Ayahs 4:165–166آیت 165 رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط
یہاں پر ایک طرف للِنَّاسِ کا ’ ل ‘ نوٹ کیجئے اور دوسری طرف عَلَی اللّٰہِ کا عَلٰی۔ یہ دونوں حروف متضاد معانی پیدا کر رہے ہیں۔ لِلنَّاسِ کے معنی ہیں لوگوں کے حق میں حجت ‘ جبکہ عَلَی اللّٰہِ کے معنی ہیں اللہ کے خلاف حجت۔
وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔
اب آپ آخرت کے احتساب کے فلسفے کو سمجھئے۔ قیامت کے دن ہر کسی کا امتحان ہوگا اور امتحان سے پھر نتائج نکلیں گے ‘ کوئی پاس ہوگا اور کوئی فیل۔ لیکن امتحان سے پہلے کچھ پڑھایا جانا بھی ضروری ہے ‘ کسی کو جانچنے سے پہلے اسے کچھ دیا بھی جاتا ہے۔ چناچہ ہمیں دیکھنا ہے کہ قیامت کے امتحان کے لیے ہمیں کیا پڑھایا گیا ہے ؟ اس آخری جانچ پڑتال سے پہلے ہمیں کیا کچھ دیا گیا ہے ؟ قرآن مجید کے بنیادی فلسفہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمع ‘ بصر اور عقل تین بڑی چیزیں دی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر روح بھی و دیعت کی ہے اور نفس انسانی میں خیر اور شرکا علم بھی رکھا ہے۔ ان باتوں کی بنا پر انسان وحئ الٰہی کی راہنمائی کے بغیر بھی اللہ کے حضور جواب دہ accountable ہے کہ جب تمہاری فطرت میں نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی تھی تو تم بدی کی طرف کیوں گئے ؟ تو گویا اگر کوئی نبی یا رسول نہ بھی آتا ‘ کوئی کتاب نازل نہ بھی ہوتی ‘ تب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے محاسبہ ناحق نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ بنیادی چیزیں جو امتحان اور احتساب کے لیے ضروری تھیں وہ اللہ تعالیٰ انسان کو دے چکا تھا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ پھر بھی انسانوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ حجت کیا ہے ؟ بنیادی حجت تو عقل ہے جو اللہ نے ہمیں دے رکھی ہے : اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً بنی اسرائیل۔ انسانی نفس کے اندر نیکی اور بدی کی تمیز بھی ‘ ودیعت کردی گئی ہے : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰٹہَا فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ الشمس پھر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے۔ ان تمام صلاحیتوں اور اہلیتوں کی بنا پر جوابدہی ‘ accountability کا جواز برحق ہے۔ کوئی نبی آتا یا نہ آتا ‘ اللہ کی یہ حجت تمام انسانوں پر بہر حال قائم ہے۔
اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کرنے کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ یہ اضافی شے ہے کہ اللہ نے تم ہی میں سے کچھ لوگوں کو چنا ‘ جو بڑے ہی اعلیٰ کردار کے لوگ تھے۔ تم جانتے تھے کہ یہ ہمارے ہاں کے بہترین لوگ ہیں ‘ ان کے دامن کردار پر کوئی داغ دھبہ نہیں ہے ‘ ان کی سیرت و اخلاق کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے تھے۔ ان کے پاس اللہ نے اپنی وحی بھیجی اور واضح طور پر بتادیا کہ انسان کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ اس طرح اس نے تمہارے لیے اس امتحان کو آسان کردیا ‘ تاکہ اب کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے ‘ کوئی یہ دلیل پیش نہ کرسکے کہ مجھے تو علم ہی نہیں تھا۔ پروردگار ! میں تو بےدین ماحول میں پیدا ہوگیا تھا ‘ وہاں سب کے سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ پروردگار ! میں تو اپنی دو وقت کی روٹی کے دھندے میں ہی ایسا مصروف رہا کہ مجھے کبھی ہوش ہی نہیں آیا کہ دین و ایمان اور اللہ و آخرت کے بارے میں سوچتا۔ لیکن جب رسول علیہ السلام آجاتے ہیں اور رسولوں کے آنے کے بعد حق کھل کر سامنے آجاتا ہے ‘ حق و باطل کے درمیان امتیاز بالکل واضح طور پر قائم ہوجاتا ہے تو پھر کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے محاسبہ کے مقابلے میں پیش کرنے کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہتی۔ تو یہ ہے اتمام حجت کا فلسفہ اور طریقہ اللہ کی طرف سے۔ رسول علیہ السلام اس کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں ؟ کسی کو زبردستی تو ہدایت پر نہیں لاسکتے۔ ہاں جن کے اندر احساس جاگ جائے گا وہ رسول علیہ السلام کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ ان سے فائدہ اٹھائیں گے ‘ سیدھے راستے پر چلیں گے۔ ان کے لیے اللہ کے رسول مبشرہوں گے ‘ اللہ کے فضل اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دینے والے : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ ۔ 1 ور جو لوگ اس کے بعد بھی غلط راستوں پر چلتے رہیں گے ‘ تعصبّ میں ‘ ِ ضد اور ہٹ دھرمی میں ‘ مفادات کے لالچ میں ‘ اپنی چودھراہٹیں قائم رکھنے کے لالچ میں ‘ ان کے لیے رسول علیہ السلام نذیر ہوں گے۔ ان کو خبر دار کریں گے کہ اب تمہارے لیے بد ترین انجام کے طور پر جہنم تیار ہے۔ تو رسولوں علیہ السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد یہی ہے ‘ یعنی تبشیر اور انذار۔
اس ساری وضاحت کے بعد اب دوبارہ آیت کے الفاظ کو سامنے رکھیے : رُُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ رسول بھیجے گئے بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر یہ تبشیر اور انذار کس لیے ؟ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط تاکہ باقی نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ‘ کوئی عذر ‘ کوئی بہانہ ‘ رسولوں کے آنے کے بعد۔ وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ حکیم ہے۔ وہ عزیز ہے ‘ غالب ہے ‘ زبردست ہے ‘ بغیر رسولوں کے بھی محاسبہ کرسکتا ہے ‘ اس کا اختیار مطلق ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس نے محاسبۂ اخروی کے لیے یہ مبنی بر حکمت نظام بنایا ہے۔ اس ضمن میں ایک بات اور نوٹ کرلیجئے کہ رسالت کا ایک تکمیلی مقصد بھی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر کامل ہوا ‘ اور وہ ہے روئے ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کرنا۔ آپ ﷺ نے دعوت کا آغاز اسی تبشیر اور انذار ہی سے فرمایا ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب میں ارشاد ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا بحیثیت رسول ﷺ یہ آپ ﷺ کی رسالت کے بنیادی مقصد کا اظہار ہے ‘ لیکن اس سے بلند تر درجے میں آپ ﷺ کی رسالت کی تکمیلی حیثیت کا اظہار سورة التوبہ آیت 33 ‘ سورة الفتح آیت 28 اور سورة الصف آیت 9 میں ایک جیسے الفاظ میں ہوا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الہدیٰ قرآن حکیم اور دین حق دے کر تاکہ وہ اسے غالب کر دے پورے دین پر۔ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ آپ ﷺ کی امتیازی شان ہے۔ میری کتاب نبی اکرم ﷺ کا مقصد بعثت میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
Ayahs 4:167–168آیت 167 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا ۔
اب آخری رسول ﷺ کے آنے کے بعد بھی جو لوگ کفر پر اڑے رہے ‘ اللہ کے راستے سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے ‘ وہ راہ حق سے بہک گئے ‘ بھٹک گئے ‘ اور اپنے بھٹکنے میں ‘ بہکنے میں ‘ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔
Ayah 4:169آیت 169 اِلاَّ طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
اب ذرا اس آیت کا تقابل کیجیے آیت 147 کے ساتھ مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ۔۔ اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا۔۔ ؟ یقیناً اللہ ایذا پسند sadist نہیں ہے ‘ اسے لوگوں کو عذاب دے کر خوشی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ اس کا ضابطہ اور قانون ہے ‘ اسی پر اس نے دنیا بنائی ہے ‘ اور اپنے اسی ضابطے اور قانون کے عین مطابق وہ مستحقین کو جزا و سزا دے گا۔ یہ اس پر کوئی بھاری گزرنے والی بات نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی مخلوق کو سزا دے۔ بعض ملنگ قسم کے صوفی اس طرح کی باتیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ بڑا رحیم ہے ‘ کیا وہ اپنی ہی مخلوق کو جہنم میں جھونک دے گا ؟ یہ تو ایسے ہی ڈراوے کے لیے ‘ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے عذاب اور سزا کی باتیں کی گئی ہیں۔ جیسے باپ بچوں کو ڈانٹتا ہے میں تیری ہڈیاں توڑ دوں گا ‘ ماں کہتی ہے میں تیرا قیمہ کر دوں گی۔ تو کیا وہ سچ مچ اپنے بچوں کا قیمہ کر دے گی ؟ لہٰذا یہ تو صرف ڈراوا ہے ‘ حقیقت میں ایسا نہیں ہوگا ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے خیالات و نظریات گمراہ کن ہیں۔ ماں کے لیے تو اپنے بچے کو بڑے سے بڑے قصور پر بھی آگ میں ڈالنا ممکن نہیں ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا 4 اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے ‘ بہت ہلکی بات ہے۔
Ayah 4:170اب اگلی آیات ایک طرح سے اس سورة کا حرف آخر ہیں۔
آیت 170 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط
بلکہ آخری الفاظ کا صحیح تر ترجمہ یہ ہوگا کہ ایمان لے آؤ ‘ اسی میں تمہاری خیریت ہے۔ اس آیت کے ایک ایک لفظ میں بہت زور اور جلال ہے اور اب بات بالکل دو ٹوک انداز اور حتمی طور پر کی جا رہی ہے۔ یعنی اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی راہنمائی نہیں کی گئی ‘ ہمیں کچھ پتا نہیں تھا ‘ ہم پر بات واضح نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے آخری نبی ﷺ کے آجانے کے بعد تمہارا یہ بہانہ اب ختم ہوگیا۔
وَاِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَکَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
آگے اہل کتاب سے جو خطاب ہے اس کے مخاطب خاص طور پر عیسائی ہیں ‘ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی عقیدت و محبت میں حد سے گزر گئے تھے۔
Ayah 4:171آیت 171 یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط۔
تم آپس کے معاملات میں تو جھوٹ بولتے ہی ہو ‘ مگر اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا ‘ جھوٹ بول کر اللہ پر اسے تھوپنا کہ اللہ کا یہ حکم ہے ‘ اللہ نے یوں کہا ہے ‘ یہ تو وہی بات ہوئی : بازی بازی با ریش با با ہم بازی !
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ
وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ایک رسول علیہ السلام تھے اور بس ! اُلوہیّت میں ان کا کوئی حصّہ نہیں ہے ‘ وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں۔
وَکَلِمَتُہٗج اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ ز
یعنی حضرت مریم علیہ السلام کے رحم میں جو حمل ہوا تھا وہ اللہ کے کلمۂ کُن کے طفیل ہوا۔ بچے کی پیدائش کے طبعی عمل میں ایک حصہ باپ کا ہوتا ہے اور ایک ماں کا۔ اب حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت میں ماں کا حصہ تو پورا موجود ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام کو حمل ہوا ‘ نو مہینے آپ علیہ السلام رحم میں رہے ‘ لیکن یہاں باپ والا حصہ بالکل نہیں ہے اور باپ کے بغیر ہی آپ علیہ السلام کی پیدائش ممکن ہوئی۔ ایسے معاملات میں جہاں اللہ کی مشیّت سے ایک لگے بندھے طبعی عمل میں سے اگر کوئی کڑی اپنی جگہ سے ہٹائی جاتی ہے تو وہاں پر اللہ کا مخصوص امر کلمۂکُن کی صورت میں کفایت کرتا ہے۔ یہاں پر اللہ کے کلمہ کا یہی مفہوم ہے۔
جہاں تک حضرت مسیح علیہ السلام کو رُوْحٌ مِّنْہُقرار دینے کا تعلق ہے تو اگرچہ سب انسانوں کی روح اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ لیکن تمام روحیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض روحوں کے بڑے بڑے اونچے مراتب ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں روح محمدی ﷺ کی شان اور عظمت کیا ہوگی ! روح محمدی ﷺ کو عام طور پر ہمارے علماء نور محمدی ﷺ کہتے ہیں۔ اس لیے کہ روح ایک نورانی شے ہے۔ ملائکہ بھی نور سے پیدا ہوئے ہیں اور انسانی ارواح بھی نور سے پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن سب انسانوں کی ارواح برابر نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کی روح کی اپنی ایک شان ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کی اپنی ایک شان ہے۔
فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ قف ولا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ ط اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط
یہ مت کہو کہ الوہیت تین میں ہے۔ ایک میں تین اور تین میں ایک کا عقیدہ مت گھڑو۔
Ayah 4:172آیت 172 لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَلاَ الْمَلآءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط
مسیح علیہ السلام کو تو اللہ کا بندہ ہونے میں اپنی شان محسوس ہوگی۔ جیسے ہم بھی حضور ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں : وَنَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ تو عبدیت کی شان تو بہت بلند وبالا ہے ‘ رسالت سے بھی اعلیٰ اور ارفع۔ یہ ایک علیحدہ مضمون ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ چناچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے یہ کوئی عار کی بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔
Ayah 4:173آیت 173 فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ج۔
ایسے لوگوں کو ان کے اجر کے علاوہ بونس بھی ملے گا۔ جیسے آپ کسی کام کرنے والے کو اچھا کام کرنے پر اجرت کے علاوہ انعام tip بھی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂ فضل سے انہیں ان کے مقررہ اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔
Ayah 4:174آیت 174 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ
یہ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن اور محمد ﷺ مل کر برہان ہوں گے۔ تعارف قرآن کے دوران ذکر ہوچکا ہے کہ کتاب اور رسول ﷺ مل کر بیّنہ بنتے ہیں ‘ جیسا کہ سورة البیّنہ آیات 1 تا 3 میں ارشاد ہوا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی بیّنہکو برہان کہا گیا ہے۔
یہاں چونکہ نور کے ساتھ لفظ انزال آیا ہے اس لیے اس سے مراد لازماً قرآن مجید ہی ہے۔
Ayah 4:175آیت 175 فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَاعْتَصَمُوْا بِہٖ
یکسو ہوجائیں گے ‘ خالص اللہ والے بن جائیں گے ‘ مذبذب نہیں رہیں گے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر ‘ بلکہ پوری طرح سے یکسو ہو کر اللہ کے دامن سے وابستہ ہوجائیں گے۔
فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍلاوَّیَہْدِیْہِمْ اِلَیْہِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ۔
یَہْدِیْہِمْ اِلَیْہِ یعنی اپنی طرف ہدایت دے گا۔ انہیں سیدھے راستے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے گا اور سہج سہج ‘ رفتہ رفتہ انہیں اپنے خاص فضل و کرم اور جوار رحمت میں لے آئے گا۔
Ayah 4:176اس آخری آیت میں پھر ایک استفتاء ہے۔ آیت 12 میں قانون وراثت کے ضمن میں ایک لفظ آیا تھا کلالہ ‘ یعنی وہ مرد یا عورت جس کے نہ تو والدین زندہ ہوں اور نہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اگر اس کے بہن بھائی ہوں تو اس کی وراثت کا حکم یہ ہے۔ لیکن وہ حکم لوگوں پر واضح نہیں ہوسکا تھا۔ لہٰذا یہاں اس حکم کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ آیت 12 کے حکم کو صرف اخیافی بہن بھائیوں کے ساتھ مخصوص مان لینے کے بعد اس توضیحی حکم میں کلالہ کی وراثت کا ہر پہلو واضح ہوجاتا ہے۔
آیت 176 یَسْتَفْتُوْنَکَط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْْکَلٰلَۃِ ط اِنِ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٓٗ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَج
ایسی صورت میں اس کی بہن ایسے ہی ہے جیسے ایک بیٹی ہو تو اسے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔
وَہُوَ یَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ ط۔
یعنی اگر کلالہ عورت تھی جس کی کوئی اولاد نہیں ‘ کوئی والدین نہیں تو اس کا وارث اس کا بھائی بن جائے گا ‘ اس کی پوری وراثت اس کے بھائی کو چلی جائے گی۔
فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ط وَاِنْ کَانُوْٓا اِخْوَۃً رِّجَالاً وَّنِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط
یعنی بھائی کو بہن سے دو گنا ملے گا۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ آیت 12 میں جو حکم دیا گیا تھا وہ اخیافی بہن بھائیوں کے بارے میں تھا۔ یعنی ایسے بہن بھائی جن کی ماں ایک ہو اور باپ علیحدہ علیحدہ ہوں۔ اس زمانے کے عرب معاشرے میں تعدّ دازواج کے عام رواج کی وجہ سے ایسے مسائل معمولات کا حصہ تھے۔ باقی عینی یا علاتی بہن بھائیوں جن کے ماں اور باپ ایک ہی ہوں یا مائیں الگ الگ ہوں اور باپ ایک ہی ہو کا وہی عام قانون ہوگا جو بیٹے اور بیٹی کا ہے۔ جس نسبت سے بیٹے اور بیٹی میں وراثت تقسیم ہوتی ہے ایسے ہی ان بہن بھائیوں میں ہوگی۔
یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْاط واللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔
تعارف قرآن کے دوران میں نے بتایا تھا کہ قرآن حکیم کی ایک تقسیم سات احزاب یا منزلوں کی ہے۔ اس اعتبار سے سورة النساء پر پہلی منزل ختم ہوگئی ہے۔ فالحمد للّٰہ علی ذٰلک !