21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsبیان القرآن

Ayahs 21:81–83

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کا زور کی ہوا کو تابع بنادیا تھا کہ وہ ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے (مراد ملک شام ہے) (ف 1) اور ہم ہر چیز کو جانتے ہیں۔

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور بعضے بعضے شیطان ایسے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لیے (دریاؤں میں) غوطہ لگاتے تھے (تاکہ موتی نکال کردیں) اور وہ اور کام بھی اس کے علاوہ کیا کرتے تھے اور ان کے سنبھالنے والے ہم تھے۔

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیئے جبکہ انہوں نے (بعد مبتلا ہونے مرض شدید کے) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں۔

ف 1۔ یعنی جب ملک شام سے کہیں جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بلا استدعا) ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ (گنتی میں) انکے برابر اور بھی اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور عبادت کرنے والوں کے لیے یادگار رہنے کے سبب۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی عابدین یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابرو نکو کیسی جزا دیتے ہیں۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیئے (ف 3) (یہ) سب (احکام الہٰیہ پر) ثابت قدم رہنے والے لوگوں سے تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت (خاصہ) میں داخل کرلیا تھا بیشک یہ کمال صلاحیت والوں سے تھے۔

ف 3۔ حضرت ذوالکفل کے باب میں اختلاف ہے کہ آیا یہ نبی تھے یا ایک صالح شخص تھے، سیاق قرآن سے ان کا نبی ہونا مظنون ہوتا ہے۔
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے (پیغمبر یعنی یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیئے جب وہ (اپنی قوم سے) خفا ہو کر چل دیئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر (اس چلے جانے میں) کوئی داروگیر نہ کریں گے پس انہوں نے (ف 4) اندھیروں میں پکارا آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ (سب نقائص) سے پاک ہیں میں بیشک قصور وار ہوں۔ (ف 5)

ف 4۔ پس چونکہ اس افرار کو انہوں نے اجتہاد جائز سمجھا، اس لئے انتظار نص اور وحی کا نہ کیا، لیکن چونکہ امید وحی کا انتظار انبیاء کے لئے مناسب ہے اس ترک مناسب پر ان کو یہ ابتلا پیش آیا، راہ میں ان کو کوئی دریا ملا، اور وہاں کشتی میں سوار ہوئے کشتی چلتے چلتے رک گئی، یونس (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ میرا یہ فرار بلا اذن ناپسند ہوا، اس کی وجہ سے کشتی رکی، کشتی والوں سے فرمایا کہ مجھ کو دریا میں ڈال دو ، وہ راضی نہ ہوئے، غرض قرعہ پر اتفاق ہوا تب بھی ان ہی کا نام نکلا، آخر ان کو دریا میں ڈال دیا اور خدا کے حکم سے ان کو ایک مچھلی نگل گئی۔ 5۔ ایک اندھیرا شکم ماہی کا دوسرا قعر دریا کا، پھر دونوں گہرے اندہیرے بجائے بہت سے اندھیروں کے یا تیسرا اندھیرا رات کا غرض ان تاریکیوں میں دعا کی۔
Ayahs 21:88–89

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اس گٹھن سے نجات دی اور ہم اسی طرح (اور) ایمان والوں کو (بھی کرب و بلا سے) نجات دیا کرتے ہیں۔ (ف 6)

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) کا ذکر کیجیئے جب کہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھ کو لا وارث مت رکھیو (یعنی مجھ کو فرزند دیجیئے کہ میرا وارث ہو) اور سب وارثوں سے بہتر آپ ہی ہیں۔

ف 6۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے اس واقعہ میں کوئی امر کی مخالفت نہیں ہوئی، صرف اجتہاد میں غلطی ہوئی، جو امت کے لئے عفو ہے مگر انبیاء کی تربیت و تہذیب زائد مقصود ہوتی ہے، اس لئے یہ ابتلاء ہوا۔
Ayahs 21:90–96

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

سو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ہم نے ان کو یحییٰ فرزند عطا فرمایا اور ان کی خاطر سے ان کی بی بی کو (جو کہ بانجھ تھیں) اولاد کے قابل کردیا یہ سب نیک کاموں میں دوڑتے تھے امید و بیم کے ساتھ ہمای عبادت کرتے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے۔ (ف 7)

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان بی بی (مریم (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیئے جنہوں نے اپنے ناموس کو بچایا پھر ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند (عیسیٰ (علیہ السلام) کو دنیا جہان والوں کے لیے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی بنادی۔

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ ہے تمہارا طریقہ کہ (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) وہ ایک ہی طریقہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں سو تم میری عبادت کیا کرو۔

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا (سو اس کی سزا دیکھ لیں گے کیوں کہ) سب ہمارے پاس آنے والے ہیں۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

سو جو شخص نیک کام کرتا ہوگا اور وہ ایمان والا بھی ہوگا سو اس کی محنت اکارت جانے والی نہیں اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں۔

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور ہم جن بستیوں کو (عذاب سے یا موت سے) فنا کرچکے ہیں ان کے لیے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ ( دنیا میں) پھر لوٹ کر آویں۔

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جاویں گے اور وہ (غایت کثرت کی وجہ سے) ہر بلندی سے ( جیسے پہاڑ اور ٹیلہ) نکلتے (معلوم) ہوں گے۔

ف 7۔ جس سے ان حضرات کی کمال عبودیت اور ہماری کمال معبودیت ثابت ہوتی ہے۔
Ayahs 21:97–101

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (وہ رجوع و بعث کا) سچا وعدہ نزدیک آن پہنچا ہوگا تو بس پھر ایک دم سے قصہ ہوگا کہ منکروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جاویں گی اور یوں کہتے نظر آویں گے) کہ ہائے کمبختی ہماری ہم اس ( امر) سے غفلت میں تھے بلکہ (واقعی یہ ہے کہ) ہم ہی قصور وار تھے۔ (ف 1)

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بلاشبہ تم (اے مشرکین) اور جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوج رہے ہو سب جہنم میں جھونکے جاؤ گے (اور) تم سب اس میں داخل ہو گے۔

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

(اور یہ بات سمجھنے کی ہے کہ) اگر یہ (تمہارے معبود) واقعی معبود ہوتے تو اس (جہنم) میں کیوں جاتے اور سب (عابدین و معبودین) اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

(اور) ان کا اس میں شور ہوگا اور وہاں (اپنے غل شور میں کسی کی) کوئی بات سنیں گے بھی نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

(یہ تو دوزخیوں کا حال ہوا اور) جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ اس (دوزخ) سے (اس قدر) دور کیے جاوینگے (کہ) ۔

ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع کے قائل ہوجاویں گے۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے (ف 2) اور وہ لوگ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

ف 2۔ کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ میں بون بعید کا ہوگا۔
Ayahs 21:103–104

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

(اور) انکو بڑی گھبراہٹ (یعنی نفحہ ثانیہ سے زندہ ہونے کی) غم میں نہ ڈالے گی اور (قبر سے نکلتے ہی) فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے کہ) یہ تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (ف 3)

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

وہ دن (بھی) یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم (نفخہٴ اولیٰ کے وقت) آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے (اور) ہم نے جس طرح اول بار پیدا کرنے کے وقت ہر چیز کی ابتداء کی تھی اسی طرح (آسانی سے) اس کو دوبارہ پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے۔

ف 3۔ کہ قیامت آوے گی اور نیک لوگوں کو جزاء نیک ملے گی، پس یہ تعظیم اور بشارت ان کے لئے زیادہ مسرت کا موجب ہوجاوے گی۔
Ayahs 21:105–106

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم ضرور اس کو پورا کریں گے اور ہم سب (آسمانی) کتابوں میں لوح محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔ (ف 1)

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بلا شبہ اس (قرآن) میں (ہدایت کا) کافی مضمون ہے ان لوگوں کے لیے جو بندگی کرنے والے ہیں۔

ف 1۔ یہاں تک سورت کے بڑے حصہ میں توحید و نبوت کی تحقیق اور منکرین کے لئے وعید مذکور ہوئی ہے آے ان مضامین مفیدہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان مضامین کی صراحة مدح اور اشارة ان مضامین کے لانے والے کی بھی مدح اور بطور تلخیص سابق کے توحید اور اسلام کی طرف جس کے لوازم میں سے تصدیق نبوت بھی ہے دعوت مکررہ اور بطور تلخیص ہی کے انکار پر وعید مکرر اور وعید کے متعلق اور مناسب مضامین ارشاد ہیں۔
Ayahs 21:107–111

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے (ایسے مضامین نافعہ دے کر) آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں (یعنی مکلفین) پر مہربانی کرنے کے لیے۔ (ف 2)

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

آپ (بطور خلاصہ کے مکرر) فرما دیجیئے کہ میرے پاس تو صرف یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (حقیقی) ایک ہی معبود ہے اب تم بھی مانتے ہو (یا نہیں یعنی اب تو مان لو) ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر (بھی) اگر یہ لوگ سرتابی کریں تو (بطور تمام حجت کے) آپ فرما دیجیئے کہ میں تم کو نہایت صاف اطلاع دے چکا ہوں اور میں یہ جانتا نہیں کہ جس (سزا) کا تم سے وعدہوا ہے آیا وہ قریب ہے یا دور ہے البتہ وقوع ضرور ہوگا۔

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

کیونکہ اللہ کو (تمہاری) پکار کر کہی ہوئی بات کی خبر ہے اور جو بات تم دل میں رکھتے ہو اس کی بھی خبر ہے۔

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں (بالتعیین) نہیں جانتا (کہ کیا مصلحت ہے) شاید وہ (تاخیر عذاب) تمہارے لیے (صورةً ) امتحان ہو اور ایک وقت یعنی موت تک (زندگی سے) فائدہ پہنچانا ہو

ف 2۔ وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں۔ اور جو قبول نہ کرے یہ اس کا قصور ہے، اس مضمون کی صحت میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

پیغمبر نے (باذن الہیٰ ) کہا کہ اے میرے رب میرا فیصلہ کر دیجیئے (ف 3) حق کے موافق اور (پیغمبر نے کفار سے یہ فرمایا کہ) ہمارا رب ہم پر بڑا مہربان ہے جس سے ان باتوں کے مقابلہ میں مدد چاہی جاتی ہے جو تم بنایا کرتے ہو۔

ف 3۔ مطلب یہ کہ عملی فیصلہ کردیجئے یعنی مسلمانوں کے جس غلبہ کی پیشنگوئی ہے اس کو واقع کردیجئے، تاکہ حجت اور زیادہ تام ہوجاوے۔