Ayah 4:135آیت 135 یٰٓایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ
یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔ سورة آل عمران آیت 18 میں ہم پڑھ آئے ہیں : شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَلا والْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآءِمًا م بالْقِسْطِ ط اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اور سارے فرشتے اور اہل علم بھی اس پر گواہ ہیں ‘ وہ عدل کا قائم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر عدل قائم کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے لیے وہ اپنے دین کا غلبہ چاہتا ہے ‘ اور اس عظیم کام کے لیے اس کے کارندے اور سپاہی اہل ایمان ہی ہیں۔ انہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکن اہل ایمان کو اس عظیم مقصد کے لیے کوشش کرنی ہوگی ‘ جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا ‘ ایثار کرنا ہوگا ‘ قربانیاں دینی ہوں گی ‘ تب جا کر کہیں دین غالب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے۔ معاشرے میں عدل و قسط کے قیام کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اللہ کے گواہ کہا گیا ہے۔ عدل اجتماعی Social Justice پر اسلام نے جتنا زور دیا ہے بدقسمتی سے آج ہمارا مذہبی طبقہ اتنا ہی اس سے بےبہرہ ہے۔ آج کے مسلم معاشروں میں سرے سے شعور ہی نہیں کہ عدل اجتماعی کی بھی کوئی اہمیت اسلام میں ہے۔ اسلامی قوانین اور حدود و تعزیرات کے نفاذ کی اہمیت تو سب جانتے ہیں ‘ لیکن باطل نظام کی نا انصافیاں ‘ یہ جاگیر دارانہ ظلم و ستم اور غریبوں کا استحاصل exploitation کس طرح ختم ہوگا ؟ سرمایہ دار غریبوں کا خون چوس چوس کر روز بروز موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ نظام ایک ایسی چکی ہے جو آٹا پیس پیس کر ایک ہی طرف ڈالتی جا رہی ہے ‘ جبکہ دوسری طرف محرومی ہی محرومی ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم کا نظام ہی غلط ہے ‘ ایک طرف وسائل کی ریل پیل ہے تو دوسری طرف بھوک ہی بھوک۔ ایک طرف امیر امیر تر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف غریب غریب تر ‘ اور غربت تو ایسی لعنت ہے جو انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ‘ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا 1 لہٰذا سب سے پہلے وہ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں عدل ہو ‘ انصاف ہو ‘ جس میں ضمانت دی گئی ہو کہ ہر شہری کی بنیادی ضروریات کی کفالت ہوگی۔ کفالت عامہ کی یہ ضمانت نظام خلافت میں دی جاتی ہے۔ جب نظام درست ہوجائے تو پھر حدود و تعزیرات کا نفاذ ہو۔ پھر جو کوئی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹاجائے۔ لیکن موجودہ حالات میں اگر اسلامی قوانین نافذ ہوں گے تو ان کا فائدہ الٹا لٹیروں اور حرام خوروں کو ہوگا ‘ بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ان سے مستفید ہوں گے۔ جنہوں نے حرام خوری سے دولت جمع کر رکھی ہے ‘ وہ خوب پاؤں پھیلا کر سوئیں گے۔ چور کا ہاتھ کٹے گا تو انہیں چوری کا ڈر رہے گا نہ ڈاکے کا۔ تو اصل کام نظام کا بدلنا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ شریعت نافذ نہ کی جائے ‘ بلکہ مقصد یہ ہے کہ شریعت نافذ کرنے سے پہلے نظام system کو بدلا جائے ‘ دین کا نظام قائم کیا جائے اور پھر اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے ‘ اس کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے ‘ اسے مستقل طور پر چلانے کے لیے قانون نافذ کیا جائے۔ کیونکہ قانون ہی کسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنتا ہے ‘ قانون کے صحیح نفاذ سے ہی کوئی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
یہی مضمون آگے چل کر سورة المائدہ آیت 8 میں بھی آئے گا ‘ لیکن وہاں اس کی ترتیب بدل گئی ہے۔ وہاں ترتیب اس طرح ہے : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِز۔ اس ترتیب کے بدلنے میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اللہ اور عدل و قسط گویا مترادف الفاظ ہیں۔ ایک جگہ حکم ہے گواہ بن جاؤ اللہ کے اور دوسری جگہ فرمایا : گواہ بن جاؤ قِسط کے۔ ایک جگہ فرمایا : کھڑے ہوجاؤ قسط عدل و انصاف کے لیے جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور قسط کے الفاظ جو ایک دوسرے کی جگہ آئے ہیں ‘ آپس میں مترادف ہیں۔
وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج۔
ایک مؤمن کا تعلق عدل و انصاف اور قسط کے ساتھ ہونا چاہیے ‘ رشتہ داری کے ساتھ نہیں۔ یہاں پر حرف جار کے بدلنے سے معانی میں ہونے والی تبدیلی مدّ نظر رہے۔ شہادۃ علٰیکا مطلب ہے لوگوں پر گواہی ‘ ان کے خلاف گواہی ‘ جبکہ شہادۃ لِلّٰہ کا مطلب ہے اللہ کے لیے گواہی ‘ لہٰذا شُہَدَآءَ لِلّٰہ کے معنی ہیں اللہ کے گواہ۔
اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا ق ۔
