70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 70:36–44

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پھر ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ وہ آپ کی طرف دوڑ دوڑ کر آرہے ہیں

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

(کبھی) داہنی جانب سے اور (کبھی) بائیں جانب سے گروہ در گروہ بن کر۔

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ آرام و سکون کی جنتوں میں داخل کر دیاجائے گا ۔

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ بیشک ہم نے ان کو جس چیز سے بنایا اسے وہ خود بھی جانتے ہیں۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں کہ ان پر ہم پوری قدرت و طاقت رکھنے والے ہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز اور بےبس نہیں ہیں۔

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو بےہودہ نکتہ چینیوں اور کھیل کود میں مشغول رہنے دیجئے یہاں تک کہ یہ اس دن سے جا ملیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے وہ کسی بت کے تھان (عبادت گاہ) کی طرف دوڑے جار ہے ہوں۔

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی نظریں جھکی ہوئیں گے۔ ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ یہ ان کا وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

لغات القرآن، ۔ مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔ تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔ کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک فرماتے تو وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے اللہ کے دین کو جھٹلاتے اور نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے کے لئے جتھے کے جتھے اور گروہ کے گروہ آپ کے دائیں بائیں جمع ہو کر کبھی تالیاں پیٹتے کبھی شور مچاتے اور ہر طرح دین کا مذاق اڑاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے کہ اگر قیامت کا دن آیا اور جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ ہو کر رہا تو ہمیں اس کی فکر نہیں ہے کیونکہ جس طرح ہم اس دنیا میں عیش و آرام اور سکون سے ہیں جنت کی راحتوں میں بھی عیش کریں گے اور مسلمان جس طرح دنیا میں پریشان حال ہیں وہاں بھی ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ وہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کو ایک جیسا فرما دیں۔ بلکہ جنت کی راحتوں سے مستحق وہی ہوں گی جو اللہ و رسول کے فرماں بردار ہوں گے۔ فرمایا کہ یہ کافر اپنی زبان سے کہیں یا نہ کہیں لیکن یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے رب نے ان کو کسی چیز سے اور کیسے بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مشرقوں مغربوں اور اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت صرف اللہ کی ہے اگر وہ چاہے تو موجودہ کافروں کی جگہ دوسری قوم کو لے آئے اور ان سے اپنے دین کا کام لے لے وہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ مکہ والوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم اس سعادت سے اپنا دامن چھڑاتے رہے اور اس کو حاصل نہ کیا تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کرے گا کیونکہ وہ اللہ ایسی قدرت والا ہے جس کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کو ان کی بےہودہ نکتہ چینیوں اور کھیل تماشوں میں لگا رہنے دیجئے وہ وقت دور نہیں ہے جب قیامت آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس دن یہ اپنی قبروں اور دفن کی جانے والی جگہوں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جس طرح وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ دور کر جاتے ہیں لیکن شرمندگی اور ندامت سے ان کی نظریں جھکی ہوئی ہوں گے اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ نے جس دن کے متعلق ان پہلے سے بتا دیا تھا وہ برحق تھا اور آج وہ دن ان کے سامنے ہے۔