52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 52:29–49

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو نصیحت کرتے رہیے کیونکہ آپ پروردگار کے فضل و کرم سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم تو ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کو ایسی باتیں ان کی عقلیں سکھاتی ہیں یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہیں ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اس قرآن کو خود سے گھڑ لیا ہے۔ نہیں۔ بلکہ یہ ایمان (نہ لانے کے بہانے ہیں) اسی لئے وہ ایمان نہیں لاتے۔

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ سچے ہیں تو اس قرآن جیسا لے کر آجائیں۔

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ کسی پیدا کرنے والے کے بغیر خودبخود پیدا ہوگئی ہیں یا یہ خود اپنے خلاق ہیں ؟

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ یقین نہیں رکھتے۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ کوئی حاکم ہیں ؟

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے کہ وہ (آسمانوں پر جا کر) باتیں سنتے ہیں ؟ پھر (اگر ایسا ہے تو ) وہ سننے والا کوئی مضبوط اور واضح دلیل پیش کرے۔

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے ہاں بیٹے ہیں ؟

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ان سے (اس تبلیغ دین پر ) کوئی معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی غیب (کا علم) ہے جسے وہ دیکھ رہے ہیں ؟

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کوئی چال چل رہے ہیں (تو یاد کھیں) وہ کافر خود ہی اپنے جال میں پکڑے جائیں گے۔

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود ہے ؟ (حالانکہ) اللہ ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اگر یہ لوگ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتے دیکھیں تو کہیں گے کہ یہ تو کوئی تہہ در تہہ جما ہوا بادل ہے۔

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ انکو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے جب تک یہ اس دن کو نہ دیکھ لیں جس دن ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

اس دن ان کا مکر و فریب ان کو ذرا بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور بیشک ان ظالموں کو اس دن کے عذاب کے علاوہ بھی عذاب ہونے والا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کیجیے کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور جب آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرلیا کریں

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات کے بعض حصے میں بھی اور ستارے چھپ جانے کے بعد بھی اس کی تسبیح کیا کریں۔

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی پھیلنا شروع ہوئی اور قریش مکہ نے یہ محسوس کیا کہ لوگ بہت تیزی سے آپ کی باتوں کو سن کر متاثر ہو رہے ہیں تو انہیں فکر ہوئی اور انہوں نے آپ کی شخصیت اور آپ کی تحریک کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے نہایت غیر سنجدیہ باتیں بنانا شروع رک دیں تاکہ لوگ ان تمام باتوں کو سن کر سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ ایک دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ کبھی کہتے کہ آپ مجنون شاعر ہیں۔ کبھی کہتے کہ غیب کی خبریں دینے والے کاہن ہیں اور اس قرآن کو وہ خود گھڑ کر یا کسی سے سن کر یا سیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ وہ آپ کی بد خواہی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیتے کہ یہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ بہت جلد ان پر ہمارے بتوں کی مار پڑے گی اور یہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ہم اسی گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ اللہ کے فضل و کرم سے نہ تو آپ شاعر ہیں اور نہ مجنون ہیں نہ غیب کی خبریں دنییو الے کاہن ہیں بلکہ اللہ رب العالمین کے رسول ہیں اور قرآن کریم اسی نے نازل کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں اسی لئے اس تحریک اور کلام پر وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر اس کلام کو آپ نے خود گھڑ لیا ہے تو اس وت بڑیب ڑے زبان کے ماہرین اور شاعر ہیں جنہیں اپنی زبان پر اس قدر ناز ہے کہ وہ اپنے سامنے کسی کو زبان داں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اگر یہ سچے ہیں تو سب مل کر اس قرآن جیسا کوئی دوسرا کلام لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی کفار سے چند سوالات کئے ہیں اور پوچھا ہے کہ بتائو : (1) کیا یہ سب کسی پیدا کرنے والے کے بغیر خود ہی پیدا ہوگئے ہیں ؟ کیا یہ خود اپنے خلاق ہیں ؟ (2) کیا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے خود ہی پیدا کرلیا ہے وہ کیسے بےیقین لوگ ہیں ؟ (3) کیا ان لوگوں کے پاس ان کے پروردگار کے خزانے موجود ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں ؟ (4) کیا یہ لوگ کوئی حاکم یا بادشاہ ہیں کہ ہر طرف ان کی حکومت چل رہی ہے ؟ (5) کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے کہ جس کے ذریعہ وہ آسمانوں میں جا کر غیب کی باتیں سنتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو کوئی مضبوط اور واضح دلیل پیش تو کریں۔ فرمایا کہ یہ دلیل تو کیا پیش کریں گے ان کی جہالت کی انتا یہ ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ خود تو ان کا یہ حال ہے کہ اگر بیٹا ہوجائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر بیٹی پیدا ہوجائے تو شرمندگی کے مارے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیسی عجیب تقسیم کر رکھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کی باتیں کر رہا ہوں تاکہ تمہاری دنیا اور آخرت سدھر جائے تو کیا میں تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی معاوضہ یا اجرت مانگ رہا ہوں کہ اس کے بوجھ سے تم دبے چلے جا رہے ہو فرمایا کہ آپ ذرا کفار سے پوچھئے کہ کیا ان کے پاس کوئی غیب کا علم ہے جو ان کے پاس لکھا ہوا ہے اور اس کے ذریعہ وہ یہ سب باتیں کر رہے ہیں یا یہ لوگ کوئی بےڈھنگی چال چل رہے ہیں ؟ فرمایا کہ اگر ایسا ہے کہ یہ لوگ کوئی چال چل رہے ہیں تو وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ خود ہی اپنے جال میں پھنس جائیں گے اور اس سے نکل نہ سکیں گے۔ فرمایا کہ ان سے پوچھئے کہ ایک اللہ کے سوا کیا تمہارا دوسرا معبود ہے جس کی تم عبادت و بندگی کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کی ذات ہر طرح کے شرک سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمایا کہ ان کا یہ حال ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں نبی مان لیں گے اگر آسمان کا ایک ٹکڑا توڑ کر دکھا دو ۔ فرمایا کہ اول تو یہ ایک احمقانہ مطالبہ ہے لیکن اگر ہم اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہوئے آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دیں تو یہ اس کا یقین نہ کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو کوئی گہرا بادل ہے جو بادل پر بادل جما ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب انہوں نے ہر سچائی کو جھٹلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے تو آپ ان کی غیر سنجیدہ اور جاہلانہ باتوں کی پرواہ نہ کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنے مشن اور مقصد کو پھیلاتے رہیے۔ قیامت کا وہ ہولناک دن آ کر رہے گا جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے اس دن ان کا مکر و فریب ان کے کسی کام نہ آئے نہ ان کو ان کی چالیں فائدہ دیں گی اور نہ کوئی ان کے مدد کے لئے آئے گا۔ یہ تو آخرت کے عذاب کی بات ہے فرمایا کہ ان کو تو اسی دنیا میں سخت سزا ملے گی لیکن ابھی یہ جانتے نہیں بہت جلد جان لیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ اللہ کے حکم پر صبر کرتے رہیے یہ یآ پکا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے کیونکہ آپ براہ راست ہماری نظروں میں ہیں ہم خود آپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ جب آپ بیدار ہوں تو اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرتے رہیں۔ اسی طرح رات کے کچھ حصے میں اور ستارے چھپ جانے کے بعد بھی اس کی تسبیح اور ذکر کرتے رہیے اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح کی کامیابی عطا فرمائے گا اور یہ لوگ ذلیل و خوار ہوں گے۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین