25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب بھی آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو آپ ﷺ کا مذاق بنا لیتے ہیں کیا یہ ہیں جنہیں اللہ نے بھیجا ہے رسول بنا کر

آیت 41 وَاِذَا رَاَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ” قریش مکہ کے ہاں حضور ﷺ کی دعوت کی مخالفت کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ وہ بات سننے کے لیے کبھی سنجیدہ نہ ہوتے اور آپ ﷺ کی دعوت کو ہمیشہ مذاق میں اڑا دیتے۔ نہ وہ آپ ﷺ کی بات کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ‘ نہ کبھی اس پر غور کرتے اور نہ ہی اس کا کوئی سنجیدہ جواب دیتے۔ اَہٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا۔ ” یہ اور اس طرح کے دوسرے جملوں کے ذریعے وہ لوگ آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے تھے۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

قریب تھا کہ یہ شخص ہمیں اپنے معبودوں سے ورغلا دیتا اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے عنقریب جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو جان جائیں گے کہ کون بھٹکا ہوا تھا راستے سے

آیت 42 اِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْہَا ط ” اگر ہم نے اپنے ان معبودوں کے ساتھ وفاداری کا رشتہ استوار نہ کر رکھا ہوتا تو یہ شخص ضرور ہمیں ان سے برگشتہ کر کے راستے سے بھٹکا دیتا۔ وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ” انہیں بہت جلد یہ حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ اصل گمراہ کون تھا ؟ جنہیں یہ گمراہی کا الزام دیتے ہیں وہ یا یہ خود !
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے تو (اے نبی ﷺ !) کیا آپ ایسے شخص کی ذمہ داری لے سکتے ہیں

آیت 43 اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُ ط ” یہاں شرک کی ایک بہت اہم قسم بیان ہوئی ہے ‘ جو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس پر بڑے بڑے موحدینّ کو غور کرنا چاہیے کہ دراصل شرک صرف ”یا علی مدد !“ کا نعرہ لگانے یا قبر پرستی تک ہی محدود نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ کے کسی واضح حکم کے مقابلے میں خواہش نفس پر عمل پیرا ہونا بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ انسان کو اس کا نفس ہر وقت دنیا سمیٹنے اور زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرنے کے حسین خواب دکھاتا ہے۔ وہ حرام کو اپنانے کے لیے ُ پر کشش تو جیہات پیش کرتا ہے۔ مثلاً یہ کہ آج کے بینک کا سود حرام نہیں ہے ‘ پرانے دور میں تو سود کو اس لیے حرام کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے غرباء کا استحاصل ہوتا تھا ‘ آج کے بینکنگ نظام پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ‘ آج تو بینک کی معاونت کے بغیر کوئی کاروبار چل ہی نہیں سکتا ‘ اس لیے بینک کے تعاون سے فلاں کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ چناچہ اگر کسی شخص نے اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر اپنے نفس کی بات مان لی تو گویا وہ اپنے نفس کا بندہ بن گیا۔ اب اس کا نفس ہی اس کا ”مطاع“ ہے اور جو کوئی بھی کسی کا اصل مطاع ہوگا وہی اس کا معبود ہوگا۔ عبادت در اصل مکمل غلامی کا نام ہے۔ جس طرح ایک غلام اپنے آقا کا ہر حکم ماننے کا پابند ہے اسی طرح ایک بندے عبد پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے معبود کی مکمل فرمانبرداری کرے اور اس کے کسی بھی حکم سے سرتابی نہ کرے۔ عبادت کا یہ مفہوم سورة المؤمنون میں درج فرعون کے اس جملے سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے : وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ کہ ان دونوں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی قوم ہماری غلام اور اطاعت شعار ہے۔ اب اگر کوئی شخص زبان سے توحید پرستی کا دعویٰ کرے ‘ لَا اِلٰہ الاَّ اللّٰہ کے وظیفے کرے اور چلے ّ کاٹے ‘ لیکن عملاً اطاعت اور فرمانبرداری اپنے نفس کی کرے تو حقیقت میں وہ توحید پرست نہیں بلکہ نفس پرست ہے اور اس کا نفس ہی اصل میں اس کا معبود ہے۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا آپ ﷺ کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں یہ نہیں ہیں مگر چوپایوں کی مانند بلکہ ان سے بڑھ کر بھٹکے ہوئے ہیں

آیت 44 اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَہُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ ط ” یہ لوگ آپ ﷺ کی محفل میں کچھ سننے اور سمجھنے کے لیے نہیں آتے بلکہ یہ تو اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے آتے ہیں تاکہ واپس جا کر انہیں بتاسکیں کہ ہم تو بڑے اہتمام کے ساتھ گئے تھے کہ محمد ﷺ کی باتوں کو خود سنیں اور سمجھیں لیکن ان سے تو ہمیں کوئی خاص بات سننے کو ملی ہی نہیں۔ اِنْ ہُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ” چوپائے تو کسی کلام کے مفہوم کو سمجھنے سے اس لیے معذور ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس سطح کا شعور ہی نہیں دیا ‘ لیکن یہ لوگ انسان ہو کر بھی عقل اور شعور سے کام نہیں لیتے۔ اس لحاظ سے یہ لوگ چوپایوں اور جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ وہ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو مستقل ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس پر راہنما بنایا

آیت 45 اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ج ” جب رات ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پوری زمین پر ایک سیاہ چادر اوڑھا دی گئی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ج ” اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو پوری زمین پر ہمیشہ رات ہی رہتی ‘ دن کا اجالا کبھی نمودار ہی نہ ہوتا۔ جیسے کہ سورة القصص میں فرمایا گیا : قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ”اے نبی ﷺ ! ان لوگوں سے پوچھئے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لیے تم پر رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟“ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ” تُعْرَفُ الْاَشْیَاءُ بِاَضْدَادِھَا چیزیں اپنی مخالف چیزوں سے پہچانی جاتی ہیں کے مصداق سورج کے وجود سے ہی ہمیں روشنی اور تاریکی کا پتاچلتا ہے۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

آیت 46 ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا ” جب سورج طلوع ہوتا ہے تو سائے بہت لمبے ہوتے ہیں۔ پھر جوں جوں سورج اوپر اٹھتا ہے تو آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے کوئی ان کی طنابیں کھینچ رہا ہو۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات کو بنایا تمہارے لیے اوڑھنا اور نیند کو آرام اور دن کو بنایا اٹھ کھڑے ہونے کا وقت

آیت 47 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا ” رات کو انسانوں کے آرام کرنے کے لیے موزوں کیا ‘ اور دن کے ماحول کو ان کے کام کاج کرنے کے لیے سازگار بنایا۔
Ayah 25:48

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اپنی رحمت کے آگے آگے بشارت بنا کر اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا

آیت 48 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج ” بادلوں کے آگے آگے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے گویا باران رحمت کی نوید سناتے جاتے ہیں۔ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوْرًا ” بارش کا پانی پاک بھی ہے اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ جب یہ پانی برستا ہے تو سب سے پہلے فضا کی آلودگی کو صاف کرتا ہے۔ پھر زمین کی بہت سی آلودگیوں کو سمندر میں بہا لے جاتا ہے۔ سمندر کے پانی سے بخارات کی صورت میں بالکل صاف اور ہر آلودگی سے پاک پانی پھر سے فضا میں پہنچ کر بادل کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ cycle چلتا رہتا ہے۔
Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تا کہ ہم زندہ کریں اس کے ذریعہ سے ُ مردہ زمین کو اور اس سے ہم سیراب کرتے ہیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو

آیت 49 لِّنُحْیِیَ بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا وَّنُسْقِیَہٗ مِمَّا خَلَقْنَآ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِیَّ کَثِیْرًا ” جہاں یہ پانی بہت سی آلودگیوں کو صاف کرتا ہے وہاں یہ جانوروں اور انسانوں کے پینے کے کام بھی آتا ہے۔ میڈیکل سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو انسانی یا حیوانی جسم کے اندر استعمال ہو کر پانی کہیں ختم consume نہیں ہوجاتا بلکہ یہاں بھی وہ جسم کے اندرونی نظام کو چلانے اور اس کی صفائی کرنے کا کام کرتا ہے۔ پانی کے ذریعے سے ہی جسم کے اندر خون کی گردش circulation ممکن ہوتی ہے اور metabolism کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فاضل اور نقصان دہ فضلات کا معدے ‘ گردوں ‘ پھیپھڑوں وغیرہ سے اخراج ممکن ہوتا ہے۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور اس کو ہم نے گردش میں رکھا ہوا ہے ان کے مابین تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ کفران نعمت ہی کرتے ہیں

آیت 50 وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوْاز ” سمندر کے بخارات سے بادلوں کا بننا ‘ اربوں ٹن پانی کا ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میلوں کے فاصلے طے کر کے مختلف علاقوں میں بارش برسانا ‘ ان بارشوں سے ندی نالوں اور دریاؤں کے سلسلوں کا جنم لینا ‘ انسانی آبادیوں سے میلوں کی بلندیوں پر گلیشیرز کی صورت میں پانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے ذخائر over head tanks کا وجود میں آنا ‘ پھر گلیشیرز کا پگھل پگھل کر ایک تسلسل کے ساتھ انسانی ضرورتوں کی سیرابی کا ذریعہ بننا ‘ اور اس سب کچھ کے بعد فالتو پانی کا پھر سے سمندر میں پہنچ جانا ! یہ ہے پانی کی گردش water cycle کا عظیم الشان نظام جو قدرت کے بڑے بڑے عجائبات میں سے ہے اور زبان حال سے انسانی عقل و شعور کو دعوت فکر دیتا ہے کہ وہ اس کے خالق کو پہچانے اور اس پر ایمان لائے۔ فَاَبآی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا ” اس سب کے باوجود اکثر لوگ ناشکری ہی پر اڑے ہوئے ہیں اور اس کے سوا کوئی دوسرا طرزعمل اختیار کرنے سے انکاری ہیں۔
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہم ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے

آیت 51 وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا ” اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر بستی میں بھی پیغمبر بھیج سکتے تھے ‘ لیکن عام طور پر ایک قوم کی طرف ایک پیغمبر ہی مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ سورة الرعد میں فرمایا گیا : وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ کہ ہر قوم کی طرف ایک پیغمبر بھیجا گیا۔ اور یہ پیغمبر ہمیشہ ایسے شہر میں مبعوث کیا جاتا تھا جو متعلقہ قوم یا علاقے کے ثقافتی ‘ علمی ‘ تہذیبی اور سیاسی مرکز کی حیثیت سے معروف ہوتا تھا۔ کیونکہ کسی بھی علاقے کے عوام ہر پہلو سے اپنے مرکزی شہر میں پروان چڑھنے والے رجحانات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی قانون اور اصول سورة القصص کی آیت 59 میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا ”اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بڑی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج دیتا۔“
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کفارّ کر کہنا نہ مانئے اور آپ ﷺ ان کے ساتھ جہاد کریں اس (قرآن) کے ذریعے سے بڑا جہاد

آیت 52 فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ ” یہاں پر لفظ اطاعت حکم کی تعمیل کے مفہوم میں نہیں آیا ‘ بلکہ اس فقرے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو اس سورت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کو مکہّ میں درپیش تھے۔ اس وقت مکہ کی فضا انتہائی کشیدہ تھی اور حضور ﷺ پر ہر طرف سے شدید دباؤ تھا۔ ان حالات میں اکثر لوگ آپ ﷺ کو مشورے دیتے تھے اور بار بار سمجھاتے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنی پوری قوم کے ساتھ جو لڑائی مول لے رکھی ہے یہ مناسب حکمت عملی نہیں ہے۔ اس سے قبیلے میں پھوٹ پڑجائے گئی ‘ بھائی بھائی سے کٹ جائے گا ‘ اولاد والدین سے ُ جدا ہوجائے گی ‘ قبیلے کی بنی بنائی ساکھ برباد ہوجائے گی اور اس کے نتائج سب کے لیے بہت بھیانک ہوں گے۔ اگر آپ ﷺ اپنے موقف میں تھوڑی سی لچک پیدا کرلیں تو صلح صفائی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے اور حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ چناچہ کشمکش کے اس ماحول میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب ولید بن مغیرہ سمیت قریش کے اکثر اکابرین چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کی کچھ باتیں تسلیم کرلی جائیں ‘ اس کے جواب میں آپ ﷺ بھی اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کریں ‘ اس طرح کوئی درمیانی راہ نکل آئے اور تصادم کا خطرہ ٹل جائے۔ لیکن اہل مکہّ کی اس سوچ اور کوشش کے باوجود آپ ﷺ اپنے موقف پر پوری تندہی اور دل جمعی سے ڈٹے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ایک طرف اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ ہو رہا تھا تو دوسری طرف آپ ﷺ پر شدید نوعیت کا معاشرتی دباؤ تھا۔ اس صورت حال کی نزاکت اور شدت کی ایک جھلک سورة بنی اسرائیل کی ان آیات سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے : وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗق وَاِذًا لاَّتَّخَذُوْکَ خَلِیْلاً وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْہِمْ شَیْءًا قَلِیْلاً ”اے نبی ﷺ ! ! یہ لوگ تو تلے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کو فتنے میں ڈال کر اس سے بچلا دیں جو ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ ﷺ کچھ اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں۔ اور اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ آپ ﷺ کو اپنا گاڑھادوست بنا لیتے۔ اور اگر ہم نے آپ ﷺ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہو ہی جاتے“۔ اس سیاق وسباق میں آیت زیر نظر کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی کسی بات کو قبول کرنا تو درکنار آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں کی طرف بالکل دھیان ہی نہ دیں۔ وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا ” ان مشکل حالات میں آپ ﷺ کو قرآن کے ذریعے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ چناچہ مکہّ میں بارہ سال تک آپ ﷺ نے جو جہاد کیا وہ جہاد بالسیف نہیں تھا بلکہ جہاد بالقرآن تھا۔ اس جہاد کی آج پھر ہمارے معاشرے میں شدید ضرورت ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے میری کتاب ”جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ“ کا مطالعہ مفید رہے گا ‘ جو میری دو تقاریر پر مشتمل ہے۔ بہر حال آج ہمیں اپنے قومی و ملکی مسائل کے حل کے لیے قرآن کی تلوار ہاتھ میں لے کر جہاد کرنے اور قرآنی دعوت ‘ تربیت ‘ تزکیہ ‘ انذار اور تبشیر کے ذریعے سے ِ اقامت دین کے لیے ایک بھر پور انقلابیّ جدوجہد برپا کرنے کی ضروت ہے۔ ہمارے اجتماعی مسائل کا حل بھی یہی ہے اور ہمارے اندرونی امراض کی دوا وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ یونس : 57 بھی اسی میں ہے۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے (اللہ) جس نے دو دریا چلا دیے یہ میٹھا ہے نہایت خوش ذائقہ اور یہ کھاری ہے نہایت کڑوا اور ان دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ اور مضبوط آڑ بنا رکھی ہے

ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج ” اس کی قدرت سے نمکین اور کھارے سمندر کے اندر میٹھے پانی کی رو بھی بہہ رہی ہے۔ وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ” یہ پردہ ‘ آڑ یا روک نظر آنے والی کوئی چیز تو نہیں ہے ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی صناعیّ کا شاہکار ہے کہ میٹھا پانی کڑوے پانی کے ساتھ سمندر کے اندر دور تک ملنے نہیں پاتا۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پانی سے پیدا کیا انسان کو تو اس نے بنایا اس کے لیے نسب اور سسرالی رشتہ۔ اور آپ کا رب سب قدرتوں کا مالک ہے

آیت 54 وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا ” پانی سے یہاں انسان کا مادۂ تولید بھی مراد ہوسکتا ہے اور عام پانی بھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار چیز پانی سے ہی پیدا کی ہے۔ فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہْرًاط وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا ” انسان کا نسب تو اس کے والدین سے چلتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بیوی کے حوالے سے دوسرے خاندان کے ساتھ بھی اس کا رشتہ اور تعلق جوڑا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ساس اور سسر کو بھی اللہ تعالیٰ نے والدین جیسا تقدس اور احترام عطا کیا ہے۔ سسرالی رشتہ داریاں اگر نہ ہوتیں تو قبیلوں اور خاندانوں کا معاشرے میں باہمی ارتباط و اختلاط ممکن نہ ہوتا اور ہر خاندان دوسرے خاندان سے الگ تھلگ رہتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سسرالی رشتوں کا تانا بانا اس طرح سے ُ بن رکھا ہے کہ اس سے نوع انسانی باہم مربوط ہوتی چلی جاتی ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور وہ بندگی کرتے ہیں اللہ کے سوا ان کی جو نہ تو انہیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور یہ کافر لوگ اپنے رب کی طرف سے پیٹھ موڑے ہوئے ہیں

وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا ” یہ لوگ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہی نہیں۔ ظھیر کا معنی مددگار بھی ہے اور علٰی مخالفت کے لیے آتا ہے۔ اس طرح ان الفاظ کا مفہوم ہوگا کہ کافر لوگ اپنے رب کے خلاف دوسروں کے مددگار بنتے ہیں۔
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ ﷺ کو مگر بشیر اور نذیر بنا کر

آیت 56 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ” تا کہ جو لوگ حق کا راستہ اختیار کرلیں انہیں اللہ کی رحمتوں اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دیں : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ۔ اور جو لوگ انکار پر مصر رہیں انہیں جہنم کے عذاب سے خبردار کریں۔
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو چاہے اپنے رب کا راستہ اختیار کرے

آیت 57 قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ” آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ میں تمہیں دعوت دینے اور قرآن سنانے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہوں ‘ لیکن میں نے اس کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجرت نہیں مانگی ‘ کبھی کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا۔ تم لوگ مجھ پر شاعر ‘ کاہن اور جادوگر ہونے کا الزام تو دھرتے ہو ‘ مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ شاعر ‘ کاہن ‘ جادوگر وغیرہ سب تو ہر وقت معاوضے اور انعام کے لالچ میں رہتے ہیں ‘ جبکہ میں تو محض اخلاص اور تمہاری خیر خواہی کی بنیاد پر دعوت دین کی خدمت سر انجام دے رہا ہوں۔ اس میں میرا اجر یا معاوضہ ہے تو صرف اس قدر کہ تم میں سے کسی کو اپنے رب کے راستے پر آنے کی توفیق مل جائے ‘ اور اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے نہ کہ میری کوئی غرض یا منفعت !
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور آپ ﷺ توکلّ کیے رکھئے اس زندۂ جاوید ہستی پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے

وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے کرتوتوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے۔ وہ اللہ جو الحی اور القیوم ہے اور اپنے بندوں کے حال پر ہر آن نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان لوگوں کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک بات جواب دہی کے لیے اس کے ہاں ریکارڈ ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اہل ایمان کے نیک اعمال کی بھی ایک ایک تفصیل لکھی جا رہی ہے تاکہ انہیں ان کا بھر پور بدلہ دیا جاسکے۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے

اَلرَّحْمٰنُ فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا ” اللہ تعالیٰ کی صفات اور شان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو کسی صاحب علم سے پوچھو ! جب کبھی انسان اپنے متعلق سوچتا ہے یا اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ‘ اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے خالق کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ‘ اس تک رسائی چاہتا ہے ‘ اسے پانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تجسسّ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ انسانی فطرت کی اسی آواز کو کسی شاعر نے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے : ؂ مجھ کو ہے تیری جستجو ‘ مجھ کو تری تلاش ہے خالق مرے کہاں ہے تو ؟ مجھ کو تری تلاش ہے ! انسانی فطرت کی اسی جستجو اور اسی تلاش کی راہنمائی کے لیے فرمایا گیا کہ اس کے بارے میں ایسے لوگوں سے پوچھو جو اس سے آشنائی رکھتے ہوں ‘ اسے پانے کے لیے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی اس کے ساتھ دوستی ہو : وَکُوْنُوْا مَعَ الصّدِقین۔ التوبۃ کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے ہی تمہیں اللہ کی معرفت حاصل ہوگی۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے سجدہ کرو رحمن کو تو وہ کہتے ہیں کہ رحمن کون ہے کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تم ہمیں حکم دے رہے ہو اور اس نے بڑھا دیا انہیں نفرت میں

