23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 23:41–43

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

اور ان کو آپکڑا ایک چنگھاڑنے حق کے ساتھ تو ہم نے بنا دیا انہیں کوڑا کرکٹ تو پھٹکار ہے ان ظالموں کی قوم پر

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور بہت سی قومیں پیدا کیں

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم بھی نہ اپنے مقررہ وقت سے آگے بڑھ سکی اور نہ ہی اسے مؤخر کرسکی

آیت 41 فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ بالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَآءً ج ” جیسے کھیت سے فصل کٹ جانے کے بعد پیچھے بھوسہ اور خس و خاشاک پڑے رہ جاتے ہیں اسی طرح انہیں جھاڑ جھنکاڑ اور کوڑے کرکٹ میں تبدیل کردیا گیا۔
Ayahs 23:44–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے اپنے رسولوں ؑ کو پے در پے جب بھی کسی قوم کے پاس آیا اس کا رسول تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے بھی ایک کے پیچھے دوسری کو لگا دیا اور ہم نے بنا دیا ان کو قصے کہانیاں تو پھٹکار ہے اس قوم پر کہ جو ایمان نہیں لاتی

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے بھیجا موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ بڑے سر کش لوگ تھے

کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُہَاکَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا ” ان کی تکذیب کے جواب میں ہم بھی ان قوموں کو یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے چلے گئے۔ وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ ج ” ان قوموں کے نام اب دنیا میں کہانیوں اور داستانوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں کہ قوم مدین فلاں علاقے میں بستی تھی ‘ عامورہ اور سدوم کے شہر فلاں جگہ پر واقع تھے ‘ وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 23:47–49

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری محکوم ہے

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا اور ہوگئے ہلاک ہونے والوں میں سے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تاکہ وہ ہدایت پائیں

آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ” فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر لفظ ”عبادت“ کے اصل مفہوم کو بھی سمجھ لیں۔ ظاہر ہے کہ اس لفظ کا جو مفہوم آج ہمارے ذہنوں میں ہے بنی اسرائیل اس مفہوم میں فرعون یا اس کی قوم کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ یعنی وہ ان کی پرستش یا پوجا نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے اور یہاں فرعون نے اسی اطاعت کو لفظ ”عبادت“ سے تعبیر کیا ہے۔ چناچہ فرعون کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ‘ ہماری اطاعت شعار ہے ‘ ہم ان پر مطلق اختیار رکھتے ہیں ‘ ہم جو چاہیں انہیں حکم دیں اور جیسا قانون ہم چاہیں ان پر لاگو کریں۔ ہم چاہیں تو ان کے لڑکوں کو قتل کرواتے رہیں اور چاہیں تو ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا کریں۔ یہ لوگ ہمارے غلام اور محکوم ہونے کے باعث ہمارے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتے۔
Ayahs 23:50–51

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے ابن مریم (عیسی ؑ ٰ) اور اس کی والدہ (مریم) کو ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچے ٹیلے پر پناہ دی جو پرسکون اور چشموں والی جگہ تھی

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! پاکیزہ اور حلال چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اس سے باخبر ہوں

وَّاٰوَیْنٰہُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ” یہاں جس جگہ کا ذکر ہوا ہے اس کے مقام اور زمانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ٹیلا ہے جہاں ایک کھجور کے سایے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ شاید آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ماں بیٹا کچھ عرصہ اسی جگہ پر قیام پذیر رہے ہوں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی رائے میں یہ کسی اور جگہ کا ذکر ہے۔ اس دوسری رائے کی بنیاد جن معلومات پر ہے ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اس علاقے میں ہیرودیس بادشاہ کی حکومت تھی جو یہودی تھا۔ جس طرح برصغیر میں انگریزوں کی طرف سے راجوں اور نوابوں کو ان کے علاقوں میں حکمران بنا دیا جاتا تھا اسی طرح رومن شہنشاہ نے اس علاقے میں اس شخص کو بادشاہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کٹھ پتلی بادشاہ کو ایک خواب آیا تھا جس کی بنا پر نجومیوں نے اس کے دل میں یہ وہم ڈال دیا کہ تمہاری سلطنت میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنے گا۔ چناچہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں جو لڑکا بھی پیدا ہو ‘ اسے قتل کردیا جائے۔ اِن حالات میں حضرت مریم ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس یہودی بادشاہ کے انتقال کے بعد اس وقت واپس آئیں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ دس بارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ اس واقعہ کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔ چناچہ جو لوگ اس روایت کو درست سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اپنی اس جلاوطنی کے دوران مصر میں جس جگہ پر انہوں نے قیام کیا تھا آیت زیر نظر میں اس جگہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یقیناً یہ تمہاری امتّ ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں بس تم میرا ہی تقویٰ اختیار کرو

آیت 52 وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ” تمام پیغمبروں کا تعلق ایک ہی امت یا جماعت سے ہے۔ بعض روایات کے مطابق انبیاء ورسل علیہ السلام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول علیہ السلام ہیں اور باقی انبیاء علیہ السلام۔ ان انبیاء علیہ السلام ورسل علیہ السلام میں سے بعض کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے جبکہ اکثر کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ سورة النساء ‘ آیت 164 میں اس بارے میں یوں وضاحت فرمائی گئی ہے : وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط ”اور بھیجے وہ رسول علیہ السلام جن کا ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کرچکے ہیں ‘ اور ایسے رسول بھی جن کے حالات ہم نے آپ ﷺ کے سامنے بیان نہیں کیے۔“
Ayahs 23:53–55

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

لیکن لوگوں نے اپنے معاملے کو اپنے مابین تقسیم کرلیا ٹکڑے کر کے ہر گروہ کے لوگ جو کچھ ان کے پاس ہے اس پر اترا رہے ہیں

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ انہیں چھوڑ دیجیے ان کی مدہوشی میں ایک وقت تک کے لیے

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اور بیٹوں سے مدد دیے جا رہے ہیں

آیت 53 فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا ط ” اَمر سے یہاں مراد ”دین“ ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ اور وہ یہودیت ‘ عیسائیت وغیرہ ناموں پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔
Ayahs 23:56–58

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو ہم ان کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں ؟ (ایسا ہرگز نہیں !) لیکن یہ لوگ جانتے نہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

یقیناً وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں

آیت 56 نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ” ہماری طرف سے اپنے ان نافرمانوں کو مال و اولاد جیسی نعمتوں سے نوازتے چلے جانا ان کے ساتھ بھلائی کی علامت نہیں ہے بلکہ یہی چیزیں ان کے لیے موجب عذاب بن جائیں گی۔ سورة التوبہ میں یہ فلسفہ اس طرح بیان ہوا ہے : فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوْنَ ”تو اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو ‘ اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیا کی زندگی میں عذاب دے ‘ اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں“۔ اور سورة التوبہ ہی کی آیت 85 میں الفاظ کے بہت معمولی فرق کے ساتھ یہی مضمون پھر سے دہرایا گیا ہے۔ آگے جو آیات آرہی ہیں ان کا انداز اس سورت کی ابتدائی آیات سے مشابہ ہے۔ سورت کے آغاز میں اکثر آیات اَلَّذِیْنَ یا والَّذِیْنَ سے شروع ہوتی ہیں اور ان آیات میں بھی اَلَّذِیْنَ اور والَّذِیْنَ کی تکرار ہے۔ گویا جو مضمون آغاز سورت میں بیان ہوا تھا یہ اس کی دوسری قسط ہے۔ وہاں پر بندۂ مؤمن کی سیرت کی تعمیر اور شخصیت کے ارتقاء کے لیے درکار بنیادی خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ یہاں پر مطلوبہ شخصیت و کردار کی پختہ mature خصوصیات کی جھلکیاں دکھائی جا رہی ہیں ‘ جن میں زیادہ تر بندۂ مؤمن کی باطنی کیفیات کا تذکرہ ہے۔
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے

آیت 59 وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِرَبِّہِمْ لَا یُشْرِکُوْنَ ” شرک کے ردّ اور ابطال کے ضمن میں قرآن حکیم میں بہت تکرار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کو بار بار سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شرک کی اہم اور واضح صورتوں کے بارے میں تو سب جانتے ہیں اور اجتناب بھی کرتے ہیں ‘ لیکن اس کی بہت سی مخفی صورتیں بھی ہیں جو ہر دور میں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔ لہٰذا ایک بندۂ مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرک کی مہلک بیماری کے بارے میں اپنے اندر باریک بینی اور دقت نظری کی ایسی صلاحیت پیدا کرلے جس کا اظہار اس شعر میں کیا گیا ہے : ؂ بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم ! تو جس انداز کا چاہے لباس زیب تن کرلے ‘ میں تجھے تمہارے قد کے انداز سے پہچان لیتا ہوں۔ یعنی شرک جب بھی اس کے سامنے آئے ‘ وہ جس روپ اور جس بھیس میں بھی ہو وہ اس کو پہچان لے۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ جو دیتے ہیں (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

آیت 60 وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ ” یعنی اللہ کی راہ میں وہ حتی المقدور صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے وہ انہیں کمتر اور خود کو برتر نہیں سمجھتے ‘ بلکہ انہیں یہ خدشہ اور اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں کسی کوتاہی ‘ غلطی یا خلوص کی کمی کے باعث ان کا یہ عمل اللہ کے ہاں رد نہ کردیا جائے۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں کوشاں ہیں اور ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں

آیت 61 اُولٰٓءِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْْخَیْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ ” زندگی میں ان کی بھاگ دوڑ نیکیوں اور بھلائیوں کے لیے ہوتی ہے اور اس میدان میں وہ ہمیشہ دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی جان کو مگر اس کی استطاعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے لہٰذا ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت 62 وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ” یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ مثلاً سورة البقرۃ آیات : 233 اور 286 ‘ سورة الانعام آیت : 152 ‘ سورة الاعراف آیت : 42 ‘ اور سورة الطلاق آیت : 7 میں یہ مضمون ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا ہے۔ وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ یَّنْطِقُ بالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ” اس سے مراد ہر شخص کا اعمال نامہ اور اس کی زندگی بھر کے اعمال و افعال کی جزئیات و تفصیلات پر مشتمل ریکارڈ ہے۔ اس اعمال نامے کے مطابق انسان کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک عمل کا اس کی استطاعت اور صلاحیتوں کے مطابق جائزہ لے کر اس کے لیے جزا اور سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آج کمپیوٹر کے دور میں اس تصور کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ چناچہ یوں سمجھ لیں کہ انسان کے جینز genes کے بارے میں تمام معلومات جبلی صلاحیتوں اور اس کے ماحولیاتی عوامل کی تفصیلات اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک سپر کمپیوٹر میں موجود ہیں۔ ماحول اور صلاحیتوں کی عطا کلی طور پر اللہ کی دین ہے ‘ اس میں انسان کے اپنے اختیار و انتخاب کا کچھ دخل نہیں۔ جینز اور ماحولیاتی عوامل وغیرہ مل کر انسان کا ’ شاکلہ“ تشکیل دیتے ہیں۔ شاکلہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : بیان القرآن حصہ چہارم میں سورة بنی اسرائیل آیت 84 کی تشریح۔ اللہ تعالیٰ کا سپر کمپیوٹر ہر شخص کے اعمال کو اس کی شخصیت کے شاکلہ کے ساتھ منطبق کر کے بتائے گا کہ اس کے شاکلہ میں کس عمل کے لیے کتنی استطاعت اور گنجائش تھی اور اس نے کس حد تک اس کی کوشش کی۔ اس حساب کتاب evaluation کے بعد یہ کمپیوٹر نتائج کا اعلان کرے گا ‘ جس کے لیے یہاں ”یَنْطِقُ بالْحَقِّ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الکہف میں اس کیفیت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے : وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَاج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو ڈرے ہوئے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا ‘ اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے ‘ اور جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا وہ اسے اپنے سامنے موجود پائیں گے ‘ اور آپ کا رب کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا۔“
Ayahs 23:63–64

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

لیکن ان کے دل اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اور بہت سے مشاغل ہیں ان کے سوا جن کے لیے وہ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چیخیں چلائیں گے

وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ ” اوپر اہل ایمان کے جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ ان کے مشاغل اور سرگرمیاں ان سے یکسر مختلف ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس دین کی خدمت اور بھلائی کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ انہیں دن رات اپنی دنیا کمانے کی فکر ہے۔ وہ اپنے وقت کاُ کل سرمایہ اپنی ساری توانائیوں سمیت خود ساختہ جھوٹے معیارات کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے کھپا رہے ہیں۔ اس آیت کے مضمون کی روشنی میں ہر شخص کو اپنی مصروفیات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی شبانہ روز تگ و دو اور بھاگ دوڑ کا کتنا حصہ دین کے لیے ہے اور کتنا حصہ دنیا کے لیے۔ اگر کسی شخص کی تمام تر کوشش اور ساری محنت ہے ہی دنیا کے لیے ‘ اس کا نصب العین بھی دنیا ہے اور اس نے منصوبہ بندی بھی صرف اسی کے لیے کر رکھی ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ آخرت کی تیاری کرنے کے لیے فرصت کے لمحات اسے کب اور کیسے میسر آئیں گے ؟
Ayahs 23:65–66

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) آج مت چیخو چلاؤ ! اب ہمارے ہاں سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیات تمہیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹ جاتے تھے

آیت 65 لَا تَجْءَرُوا الْیَوْمَقف اِنَّکُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ ” آج تمہاری اس چیخ و پکار اور آہ و فریاد کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تمہاری فریاد سن کر آج کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔
Ayah 23:67

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کرتے ہوئے پیغمبر ﷺ کو قصہ گو سمجھتے ہوئے چھوڑ جاتے تھے

آیت 67 مُسْتَکْبِرِیْنَق بِہٖ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَ ” اس زمانے میں عربوں کے ہاں قصہ گوئی کا بہت رواج تھا۔ پیشہ ور قصہ گو راتوں کو مجمع جما کر قصے سنایا کرتے تھے۔ یہ عام لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ تھا اور قصہ گو کے لیے کمائی کا وسیلہ۔ اسی طرح کے قصہ گو ہندوستان میں راجپوتوں کے ہاں بھی پائے جاتے تھے جو ان کے لیے راتوں کو محفلیں سجاتے تھے۔ چناچہ اس پس منظر میں مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے رسول ﷺ کو بھی قصہ گو سمجھ رکھا ہے کہ آپ ﷺ کی بات سننا یا نہ سننا تمہارے لیے برابر ہے ؟ اور تم سمجھتے ہو کہ آپ ﷺ کی بات ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ؟ تم لوگوں کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ یہ فیصلہ کن کلام ہے : وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَط وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ الاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا بنی اسرائیل ”اور اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ ہی نازل ہوا ہے ‘ اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا“۔ آئندہ اسی کلام کے ترازو میں قوموں کی قسمتیں تولی جائیں گی ‘ اسی کے سہارے لوگ کامیاب و کامران ہوں گے اور اس کو چھوڑ کر ناکامیوں اور محرومیوں کے گڑھوں میں گریں گے۔ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ کا یہ فرمان بہت واضح اور دوٹوک ہے : اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ 1 ”اللہ اسی کتاب کی بدولت قوموں کو اٹھائے گا اور اس کو چھوڑنے کے باعث قوموں کو گرائے گا۔“
Ayahs 23:68–69

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے اگلے آباء و اَجداد کے پاس نہیں آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے رسول ؑ کو پہچانا نہیں تو اس لیے وہ اس ؑ سے مغائرت محسوس کرتے ہیں

آیت 68 اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَ ہُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَ ہُمُ الْاَوَّلِیْنَ ” تو کیا وحی کا نازل ہونا اور رسول علیہ السلام کا من جانب اللہ مبعوث ہونا انہیں اس لیے عجیب لگ رہا ہے کہ ان کے باپ دادا یعنی بنو اسماعیل علیہ السلام پر اس سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان کی طرف اس سے پہلے کوئی نبی علیہ السلام آیا تھا ؟
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یاوہ کہتے ہیں کہ ان پر کچھ جنون کا اثر ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے

آیت 70 اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط ” کیا وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ پر آسیب کا اثر ہے یا آپ ﷺ کو جنون ہوگیا ہے۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور جو کوئی ان کے اندر ہیں سب بگڑ جاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کی نصیحت لائے ہیں تو وہ اپنی ہی نصیحت سے اعراض کر رہے ہیں

آیت 71 وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَہْوَآءَ ہُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ ط ” اگر حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین و آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں ڈھل سکتا ‘ بلکہ انہیں خود کو حق کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اس کی پیروی کرنا ہوگی۔
Ayahs 23:72–74

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ ان سے کوئی خراج (اجر) مانگ رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺ کے رب کا اجر بہت بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور یقیناً جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس راستے سے انحراف کرتے ہیں

آیت 72 اَمْ تَسْءََلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌق وَّہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ” دراصل یہاں ان الفاظ میں خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ مشرکین مکہّ سے ہے کہ عقل کے اندھو ‘ ذرا سوچو تو ! تمہارے شاعر اور قصہ گو تو تم لوگوں سے اجر و انعام چاہتے ہیں۔ مگر تم نے محمد ﷺ کی زبان سے کبھی ایسی کوئی بات سنی ہے ؟ کبھی آپ ﷺ نے اپنی اس خدمت کے عوض تم سے کوئی اجرت طلب کی ہے ؟ ان کو تو ان کے رب کی طرف سے جو اجر و انعام ملنے والا ہے وہ پوری دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کو جو تکلیف ہے وہ رفع کردیں تو ضرور وہ بڑھتے چلے جائیں گے اپنی سرکشی میں اندھے ہو کر

آیت 75 وَلَوْ رَحِمْنٰہُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ” ان الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ اس سورت کے نزول کے زمانہ میں اہل مکہّ کسی مصیبت میں گرفتار تھے۔ سورة الانعام اور سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا ذکر گزر چکا ہے جس کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے تھے اور انہیں مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا کیا جاتا تھا تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور ان کے ذہن حق کی دعوت پر غور و فکر کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