21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsبیان القرآن

Ayahs 21:41–42

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی (کفار کی طرف سے) تمسخر کیا گیا تھا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔ (ف 1)

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

(اور یہ بھی ان سے) کہہ دیجیئے کہ وہ کون ہے جو رات میں اور دن میں رحمٰن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کرتا ہو بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے روگردان (ہی) ہیں۔

ف 1۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ کفر موجب عذاب ہے، پس اگر دنیا میں وقوع نہ ہو تو آخرت میں ہوگا۔
Ayahs 21:43–46

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہمارے سوا اور ایسے معبود ہیں کہ (عذاب مذکور سے) انکی حفاظت کرلیتے ہوں اور خود اپنی حفاظت کی قدرت نہیں رکھتے (ف 2) اور نہ ہمارے مقابلے میں کوئی اور ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ داداؤں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر (اسی حالت میں) ایک عرصہ دراز گرر گیا کیا ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ ہم (ان کی) زمین کو (بذریعہ فتوحات اسلامیہ کے) ہر چہار طرف سے برابر گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ غالب آوینگے۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تم کو ڈراتا ہوں اور یہ بہرے جس وقت ڈرائے جاتے ہیں سنتے ہی نہیں۔

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور (ان کی عالی ہمتی کی کیفیت یہ ہے کہ) اگر ان کو آپ کے رب کے عذاب کا ایک جھونکا بھی ذرا لگ جاوے تو یوں کہنے لگیں کہ ہائے ہماری کم بختی واقعی ہم خطا وار تھے۔

ف 2۔ مثلا ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے تو مدافعت بھی نہیں کرسکتے۔
Ayahs 21:47–50

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور (وہاں) قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے (اور سب کے اعمال کا وزن کریں گے) (ف 3) سو کسی پر اصلاً ظلم نہ ہوگا اور اگر (کسی کا) عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اس کو (وہاں) حاضر کردیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ (ف 4)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے (آپ کے قبل) موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو ایک فیصلہ کی اور روشنی کی اور متقیوں کے لیے نصیحت کی چیز (یعنی توراة) عطا فرمائی تھی۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو (متقی) اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ لوگ قیامت سے (بھی) ڈرتے ہیں۔

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ (قرآن بھی) ایک کثیر الفائدہ نصیحت (کی کتاب) ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے تو کیا پھر بھی تم اس سے منکر ہو۔

ف 3۔ موازین کا جمع لانا یا تو اس وجہ سے ہے کہ ہر شخص کے لئے جدا میزان عمل ہو، یا چونکہ ایک ہی میزن میں بہت سے لوگوں کے اعمال کا وزن ہوگا، اس لئے وہ ایک قائم مقام متعددہ کے ہوگی۔ 4۔ شروع سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت کا زیادہ اور اس کے ضمن میں اس کے تعلق سے مخالفین رسل کا آخرت میں عموما معذرت ہونا اور بعض کا دنیا میں بھی ہلاک ہونا مذکور تھا، آگے بعض حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے قصص بیان فرمانے سے ان ہی مضامین کی تائید فرماتے ہیں، رسالت کی تائید تو ان کے رسول ہونے سے ظاہر ہے، اور توحید کی تائید ان کے داعی الی التوحید ہونے سے، اور تعذیب کی تائید ان کی بعض امم کی ہلاکت سے۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور ہم نے (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو (ف 1) خوب جانتے تھے۔ (ف 2)

ف 1۔ یعنی ان کے کمالات علمیہ و عملیہ کو۔ 2۔ یعنی وہ بڑے کامل تھے بالقوة و استعداد قبل عطائے شد یا بالفعل بعد عطائے رشد۔
Ayahs 21:52–56

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

(ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے فرمایا کہ یہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو۔ (ف 3)

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے دیکھا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان کو لائق عبادت سمجھنے میں) صریح غلطی میں ہو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ کیا تم (اپنے نزدیک) سچی بات (سمجھ کر) ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو یا دل لگی کر رہے ہو۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نہیں (دل لگی نہیں) بلکہ تمہارا رب (حقیقی جو لائق عبادت ہے) وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا (بھی) کیا اور میں اس (دعویٰ ) پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔

ف 3۔ یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم میں تمہارے ان بتوں کی گت بناؤں گا جب تم (ان کے پاس سے) (ف 4) چلے جاؤ گے تو (ان کے چلے جانے کے بعد) ۔

ف 4۔ تاکہ ان کا عاجز اور درماندہ ہونا مشاہدہ میں آجائے۔
Ayahs 21:58–62

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

انہوں نے ان بتوں کو (تبر وغیرہ سے) ٹکڑے ٹکڑے کردیا بجز ان کے ایک بڑے بت کے شاید وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کر طرف (دریافت کرنے کے لیے) رجوع کریں۔ (ف 5)

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ ہمارے بتوں کے ساتھ کس نے کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے بڑا ہی غضب کیا ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

بعضوں نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان آدمی کو جس کو ابراہیم (علیہ السلام) کہہ کر پکارا جاتا ہے ان بتوں کا (برائی سے) تذکرہ کرتے سنا ہے۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

(پھر) وہ لوگ بولے کہ (جب یہ بات ہے) تو اچھا اس کو سب آدمیوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ وہ لوگ (اس اقرار کے) گواہ ہوجاویں۔

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(غرض وہ سب کے روبرو آئے) ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے بتوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے۔

ف 5۔ بڑا بت جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظروں میں معظم ہونے میں بڑا تھا اس کو چھوڑ دیا، جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ابہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کی خبر نہیں لی، پھر جب وہ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس صنم کبیر پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا اعتراف بھی ہوجاوے گا۔ اور حجت اور لازم تر ہوجاوے گی، پس انتہاء یہ الزام و اضمام ہے، اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے۔ غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا۔
Ayahs 21:63–68

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے (جواب میں فرمایا) کہ نہیں بلکہ ان کے سب سے بڑے (گرو) نے کی سو ان (ہی) سے پوچھ لو (نا) اگر یہ بولتے ہوں۔ (ف 6)

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

اس پر وہ لوگ اپنے جی میں سوچے پھر (آپس میں) کہنے لگے کہ حقیقت میں تم ہی لوگ ناحق پر ہو (کہ جو ایسا عاجز ہو وہ کیا معبود ہوگا) ۔

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر (شرمندگی کے مارے) اپنے سروں کو جھکا لیا (اور یہ بولے کہ) اے ابراہیم (علیہ السلام) تم کو یہ معلوم ہی ہے کہ یہ بت (کچھ) بولتے نہیں۔

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو کیا خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو تم کو نہ کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ کچھ نقصان پہنچا سکے۔

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر (کہ باوجود وضوح حق کے باطل پر مصر ہو) اور ان پر جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(آپس میں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ان کو آگ میں جلاؤ اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلا لو اگر تم کو کچھ کرنا ہے۔

ف 6۔ اگر یہ شق فاعلیت و ناطقیت کی باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا، پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ۔
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

جب انہوں نے متفق ہو کر آگ میں ڈال دیا تو (اس وقت) ہم نے (آگ کو) حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بےگزند ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی نہ سوزاں رہ گر گزند حرارت کا پہنچے اور نہ بہت یخ ہوجا کہ گزند برودت کا پہنچے، بلکہ مثل ہوائے معتدل کے بن جا، چناچہ ایسا ہوگیا۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے ان کے ساتھ برائی کرنا چاہا تھا سو ہم نے ان ہی لوگوں کو ناکام بنادیا۔ (ف 2)

ف 2۔ کہ ان کا مقصود حاصل نہ ہوا، بلکہ اور بالعکس حقانیت ابراہیم (علیہ السلام) کا زیادہ ثبوت ہوگیا۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور (ان کے برادر زادے) لوط (علیہ السلام) کو ایسے ملک (یعنی شام) کی طرف بھیج کر بچا لیا جس میں ہم نے دنیا جہاں والوں کے واسطے (خیر و برکت رکھی) ۔ (ف 3)

ف 3۔ دنیوی بھی کہ فواکہ وجوب بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی اس سے منتفع ہوسکتے ہین، اور دینی بھی کہ بکثرت وہاں انبیاء (علیہم السلام) ہوئے جن کے شرائع کی برکت دور دور عالم میں پھیلی، یعنی انہوں نے ملک شام کی طرف باذن الہی ہجرت فرمائی۔
Ayahs 21:72–75

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور (ہجرت کے بعد) ہم نے ان کو اسحاق (علیہ السلام) (بیٹا) اور یعقوب (علیہ السلام) (پوتا) عطا کیا اور ہم نے ان سب کو (اعلیٰ درجہ کا) نیک کیا۔ (ف 4)

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو مقتدا بنایا کہ ہمارے حکم سے (خلق کو) ہدایت کیا کرتے تھے اور ہم نے ان کے پاس نیک کاموں کے کرنے کا اور (خصوصاً ) نماز کی پابندی کا اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم بھیجا اور وہ (حضرات) ہماری عبادت (خوب) کیا کرتے تھے۔

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) کو ہم نے حکمت اور علم (جو شان انبیاء کے مناسب ہوتا ہے) عطا فرمایا اور ہم نے ان کو اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے کام کیا کرتے تھے بلاشبہ وہ لوگ بڑے بدذات بدکار تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کیا (کیونکہ) بلاشبہ وہ بڑے نیکوں میں تھے۔

ف 4۔ اعلی درجہ کی نیکی کا مصداق عصمت ہے جو بشر میں خواص نبوت سے ہے، پس مراد یہ ہے کہ ان سب کو نبی بنایا۔
Ayahs 21:76–78

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) (کے قصہ) کا تذکرہ کیجیئے جب کہ اس زمانہ (ابراہیمی) سے (بھی) پہلے انہوں نے دعا کی سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اور ان کے تابعین کو بڑے بھاری غم سے نجات دی۔ (ف 5)

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور (نجات اس طرح دی کہ) ہم نے ایسے لوگوں سے ان کا بدلہ لیا جنہوں نے ہمارے حکموں کو (جو کہ نوح (علیہ السلام) لائے تھے) جھوٹا بتایا تھا بلا شبہ وہ لوگ بہت برے تھے اس لیے ان سب کو ہم نے غرق کردیا۔

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور (داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ) کا تذکرہ کیجیئے جب کہ دونوں کسی کھیت کے بارے میں مشورہ کرنے لگے جبکہ اس (کھیت) میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں اور اس کو چر گئیں اور ہم اس فیصلہ کو جو لوگوں کے متعلق ہوا تھا دیکھ رہے تھے۔

ف 5۔ بھاری غم جو تکذیب اور ایذا کفر کی وجہ سے ان کو پیش آیا تھا۔
Ayahs 21:79–80

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

سو ہم نے اس فیصلہ کی سمجھ سلیمان (علیہ السلام) کو دی اور یوں ہم نے دونوں کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا (ف 6) اور ہم نے داؤد کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ (ان کی تسبیح کے ساتھ) وہ تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور کرنے والے ہم تھے۔

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو زرہ (بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے (نفع کے) واسطے سکھلائی تاکہ وہ (زرہ) تم کو لڑائی (میں) ایک دوسرے کی زد سے بچائے سو تم شکر کرو گے بھی (یا نہیں) ۔

ف 6۔ صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی، داود (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوا دیں، اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا، جس میں مدعی اور مدعی علیہ کی رضا بھی شرط نہیں، مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لئے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی تراضی جانبین پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کے لئے بکریاں تو کھیت والے کو دے دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے کریں۔ جب کھیت پہلی حالت پر آجاوے تو کھیت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو دیدی جاویں، پس اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مقتضی ہو اس لئے کلا اتینا حکما و علما بڑہا دیا گیا۔