اللہ ہر کسی کا کفیل ہے ‘ تم کسی کے کفیل نہیں ہو۔ تمہیں تو فیصلہ کرنا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے ‘ تمہیں کسی کی جانب داری نہیں کرنی ‘ نہ ماں باپ کی ‘ نہ بھائی کی اور نہ خود اپنی۔ ایک چور دروازہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کا حق تو نہیں بنتا ‘ لیکن یہ غریب ہے ‘ لہٰذا اس کے حق میں فیصلہ کردیا جائے۔ فرمایا کہ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ‘ تمہیں اس کی جانب داری نہیں کرنی۔ یہ حکم ہمیں واضح طور پر ہمارا فرض یاد دلاتا ہے کہ ہم سب اللہ کے گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں۔ ہر حق بات جو اللہ کی طرف سے ہو اس کے علمبردار بن جائیں اور اس حق کو قائم کرنے کے لیے تن ‘ من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے اپنی کمر کس لیں۔
فَلاَ تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْاج وَاِنْ تَلْوٗآ اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا یعنی اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا حق گوئی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو اس کی پوری پوری خبر ہے۔ تَلوٗا کا صحیح مفہوم آج کی زبان میں ہوگا chewing your words۔ یعنی اس طریقے سے زبان کو حرکت دینا کہ بات کہنا بھی چاہتے ہیں لیکن کہہ بھی نہیں پا رہے ہیں ‘ حق بات زبان سے نکالنا نہیں چاہتے ‘ غلط بات نکل نہیں رہی ہے۔ یا پھر ویسے ہی حق بات کہنے والی صورت حال کا سامنا کرنے سے کنی کترا رہے ہیں ‘ موقع سے ہی بچ نکلنا چاہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو کہ ایسی کسی کوشش سے انسانوں کو تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے مگر اللہ تو تمہاری ہر سوچ ‘ ہر نیت اور ہر حرکت سے باخبر ہے۔
اس کے بعد جو مضمون آ رہا ہے وہ شاید اس سورة مبارکہ کا اہم ترین مضمون ہے۔
Ayah 4:136آیت 136 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط
ایمان والوں سے یہ کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ اے ایمان والو ‘ ایمان لاؤ ! چہ معنی دارد ؟ اس کا مطلب ہے کہ اقرار باللّسان والا ایمان تو تمہیں موروثی طور پر حاصل ہوچکا ہے۔ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوگئے تو وراثت میں ایمان بھی مل گیا ‘ یا یہ کہ جب پورا قبیلہ اسلام لے آیا تو اس میں پکے مسلمانوں کے ساتھ کچھ کچے مسلمان بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے بھی کہا : اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اس طرح ایمان ایک درجے اقرار با للّسان میں تو حاصل ہوگیا۔ یہ ایمان کا قانونی درجہ ہے۔ پیچھے اسی سورة آیت 94 میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ اگر کوئی شخص راستے میں ملے اور وہ اپنا اسلام ظاہر کرے تو تم اس کو یہ نہیں کہہ سکتے ہو کہ تم مؤمن نہیں ہو ‘ کیونکہ جس نے زبان سے کلمۂ شہادت ادا کرلیا تو قانونی طور پر وہ مؤمن ہے۔ لیکن کیا حقیقی ایمان یہی ہے ؟ نہیں ‘ بلکہ حقیقی ایمان ہے یقین قلبی۔ اس لیے فرمایا : اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر۔۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ہم اس آیت کا ترجمہ اس طرح کریں گے کہ اے اہل ایمان ! ایمان لاؤ اللہ پر جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے ‘ مانو رسول ﷺ کو جیسا کہ ماننے کا حق ہے۔۔ اور یہ حق اسی وقت ادا ہوگا جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان دل میں گھر کر گیا ہو۔ جیسے صحابہ کرام رض کے بارے میں سورة الحجرات آیت 7 میں فرمایا گیا : وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ اللہ نے ایمان کو تمہارے نزدیک محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزینّ کردیا ہے۔ آگے چل کر اسی سورة آیت 14 میں کچھ لوگوں کے بارے میں یوں فرمایا : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط یہ بدّ و لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ ہاں یوں کہہ سکتے ہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں ‘ لیکن ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ چناچہ اصل ایمان وہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ یہ درجہ تصدیق بالقلب کا ہے۔ یاد رہے کہ آیت زیر مطالعہ میں دراصل روئے سخن منافقین کی طرف ہے۔ وہ زبانی ایمان تو لائے تھے لیکن وہ ایمان اصل ایمان نہیں تھا ‘ اس میں دل کی تصدیق شامل نہیں تھی۔ عربی زبان سے واقفیت رکھنے والے حضرات یہ نکتہ بھی نوٹ کریں کہ قرآن کے لیے اس آیت میں لفظ نَزَّلَاور تورات کے لیے اَنْزَلَ استعمال ہوا ہے۔
وَمَنْ یَّکْفُرْ باللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا
یہ تمام آیات بہت اہم ہیں اور مفہوم کے لحاظ سے ان میں بڑی گہرائی ہے۔
Ayah 4:137آیت 137 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا
یہاں کفر سے مراد کفر حقیقی ‘ کفر معنوی ‘ کفر باطنی یعنی نفاق ہے ‘ قانونی کفر نہیں۔ کیونکہ منافقین کے ہاں کفر و ایمان کے درمیان جو بھی کشمکش اور کھینچا تانی ہو رہی تھی ‘ وہ اندر ہی اندر ہورہی تھی ‘ لیکن ظاہری طور پر تو ان لوگوں نے اسلام کا انکار نہیں کیا تھا۔
لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً
واضح رہے کہ منافقت کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی دن میں کوئی شخص منافق ہوگیا ہو۔ منافقین میں ایک تو شعوری منافق تھے ‘ جو باقاعدہ ایک فیصلہ کر کے اپنی حکمت عملی اختیار کرتے تھے ‘ جیسے ہم سورة آل عمران میں ان کی پالیسی کے بارے میں پڑھ آئے ہیں کہ صبح ایمان کا اعلان کریں گے ‘ شام کو پھر کافر ہوجائیں گے ‘ مرتد ہوجائیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ ایمان انہیں نصیب ہوا ہی نہیں اور انہیں بھی معلوم تھا کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ دل سے جانتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہی نہیں ہیں ‘ ہم تو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ شعوری منافقت ہے۔
دوسری طرف کچھ لوگ غیر شعوری منافق تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام قبول تو کیا تھا ‘ ان کے دل میں دھوکہ دینے کی نیت بھی نہیں تھی ‘ لیکن انہیں اصل صورت حال کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ پھولوں کی سیج ہے ‘ لیکن ان کی توقعات کے بالکل برعکس وہ نکلا کانٹوں والا بستر۔ اب انہیں قدم قدم پر رکاوٹ محسوس ہو رہی ہے ‘ ارادے میں پختگی نہیں ہے ‘ ایمان میں گہرائی نہیں ہے ‘ لہٰذا ان کا معاملہ ہرچہ بادا باد والا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا حال ہم سورة البقرۃ کے آغاز آیت 20 میں پڑھ آئے ہیں کہ کچھ روشنی ہوئی تو ذرا چل پڑے ‘ اندھیرا ہوا تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ کچھ ہمت کی ‘ دو چار قدم چلے ‘ پھر حالات نا موافق دیکھ کر ٹھٹک گئے ‘ رک گئے ‘ پیچھے ہٹ گئے۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان کو ملامت کرتے کہ یہ تم کیا کرتے ہو ؟ تو اب انہوں نے یہ کیا کہ جھوٹے بہانے بنانے لگے ‘ اور پھر اس سے بھی بڑھ کر جھوٹی قسمیں کھانی شروع کردیں ‘ کہ خدا کی قسم یہ مجبوری تھی ‘ اس لیے میں رک گیا تھا ‘ ایسا تو نہیں کہ میں جہاد میں جانا نہیں چاہتا تھا۔ میری بیوی مر رہی تھی ‘ اسے چھوڑ کر میں کیسے جاسکتا تھا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی جھوٹی قسمیں کھانا ایسے منافقین کا آخری درجے کا حربہ ہوتا ہے۔ تو ایمان اور کفر کا یہ معاملہ ان کے ہاں یوں ہی چلتا رہتا ہے ‘ اگرچہ اوپر ایمان باللّسان کا پردہ موجود رہتا ہے۔ جب کوئی شخص ایمان لے آیا اور اس نے ارتداد کا اعلان بھی نہیں کیا تو قانونی طور پر تو وہ مسلمان ہی رہتا ہے ‘ لیکن جہاں تک ایمان بالقلب کا تعلق ہے تو وہ مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِککی کیفیت میں ہوتا ہے اور اس کے اندر ہر وقت تذبذب اور اہتزاز oscillation کی کیفیت رہتی ہے کہ ابھی ایمان کی طرف آیا ‘ پھر کفر کی طرف گیا ‘ پھر ایمان کی طرف آیا ‘ پھر کفر کی طرف گیا۔ اس کی مثال بعینہٖ اس شخص کی سی ہے جو دریا یا تالاب کے گہرے پانی میں ڈوبتے ہوئے کبھی نیچے جا رہا ہے ‘ پھر ہاتھ پاؤں مارتا ہے تو ایک لمحے کے لیے پھر اوپر آجاتا ہے مگر اوپر ٹھہر نہیں سکتا اور فوراً نیچے چلا جاتا ہے۔ بالآخر نیچے جا کر اوپر نہیں آتا اور ڈوب جاتا ہے۔ بالکل یہی نقشہ ہے جو اس آیت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اگلی آیت میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کن لوگوں کا تذکرہ ہے۔
Ayah 4:138آیت 138 بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
یعنی واضح طور پر فرما دیا گیا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کو عذاب کی بشارت بھی دے دی گئی۔ یہ عذاب کی بشارت دینا طنزیہ انداز ہے۔
یہاں پر قبول حق کے دعویداروں کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ‘ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں ‘ ان کے لیے یہاں پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ اس لیے جو شخص اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ یکسو ہو کر آئے ‘ دل میں تحفظات reservations رکھ کر نہ آئے۔ یہاں تو قدم قدم پر آزمائشیں آئیں گی ‘ یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط البقرۃ : 155۔ یہاں تو علی الاعلان بتایا جا رہا ہے : لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًا ط آل عمران : 186۔ یہاں تو مال و جان کا نقصان اٹھانا پڑے گا ‘ ہر قسم کی تلح ونازیبا باتیں سننی پڑیں گی ‘ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتارنے پڑیں گے ‘ قدم قدم پر خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا
در رہ منزل لیلیٰ کہ خطر ہاست بسے
شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی !
Ayah 4:139آیت 139 الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط۔
ان منافقین کا وطیرہ یہ بھی تھا کہ وہ کفار کے ساتھ بھی دوستی رکھتے تھے اور اپنی عقل سے اس پالیسی پر عمل پیرا تھے کہ : Dont keep all your eggs in one basket۔ ان کا خیال تھا کہ آج اگر ہم سب تعلق ‘ دوستیاں چھوڑ کر ‘ یکسو ہو کر مسلمانوں کے ساتھ ہوگئے تو کل کا کیا پتا ؟ کیا معلوم کل حالات بدل جائیں ‘ حالات کا پلڑا کفار کی طرف جھک جائے۔ تو ایسے مشکل وقت میں پھر یہی لوگ کام آئیں گے ‘ اس لیے وہ ان سے دوستیاں رکھتے تھے۔
اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ کیا وہ ان کے قرب سے عزت چاہتے ہیں ؟
کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ کیا ان کی محفلوں میں جگہ پا کر وہ معزز بننا چاہتے ہیں ؟ جیسے آج امریکہ جانا اور صدر امریکہ سے ملنا گویا بہت بڑا اعزاز ہے ‘ جسے پانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ چند منٹ کی ایسی ملاقات کے لیے کس کس انداز سے lobbying ہوتی ہے ‘ خواہ اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو اور ان کی پالیسیاں جوں کی توں چلتی رہیں۔
فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا
لیکن وہ اللہ کو چھوڑ کر کہاں عزت ڈھونڈ رہے ہیں ؟
Ayah 4:140آیت 140 وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَاُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ز
یہ سورة الانعام کی آیت 68 کا حوالہ ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ جب تمہارے سامنے کافر لوگ اللہ کی آیات کا استہزاء کر رہے ہوں ‘ قرآن کا مذاق اڑا رہے ہوں تو تم وہاں بیٹھو نہیں ‘ وہاں سے اٹھ جاؤ۔ یہ مکیّ آیت ہے۔ چونکہ اس وقت مسلمانوں میں اتنا زور نہیں تھا کہ کفار کو ایسی حرکتوں سے زبردستی منع کرسکتے اس لیے ان کو بتایا گیا کہ ایسی محفلوں میں تم لوگ مت بیٹھو۔ اگر کسی محفل میں ایسی کوئی بات ہوجائے تو احتجاجاً وہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ ایسی باتوں سے تمہاری غیرت ایمانی میں بھی کچھ کمی آجائے یا تمہاری ایمانیِ حس کند پڑجائے۔ ہاں جب وہ لوگ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں تو پھر دوبارہ ان کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں۔ دراصل یہاں غیر مسلموں سے تعلق منقطع کرنا مقصود نہیں کیونکہ ان کو تبلیغ کرنے کے لیے ان کے پاس جانا بھی ضروری ہے۔
اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ط
اگر اس حالت میں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہوگے تو پھر تم بھی ان جیسے ہوجاؤ گے۔
Ayah 4:141آیت 141 الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بکُمْ ج
منافق تمہارے معاملہ میں گردش زمانہ کے منتظر ہیں۔ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ لوگ تیل دیکھو ‘ تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور نتیجے کے انتظار میں ہیں کہ آخری فتح کس کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کا طے شدہ منصوبہ ہے کہ دونوں طرف کچھ نہ کچھ تعلقات رکھو ‘ تاکہ وقت جیسا بھی آئے ‘ جو بھی صورت حال ہو ‘ ہم اس کے مطابق اپنے بچاؤ کی کچھ صورت بنا سکیں۔
فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوْآ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ز
اگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے مسلمان فتح حاصل کرلیتے ہیں تو وہ آجائیں گے باتیں بناتے ہوئے کہ ہم بھی تو آپ کے ساتھ تھے ‘ مسلمان تھے ‘ مال غنیمت میں سے ہمارا بھی حصہ نکالیے۔
وَاِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیبٌلا
کبھی وقتی طور پر کفار کو فتح حاصل ہوجائے ‘ جنگ میں ان کا پلڑا بھاری ہوجائے۔
قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط
یعنی ہم نے تو آپ کو مسلمانوں سے بچانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا ‘ ہم تو آپ کے لیے آڑ بنے ہوئے تھے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہو کر جنگ کرنے آئے تھے ؟ نہیں ‘ ہم تو اس لیے آئے تھے کہ وقت آنے پر مسلمانوں کے حملوں سے آپ کو بچا سکیں۔
فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً
جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سورة النساء کا بڑا حصہ منافقین سے خطاب پر مشتمل ہے ‘ اگرچہ ان سے براہ راست خطاب میں یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ نَافَقُوْا کے الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے ‘ بلکہ انہیں یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ایمان کے دعوے دار تھے ‘ ایمان کے مدّعی تھے ‘ قانونی طور پر مسلمان تھے۔ یہ ایک طویل مضمون ہے جو آئندہ آیات مبارکہ میں انجام پذیر conclude ہو رہا ہے۔
Ayah 4:142آیت 142 اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ
یہ مضمون سورة البقرہ کے دوسرے رکوع میں بھی آچکا ہے۔ مُخادَعۃ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس باب میں کسی کے مقابلے میں کوشش کے معنی شامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں دو فریقوں میں مقابلہ ہوتا ہے اور پتا نہیں ہوتا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ لہٰذا اس کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ کی طرف سے فرمایا گیا :
وَہُوَ خَادِعُہُمْ ج۔
خَادِع ثلاثی مجرد سے اسم فاعل ہے اور یہ نہایت زور دار تاکید کے لیے آتا ہے ‘ اس لیے ترجمہ میں تاکیدی الفاظ آئیں گے۔ یہاں منافقین کے لیے دھوکہ والا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جو ڈھیل دی ہوئی ہے اس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ‘ ہمارے اوپرا بھی تک کوئی آنچ نہیں آئی ‘ کوئی پکڑ نہیں ہوئی ‘ کوئی گرفت نہیں ہوئی ‘ ہم دونوں طرف سے بچے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنی اس ڈھیل کی وجہ سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اور درحقیقت یہی دھوکہ ہے جو اللہ کی طرف سے ان کو دیا جا رہا ہے۔ یعنی اللہ نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
وَاِذَا قَامُوْآ اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا
یہ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ طبیعت میں بشاشت نہیں ہے ‘ آمادگی نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا بھی ضروری ہے لہٰذا مجبوراً کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قَام فعل ہے اور اس کے معنی ہیں کھڑے ہونا ‘ جبکہ قاءم اس سے اسم فاعل ہے۔ مختلف زبانوں میں عام طور پر verb کے بعد prepositions کی تبدیلی سے معنی اور مفہوم بدل جاتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں to give ایک خاص مصدر ہے۔ اگر to give up ہو تو معنی یکسر بدل جائیں گے۔ پھر اگر یہ to give in ہو تو بالکل ہی الٹی بات ہوجائے گی۔ اسی طرح عربی میں بھی حروف جار کے تبدیل ہونے سے معانی بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر قام عَلٰی ہو ‘ جیسے الرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ میں ہے تو اس کے معنی ہوں گے حاکم ہونا ‘ سربراہ ہونا ‘ کسی کے حکم کا نافذ ہونا۔ لیکن اگر قام اِلٰی ہو جیسے آیت زیر نظر میں ہے تو اس کا مطلب ہوگا کسی شے کے لیے کھڑے ہونا ‘ کسی شے کی طرف کھڑے ہونا ‘ کوئی کام کرنے کے لیے اٹھنا ‘ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرنا۔ اس سے پہلے ہم قامَ ’ بِ ‘ کے ساتھ بھی پڑھ چکے ہیں : قَوّٰمَیْنَ بِا لْقِسْطِ اور قاءِمًا بالْقِسْطِ۔ یہاں اس کے معنی ہیں کسی شے کو قائم کرنا۔ تو آپ نے ملاحظہ کیا کہ حروف جار prepositions کی تبدیلی سے کسی فعل کے اندر کس طرح اضافی معانی پیدا ہوجاتے ہیں۔
یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ الاَّ قَلِیْلاً
یعنی ذکر الٰہی جو نماز کا اصل مقصد ہے وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ طٰہٰ وہ انہیں نصیب نہیں ہوتا۔ مگر ممکن ہے اس بےدھیانی میں کسی وقت کوئی آیت بجلی کے کڑکے کی طرح کڑک کر ان کے شعور میں کچھ نہ کچھ اثرات پیدا کر دے۔
Ayah 4:143آیت 143 مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ق۔
کفر اور ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ‘ کسی طرف بھی یکسو نہیں ہو رہے۔ اسی لیے قرآن میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کے تذکرے کے ساتھ حَنِیف کا لفظ بار بار آتا ہے۔ دین کے بارے میں اللہ کی طرف سے ترغیب یہی ہے کہ یکسو ہوجاؤ۔ دنیا میں اگر انسان کفر پر بھی یکسو ہوگا تو کم از کم اس کی دنیا تو بن جائے گی ‘ لیکن اگر دنیا اور آخرت دونوں بنانے ہیں تو پھر ایمان کے ساتھ یکسو ہونا ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ بیچ میں رہیں گے ‘ ادھر کے نہ ادھر کے ‘ ان کے لیے تو خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ کے مصداق دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا اور نقصان ہوگا۔
لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ ط۔
نہ اہل ایمان کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ اہل کفر کے ساتھ۔ نہ ان کے ساتھ یکسو ہیں اور نہ ان کے ساتھ۔
وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً ۔
یعنی جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہو ‘ اس کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔
Ayah 4:144آیت 144 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط
یہ مضمون پہلے آیت 139 میں بھی آچکا ہے۔ یہ بھی نفاق کی ایک علامت ہے کہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھائی جائیں ‘ ان کو اپنا حمایتی ‘ مددگار اور راز دار بنایا جائے۔
اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا
اس طرح تم لوگ خود ہی اپنے خلاف ایک حجت فراہم کر رہے ہو۔ جب اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہارا محاسبہ کرے گا ‘ تب اس سوال کا کیا جواب دو گے کہ تمہاری دوستیاں کافروں کے ساتھ کیوں تھیں ؟ اس طرح تمہارا یہ فعل تمہارے اپنے خلاف حجت قاطع بن جائے گا۔
اب جو آیت آرہی ہے وہ ایک اعتبار سے منافقین کے حق میں قرآن حکیم کی سخت ترین آیت ہے۔ اگرچہ بعض دوسرے اعتبارات سے ‘ بلکہ ایک خاص لطیف پہلو سے ایک آیت اس سے بھی سخت تر ہے جو سورة التوبہ میں آئے گی۔ در اصل طویل سورتوں میں سے سورة النساء اور سورة التوبہ دو ایسی سورتیں ہیں جن میں نفاق کا مضمون بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔
Ayah 4:145آیت 145 اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا۔
اگلی آیت میں ان لوگوں کے لیے ایک رعایت کا اعلان ہے۔ منافقت کا پردہ کلی طور پر تو سورة التوبہ میں چاک ہوگا۔ یعنی ان کے لیے آخری احکام سن 9 ہجری میں آئے تھے ‘ جبکہ ابھی سن 4 ہجری کے دور کی باتیں ہو رہی ہیں۔ تو ابھی ان کے لیے رعایت رکھی گئی ہے کہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔
Ayah 4:146فرمایا :
آیت 146 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا باللّٰہِ
اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ‘ ایمان کے ساتھ یکسو ہوجائیں۔ کُوْنُوْ رَبَّانِیِّیْن کے مصداق اللہ والے بن جائیں۔ شیطان سے محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں ‘ شیطان کے ایجنٹوں سے دوستیاں نہ کریں ‘ اور اپنے آپ کو دین اسلام کے ساتھ وابستہ کرلیں کہ ہرچہ بادا باد ‘ اب تو ہم اسلام کی اس کشتی پر سوار ہوگئے ہیں ‘ اگر یہ تیرتی ہے تو ہم تیریں گے ‘ اور اگر خدانخواستہ اس کے مقدر میں کوئی حادثہ ہے تو ہم بھی اس حادثے میں شامل ہوں گے۔
وَاَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ
یہ نہ ہو کہ زندگی کے کچھ حصے میں اطاعت اللہ کی ہو رہی ہے ‘ کچھ حصے میں کسی اور کی ہورہی ہے کہ کیا کریں جی ! یہ معاملہ تو رواج کا ہے ‘ برادری کو چھوڑ تو نہیں سکتے نا ! معلوم ہوا آپ نے اپنی اطاعت کے علیحدہ علیحدہ حصے کرلیے ہیں اور پھر ان میں انتخاب کرتے ہیں کہ یہ حصّہ تو برادری کی اطاعت میں جائے گا اور یہ حصہ اللہ کی اطاعت کے لیے ہوگا۔ اطاعت جب تک کل کی کل اللہ کے لیے نہ ہو ‘ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ سورة البقرۃ آیت 193 میں ہم نے پڑھا تھا : وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط یہاں پر دین پورے کا پورا اللہ کے لیے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی سطح پر دین اللہ کے لیے ہوجائے ‘ یعنی اسلامی ریاست قائم ہوجائے ‘ پورا اسلامی نظام قائم ہوجائے ‘ شریعت اسلامی کا نفاذ عمل میں آجائے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو کم از کم ایک شخص انفرادی سطح پر تو اپنی اطاعت اللہ کے لیے خالص کرلے۔ یہ گویا انفرادی توحید عملی ہے۔
فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا
یعنی ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ سچی توبہ کرنے کے بعد ان کو معافی مل سکتی ہے۔ ابھی ان کے لیے point of no return نہیں آیا ہے۔
Ayah 4:147آیت 147 مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ
اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کوئی ایذا پسند sadist ہستی نہیں ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچا کر خوشی ہوتی ہو۔ اس طرح کے رویے تو perverted قسم کے انسانوں کے ہوتے ہیں ‘ جن کی شخصیتیں مسخ ہوچکی ہوتی ہیں ‘ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ‘ دوسروں کو تکلیف اور کو فت پہنچا کر انہیں راحت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تو ایسا نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر تم سے کیا لے گا ؟
اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا
جو بندہ اس کے لیے کام کرے ‘ محنت کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے۔ اور جو کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے سب اس کے علم میں ہوتا ہے۔ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کے ہاں unaccounted رہ جائے ‘ اور اسے اس کا اجر نہ مل سکے۔
اب اس سورة کے آخری حصے میں فلسفۂ دین کے بہت اہم بنیادی نکات کی کچھ تفصیل آئے گی۔ اس ضمن میں پہلی بات تو تمدنی اور معاشرتی معاملات ہی سے متعلق ہے۔ معاشرے کے اندر کسی بری بات کا چرچا کرنا بالفعل کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ لیکن اس میں ایک استثناء رکھا گیا ہے ‘ اور وہ ہے مظلوم کا معاملہ۔ اگر مظلوم کی زبان سے ظلم کے ردِّ عمل کے طور پر کچھ نازیبا کلمات ‘ جلے کٹے الفاظ بھی نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا۔
Ayah 4:148آیت 148 لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ الاَّ مَنْ ظُلِمَ ط
جس کا دل دکھا ہے ‘ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ‘ نہ صرف یہ کہ اس کے جواب میں اس کی زبان سے نکلنے والے کلمات پر گرفت نہیں ‘ بلکہ مظلوم کی دعا کو بھی قبولیت کی سند عطا ہوتی ہے۔ کسی فارسی شاعر نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے :
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کر دن
اِجابت از درِ حق بہر استقبال می آید
کہ مظلوم کی آہوں سے ڈرو کہ اس کی زبان سے نکلنے والی فریاد ایسی دعا بن جاتی ہے جس کی قبولیت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا استقبال کرنے کے لیے عرش سے آتی ہے۔
وَکَان اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا
اسے سب معلوم ہے کہ جس کے دل سے یہ آواز نکلی ہے وہ کتنا دکھی ہے۔ اس کے احساسات کتنے مجروح ہوئے ہیں۔
Ayah 4:149آیت 149 اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ
جہاں تک تو خیر کا معاملہ ہے تم اسے بلند آواز سے کہو ‘ ظاہر کرو یا چھپاؤ برابر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خیر تو ہر حال میں خیر ہی ہے ‘ عیاں ہو یا خفیہ۔
اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا
اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کردینا یقیناً نیکی کا ایک اونچا درجہ ہے۔ اس لیے یہاں ترغیب کے انداز میں مظلوم سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ تمہیں چھوٹ ہے ‘ تمہاری بدگوئی کی بھی تم پر کوئی گرفت نہیں ‘ لیکن زیادتی کی تلافی کا اس سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ بھی ہے ‘ تم اس بلند درجے کو حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ وہ یہ کہ تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کر دو۔ اس کے ساتھ اللہ کی قدرت کا ذکر بھی ہوا ہے کہ انسان تو بسا اوقات بدلہ لینے کی طاقت نہ ہونے کے باعث معاف کرنے پر مجبور بھی ہوجاتا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ‘ قدیر ہے ‘ وہ تو جب چاہے ‘ جیسے چاہے there then خطاکار کو فوراً سزا دے کر حساب چکاسکتا ہے۔ لیکن اتنی قدرت کے باوجود بھی وہ معاف فرما دیتا ہے۔
آئندہ آیات میں پھر وحدت الادیان جیسے اہم مضمون کا تذکرہ ہونے جا رہا ہے اور اس سلسلے میں یہاں تمام غلط نظریات کی جڑ کاٹی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ بات زیر بحث آچکی ہے کہ فلسفۂ وحدت ادیان کا ایک حصہ صحیح ہے۔ وہ یہ کہ اصل origin سب ادیان کی ایک ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ مختلف ادیان کی موجودہ شکلوں میں بھی یک رنگی اور ہم آہنگی ہے تو اس سے بڑی حماقت ‘ جہالت ‘ ضلالت اور گمراہی کوئی نہیں۔
یہاں پر اب کانٹے کی بات بتائی جا رہی ہے کہ دین میں جس چیز کی وجہ سے بنیادی خرابی پیدا ہوتی ہے وہ اصل میں کیا ہے۔ وہ غلطی یا خرابی ہے اللہ اور رسولوں میں تفریق ! ایک تفریق تو وہ ہے جو رسولوں کے درمیان کی جاتی ہے ‘ اور دوسری تفریق اللہ اور رسول ﷺ کو علیحدہ علیحدہ کردینے کی شکل میں سامنے آتی ہے ‘ اور یہ سب سے بڑی جہالت ہے۔ فتنۂ انکار حدیث اور انکار سنت اسی جہالت و گمراہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اہل قرآن سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ رسول ﷺ کا کام قرآن پہنچا دینا تھا ‘ سو انہوں نے پہنچا دیا ‘ اب اصل معاملہ ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ کی کتاب عر بی زبان میں ہے ‘ ہم اس کو خود سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ رسول ﷺ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو جو اس کی تشریح سمجھائی تھی اور اس زمانے کے لوگوں نے اسے قبول کیا تھا ‘ وہ اس زمانے کے لیے تھی۔ گویا رسول ﷺ کی تشریح کوئی دائمی چیز نہیں ‘ دائمی شے صرف قرآن ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کو جدا کردیا۔ یہاں اسی گمراہی کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayahs 4:150–151آیت 150 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ
اکبر کے دین الٰہیکا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ بس دین تو اللہ ہی کا ہے ‘ رسول ﷺ کی نسبت ضروری نہیں ‘ کیونکہ جب دین کی نسبت رسول کے ساتھ ہوجاتی ہے تو پھر دین رسول کے ساتھ منسوب ہوجاتا ہے کہ یہ دین موسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین عیسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین محمد ﷺ ہے۔ اگر رسولوں کا یہ تفرقی عنصر differentiating factor درمیان سے نکال دیا جائے تو مذاہب کے اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اللہ تو سب کا مشترک common ہے ‘ چناچہ جو دین اسی کے ساتھ منسوب ہوگا وہ دین الٰہی ہوگا۔
وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا
یعنی اللہ کو مانیں گے ‘ رسولوں کا ماننا ضروری نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب کو مانیں گے ‘ رسول ﷺ کی سنت کا ماننا کوئی ضروری نہیں ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔
وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً
اللہ کو ایک طرف کردیں اور رسول کو ایک طرف۔
Ayah 4:152آیت 152 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ
نہ اللہ کو رسول سے جدا کیا اور نہ رسول کو رسول سے جدا کیا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کو مانتے ہیں : لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ البقرہ : 285۔ ہم ان رسولوں کو بھی مانتے ہیں جن کے نام قرآن مجید میں آگئے ہیں ‘ اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے بیشمار نبی اور رسول آئے ہیں۔
Ayah 4:153آیت 153 یَسْءَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ
یعنی جیسے تورات اتری تھی ‘ ویسے ہی تحریری شکل میں ایک کتاب آسمان سے اترنی چاہیے۔ آپ ﷺ تو کہتے ہیں مجھ پر وحی آتی ہے ‘ لیکن کہاں لکھی ہوئی ہے وہ وحی ؟ کون لایا ہے ؟ ہمیں تو پتا نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو تو ان کی کتاب لکھی ہوئی ملی تھی اور وہ پتھر کی تختیوں کی صورت میں اسے لے کر آئے تھے۔ آپ پر بھی اسی طرح کی کتاب نازل ہو تو ہم مانیں۔
فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓی اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ یہ تعجب کی بات نہیں انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑھ کر مطالبے کیے تھے
اے نبی ﷺ آپ فکر نہ کریں ‘ ان کی پروا نہ کریں۔ انہوں نے ‘ ان کے آباء و اَجداد نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑے بڑے مطالبات کیے تھے۔
فَقَالُوْْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً
کہ ہم خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھنا چاہتے ہیں ‘ جب دیکھیں گے تب مانیں گے۔
فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ج۔
ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ
ان لوگوں کی نا ہنجاری کا اندازہ کریں کہ نو نو معجزے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔
فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ج وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۔
فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کردیا۔
Ayah 4:154آیت 154 وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا
یعنی جب اریحا Jericho شہر تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائے اور اس میں داخل ہونے کا مرحلہ آئے تو اپنے سروں کو جھکا کر عاجزی کے ساتھ داخل ہونا۔
Ayah 4:155آیت 155 فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ
اب ان کے جرائم کی فہرست آرہی ہے ‘ اور یوں سمجھئے کہ مبتدأ ہی کی تکرار ہو رہی ہے اور اس میں جو اصل خبر ہے وہ گویا محذوف ہے۔ گویا بات یوں بنے گی : فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ لَعَنّٰھُمْکہ انہوں نے جو اپنے میثاق کو توڑا اور توڑتے رہے ‘ ہمارے ساتھ انہوں نے جو بھی وعدے کیے تھے ‘ جب ان کا پاس انہوں نے نہ کیا تو ہم نے ان پر لعنت کردی۔ لیکن یہ لَعَنّٰھُمْاتنی واضح بات تھی کہ اس کو کہنے کی ضروت محسوس نہیں کی گئی ‘ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست بیان کردی گئی۔
Ayah 4:156آیت 156 وَّبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا
حضرت مریم سلامٌ علیہا پر یہودیوں نے بہتان لگایا کہ انہوں نے معاذ اللہ زنا کیا ہے اور مسیح علیہ السلام دراصل یوسف نجار کا بیٹا ہے۔ ان کی روایات کے مطابق یوسف نجار کے ساتھ حضرت مریم کی نسبت ہوچکی تھی ‘ لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ان کے مابین تعلق قائم ہوگیا ‘ جس کے نتیجے میں یہ بیٹا پیدا ہوگیا۔ اس طرح انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو ولد الزّ نا قرار دیا۔ یہ ہے وہ اتنی بڑی بات جو یہودی کہتے ہیں اور آج بھی اس گمراہ کن نظریے پر مبنی Son of Man جیسی فلمیں بنا کر امریکہ میں چلاتے ہیں ‘ جن میں عیسائیوں کو بتایا جاتا ہے کہ جس مسیح کو تم لوگ Son of God کہتے ہو وہ حقیقت میں son of man ہے۔
Ayah 4:157آیت 157 وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج
یعنی اللہ کے رسول کو قتل کردیا ! یہاں یہ رَسُوْلَ اللّٰہِکے الفاظ ان کے نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں استعجابیہ نشان sign of exclamation کے ساتھ ‘ کہ اچھا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ! جبکہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا تو فیصلہ ہے ‘ ایک طے شدہ امر ہے ‘ اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط المجادلۃ : 21 تو ان کی یہ جرأت کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے !
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط
معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا اور ایک شخص کی حضرت مسیح علیہ السلام جیسی صورت بنا دی گئی ‘ ان کے ساتھ مشابہت کردی گئی۔ چناچہ انہوں نے جس کو مسیح سمجھ کر سولی پر چڑھایا ‘ وہ مسیح علیہ السلام نہیں تھا ‘ ان کی جگہ کوئی اور تھا۔ انجیل برنباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا نام یہودا اسخریوطی Judas Iscariot تھا اور وہ آپ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا۔ ویسے اس کی نیت کچھ اور تھی ‘ اس میں بد نیتی بہر حال نہیں تھی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے لیکن چونکہ اس نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کرایا تھا ‘ چناچہ اس گستاخی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکل حضرت مسیح علیہ السلام جیسی بنا دی اور حضرت مسیح علیہ السلام کی جگہ وہ پکڑا گیا اور سولی چڑھا دیا گیا۔
وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط
انہیں خود پتا نہیں کہ کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟
مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ الاَّ اتِّبَاع الظَّنِّج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا
حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا۔
Ayah 4:158آیت 158 بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِط وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
اس واقعہ کی تفصیل انجیل برنباس میں موجود ہے۔
Ayah 4:159آیت 159 وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ الاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ‘ زندہ ہیں ‘ انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے ‘ اور جب آئیں گے تو اہل کتاب میں سے کوئی شخص نہیں رہے گا کہ جو ان پر ایمان نہ لے آئے۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا
یہ گواہی والامعاملہ وہی ہے جس کی تفصیل ہم آیت 41 میں پڑھ آئے ہیں : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا 4 کہ ہر نبی کو اپنی امت کے خلاف گواہی دینی ہے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔
Ayah 4:160آیت 160 فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ
اللہ تعالیٰ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ کوئی قوم اگر کسی معاملے میں حد سے گزرتی ہے تو سزا کے طور پر اسے حلال چیزوں سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ یہاں پر یہی اصول بیان ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے تورات میں اس کی صراحت نہیں کی کہ یہ حرام نہیں ہے ‘ یہ تو محض تمہارے نبی علیہ السلام کا بالکل ذاتی قسم کا فیصلہ ہے ‘ بلکہ اللہ نے کہا کہ ٹھیک ہے ‘ ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر تنگی رہے اور اس طرح ان کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر حلال چیزیں بھی ان پر حرام کردیں۔
وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا
یہ لوگ اللہ کے راستے سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان پر بعض حلال چیزیں بھی حرام کردیں۔
Ayah 4:161آیت 161 وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ
شریعت موسوی میں سود حرام تھا ‘ آج بھی حرام ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘ جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے ‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا ‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے ‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک Gentiles اور Goyems ہیں ‘ انسان نما حیوان ہیں ‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحاصل کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورة آل عمران آیت 75 میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں : لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ کہ ان امیینّ کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں ‘ کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں۔ ہم جیسے چاہیں لوٹ مار کریں ‘ جس طرح چاہیں انہیں دھوکہ دیں ‘ ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ لہٰذا سو دکھانے میں ان کے ہاں عمومی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔
Ayah 4:162آیت 162 لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ
یعنی یہود میں سے اہل علم لوگ جیسے عبداللہ بن سلام علیہ السلام اور ایسے ہی راست باز لوگ جنہوں نے تورات کے علم کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق کی اور آپ ﷺ پر ایمان لائے۔
یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط اُولٰٓءِکَ سَنُؤْتِیْہِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا ۔
ان آیات میں ابھی بھی تھوڑی سی گنجائش رکھی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا عنصر اگر اب بھی موجود ہو جو حق کی طرف مائل ہو ‘ اب بھی اگر کوئی سلیم الفطرت فرد کہیں کونے کھدرے میں پڑا ہو ‘ اگر اس کان میں ہیرے کا کوئی ٹکڑا کہیں ابھی تک پڑا رہ گیا ہو ‘ تو وہ بھی نکل آئے اس سے پہلے کہ آخری دروازہ بھی بند کردیا جائے۔ تو ابھی آخری دروازہ نہ تو منافقین پر بند کیا گیا ہے اور نہ ان اہل کتاب پر ‘ بلکہ لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْْعِلْمِ فرما کر ایک دفعہ پھر صلائے عام دے دی گئی ہے کہ اہل کتاب میں سے اب بھی اگر کچھ لوگ مائل بہ حق ہیں تو وہ متوجہ ہوجائیں۔
Ayah 4:163اس رکوع کے شروع میں انبیاء اور رسولوں کے ناموں کا ایک خوبصورت گلدستہ نظر آتا ہے۔ قرآن پاک میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں ایسے گلدستے خوبصورتی سے سجائے گئے ہیں۔ یہاں آپ کو پے بہ پے انبیاء اور رسولوں کے نام ملیں گے اور پھر ان میں سے بعض کی اضافی شانوں کا ذکر بھی ملے گا۔ اس کے بعد فلسفۂ قرآن کے اعتبار سے ایک بہت اہم آیت بھی آئے گی ‘ جس میں نبوت کا بنیادی مقصد اور اساسی فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 4:164آیت 164 وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط
پوری دنیا کی تاریخ بیان کرنا تو قرآن مجید کا مقصد نہیں ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کی مکمل فہرست دے دی جاتی۔ یہ تو کتاب ہدایت ہے ‘ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔
وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا
یہ خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امتیازی شان بیان ہوئی ہے۔ لیکن یہ مکالمہ مِنْ وَرَآ ءِ حِجَابٍ تھا ‘ یعنی پردے کے پیچھے سے ‘ البتہ تھا دُوُ بدو کلام۔ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جس میں نبوت کا اساسی مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ تمام رسول علیہ السلام کس لیے بھیجے گئے تھے۔