آیت 60 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِج قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُق ” مشرکین مکہّ کے لیے اللہ کا لفظ تو معروف تھا مگر رحمن سے وہ واقف نہیں تھے۔ چناچہ وہ حضور ﷺ پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ اللہ کے بجائے آپ رحمن کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ یہ نیا نام ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا ” یعنی ہم آپ ﷺ کے کہنے پر اسے سجدہ کیوں کریں ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے آپ ﷺ کی بات تسلیم کرلی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ یہی وہ ضد ہے جسے قرآن میں ”شِقَاق“ کہا گیا ہے۔ اس ضد اور تعصب میں وہ لوگ آپ ﷺ کی مبنی بر حقیقت بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا ” یعنی اس طرح حق سے ان کی نفرت مزید بڑھ رہی ہے اور ان کے جذبۂ فرار میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں رکھ دیا ایک چراغ اور ایک روشن چاند

اب اس سورة کا آخری رکوع شروع ہو رہا ہے جو ہمارے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کا ایک اہم درس درس نمبر 11 بھی ہے۔ منتخب نصاب کے حصہ اول میں چار جامع اسباق ہیں۔ ان میں سے دوسرا درس آیت البر سورۃ البقرۃ کی آیت 177 پر مشتمل ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں۔ حصہ دوم میں ”مباحث ایمان“ کے عنوان کے تحت پانچ دروس ہیں جن میں سے تین مقامات سورۃ الفاتحہ ‘ سورة آل عمران کے آخری رکوع کی آیات اور سورة النور کی آیات نور یعنی پانچواں رکوع کا مطالعہ ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ منتخب نصاب کا تیسرا حصہ ”مباحث عمل صالح“ پر مشتمل ہے اور اس حصے کا پہلا درس سورة المؤمنون کی ابتدائی آیات کے حوالے سے ہے ‘ جن کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں۔ ان آیات میں ایک بندۂ مؤمن کی سیرت کی تعمیر کے لیے بنیادی اساسات کے بارے میں راہنمائی کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الفرقان کے آخری رکوع کی جن آیات کا مطالعہ اب ہم کرنے چلے ہیں منتخب نصاب کے تیسرے حصے کا دوسرا درس ان آیات کے حوالے سے ہے ان میں بندۂ مؤمن کی تعمیر شدہ mature شخصیت و سیرت کے خصائص اور خدوخال کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ لیکن اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے رکوع کی ابتدائی دو آیات میں ایمان کے بارے میں قرآن حکیم کے فطری استدلال کا خلاصہ بیان ہوا ہے : آیت 61 تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا ” یہاں سورج کے لیے ”سراج“ یعنی چراغ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور چاند کو روشن بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک یہ حقیقت انسان کے علم میں آچکی ہے کہ سورج کے اندر جلنے یا تحریق combustion کا عمل جاری ہے ‘ جس کی وجہ سے وہ روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت کا منبع بھی ہے ‘ جبکہ چاند محض سورج کی روشنی کے انعطاف reflection کی وجہ سے روشن نظر آتا ہے اور اس میں کسی قسم کا عمل تحریق نہیں پایا جاتا۔ اس کی سطح ہماری زمین کی سطح سے ملتی جلتی ہے۔ اب تو انسان خود چاند کی سطح کا عملی طور پر مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے دن اور رات کو بنا دیا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے

آیت 62 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا ” دن ‘ رات اور ان کا الٹ پھیر آیات الٰہیہ میں سے ہیں اور آیات الٰہیہ پر غور کرنے سے انسان کو اللہ کی ذات ‘ اس کے علم اور اس کی قدرت و حکمت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ پھر جب انسان اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی توحید ‘ اس کی صناعی اور اس کی قدرت پر دلالت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایمان کے ضمن میں یہ دو آیات گویا اس مضمون کی تمہید ہے جس میں ”عباد الرحمن“ یعنی اللہ کے محبوب اور چہیتے بندوں کی سیرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر بندۂ مسلمان کو اپنے دل میں ایک خواہش اور امنگ ضرور پیدا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی اپنے ان خاص بندوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر اسے ان بندوں کی صف میں شامل ہونے کے لیے عملی طور پر کوشش بھی کرنی چاہیے۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی اور نرمی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں

آیت 63 وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا ” وہ اپنے آپ کو آقا اور مالک نہیں بلکہ اللہ کے بندے اور غلام سمجھتے ہیں۔ وہ چلتے بھی غلاموں ہی کی طرح ہیں۔ ان کی چال میں اکڑ کی بجائے عاجزی اور فروتنی ہوتی ہے۔ وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ” عربی میں جاہل کا معنی اَن پڑھ یا بےعلم آدمی نہیں ‘ بلکہ اس سے مراد اجڈ اور مشتعل مزاج شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بدتمیزی کا برتاؤ کرے۔ ”عباد الرحمن“ کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ جاہل اور اجڈ قسم کے لوگ ان کی بات کو سمجھنے اور اس سے اثر لینے کی بجائے پنجابی محاورہ کے مطابق ان سے محض سینگ پھنسانا چاہتے ہیں یعنی انہیں خواہ مخواہ بحث و مباحثہ میں الجھانا چاہتے ہیں تو انہیں سلام کرکے وہ اپنی راہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ایسی گفتگو یا بحث سے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ چناچہ ایک سمجھدار اور معقول آدمی کو چاہیے کہ وہ مناسب انداز میں دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرے ‘ لیکن جب اسے محسوس ہو کہ اس کا مخاطب جان بوجھ کر بات کو سمجھنا نہیں چاہتا اور خواہ مخواہ کی بحث میں الجھنا چاہتا ہے تو وہ کسی قسم کی بد مزگی پیدا کیے بغیر خود کو ایسی صورت حال سے الگ کرلے۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے

آیت 64 وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ” جہاں تک پانچ نمازوں کا تعلق ہے وہ تو فرائض میں شامل ہیں۔ ان نمازوں کی پابندی بندۂ مؤمن کی سیرت کی بنیاد ہے۔ چناچہ سورة المؤمنون کے آغاز میں جب بندۂ مؤمن کے کردار کی اساسات پر بات ہوئی تو وہاں نماز پنج گانہ کی محافظت کا ذکر ہوا : وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ لیکن یہاں چونکہ اللہ کے ان خصوصی بندوں کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں اللہ سے دوستی کا شرف اور اس کا قرب نصیب ہوچکا ہے ‘ اس لیے یہاں جس نماز کا ذکر ہوا ہے وہ نماز بھی خصوصی ہے یعنی نماز تہجد۔ چناچہ اللہ کے یہ نیک بندے اپنے رب کے حضور راتوں کی تنہائیوں میں اس وقت حاضر ہوتے ہیں جب دوسرے لوگ سو رہے ہوتے ہیں اور یوں وہ اپنی راتیں اس کے سامنے اس طرح گزار دیتے ہیں کہ کبھی حالت قیام میں ہیں اور کبھی سربسجود ہیں۔
Ayah 25:65

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور (اس کے باوجود) وہ لوگ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ! عذاب جہنم کو ہم سے پھیر دے یقیناً اس کا عذاب چمٹ جانے والی شے ہے

آیت 65 وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَق اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ” سورۃ النور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کی ایسی ہی کیفیت بیان فرمائی ہے : یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ”وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن کے خیال سے جس میں دل اور نگاہیں الٹ دیے جائیں گے“۔ یعنی اگرچہ وہ اپنی ہر مصروفیت پر اللہ کے ذکر کو ترجیح دیتے ہیں اور ہر حالت میں نماز قائم کرتے ہیں ‘ مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ احتساب آخرت کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
Ayah 25:66

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

یقیناً وہ بہت بری جگہ ہے مستقل ٹھکانے کے لیے بھی اور عارضی قیام کے لیے بھی

آیت 66 اِنَّہَا سَآءَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا ” دنیا میں عام طور پر انسانی طبیعت کا خاصہّ ہے کہ وہ ہر دم تبدیلی چاہتا ہے۔ تبدیلی کے طور پر وہ تھوڑی دیر کے لیے بری سے بری جگہ پر بھی تفریح محسوس کرتا ہے اور اگر اسے اچھی سے اچھی جگہ پر بھی مستقل رہنا پڑے تو وہاں اسے بہت جلد اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جنت اور جہنم کی کیفیت یکسر مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق جنت ایسی پر کشش جگہ ہے کہ وہاں مستقل رہنے کے باوجود اہل جنت کو اس کی دلچسپیوں اور رعنائیوں میں ذرہ بھر کمی محسوس نہیں ہوگی اور جہنم میں اگر کوئی انسان ایک لمحہ کے لیے بھی چلا گیا تو وہ اپنی ساری سختیاں اس پر اسی ایک لمحے میں ظاہر کر دے گی۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ (ان کا معاملہ) اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے

آیت 67 وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ ” اگرچہ کسی بھی معاملے میں اعتدال قائم رکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے مگر اللہ کے ان بندوں کی سیرت ایسی پختہ mature ہوتی ہے کہ انہیں اپنے اخراجات کے اندر اعتدال اور توازن قائم رکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو اور نہ ہی قتل کرتے ہیں کسی جان کو جس کو اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ ہی کبھی وہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اس کی سزا کو حاصل کر کے رہے گا

وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ط ” حق سے مراد یہاں وہ قانونی صورتیں ہیں جن صورتوں میں کسی انسان کی جان لی جاسکتی ہے ‘ یعنی قتل کے بدلے قتل ‘ مرتد کا قتل ‘ حربی کافر کا قتل اور شادی شدہ زانی کا رجم۔ اس آیت میں تین کبیرہ گناہوں کا ذکر ہوا ہے : شرک ‘ قتلِ ناحق اور زنا۔ شرک کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دو دفعہ فرما دیا کہ مشرک کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور قتل ایسا بھیانک گناہ اور جرم ہے جس سے تمدن کی جڑ کٹتی ہے ‘ جبکہ زنا سے معاشرہ گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة النساء میں ایسے کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے لیے چھوٹے گناہوں سے معافی کی خوشخبری سنائی ہے : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا النساء ”اگر تم لوگ بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ داخل کریں گے۔“
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کا عذاب دو گنا کردیا جائے گا اور وہ اس میں رہے گا ہمیشہ ہمیش ذلیل ہو کر

آیت 69 یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُہَانًا ” یہ آیت اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اس سے قیامت کے دن سے پہلے کا عذاب ثابت ہوتا ہے ‘ یعنی جو عذاب اس شخص کو اس سے پہلے دیا جا رہا ہوگا قیامت کے دن اس عذاب کو دو گنا کردیا جائے گا۔ منکرین حدیث عذاب قبر کو نہیں مانتے۔ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید میں عذاب قبر کا ثبوت نہیں ملتا۔ اگرچہ قرآن میں صراحتاً عذاب قبر کا ذکر نہیں ہے ‘ لیکن بعض آیات سے واضح طور پر برزخی زندگی کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ِ آیت زیر مطالعہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے مجرمین عذاب جھیل رہے ہوں گے اور یقیناً اس عذاب سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ہی مراد ہے۔ بہر حال احادیث میں عذاب قبر کے بارے میں بہت تفصیلات ملتی ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ اور یہ کہ قبر میں یا تو جنت کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے ٹھنڈی ہوا اور خوشبو آتی ہے ‘ یا پھر دوزخ کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے آگ کی لپٹ اور لو آتی ہے۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور اللہ غفور ہے رحیم ہے

آیت 70 اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ” گویا جو شخص اس طرح کے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ قانوناً اس کا شمار کافروں میں نہیں ہوتا مگر حقیقی ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے یہاں توبہ کے بعد ایمان کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کی توبہ دراصل از سر نو ایمان لانے کے مترادف ہے۔ بہر حال اگر اس نے موت کے آثار نظر آنے سے پہلے پہلے مَا لَمْ یُغَرْغِرْ توبہ کرلی تو اس کو عذاب سے استثناء مل سکتا ہے۔ فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ط ” اس کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نامۂ اعمال میں جو برائیوں کا اندراج تھا وہ صاف کردیا جائے گا اور اس کی جگہ نیکیوں کا اندراج ہوجائے گا۔ اور دوسرے یہ کہ توبہ کرنے سے انسان کے دامن اخلاق کے دھبےّ دُھل جاتے ہیں اور اس کا دامن صاف شفافّ ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو ایسا شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق

آیت 71 وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ” یعنی توبہ کے بعد گناہوں سے کنارہ کش ہوگیا اور تقویٰ کی روش اختیار کرلی تو یہی اصل توبہ ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص زبان سے توبہ توبہ کے الفاظ ادا کرتا رہے اور استغفار کی تسبیحات پڑھتا رہے ‘ سوا لاکھ مرتبہ آیت کریمہ پڑھوا کر ختم بھی دلائے مگر اس کی حرام خوری جوں کی توں رہے اور وہ گناہوں سے باز نہ آئے تو اس کی توبہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو جھوٹ پر موجود نہیں رہتے اور جب وہ کسی لغو کام پر سے گزرتے ہیں تو با وقار انداز سے گزر جاتے ہیں

آیت 72 وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَلا ” یہ صرف جھوٹ کی گواہی سے بچنے کی بات نہیں بلکہ اس سے ایسی بلند تر کیفیت کا ذکر ہے جس کے اندر جھوٹی گواہی سے بچنے کا مفہوم ضمنی طور پر خود بخود آجاتا ہے۔ یعنی اللہ کے یہ نیک بندے حق و صداقت کی غیرت و حمیت میں اس قدر پختہ ہوتے ہیں کہ کسی ایسی جگہ پر وہ اپنی موجودگی بھی گوارا نہیں کرتے جہاں جھوٹ بولا جا رہا ہو یا جھوٹ پر مبنی کوئی دھندا ہو رہا ہو۔ وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا ” اگر ان لوگوں کا کہیں اتفاق سے کسی کھیل تماشے اور لغو کام پر سے گزر ہو تو وہ اس سے اپنا دامن بچا کر بےنیازی سے گزر جاتے ہیں۔ یہی مضمون سورة المؤمنون میں اس طرح آیا ہے : وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ کہ مؤمنین ہر قسم کی لغویات سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرپڑتے

آیت 73 وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ” اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ایسے لوگ جب قرآنی آیات کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو ان کا رویہ اندھوں یا بہروں جیسا نہیں ہوتا ‘ بلکہ وہ ان پر غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ وہ قریش مکہّ کی طرح اندھے اور بہرے بن کر اللہ کی آیات کی مخالفت پر کمر نہیں کس لیتے۔ اس مفہوم میں اس آیت کا انداز طنزیہ ہوگا کہ جو رویہ مشرکین مکہّ نے کلام اللہ کے ساتھ اپنا رکھا ہے ‘ اللہ کے نیک بندوں کا ایسا رویہ نہیں ہوتا۔ سورة محمد میں کفار کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا ”کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑگئے ہیں ؟“ بہر حال ”عبادالرحمن“ کے مقام و مرتبہ سے یہ بات فروتر ہے کہ وہ قرآن کو اندھے اور بہرے ہو کر مانیں یا پڑھیں۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا

آیت 74 وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ ” یعنی جس راستے پر ہم چل رہے ہیں ‘ ہمارے اہل و عیال کو بھی اسی راستے پر چلنے والا بنادے تاکہ ان کی طرف سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ‘ کیونکہ اللہ کے ان نیک بندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو اسی میں ہوگی کہ ان کے گھر والے بھی اللہ کے فرمانبردار بندے بنیں اور اللہ کی بندگی کے راستے کو اختیار کریں۔ اس کے برعکس اگر گھر کا سربراہ اللہ کے دین پر چلنے والا ہو اور اس کے اہل و عیال کی ترجیحات کچھ اور ہوں تو گھر کے اندر کشیدگی اور کش مکش کا ماحول پیدا ہوجائے گا جو ان میں سے کسی کے لیے بھی باعث سکون نہیں ہوگا۔ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ” اس کا یہ مطلب نہیں کہ ”عباد الرحمن“ امامت اور پیشوائی کے لیے بےقرار ہیں بلکہ اس دعا کو اس حوالے سے سمجھنا چاہیے کہ مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کے بیوی بچے اس کے تابع اور پیروکار ہوتے ہیں۔ چناچہ گھر کے سربراہ کی دعا اور خواہش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اہل و عیال کو بھی متقی بنا دے۔ اس امامت کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ میدان حشر میں ہر انسان کے اہل و عیال اور اس کی نسل کے لوگ اس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہوں گے۔ عباد الرحمن کی یہ دعا اس لحاظ سے بھی برمحل ہے کہ اے اللہ ! میدان حشر میں ہم جن لوگوں کے سربراہ یا لیڈر بنیں ان کو بھی نیک اور پرہیزگار بنا دے ‘ تاکہ وہ لوگ بھی ہمارے ساتھ جنت میں داخل ہو کر ہماری خوشی اور اطمینان کا باعث بنیں۔ ایسانہ ہو کہ ہمارے پیچھے آنے والی نسلوں کے لوگ جہنم کے مستحق ٹھہریں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ 1 کہ تم میں سے ہر شخص کی حیثیت ایک چرواہے کی سی ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔ اس لحاظ سے ہر آدمی کے اہل و عیال اس کی رعیت ہیں اور اپنی اس رعیت کے بارے میں وہ مسؤل ہوگا۔ چناچہ ان کی ہدایت کے لیے اسے کوشش بھی کرنی چاہیے اور دعا بھی۔
Ayah 25:75

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر کی جزا میں بالاخانے ملیں گے اور ان میں ان کا استقبال کیا جائے گا دعاؤں اور سلام کے ساتھ

آیت 75 اُولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا ” اللہ تعالیٰ دنیا میں بندوں کو آزماتا رہتا ہے۔ ایک نیک انسان کی زندگی میں ایسے بیشمار مواقع آتے ہیں جب اس کے سامنے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ یہ راستہ بےحد پر کشش بھی ہے اور آسان بھی۔ دوسری طرف نیکی اور اللہ کی فرمانبرداری کے راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے کے لیے قدم قدم پر انسان کو صبر کرنا پڑتا ہے اور شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے ایک بندۂ مؤمن کی پوری زندگی ہی صبر سے عبارت ہے۔ چناچہ اس کے اس صبر کا بدلہ اسے آخرت میں جنت اور اس کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
Ayah 25:76

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ بہت ہی عمدہ جگہ ہے مستقل قیام کے لیے بھی اور تھوڑی دیر ٹھہرنے کے لیے بھی

آیت 76 خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا ” یہ گویا ان الفاظ کا تقابل contrast ہے جو آیت 66 میں وارد ہوئے : سَآءَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ میرے رب کو تمہاری کوئی پروا نہیں اگر نہ ہوتا تمہیں پکارنا اب جبکہ تم نے جھٹلادیا ہے تو عنقریب یہ (عذاب تمہیں) چمٹ کر رہے گا

آیت 77 قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج ” بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت اور قانون کے تحت تمہاری طرف مبعوث فرما کر مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں۔ اس کے لیے میں سالہا سال سے تمہارے پیچھے خود کو ہلکان کر رہا ہوں۔ گلیوں اور بازاروں میں تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا ہوں ‘ تمہارے گھروں میں جا کر تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے تم لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ تم لوگ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض ہے یا تمہارے بغیر میرے رب کا کوئی کام ادھورا پڑا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے رب کے حضور تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ اگر اللہ کو تمہیں راہ ہدایت دکھا کر اتمام حجت کرنا منظور نہ ہوتا ‘ اور اس کے لیے میرا تمہیں مخاطب کرنا نا گزیر نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے پیچھے پیچھے نہ پھرتا۔ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا ” یعنی تمہارے اس انکار کی پاداش میں تم لوگوں کو سزا مل کر رہے گی۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم