8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

جا ن لو ! تمہیں جو کچھ بھی مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس پر جو کچھ ہم نے اپنے بندہ (محمد ﷺ پر فیصلے کے دن (بدر کے دن) نازل کیا ہے جب کہ (کفر و اسلام کی) دونوں فوجیں بھڑ گئی تھیں (اس پر ایمان لائے ہو) اور اللہ ہر چز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

آیات : 41 لغات القرآن۔ اعلموا۔ جان لو۔ غنمتم۔ جو تم نے مال غنیمت لیا۔ خمس۔ پانچواں حصہ۔ ابن السبیل۔ مسفر۔ عبدنا۔ ہمارا بندہ۔ یوم الفرقان۔ فیصلہ کا دن۔ التقی۔ مل گئیں۔ الجمعن۔ دو جماعتیں۔ دو فوجیں۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنگوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ یہ تھا کہ جنگ میں جو کچھ دشمن کا مال و دولت، لونڈی غلام ہاتھ آتے وہ اسی کے ہوجاتے تھے جو دشمن سے لوٹ لیا کرتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے جہاں اور ہزاروں انقلابی اور اصلاحی اقدامات سے صحابہ کرام ؓ کی ایک مقدس جماعت تیار کی تھی وہیں جنگی صورت حال میں بھی ان کو زندگی کے اصول عطا فرمائیے۔ صحابہ کرام ؓ کی یہ جماعت اور اس کا ہر فرد جو اپنی اصلاح کے لئے نبی کریم ﷺ کے ہر حکم اور ہدایت کا منتظر رہتا تھا غزوہ بدر میں جو ان کے لئے باقاعدہ جنگ کا پہلا تجربہ تھا وہ اس بات کے متنظر تھے کہ اس سلسلہ میں ہماری کیا رہنمائی کی جاتی ہے۔ ایک طرف ان کے سامنے وہ طریقہ تھا جس پر وہ ہمیشہ سے قائم تھے کہ جنگ میں جو چیز جس کے ہاتھ لگ گئی وہ اسی کی ہے دوسری طرف ان کے لئے اس سلسلہ میں واضح ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ان میں اختلاف رائے ہوگیا اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی ہدایت کے لئے سورة انفال کو نازل فرمایا۔ تاکہ دنیا داروں اور اہل ایمان کی جنگوں کا فرق واضح کردیا جائے۔ سورة انفال کیا بتداء ہی میں یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ اہل ایمان اپنے نفس کے لئے کسی سے جہاد نہیں کرتے اور نہ کریں گے بلکہ محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے وہ ہر طرح کے جہاد و قتال کیلئے اقدامات کرتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے ان آیات میں مسلسل انعامات کا اعلان فرما کا اس بات کو کھول کر بیان کردیا ہے کہ جب ہر طرح اسی کا کرم رہا ہے تو مال و دولت لونڈی اور غلام حتی کہ سوئی اور اس کا دھاگا بھی ہاتھ آتا ہے تو وہ سب کا سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس کل مال میں سے چار حصے مجاہدین میں برابر تقسیم کر دئیے جائیں گے اور پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وسطے ہوگا۔ اسی لئے ہر جہاد کے بعد رسول اکرم و اعلان فرما دیا کرتے تھے کہ : لوگو ! یہ مال غنیمت تمہارے لئے ہیں اس میں میری ذات کا سوائے پانچویں حصے کے اور کوئی حصہ نہیں ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی میں تمہارے اجتماعی معاملات میں خرچ کرتا ہوں لہٰذا ایک ایک سوئی اور دھاگا تک لا کر رکھ دو ۔ کوئی چھوٹی بڑی چیز چھپا کر نہ رکھو۔ ایسا کرنا بہت برا ہے اور اس کی سزا دوزخ ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں مال غنیمت کی تقسیم کا ایک ایک اصول واضح ہوگیا لیکن پانچویں حصے (خمس) کے بارے میں کچھ اختلافات ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جب تک نبی کریم ﷺ اس دنیاوی حیات میں رہے اس وقت تک یہ پانچواں حصہ آپ کے اور آپ کے اہل خاندان، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کیا جاتا تھا لیکن جب آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو اب یہ حصہ بھی غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے تو رہ گیا مگر آپ کا یہ حصہ ساقط ہوگیا امت کے اکثر علماء کی یہی رائے ہے اور یہی رائے سب سے بہتر ہے۔
Ayahs 8:42–44

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

یاد کرو جب تم ادھر والے کنارے پر تھے اور وہ دوسرے کنارے پر۔ قافلہ تم سے نیچے (اترائی میں تھا) اگر تمام آپس میں وعدہ کرتے تو وعدے کی مخالفت کرتے (وقت پر نہ پہنچتے) لیکن اللہ نے تمہیں (جمع کردیا) کہ وہ کام پورا ہوجائے جو کہ ہونے والا تھا۔ تاکہ جو شخص ہلاک ہو واضح دلیل سے ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اور یاد کرو (اے نبی ﷺ جب اللہ نے آپ کو خواب میں ( ان کافروں کی تعداد کی) کم کرکے دکھایا۔ اور اگر وہ ان کی تعداد زیادہ کرکے دکھاتا تو وہ نہ صرف ہمت ہار جاتے بلکہ معاملہ میں جھگڑ پڑتے۔ لیکن اللہ نے تمہیں اس (اختلاف) سے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور یاد کرو جب تم (بدر میں) ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو اس نے (کفار کو) تمہاری آنکھوں میں تھوڑا کرکے دکھایا اور تمہیں ان (کافروں) کی آنکھوں میں تھوڑا کرکے دکھایا تاکہ اللہ اس کام کو پورا کر دکھائے جو ہو کر رہنے والا تھا۔ اور سارے کام بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

آیات : 42 تا 44 لغات القرآن۔ بالعدوۃ ال دنیا۔ قریب کے کنارے پر۔ بالعدوۃ القصوی۔ دور کے کنارے پر۔ الرکب۔ قافلہ۔ اسفل۔ نیچے۔ تو اعدتم۔ تم نے وعدہ کیا۔ میعاد۔ مدت مقرر۔ لیقضی۔ تاکہ فیصلہ کردے۔ امر۔ کام۔ مفعول۔ کیا گیا۔ لیھلک۔ تاکہ ہلاک ہوجائے۔ بینۃ۔ پہنچان کر۔ یحی۔ زندہ رہے گا۔ یریکھم۔ تمہیں دکھایا اس نے۔ منام۔ نیند۔ خواب۔ لفشلتم۔ البتہ تم بزدلی دکھاتے ۔ لتنازعتم۔ البتہ تم ضرور جھگڑے۔ سلم۔ اس نے حفاظت کی۔ فی اعینکم۔ تمہاری آنکھوں میں ۔ قلیل۔ تھوڑے۔ ترجع الامور۔ کام لوٹائے جائیں گے۔ تشریح : سورة انفال میں اللہ تعالیٰ نے دس رکوعوں میں مسلسل جہاد و قتال کے متعلق بیان فرمایا ہے یہ آیات جو صرف حکمت عملی کے اصول و قوانین سے بحث نہیں کرتیں بلکہ جغرافیہ ترتیب عمل نقشہ جنگ اور نفسیات وغیرہ سے بھی بحث کرتی ہیں بلکہ اللہ کے ان غیبی فیصلوں کو بھی بتاتی ہیں کہ جب اللہ نے دونوں فریقوں کو سامنے لا کر کھڑا کردیا تھا جہاں جنگ کے سوا کوئی اور چارہ کار نہ تھا۔ اپنے اپنے گھروں سے نکلتے وقت صحابہ کرام ؓ کو معلوم نہ تھا کہ انہیں قریش کے مرتب و مسلح لشکر جرار سے مقابلہ کرنا ہے وہ تو ابو سفیان کے اس تجارتی قافلے کا راستہ کاٹنے کے لئے آرہے تھے جو مدینہ کے راستے سے گزر رہا تھا اسی لئے نہ ان کے پاس جنگ کے ہتھیار تھے نہ سواریاں تھیں اور نہ وہ ذہنی طور پر اس جنگ کے لئے تیار تھے۔ اسی طرح قریشی لشکر کا ذرا بھی خبر نہ تھی کہ انہیں مدینہ منورہ سے بہت پہلے بدر کے مقام پر جنگ سے واسطہ پڑے گا۔ وہ تو اس مگن میں تھے کہ بدر میں تین دن پر پڑائو ڈالیں گے خوب رنگرلیاں منائیں گے اور پھر مدینہ پر چڑھ دوڑیں گے۔ وہ تو بدر کے میدان میں اسلامی لشکر کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئے اسی لئے اپنی اس شرمندگی کو مٹانے اور اپنے لشکریوں کی ہمت بڑھانے کیلئے ابو جہل نے کہا کہ یہ مسلمان تو ہمارے اونٹوں کا ایک لقمہ ہیں انکی حیثیت ہی کیا ہے ! دوسری طرف چونکہ مسلمان تین سو تیرہ تھے نیز پورے ہتھیار اور جنگ کا سازوسامان بھی نہ رکھتے تھے اور جیسا کہ عرض کیا گیا وہ ذہنی طور پر بھی تیار نہ تھے۔ اگر انہیں معلوم ہوجاتا کہ دشمن کے تعداد تین گنا ہے اور ہر طرح کے ہتھیاروں اور انتقامی جذبوں سے بھر پوری ہیں تو شائد وہ کم ہمتی دکھاتے اور شدید اختلاف ہوجاتا اس لئے مصلحت غیبی سے یہ انتظام کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دشمنوں کی تعداد کم کرکے دکھائی گئی جو آپ نے صحابہ کرام ؓ کو بتا دی تھی خاص طور پر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں تو مسلمانوں کی نگاہوں میں دشمن کی تعداد کم دکھائی گئی حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے دشمن کی صفوں میں نظر ڈالی تو نوے یا سو کے قریب نظر آئے۔ دوسری طرف دشمن کی نگاہوں میں بھی مسلمان بہت تھوڑے نظر آرہے تھے تاکہ دشمنان اسلام بھی کسی بڑے مقابلہ کو توقع پر گھبرا نہ جائیں اس لئے بعض روایات کے مطابق ابو جہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے تو مسلمانوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں لگتی۔ اہل ایمان اور کفار کو ایک دوسرے کی نگاہوں میں کم دکھانے سے قدرت کا فیصلہ یہ تھا کہ آج کھرا اور کھوٹا واضح ہو کر دنیا کے سامنے آجائے۔ اسی لئے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے ” یوم الفرقان “ فرمایا یعنی حق و باطل کے فیصلے کا دن۔ اللہ انے اپنی سنت کے مطابق باطل کو نیچا کر دکھایا کیونکہ جب بھی حق نکھر کر سامنے آتا ہے تو باطل کی مجال نہیں ہے کہ وہ حق کے سامنے ٹھر سکے۔ غزوہ بدر نے ساری دنیا پر واضح کردیا کہ یہ جنگ دو نظریات کے درمیان جنگ تھی۔ اسلام بمقابلہ کفر کی بمقابلہ زیادتی۔ اس جنگ اور اس کے نتیجے کے بعد اب جس کا جی چہاے وہ اسلام کا ساتھ دے اور جس کا دل چاہے وہ کفر کے راستے پر چلے لیکن جو بھی اس حق کے راستے پر چلے گا اس کا نتیجہ یہی ہے کہ حق کے مقابلے میں باطل کو نیچا ہو کر رہنا ہے۔ صرف ہمت کی ضرورت ہے۔
Ayahs 8:45–47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارا کسی (کافروں کی جماعت سے) مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خوب اللہ کو یاد کرو تاکہ تم فلاح و کامیابی حاصل کرو۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تمبزدل ہوجائو گے اور تمہارا ہوا کھڑے جائے گی۔ تم صبر کرو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کیطرح مت ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے لوگوں کو دکھاتے اور اللہ کے راستے سے روکتے ہوئے نکلے۔ حالانکہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ ان کو گھیرے ہوئے ہے۔

آیات : 45 تا 47 لغات القرآن۔ فاثبتوا۔ پس جمے رہو۔ اذکروا اللہ۔ اللہ کو خوب یاد کرو۔ لا تنازعوا ۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ فتفشلوا۔ پھر تم بزدل ہو جائو گے۔ تذھب ریحکم۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اصبروا۔ صبر کرو۔ خرجوا۔ جو نکلے من دیارھم۔ اپنے گھروں سے ۔ رء الناس۔ لوگوں کو دکھاتے ۔ یصدون۔ وہ روکتے ہیں۔ محیط۔ گھیرنے والا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و قتال کے چھ قوانین بتائے ہیں جو اہل اسلام کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔ (1) ثابت قدمی (2) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر (3) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت (4) آپس میں میل محبت اور اختلافات سے دور (5) صبر و تحمل (6) دکھاوے اور ریا کاری سے بچنا۔ (1) ثابت قدمی سے مراد دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے صرف اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرنا لیکن یہاں صرف ثابت قدمی ہی نہیں بلکہ ثابت قلبی بھی ہے کیونکہ جب تک قلب مضبوط نہ ہو قدم بھی مضبوط نہیں ہوتے۔ (2) ذکر اللہ کی کثرت۔ اگر دیکھاجائے تو دنیا کی ہر قومنے اپنی فوج میں حوصلہ اور ہمت پیدا کرنے کے لئے کچھ ترانے بنا رکھے ہیں کیونکہ زبان سے کچھ خاص کلمات ادا کئے بغیر مارچ کرتی ہوئی فوج میں حوصلہ نہیں بڑھتا۔ کسی بھی غیر اسلامی ترانے میں اللہ کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ شاندین اسلام کی ہے جس نے چودہ سو سال پہلے ذکر اللہ کا نسخہ پیش کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی فوجیں نعرہ تکبیر ” اللہ اکبر “ کے ساتھ مارچ کرتی تھیں جس سے دشمنوں کے دل دہل جایا کرتے تھے۔ وہ جہاد و قتال میں صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے اس سے ان کے دلوں میں قوت کا سمندر موجیں مارنے لگتا تھا۔ کاش کہ آج بھی اہل ایمان ہر غیراسلامی اور غیر اللہ کے ناموں کا نعرہ چھوڑ کر صرف اللہ اکبر کا نعرہ بلند کریں تو کفر کے ایوانوں میں آج بھی زلزلے آسکتے ہیں۔ اور اللہ کے نام او اس کے ذکر سے دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہزاروں کامیابیاں انکے قدم چو میں گی۔ (3) زندگی کے ہر میدان میں ثابت قدمی ور ذکر اللہ کی کثرت کے ساتھ تیسری چیز جو فرمائی گئی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری اور احکامات کا ماننا ہے۔ درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی اللہ کی غیبی امداد کو انسان کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ (4) آپس میں جھگڑا نہکرو۔ ورنہ تم کمزور ہوجائو گے۔ بزدل ہوجائو گے اور اللہ و رسول ﷺ کے دشمنوں پر جو تمہارا رعب اور ہیبت ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں ایک بہت بڑا ہتھیار ” رعب “ ہے۔ یہ مسلمانوں کی ہیبت اور رعب ہی تھا جس نے کفار کے دلوں میں ہلچل مچا کر رکھ دی تھی اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی ساری طاقت اس لئے جھونک دیتے تھے کہ ان پر مسلمانوں کا رعب طاری تھا۔ آج جو اہل ایمان کے مقابلے میں کفار بےدھڑک اور بےخوف ہو کر حملے کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آپس میں اپنے اختلافات کو اتنا بڑھا لیا ہے کہ ہم ایک ذہن و فکر پر نہ رہے اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر دشمن ہم پر جری ہوگیا ہے۔ اور وہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ (5) ثابت قدمی۔ ذکر اللہ و رسول کیا اطاعت آپس میں اتحادو اتفاق اور میل محبت کے ساتھ ساتھ صبرو تحمل ایکدوسرے کو برداشت کرنا۔ اللہ کی راہ میں ڈٹ جانا، پامردی دکھانا۔ ڈر، لالچ اور ہر طرح کے خوف سے بےنیاز ہو کر استقلال اور پامردی کے ساتھ دین کی سربلندی کے لئے کوششیں کرنا یہ بھی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صبر کا سب سے فائدہ یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ صبرو تحمل اختیار کریں گے میں ان کے ساتھ ہوں۔ (6) دکھاوے اور ریاکاری سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ کفار کا لشکر اپنی طاقت و قوت کا بےجا مظاہرہ کرتا۔ ڈینگیں مارتا اور اپنی تعداد اور دولت کا رعب جماتا ہو آگے بڑھ رہا تھا لیکن جب اس کا واسطہ اہل ایمان سے پڑا تو ان کی شیخی اور دکھاوا ہوا میں اڑ گیا۔ فرمایا کہ اہل ایمان صرف اللہ کی بڑائی بیان کریں، اور صبر و تحمل کا دامن تھام کر کثرت سے ذکر اللہ کرتے رہیں کامیابیاں ان کے قدم چو میں گی۔
Ayahs 8:48–49

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور یاد کرو جب شیطان نے ان کے برے کاموں کو بھی ان کی نظروں میں خوش نما بنا کر دکھایا اور اس نے کہا ان لوگوں میں آج کے دن کوئی (تمہارے اوپر) غالب نہ آسکے گا اور میں جو تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر جب اس نے دونوں لشکروں کو آمنے سامنے دیکھا تو وہ اپنی ایڑیوں پر یہ کہتے ہوئے گھوم گیا کہ میں تم سے لا تعلق ہوں۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے۔ اور اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب منافقین اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض تھا کہا کہ (ان مسلمانوں کو) ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے ۔ اور (یاد رکھو) جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو بیشک اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

آیات : 48 تا 49 لغات القرآن۔ زین۔ خوبصورت بنا دیا۔ لاغالب۔ کوئی غالب نہ آسکے گا۔ جار۔ پڑوسی۔ ترءت۔ دیکھا۔ نکص۔ الٹا پھر گیا۔ عقبیہ۔ (عقبین۔ عقب) ۔ ایڑیاں۔ انی بریء۔ بیشک میں الگ ہوں۔ میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انی اری۔ بیشک میں دیکھ رہا ہوں۔ لا ترون۔ تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ غر۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ ھولاء۔ ان لوگوں کو۔ تشریح : ان آیات میں اہل ایمان کو شیطان کی چال بازویں سے ہوشیار رہنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ شیطان سو بھیس بدل کر ایمان والوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ مفسرین نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار کا یہ لشکر مدینہ کیطرف بڑھ رہا تھ تو راستے میں بنو کنانہ تھے جن سے قریش کی ہمیشہ سے دشمنی چلی آرہی تھی اور ان کو اس بات کا خوف تھا کہ بنو کنانہ کہیں قریشیوں کا راستہ نہ روک لیں اور کسی طرح کی مزاحمت نہ کریں۔ شیطان جو یہ چاہتا تھا کہ اپنے ماننے والوں کو ذلیل و رسوا کرا دے بنوکنانہ کے سردار سراقہ اب مالک کے بھیس میں شیطان نے ابوجہل سے یہ کہا کہ گم گھبرائو نہیں اس موقع پر میرا قبیلہ تمہارے ساتھ بھرپور تعاونکرے گا ت میں بنو کنانہ سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس کا میں ذمہ لیتا ہوں تم میری پناہ میں ہو۔ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ ابوجہل اور قبیلہ قریش اس یقین دہانی پر مطمئن ہو کر آگے بڑھ گئے اور اہل ایمان کو مٹانے کے لئے اور شیر بن گئے۔ جب کفار نے مسلمانوں سے شکست کھالی اور وہ واپس آرہی تھے تو مکہ واپس جا کر انہوں نے کہا کہ ہمیں جھوٹی تسلیاں دے کر سراقہ ابن مالک نے مروا دیا۔ جب یہ اطلاع اس کے پاس پہنچی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ مجھ تو اتنی خبرنہ تھی کہ تم جنگ کے ارادے سے کب مکہ سے نکلے ہو۔ ہاں جب تم شکست کھا کر واپس آئے تب مجھے پوری صورتحال کا علم ہوا۔ ابو جہل نے کہا کہ کیا تم فلاں فلاں دن نہیں آئے تھے اور اپنے تعاون کا یقین نہیں دلایا تھا۔ وہ حیران ہو کر قسمیں کھاتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شیان سراقہ کی شکل بنا کر آیا تھا۔ اس بات کو اللہ نے ان آیات میں فرمایا کہ شیطان مختلف انداز سے لوگوں کو بہکاتا اور ان کو شرمندہ ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر اللہ نے فرمایا کہ : (1) شیطان کفارو مشرکین اور منافقین کو ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں خوش نما بنا کر دکھاتا ہے تاکہ لوگ اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (2) وہ انکو اس بات پر اکساتا اور ورغلاتا ہے کہ آج تمہارے برابر کوئی نہیں ہے۔ (3) انسانی روپ میں اپنی بھرپور مدد کا یقین دلاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ شیطان کے اس فریب سے صرف اہل ایمان ہی بچتے ہیں لیکن وہ لوگ جو کفر و شرک کی راہوں پر چل پڑتے ہیں وہ شیطان کے جھانسے میں بہت جلدآجاتے ہیں۔ شیطان نے کہا کہ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو اور میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ اللہ سے اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے پھر نافرمانی کیوں کرتا ہے جواباً عرض ہے کہ دنیا میں بیشمار کفار ومشرکین ایسے ہیں جو ٹھیک خطرے اور مصیبت کے وقت اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ خطرہ ٹل جاتا ہے تو پھر وہ پہلے کی طرح گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 8:50–54

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش کہ (اس وقت کو) تم دیکھتے جب فرشتے ان کافروں کی جان نکالتے ہیں اور وہ فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھ پر مارتے جاتے ہیں (اور کہتے جاتے ہیں کہ) تم جہنم کا عذاب چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے آگے (جیسے بھی) اعمال بھیجے ہیں (ان کا نتیجہ ہے) اور بیشک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

قوم فرعون اور جو ان سے پہلے تھے ان کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں میں پکڑ لیا۔ بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو اپنی کوئی نعمت دیتا ہے تو اس وقت تک اس کو ان سے نہیں چھینتا جب تک وہ اپنے طرز عمل کو نہ بدل ڈالیں۔ بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

قوم فرعون اور جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کے ساتھ اللہ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ہم نے قوم فرعون کو غرق کردیا اور ان میں سے سب کے سب ظالم تھے۔

آیات : 50 تا 54 لغات القرآن۔ یتوفی۔ موت دے گا۔ یضربون۔ ماریں گے۔ وجوہ۔ (وجہ) ۔ چہرے۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ ظلام۔ بہت زیادہ ظلم کرنے والا۔ العبید۔ (عبد) ۔ بندے۔ کداب۔ جیسا کہ دستور تھا۔ جیسا کہ طریقہ تھا ۔ ال اولاد۔ اخذ۔ اس نے پکڑ لیا۔ ذنوب۔ (ذنب) ۔ گناہ۔ قوی۔ مضبوط۔ طاقتور۔ لم یک۔ (لم یکن) نہیں ہے۔ مغیر۔ تبدیل کرنے والا۔ انعمھا۔ اس نے انعام کیا۔ حتی یغیروا۔ جب تک وہ بدل نہ ڈالیں۔ ما بانفسھم۔ اپنے دلوں کی کیفیت۔ حالت۔ اھلکنا۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ اغرقنا۔ ہم نے غرق کردیا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے وہ سارا عالم ہم بندوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے جو نزع، قبر اور برزخ میں ہوتا ہے ورنہ اگر واقعی ہم اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ سکتے تو ہم میں شاید کوئی بھی کافر نہ ہوتا۔ ہمارا امتحان تو یہ ہے کہ علم الیقین کے ذریعہ حق النقی تک پہنچ جائیں۔ اگر عین الیقین کے ذریعہ پہنچتے تو امتحان کیا ہوتا۔ یہاں پر قرآن کریم ہمیں علم الیقین بخشتا ہے کہ کافر (مشرک اور منافق) جب مرنے لگتا ہے تو موت کے فرشتے اس کی پیٹھ پر، چہرے پر کو لھے پر، پاؤں پر سر پر آگ کے گزر برساتے ہیں آگ کے کوڑے اور آگ کی زنجیریں مارتے جاتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ ابھی کیا ہو آگے نارسقر کا عذاب باقی ہے اور وہ تمہارا منتظر ہے۔ یہ سب کچھ تمہارے اعمال کی کمائی ہے ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ آیات اور ان کا حکم عام ہے یعنی تمام ان لوگوں کے ساتھ جو کافر ہیں ایسا ہی ہوا کرتا ہے لیکن سیاق وسباق کا تعلق چونکہ غزوہ بدر سے ہے اس لئے یہ خصوصی طور پر ان کافروں سے متعلق ہے جو وہاں قتل کئے گئے ۔ ان آیات کا خطاب نبی کریم ﷺ سے نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں سے ہے کیونکہ ان ہی کو نصیحت اور عبرت کی ضرورت ہے۔ آگے فرمایا کہ یہ عذاب چند کافروں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دائمی سنت رہی ہے کہ وہ غوروفکر کے لئے مظاہر فطرت میں ہزاروں لاکھوں چیزیں ایسی پیدا کردیتا ہے جو وحدت، رحمت، قدرت، حکمت، ربوبیت اور دالت کی طرف دل و دماغ کی دعوت دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نصیحت کے لئے اپنی کتابوں اور نبیوں رسولوں کو بھیجتا ہے۔ پھر بھی کوئی قوم یا کوئی فرد آنکھیں بند کرلے، کانوں میں روئی ٹھونس لے، سگ دنیا بن جائے، آیات سے بغاوت کرے۔ خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے تو پھر اللہ کا عذاب آدبوچتا ہے اور پھر اس سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی ہیں رہتا۔ یہی کچھ فرعون اور آل فرعون کے ساتھ ہوچکا ہے اور اسی طرح ان سے پہلی قوموں کے ساتھ بھی اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرا دیا تو ان پر اللہ کا عذاب آکر رہا یہ وہ قومیں تھیں جن کو اللہ نے بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ صفر ان نعمت کی گناہ گار ہوئیں۔ اللہ کا اصولی ہے کہ وہ کسی قوم کو دی گئی نعمتیں اس وقت تک نہیں چھینتا جب تک وہ ان نعمتوں کی ناشکری اور ناقدری کی حد نہ کردیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین و کفار مکہ اور منافقوں کو بتا دیا ہے کہ اللہ کی یہی سنت تم پر بھی پوری ہوگی۔ آج حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کریم ایک عظیم نعمت کے طور پر تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم نے ان کی ناقدری کی تو پھر تم دنیا کی اور قوموں کی طرح برے انجام سینہ بچ سکو گے۔
Ayahs 8:55–59

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک مخلوق میں بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

اور وہ لوگ بھی بدترین ہیں جنہوں نے آپ سے معاہدہ کیا پھر انہوں نے اپنے معاہدہ کو ہر مرتبہ توڑ ڈالا اور وہ (اس کے برے انجام سے بھی) نہیں ڈرتے۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پھر اگر تم (ایسے لوگوں کو) جنگ میں پائو تو ان کو ایسی سزا دو جو ان کے بعد آنے والے بھی یاد رکھیں

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور جب ( اے نبی ﷺ آپ کو کسی قوم سے بد دیانتی (بد عہدی) کا اندیشہ ہو تو پھر ان کسے کئے ہوئے عہد کو ان کے آگے (کھلم کھلا) پھینک دیجئے۔ بیشک اللہ کو بددیانت لوگ پسند نہیں ہیں۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

وہ کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ آگے نکل گئے ہیں کیونکہ وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکیں گے۔

آیات : 55 تا 59 لغات القرآن۔ عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔ تشریح : سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز میں پیش کیا گیا ہے جو چیزیں جنگ کو جنم دیتی ہیں یا جنگ کو روک دیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں جو لوگ عہد کرنے کے باوجود اس کو توڑ دیتے ہیں ان کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کریں ان باتوں کو ان آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (1) وہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ بدترین ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ (2) جو اہل ایمان سے معاہدہ کرنے کے بعد ہر مرتبہ توڑ دینے کے عادی ہیں اور وہ اس کے برے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان آیات میں مدینہ کے یہودی قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر سے متعلق پھر ارشاد ہے اور مکہ کے ان کفار کی طرف بھی واضح اشارہ ہے جنہوں نے معاہدہ کرکے اس کو توڑ دیا تھا۔ ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے یہودی قبائل سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان اختلاف رائے کیوقت رسول اللہ ﷺ کیا فصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔ اور حملہ کے وقت مدینہ کے یہودی مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی کسی اعتبار سے بھی کوئی امداد نہ کریں گے۔ مگر ان یہودیوں نے غزوہ بدر کے موقع پر اور خاص طور پر غزوہ احد کے موقع پر نہ صرف اس معاہدہ کیخلاف ورزی کی بلکہبوض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف نے خود مکہ جا کر اور مشرکین مکہ کو جوش دلا کر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور ان کو جنگ احد میں لا کھڑا کیا۔ ۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نیاہل ایمان کو قیامت تک ایسے لوگوں کے متعلق احکامات عنایت فرمائے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ چناچہ فرمایا گیا کہ۔ اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا معاہدہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ دشمن کی مدد کرتی ہے یا اہل ایمان کے خلاف جنگ میں حصہ لیتی ہے تو ایسی قوم کے ساتھ بھی دشمنوں جیسا معاملہ کیا جائے ۔ اور اس کو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ پھر وہ اپنی بد نیتی پر حسرت و افسوس ہی کرتی رہ جائے۔ (2) اگر کسی قوم سے معاہدہ ہے لیکن اس کے باوجود اس کے چند افراد دشمنوں کی مدد کرتے ہیں یا اہل ایمان کے خلاف جنگ میں حصہ لیتے ہیں تو فرمایا کہ پھر ان چند افراد کی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ان ہی افراد کے خلاف کاروائی کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ (3) فرمایا گیا کہ اگر کسی قوم سے معاہدہ ہے اور اس کے طور، طریق دیکھ کر اہل ایمان کو خطرہ پیدا ہوجائے کہ یہ قوم معاہدہ کی پابندنہ رہے گی بلکہ عین وقت پر دغا دے جائے گی تو اہل ایمان کو حق حاصل ہے کہ پوری قوم کو پیشگی نوٹس دے کر اس کا معاہدہ واپس کردیں۔ لیکن معاہدہ واپس کرنے کے بعد ان کے خلاف کسی کاروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بنیادی پر نبی کریم ﷺ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ کوئی قوم معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ” عہد کا بند “ نہ کھولے۔ اگر وہ خیانت پر اتر آئیں تو ان کو برابری کی بنیاد پر جواب دیا جائے۔ (4) اگر فریق ثانی اعلیٰ الاعلان معاہدہ توڑ چکا ہے اور مسلمانوں کے خلاف کاروائی کا مجرم ہے تو پھر اس کے خلاف بغیر کسی نوٹس کے بھی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ یہ اشارہ قریش مکہ کی طرف ہے جنہوں نے معاہدہ کے باوجود مدینہ کے یہودیوں سے ساز باز کی اور صلح حدیبیہ کے معاہدوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ پھر اللہ نے مکہ مکرمہ کو فتح کرادیا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر وہ لوگ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو وہ کسی خوش گمانی میں نہ رہیں کیونکہ ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوسکتی ہے۔ اور واقعتا مکہ کے کفار کو معاہدہ کی خلاف ورزی بہت مہنگی پڑی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنی موت کی دعوت دے ڈالی اور مکہ فتح ہو کردیا۔
Ayahs 8:60–62

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اے (مومنو ! ) تم اپنی ہمت کے مطابق جو کچھ ہوسکے (دشمنوں کے خلاف) اپنی طاقت اور پلے ہوئے گھوڑون کو (مقابلے کے لئے) تیار رکھو تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے نامعلوم دشمنوں پر جنہیں تم نہیں جانتے صرف اللہ جانتا ہے ” اپنی دھاک بٹھا دو “۔ اور (یاد رکھو) اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرتے ہو بغیر کسی کمی اور نقصان کے تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا۔

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اگر وہ صلح کی طرف جھک جائیں تو آپ بھی صلح کے لئے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ (اس صلح کے ذریعہ) آپ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے قوت دی اور اہل ایمان کو (آپ کا مدگار بنا دیا) ۔

آیات : 60 تا 62 لغات القرآن۔ اعدوا۔ تیاری رکھو۔ تیاری کرو۔ استطعتم۔ جتنی تمہاری طاقت ہے۔ قوۃ۔ طاقت۔ ہیبت۔ رباط الخیل۔ پلے ہوئے گھوڑے۔ ترھبون۔ تم ہیبت طاری کرتے ہو۔ عدواللہ ۔ اللہ کے دشمن۔ اخرین۔ دوسرے۔ یوف۔ پورا کرد یا جائے گا۔ جنحوا۔ وہ جھکیں۔ مائل ہوں۔ السلم۔ صلح۔ اجنح۔ تو جھک جا۔ توکل۔ بھروسہ کر۔ یخدعوک۔ وہ آپ کو دھوکہ دیں گے۔ حسبک اللہ۔ اللہ آپ کا کافی ہے۔ ایدک۔ اس نے تجھے طاقت دی۔ تیری مدد کی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔ تشریح : غزوہ بدر کے پس منظر میں اہل ایمان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان تم دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہو۔ غزوہ بدر کی کامیابی پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائو جب تم نے دشمن کو ایسی چوٹ دیدی ہے جس سے اس کے اوسطان خطا ہوگئے ہیں تو وہ چوت کھائے ہوئے سانپ کی طرف تم پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا تم ہر طرح کے ہتھیاروں سے تیاری کرلو اس میں غزوہ بدر کے بعد سے غزوہ تبوک تک کی پیشن گوئی فرما دی گئی ہے۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) کہ جہاں تک ہوسکے تمام جنگی قوتوں کے ساتھ ایک لشکر قائمہ تیار رکھو تاکہ جیسے ہی دشمن سے کوئی خطرہ ہو تو تم اس خطرے سے نبٹنے کے لئے تیار رہو۔ تاکہ اس کے ذریعہ اللہ کے اور تمہارے معلوم اور نامعلوم دشمنوں پر ایسی ہیبت اور رعب طاری رہے کہ وہ فوری طور پر کوئی کاروائی کرتے ہوئے دس مرتبہ غور کریں۔ ان دنوں عربوں میں باقاعدہ فوج رکھنے کا رواج نہ تھا۔ جب ضرورت ہوئی لوگوں کو آواز دی گئی۔ رضا کار دوڑے دوڑے اس آواز پر جمع ہوگئے جلدی جلدی جو سامان مہیا کرنا تھا وہ کردیا گیا اور چند گھنٹوں یا چند دنوں میں فوج کو دشمن کے مقابلے میں اتار دیا گیا۔ پھر جب لڑائی ختم ہوجاتی تو پھر سارے سپاہی اپنے اپنے کام کی طرف لوٹ جاتے۔ یہ اسلام ہے جس نے پہلی مرتبہ دنیا میں لشکر قائم یعنی باضابطہ اور مستقل فوج کی ضرورت کا احساس کیا اور وہ بھی اس طرح کہ وہ فوج ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس ہو۔ تاک اس کا رعب دشمنوں پر اس طرح پڑجائے کہ وہ پھر پلٹ نہ سکیں۔ چناچہ جنگ احد میں جب کفار مکہ کو شدید جانی و نقصان اٹھا کر احد کے درمیان سے بھاگنا پڑا تو نبی کریم ﷺ کے حکم سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سرکردگی میں دشمنوں کے پیچھے مجاہدین کا ایک دستہ دوڑا دیا گیا جس کے رعب سے دشمن واپس مکہ جانے پر مجبور ہوگیا اور اس کو پلٹ کر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اسی طرح جنگ موتہ کے بعد شہنشاہ روم تبوک کے مقام پر لاکھوں فوجیوں اور ہتھیاروں کے باوجود مقابلہ کی جرأت نہ کرسکا اور اس کو میدان سے بھاگنا پڑا۔ دشمن پر رعب اور ہیبت سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کی بدولت غزوات میں بہت کم جانی نقصان ہوا اور نتیجہ زیادہ بہتر سامنے آیا۔ ان آیات میں ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جنگ کی تیاری ہو یا عمل کا میدان ہر جگہ ہر طرح کی مالی قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے اگر ملت کے افراد اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ نہ کریں تو اس سے بڑی رکاوٹوں کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے اس لئے فرمایا کہ اے مومنو ! تم اللہ کے راستے میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ نہ صرف تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا بلکہ اس میں تمہاری آخرت کا اس طرح سامان کردیا جائے گا کہ تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ تیسرا اصول یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو صلح کرنے میں دیر نہ کی جائے کیونکہ دین اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے۔ ایک نظریہ حیات ہے اس کے آگے بڑھنے میں وہی مومس زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے جب امن و سلامتی ہو۔ لہٰذا جب بھی کفار ور دشمنان اسلام کی طرف سے صلح کی بات کی جائے تو اس میں اہل ایمان کے قدم سب سے آگے ہونے چاہیں۔ اگر وہ اس صلح سے کوئی جنگی چال یا انے دام فریب میں پھنسانے کیلئے مکر کر رہے ہوں گے تو فرمایا گیا کہ اللہ پر بھروسہ کر کے صلح مندی کی طرف آجائو۔ اس جگہ پر اللہ تعالیٰ نے قوت و طاقت اور پلے ہوئے گھوڑوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جس قدر ممکن ہو اس جنگی طاقت کو حاصل کرلو تاکہ اللہ کا اور تمہارا دشمن تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہ رہے۔ چونکہ نزول قرآن کے وقت فوجی طاقت و قوت اور پلے ہوئے گھوڑے جو جنگ کے مقصد کے لئے پالے جاتے تھے یہی اسلحہ تھا۔ لیکن آج دنیا میں اسلحہ کا انداز بہت مختلف ہوگیا ہے تو اس آیت کا مفہوم آج بھی یہی ہے کہ اس زمانہ کے مطابق جو بھی جنگ میں طاقت اور اسلحہ تیار کیا جاتا ہے اس کو اختیار کیا جائے۔ کیونکہ اس آیت میں صرف قوت جمع کرنے کا ہی ذکر موجود نہیں ہے بلکہ اصل چیز ہے ” ترھبون بہ “ یعنی جس سے تم دشمن پر رعب جما سکو۔ اگر ہم آج تلواریں گھوڑے لیکر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے تو رعب تو دور کی بات ہے اپنی جان بچانا ہی مشکل ہوجائے گا۔ اگر ایٹمی جنگ ہے تو ہمیں ایٹمی جنگ کے ہی وہ ہتھیار تیار کرنے ہوں گے جن کے ذریعہ ہم دشمن کے ہتھیاروں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ اور مقابلہ میں دشمن کو تہس نہس کرنے کا موقع ہاتھ آسکے۔
Ayahs 8:63–66

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

(وہی تو ہے) جس نے ان کے دلوں میں محبت و الفت ڈال دی ۔ اگر آپ زمین میں جو کچھ ہے وہ خرچ کرکے ان کے دلوں میں محبت ڈالنا چاہتے تو نہ ڈال سکے بلکہ اللہ نے ان کے دلوں میں محبت ڈالہی ہے۔ بیشک وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی و آپ کو اور ان لوگوں کو جو آپ کا حکم مانتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں اللہ ہی کافی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے (اور یقین دلا دیجئے کہ) اگر تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو مجاہد ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافروں کی قوم ناسمجھ قوم ہے۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ نے تم سے تخفیف (کمی) کردی اور اس نے جان لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو ہزار پر غالب آجائیں گے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

آیات : 63 تا 66 لغات القرآن۔ الف۔ محبت ڈال دی۔ انفقت۔ تو نے خرچ کیا۔ حرض۔ رغبت دلائیے۔ آمادہ کیجئے۔ عشرون۔ بیس۔ ماتین۔ دو سو۔ لا یفقھون۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ الئن۔ اب۔ اس وقت۔ خفف۔ ہلکا کردیا۔ مائۃ۔ ایک سو۔ الف۔ ایک ہزار۔ تشریح : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ دشمن کے مقابلے میں ہر ممکن قوت کو حاصل کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہارا رعب جم جائے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کی گیا ہے کہ اصل قوت و طاقت ہتھیر نہیں ہوتے بلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ محبت، قربانی بھائی چارہ اخوت، اتحادو اتفاق، یک سوئی، یک نظری سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی قوم بہت سے ہتھیار جمع کرلے لیکن ان میں ڈسپلن، نظم وضبط اور سب سے بڑھ کر اتحادو بھائی چارہ اور ایثار و قربانی کا یہ انداز نہ ہو تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہتھیار اپنی جگہ بہت اہم ہیں ان کی تیاری میں کمی نہ کی جائے لیکن دشمن کے مقابلے میں اصل چیز جنگ کرنے والوں کا اتحادو اتفاق ہے جو میدنا کارزار میں انتہائی موثر ہتھیار ہے۔ آج ہم اپیئ ملت میں دیکھتے ہیں ان کی حکومتیں اسلحہ اور فوج پر تو سارا زور صرف کردیتی ہیں لیکن اس جذبہ کو پیدا نہیں کرتیں جو ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا عظیم جذبہ ہوا کرتا ہے۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ” جذبہ “ محض نعروں اور باتوں سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے جب ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے دین پر چل کر اللہ کو راضی کرلیا جائے۔ آج ہماری سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ہم دوسری قوموں کی نقل کرکے ان کا انداز اختیار کرتے ہیں اور دین اسلام جو ساری قوتوں کا ذریعہ ہے اس کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ (2) اہل ایمان کی ہتھیاروں اور اتحاد و اتفاق کے بعد ایک اور نہایت اہم قوت ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ ۔ اللہ کے راستے میں جہادو قتال کرنا۔ یعنی یہ جہاد و قتال صرف اور صرف اللہ کے راستے میں اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو۔ صحابہ کرام ؓ کی زندگی ہمارے سامنے ہے جنہوں نے ملکوں کو فتح کرنے یا دشمن کو صرف نیچا دکھانے کیلئے جہاد و قتال نہیں کیا بلکہ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے فرمایا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کامیابی ان کے قدم چومتی تھی۔ ملکوں کو فتح کرنا مقصد نہیں تھا لیکن جب اللہ کی رضاو خوشنودی کے لئے جدوجہد کی تو ساری دنیا کی حکومتیں اور ان کی طاقتیں بھی ان کے قدموں کی دھول بن گئیں۔ صحابہ کرام ؓ کے بعد جب مقصد زندگی صرف مملکتوں اور اقتدار کا حصول رہ گیا تو ساری دنیا نے ہمیں پچھاڑ کر رکھ دیا۔ اس لئے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کرتے رہے۔ اور اس سے بےنیاز ہوجائیے کہ فتح حاصل ہوگی یا حاصل نہ ہوگی۔ صاف بات یہ ہے کہ قوت کا زمانہ ہو یا ضعف اور کمزوری کا اگر مومن مومن ہوں گے تو غلبہ اور فتح و نصرت ان کے قدموں کی خاک بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ فرمایا ہے کہ اگر تم تھوڑے بھی ہوگے اور اللہ پر تمہارا اعتماد ہوگا تو فتح و کامرانی تمہاری ہوگی۔
Ayahs 8:67–69

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ ان کو اچھی طرح کچل نہ ڈالے۔ (کیا تم ) دنیا کا (تھوڑا سا) سامان چاہتے ہو۔ حالانکہ اللہ تو آخرت دینا چاہتا ہے اور اللہ زبردست ہے حکم والا ہے۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کی طرف سے پہلے ہی سے لکھا ہوا نہ ہوتا تو اس کے بدلے میں ایک بہت بڑا عذاب تمہیں پہنچ جاتا

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

جو تمہیں غنیمت میں سے حلال اور پاکیزہ مال ملے اس کو کھائو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

آیات : 67 تا 69 لغات القرآن۔ اسری۔ (اسیر) قیدی۔ حتی یثخن۔ جب تک کہ سختی نہ کی جائے۔ عرض ال دنیا۔ دنیا کا سامان۔ لولا کتاب۔ اگر لکھا ہوا نہ ہوتا۔ سبق۔ جو گذر گیا۔ لمسکم۔ البتہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اخذتم۔ تم نے لیا۔ غنتم۔ تم نے مال غنیمت لیا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ جو ساری دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں آپ نے ہر موقع پر ہر اس طریقے کو اختیار فرمایا جس میں نرمی اور سہولت کا پہلو شامل ہو۔ یہ ان تکہ کہ مشورہ میں بھی آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے جس میں لوگوں سے نرمی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر مسلمانوں کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے پندرہ سال تک صحابہ کرام ؓ کا فروں اور مشرکوں کے ظلم سہتے رہے چونکہ ان کو جواب دینے اور کسی کے ظلم و ستم کا عملی جواب دینے کی ممانعت تھی تو وہ نبی کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے نرم مزاجی کی طرف مائل تھے۔ غزوہ بدر ایک باقاعدہ مسلح جنگ تھی جب کہ صحابہ کرام ؓ اس کے لئے کسی طرح بھی تیار نہ تھے لیکن اللہ کی مصلحت ان مجاہدین کو جنگ کی طرف لے گئی اور پھر اس جنگ کے ذریعہ کفرو شرک کی کمرتوری کر رکھ دی گئی۔ کفار مکہ کے ستر بڑے برے سردارمارے گئے اور ستر ہی قید کر لئے گئے۔ قید ہونے والے کوئی غیرنہ تھے بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن سے نبی کریم ﷺ اور مہاجرین مکہ کی قرابت داری بھی تھی اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ یہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جب مشورہ کیا جاتا ہے تو اس میں ہر شخص کو رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے میں کسی طرح کے تکلف کو پسند نہیں فرماتے تھے اور صحابہ کرام ؓ پوری آزادی رائے کے مطابق پورے ادب و احترام کے سات اپنی رائے کو پیش کیا کرتے تھے چناچہ آپ نے اس موقع پر بھی اپنے تمام صحابہ کرام ؓ مجاہدین سے مشورہ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور دیگر اصحاب کرام ؓ نے چند احادیث میں اس کو تفصیل سے روایت کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ جب بدر کی جنگ کے بعد کفار مکہ کے ستر قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا کہ اس کے لئے کوئی اللہ کا واضح حکم موجود نہیں ہے لہٰذا کیا کیا جائے۔ سیدنا ابو بکرصدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ سب قیدی اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں۔ اگر ان کو کچھ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور نرم سلوک کیا جائے تو شاید کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں یا ان کی اولادیں ہمارے دست وبازو بن جائیں۔ دوسرے صحابہ کرام ؓ نے بھی اسی کی تائید فرمائی ۔ اس کے برخلاف حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت سعد ابن معاذ ؓ نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ اگر ان کو ختم کردیا جائے تو اس سے کفرو شرک کا سرکٹ جائے گا اور مشرکین پر ہماری ہیبت طاری ہوجائے گی اور آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور اللہ کے راستے سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا۔ دوسری طرف ان مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہوجائے گا۔ کہ ہم نے اللہ کے معاملے میں اپنی رشتہ داریوں کا بھی خیال نہیں کیا۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے جو بھی کسی کا عزیز و قریب ہو وہ اپنے عزیز و قریب کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردے۔ رائے کا یہ اختلاف بڑا شدید تھا اور بڑا جذباتی لمحہ تھا لیکن نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور اکثریت میں صحابہ کرام ؓ کی رائے پر عمل یا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اس مین شک نہیں کہ اگر حضرت عمر ؓ کی رائے پر عمل کیا جاتا تو کفر و شرک کی کمر ٹوٹ جاتی لیکن نبی کریم ﷺ جو ہمیشہ نرمی کے معاملے کی طرف رغبت فرماتے تھے آپ نے نرمی کا فیصلہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں جس میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ جب تک کفر کی طاقتوں کو کچل کر نہ رکھ دیاجائے اس وقت تک ان کفار کے ساتھ کوئی نرم معاملہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اسبات پر تنبیہ فرما دی ہے کہ اللہ کو یہی پسند ہے کہ ابھی کفار کے ساتھ نرمی کا معاملہ نہ کیا جائے۔ بعض روایات سے اشارہ ملتا ہے کہ اس مشورے میں اگر حضرت عمر فاروق ؓ اختلاف نہ کرتے تو اللہ کا مقرر عذاب آجاتا۔ مگر مشورہ کی برکت سے اللہ نے اس عذاب سے اہل ایمان کو محفوط رکھا۔ معلوم ہوا کہ مشورہ میں بہت برکت ہے۔ چونکہ اس آیت میں تہدید فرمائی گئی ہے اس لئے صحابہ کرام ؓ ڈر گئے کہ یہ فدیہ جو وصول کیا گیا ہے اس کو استعمال کیا جائے یا نہیں چونکہ یہ بھی مال غنیمت تھا اس آیت میں فرما دیا گیا کہ مال غنیمت حلال ہے اس کو کھایا جائے استعمال کیا جائے بس اللہ کا خوف ہمیشہ پیش نظر رہے۔ اللہ تو بہت معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! جو قیدی آپ کے قبضے میں ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کرے گا تو جو تم سے لیا گیا ہے وہ اس سے بہتر تمہیں دے دے گا اور تمہیں معاف کردے گا۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ سے بددیانتی (بد عہدی) کریں گے تو انہوں نے اس سے پہلے بھی خیانت کی ہے ( جس کی وجہ سے اللہ نے ) تمہیں ان پر قابوعطا کردیا ہے۔ اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

آیات : 70 تا 71 لغات القرآن۔ یوتکم۔ وہ تمہیں دے گا۔ خیر۔ زیادہ بہتر۔ اخذ۔ لیا گیا۔ امکن۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : یہ قیدی کون تھے ؟ یہ وہی کفار و مشرکین تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں کوئی کسر اتھانہ رکھی تھی۔ مسلمانوں کی طرح طرح سے ستایا، قتل کیا، نقصان پہنچایا، وحشیانہ مظالم کئے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں پھر بھی ایک دفعہ توبہ کرنے کا موقع دے دیا۔ اس شرط کے ساتھ آئندہ معافی کا وعدہ فرمایا گیا ہے کہ اے قیدیو ! آج تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اور جو کچھ مال غنیمت ہے وہ تمہیں لوٹا دیا جائے گا شرط یہ ہے کہ اللہ نے اگر تمہارے عمل اور کردار میں خیر کو جان لیا اور تم نے بھی آئندہ شرارتیں کرنے سے اپنے آپ کو روک لیا تو وہ رب سب پر مہربان ہے تم پر بھی مہربانی فرمائے گا۔ اہل ایمان کو اس بات پر تسلی دی گئی ہے کہ یہ قیدی اپنی آزادی کا فدیہ دے رہے ہیں اور ان کو چھوڑا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے پھر بھی اپنی روش کو قائم رکھا اور شرارتیں کرتے رہے تو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے پہلے بھی ایک دفعہ اپنے وعدہ اور معاہدہ کو توڑا ہے۔ انجام سامنے ہے۔ اگر انہوں نے آئندہ اس نرمی سے غلط فائدہ اٹھایا تو پھر سے ان کا یہی بلکہ اس سے بھی زیادہ برا حال ہوگا۔
Ayahs 8:72–75

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا اور جنہوں نے ٹھکانا دیا اور مدد کی تو یہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو ایمان تو لائے مگر انہوں نے نے ہجرت نہیں کی تو ان کی رفاقت کا آپ سے اس وقت تک تعلق نہیں ہے جب تک وہ ہجرت نہ کرلیں۔ اگر وہ تم سے دین کے مقاملے میں مددمانگیں تو ان کی مدد کرنا لازمی ہے سوائے اس قوم کے جن سے تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ ایکدوسرے کے ساتھی ہیں۔ اگر تم نے یہ نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد پیدا ہوجائے گا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور جنہوں نے ٹھکانا دیا اور مدد کی یہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا یہ لوگ بھی تم میں سے ہیں۔ اور اللہ کی کتاب میں رشتے داران میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک اور حق دار ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

آیات : 72 تا 75 لغات القرآن۔ جاھدوا۔ انہوں نے جہاد کیا۔ اوو۔ ٹھکانا دیا۔ سہارا دیا۔ ولایۃ۔ ساتھ۔ رفاقت۔ استنصروا۔ وہ مدد مانگیں۔ علیکم۔ تم پر (لازم ) ہے۔ النصر۔ مدد کرنا۔ میثاق ۔ عہدہ و معاہدہ ۔ الا تفعلوہ۔ اگر تم نے ایسے نہ کیا۔ فساد۔ تباہی۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ اولو الارحام۔ رحم والے۔ رشتہ دار۔ اولیٰ ۔ زیادہ قریب۔ تشریح : مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام ؓ نے ایمان و اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں وہ ایسی ایثار و قربانی کی مثالیں ہے جن کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتداء میں تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کسی نے ہجرت نہیں کی تو صاف صاف فرما دیا گیا کہ ان کا دین و ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر وہ ہجرت کرلیتے ہیں تو یہ ان کے صاحب ایمان ہونے کا ثبوت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لا کر ہجرت بھی کرلی ہے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر وہ مدینہ آگئے اور انہوں نے اپنے جان و مال دونوں کو اللہ کی راہ میں وقف کردیا وہ سچے مومن ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے مکہ سے آنے والے مہاجرین کو مدینہ میں پناہ دی اور ان کے ساتھ بےمثال قربانیوں کے نمونے پیش کئے۔ وہی مہاجرین و انصار ایک دوسرے کے ساتھ ہیں دوست ہیں اور رفیق ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی ان کے لئے فرمایا کہ نبی ﷺ پر اور اہل ایمان پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر کسی سے تمہارا معاہدہ نہیں ہے اور وہاں کے مسلمان تم سے مدد مانگیں تو تم انکی مدد کرو یہ تم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہجرت کی شرط فتح مکہ کے بعد ختم کردی گئی تھی فرمایا کہ یہ اہل ایمان تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرے لے ہمیشہ تیار رہتے ہے۔ لیکن اے اہل ایمان اگر تم نے ایمان والوں کی مدد نہ کی تو زمین فتنہ و فساد کا اکھاڑہ بن جائے گی اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ پہنچ کر انصار و مہاجرین کے درمیان ” مواخات “ بھائی چارے کو قائم فرمایا یعنی ایک مہاجر اور ایک انصاری کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ انصار مدینہ نے بےمثال ایثار کے نمونے پیش کئے اپنی جائیدادوں تک میں مہاجرین کو شامل فرمالیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ بشارت عطا فرمائی کہ یہ سچے مومن ہیں یہ ایک دوسرے کے دوست اور ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو عزت کی روزی اور رزق عطا فرمائے۔ گا اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک اور اہم بات پر اس سورت کو ختم فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے بعد جتنے مہاجرین تم میں آکر ملتے جائیں تمہارے ساتھ رہ کر دین کی عظمت و سربلندی کے لئے کوشش کرتے جائیں وہ تمہارے بھائی ہیں ان کے تمام تر تعلقات ایک جیسے ہیں البتہ اگر پہلے مہاجرین کے قریبی رشتے دار مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ چلے آئیں تو پھر وہ اپنے رشتے داروں کے وارث ہوں گے اور اللہ کی کتاب میں قرابت داروں کا جو حصہ مقرر ہے اس کے مطابق وراثت کی تقسیم ہوگی نئے بھائی چارہ کی وجہ سے وہ وراثت سے محروم نہ رہیں گے۔