4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 4:63–64

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے تو (اے نبی !) آپ ان سے چشم پوشی کیجیے اور ان کو ذرا نصیحت کیجیے اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہیے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے اور اگر وہ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ یقیناً اللہ کو بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا پاتے

آیت 63 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ ق فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا یہ آیات نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رض کو بری قرار دیا کہ اللہ کی طرف سے ان کی براءت آگئی ہے ‘ اور اسی دن سے ان کا لقب فاروققرار پایا ‘ یعنی حق و باطل میں فرق کردینے والا۔ اب ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سورة مبارکہ میں منافقت جو زیر بحث آئی ہے وہ تین عنوانات کے تحت ہے۔ منافقوں پر تین چیزیں بہت بھاری تھیں ‘ جن میں سے اوّلین رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تھی۔ اور یہ بڑی نفسیاتی بات ہے۔ ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کی اطاعت بڑا مشکل کام ہے۔ ہم جو رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے ایک ادارے institution کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ رسول ﷺ ‘ شخصاً ہمارے سامنے موجود نہیں ہے۔ جبکہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ شخصاً موجود تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے بھی دو ہاتھ ہیں ‘ دو پاؤں ہیں ‘ دو آنکھیں ہیں ‘ لہٰذا بظاہر اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت ان پر بہت شاق تھی۔ جیسا کہ جماعتوں میں ہوتا ہے کہ امیر کی اطاعت بہت شاق گزرتی ہے ‘ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ امیر کی رائے پر چلنے کے لیے اپنی رائے کو پیچھے ڈالنا پڑتا ہے۔ جو صادق الایمان مسلمان تھے انہیں تو یہ یقین تھا کہ یہ محمد بن عبد اللہ جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں ‘ حقیقت میں محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور ہم ان کی اسی حیثیت میں ان پر ایمان لائے ہیں۔ لیکن جن کے دلوں میں یہ یقین نہیں تھا یا کمزور تھا ان کے لیے حضور ﷺ کی شخصی اطاعت بڑی بھاری اور بڑی کٹھن تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مواقع پر وہ کہتے تھے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنے پاس سے کہہ رہے ہیں۔ کیوں نہیں کوئی سورت نازل ہوجاتی ؟ کیوں نہیں کوئی آیت نازل ہوجاتی ؟ اور سورة محمد ﷺ اسی انداز میں نازل ہوئی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے اقدام کردیا ہے۔ اس پر اللہ نے کہا کہ لو پھر ہم قتال کی آیات نازل کردیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان پر کٹھن تھی وہ ہے قتال ‘ یعنی اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا۔ ان کا حال یہ تھا کہ ع مرحلہ سخت ہے اور جان عزیز ! تیسری کٹھن چیز ہجرت تھی۔ اس کا اطلاق منافقین مدینہ پر نہیں ہوتا تھا بلکہ مکہ اور ارد گرد کے جو منافق تھے ان پر ہوتا تھا۔ ان کا ذکر بھی آگے آئے گا۔ ظاہر ہے گھر بار اور خاندان والوں کو چھوڑ کر نکل جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اب سب سے پہلے اطاعت رسول ﷺ ‘ کی اہمیت بیان کی جا رہی ہے :
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

پس نہیں آپ کے رب کی قسم ! یہ ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ آپ کو حکم نہ مانیں ان تمام معاملات میں جو ان کے مابین پیدا ہوجائیں پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور سرتسلیم خم کریں جیسے کہ سرتسلیم خم کرنے کا حق ہے

آیت 65 فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ اس میں انہیں کوئی اختیار choice حاصل نہیں ہے۔ ان کے مابین جو بھی نزاعات اور اختلافات ہوں ان میں اگر یہ آپ کو حکم نہیں مانتے تو آپ کے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہیں۔ کلام الٰہی کا دوٹوک اور پر جلال انداز ملاحظہ کیجیے۔ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ اگر آپ ﷺ ‘ کا فیصلہ قبول بھی کرلیا ‘ لیکن دل کی تنگی اور کدورت کے ساتھ کیا تب بھی یہ مؤمن نہیں ہیں۔ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا واضح رہے کہ یہ حکم صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود نہیں تھا ‘ بلکہ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔
Ayahs 4:66–67

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم نے ان پر یہ فرض کردیا ہوتا کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکلو اپنے گھروں سے تو یہ اس کی تعمیل نہ کرتے سوائے ان میں سے چند ایک کے اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی ان کو نصیحت کی جارہی ہے تو یہی ان کے لیے بہتر ہوتا اور انہیں دین پر ثابت قدم رکھنے والا ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے

آیت 66 وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ مَّا فَعَلُوْہُ الاَّ قَلِیْلٌ مِّنْہُمْ ط وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ اس کا ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے : اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی انہیں ہدایت کی جاتی یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا اور اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہونا۔
Ayah 4:68

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور انہیں ہدایت فرما دیتے سیدھی راہ کی طرف

آیت 68 وَّلَہَدَیْنٰہُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا اکثر مفسرین نے اس آیت کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے آپ کو قتل کرو ‘ خود کشی کرو ‘ تو ہمیں یہ کرنا ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو نکلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ومالک ہے۔ اس کی طرف سے دیا گیا ہر حکم واجب التعمیل ہے۔ البتہ اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ کے الفاظ میں ایک مزید اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 54 میں ہم تاریخ بنی اسرائیل کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی ان کو مرتد ہونے کی جو سزا دی گئی تھی اس کے لیے یہی الفاظ آئے تھے : فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ پس قتل کرو اپنے آپ کو“۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے اپنے قبیلے کے ان لوگوں کو قتل کرو جنہوں نے اس کفر و شرک کا ارتکاب کیا ہے۔ منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ ان کی حمایت میں اکثر و بیشتر ان کے خاندان والے ‘ رشتہ دار ‘ ان کے گھرانے والے ان کے ساتھ شامل ہوجاتے تھے۔ تو یہاں شاید یہ بتایا جا رہا ہے کہ بجائے اس کے کہ تم ان کی حمایت کرو ‘ تمہارا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ہونا چاہیے کہ تم اپنے اندر سے خود دیکھو کہ کون منافق ہیں جو اصل میں آستین کے سانپ ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا ‘ مگر وہ یہ حکم بھی دے سکتا تھا کہ ہر گھرانہ اپنے ہاں کے منافقین کو خود قتل کرے۔ یہ تو حضرت عمر رض نے اپنی غیرت ایمانی کی وجہ سے اس منافق کو قتل کیا تھا ‘ جبکہ اس منافق کے خاندان کے لوگ حضرت عمر رض پر قتل کا دعویٰ کر رہے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا تو یہ بھی تمہیں کرنا چاہیے تھا ‘ لیکن یہ اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں سے بہت کم لوگ ہوتے جو اس حکم کی تعمیل کرتے۔ اور اگر وہ یہ کر گزرتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ان کے ثبات قلبی اور ثبات ایمانی کا باعث ہوتا۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا اور انہیں صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا۔ اب جو آیت آرہی ہے یہ اطاعت رسول کے موضوع پر قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے۔
Ayah 4:69

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام صدیقین شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے

فرمایا : آیت 69 وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْن ج وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کا شمار ان لوگوں کے زمرے میں ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ سورة الفاتحہ میں ہم نے یہ الفاظ پڑھے تھے : اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ آیت زیر مطالعہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ“ کی تفسیر ہے۔ ان مراتب کو ذرا سمجھ لیجیے۔ صالح مسلمان گویا baseline پر ہے۔ وہ ایک نیک نیت مسلمان ہے جس کے دل میں خلوص کے ساتھ ایمان ہے۔ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کر رہا ہے ‘ محرّ مات سے بچا ہوا ہے۔ وہ اس سے اوپر اٹھے گا تو ایک اونچا درجہ شہداء کا ہے ‘ اس سے بلند تر درجہ صدیقین کا ہے اور بلندترین درجہ انبیاء کا ہے۔ اس بلند ترین درجے پر تو کوئی نہیں پہنچ سکتا ‘ اس لیے کہ وہ کوئی کسبی چیز نہیں ہے ‘ وہ تو ایک وہبی چیز تھی ‘ جس کا دروازہ بھی بند ہوچکا ہے۔ البتہ مرتبہ صالحیت سے بلند تر دو درجے ابھی موجود ہیں کہ انسان اپنی ہمت ‘ محنت اور کوشش سے شہادت اور صدیقیت کے مراتب پر فائز ہوسکتا ہے۔ یہ مضمون ان شاء اللہ سورة الحدید میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوگا
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے ہر شے کے جاننے کے لیے

آیت 70 ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ ط۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ان پر کہ جنہیں آخرت میں انبیاء کرام ‘ صدیقین عظام ‘ شہداء اور صالحین کی معیت حاصل ہوجائے۔ اس کے لیے دعا کرنی چاہیے : وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ اے اللہ ہمیں موت دیجیو اپنے وفادار ونیکوکار بندوں کے ساتھ ! وَکَفٰی باللّٰہِ عَلِیْمًا یعنی کون کس استعداد کا حامل ہے اور کس قدر و منزلت کا مستحق ہے ‘ اللہ خوب جانتا ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے اہل ایمان اپنے تحفظ کا سامان (اور اپنے ہتھیار) سنبھالو اور (جہاد کے لیے) نکلو خواہ ٹکڑیوں کی صورت میں خواہ فوج کی شکل میں

اب ذکر آ رہا ہے قتال فی سبیل اللہ کا۔ یہ دوسری چیز تھی جو منافقین پر بہت بھاری تھی۔ مادی اعتبار سے یہ بڑا سخت امتحان تھا۔ اطاعت رسول ﷺ زیادہ تر ایک نفسیاتی مرحلہ تھا ‘ ایک نفسیاتی الجھن تھی ‘ لیکن اپنا مال خرچ کرنا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ایک خالص محسوس مادی شے تھی۔ آیت 71 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا یعنی جیسا موقع ہو اس کے مطابق الگ الگ دستوں کی شکل میں یا اکٹھے فوج کی صورت میں نکلو۔ رسول اللہ ﷺ موقع کی مناسبت سے کبھی چھوٹے چھوٹے گروپ بھیجتے تھے۔ جیسے غزوۂ بدر سے قبل آپ ﷺ نے آٹھ مہمیں روانہ فرمائیں ‘ جبکہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں آپ ﷺ پوری فوج لے کر نکلے۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیر لگا دیتے ہیں پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو وہ کہے گا کہ مجھ پر تو اللہ نے بڑا انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوا

آیت 72 وَاِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّءَنَّ ج حکم ہوگیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنا ہے ‘ فلاں وقت کوچ ہوگا ‘ لیکن وہ تیاری میں ڈھیل برت رہے ہیں اور پھر بہانہ بنا دیں گے کہ بس ہم تو تیاری کر ہی رہے تھے اب نکلنے ہی والے تھے۔ اور وہ منتظر رہتے ہیں کہ جنگ کا فیصلہ ہوجائے تو اس وقت ہم کہیں گے کہ ہم بس نکلنے ہی والے تھے کہ یہ فیصلہ ہم کو پہنچ گیا۔ فَاِنْ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ اگر جنگ کے لیے نکلنے والے مسلمانوں کو کوئی تکلیف پیش آجائے ‘ کوئی گزند پہنچ جائے ‘ وقتی طور پر کوئی ہزیمت ہوجائے۔
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تمہیں کوئی فضل پہنچ جائے اللہ کی طرف سے تو اس وقت وہ پھر (حسرت کے ساتھ) کہے گا جیسے تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں اے کاش کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا ہوتا تو یہ بڑی کامیابی مجھے بھی حاصل ہوجاتی

آیت 73 وَلَءِنْ اَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یعنی تمہیں فتح ہوجائے اور تم کامرانی کے ساتھ مال غنیمت لے کر واپس آؤ۔ لَیَقُوْلَنَّ کَاَنْ لَّمْ تَکُنْم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَہُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا یہ منافقین کا کردار تھا جس کا یہاں نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

) پس اللہ کی راہ میں قتال کرنا چاہیے ان لوگوں کو جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں قتال کرے گا تو خواہ وہ مارا جائے یا غالب ہو ہم اسے (دونوں حالتوں میں) بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے

آیت 74 فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بالْاٰخِرَۃِط۔ جو لوگ یہ طے کرچکے ہوں کہ ہم نے دنیا کی زندگی کے بدلے میں آخرت قبول کی ‘ ان کے لیے تو قتال فی سبیل اللہ میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انہوں نے واقعی یہ سودا اللہ سے کیا ہے تو پھر انہیں اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا چاہیے۔ وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ اللہ کی راہ میں قتال کرنے والے کے لیے دو ہی امکانات ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ قتل ہو کر مرتبہ شہادت پر فائز ہوجائے اور دوسرے یہ کہ وہ دشمن پر غالب رہے اور فتح مند ہو کر واپس آئے۔ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا اگلی آیت میں خاص طور پر ان مسلمانوں کی نصرت و حمایت کے لیے قتال کے لیے ترغیب دلائی جا رہی ہے جو مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان میں کمزور بھی تھے ‘ بیمار اور بوڑھے بھی تھے ‘ خواتین اور بچے بھی تھے۔ یہ لوگ ایمان تو لے آئے تھے لیکن ہجرت کے قابل نہیں تھے۔ یہ اپنے اپنے علاقوں میں اور اپنے اپنے قبائل میں تھے اور وہاں ان پر ظلم ہو رہا تھا ‘ انہیں ستایا جا رہا تھا ‘ انہیں تشدد و تعذیب کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ تو خاص طور پر ان کی مدد کے لیے نکلنا ان کی جان چھڑانا اور ان کو بچا کرلے آنا ‘ غیرت ایمانی کا بہت ہی شدید تقاضا ہے ‘ بلکہ یہ غیرت انسانی کا بھی تقاضا ہے۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں نکال اس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے

چناچہ فرمایا : آیت 75 وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاج وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی ؟ ان پر ظلم ہو رہا ہے ‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو ؟ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی جہادوں پر بھی کردیتے ہیں جو کہ آج کل ہمارے ہاں جاری ہیں اور ان پر جہاد فی سبیل اللہ کا لیبل لگایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ہی قیاس مع الفارق ہے۔ واضح رہے کہ یہ خطاب ان اہل ایمان سے ہو رہا ہے جن کے ہاں اسلام قائم ہوچکا تھا۔ ہم اپنے ملک میں اسلام قائم کر نہیں سکتے۔ یہاں پر دین کے غلبہ و اقامت کی کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے ہاں کفر کا نظام چل رہا ہے۔ اس کے مخاطب اہل ایمان ہیں ‘ اور اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرو ‘ پہلے اپنے ملک کے اندر اسلام قائم کرو لہٰذا جہاد کرنا ہے تو یہاں کرو ‘ جانیں دینی ہیں تو یہاں دو۔ یہاں پر طاغوت کی حکومت ہے ‘ غیر اللہ کی حکومت ہے ‘ قرآن کے سوا کوئی اور قانون چل رہا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ المائدۃ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔۔ وہی تو ظالم ہیں۔۔ وہی تو فاسق ہیں۔“ چناچہ کافر ‘ ظالم اور فاسق تو ہم خود ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت درست کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ایک جمعیت قائم ہوگی۔ ہماری حکومت تو ان لوگوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہے جن کے خلاف یہاں جہاد کا نعرہ بلند ہو رہا ہے ‘ جس میں جانیں دی جا رہی ہیں۔ تو یہ آیت اپنی جگہ ہے۔ ہرچیز کو اس کے سیاق وسباق کے اندر رکھنا چاہیے۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جب لوگ ایمان والے ہیں وہ قتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو لوگ کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں قتال کر رہے ہیں تو تم جنگ کرو شیطان کے ساتھیوں سے یقیناً شیطان کی چال بڑی کمزور ہے

آیت 76 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ جنگ تو وہ بھی کر رہے ہیں ‘ جانیں وہ بھی دے رہے ہیں۔ ابوجہل بھی تو لشکر لے کر آیا تھا۔ ان کی ساری جدوجہد طاغوت کی راہ میں ہے۔ فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ ج تم شیطان کے حمایتیوں سے ‘ حزب الشیطان سے قتال کرو۔ اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا شیطان کی چال بظاہر بڑی زوردار بڑی بارعب دکھائی دیتی ہے ‘ لیکن جب مرد مؤمن اس کے مقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر معلوم ہوجاتا ہے کہ بڑی بودی اور پھسپھسی چال ہے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ؟ اور وہ کہتے ہیں پروردگار ! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی ؟ کیوں نہ ابھی ہمیں کچھ اور مہلت دی ؟ (اے نبی !) کہہ دیجیے دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت بہت بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کرے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

آیت 77 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ج مکہ مکرمہ میں بارہ برس تک مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔ اس دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ‘ انہیں بہت بری طرح ستایا جا رہا تھا ‘ تشدد و تعذیب کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا خون کھولتا تھا اور بہت سے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ ہمیں اجازت دی جائے تو ہم اپنے بھائیوں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کا بدلہ لین ‘ آخر ہم نامرد نہیں ہیں ‘ بےغیرت نہیں ہیں ‘ بزدل نہیں ہیں۔ لیکن انہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ منہج انقلاب نبوی ﷺ کا صبر محضکا مرحلہ تھا اس وقت حکم یہ تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ ؂ نغمہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی ایک وقت آئے گا کہ تمہارے ہاتھ کھول دیے جائیں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ فعل مجہول ہے۔ یہ کہا کس نے تھا ؟ مکی قرآن میں تو کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْکا حکم موجود نہیں ہے۔ یہ حکم تھا محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ حضور ﷺ نے اہل ایمان کو ہاتھ اٹھانے سے روکا تھا۔ یہ آیت سورة النساء میں نازل ہو رہی ہے جو مدنی ہے۔ کہ اس وقت بھی وہ رسول اللہ ﷺ کا حکم تھا ‘ جس کو اللہ نے اپنا حکم قرار دیا۔ گویا یہ اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ وحی جلی تو یہ قرآن ہے۔ اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ پر وحی خفی بھی نازل ہوتی تھی۔ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں وحی خفی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا ہو جو یہاں نقل ہوا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کا اپنا اجتہاد ہو جسے اللہ نے برقرار رکھا ہو ‘ اسے قبول own کیا ہو۔ اب یہ بات یہاں محذوف ہے کہ اس وقت تو کچھ لوگ بڑے جوش و جذبہ سے اور بڑے زور شور سے کہتے تھے کہ ہمیں اجازت ہونی چاہیے کہ ہم جنگ کریں ‘ لیکن اب کیا حال ہوا : فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً ج تو ان میں سے ایک فریق کا حل یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈر رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ مکہ کے مہاجرین نہیں تھے ‘ بلکہ یہ حال منافقین مدینہ کا تھا ‘ لیکن فرق و تفاوت واضح کرنے کے لیے مکی دور کی کیفیت سے تقابل کیا گیا کہ اصل ایمان تو وہ تھا ‘ اور یہ جو صورت حال ہے یہ کمزور ایمان اور نفاق کی علامت ہے۔ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَج لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلآی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ط اس حکم کو کچھ دیر کے لیے مزید مؤخر کیوں نہ کیا ؟ قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ ج وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰیقف وَلاَ تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً تمہاری حق تلفی قطعاً نہیں ہوگی اور تمہارے جو بھی اعمال ہیں ‘ انفاق ہے ‘ قتال ہے ‘ اللہ کی راہ میں ایثار ہے ‘ اس کا تمہیں بھرپور اجرو ثواب دے دیا جائے گا۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ (اے محمد ﷺ یہ آپ کی وجہ سے ہے کہہ دیجیے سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات بھی نہیں سمجھتے !

آیت 78 اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ ظاہر ہے قتال سے جی چرانے کا اصل سبب موت کا خوف تھا۔ چناچہ ان کے دلوں کے اندر جو خوف تھا اسے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ موت سے کوئی مفر نہیں ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط۔ اگرچہ تم بہت مضبوط fortified قلعوں کے اندر اپنے آپ کو محصور کرلو۔ پھر بھی موت سے نہیں بچ ‘ سکتے۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ہٰذِہِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج۔ منافقین کا ایک طرز عمل یہ بھی تھا کہ اگر مسلمانوں کو کوئی کامیابی حاصل ہوجاتی ‘ فتح نصیب ہوجاتی ‘ کوئی اور بھلائی پہنچ جاتی ‘ حضور ﷺ کی تدبیر کے اچھے نتائج نکل آتے تو اسے حضور ﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ‘ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ یَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ط آپ ﷺ نے یہ غلط اقدام کیا تو اس کے نتیجے میں ہم پر یہ مصیبت آگئی۔ یہ آپ کا فیصلہ تھا کہ کھلے میدان میں جا کر جنگ کریں گے ‘ ہم نے تو آپ کو مشورہ دیا تھا کہ مدینے کے اندر محصور ہو کر جنگ کریں۔ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط ۔ یہ سب چیزیں ‘ خیر ہو ‘ شر ہو ‘ تکلیف ہو ‘ آسانی ہو ‘ مشکل ہو ‘ جو بھی صورتیں ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے مسلمان !) تجھے جو بھلائی بھی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ خود تیرے نفس کی طرف سے ہے اور (اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو تو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہ کے طو رپر

آیت 79 مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ط اس آیت کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ میرے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ یہاں تحویل خطاب ہے۔ پہلی آیت میں خطاب ان مسلمانوں کو جن کی طرف سے کمزوری یا نفاق کا اظہار ہو رہا تھا ‘ لیکن اس آیت میں بحیثیت مجموعی خطاب ہے کہ دیکھو اے مسلمانو ! جو بھی کوئی خیر تمہیں ملتا ہے اس پر تمہیں یہی کہنا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور کوئی شر پہنچ جائے تو اسے اپنے کسب و عمل کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ خیر بھی اللہ کی طرف سے ہے اور شر بھی۔ ایمان مفصل“ میں الفاظ آتے ہیں : وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی“ لیکن ایک مسلمان کے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ خیر ملے تو اسے اللہ کا فضل سمجھے۔ اور اگر کوئی خرابی ہوجائے تو سمجھے کہ یہ میری کسی غلطی کے سبب ہوئی ہے ‘ مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے ‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی تادیب فرمانی چاہی ہے۔ وَاَرْسَلْنٰکَ للنَّاسِ رَسُوْلاً ط۔ اس مقام کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ درمیانی ٹکڑے میں بھی خطاب تو رسول اللہ ﷺ ہی سے ہے ‘ لیکن استعجاب کے انداز میں کہ اچھا ! جو کچھ انہیں خیر مل جائے وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی آجائے تو وہ آپ کی طرف سے ہے ! یعنی کیا بات یہ کہہ رہے ہیں ! جبکہ اللہ نے تو آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس کی یہ دو تعبیریں ہیں۔ میرے نزدیک پہلی تعبیر راجح ہے۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے اطاعت کی اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بناکر نہیں بھیجا ہے

آیت 80 مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ج۔ یہ ٹکڑا بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ دو ٹوک انداز میں واضح کر رہا ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے یہ حدیث ملاحظہ کیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1 جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“ رسول اللہ ﷺ کی ساری جدوجہد جماعتی نظم کے تحت ہو رہی تھی۔ جہاد و قتال کے لیے فوج تیارہوتی تو اس میں اوپر سے نیچے تک سمع وطاعت کی ایک زنجیر بنتی چلی جاتی۔ رسول اللہ ﷺ کمانڈر انچیف تھے ‘ آپ ﷺ لشکر کے میمنہ ‘ میسرہ ‘ قلب اور عقب وغیرہ پر ‘ ہراول دستے پر الگ الگ کمانڈر مقرر فرماتے۔ ان امراء کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ‘ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر داروغہ مقرر نہیں کیا۔ اپنے طرز عمل کے یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر یہ اس کے محاسبے کا خود سامنا کرلیں گے۔
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے پھر جب آپ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپس میں ایسے مشورے کرتا ہے جو ان کے اپنے قول کے خلاف ہے اور اللہ لکھ رہا ہے جو بھی وہ مشورے کرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ آپ ان سے چشم پوشی کیجیے اور آپ اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ کافی ہے بھروسے کے لیے

آیت 81 وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌز ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ آپ کے سامنے تو کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں ‘ آپ ﷺ نے جو فرمایا قبول ہے ‘ ہم اس پر عمل کریں گے۔ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ ط۔ جا کر ایسے مشورے آپس میں شروع کردیتا ہے جو خلاف ہے اس کے جو وہ وہاں کہہ کر گئے ہیں۔ سامنے وہ ہوگئی بعد میں جا کر جو ہے ریشہ دوانی ‘ سازش۔ وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ آپ ان کی پروانہ کیجیے ‘ یہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ابھی ان کے خلاف اقدام کرنا خلاف مصلحت ہے۔ جیسے ایک دور میں فرمایا گیا : فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا البقرۃ : 109 یعنی ان یہودیوں کو ذرا نظر انداز کیجیے ‘ ابھی ان کی شرارتوں پر تکفیر نہ کیجیے ‘ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے ‘ اس لیے کہ مصلحت کا تقاضا ہے کہ ابھی یہ محاذ نہ کھولا جائے۔ اسی طرح یہاں منافقین کے بارے میں کہا گیا کہ ابھی ان سے اعراض کیجیے۔ چناچہ ان کی ریشہ دوانیوں سے کچھ عرصے تک چشم پوشی کی گئی اور پھر غزوۂ تبوک کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان پر گرفت شروع کی۔ پھر وہ وقت آگیا کہ اب تک ان کی شرارتوں پر جو پردے پڑے رہے تھے وہ پردے اٹھا دیے گئے۔ آپ ﷺ ‘ کو سہارے کے لیے اللہ کافی ہے۔ ان کی ساری ریشہ دوانیاں ‘ یہ مشورے ‘ یہ سازشیں ‘ سب پادر ہوا ہوجائیں گی ‘ آپ فکر نہ کیجیے۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟ تو اس میں وہ بہت سے تضادات پاتے

آیت 82 اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط یہ قرآن پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ‘ لیکن اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔ نمازیں تو وہ پڑھتے تھے۔ اس وقت جو بھی منافق تھا اسے نماز تو پڑھنی پڑتی تھی ‘ ورنہ اس کو مسلمان نہ مانا جاتا۔ آج تو مسلمان مانے جانے کے لیے نماز ضروری نہیں ہے ‘ اس وقت تو ضروری تھی۔ بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تو پہلی صف میں ہوتا تھا اور جمعہ کے روز تو خاص طور پر خطبے سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کرتا تھا کہ لوگو ان کی بات توجہ سے سنو ‘ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا اپنی چودھراہٹ کے اظہار کے لیے یہ انداز اختیار کرتا۔ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے ‘ قرآن سنتے تھے ‘ لیکن قرآن پر تدبر نہیں کرتے تھے۔ قرآن ان کے سروں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ یا ان کے ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتا تھا۔ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا ۔ اس پر غور کرو ‘ یہ بہت مربوط کلام ہے۔ اس کا پورا فلسفہ منطقی طور پر بہت مربوط ہے ‘ اس کے اندر کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے امن کی یا خطرے کی تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول ﷺ اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو یہ بات ان میں سے ان لوگوں کے علم میں آجاتی جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں تو تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے سوائے چند ایک کے

آیت 83 وَاِذَا جَآءَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ ط منافقین کی ایک روش یہ بھی تھی کہ جوں ہی کوئی اطمینان بخش یا خطرناک خبر سن پاتے اسے لے کر پھیلا دیتے۔ کہیں سے خبر آگئی کہ فلاں قبیلہ چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے ‘ اس کی طرف سے حملے کا اندیشہ ہے تو وہ فوراً اسے عام کردیتے ‘ تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوجائے۔ اِذَاعَۃکا لفظ آج کل نشریاتی broadcasting اداروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مِذْیَاعریڈیو سیٹ کو کہا جاتا ہے۔ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلآی اولی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ ط اگر یہ لوگ ایسی خبروں کو رسول اللہ ﷺ تک یا ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے ‘ مثلاً اوس کے سردار سعد بن عبادہ رض اور خزرج کے سردار سعد بن معاذ رض ‘ تو یہ ان کی تحقیق کرلیتے کہ بات کس حد تک درست ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے اور پھر جائزہ لیتے کہ ہمیں اس ضمن میں کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ لیکن ان کی روش یہ تھی کہ محض سنسنی پھیلانے اور سراسیمگی پیدا کرنے کے لیے ایسی خبریں لوگوں میں عام کردیتے۔ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس (اے نبی ﷺ !) آپ جنگ کریں اللہ کی راہ میں ! آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی ذات کے البتہ اہل ایمان کو آپ اس کے لیے اکسائیں بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کافروں کی قوت کو روک دے اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت شدید ہے قوت میں بھی اور سزا دینے میں بھی

آیت 84 فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج قتال کے ضمن میں یہ قرآن مجید کی غالباً سخت ترین آیت یہ ہے ‘ لیکن اس میں سختی لفظی نہیں ‘ معنوی ہے۔ لاَ تُکَلَّفُ الاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج آپ ﷺ اہل ایمان کو قتال فی سبیل اللہ کے لیے جس قدر ترغیب و تشویق دے سکتے ہیں دیجیے۔ انہیں اس کے لیے جوش دلایے ‘ ابھاریے۔ لیکن اگر کوئی اور نہیں نکلتا تو اکیلے نکلئے جیسے حضرت ابوبکر رض کا قول بھی نقل ہوا ہے جب ان سے کہا گیا کہ مانعین زکوٰۃ کے بارے میں نرمی کیجیے تو آپ رض نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہیں دے گا تو میں اکیلا جاؤں گا ‘ عزیمت کا یہ عالم ہے ! تو اے نبی ﷺ آپ کو تو یہ کام کرنا ہے ‘ آپ کا تو یہ فرض منصبی ہے۔ آپ کو ہم نے بھیجا ہی اس لیے ہے کہ روئے ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کردیں۔ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّکُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط۔ کفار و مشرکین کی جنگی تیاریاں ہو رہی ہیں ‘ بڑی چلت پھرت ہو رہی ہے ‘ یہ تو کچھ عرصے کی بات ہے وہ وقت بس آیا چاہتا ہے کہ ان میں دم نہیں رہے گا کہ آپ کا مقابلہ کریں۔ اور وہ وقت جلد ہی آگیا کہ مشرکین کی کمر ٹوٹ گئی۔ سورة النساء کی یہ آیت 4 ہجری میں نازل ہوئی اور 5 ہجری میں غزوۂ احزاب پیش آیا۔ جس کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھذا ولکنکم تغزونھم 1 اس سال کے بعد قریش تم پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں کریں گے ‘ بلکہ اب تم ان پر حملہ آور ہو گے۔“ غزوۂ احزاب کے فوراً بعد سورة الصف نازل ہوئی۔ جس میں اہل ایمان کو فتح و نصرت کی بشارت دی گئی۔ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ اس سے اگلے سال 6 ہجری میں آپ ﷺ نے عمرے کا سفر کیا ‘ جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہوگئی ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے فتح مبین قرار دیا اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ اس کے بعد ساتویں سال اللہ تعالیٰ نے فتح خیبر عطا فرما دی اور آٹھویں سال میں مکہ فتح ہوگیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک ‘ سارے بند دروازے کھلتے چلے گئے۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی سفارش کرے گا بھلائی کی اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کی تو اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قوت رکھنے والا ہے

منافقین سے خطاب کے بعد اب پھر کچھ تمدنی آداب کا ذکر ہو رہا ہے۔ منافقین سے خطاب میں دو باتوں کو نمایاں کیا گیا۔ ایک اطاعت رسول ﷺ جو ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور ایک قتال فی سبیل اللہ جو ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا تھا۔ اب پھر اہل ایمان سے خطاب آ رہا ہے۔ آیت 85 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج۔ انسانی معاشرے کے اندر کسی کے لیے سفارش کرنا بھی بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ہے ‘ اس کی کوئی احتیاج ہے ‘ آپ جانتے ہیں کہ صحیح آدمی ہے ‘ بہروپیا نہیں ہے۔ دوسرے شخص کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کی مدد کرسکتا ہے تو آپ کو دوسرے شخص کے پاس جا کر اس کے حق میں سفارش کرنی چاہیے کہ میں اس کو جانتا ہوں ‘ یہ واقعتا ضرورت مند ہے۔ اس طرح اس کی ضرورت پوری ہوجائے گی اور اس نیکی کے ثواب میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ اسی طرح کسی پر کوئی مقدمہ قائم ہوگیا ہے اور آپ کے علم میں اس کی بےگناہی کے بارے میں حقائق اور شواہد ہیں تو آپ کو عدالت میں پیش ہو کر یہ حقائق اور شواہد پیش کرنے چاہئیں ‘ تاکہ اس کی گلوخلاصی ہو سکے۔ اس آیت کی رو سے نیکی ‘ بھلائی ‘ خیر اور عدل و انصاف کی خاطر اگر کسی کی سفارش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجرو ثواب عطا فرمائے گا۔ وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ط۔ کسی نے کسی کی جھوٹی اور غلط سفارش کی ‘ حقائق کو توڑا مروڑا تو وہ بھی اس کے جرم میں شریک ہوگیا اور وہ اس جرم کی سزا میں بھی حصہ دار ہوگا۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز کا حساب کرنے والا ہے

آیت 86 وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْرُدُّوْہَا ط۔ ہر معاشرے میں کچھ ایسے دعائیہ کلمات رائج ہوتے ہیں جو معاشرے کے افراد باہمی ملاقات کے وقت ‘ استعمال کرتے ہیں۔ جیسے مغربی معاشرے میں گڈ مارننگ اور گڈایوننگ وغیرہ۔ عربوں کے ہاں صباح الخیر اور مساء الخیر کے علاوہ سب سے زیادہ رواج حَیَّاک اللّٰہ کہنے کا تھا۔ یعنی اللہ تمہاری زندگی بڑھائے۔ جیسے ہمارے ہاں سرائیکی علاقے میں کہا جاتا ہے حیاتی ہو وے۔ درازئ عمر کی اس دعا کو تَحِیَّہ کہا جاتا ہے۔ سلام اور اس کے ہم معنی دوسرے دعائیہ کلمات بھی سب اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں۔ عرب میں جب اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تو دیگر دعائیہ کلمات بھی باقی رہے ‘ البتہ السَّلَامُ عَلَیْکُمْکو ایک خاص اسلامی شعار کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس آیت میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ جب تمہیں کوئی سلامتی کی دعا دے تو اس کے جواب کا اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ اس سے بہتر طریقے پر جواب دو۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے جواب میں وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُکے ساتھ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاُتہٗ کا اضافہ کر کے اسے لوٹائیں۔ اگر یہ نہیں تو کم از کم اسی کے الفاظ اس کی طرف لوٹا دو۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں جو ہیں انسانی زندگی میں ان کی بھی اہمیت ہے۔ ان معاشرتی آداب سے معاشرتی زندگی کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے ‘ آپس میں محبت و مودت پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہیں لازماً جمع کرے گا قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوگا ؟

آیت 87 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ ط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا منافقین پر جو تین چیزیں بہت شاق تھیں ‘ اب ان میں سے تیسری چیز کا تذکرہ آ رہا ہے ‘ یعنی ہجرت۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو بیمار تھے ‘ بوڑھے تھے ‘ سفر کے قابل نہیں تھے ‘ یا عورتیں اور بچے تھے ‘ ان کا معاملہ تو پہلے ذکر ہوچکا کہ ان کے لیے تمہیں قتال کرنا چاہیے تاکہ انہیں ظالموں کے چنگل سے چھڑاؤ۔ ایک وہ لوگ تھے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان تو کرچکے تھے لیکن اپنے کافر قبیلوں اور اپنی بستیوں کے اندر آرام سے رہ رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے ‘ جبکہ ہجرت اب فرض کردی گئی تھی۔ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ ہجرت فرض کیوں کردی گئی ؟ اس لیے کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور تحریک اس مرحلے میں داخل ہوگئی کہ اب باطل کے خلاف اقدام کرنا ہے ‘ تو اب اہل ایمان کی جتنی بھی دستیاب طاقت تھی اسے ایک مرکز پر مجتمع کرنا ضروری تھا ‘ مکی دور میں جو پہلی ہجرت ہوئی تھی یعنی ہجرت حبشہ وہ اختیاری تھی۔ اس کی صرف اجازت تھی ‘ حکم نہیں تھا لیکن ہجرت مدینہ کا تو حکم تھا۔ لہٰذا اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس بنا پر منافق قرار پائے کہ وہ ہجرت نہیں کر رہے ہیں۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو ؟ اور اللہ نے تو ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب الٹ دیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو ہدایت دے دو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے ؟ اور جس کو اللہ راستے سے ہٹا دے اس کے لیے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے

آیت 88 فَمَا لَکُمْ فِی الْْمُنٰفِقِیْنَ فِءَتَیْنِ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط بات آگے واضح ہوجائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے ‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دو رائیں پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا ‘ اب نہیں ہجرت کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہو ؟ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط۔ ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الٹے پھیر دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان سلب ہوچکا ہے۔ ہاں کوئی مجبوری ہوتی ‘ عذر ہوتا تو بات تھی۔ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط جن کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے آخری مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہو اس کے لیے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے ؟
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ تو اب ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اللہ کی راہ میں اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں (ہجرت نہ کریں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ساتھی اور مددگار مت بناؤ

وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً یہ لوگ جو ان کے بارے میں نرمی کی باتیں کر رہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کفر کیا ہے تم بھی کرو ‘ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ دُم کٹی بلی چاہتی ہے کہ سب بلیوں کی دمیں کٹ جائیں۔ فَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ یہ گویا اب ان کے ایمان کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اگر وہ ہجرت نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مؤمن نہیں منافق ہیں۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ ۔ یعنی اگر وہ ہجرت نہیں کرتے جو ان پر فرض کردی گئی ہے تو پھر وہ کافروں کے حکم میں ہیں ‘ چاہے وہ کلمہ پڑھتے ہوں۔ تم انہیں جہاں بھی پاؤ پکڑو اور قتل کرو۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

سوائے ان کے جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ دل برداشتہ ہوں اس بات سے کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اگر اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے لڑتے پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی

آیت 90 اِلاَّ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ یعنی اس حکم سے صرف وہ منافقین مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں جس کے ساتھ تمہارا صلح کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے انہیں بھی تحفظ حاصل ہوجائے گا۔ اَوْجَآءُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُہُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَہُمْ ط یعنی ان میں اتنی جرأت نہیں رہی کہ وہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم کے خلاف لڑیں یا اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تمہارے خلاف لڑیں۔ انسانی معاشرے میں ہر سطح کے لوگ ہر دور میں رہے ہیں اور ہر دور میں رہیں گے۔ لہٰذا واضح کیا جا رہا ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران ہر طرح کے حالات آئیں گے اور ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑے گا۔ اس طرح کے کم ہمت لوگ جو کہتے تھے بھئی ہمارے لیے لڑنا بھڑنامشکل ہے ‘ نہ تو ہم اپنی قوم کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے لڑیں گے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے ‘ ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان کی بھی جان بخشی کرو۔ چناچہ ہجرت نہ کرنے والے منافقین کے بارے میں جو یہ حکم دیا گیا کہ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْص پس ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اس سے دو استثناء بیان کردیے گئے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقٰتَلُوْکُمْ ج۔ یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ اللہ انہیں تمہارے خلاف ہمت عطا کردیتا اور وہ تمہارے خلاف قتال کرتے۔ فَاِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ لا فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبِیْلاً تو اس بات کو سمجھ لیجیے کہ جو منافق ہجرت نہیں کر رہے ‘ ان کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ اب ان کے خلاف اقدام ہوگا ‘ انہیں جہاں بھی پاؤ پکڑو اور قتل کرو ‘ وہ حربی کافروں کے حکم میں ہیں۔ اِلاّ یہ کہ ا ان کے قبیلے سے تمہارا صلح کا معاہدہ ہے تو وہ ان کو تحفظ فراہم کر جائے گا۔ ب وہ آکر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم بالکل غیر جانبدار ہوجاتے ہیں ‘ ہم میں جنگ کی ہمت نہیں ہے ‘ ہم نہ آپ کے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی آپ کے خلاف اپنی قوم کی مدد کریں گے ‘ تب بھی انہیں چھوڑ دو۔ اس کے بعد اب منافقین کے ایک تیسرے گروہ کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم پاؤ گے ایک اور قسم کے لوگوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب بھی فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں تو اس کے اندر اوندھے ہوجاتے ہیں پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تمہارے سامنے صلح و سلامتی پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں سند (اور قوت) عطا کردی ہے

آیت 58 سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْآ اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَاج جب بھی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اس میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اپنی قوم کا پلڑا بھاری ہے تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں کہ اب تو ہماری فتح ہونے والی ہے اور ہمیں مال غنیمت میں سے حصہ مل جائے گا۔ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَیُلْقُوْآ اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْآ اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَاُولٰٓءِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۔ ایسے لوگوں کے معاملے میں ہم نے تمہیں کھلا اختیار دے دیا ہے کہ تم ان کے خلاف اقدام کرسکتے ہو۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا اِلاّ یہ کہ وہ معاف کردیں اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کو اور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا پھر جو یہ (غلام آزاد) نہ کرسکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ (قبول کرنے کا ذریعہ) ہے اور یقیناً اللہ تو علیم و حکیم ہے۔

اب ایک اور معاشرتی مسئلہ آ رہا ہے۔ اس وقت در اصل پورے عرب کے اندر ایک بھٹی دہک رہی تھی ‘ جگہ جگہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں ‘ میدان لگ رہے تھے ‘ معرکے ہو رہے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں تو صرف بڑے بڑے معرکوں اور غزوات کا ذکر ہوا ہے مگر حقیقت میں اس وقت پورا معاشرہ حالت جنگ میں تھا۔ ایک چومکھی جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔ ان آیات سے اس وقت کے عرب معاشرے کی اصل صورت حال اور اس قبائلی معاشرے کے مسائل کی بہت کچھ عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں فرض کریں ‘ ایک شخص نے کسی دوسرے کو قتل کردیا۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ قاتل کہتا ہے کہ میں نے عمداً ایسا نہیں کیا ‘ میں نے تو شکار کی غرض سے تیر چلایا تھا مگر اتفاق سے نشانہ چوک گیا اور اس کو جا لگا۔ تو اب یہ مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا دو طرح کا ہوسکتا ہے ‘ قتل عمد یا قتل خطا۔ یہاں اس بارے میں وضاحت فرمائی گئی ہے۔ آیت 92 وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا الاَّ خَطَءًاج خطا کے طور پر قتل کیا ہے ؟ نشانہ چوک گیا اور کسی کو جا لگا یاسڑک پر حادثہ ہوگیا ‘ کوئی شخص گاڑی کے نیچے آکر مرگیا۔ آپ تو اسے مارنا نہیں چاہتے تھے ‘ بس یہ سب کچھ آپ سے اتفاقی طور پر ہوگیا۔ چناچہ سعودی عرب میں حادثات کے ذریعے ہونے و الی اموات کے فیصلے اسی قانون قتل خطا کے تحت ہوتے ہیں۔ وہ قانون کیا ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَءًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ اور جو شخص کسی مؤمن کو قتل کر دے غلطی سے تو اس کے ذمہ ہے ایک مسلمان غلام کی گردن کا آزاد کرانا وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَہْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ط“ یعنی قتل خطا کے بدلے میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ دیت یعنی خون بہا ادا کیا جائے گا ‘ یہ مقتول کے ورثاء کا حق ہے۔ اور گناہ کے کفّارے کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا ‘ یہ اللہ کا حق ہے۔ فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُم وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ط“ کیونکہ کافر قبیلے کا آدمی تھا اور اگر اس کی دیت دی جائے گی تو وہ اس کے گھر والوں کو ملے گی جو کہ کافر ہیں ‘ لہٰذا یہاں دیت معاف ہوگئی ‘ لیکن ایک غلام کو آزاد کرنا جو اللہ کا حق تھا ‘ وہ برقرار رہے گا۔ وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ اور اگر وہ مقتول ہو کسی ایسی قوم سے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَہْلِہٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ج گویا یہ دو حق الگ الگ ہیں۔ ایک تو دیت ہے جو مقتول کے ورثاء کا حق ہے ‘ اس میں یہاں رعایت نہیں ہوسکتی ‘ البتہ جو حق اللہ کا اپنا ہے یعنی گناہ کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ‘ تو اس میں اللہ نے نرمی کردی ‘ جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر تو اس کا بدلہ جہنّم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اللہ نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے

اب آگے قتل عمد کے قانون کے متعلق تفصیلات کا ذکر ہے۔ آیت 93 وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا۔ جیساکہ آغاز سورة میں ذکر ہوا تھا کہ حرمت جان اور حرمت مال کے تصور پر معاشرے کی بنیاد قائم ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کا قتل کردینا اللہ کے ہاں ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة المائدہ آیت 32 میں قتل ناحق کو پوری نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قاتل نے حرمت جان کو پامال کر کے شجر تمدّن کی گویا جڑ کاٹ دی ‘ اور اس کا یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانی نسل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ ہمارے ہاں ایمان واسلام کتنا کچھ ہے اور انسانی جان کی قدر و قیمت کیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں قتل عمد کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں اور انسانی جان مچھر مکھی کی جان کی طرح ارزاں ہوچکی ہے۔ اب اگلی آیت کو سمجھنے کے لیے عرب کے ان مخصوص حالات کو نظر میں رکھیں جن میں مسلمان اور غیر مسلم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے ‘ مختلف علاقوں میں کچھ لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور کچھ ابھی کفر پر قائم تھے اور کوئی ذریعہ تمیز بھی ان میں نہیں تھا ‘ جگہ جگہ معرکے بھی ہو رہے تھے۔ اب فرض کریں کسی علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے۔ مسلمان مجاہد سمجھا کہ سامنے سے کافر آ رہا ہے ‘ مگر جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے بڑھاتو اس نے آگے سے کلمہ پڑھ کر دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس صورت حال میں ممکن ہے سمجھا جائے کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ اس بارے میں حکم دیا جا رہا ہے :
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے اہل ایمان جب تم اللہ کی راہ میں نکلوتو تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص بھی تمہارے سامنے سلام پیش کرے (یا اسلام پیش کرے) اس کو یہ مت کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو تم دنیا کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے ہاں بڑی غنیمتیں ہیں تو (دیکھو) تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے

آیت 94 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقآی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج تم اس کی باطنی کیفیت معلوم نہیں کرسکتے۔ ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جان سکتا ‘ لہٰذا دنیا میں تمام معاملات کا اعتبار زبانی اسلام اقرارٌ باللّسان پر ہی ہوگا۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ رہا ہے اور اپنے اسلام کا اظہار کر رہا ہے تو آپ کو اس کے الفاظ کا اعتبار کرنا ہوگا۔ اس آیت کے پس منظر کے طور پر روایات میں ایک واقعے کا ذکر ملتا ہے جو حضرت اسامہ رض کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کسی سریہّ میں حضرت اسامہ رض کا ایک کافر سے دو بدو مقابلہ ہوا۔ جب وہ کافر بالکل زیر ہوگیا اور اس کو یقین ہوگیا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے کلمہ پڑھ دیا : اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ اب ایسی صورت حال میں جو کوئی بھی ہوتا یہی سمجھتا کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ حضرت اسامہ رض نے بھی یہی سمجھتے ہوئے اس پر نیزے کا وار کیا اور اسے قتل کردیا۔ لیکن دل میں ایک خلش رہی۔ بعد میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اَقَالَ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ ؟ اس نے لا الٰہ الاّ اللہ کہہ دیا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا ؟ حضرت اسامہ رض نے جواب دیا : یارسول اللہ ! اس نے تو ہتھیار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ اَقَالَھَا اَمْ لَا ؟ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ جان لیا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا تھا یا نہیں ؟ حضرت اسامہ رض ‘ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ بات مجھ سے بار بار فرمائی ‘ یہاں تک کہ میں خواہش کرنے لگا کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا ! 1 بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے اسامہ ‘ اس دن کیا جواب دو گے جب وہ کلمہ شہادت تمہارے خلاف مدعی ہو کر آئے گا ؟ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاز کہ ایسے شخص کو کافر قرار دیں ‘ قتل کریں اور مال غنیمت لے لیں۔ فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط۔ تمہارے لیے بڑی بڑی مملکتوں کے اموال غنیمت آنے والے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ تم خود بھی تو پہلے ایسے ہی تھے ‘ تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا ہے“ ۂ آخر ایک دور تم پر بھی تو ایسا ہی گزرا ہے۔ تم سب بھی تو نو مسلم ہی ہو اور ایک وقت میں تم میں سے ہر شخص کافر یا مشرک ہی تو تھا ! پھر اللہ ہی نے تم لوگوں پر احسان فرمایا کہ تمہیں کلمہ شہادت عطا کیا اور رسول ﷺ کی دعوت و تبلیغ سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ لہٰذا اللہ کا احسان مانو اور اس طریقے سے لوگوں کے معاملے میں اتنی سخت روش اختیار نہ کرو۔ فَتَبَیَّنُوْاطاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا اگلی آیت مبارکہ میں جہاد کا لفظ بمعنی قتال آیا ہے۔ جہاں تک جہاد کی اصلی روح کا تعلق ہے تو ایک مؤمن گویا ہر وقت جہاد میں مصروف ہے۔ دعوت و تبلیغ بھی جہاد ہے ‘ اپنے نفس کے خلاف اطاعت الٰہی بھی جہاد ہے۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : اَلمُجَاہِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ 2 بلکہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ ؟ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَات اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 3 یہ کہ تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرو انہیں اللہ کا مطیع بنانے کے لیے“۔ چناچہ جہاد کی بہت سی منازل ہیں ‘ جن میں سے آخری منزل قتال ہے۔ تاہم جہاد اور قتال کے الفاظ قرآن میں ایک دوسرے کی جگہ پر بھی استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں الفاظ کے تین ایسے جوڑے ہیں جن میں سے ہر لفظ اپنے جوڑے کے دوسرے لفظ کی جگہ اکثر استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے ایک جوڑا تو یہی ہے ‘ یعنی جہاد اور قتال کے الفاظ ‘ جبکہ دوسرے دو جوڑے ہیں مؤمن و مسلم اور نبی و رسول“۔