نقشہ بنایا پھر آپ دمشق آئے اور اس کا نقشہ بنایا پس حران پہلا شہر تھا جس کا طوفان کے بعد نقشہ بنایا گیا پھر اس کے بعد دمشق ہے۔
7:۔ ابن عساکر (رح) نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ پہلی دیوار جو طوفان کے بعد زمین کی سطح پر بنائی گئی وہ حران اور دمشق کی دیوار ہے۔ پھر بابل کی۔
8:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اس سلامتی اور برکتوں میں ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت داخل ہے قیامت کے دن تک اور اس لطف اندوزی اور دردناک عذاب میں ہر کافر مرد اور بدکار عورت داخل ہے قیامت کے دن تک۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی امم ممن معک “ یعنی ان لوگوں میں سے جو (ابھی) پیدا نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پہلے سے برکات کو واجب کردیا ان سعادتوں کے باعث جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لئے پہلے ہی موجود ہیں (اور فرمایا) (آیت) ” وامم سنمتعہم “ یعنی دنیا کی زندگی کا لطف پھر ہماری طرف سے ان کو درد ناک عذاب پہنچے گا جو ان کی شفاعت کے باعث اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے موجود ہے۔
10:ـ۔ احمد (رح) نے الزہد میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں اہل زمین سے مسلسل چودہ بار عذاب دور کیا گیا۔
Ayah 11:491:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک “ یعنی یہ ” من انبآء “ یعنی باتیں۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر (اللہ تعالیٰ ) محمد ﷺ کی طرف رجوع فرمایا (سابقہ پیغمبروں) کے حالات بیان کرنے کے بعد اور فرمایا (آیت) ” تلک من انبآء الغیب نوحیھا الیک، ما کنت تعلمھا انت ولا قومک “ یعنی نہ عرب کے لوگ (ان واقعات کو جانتے تھے) اس قرآن (کے نازل ہونے) سے پہلے اور نہ آپ۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا “ یعنی قرآن سے پہلے اور محمد ﷺ اور اس کی قوم نہیں جانتی تھی کہ نوح اور اس کی قوم نے کہا اگر اللہ عزوجل اپنی کتاب میں اس کو بیان نہ فرمائیں۔
Ayahs 11:50–60حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے کے لئے باہر تشریف لائے اور استغفار سے زیادہ (کچھ بھی) نہ کہا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے ان سے روایت کیا گیا ہم نے آپ کو بارش طلب کرتے ہوئے نہ دیکھا فرمایا میں نے ان مخاریج السماء سے بارش طلب کی ہے جن کے سبب بارش نازل ہوتی ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ویقوم استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ (اور) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “ (نوح)
4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ہارون تیمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “ یعنی ان پر لگاتار بارش برسائے گا۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویزدکم قوۃ الی قوتکم “ یعنی وہ تمہارے بیٹوں کو اولاد عطا فرما کر تمہاری پہلی قوت میں اور اضافہ کردے گا۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان نقول الا اعتراک بعض الھتنابسوٓء “ یعنی ہمارے کسی معبود نے تجھے جنون میں مبتلا کردیا ہے۔
7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا اعترک بعض الھتنا بسوء “ یعنی تجھ کو (ہمارے) بتوں سے جنون پہنچ گیا ہے۔
8:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہمارے معبودوں کی برائی (بیان کرنے) پر تجھ کو صرف یہ چیز آمادہ کرتی ہے کہ تجھ کو ان سے کوئی برائی (یعنی تکلیف) پہنچ گئی ہے۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے یحی بن سعید (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی ڈرتا ہے کسی عادی چور سے یا تکلیف دینے والے جنگلی جانور سے یا شیطان سرکش سے تو اس کو چاہئے کہ وہ یہ آیت پڑھا کرے۔ (آیت) ” انی توکلت علی اللہ ربی وربکم ما من دآبۃ الا ھو اخذبنا صیتھا ان ربی علی صراط مستقیم “ تو اللہ تعالیٰ اس سے پھیر دے گا۔
10:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ربی علی صراط مستقیم “ یعنی میرا رب حق پر ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عذاب غلیظ “ یعنی شدید اور سخت عذاب۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل جبار عنید “ یعنی مشرک (شرک کرنے والا)
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل جبار عنید “ سے مراد ہے میثاق یعنی وعدہ۔
14:۔ ابن منذر (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ عنید کا معنی ہے کہ وہ حق سے پھرگئے۔
15:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتبعوا فی ھذہ الدنیا “ یعنی قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر قوم عاد کو لعنت کی گئی ان کی زبان پر۔
16:۔ ابو الشیخ (رح) نے مجاہد سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ ویوم القیمۃ “ سے مراد ہے دوسری لعنت (ہوگئی قیامت کے دن ) ۔
17:۔ ابن منذر وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ان کے پیچھے لگا دی گئیں دو لعنتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لعنت دنیا میں اور ایک لعنت آخرت میں۔
Ayahs 11:61–68حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم مجھ کو نہیں زیادہ کرتے ہو ان کاموں کے ذریعہ جو تم کرتے ہو مگر اس کا جو تمہارے لئے باعث نقصان ہوگا کہ تم اس کا نقصان اٹھاوگے۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثلثۃ ایام “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (تین دن) باقی تھے صالح کی قوم کی مدت سے، اونٹنی کو قتل کرنے کے وقت اس کو عذاب نہیں دیا گیا یہاں تک یہ وہ دن پورے کر لئے۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” نجینا صلحا والذین امنوا “ الآیہ یعنی اللہ تعالیٰ نے نجات دی آپ کو اپنی خاص رحمت سے اس عذاب سے اور نجات دی ان کو اس دن کی رسوائی سے۔
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاصبحوا فی دیارھم جثمین “ یعنی وہ مرے پڑے تھے صبح کو اپنے گھروں میں۔
9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان لم یغنوا فیھا “ یعنی گویا کہ ان لوگوں نے کبھی اس میں زندگی گزاری ہی نہیں۔
10:ـ۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان لم یغنوا فیھا “ یعنی گویا کہ وہ اس میں آباد ہی نہ تھے۔
11:۔ ابن الانباری نے الوقف الابتداء میں والطستی نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس سے پوچھا کہ مجھے اللہ عزوجل کے اس قول (آیت) ” کان لم یغنوا فیھا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ گویا کہ وہ دنیا میں نہ تھے یعنی دنیا میں جب وہ عذاب دیئے گئے اور (گویا کہ وہ) اس میں نہ رہتے تھے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس (معنی) سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے بعید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اور وہ فرماتے ہیں۔
وغیث شیاء قبل نحری واحسن لوکان للنفس الاجوح خلود
ترجمہ : میرے اونٹ ذبح کرنے سے پہلے تو میں زندگی کی لذتوں سے اچھا کام ہوا اور کتنا ہی اچھا ہوتا اگر بہت سے جھگڑالو نفس کو دوام حاصل ہوتا۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان لم یغنوا فیھا “ یعنی گویا کہ وہ دنیا میں کوئی نعمت نہیں دیئے گئے۔
Ayah 11:69حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عثمان بن محسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں بیان فرمایا کہ وہ چار تھے جبرائیل (علیہ السلام) ، میکائیل (علیہ السلام) ، اسرافیل (علیہ السلام) ، اور عزرائیل (علیہ السلام) ۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت ) ” قالوا سلما قال سلم “ اور ہر چیز پر ملائکہ نے سلام کیا۔ انہوں نے کہا تم پر سلام ہو تو آپ نے بھی جواب میں فرمایا تم پر سلام ہو۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بعجل حنیذ “ یعنی پکا ہوا بچھڑا۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بعجل حنیذ “ سے مراد ہے بھنا ہوا۔
5:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بعجل حنیذ “ سے مراد ہے بال نوچا ہوا۔ (یعنی جس کے بال صاف کرکے بھون دیا گیا)
6:۔ الطستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بعجل حنیذ “ کے بارے میں بتائیے فرمایا الحنیذ سے مراد وہ پکا ہوا گوشت ہے جو بھونا جاتا ہے پتھروں پر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
لہم راج وفارالمسک فیہم وشاوہم اذا شاوا حنیذ
ترجمہ : اور ان کے پاس شراب ہے اور میں مشک کی خوشبو بھڑکی ہوئی ہے اور انہوں نے اس وقت قصد کیا جبکہ انہوں نے بھنے ہوئے گوشت کا قصد کیا۔
7:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بعجل حنیذ “ کے بارے میں فرمایا کہ حنیذ وہ چیز ہے جس کو پتھروں کے ذریعہ خوب پکایا گیا ہو۔
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا حنیذ وہ چیز ہے جس کو بھونا جائے اور میں سے پانی بہتا ہے۔