Ayah 24:38وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ”
یہ تو تھی ایک مؤمن صادق کے دل اور اس کی کیفیت ایمان کے بارے میں تمثیل اور اس کے کردار کی ایک جھلک۔ اب اگلی دو آیات میں ان لوگوں کے اعمال کے بارے میں دو تمثیلیں بیان کی گئی ہیں جن کے دل ایمان حقیقی کی روشنی سے یکسر خالی ہیں مگر وہ اپنے دل کی تسلی اور اپنے ضمیر کے اطمینان کے لیے نیکی کے مختلف کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ ان تمثیلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی نیکیاں اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہیں۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر ِ کے الفاظ اور ان الفاظ کا مفہوم ایک دفعہ اپنے ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں :
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَآٰءِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِلا والسَّآءِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِج وَاَقَام الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عَاہَدُوْاج والصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِط اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاج وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ
”نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو ‘ بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لائے اللہ پر ‘ یوم آخرت پر ‘ فرشتوں پر ‘ کتابوں پر اور نبیوں پر۔ اور وہ مال خرچ کرے اس مال کی محبت کے باوجود ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ محتاجوں ‘ مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں ‘ اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوٰۃ ‘ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہد کرلیں ‘ اور صبر کرنے والے ہیں فقر و فاقہ میں ‘ تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں۔ یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔“
اب ملاحظہ کیجیے ایمان حقیقی کے بغیر انجام دیے گئے نیک اعمال کی مثال :
Ayah 24:39وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ”
یعنی اگر کسی شخص کا دل حقیقی ایمان سے محروم ہے تو خدمت خلق کے میدان میں اس کے کارناموں اور دوسرے نیک کاموں کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ ایسی نیکیاں تو گویا سراب دھوکہ ہیں۔ جیسے صحرا میں ایک پیاسا شخص سراب چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے اعمال کو نیکیوں کا ڈھیرسمجھتے ہیں ‘ لیکن روز حساب ان پر اچانک یہ حقیقت کھلے گی کہ ان کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہیں پاسکا۔ سورة ابراہیم کی آیت 18 میں ایسے لوگوں کے اعمال کو راکھ کے اس ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جو تیز آندھی کی زد میں ہو۔
اس سلسلے کی دوسری مثال ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کی زندگیاں ایسی جھوٹ موٹ کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں اور ان کے باطن سرا سر شہوات نفس اور دنیا پرستی کی گندگی سے بھرے پڑے ہیں :
Ayah 24:40آیت 40 اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ط ”
یعنی اندھیری رات ہے ‘ سمندر کی گہرائی میں موج در موج کی کیفیت ہے اور اوپر فضا میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ گویا روشنی کی کسی ایک کرن کا بھی کہیں کوئی وجود نہیں۔
ظُلُمٰتٌم بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰٹہَا ط ”
مطلق تاریکی absolute darkness کی اس کیفیت کو اردو محاورے میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ ایک فرینچ ایڈمرل اس آیت کو پڑھ کر مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کی ساری عمر سمندروں میں گزری تھی اور پانی کے نیچے absolute darkness کی کیفیت اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ یہ آیت پڑ ھ کر اسے بجا طور پر یہ تجسسّ ہوا کہ کیا محمد ﷺ نے بحری سفر بھی کیے تھے ؟ اور جب اسے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کوئی بحری سفر نہیں کیا تو اس نے اعتراف کرلیا کہ یہ ان ﷺ کا کلام نہیں اللہ کا کلام ہے ‘ کیونکہ ایسی تشبیہہ تو صرف وہی شخص دے سکتا ہے جو سمندر میں غوطہ خوری کرتا رہا ہو اور سمندر کی گہرائی میں اندھیروں کی کیفیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا چکا ہو۔
وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ”
یعنی وہ لوگ جن کی زندگیاں ملمع کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں ان کے لیے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔
Ayahs 24:41–42آیت 41 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ”
نہ صرف آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں بلکہ ان دونوں آسمان و زمین کے مابین جو مخلوق ہے وہ بھی اس میں شامل ہیں۔
وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَا تَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط ”
یہی مضمون سورة بنی اسرائیل کی آیت 44 میں اس طرح آیا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط کہ کوئی چیز اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو اللہ کی تسبیح وتحمید نہ کر رہی ہو ‘ لیکن تم لوگوں کو ان کے طریقہ تسبیح کا شعور نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 24:43–44آیت 43 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ”
سمندر کے بخارات سے بادل بنتے ہیں اور ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔
ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا ”
جن لوگوں کو ہوائی سفر کا تجربہ ہے انہوں نے بادل کے تہ بر تہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔ ابر آلود موسم میں بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بادلوں کی ایک تہ میں سے جہاز اوپر چڑھتا ہے اور اس کے بعد فضا صاف ہوتی ہے۔ پھر اوپر جا کر بادلوں کی ایک اور تہ ہوتی ہے۔ اس طرح متعدد تہیں ہوسکتی ہیں۔
وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْم بَرَدٍ ”
جب زمین پر اولے پوری شدت سے برس رہے ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آسمانوں میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔
فَیُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَیَصْرِفُہٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ ط ”
جب کسی کھیتی کو کسی وجہ سے برباد کرنا مقصود تو اس پر اللہ کی مشیت سے یہ اولے برس پڑتے ہیں اور جس کھیتی کو وہ تباہ کرنا نہیں چاہتا اس کی طرف سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک کھیت اولوں سے تباہ ہوگیا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرا کھیت بالکل سلامت رہا۔
Ayahs 24:45–46آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”
یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”
خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”
زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ”
آئندہ آیات میں منافقین کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس سے لے کر سورة المؤمنون تک چودہ سورتیں مسلسل مکیات تھیں۔ مکہ میں منافقین تو تھے نہیں لہٰذا ان تمام مکی سورتوں میں نہ تو نفاق کا ذکر آیا اور نہ ہی منافقین کا تذکرہ ہوا۔ ان مکی سورتوں میں گفتگو کا رخ زیادہ تر مشرکین مکہ کی طرف ہی رہا ہے۔ کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی آیا ہے ‘ لیکن انہیں براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان سورتوں میں حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو بھی مخاطب کیا جاتا رہا ہے۔ سورة النور کا نزول مدنی دور کے عین وسط یعنی 6 ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت مدینہ کے اندر اچھی خاصی تعداد میں منافقین موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔
Ayah 24:47ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط ”
یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے ہیں ‘ اطاعت کا دم بھی بھرتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا طرز عمل کچھ اور ہوتا ہے۔
Ayah 24:48آیت 48 وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ”
منافقین کے اس رویے ّ کا ذکر سورة النساء میں بھی آیا ہے۔ یہ لوگ فیصلوں کے لیے اپنے تنازعات رسول اللہ ﷺ کے بجائے یہودیوں کے پاس لے جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ کے فیصلے مبنی بر انصاف ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان کے خلاف ہی جاتے تھے۔
Ayah 24:49آیت 49 وَاِنْ یَّکُنْ لَّہُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ”
اگر کسی معاملہ یا تنازعہ میں وہ حق بجانب ہوں اور انہیں یقین ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو اس معاملے کو لے کر بڑے اطاعت شعار بنتے ہوئے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ وہ حضور ﷺ کے پاس آجاتے ہیں۔
Ayah 24:50بَلْ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ”
چونکہ یہ لوگ حقیقی ایمان سے محروم ہیں ‘ اس لیے اس کھوٹ کا عکس ان کے کرداروں میں نمایاں ہے۔
Ayahs 24:51–52آیت 51 اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط ”
کہ ہم تو فیصلے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حضور حاضر ہیں۔ آپ ﷺ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں بسر وچشم قبول ہوگا۔
Ayah 24:53آیت 53 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط ”
منافقین سے جب بھی کسی قربانی کا تقاضا کیا جاتا یا جہاد کے لیے نکلنے کا مرحلہ آتا تو وہ بہانے تراشتے ہوئے قسمیں کھاتے کہ ہمیں فلاں مجبوری ہے ‘ فلاں مسئلہ درپیش ہے ‘ لیکن اگر آپ ﷺ حکم دیں گے تو ہم بہرحال آپ ﷺ کے ساتھ ضرور نکلیں گے۔ جماعتی زندگی میں یہ نمونہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ امیر کی طرف سے ایک واضح حکم آجانے کے بعد بھی کچھ لوگ بہانے بناتے ہیں ‘ اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہیں اور مجبوریاں گنوانے کے بعد یوں بھی کہتے ہیں کہ ”ویسے اگر آپ حکم دیں تو ہم حاضر ہیں !“ گویا جو پہلے حکم دیا گیا ہے وہ حکم نہیں ہے ؟ امیر کی بات کو آپ حکم کیوں نہیں سمجھ رہے ؟
تو کیا جہاد کے لیے ایک واضح حکم کے بعد منافقین یہ توقع رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ خوشامد کر کے اسے راضی کریں کہ اجی ! آپ ضرور جہاد کے لیے تشریف لے جائیں !
قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاج طاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ ط ”
جب تم لوگ مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرنے اور مجھ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو تو باقی تمام اہل ایمان کی طرح میری اطاعت اختیار کرو۔ میری طرف سے جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اسے قبول کرو۔
Ayah 24:54آیت 54 قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج ”
قبل ازیں سورة النساء کے مطالعہ کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے کہ منافقین پر تین امور بہت بھاری تھے۔ یعنی حضور ﷺ کی شخصی اطاعت ‘ جہاد و قتال کے لیے نکلنا اور ہجرت۔ چناچہ آیت زیر نظر میں ان تین میں سے پہلے معاملے یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے بارے میں تاکید کی جا رہی ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط ”
رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور آپ ﷺ سے اسی ذمہ داری کے سلسلے میں پوچھا جائے گا۔ اب جب آپ ﷺ نے تم لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا کر اپنی یہ ذمہ داری ادا کردی ہے تو اس کے بعد ان احکام کی تعمیل کرنا اور اللہ کے دین کے لیے تن من دھن قربان کرنا تم لوگوں کی ذمہ داری ہے اور تم لوگ اپنی اسی ذمہ داری کے بارے میں اللہ کے ہاں مسؤل ہو گے۔
ان الفاظ میں جماعتی زندگی کے نظم و ضبط کے بارے میں ایک بہت ہی اہم اور بنیادی راہنما اصول فراہم کیا گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی اس ذمہ داری کی فکر کرے جس کے بارے میں وہ مسؤل ہے۔ جماعتی زندگی میں انفرادی سطح پر اکثر شکایات پیدا ہوجاتی ہیں ‘ یہاں تک کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور ﷺ جب مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے تو بنی تمیم کے ایک شخص نے کہا : اِعْدِلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ”اے اللہ کے رسول ‘ آپ عدل کریں !“ گو یا نعوذ باللہ آپ ﷺ عدل نہیں کر رہے تھے۔ اس گستاخی کے جواب میں آپ ﷺ نے غصے میں فرمایا : وَیْلَکَ ‘ وَمَنْ یَعْدِلُ اِذَا لَمْ اَعْدِلْ ؟ 1 ”تم برباد ہوجاؤ ‘ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر کون عدل کرے گا ؟“ اسی طرح جماعتی زندگی کے معاملات میں کسی شخص کو بھی اپنے امیر سے شکایت ہوسکتی ہے کہ امیر نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ایسی صورت میں اس آیت میں دیے گئے اصول کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ جس شخص کی جو ذمہ داری ہے اس کے بارے میں وہ اللہ کے ہاں جوابدہ ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی ذمہ داری میں کمی یا کوتاہی کرے گا یا کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرے گا تو اللہ کے ہاں ہر کسی کا ٹھیک ٹھیک حساب ہوجائے گا۔ چناچہ جماعت کے اندر ایک شخص کو کسی شکایت کی صورت میں ناراض ہو کر بیٹھ رہنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ میں اپنی ذمہ داری کی فکر کروں جس کا مجھ سے حساب لیا جانا ہے۔ جہاں تک امیر کی زیادتی کا معاملہ ہے تو اس سلسلے میں وہ خود ہی اللہ کے ہاں جوابدہ ہوگا۔ اسے یہ بھی یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کے ہاں ہر کسی کے ساتھ زیادتی کی تلافی بھی کردی جائے گی۔
اس سورت کی آخری آیات میں جماعتی زندگی سے متعلق بہت اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ ان آیات پر مشتمل ایک اہم درس ہمارے ”مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب 2“ میں شامل ہے۔ ”منتخب نصاب 2“ کے موضوعات جماعتی زندگی اور اس کے معاملات و مسائل سے ہی متعلق ہیں۔ ظاہر ہے اقامت دین کا کام انفرادی طور پر تو ہو نہیں سکتا۔ اس کے لیے ایک جماعت یا تنظیم کی تشکیل تو بہر حال نا گزیر ہے۔ قرآن نے ایسی جماعت کو ”حزب اللہ“ کا نام دیا ہے اور اس کی کامیابی کی ضمانت بھی دی ہے : فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ المائدۃ۔ حدیث میں بھی اس بارے میں یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ 2 کی خوشخبری دی گئی ہے کہ جماعت کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ یعنی جماعت کو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہے۔
جیسے اقامت دین کے لیے جماعت کا قیام ناگزیر ہے اسی طرح جماعت کے لیے نظم اور ڈسپلن بھی ضروری ہے اور ڈسپلن کے لیے قواعد و ضوابط کی پابندی بھی لازمی ہے۔ پھر جماعت کے اندر پیدا ہونے والے مسائل کے تدارک اور حل کے لیے کچھ تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ چناچہ ان سب امور سے متعلق راہنمائی کے لیے اگر ہم قرآن سے رجوع کریں تو مختلف مقامات پر ہمیں بڑی عمدہ راہنمائی ملتی ہے۔ ایسے ہی مقامات سے آیات کا انتخاب کر کے منتخب نصاب 2 مرتب کیا گیا ہے۔
وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْاط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ”
اگلی آیت کو ”آیت استخلاف“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک طویل آیت ہے اور قرآن کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔
Ayah 24:55آیت 55 وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ”
یہ وعدہ محض موروثی اور نام کے مسلمانوں کے لیے نہیں ہے ‘ جو اللہ کے احکام کی کلی تعمیل کو اپنا شعار بنانے اور اس کے راستے میں جان و مال کی قربانی دینے کے لیے سنجیدہ نہ ہوں ‘ بلکہ یہ وعدہ تو ان مؤمنین صادقین کے لیے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی شرائط پوری کریں۔ یعنی جو ایمان حقیقی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے ہوں۔
لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْص ”
یعنی اے امت محمد ﷺ ! اگر تم لوگ ایمان حقیقی اور اعمال صالحہ کی دو شرائط پوری کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں اسی طرح غلبہ اور اقتدار عطا کرے گا جس طرح اس سے پہلے اس نے حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو خلافت عطا کی تھی یا حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کو مکابیّ سلطنت کی صورت میں اقتدار عطا کیا تھا۔ اس آیت میں خلافت کے وعدے کو تین مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اوّل تو یہ تاکیدی وعدہ ہے کہ اللہ لازماً مسلمانوں کو بھی خلافت عطا فرمائے گا جیسے اس نے سابقہ امت کے اہل ایمان کو خلافت عطا کی تھی۔ پھر فرمایا :
وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ ”
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو لازماً غالب کرے گا۔ ظاہر بات ہے کہ جہاں مسلمانوں کی خلافت ہوگی وہاں لازماً اللہ کے دین کا غلبہ ہوگا اور اگر کسی حکومت میں اللہ کا دین غالب ہوگا تو وہ لازماً مسلمانوں ہی کی خلافت ہوگی۔ گویا بنیادی طور پر تو یہ ایک ہی بات ہے ‘ لیکن صرف خلافت کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پہلی بات کو یہاں دوسرے انداز میں دہرایا گیا ہے۔ البتہ یہاں اس دین کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے جو اللہ نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 3 میں باقاعدہ نام لے کر بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا ط ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے ‘ اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمادیا ہے ‘ اور تمہارے لیے میں نے پسند کرلیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے“۔ بہر حال دوسری بات یہاں یہ بتائی گئی کہ خلافت ملے گی تو اس کے نتیجے کے طور پر اللہ کا دین لازماً غالب ہوگا۔ اور تیسری بات :
وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا ط ”
یہ اس کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت کے فوراً بعد کے زمانے میں مسلمانوں پر طاری تھی۔ اس زمانے میں مدینہ کے اندر مسلسل ایمرجنسی کی سی حالت تھی۔ فلاں قبیلے کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے ! فلاں قبیلہ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے ! کل قریش مکہ کی طرف سے ایک خوفناک سازش کی خبر پہنچی تھی ! آج ابو عامر راہب کے ایک شیطانی منصوبے کی اطلاع آن پہنچی ہے ! غرض ہجرت کے بعد پانچ سال تک مسلمان مسلسل ایک خوف کی کیفیت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے۔ اس صورت حال میں انہیں خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اب خوف کی وہ کیفیت امن سے بدلنے والی ہے۔
تینوں وعدوں کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں بار بار حروف تاکید استعمال ہوئے ہیں۔ تینوں افعال میں مضارع سے پہلے لام مفتوح اور بعد میں ”ن“ مشدد آیا ہے ‘ گویا تینوں وعدے نہایت تاکیدی وعدے ہیں۔
یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا ط ”
میرے نزدیک یہ حکم مستقبل سے متعلق ہے۔ یعنی جب میرا دین غالب آجائے گا تو پھر مسلمان خالص میری بندگی کریں گے اور کسی قسم کا شرک گوارا نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ کی حکومت قائم نہیں ہوگی تو معاشرہ شرک سے ُ کلیّ طور پر پاک نہیں ہو سکے گا۔ جیسے ہم پاکستان کے مسلمان شہری آج قومی اور اجتماعی اعتبار سے کفر و شرک کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آج اگر ہم سب انفرادی طور پر اپنے ذاتی عقائد بالکل درست بھی کرلیں اور اپنے آپ کو تمام مشرکانہ اوہام سے پاک کر کے عقیدۂ توحید کو راسخ بھی کرلیں تو بھی ہم خود کو شرک سے کلی طور پر پاک کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ یعنی جب تک ملک میں اللہ کا قانون نافذ اور اللہ کا دین عملی طور پر غالب نہیں ہوجاتا اور جب تک ملک میں دوسرے قوانین کے بجائے اللہ کے قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس ملک کے شہری ہونے کے اعتبار سے ہم کفر اور شرک کی اجتماعیت میں برابر کے شریک رہیں گے۔ چناچہ کسی ملک یا علاقے میں عملاً توحید کی تکمیل اس وقت ہوگی جب اللہ کے فرمان کے مطابق دین کل کا کل اللہ کے لیے ہوجائے گا : وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ط الانفال : 39۔
وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ”
اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دین کے غلبے کے ماحول میں بھی جو شخص کفر کرے گا تو اس کے اندر گویا خیر کا مادہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ باطل کے غلبے میں کسی شخص کا ایمان لانا ‘ اس پر قائم رہنا اور اس کے مطابق عمل کرنا انتہائی مشکل ہے ‘ لیکن جب دین غالب ہوجائے اور ساری رکاوٹیں دور ہوجائیں تو اس کے بعد صرف وہی شخص دین سے دور رہے گا جس کی فطرت ہی بنیادی طور پر مسخ ہوچکی ہے۔
ان دو مفاہیم کے علاوہ میرے نزدیک اس فقرے کا ایک تیسرا مفہوم بھی ہے اور اس مفہوم کے مطابق ”بَعْدَ ذٰلِکَ“ کے الفاظ کا تعلق مذکورہ تین وعدوں سے ہے ‘ کہ جب اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ لازماً تمہیں خلافت سے نوازے گا ‘ وہ لازماً تمہارے دین کو غالب کرے گا اور وہ لازماً تمہارے خوف کی کیفیت کو امن سے بدل دے گا تو اس کے بعد بھی جو شخص کمر ہمتّ نہ باندھے اور اقامت دین کیّ جدوجہدُ کے لیے اٹھ کھڑا نہ ہو تو اسے گویا ہمارے وعدوں پر یقین نہیں اور وہ عملی طور پر ہمارے ان احکام سے کفر کا مرتکب ہو رہا ہے !
یہ آیت 6 ہجری میں نازل ہوئی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہی اس کے مصداق کا ظہور شروع ہوگیا۔ 7 ہجری میں صلح حدیبیہ طے پاگئی جسے خود اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے ”فتح مبین“ قرار دیا : اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا الفتح۔ صلح حدیبیہ کے فوراً بعد 7 ہجری میں ہی خیبر فتح ہوا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے کثرت سے مال غنیمت عطا کیا۔ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا۔ 9 ہجری کو حج کے موقع پر mopping up operation کا اعلان کردیا گیا۔ اس اعلان کے مطابق آئندہ کے لیے مسجد حرام کے اندر مشرکین کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ جزیرہ نمائے عرب کے تمام مشرکین کو میعادی معاہدوں کی صورت میں اختتام معاہدہ تک اور عمومی طور پر چارہ ماہ کی مہلت دے دی گئی ‘ اور اس کے ساتھ ہی واضح حکم دے دیا گیا کہ اسّ مدت مہلت میں اگر وہ اسلام قبول نہیں کریں گے تو سب کے سب قتل کردیے جائیں گے۔ یوں 10 ہجری تک جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کا دین غالب ہوگیا ‘ اللہ کی حکومت قائم ہوگئی اور حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح محمد رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کے خلیفہ بن گئے۔
حضور ﷺ کے بعد خلافت راشدہ قائم ہوئی اور پھر اس کے بعد رفتہ رفتہ حالات میں بگاڑ آنا شروع ہوگیا جو مسلسل جاری ہے۔ سورة الانبیاء کے آخری رکوع کے مطالعہ کے دوران میں نے حضرت نعمان بن بشیر رض سے مروی ایک حدیث بیان کی تھی جس میں امت مسلمہ کے قیامت تک کے حالات کی واضح تفصیل ملتی ہے۔ زیرمطالعہ آیت کے مضمون کے سیاق وسباق میں آپ ﷺ کا یہ فرمان بہت اہم ہے ‘ لہٰذا ہم اس کا ایک بار پھر مطالعہ کرلیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ”تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ رہے“۔ یعنی جب تک اللہ چاہے گا میں بنفس نفیس تمہارے درمیان موجود رہوں گا۔ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اللہ اس کو اٹھا لے گا جب اسے اٹھانا چاہے گا“۔ یعنی جب اللہ چاہے گا میرا انتقال ہوجائے گا اور یوں یہ دور ختم ہوجائے گا۔ ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْھَاج النُّبُوَّۃِ ”پھر خلافت ہوگی نبوت کے نقش قدم پر“۔ یعنی میرے قائم کردہ نظام کے مطابق خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے ذریعے یہ نظام ایک بال کے فرق کے بغیر جوں کا توں قائم رہے گا۔ فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ”پھر یہ دور بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے“۔ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اس دور کو بھی اللہ اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا ”پھر کاٹ کھانے والی ظالم ملوکیت ہوگی“۔ فَیَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَکُوْنَ ”پس یہ دور بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا“ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اس کو بھی اللہ اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً ”پھر غلامی کی ملوکیت کا دور آئے گا“۔ یہ چوتھا دور ہمارا دور ہے۔ تیسرے دور کی ملوکیت میں سب کے سب حکمران بنو امیہ ‘ بنو عباس اور ترک بادشاہ مسلمان تھے۔ ان میں اچھے بھی تھے اور برے بھی مگر سب کلمہ گو تھے ‘ جبکہ چوتھے دور کی ملوکیت میں مختلف مسلمان ممالک غیر مسلموں کے غلام ہوگئے۔ کہیں مسلمان تاج برطانیہ کی رعایا بن گئے ‘ کہیں ولندیزیوں کے تسلط میں آگئے اور کہیں فرانسیسیوں کے غلام بن گئے۔ اس طرح پورا عالم اسلام غیر مسلموں کے زیر تسلط آگیا۔
اکیسویں صدی کا موجودہ دور عالم اسلام کے لیے ”مُلْکاً جَبْرِیًّا“ کا ہی تسلسل ہے۔ اگرچہ مسلم ممالک پر سے غیر ملکی قبضہ بظاہر ختم ہوچکا ہے اور ان ممالک پر قابض اقوام کی براہ راست حکومتوں کی بساط لپیٹ دی گئی ہے لیکن عملی طور پر یہ تمام ممالک اب بھی ان کے قبضے میں ہیں۔ استعماری قوتیں آج بھی ریموٹ کنٹرول اقتدار کے ذریعے ان ممالک کے معاملات سنبھالے ہوئے ہیں۔ ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف ‘ اور دوسرے بہت سے ادارے ان کے مہروں کے طور پر کام کر رہے ہیں اور یوں وہ اپنے مالیاتی استعمار کو اب بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ چوتھا دور بھی ختم ہوجائے گا : ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ اور پھر امت کو ایک بہت بڑی خوشخبری دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا : ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْہَاج النُّبُوَّۃِ ”اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور آئے گا“۔ یہ خوشخبری سنانے کے بعد راوی کہتے ہیں : ثُمَّ سَکَتَ ”پھر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے“۔ آپ ﷺ شاید اس لیے خاموش ہوگئے کہ اس کے بعد دنیا کے خاتمے کا معاملہ تھا۔
اس کے علاوہ ہم حضرت ثوبان رض سے مروی یہ حدیث بھی پڑھ آئے ہیں جس میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا نظام تمام روئے ارضی کے لیے ہوگا۔ حضرت ثوبان رض حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ ”اللہ نے میرے لیے تمام زمین کو لپیٹ دیا۔“ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا ”تو میں نے اس کے سارے مشرق اور مغرب دیکھ لیے۔“ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا ”اور میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہوگی جو مجھے دکھائے گئے۔“
اسی طرح ہم نے حضرت مقدادبن اسود رض سے مروی اس حدیث کا مطالعہ بھی کیا تھا جس میں حضور ﷺ نے فرمایا : ”روئے ارضی پر کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر اور کوئی کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ ایسا نہیں رہے گا جس میں دین اسلام داخل نہ ہوجائے ‘ خواہ کسی عزت والے کے اعزاز کے ساتھ خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کی صورت میں“۔ یعنی یا تو اس گھر والا اسلام قبول کر کے اعزاز حاصل کرلے گا یا پھر اسے ذلت کے ساتھ اسلام کی بالا دستی قبول کرنا پڑے گی۔ دین کے غلبے کی صورت میں غیر مسلم رعایا کے لیے یہ وہ اصول ہے جو سورة التوبہ میں اس طرح بیان ہوا : حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ یعنی وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔
آنے والے اس دور کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ان فرمودات کے ساتھ ساتھ اس معاملے کو منطقی طور پر یوں بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر واضح الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کردے اسے ُ کل کے کل دین نظام زندگی پر“۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں پانچ مرتبہ حضور ﷺ کی بعثت کے بارے میں یہ بھی واضح فرما دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو پوری نوع انسانی کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس مضمون میں سورة سبا کی یہ آیت بہت واضح اور نمایاں ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ”ہم نے آپ ﷺ کو پوری نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے ‘ لیکن اکثر لوگوں کا اس کا ادراک نہیں ہے“۔ سورة الانبیاء میں یہی مضمون ایک نئی شان سے اس طرح آیا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ”ہم نے تو آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے“۔ ان دونوں آیات کا مشترک مفہوم یہی ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد تب پورا ہوگا جب پورے عالم انسانیت پر اللہ کا دین غالب ہوگا۔ چناچہ قیامت سے پہلے تمام روئے ارضی پر دین حق کا غلبہ ایک طے شدہ امر ہے۔
Ayah 24:56آیت 56 وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ”
یہاں روئے سخن منافقین کی طرف ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ کی شخصی اطاعت والا معاملہ ان پر بہت شاق گزرتا تھا اور ایسے ہر حکم پر وہ بار بار یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ قرآنی آیات کے نزول کے بغیر ہی اپنی اطاعت کے بارے میں احکام جاری کرتے رہتے ہیں !
Ayah 24:57آیت 57 لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ج ”
ان کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ یہ زمین میں اللہ کے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔
Ayah 24:58اب سورت کے آخر میں معاشرتی و سماجی معاملات کے بارے میں دوبارہ کچھ ہدایات دی جا رہی ہیں۔ مضامین کی ترتیب کے اعتبار سے اس سورت کی مثال ایک ایسے خوبصورت ہار کی سی ہے جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا ہیرا ہے اور اس کے دونوں اطراف میں موتی جڑے ہوئے ہیں۔ سورت کا پانچواں رکوع جو اس کا وسطی رکوع ہے اس طرح شروع ہوتا ہے : اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط۔ یہ اس سورت کی آیت 35 ہے جو سورت کے تقریباً وسط میں کوہ نور ہیرے کی مانند ہے اور اس کے دونوں اطراف میں معاشرتی و سماجی احکام موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ احکام پہلے چار رکوعات میں ہیں اور کچھ آخری چار رکوعات میں۔
وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ط ”
دن رات میں تین اوقات تمہاری خلوت privacy کے اوقات ہیں۔ ان اوقات میں تمہارے غلام ‘ باندیاں اور بچے بھی بلا اجازت تمہاری خلوت میں مخل نہ ہوں۔ ان اوقات کی تفصیل یہ ہے :
ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ط ”
یعنی یہ تمہاری خلوت privacy کے اوقات ہیں۔ ان اوقات میں تمہارے خادموں اور تمہارے بچوں کا اچانک تمہارے پاس آجانا مناسب نہیں ‘ لہٰذا انہیں یہ ہدایت کردی جائے کہ وہ ان اوقات میں تمہاری خلوت کی جگہ آنے لگیں تو پہلے اجازت لے لیا کریں۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌم بَعْدَہُنَّ ط ”
یعنی ان اوقات کے علاوہ تمہارے غلام ‘ باندیاں یا بچے اگر تمہارے پاس بغیر اجازت آئیں جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط ”
یعنی گھر کے اندر ادھر ادھر مختلف کاموں کے لیے مختلف افراد کو وقتاً فوقتاً آنا جانا ہوتا ہے۔ اس طرح کی آمد و رفت پر ان خاص اوقات کے علاوہ کوئی پابندی نہیں ہے۔
Ayah 24:59آیت 59 وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط ”
گھروں میں داخلے کے آداب کے سلسلے میں ایک عمومی حکم اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 27 میں نازل ہوچکا ہے۔ تمہارے بچے جب بالغ ہوجائیں تو وہ بھی اس حکم کی تعمیل کریں۔
Ayah 24:60آیت 60 وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا ”
جن عورتوں کی نکاح کرنے کی عمر نہ رہی ہو اور وہ معمر ہوچکی ہوں۔
فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ ”
یعنی ایسی عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بڑی چادر ہی اوڑھ کر گھر سے باہر نکلیں۔ اسی طرح گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ان پر جوان عورتوں کی طرح ہر وقت دوپٹے اوڑھے رکھنے کی پابندی نہیں ہے۔
غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍم بِزِیْنَۃٍط ”
اپنی چادریں اتار کر رکھ دینے سے ان کی نیت دوسروں پر اپنی زینت ظاہر کرنے کی نہ ہو اور نہ وہ بظاہر ایسا کریں۔
وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ”
ان کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے انہیں جو رعایت دی جا رہی ہے اگر وہ اس رعایت سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنے کپڑوں کے بارے میں حتی الوسع احتیاط ہی کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے ‘ کیونکہ شیطان تو ہر وقت انسان کی تاک میں رہتا ہے۔ کیا خبر کس وقت وہ کوئی فتنہ کھڑا کر دے۔
Ayah 24:61آیت 61 لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ ”
یہاں پر اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی خاندان ‘ گھر یا برادری میں کوئی معذور شخص ہو جو معذوری کے سبب اپنی آزاد معاش کا اہل نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے شریعت کی ان پابندیوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ چناچہ ایسے لوگوں کے بارے میں یہاں واضح طور پر بتادیا گیا کہ اگر وہ تمہارے گھروں میں رہیں تو اس میں مضائقہ نہیں۔
اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗٓ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ط ”
جیسے کوئی کارخانہ ہو اور اس کے مالک کے پاس اس کی چابیاں ہوں ‘ وہ جب چاہے وہاں جائے اور بیٹھ کر کھائے پئے۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا ط ”
بعض لوگوں نے ان الفاظ سے خواہ مخواہ یہ مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو اکٹھے کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ دراصل یہ مجلسی احکام ہیں اور خصوصی طور پر اس حکم میں ایسی صورت حال مراد ہے جس میں کچھ لوگ کھانے کی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جبکہ بعض دوسرے لوگ ابھی نہیں پہنچتے اور پہلے آنے والوں کو اس سے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایسی صورت میں اجازت دی گئی ہے کہ جیسے سہولت ہو ویسے کھا پی لیا جائے ‘ سب کا اکٹھے کھانا ہی ضروری نہیں ہے۔ الگ الگ گروہوں میں بھی کھانا کھایا جاسکتا ہے اور الگ الگ افراد بھی کھا سکتے ہیں۔ اس میں خواہ مخواہ تکلف یا تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مجلسی احکام سے ایسا مفہوم نکالنے کی کوشش کرنا سراسر زیادتی ہے کہ یہاں ستر و حجاب کے احکام بھی نعوذ باللہ معطل کردیے گئے ہیں اور کھانے پینے کی مخلوط پارٹیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ معاذ اللہ !
فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلآی اَنْفُسِکُمْ ”
یعنی جس گھر میں تم بطور مہمان جا رہے ہو اس میں موجود لوگ تمہارے اپنے ہی لوگ ہیں ‘ وہ تمہارے عزیز اور رشتہ دار ہیں۔ چناچہ تم اپنے ان لوگوں کو ضرور ”السلام علیکم“ کہا کرو۔ خود اپنے گھر میں بھی داخل ہو تو ”السلام علیکم“ کہا کرو۔
تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ط ”
”السلام علیکم“ ایک ایسی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جو ایسے مواقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو خصوصی طور پر سکھائی ہے۔
Ayah 24:62آخری رکوع جو صرف تین آیات پر مشتمل ہے ‘ اس میں خالص جماعتی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔
وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ ط ”
نبی مکرم ﷺ کے بعد یہی حکم آپ ﷺ کے جانشینوں اور اسلامی نظم جماعت کے امراء کے لیے ہے۔ اس حکم کے تحت کسی جماعت کے تمام ارکان کو ایک نظم discipline کا پابند کردیا گیا ہے۔ اگر ایسا نظم و ضبط اس جماعت کے اندر نہیں ہوگا تو کسی کام یا مہم پر جاتے ہوئے کوئی شخص ادھر کھسک جائے گا ‘ کوئی اْدھر چلا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی اجتماعی کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ چناچہ اس حکم کے تحت لازمی قرار دے دیا گیا کہ کسی مجبوری یا عذر وغیرہ کی صورت میں اگر کوئی رخصت چاہتا ہو تو موقع پر موجود امیر سے باقاعدہ اجازت لے کر جائے۔
فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِءْتَ مِنْہُمْ ”
رخصت دینے کا اختیار تو آپ ﷺ ہی کے پاس ہے۔ یعنی اسلامی نظم جماعت کے لیے یہ اصول دے دیا گیا کہ اجتماعی معاملات میں رخصت دینے کا اختیار امیر کے پاس ہے۔ چناچہ امیر یا کمانڈر اپنے مشن کی ضرورت اور درپیش صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر مناسب سمجھے تو رخصت مانگنے والے کو اجازت دے دے اور اگر مناسب نہ سمجھے تو اجازت نہ دے۔ چناچہ کوئی بھی ماتحت یا مامور شخص اجازت مانگنے کے بعد رخصت کو اپنا لازمی استحقاق نہ سمجھے۔
وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللّٰہَ ط ”
اس لیے کہ وہ اجتماعی کام جس کے لیے حضور ﷺ اہل ایمان کی جماعت کو ساتھ لے کر نکلے ہیں ‘ آپ ﷺ کا ذاتی کام نہیں بلکہ دین کا کام ہے۔ اب اگر اس دین کے کام سے کوئی شخص رخصت طلب کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے ذاتی کام کو دین کے کام پر ترجیح دی ہے اور ذاتی کام کے مقابلے میں دین کے کام کو کم اہم سمجھا ہے۔ بظاہر یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ اور نازک صورت حال ہے ‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں۔
اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ”
یہاں یہ نکتہ نوٹ کیجیے کہ یہی مضمون سورة التوبہ میں بھی آیا ہے ‘ لیکن وہاں اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ اس فرق کو یوں سمجھئے کہ سورة النور 6 ہجری میں نازل ہوئی تھی ‘ جبکہ سورة التوبہ 9 ہجری میں۔ اسلامی تحریک لمحہ بہ لمحہ اپنے ہدف کی طرف آگے بڑھ رہی تھی۔ حالات بتدریج تبدیل ہو رہے تھے اور حالات کے بدلنے سے تقاضے بھی بدلتے رہتے تھے۔ چناچہ یہاں 6 ہجری فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے باقاعدہ اجازت طلب کرتے ہیں وہ واقعی ایمان والے ہیں ‘ جبکہ تین سال بعد سورة التوبہ میں غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا گیا کہ جو ایمان رکھتے ہیں وہ اجازت لیتے ہی نہیں۔ دراصل وہ ایمرجنسی کا موقع تھا اور اس موقع پر غزوۂ تبوک کے لیے نکلنا ہر مسلمان کے لیے لازم کردیا گیا تھا۔ ایسے موقع پر کسی شخص کا رخصت طلب کرنا ہی اس بات کی علامت تھی کہ وہ شخص منافق ہے۔ چناچہ وہاں سورۃ التوبہ میں رخصت دینے سے منع فرمایا گیا : عَفَا اللّٰہُ عَنْکَج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ آیت 43 ”اللہ آپ ﷺ کو معاف فرمائے یا اللہ نے آپ ﷺ کو معاف فرما دیا آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کو کیوں اجازت دے دی ؟“ اگر آپ ﷺ اجازت نہ بھی دیتے تو یہ لوگ پھر بھی نہ جاتے لیکن اس سے ان کے نفاق کا پردہ تو چاک ہوجاتا ! اس کے برعکس یہاں حضور ﷺ کو اختیار دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ جسے چاہیں رخصت دے دیں۔
اس مضمون کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں تو ایسے مواقع پر کسی اسلامی جماعت کے افراد کے درمیان ہمیں تین سطحوں پر درجہ بندی ہوتی نظر آتی ہے۔ پہلا درجہ ان ارکان کا ہے جو اپنے آپ کو دین کے کام کے لیے ہمہ تن وقف کرچکے ہیں۔ ان کے لیے دنیا کا کوئی کام اس کام سے زیادہ اہم اور ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے رخصت لینے کا کوئی موقع ومحل ہے ہی نہیں۔ اس سے نچلا درجہ ان ارکان کا ہے جو ایسے مواقع پر کسی ذاتی مجبوری اور ضرورت کے تحت باقاعدہ اجازت لے کر رخصت لیتے ہیں ‘ جبکہ اس سے نچلے درجے پر وہ لوگ ہیں جو اجازت کے بغیر ہی کھسک جاتے ہیں۔ گویا ان کا دین کے اس کام سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس درجہ بندی میں اوپر والے زینے کے اعتبار سے اگرچہ درمیان والا زینہ کم تر درجے میں ہے لیکن نچلے زینے کے مقابلے میں بہر حال وہ بھی بہتر ہے۔
یہ بات ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اسلامی جماعتوں کے اجتماعات کے موقع پر بعض رفقاء نہ تو اجتماع میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے نظم سے رخصت لیتے ہیں۔ نہ وہ پہلے بتاتے ہیں نہ ہی بعد میں معذرت کرتے ہیں۔ گویا انہیں کوئی احساس ہی نہیں ‘ نہ نظم کی پابندی کا اور نہ اپنی ذمہ داری کا۔ ان سے وہ رفقاء یقیناً بہتر ہیں جو اپنا عذر پیش کر کے اپنے امیر سے باقاعدہ رخصت لیتے ہیں۔ لیکن ان سب درجات میں سب سے اونچا درجہ بہرحال یہی ہے کہ دین کے کام کے مقابلے میں دنیا کے کسی کام کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس درجے پر فائز لوگوں کے ذاتی کام اللہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کاموں کو پس پشت ڈال کر اللہ کے کام کے لیے نکلتے ہیں تو ان کے کاموں کو اللہ خود سنوارتا ہے۔
Ayah 24:63آیت 63 لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط ”
یعنی رسول اللہ ﷺ کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے بلانے پر تم نہ جاؤ تو کوئی بڑی بات نہیں ‘ لیکن رسول ﷺ کے بلانے پر تم لبیک نہ کہو تو اپنے ایمان کی خیر مناؤ۔ اب ایک بلانا یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اس کے کسی دوست نے اپنے گھر کھانے کی دعوت دی اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ ایسی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کجا اور ایک عام آدمی کی دعوت کجا !۔۔ لیکن ایک بلانا اللہ کے رستے میں جہاد کے لیے بلانا ہے کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بلا رہے ہیں کہ آؤ اللہ کی راہ میں میرے ساتھ چلو اور دوسری طرف کوئی عام شخص کسی دوسرے شخص کو اپنی مدد کے لیے بلا رہا ہے تو رسول اللہ ﷺ کے بلانے اور ایک عام آدمی کے بلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
”دُعَآء الرَّسُوْلِ“ کا ایک مفہوم ”رسول ﷺ کو پکارنا“ بھی ہے۔ یعنی جیسے تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہو ‘ رسول اللہ ﷺ کو تم ایسے مخاطب نہیں کرسکتے۔ آپ ﷺ کے ادب اور احترام کے بارے میں سورة الحجرات میں بہت واضح ہدایات دی گئی ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ”اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ آپ ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو ‘ کہیں تمہارے سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے“۔ سورة الحجرات کے مطالعہ کے دوران اس بارے میں مزید تفصیل سے بات ہوگی۔
قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج ”
یہ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کی نیت میں پہلے سے ہی فتور ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یوں ہوتا ہے کہ جب لوگ کسی مہم کے لیے نکلے تو یہ بھی نکل پڑے۔ پھر جب دیکھا کہ ان کا نام جانے والوں میں شامل ہوچکا ہے تو اس کے بعد آنکھ بچا کر چپکے سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک گئے۔ یا اس کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی اجتماع میں شریک ہوئے ‘ وہاں اچانک کسی مہم کے لیے کچھ رضا کاروں کی ضرورت پڑگئی تو اب اس سے پہلے کہ رضا کاروں کے نام پوچھنے کا مرحلہ آتا ‘ یہ آنکھ بچا کر وہاں سے کھسک گئے۔
Ayah 24:64آیت 64 اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قَدْ یَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ ط ”
اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم ایمان و یقین کے حوالے سے کس مقام پر کھڑے ہو۔ وہ تمہارے ایمان کی کیفیت ‘ نیت کے اخلاص اور عمل کی تڑپ کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