1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ترجمہ : سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ (1) امام عبد الرزاق نے المصنف میں اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں الخطابی نے الغریب میں بیہقی نے الادب میں دیلمی نے مسند الفردوس میں اور ثعلبی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ الحمدللہ شکر کی اصل ہے اس بندے نے شکر ادا نہیں کیا جس نے اس کی حمد بیان نہیں کی۔
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

جو سب سے بڑا مہربان بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ترجمہ : بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (2) (1) امام عبد ابن حمید نے مطر الوراق کے واسطے سے حضرت قتادہ ؓ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قول لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ مخلوق میں سے کسی نے یہ وصف بیان نہیں کیا اور لفظ آیت الرحمن الرحیم میں اپنی ذات کی تعریف فرمائی لفظ آیت ملک یوم الدین اس دن سے وہ دن مراد ہے کہ جس دن لوگوں کو جزا دی جائے گی پھر فرمایا اس طرح تم کہو لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین ہم خاص کر تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص کر تجھ سے مدد مانگتے ہیں یعنی اس میں اپنی ذات پر دلالت فرمائی ہے کہ میرے لئے ہی عبادت کرو اور مجھ ہی سے مدد مانگو اور یوں کہو لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ یعنی سیدھا راستہ ہم کو دکھا لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ یعنی انبیاء کا راستہ لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ یعنی یہود کا راستہ نہ دکھا لفظ آیت ” ولا الضالین “ نصاری کا راستہ بھی نہ دکھا۔ امام دار قطنی، حاکم بیہقی نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور اس کو ایک آیت شمار فرماتے تھے پھر لفظ آیت ” الحمدللہ رب العلمین “ کو دوسری لفظ آیت ” الرحمن الرحیم (2) کو تیسری اور لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ کو چوتھی آیت شمار فرماتے تھے اسی طرح لفظ آیت ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ کو پانچویں آیت شمار فرماتے تھے اور اپنی پانچوں انگلیوں کو جمع فرماتے تھے۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

مالک ہے روز جزا کا۔

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ترجمہ : مالک ہے روزجزا کا۔ (2) (1) امام ترمذی، ابن الانباری اور ابن بی الدنیا نے کتاب المصاحف میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ لفظ آیت ملک یوم الدین بغیر الف پڑھتے تھے۔ (2) ابن ابی الانباری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر، عمر، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف اور معاذ بن جبل ؓ نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ کو بغیر الف کے پڑھا۔ (3) امام احمد نے الزہد میں، ترمذی، اور ابن ابی داؤد ابن الانباری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (4) امام سعید بن منصور اور ابن ابی داؤد نے مصاحف میں سالم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ابوبکر و عمر و عثمان ؓ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (5) وکیع نے اپنی تفسیر میں عبد بن حمید ابو داؤد اور ابن ابی داؤد نے زھری (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر ؓ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور سب سے پہلے مروان نے بغیر الف کے پڑھا۔ (6) امام ابن ابی داؤد اور الخطیب نے ابن شہاب کے طرق سے سعید بن المسیب (رح) اور براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ بغیر الف کے پڑھا۔ (7) ابن ابی داؤد نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ و ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ اس کا بیٹا یزید لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مردوان نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ بغیر الف کے پڑھا۔ (8) ابن ابی داؤد اور ابن الانباری نے زھری (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ بغیر الف کے پڑھتے تھے اور ابوبکر و عمرو عثمان و طلحہ و زبیر اور ان کے والد ابن مسعود اور معاذ بن جبل رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔ (9) امام ابن ابی داؤد اور ابن الانباری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ ابوبکر و عمر و عثمان و علی ؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں یہ سب حضرات لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ بغیر الف کے پڑھتے تھے۔ (10) ابن ابی داؤد نے ابن ابی ملیکہ (رح) بعض ازواج النبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ پڑھا۔ (11) ابن ابی داؤد اور ابن الانباری، دارقطنی نے الافراد میں ابن جمیع نے اپنی معجم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ بغیر الف کے پڑھتے تھے۔ (12) امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (13) امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھا اور لفظ آیت لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ کو کسرہ کے ساتھ (1 امام وکیع، الفریابی، سعید بن جبیر بن منصور، عبد بن حمید اور ابن المنذر (رح) حضرت عمر ابن الخطاب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (4 (1 امام وکیع اور سعید بن منصور نے ابو قلابہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابی کعب ؓ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (5 (16) امام وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، اور ابن ابی داؤد (رح) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (17) عبد بن حمید نے ابو عبیدہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ سے حساب کا دن مراد لیا ہے۔ (18) امام ابن جبیر اور حاکم نے حضرت ابن مسعود اور بہت سے صحابہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ سے حساب کا دن مراد ہے۔ (19) اس روایت کو حاکم نے صحیح کہا ہے امام ابن جبیر اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس دن حکم میں کوئی مالک نہ ہوگا جیسا کہ دنیا میں ان کا مالک ہونا ہے اور لفظ آیت ” یوم الدین “ سے مراد ہے مخلوق کے حساب کا دن اور وہ قیامت کا دن ہے جس میں ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے اگر اچھے عمل ہیں تو اچھا بدلہ ہوگا۔ اور اگر برے عمل ہیں تو برا بدلہ ہوگا مگر جس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں یہ الگ بات ہے۔ (20) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے حضرت قتادہ ؓ سے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔ (21) امام ابو داؤد، حاکم اور بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بارش کے قحط کی شکایت کی آپ نے منبر رکھنے کا حکم فرمایا اس کو عیدگاہ میں رکھ دیا گیا پھر آپ نے لوگوں کے لئے ایک دن مقرر فرما دینا کہ وہ باہر نکلیں جب سورج نکلنا شروع ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے آپ نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی۔ پھر فرمایا تم نے اپنی زمینوں کے خشک ہوجانے کی شکایت کی اور عرصہ دراز سے بارش نہیں اتری حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم فرمایا کہ اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ فرمایا کہ میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا آپ نے یہ دعا مانگی لفظ آیت ” الحمدللہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین “ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو چاہتا ہے کرتا ہے اے اللہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ غنی ہیں اور ہم فقیر ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ آپ بارش اتاریں اس کی قوت والا پہنچنے والا بنا دیں ایک وقت تک۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ حدیث غریب ہے لیکن اس کی سند جید ہے۔ اہل مدینہ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ پڑھتے ہیں اور یہ حدیث ان کے لئے حجت ہے۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ترجمہ : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ (1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ایاک نعبد “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تجھے ایک مانتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے ڈرتے ہیں اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے امید رکھتے ہیں تو ہمارا رب ہے تیرے سوا کوئی نہیں لفظ آیت ” وایاک نستعین “ اور ہم تجھ ہی سے تیری اطاعت پر اور اپنے تمام کاموں پر مدد مانگتے ہیں۔ (2) امام وکیع اور الفریابی نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ حرف اس طرح پڑھتے ہوئے سنا اور وہ قریشی عربی ہیں اور فصیح زبان والے تھے۔ لفظ آیت ” ایاک نعبد وایاک نستعین اھدنا “ اور آپ نے دونوں صیغوں کو مرفوع پڑھا۔ (3) الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابو رزین سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ سے اس طرح پڑھا ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ پہلے ہمزہ پھر مد پھر شد پڑھی۔ (4) ابو القاسم البغوی اور الماوردی نے معرفتہ الصحابہ میں طبرانی نے الاوسط میں اور ابو نعیم نے دلائل میں حضرت انس ؓ بن مالک کے واسطہ سے ابو طلحہ ؓ سے روایت کیا ہے ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے وہاں دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو یوں کہتے ہوئے سنا لفظ آیت ” ملک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین “ ابو طلحہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ گر رہے ہیں اور فرشتے ان کو آگے پیچھے سے ما رہے ہیں۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

چلا ہم کو سیدھے راستہ پر

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ترجمہ : چلا ہم کو سیدھے راستے پر۔ (1) امام حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی کہا اور ذہبی نے ان کا تعاقب کیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ صاد سے پڑھا۔ (2) سعید بن منصور، عبد بن حمید، بخاری نے التاریخ میں اور ابن الانباری (رح) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ آیت ” اھدنا السراط “ میں سین پڑھا۔ (3) ابن الانباری میں عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ ” السراط “ سین سے پڑھتے تھے۔ (4) ابن الانباری نے فراء سے روایت کیا ہے کہ حمزہ نے ” الزراط “ زا کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء کہتے ہیں کہ الزراط زاء کے اخلاص کے ساتھ ہے یہ لغت عذرہ، کلب اور بنو العین (قبائل) کی ہے۔ (5) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ کا یہ مطلب نقل کیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اے اللہ اپنے سچے دین کو ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ (6) ابن جریر حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ کا معنی بتاتے ہیں کہ اے اللہ ہدایت دینے والا راستہ ہمارے دلوں میں ڈال دے اور وہ دین اللہ کا ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔ (7) امام جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الصراط “ سے راستہ مراد ہے۔ (8) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، المحاملی نے المصنف کے نسخہ سے امالی میں اور حاکم نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ سے مراد اسلام ہے اور وہ زیادہ کشادہ ہے ان چیزوں سے جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں۔ (9) ابن جریج نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الصراط المستقیم “ سے اسلام مراد ہے۔ (10) ابن جریر حضرت ابن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت ” الصراط المستقیم “ سے اسلام مراد ہے۔ (11) امام احمد، تررمذی، (انہوں نے اسے حسن کہا ہے) نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت نواس بن سمعان ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستے کی مثال بیان فرمائی، اس سیدھے راستے میں سب کے سب داخل ہیں جن میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے ہیں لٹکے ہوئے اور اس سیدھے راستے میں سب کے سب داخل ہوجاؤ اور آپس میں متفرق نہ ہوجاؤ اور ایک بلانے والا راستہ کے اوپر سے بلا رہا ہے یہ سیدھا راستہ ہے آجاؤ جب انسان ارادہ کرتا ہے ان دروازوں میں کسی دروازے کو کھولنے کا تو وہ (بلانے والا) کہتا ہے تیرے لئے ہلاکت ہو اس کو مت کھول بلاشبہ تو کھول دے گا اس میں داخل ہوجائے گا پس سیدھا راستہ اسلام ہے۔ اور دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور دروازہ کھلے ہوئے محارم ہیں اور یہ بلانے والا سیدھے راستہ پر اللہ کی کتاب ہے اور بلانے والا اوپر سے اللہ تعالیٰ کا وہ واعظ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے۔ (12) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابوبکر ابن الانباری نے المصاحف میں اور حاکم انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ سے مراد کتاب اللہ ہے۔ (13) امام ابن الانباری نے حضرت ابن مسعود سے یہ روایت کیا کہ یہ سیدھا راستہ حاضر ہے کیا ہوا ہے اس میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں اے اللہ کے بندو ! یہ سیدھا راستہ ہے پس اس کی تابعداری کرو اور سیدھا راستہ سے مراد کتاب اللہ ہے پس اس کو مضبوطی سے پکڑو۔ صراط مستقیم امن کا راستہ ہے (14) امام ابن ابی شیبہ، دارمی، ترمذی، (انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے المصاحف میں ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب فتنے (برپا) ہونگے۔ میں نے عرض کیا ان کا راستہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے بعد والوں کی بھی خبریں ہیں اور اس میں تمہارے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ بھی ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے۔ یہ کوئی دل لگی اور مذاق والی چیز نہیں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور یہ وہ چیز جس کو حکم نے ذکر کیا ہے اور وہ سیدھا راستہ ہے۔ (15) امام طبرانی نے الکبیر میں حضرت مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر ہم نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑا۔ (16) ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر ہم کو رسول اللہ ﷺ نے چھوڑا اور اس کی دوسری طرف جنت ہے۔ (17) بیہقی نے الشعب میں اور قیس بن سعد نے ایک آدمی سے روایت کیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قرآن و نور مبین ہے اور ذکر حکیم ہے اور سیدھا راستہ ہے۔ (18) عبد بن حمید، ابن جریھ، ابن ابی حاتم، ابن عدن اور ابن عساکر نے عاصم الاحول کے طریق سے ابو العالیہ سے لفظ آیت ” الصراط المستقیم “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد کے دونوں ساتھی ہیں راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ بات حضرت حسن ؓ کو بتائی کہ ابو العالیہ یوں کہتے ہیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ابو العالیہ (رح) نے سچ فرمایا اور خالص بات کی ہے۔ (19) حاکم نے ابو العالیہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الصراط المستقیم “ سے رسول اللہ ﷺ اور ان کے دونوں ساتھی مراد ہیں۔ (20) عبد بن حمید نے ابو العالیہ الریاحی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اسلام کو سیکھو جب تم اس کو سیکھ لو تو پھر اس سے انحراف نہ کرو اور تم صراط مستقیم کو لازم پکڑو بلاشبہ لفظ آیت ” الصراط المستقیم “ اسلام ہے۔ اور تم اس سے دائیں اور بائیں نہ گھوم جاؤ۔ (21) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابن المنذر سے کتاب الرؤیا میں حضرت سفیان (رح) سے روایت کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں بلاشبہ وہ جامر کلام ہے اس سے یہ اور یہ مراد لیا گیا ہے۔ (22) ابن سعد نے طبقات میں ابو نعیم نے الحلیہ میں ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو درداء ؓ نے فرمایا بیشک تو پوری طرح سمجھ حاصل نہیں کرسکتا یہاں تک کہ تو قرآن میں کئی وجوہ دیکھے۔ قرآن کریم کے ساتھ بحث نہ کرنا (23) ابن سعد نے حضرت عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو خوارج کے متعلق بتاتے ہوئے سنا جنہوں نے حکومت کا انکار کیا تھا اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے جدا ہوگئے تھے پھر فرمایا کہ ان میں سے بارہ ہزار جدا ہوئے تھے۔ پھر حضرت علی ؓ سے مجھ کو بلایا اور فرمایا کہ تم خارجیوں کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو ان کو کتاب اور سنت کی طرف بلاؤ اور ان سے قرآن کے ذریعہ بحث نہ کرو کیوں کہ وہ یعنی قرآن کئی وجوہ والا ہے کہ کئی مطالب اس سے نکل سکتے ہیں اور لیکن ان سے سنت کے ذریعہ مناظرہ کرو۔ (24) امام ابن سعد نے حضرت عمران بن مناح سے روایت کیا ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اے امیر المؤمنین میں ان میں سے سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہوں (کیونکہ) ہمارے گھروں میں نازل ہوا انہوں نے فرمایا تو نے سچ کہا لیکن قرآن ایسا جمال ہے کئی وجوہ رکھتا ہے وہ قرآن یوں کہتا ہے اور وہ لوگ یوں کہتے ہیں لیکن ان سے سنت کے ذریعے بحث کرو کیونکہ وہ اس سے کوئی بھاگنے کا راستہ نہیں پائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ جن کی طرف تشریف لائے اور ان سے سنن کے ساتھ مناظرہ کیا یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں کوئی دلیل باقی نہ رہی۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا، جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔

صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 9 غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ترجمہ : جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔ (7) (1) امام وکیع، ابوعبید، سعید بن منصور بن حمیر، ابن المنذر، ابن ابی داؤد اور ابن الانباری ان دونوں نے المصاحف میں حضرت عمر بن الخطاب کے طریق سے نقل کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الظالین “ پڑھا کرتے تھے۔ (2) امام ابو عبید، عبد بن حمید، ابن الانباری، ابن ابی داؤد نے حضرت عبد اللہ بن الزبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ پڑھا کرتے تھے۔ (3) ابن الانباری (رح) حضرت حسن (رح) سے روایت کرتے ہیں وہ لفظ آیت ” علیہمی “ ھا اور میم کے کسرہ اور یا پر فتحہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (4) ابن الانباری (رح) حضرت اعرج (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ” علیھموا “ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ (5) ابن الانباری (رح) عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت ہے کہ وہ لفظ آیت ” انعمت علیھموا “ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ (6) ابن الانباری ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ” علیہم “ ھا اور میم کے ضمہ کے ساتھ واؤ کو بغیر ملائے پڑھا۔ (7) ابن ابی داؤد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ اور اسود اس طرح پڑھا کرتے تھے۔ لفظ آیت ” صراط من انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “۔ (8) ثعلبی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انعمت علیہم “ چھٹی آیت ہے۔ (9) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے (کہ اس سے مراد) وہ راستہ ہے جن پر انعام ہوا فرشتوں میں سے اور نبیوں اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں سے مراد جنہوں نے تیری اطاعت اور تیری عبادت کی۔ (10) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ سے مراد مؤمنین کا راستہ ہے۔ (11) ابن جریر نے ابو زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین “ سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا راستہ مراد ہے۔ (12) امام عبد بن حمید نے حضرت ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ سے انبیاء مراد ہیں اور لفظ آیت ” غیر المغضوب “ سے یہودی مراد ہیں اور لفظ آیت ” ولا الضالین “ سے نصاری مراد ہیں۔ (13) عبد بن حمید نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ سے یہودی مراد ہیں اور ” ولا الضالین “ سے نصاری مراد ہیں۔ (14) عبد ابن حمید نے حضر سعید ابن جبیر سے روایت ہے کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ (15) امام عبد الرزاق، احمد بن حمید، ابن جریر اور البغوی نے عبد اللہ بن شقیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ایسے آدمی نے خبر دی جس نے نبی کریم ﷺ سے سنا اور آپ وادی قری میں ایک گھوڑے پر سوار تھے اور بنی عین کے ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ سے کون مراد ہیں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا یہود پھر اس نے پوچھا کہ لفظ آیت ” ضالون “ سے کون مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا نصاری۔ (16) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے عبد اللہ بن شقیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وادی قری کے رہنے والوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک آدمی نے پوچھا یہ وادی قری والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ یہود ہیں پھر اس نے پوچھا یہ دوسرا گروہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ لفظ آیت ” الضالون “ یعنی نصاری ہیں۔ (17) امام ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن شقیق کے طریق سے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد یہود ہیں پھر میں نے ” الضالین “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد نصاری ہیں۔ (18) امام بیہقی شعب الایمان میں عبد اللہ بن شقیق (رح) بلعین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے چچا کے بیٹے سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی قری میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا آپ کے پاس یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ یعنی یہود اور ” ولا الضالین “ یعنی نصاری ہیں۔ (19) سفیان بن عینیہ اپنی تفسیر میں سعید بن منصور نے اسماعیل بن ابی خالد ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ” المغضوب علیہم سے مراد یہود اور ” الضالون “ سے مراد نصاری ہیں۔ (20) امام احمد، عبد بن حمید، ترمذی، انہوں نے اسے حسن کہا ہے ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں اور ” ولا الضالین “ سے مراد نصار ہیں۔ (21) احمد، ابو داود، ابن حبان، الحاکم، انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے اور طبرانی نے حضرت شرید ؓ سے روایت کیا ہے کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے اور میں اس طرح بائیں ہاتھ کو اپنی پیٹھ پیچھے رکھ کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر سہارا لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھا ہوا ہے ؟ یعنی یہودیوں کی طرح۔ (22) امام ابن جریج نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں اور ” ولا الضالین “ سے مراد نصاری ہیں۔ (23) ابن جریج، مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (24) ابن ابی حاتم (رح) فرماتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کا معنی یہود اور ” ولا الضالین “ کا معنی نصاری لینے میں مفسرین میں کوئی اختلاف کو نہیں جانتا (یعنی ہر مفسر نے ان کا یہی معنی مراد لیا ہے) ۔ ذکر آمین اے اللہ ! قبول فرما۔ (1) امام وکیع اور ابن شیبہ نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب رسول اللہ ﷺ کو فاتحہ الکتاب پڑھوائی اور لفظ آیت ” ولا الضالین “ پر پہنچے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے بعد آپ آمین کہیں۔ تو آپ نے فرمایا آمین۔ (2) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو حسن کہا ہے) نسائی، ابن ماجہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے وائل بن حجر حضرمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کے بعد فرمایا آمین۔ اور اس کے ساتھ آپ آواز کو بلند کرتے تھے۔ (3) امام طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں وائل بن حجر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کو سنا جب آپ نے لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ پڑھا تو فرمایا لفظ آیت ” رب اغفرلی آمین۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے آمین۔ (4) امام طبرانی نے وائل بن حجر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جب آپ فاتحۃ الکتاب سے فارغ ہوئے تو تین مرتبہ فرمایا آمین۔ (5) امام ابن ماجی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لفظ آیت ” ولا الضالین “ کے بعد آمین کہتے ہوئے سنا۔ (6) امام مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ (7) امام مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے تو اس کے سابقہ گناہ سب معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (8) امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن مردویہ نے جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے اور اس کے پیچھے مقتدی بھی آمین کہیں تو اس آمین پر آسمان اور زمین والے متوجہ ہوتے ہیں۔ اور جو شخص آمین نہیں کہتا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے قوم کے ساتھ جہاد کیا اور ان کے حصوں کا قرعہ ڈالا گیا لیکن اس کا حصہ نہ نکلا تو اس نے کہا میرا حصہ کیوں نہیں نکلا تو (ایک کہنے والے نے) کہا کیونکہ تو نے آمین نہیں کہا (اس لئے تمہارا حصہ نہیں نکلا) ۔ (9) امام ابو داؤد نے حسن سند کے ساتھ ابو زھیر نمیری (رح) سے روایت کیا ہے کہ اور وہ صحابہ میں سے تھے جب کوئی آدمی دعا کرتا ہے تو اس کو آمین پر ختم کرتا ہے کیونکہ آمین کسی کاغذ پر مہر لگانے کی طرح ہے۔ اور مزید فرمایا کہ میں تم کو اس بارے میں بتاتا ہوں ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہ نکلے اور ایک آدمی ہمارے پاس آیا جو اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں بہت آہ وزاری کر رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ اس کی دعا کو سننے کے لئے ٹھہر گئے پھر آپ نے اس سے فرمایا اگر اس نے مہر لگائی تو اس نے واجب کردیا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کس چیز کے ساتھ مہر لگائے ؟ آپ نے فرمایا آمین کے ساتھ کیونکہ اگر آمین کے ساتھ مہر لگائی تو اس نے واجب کردیا (سوال کے پورا ہونے کو) ۔ (10) امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز سے اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔ (11) ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔ پس آمین کثرت سے کہو۔ (12) ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے اور انہوں نے تم پر تین چیزوں پر حسد کیا۔ سلام کے پھیلانے پر، صف باندھنے پر اور برابر آمین کہنے پر۔ (13) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے انہوں نے مسلمانوں سے تین افضل چیزوں میں حسد کیا سلام کا جواب دینے میں، صفوف کے باندھنے میں، فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنے میں۔ امت محمدیہ ﷺ کی تین خصوصیات (14) الحرث بن اسامہ نے اپنی مسند میں حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تین چیزیں دی گئیں۔ نماز کو صفوں میں (کھڑے ہو کر ادا کرنا) دیا گیا۔ اور میں سلام دیا گیا جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور میں آمین دیا گیا اس سے پہلے سوائے ہارون (علیہ السلام) کے کسی کو یہ تحفہ نہیں دیا گیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور حکیم ترمذی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین چیزیں عطا فرمائیں اور ان سے پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔ سلام جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور فرشتوں کی طرح صف باندھنا اور آمین کہنا۔ مگر یہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی آمین کی سعادت دی گئی تھی۔ (15) الطبرانی نے الدعا میں ابن عدی اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین رب العالمین کی مہر ہے اس کے مؤمن بندوں کی زبان پر۔ (16) امام جو یبر نے اپنی تفسیر میں ضحاک کے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آمین کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا اے میرے رب قبول فرما۔ (17) ثعلبی نے کلبی کے طریق سے ابن صالح سے ابن عباس سے اس کی مثل روایت کی ہے۔ وکیع اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ہلال بن سیاف اور مجاہد (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ آمین اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (18) امام ابن شیبہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو اس کے جواب میں لفظ آیت ” اللہم اغفرلی “ اور آمین کہنا مستحب ہے۔ (19) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے۔ تو اس کے بعد کہو : اللہم انی اسئلک الجنہ واعوذبک من النار ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آپ سے دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں۔ (20) امام ابن ابی شیبہ ربیع بن خیثم سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو تم جو چاہو دعا سے مدد حاصل کرو۔ (21) امام ابن شاہین نے السنہ میں اسماعیل بن مسلم سے روایت کیا ہے کہ ابی بن کعب ؓ کے مصحف میں لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین آمین بسم اللہ “ تھا پھر اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ؓ سے آمین کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے اللہم استجب۔ اے اللہ تو ہماری اس دعا کو قبول فرما۔ (22) دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا پھر فاتحۃ الکتاب کو پڑھا پھر کہا آمین تو آسمان پر کوئی فرشتہ مقرب باقی نہیں رہتا جو اس شخص کے لئے استغفار نہ کرتاہو۔ الحمدللہ سورة فاتحہ مکمل ہوئی