23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 23:76–83

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تھا تو (اس کے باوجود) نہ انہوں نے اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کی اور نہ ہی وہ گڑ گڑائے

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر کھول دیں گے بہت سخت عذاب کا دروازہ تو جبھی وہ اس میں بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنائے ہیں کان آنکھیں اور عقل بہت کم ہے جو تم شکر ادا کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں پھیلا دیا ہے اور پھر اسی کی طرف تم سب جمع کردیے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کا کام ہے دن رات کو بدلنا تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے بھی وہی کہا جو ان سے پہلے لوگوں نے کہا تھا

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

انہوں نے کہا تھا کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں ہی رہ جائیں گی تو کیا ہمیں پھر اٹھا لیا جائے گا

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

اسی کی دھمکی ہمیں دی جا رہی ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اَجداد کو بھی دی گئی تھی یہ کچھ بھی نہیں مگر قصے ہیں اگلے لوگوں کے

آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ” اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔
Ayahs 23:84–86

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ یہ زمین اور جو اس میں ہیں سب کس کے ہیں ؟ اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

یہ کہیں گے کہ اللہ ہی کے ہیں ! آپ ﷺ کہیے تو کیا تم غور نہیں کرتے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرش عظیم کا مالک کون ہے

آیت 84 قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” اس سورة مبارکہ کا یہ آخری حصہ بہت ہی پر جلال ہے۔ قاری محمد صدیق المنشاوی ان کا تعلق مصر سے ہے نے ان آیات کی تلاوت ایسے ُ پر سوز انداز میں کی ہے کہ اسے سنتے ہوئے آنسو ضبط کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
Ayahs 23:87–88

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

کہیں گے کہ (یہ سب کچھ بھی) اللہ ہی کا ہے ! آپ ﷺ کہیے تو کیا تم (اس اللہ سے) ڈرتے نہیں

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

ان سے یہ بھی پوچھئے کہ کون ہے وہ جس کے ہاتھ میں اختیار ہے ہر چیزکا ؟ اور جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں دی جاسکتی ؟ اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ)

آیت 87 سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ” تم لوگ اللہ کو اس دنیا ومافیہا کا خالق بھی مانتے ہو اور اسے عرش و فرش کا مالک بھی تسلیم کرتے ہو ‘ لیکن اس کے ساتھ بتوں اور دیوی دیوتاؤں کو اس کا شریک بھی بناتے ہو ! کیا تمہیں یہ جسارت کرتے ہوئے ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا ؟
Ayahs 23:89–90

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

یہ کہیں گے کہ (یہ شان تو) اللہ ہی کی ہے ! آپ ﷺ کہیے کہ پھر کہاں سے تم پر جادو ہوجاتا ہے

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے آئے ہیں لیکن یہ یقیناً جھوٹے ہیں

آیت 89 سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ ” یہ کون سا جادو اور فریب ہے جس کے اثر سے تم لوگ یہ سب کچھ تسلیم کر کے پھر شرک پر آمادہ ہوجاتے ہو ؟
Ayahs 23:91–93

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے ہرگز کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے (اگر ایسا ہوتا) تب تو ہر معبود اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ان میں سے ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اللہ پاک ہے اس سے جو یہ بیان کر رہے ہیں

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ جاننے والا ہے ہر غیب اور ظاہر کا چناچہ وہ بہت بلند ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ دعا کیجیے : اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ (عذاب) دکھائے جس کی انہیں دھمکی جا رہی ہے

سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت ارفع و اعلیٰ ومنزہّ ہے۔
Ayahs 23:94–95

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور یقیناً ہم آپ ﷺ کو وہ دکھا دینے پر قادر ہیں جس (عذاب) کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں

آیت 94 رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ” جس عذاب کی وعیدیں ان لوگوں کو دی جا رہی ہیں اگر وہ میری نگاہوں کے سامنے ان پر آگیا تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سے اپنی پناہ میں رکھنا۔ گویا ہر شخص کو اللہ کے ایسے عذاب سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اس ضمن میں سورة الانفال کی اس آیت کا مضمون لرزا دینے والا ہے : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃًج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ”اور ڈرو اس عذاب سے کہ وہ جب آئے گا تو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا ‘ اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے“۔ پاکستان کے خصوصی حالات کے پیش نظر ہم سب کو ایسی تنبیہات کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ چناچہ یہاں پر شریعت اسلامی کا عملی نفاذ ہم سب کیّ ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو مہلت عمل ہمیں دے رکھی ہے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اس سرزمین پر اقامت دین کی کوشش کے لیے کمر ہمت باندھ لینی چاہیے۔ اس فرض کی ادائیگی سے غفلت کی پاداش میں عذاب الٰہی کا ایک کوڑا ہم پر 1971 ء میں پڑچکا ہے۔ اب اس سے پہلے کہ ہماری مہلت عمل ختم ہوجائے اور ہم دوسرے کوڑے کی زد میں آجائیں ہمیں اپنے تن من اور دھن کو قربان کردینے کے جذبے کے ساتھ اس میدان میں نکلنا ہوگا۔ ہمارے لیے اللہ کی پکڑ سے بچنے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا یہی ایک راستہ ہے۔
Ayahs 23:96–97

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

آپ ﷺ مقابلہ کیجیے برائی کا اچھائی کے ساتھ ہم خوب جانتے ہیں ان باتوں کو جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے میرے رب ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیاطین کی چھوت سے

آیت 96 اِدْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ السَّیِّءَۃَ ط ” آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کریں۔ ان لوگوں کا آپ ﷺ کے ساتھ جیسا بھی رویہ ہو مگر آپ ﷺ کو اس کا مقابلہ نیکی اور بھلائی سے ہی کرنا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کی گالیوں کے جواب میں انہیں دعا دیں اور ان کے برا بھلا کہنے کے باوجود آپ ﷺ اس کو اللہ کی طرف بلاتے رہیں۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ” جو کچھ یہ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ہم اس سے خوب واقف ہیں۔
Ayahs 23:98–99

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے رب ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوگی تو وہ کہے گا : پروردگار ! مجھے ذرا واپس بھیج دے

آیت 98 وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ” ایک داعی کے لیے شیطان کی چھوت اور اکساہٹ کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اسے اپنی دعوتی کوششوں کے دوران اپنے مخاطبین پر غصہ آجائے اور وہ انہیں حق کی طرف مائل کرنے کے بجائے متنفر کر دے۔ سورة الاعراف کی آیت 200 میں بھی ایسی ہی صورت حال سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تا کہ جو کچھ میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں نیک کام کروں۔ ہرگز نہیں یہ محض ایک بات ہے جو وہ کہے گا اور اب ان کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے

آیت 100 لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا ط ” اے میرے پروردگار ! اب اگر تو مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تو میں اپنے مال و اسباب کو تیرے راستے میں اور تیرے دین کی خدمت میں لٹا دوں گا ! وَمِنْ وَّرَآءِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ” موت کے بعد تو اب بعث بعد الموت تک ان کے لیے عالم برزخ کی زندگی ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن ان میں کوئی نسبی تعلق نہیں رہے گا اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

آیت 101 فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ” اس دن ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا اور کوئی کسی کاُ پر سان حال نہیں ہوگا : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ عبس ”جس دن انسان بھاگے گا اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ جس دن ان میں سے ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بےپروا کر دے گی۔“
Ayahs 23:102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی فلاح پانے والے ہوں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی ہوں گے جنہوں نے خود کو ہلاکت میں ڈالا وہ جہنم میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش

آیت 102 فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ” یہ وہ خوش نصیب لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیوی زندگی میں واقعتا اپنی شخصیت کو اپنی روح کے فطری تقاضوں کے مطابق پروان چڑھایا تھا اور اپنی خودی اور سیرت کی تعمیر بھی انہی پاکیزہ بنیادوں پر کی تھی۔
Ayahs 23:104–109

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے چہروں کو جھلسا دے گی اور وہ اس کے اندر بدشکل ہوجائیں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کیا میری آیات تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور (ہم تسلیم کرتے ہیں کہ) ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! (ایک بار) ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم دوبارہ یہی کریں تو پھر ہم واقعی ظالم ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا : اب تم ذلیل و خوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

یقیناً میرے بندوں میں کچھ وہ لوگ بھی تھے جو کہا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں بسُ تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو تمام رحم کرنے والوں سے بہتررحم فرمانے والا ہے

آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ” چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔
Ayahs 23:110–113

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے ان کا مذاق اڑایا تھا یہاں تک کہ ان لوگوں (کا تمسخر اڑانے کی مصروفیت) نے تمہیں میرا ذکر بھلادیا اور تم ان پر ہنستے ہی رہتے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو بدلہ دیا ہے ان کے صبر کے طفیل کہ آج یقیناً وہی کامیاب ہیں

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(پھر) وہ ان سے پوچھے گا کہ تم لوگ کتنا عرصہ زمین میں رہے ہو سالوں کی گنتی میں

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم تو رہے ہیں (وہاں) بس ایک دن یا دن کا کچھ حصہ تو آپ پوچھ لیں حساب کتاب والوں سے

آیت 110 فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا ” میرے وہ بندے جب مجھ سے گڑ گڑا کر دعا کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ ” تم لوگ میرے بندوں کی تضحیک کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں ایسے مگن رہے کہ میں تمہیں بالکل ہی یاد نہ رہا۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا کہ (واقعتا) تم لوگ نہیں رہے ہو مگر بہت تھوڑا ہی عرصہ کاش کہ تم لوگ جانتے ہوتے

آیت 114 قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” آیت 84 سے شروع ہونے والے سلسلۂ کلام میں یہ آخری چار آیات خصوصی طور پر بہت جامع اور پرجلال ہیں۔ جیسا کہ آیت 84 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورت کے اس حصے کی تلاوت قاری محمد صدیق المنشاوی نے بہت پر تاثیر انداز میں کی ہے۔ ان کی یہ تلاوت سننے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے سننے سے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے :
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے

آیت 115 اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ” گزشتہ آیات کے سیاق وسباق میں اس آیت کا ترجمہ صیغہ ماضی میں ہوگا اور اس مفہوم میں اس کے مخاطب وہی جہنمی لوگ ہوں گے جن کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔ اور اگر اسے گزشتہ سلسلہ کلام سے علیحدہ پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ صیغہ حال میں کیا جائے گا اور پھر اس کا مخاطب ہر پڑھنے سننے والا اور دنیا کے ہر زمانے کا ہر انسان ہوگا کہ اے لوگو ! کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بےمقصد اور بیکار پیدا کیا ہے اور تمہیں ہمارے پاس واپس آکر اپنے ایک ایک عمل کا حساب نہیں دینا ہے ؟ عقلی اور منطقی طور پر یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آخرت کے تصور کے بغیر انسانی تخلیق کا مقصد سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اگر انسان عام حیوانات جیسا حیوان ہوتا تو پھر واقعی حیات بعد الممات اور آخرت کی کوئی ضرورت نہیں تھی ‘ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حیوانات کے برعکس انسان کے اندر فطری طور پر اخلاقی حس اور نیکی و بدی کی تمیز moral sense پیدا کی گئی ہے۔ اس اخلاقی حس کے نتیجے میں انسانی سطح پر جو اخلاقی اقدار moral values وجود میں آئی ہیں وہ کسی قوم ‘ کسی علاقے یا زمانے تک محدود نہیں ‘ بلکہ مستقل permanent اور آفاقی universal ہیں۔ چناچہ ”گندم از گندم بروید جوز جو“ گندم سے گندم اگتی ہے اور جو سے جو کے اصول کے مطابق اچھائی کا نتیجہ اچھا نکلنا چاہیے اور برائی کا برا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اور ہمیشہ لازمی طور پر ایسا نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ صورت حال منطقی طور پر تقاضا کرتی ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا وجود میں آئے ‘ جہاں ہر انسان کی موجودہ زندگی کے ایک ایک فعل اور ایک ایک عمل کا احتساب کر کے مصدقہ آفاقی اصولوں کے مطابق عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا اہتمام ہو۔ یہی نکتہ ہے جسے قرآن مجید مختلف مواقع پر ایمان بالآخرت کے لیے بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ بہر حال ایک ذی شعور انسان بالآخر اس منطقی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے اور بےاختیار پکار اٹھتا ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ آل عمران۔ ”اے ہمارے پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا ‘ تو پاک ہے ‘ پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے !“